جنت کے اعمال (۲)


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''حُفَّتِ۲ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ وَحُفَّتِ النَّارُ۳ بِالشَّہَوَاتِ''.

۲۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۴، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ جَہَّزَ غَازِیًا حَتّٰی یَسْتَقِلَّ [بِجَہَازِہِ]۵ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ حَتّٰی یَمُوْتَ أَوْ یَرْجِعَ، وَمَنْ بَنٰی مَسْجِدًا یُذْکَرُ فِیہِ اسْمُ اللّٰہِ، بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ''.

۳۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ:۶ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہ ۷ [مِنْ مَالِہِ]،۸ [کَمَفْحَصِ قَطَاۃٍ أَوْ أَصْغَرَ] ۹ ، بَنَی اللّٰہُ لَہُ فِي الْجَنَّۃِ مِثْلَہُ''. ۱۰

۴۔ عَنْ ہَانِي بْنِ یَزِیدَ ۱۱، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ یُوْجِبُ لِيَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ''عَلَیْکَ بِحُسْنِ الْکَلاَمِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ''. ۱۲

۵۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ، ۱۳ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ، اسْتَشْرَفَہُ النَّاسُ فَقَالُوْا: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِیمَنْ خَرَجَ، فَلَمَّا رَأَیْتُ وَجْہَہُ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْہَہُ لَیْسَ بِوَجْہِ کَذَّابٍ، وَکَانَ أَوَّلُ مَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ''یَا أَیُّہَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ،۱۴ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوْا ۱۵ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ''. ۱۶

۶۔ عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ ۱۷ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یُصَلِّیْ لِلّٰہِ کُلَّ یَوْمٍ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ۱۸ تَطَوُّعًا، غَیْرَ فَرِیضَۃٍ، ۱۹ إِلَّا بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِي الْجَنَّۃِ''.

۷۔ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، وَأَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ ۲۰ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، یَقُوْلاَنِ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ''وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ''، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، [ثُمَّ أَکَبَّ فَأَکَبَّ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا یَبْکِيْ، لَا نَدْرِيْ عَلٰي مَاذَا حَلَفَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فِيْ وَجْہِہِ الْبُشْرٰی، فَکَانَتْ أَحَبَّ إِلَیْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ] ۲۱، ثُمَّ قَالَ: ''مَا مِنْ عَبْدٍ یَأْتِيْ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ، [وَیُخْرِجُ الزَّکٰوۃَ]۲۲ ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَاءِرَ السَّبْعَ۲۳ إِلاَّ فُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، حَتّٰی أَنَّہَا لَتَصْطَفِقُ''، ثُمَّ تَلاَ: ''اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ''.۲۴

۸۔ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۲۵ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَۃٌ النَّبِیَّ، [مِنَ الْأَنْصَارِ]۲۶ بِصَبِيٍّ [لَہَا مَرِیْضٍِ]، ۲۷ فَقَالَتْ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ، ادْعُ اللّٰہَ لَہُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَۃً، قَالَ: ''دَفَنْتِ ثَلَاثَۃً''؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ''لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِیْدٍ مِنَ النَّارِ، [مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَمُوْتُ لَہُمَا ثَلاثَۃُ أَطْفَالٍ، لَمْ یَبْلُغُوا الْحِنْثَ] ۲۸ [فَصَبَرَا عَلَیْھِمْ] ۲۹ [إِلاَّ جِیْءَ بِہِمْ حَتّٰی یُوْقَفُوْا عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ، فَیُقَالُ لَہُمُ: ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ، فَیَقُوْلُوْنَ: أَنَدْخُلُ وَلَمْ یَدْخُلْ أَبَوَانَا، فَقَالَ لَہُمُ: ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَأَبَوَاکُمْ]'' ۳۰

۹۔ عَنْ قُرَّۃَ بْنِ إِیَاسٍ،۳۱ قَالَ: کَانَ نَبِيُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ جَلَسَ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ، وَفِیہِمْ رَجُلٌ لَہُ ابْنٌ صَغِیرٌ یَأْتِیْہِ مِنْ خَلْفِ ظَہْرِہِ یَقْعُدُ بَیْنَ یَدَیْہِ،[فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''أَتُحِبُّہُ''؟ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَحَبَّکَ اللّٰہُ کَمَا أُحِبُّہُ]۳۲ [فمَاتَ]۳۳ الصَّبِيُّ، فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ یَحْضُرَ الْحَلْقَۃَ یَذْکُرُ اِبْنَہُ،۳۴ وَیَحْزَنُ عَلَیْہِ، فَفَقَدَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ''مَا لِيْ لاَ أَرٰی فُلاَنًا''؟، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، بُنَیُّہُ الَّذِیْ رَأَیْتَ، ہَلَکَ، فَمَنَعَہُ ذٰلِکَ مِنْ حُضُوْرِ الْحَلْقَۃِ، فَلَقِیَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَفَسَأَلَہُ عَنْہُ، فَأُخْبِرَ أَنَّہُ قَدْ ہَلَکَ، فَعَزَّاہُ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ''یَا فُلاَنُ، أَیُّہُمَا کَانَ أَحَبَّ إِلَیْکَ: أَنْ تَتَمَتَّعَ بِہِ عُمُرَکَ، أَوْلاَ تَأْتِی غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ إِلاَّ وَجَدْتَہُ قَدْ سَبَقَکَ إِلَیْہِ یَفْتَحُ لَکَ''، فَقَالَ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ، بَلْ یَسْبِقُنِيْ إِلٰي أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ فَیَفْتَحُہَا لِيْ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: ''فَذٰلِکَ لَکَ''، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، جَعَلَنِيَ اللّٰہُ فِدَاکَ، ہٰذَا لِفُلاَنٍ خَاصَّۃً أَوْ لِمَنْ ہَلَکَ لَہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَرَطٌ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: ''بَلْ کُلُّ مَنْ ہَلَکَ لَہُ فَرَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ''.

۱۰۔ عَنْ أَنَسٍ۳۵ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''قَالَ اللّٰہُ: إِذَا أَخَذْتُ بَصَرَ عَبْدِیْ،۳۶ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ، فَعِوَضُہُ عِنْدِي الْجَنَّۃُ''.

۱۱۔ عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ،۳۷ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَیْنِ۳۸ [مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْیَاءٍ]۳۹ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، [دَعَاہُ الخَزَنَۃُ]۴۰ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ، ہٰذَا خَیْرٌ، فَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّلٰوۃِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلٰوۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجِہَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصِّیَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّیَّانِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّدَقَۃِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ''، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِيْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا عَلٰی مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَۃٍ،۴۱ فَہَلْ یُدْعٰی أَحَدٌ مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ کُلِّہَا، قَالَ: ''نَعَمْ، وَأَرْجُوْ أَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ''.

۱۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت کو مشقتوں اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۱۔

۲۔عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناکہ آپ نے فرمایا: جو کسی مجاہد کے سر پر سایہ کرے، اللہ قیامت کے دن اُس پر سایہ کرے گا۔ جو کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے، اُس کے لیے اُس مجاہد کے برابر اجر لکھاجاتا رہے گا،یہاں تک کہ اُس کو موت آجائے یا وہ جنگ سے لوٹ آئے۔اورجو شخص مسجد تعمیر کرے جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے، اللہ جنت میں اُس کے لیے گھر تعمیر کردے گا۔۲

۳۔عثمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اپنے مال سے اللہ کے لیے مسجد تعمیر کی،خواہ وہ پرندے کے گھونسلے جیسی ہویا اُس سے بھی چھوٹی،۳اللہ اُس کے لیے جنت میں اُسی طرح کا گھر بنا دیتا ہے۔

۴۔ہانی بن یزید سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو مجھے لازماًجنت میں لے جائے۔آپ نے فرمایا:اِس کی پابندی کرو کہ خوبی سے گفتگو کروگے اور بھوکوں کو فراخ دلی کے ساتھ کھانا کھلاؤ گے۔۴

۵۔عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے امڈآئے اورایک دوسرے سے کہنے لگے : اللہ کے رسول آ گئے ہیں،اللہ کے رسول آ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اُن کے ساتھ باہر نکلا۔پھر میں نے جب آپ کا چہرہ دیکھا تو مجھے اُسی وقت اندازہ ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں ہوسکتا۔ اُس موقع پر پہلی بات جو آپ کی زبان سے میں نے سنی، وہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا: لوگو،سلام کو عام کرو ،بھوکوں کو کھاناکھلاؤ،رشتے داری کا حق ادا کرو اور نماز کا اہتمام رکھو، اُس وقت بھی جب لوگ سورہے ہوتے ہیں۔ تم یہ کرو گے توسلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

۶۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوسنا کہ آپ نے فرمایا: جس بندۂ مومن نے بھی اللہ کی خوشنودی کے لیے فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں ہر روز نفل کے طور پر ادا کیں،اللہ اُس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۵۔

۷۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا۔آپ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ۔آپ نے فرمایا :اُس ذات کی قسم ،جس کے قبضے میں میری جان ہے۔آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر اپنا سر جھکا لیا۔آپ کو اِس طرح دیکھ کر ہم سب رونے لگے اور ہم نے بھی سر جھکا لیا۔ہم کچھ سمجھ نہیں رہے تھے کہ آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے۔پھر آپ نے سر اٹھایا تو آپ کے چہرے پر بشاشت تھی، اور(کون نہیں جانتاکہ) آپ کی یہ کیفیت ہمارے لیے (اِس سر زمین کی سب سے بڑی دولت) سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب تھی۔ (چنانچہ ہم بھی خوش ہو گئے)۔ اِس کے بعدآپ نے فرمایا: جس شخص نے بھی پانچ وقت نماز پڑھی،رمضان کے روزے رکھے،زکوٰۃ ادا کی اور سات کبیرہ گناہوں۶سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا،اللہ قیامت کے دن اُس کے لیے جنت کے سب دروازے کھول دے گا۔یہاں تک کہ (اپنے اندر آنے والوں کو دیکھ کر)وہ خوشی سے جھوم اٹھے گی۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ''تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے۔ ''

۸۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔اُس کے ساتھ اُس کاایک بیمار بچہ بھی تھا۔اُس نے عرض کیا :اللہ کے نبی،اِس کی زندگی کے لیے دعا فرمایئے کہ میں اِس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین بچے دفنا چکی ہو؟ اُس نے کہا: جی، ایسا ہی ہے۔ فرمایا: پھر تو تم نے دوزخ کی آگ سے بچنے کا خوب اہتمام کر لیا ہے۔ کسی مسلمان مرد و عورت کے تین بچے اِس طرح بلوغ کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں اور وہ اِس پر صبر کریں تو اُن کے وہ بچے قیامت کے دن لائے جائیں گے اور جنت کے دروازے پر کھڑے کر دیے جائیں گے۔ پھر اُن سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہیں گے: کیا ہم داخل ہو جائیں، جب کہ ہمارے والدین داخل نہیں ہوئے ہیں؟ اِس پر ارشاد ہو گا: تم اور تمھارے والدین، دونوں داخل ہو جاؤ۔۷

۹۔قرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف فرما ہوتے تو آپ کے صحابہ میں سے بھی کئی لوگ آ کر آپ کے پاس بیٹھ جاتے تھے۔ اُنھی میں ایک شخص تھا، جس کا ایک چھوٹا بچہ تھا۔وہ اُس کے پیچھے سے آتا اور آکر اُس کے آگے بیٹھ جاتا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر اُس سے پوچھا:تم اِس سے محبت کرتے ہو؟اُس نے کہا: اللہ آپ سے اُسی طرح محبت کرے، جس طرح میں اِس سے محبت کرتا ہوں۔پھر اُس بچے کا انتقال ہو گیا اور اُس شخص نے آپ کی مجلس میں آنا چھوڑ دیا۔وہ اپنے بیٹے کو یاد کرتا اور اُس کے غم میں بیٹھا رہتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو نہیں دیکھا تو پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آ رہا؟ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ، اُس کا چھوٹا بچہ، جسے آپ نے دیکھا تھا، وفات پا گیا ہے۔یہی چیز اُس کے آپ کی مجلس میں نہ آنے کا باعث ہوئی ہے۔ آپ نے یہ سنا تو اُس سے ملاقات کی اور بچے کے بارے میں پوچھا: آپ کو بتایا گیاکہ وہ تو فوت ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر اُس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: کیا پسند کرو گے، اُس سے عمر بھر فائدہ اٹھاؤ یا کل جنت کے کسی دروازے پر پہنچو تو اُس کو دیکھو کہ پہلے سے وہاں موجود ہے اور تمھارے لیے دروازہ کھول رہا ہے؟ اُس نے عرض کیا:وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے اور میرے لیے اُس کا دروازہ کھولے، مجھے یہ زیادہ عزیز ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر تمھارے لیے یہی ہے۔ اِس پر انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ،اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، یہ بشارت صرف اِسی کے لیے ہے یا ہر اُس مسلمان کے لیے، جس کا کوئی بچہ وفات پا کر آگے اُس کے لیے اجر بن جائے؟ آپ نے فرمایا:یہ اُن سب مسلمانوں کے لیے ہے جن کاکوئی بچہ اِس طرح وفات پا گیا ہو۔۸

۱۰۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں جس شخص کی بینائی سلب کرلیتا ہوں اور وہ اُس پر صبر کرتا اور راضی ہوکر بیٹھ جاتا ہے، اُس کا صلہ میرے ہاں جنت ہے۔

۱۱۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں جوڑے جوڑے۹ چیزیں خرچ کیں، اُس کو جنت کے دروازوں کے دربان پکاریں گے کہ اللہ کے بندے، ادھر آ ؤ ،یہ دروازہ بہترہے۔پھراُن میں سے جو نمازی ہوگا،۱۰ وہ نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا ۔ جو مجاہد ہوگا، وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا،جو روزے دار ہوگا ،وہ باب ریان سے پکارا جائے گا۔اور جو شخص صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا ،وہ صدقے کے دروازے سے پکارا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو عرض کیا :یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں، اِس کی کوئی ضرورت تو نہیں کہ کسی کو سارے دروازوں سے بلایا جائے،لیکن پھر بھی پوچھ رہا ہوں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جس کو سب دروازوں سے بلایا جائے؟آپ نے فرمایا: ہاں،اور مجھے امید ہے کہ ابوبکر،تم اُن میں سے ہو گے۔ ۱۱

ترجمے کے حواشی

۱۔ یہ نہایت خوب صورت تعبیر ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جنت کا تصور اگرچہ دل کو کھینچتا ہے، لیکن اُس کی راہ میں مشقتیں حائل ہیں، جیسے نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ اور ہر طرح کے حالات میں منکرات سے پرہیز اور اخلاق عالیہ پر قائم رہنے کی جدوجہد۔ انسان اُس کی طرف بڑھنا چاہے تو اُسے یہ مشقتیں لازماً اٹھانی پڑتی ہیں۔ اِس کے برخلاف جہنم کی راہ میں مرغوبات کے خوان بچھا دیے گئے ہیں۔ انسان کبھی نہیں چاہتا کہ وہ اُس کا ایندھن بنے، لیکن یہ مرغوبات اُس کو اپنی طرف کھینچتے اور اِنھی کی لذتوں میں کھویا ہوا وہ بارہا اُس کے دروازے تک جا پہنچتا ہے۔

۲۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد یا مسجد کی تعمیر، دونوں دین کی نصرت کے کام ہیں جن کا اجر غیر معمولی ہے۔ تاہم اِس طرح کی تمام بشارتیں اِس شرط کے ساتھ ہیں کہ آدمی نے کسی کی حق تلفی یا اُس کے جان و مال اور آبرو کے خلاف کوئی زیادتی نہ کی ہو۔

۳۔ اصل میں 'کمفحص قطاۃ' کے الفاظ آئے ہیں۔ 'قطاۃ' ایک کبوتر کے برابر صحرائی پرندے کا نام ہے اور 'مفحص' اُس گڑھے کو کہتے ہیں جو یہ پرندہ انڈے دینے کے لیے زمین میں بناتا ہے۔ یہ مسجد کے چھوٹی سے چھوٹی ہونے کی تعبیر ہے۔ اِسے فی الواقع گھونسلے جتنی نہیں سمجھنا چاہیے۔

۴۔ یہ جواب اُس شخص کو دیا گیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد جنت کا طالب بن کر حاضر ہوا ہے۔ اِس میں، ظاہر ہے کہ اُن چیزوں کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی جو فرائض و واجبات کی حیثیت سے دین میں متعین ہیں اور اُس زمانے کا ہر شخص ایمان لاتے ہی اُن سے پوری طرح واقف ہو جاتا تھا۔

۵۔ یعنی مزید ایک گھر بنا دیں گے۔ یہ نوافل کا اجر ہے جو اُنھی لوگوں کو ملے گا جو اپنے ایمان و عمل کی بنا پر جنت میں جانے کا استحقاق پیدا کر لیں گے۔

۶۔ سات بڑے گناہ قرآن مجید سے متعین کیے جائیں تو یہ ہوں گے: شرک، قتل ناحق، زنا، قذف، چوری، فساد فی الارض اور یتیم کا مال کھانا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی بعض روایتوں، مثلاً صحیح مسلم ، رقم ۱۳۲ میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سات ہلاک کر دینے والی چیزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے زنا، چوری، اور فسادفی الارض جیسے جرائم کی جگہ سود کھانے، جادو کرنے اور میدان جہاد سے بھاگ جانے کو شمار فرمایا۔ یہ، ظاہر ہے کہ مخاطبین کے لحاظ سے ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و اصلاح کی ضرورتوں کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ کئی دوسرے مواقع پر بھی اختیار فرمایا ہے۔

۷۔ یہ اُس صبر کا صلہ ہے جو صرف اللہ کے لیے اور بڑی مصیبتوں پر کیا جائے۔ اِس طرح کا صبر اُنھی لوگوں سے متوقع ہوتا ہے جو عام حالات میں بھی اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے اور حدود الٰہی کے پابند رہتے ہیں۔روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے باوجود کوئی کمی رہ جائے جس پر مواخذے کا اندیشہ ہوتو وہ اِس صبر سے پوری ہوجائے گی۔

۸۔ یعنی تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو اِسی طرح دنیا کے فائدے پر آخرت اور اُس کی نعمتوں کو ترجیح دینے والا ہو۔

۹۔ یہ اللہ کی راہ میں انفاق کے لیے آدمی کے شوق کی تعبیر ہے، یعنی ایک چیز کا تقاضاکیا گیا تو آگے بڑھ کر دوخرچ کر دیں۔

۱۰۔ یعنی جس کے اعمال میں نماز کی رغبت، اُس کے لیے اشتیاق اور زیادہ سے زیادہ نوافل کے اہتمام کا غلبہ ہو گا۔ آگے باقی سب اعمال کا ذکر بھی اِسی لحاظ سے ہوا ہے۔

۱۱۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دین کے علم و عمل میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ کیا تھا۔

متن کے حواشی

۱۔اِس حدیث کا متن مسند احمد،رقم۳۷۵۰ ۱سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ جن کتابوں میں نقل ہوئی ہے،وہ یہ ہیں:مسنداحمد،رقم۱۲۳۲۱۔مسند عبد بن حمید، رقم ۱۳۱۸۔ سنن دارمی، رقم ۲۷۵۴۔ سنن ترمذی، رقم ۲۴۹۸۔ مسند رویانی،رقم۱۳۸۱۔مسند ابی یعلیٰ،رقم۳۲۲۷۔صحیح ابن حبان،رقم۷۲۱، ۷۲۳۔

یہی مضمون ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہوا ہے اور درج ذیل مصادر میں منقول ہے :

مسنداسحاق،رقم۳۹۷۔مسند احمد،رقم۷۳۴۷، ۸۷۴۴۔صحیح بخاری،رقم۶۰۳۳۔صحیح مسلم،رقم۵۰۵۴۔مسند بزار، رقم ۲۷۷۲۔صحیح ابن حبان،رقم ۷۲۴۔مسند شامیین،طبرانی،رقم۳۲۶۸۔

۲۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق ،مثلاً صحیح بخاری رقم۶۰۳۳ میں 'حُفَّت' کے بجاے 'حُجِبَت' کا فعل استعمال ہوا ہے۔دونوں سے مدعا میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔

۳۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی بعض طرق ،مثلاً مسند احمد،رقم۷۳۴۷ میں 'حُفَّتِ النَّارُ'مقدم اور 'حُفَّتِ الْجَنَّۃُ' موخر ہے۔

اِنھی ابو ہریرہ سے منقول بعض طرق، مثلاًالسنن الصغریٰ،نسائی،رقم ۳۷۲۵ میں یہ مضمون اللہ تعالیٰ اور جبریل علیہ السلام کے درمیان ایک مکالمے کی صورت میں بیان ہوا ہے،روایت یہ ہے:

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، أَرْسَلَ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَام إِلَی الْجَنَّۃِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَیْہَا وَإِلٰی مَا أَعْدَدْتُ لِأَہْلِہَا فِیہَا. فَنَظَرَ إِلَیْہَا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ لَا یَسْمَعُ بِہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَہَا فَأَمَرَ بِہَا فَحُفَّتْ بِالْمَکَارِہِ، فَقَالَ: اذْہَبْ إِلَیْہَا فَانْظُرْ إِلَیْہَا وَإِلٰی مَا أَعْدَدْتُ لِأَہْلِہَا فِیہَا. فَنَظَرَ إِلَیْہَا فَإِذَا ہِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَکَارِہِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیْتُ أَنْ لَا یَدْخُلَہَا أَحَدٌ. قَالَ: اذْہَبْ فَانْظُرْ إِلَی النَّارِ وَإِلٰی مَا أَعْدَدْتُ لِأَہْلِہَا فِیہَا. فَنَظَرَ إِلَیْہَا فَإِذَا ہِيَ یَرْکَبُ بَعْضُہَا بَعْضًا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِکَ لَا یَدْخُلُہَا أَحَدٌ. فَأَمَرَ بِہَا فَحُفَّتْ بِالشَّہَوَاتِ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَانْظُرْ إِلَیْہَا. فَنَظَرَ إِلَیْہَا فَإِذَا ہِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّہَوَاتِ فَرَجَعَ، وَقَالَ: وَعِزَّتِکَ لَقَدْ خَشِیتُ أَنْ لَا یَنْجُوَ مِنْہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَہَا''.

''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جنت اورجہنم کو پیدا کیا تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: اِسے اور اِس کے سازوسامان کو دیکھو جو میں نے اہل جنت کے لیے اِس میں تیار کیا ہے۔ وہ گئے، اُس کو دیکھ کر واپس آئے اور عرض کیا: پروردگار، تیری عزت کی قسم، اِس کے بارے میں جو بھی سنے گا، اِس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا۔ پھر اللہ نے اُس کے متعلق حکم دیا اور وہ دشوار اور ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جاؤ، اُسے اور اُس کی سب چیزوں کو ایک مرتبہ پھر دیکھو جو میں نے اہل جنت کے لیے اُس میں تیار کی ہیں۔ جبریل نے اُس کو دیکھا تو وہ دشوار اور نا پسندیدہ چیزوں سے ڈھانپی جا چکی تھی۔ چنانچہ وہ آئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم، مجھے اندیشہ ہے کہ اب اِس میں کوئی شخص بھی داخل نہ ہو سکے گا۔ ارشاد ہوا: اب جاؤ اور جہنم اور اُس کی سب چیزوں کو دیکھو جو میں نے اُس کے لوگوں کے لیے اُس میں تیار کی ہیں۔ انھوں نے دیکھا تو وہ ایک پر ایک چڑھی جا رہی تھی۔ لہٰذا واپس آئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم، اِس میں تو کوئی داخل نہ ہو گا۔ پھر اللہ نے اُس کے متعلق بھی حکم دیا اور وہ دل پسند چیزوں سے ڈھانپ دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جاؤ اور اُس کو ایک مرتبہ پھر دیکھو۔ اُنھوں نے دیکھا تو وہ دل پسند چیزوں سے ڈھانپی جا چکی تھی۔ چنانچہ لوٹ کر آئے اورعرض کیا: تیری عزت کی قسم، اب تو خدشہ ہے کہ کوئی بھی نہیں بچے گا، سب اِسی میں داخل ہوں گے۔''

۴۔اِس روایت کا متن اصلاً مصنف ابن ابی شیبہ ،رقم، ۱۸۹۸۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ جن مصادر میں نقل ہوئی ہے،وہ یہ ہیں:مسند احمد ،رقم۱۲۴،۳۳۶۔مسند عبد بن حمید،رقم۳۵۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۴۳۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۷۲۹۔مستدرک حاکم، رقم ۲۳۷۹۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۷۰۸۴۔

۵۔مسند احمد، رقم۳۳۶۔

۶۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم،رقم۸۳۴ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۰۷۵۔ مسند احمد، رقم ۴۲۴، ۴۹۲۔ سنن دارمی، رقم ۱۳۶۱۔ صحیح بخاری، رقم ۴۳۴۔صحیح مسلم ، رقم ۵۳۰۲۔سنن ابن ماجہ، رقم ۷۲۸۔سنن ترمذی، رقم ۲۹۲۔

عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی مضمون عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ،عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،علی رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہوا ہے اور اِن مصادرمیں نقل کیا گیا ہے: مسند طیالسی،رقم،۴۵۸، ۲۷۲۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۳۰۷۲، ۳۰۷۳۔مسند احمد،رقم۲۰۷۸۔سنن ابن ماجہ،رقم ۷۲۹، ۷۳۰۔ مسند بزار، رقم،۸۸۳، ۳۴۲۵۔ صحیح ابن حبان، رقم۱۶۴۴۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۱۱۵۷۔ المعجم الاوسط طبرانی، رقم ۸۶۹۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۳۹۴۶۔

۷۔عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق،مثلاًصحیح بخاری،رقم۴۳۴میں 'لِلّٰہِ' کے بجاے 'یَبْتَغِيْ بِہِ وَجْہَ اللّٰہِ' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ معنی کے لحاظ سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

۸۔ یہ اضافہ سنن ابن ماجہ،رقم۷۲۹میں علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۹۔ یہ اضافہ سنن ابن ماجہ ،رقم ۷۳۰ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۱۰۔اسما ء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے منقول بعض طرق ، مثلاً مسند احمد،رقم ۲۶۹۵۲ میں 'فَإِنَّ اللّٰہَ یَبْنِي لَہُ بَیْتًا أَوْسَعَ مِنْہُ فِی الْجَنَّۃِ'''اللہ اُس کے لیے جنت میں اُس سے بھی بڑا گھر بنا دیں گے''کے الفاظ ہیں۔

۱۱۔اِس روایت کا متن مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۷۴۸ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے مراجع یہ ہیں :صحیح ابن حبان،رقم۴۹۵،۵۰۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۷۹۵۰، ۱۷۹۵۱۔ مستدرک حاکم، رقم۵۹۔

۱۲۔صحیح ابن حبان ،رقم ۴۹۵ میں 'وَبَذْلِ الطَّعَام' کے بجاے 'بَذلِ السلام' ''سلام عام کرو ''کے الفا ظ نقل ہوئے ہیں۔

۱۳۔اِس روایت کا متن سنن دارمی،رقم ۱۴۳۲سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے مصادر یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ،رقم ۳۵۱۶۱۔مسند احمد ،رقم۲۳۱۵۳۔مسند عبد بن حمید، رقم۵۰۴۔سنن دارمی ، رقم ۲۵۵۱۔ سنن ابن ماجہ،رقم۳۲۵۰۔سنن ترمذی،رقم ۲۴۲۲۔

یہی مضمون ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہوا ہے اوردرج ذیل کتابوں میں نقل کیا گیا ہے:

مسند احمد، رقم۶۲۶۹، ۸۰۹۴۔سنن ابن ماجہ ،رقم۳۲۵۱۔صحیح ابن حبان،رقم۵۱۳، ۲۶۲۴۔سنن ترمذی، رقم ۱۷۷۲۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۵۷۶۱۔ المعجم الاوسط، طبرانی ،رقم۶۷۸۵۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۲۳۰۔

۱۴۔براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق ،مثلاً مسند احمد،رقم۱۸۱۶۳میں سلا م کے حوالے سے یہ بات بھی نقل ہوئی ہے: 'أَفْشُوا السَّلَامَ تَسْلَمُوْا، وَالْأَشَرَۃُ شَرٌّ' ''سلام کو عام کرو، سلامتی میں رہوگے (اور تکبر سے بچے رہو ، اِس لیے کہ) تکبر بدترین چیز ہے ''۔

۱۵۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایا ت ،مثلاً مسند احمد ،رقم ۱۰۱۷۹ میں 'وَصَلُّوْا' ''تم نماز پڑھو'' کے بجاے 'وَقُمْ بِاللَّیْلِ'''اور رات کو قیام کرو ''کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

۱۶۔ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق، مثلاًمسند احمد ،رقم ۶۲۶۹میں یہی بات اِس طرح بیان ہوئی ہے: 'أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَکُوْنُوْا إِخْوَانًا کَمَا أَمَرَکُمُ اللّٰہُ' ''سلام عام کرو،بھوکوں کوکھانا کھلاؤ اور بھائی بھائی بن کر رہو،جیسا کہ تم لوگوں کو اللہ نے حکم دیا ہے۔''

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایات، مثلاً مسند احمد،رقم ۸۰۹۴میں یہ بات خود اُن کے اِ س سوال کے جواب میں نقل ہوئی ہے: 'قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِذَا رَأَیْتُکَ طَابَتْ نَفْسِیْ، وَقَرَّتْ عَیْنِیْ، أَنْبِءْنِیْ عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِہِ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ' ''میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ،میں جب آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے۔ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ اگر میں اُس پر عمل کرلوں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔''

۱۷۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم ۱۲۰۵سے لیا گیا ہے۔یہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مسند طیالسی، رقم۱۶۸۵۔ مصنف عبدالرزاق، رقم ۴۷۱۱، ۵۳۶۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۵۸۲۱، ۵۸۲۵۔ مسند اسحاق، رقم ۱۸۳۶، ۱۸۶۱۔ مسند احمد، رقم ۲۶۱۷۰۔ مسند عبد بن حمید، رقم۱۵۶۲۔سنن دارمی، رقم ۱۴۰۸۔ صحیح مسلم، رقم ۱۲۰۴۔ سنن ابو داؤد، رقم۱۰۶۰۔ سنن ترمذی، رقم۳۸۰۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۴۶۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۱۷۸۳۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۰۷۲۔ صحیح ابن خزیمہ ،رقم ۱۱۲۸۔ صحیح ابن حبان، رقم۲۵۰۴۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۸۹۹۸۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۸۹۷۹۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۱۰۶۔ السنن الکبریٰ ،بیہقی، رقم۴۱۱۷۔

یہی مضمون عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ،ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،اور ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔اِس کے مراجع درج ذیل ہیں:

مسند طیالسی، رقم ۲۶۴۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۵۸۲۴، ۵۸۲۷۔ مسند احمد، رقم۱۹۲۶۹ ،۱۰۲۴۰۔ مسند بزار، رقم۲۷۶۷۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۱۱۳۲۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۴۵۹۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۷۹۸۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۵۳۸۸، ۹۶۷۰۔ مسند شامیین، طبرانی، رقم ۲۴۰۲۔

۱۸۔صحیح ابن خزیمہ،رقم ۱۱۲۷ میں 'رَکْعَۃً' کے بجائے'سَجْدَۃً' نقل ہوا ہے۔

۱۹۔ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے منقول بعض طرق،مثلاً مسند طیالسی،رقم۱۶۸۵ میں 'غَیْرَ فَرِیضَۃٍ' کے بجاے 'سِوَی الْمَکْتُوبَۃِ' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔اُنھی سے منقول بعض طرق ،مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۷۸۸ میں اِن نمازوں کی تفصیل بھی نقل ہوئی ہے: 'أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اثْنَتَا عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، مَنْ صَلَّاہُنَّ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ، أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ' ''بارہ رکعتیں ہیں،جو اِن کو پڑھے گا،اللہ اُس کے لیے جنت میں گھرتعمیرکر دیں گے۔چار ظہر سے پہلے،دو ظہر کے بعد،دو عصر سے پہلے،دو مغرب کے بعداور دو فجر کی نماز سے پہلے۔''

۲۰۔ اِس روایت کا متن اصلاً مستدرک حاکم ،رقم۲۸۶۹سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت جن کتابوں میں نقل ہوئی ہے ،وہ یہ ہیں:السنن الصغریٰ، نسائی،رقم ۲۴۰۵۔ صحیح ابن خزیمہ،رقم۳۲۴۔صحیح ابن حبان،رقم۱۷۸۳۔مستدرک حاکم، رقم۶۷۳۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۹۱۱۳۔

۲۱۔السنن الصغریٰ ،نسائی ،رقم۲۴۰۵۔

۲۲۔ السنن الصغریٰ ،نسائی ،رقم۲۴۰۵۔

۲۳۔ السنن الکبریٰ،نسائی رقم ۲۲۰۳ میں 'الْمُوْبِقَاتِ السَّبْعَ' ''سات ہلاک کردینے والی چیزیں '' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

۲۴۔النساء۴:۳۱۔

۲۵۔ اِس روایت کا متن اصلاًصحیح مسلم، رقم۴۷۷۶ سے لیا گیا ہے،اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مسند طیالسی،رقم۲۴۱۱۔مسند حمیدی،رقم۹۸۴۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۱۱۶۳۶، ۱۱۶۳۸۔مسند احمد، رقم۷۵۳۲، ۹۲۳۲، ۱۰۴۰۱۔صحیح بخاری، رقم۱۰۰، ۱۱۷۸، ۶۱۹۲۔صحیح مسلم،رقم۴۷۷۲، ۴۷۷۳۔سنن ابن ماجہ،رقم۱۵۹۲۔سنن ترمذی، رقم۹۷۸۔السنن الصغریٰ،نسائی، رقم۱۸۶۲، ۱۸۶۴۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۱۹۸۸، ۱۹۹۲۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۰۳۲۔صحیح ابن حبان ،رقم۳۰۱۷۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۶۶۰۰۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ مضمون ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ،انس بن مالک رضی اللہ عنہ،ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،عتبہ بن عبد السلمیٰ رضی اللہ عنہ،معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ،ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا،حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا،صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔اِس کے مراجع یہ ہیں:

مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۱۱۶۳۶۔ مسند احمد، رقم۳۰۸۸، ۱۱۶۴۴، ۱۲۲۹۷، ۲۰۸۲۳۔مسند بزار،رقم۱۹۲۶، ۳۴۵۹۔ صحیح بخاری، رقم۱۱۷۷، ۱۱۷۸، ۶۷۹۳۔صحیح مسلم،رقم۴۷۷۴۔سنن ابن ماجہ، رقم۱۵۹۳،۱۵۹۴۔سنن ترمذی، رقم۹۸۰۔السنن الصغریٰ،نسائی،رقم۱۸۵۹۔السنن،الکبریٰ،نسائی،رقم۱۹۸۹۔ مسند شاشی،رقم۱۳۲۲۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۰۱۹، ۴۷۴۴۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۵۸۶۵۔ المعجم الکبیر ، طبرانی، رقم ۱۶۱۹، ۱۲۷۱۵، ۱۳۷۵۷۔السنن الکبریٰ، بیہقی،رقم۶۶۰۱، ۶۶۰۷۔

۲۶۔صحیح مسلم،رقم۴۷۷۳۔

۲۷۔مسنداحمد،رقم۱۰۷۰۶۔

۲۸۔یہ اضافہ مسند اسحاق ،رقم ۱۸۶۳ میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے لیا گیا ہے ۔ مسنداحمد،رقم۱۷۳۰۴میں عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں 'ما مِنَ المُسْلِمِیْنَ'کے بجاے 'مَا مِنْ عَبْدٍ' ''کوئی بھی انسان''کے الفاظ نقل ہوئے ہیں ۔

۲۹۔یہ اضافہ المعجم الاوسط، طبرانی،رقم۲۵۵۹میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۳۰۔یہ اضافہ مسند اسحاق ،رقم ۱۸۶۳ میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہے۔اِس کے ساتھ اِس میںیہ الفاظ بھی آئے ہیں: 'قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلُ اللّٰہِ: فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ، قَالَ: نَفَعَتِ الْآبَاءَ شَفَاعَۃُ أَوْلاَدِہِم' ''فرمایا: اِسی دن کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:تب اِن کے شفاعت کرنے والوں کی شفاعت اِن کے کچھ کام نہ آئے گی۔پھر فرمایا:اولاد کی شفاعت ،البتہ اپنے والدین کے حق میں کارگر ہوگی۔'' یہ اضافہ صرف اِسی طریق میں ہے۔ام حبیبہ سے منقول کسی دوسرے طریق میںیہ الفاظ روایت نہیں ہوئے۔دوسرے صحابہ سے اِس مضمون کی جتنی روایات نقل ہوئی ہیں،وہ بھی اِن سے خالی ہیں۔یہ کہنا مشکل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت پڑھ کر یہ تبصرہ فرمایا تھا یا کسی راوی نے اپنی طرف سے اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم ، آیت کی مناسبت روایت کے مضمون سے کسی طرح واضح نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہم نے اس کو اپنے انتخاب میں شامل نہیں کیا۔

صحیح مسلم،رقم ۴۷۷۲میں یہی مضمون اِس اسلوب میں نقل ہوا ہے: 'لَا یَمُوْتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ثَلَاثَۃٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّہُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ' ''جس مسلمان کے بھی تین بچے وفات پا جائیں، دوزخ کی آگ اُس کو اتنی دیر کے لیے چھوئے گی، گویا قسم پوری کی ہے۔ '' ابو نعیم کی معرفۃ الصحابہ ،رقم۴۲۵۰ میں 'فَتَمَسَّہُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ' کے بجاے 'لَمْ یَرَ النَّارَ إِلاَ عَابِرَ سَبِیْلِ' ''آگ کا سامنا وہ محض راہ گزرتے آدمی کی طرح کرے گا'' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق ،مثلاً مسند احمد،رقم ۲۹۷۴میں یہی بات ایک دوسرے اسلوب میں منقول ہے ،وہ کہتے ہیں: 'سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَقُوْلُ: ''مَنْ کَانَ لَہُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي، دَخَلَ الْجَنَّۃَ''. فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ: بِأَبِيْ، فَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ: ''وَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ یَا مُوَفَّقَۃُ''، قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِکَ؟ قَالَ: ''فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِيْ، لَمْ یُصَابُوْا بِمِثْلِي' ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو بچے بالغ ہونے سے پہلے مرکر اُس کے لیے آگے کا اجر بن گئے، اللہ تعالیٰ اُن بچوں کی وجہ سے اُس کوجنت میں داخل کردے گا ۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سنا تو پوچھا: جس شخص کا ایک ہی بچہ مرا ہو؟ آپ نے فرمایا:اے وہ کہ خدا کی توفیق سے بہرہ مند ہوئی ہو،جس شخص کا ایک بچہ مرا ہو، اُس کے لیے بھی یہی بشارت ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا: اگر کسی شخص کا ایک بچہ بھی نہ مرا ہو، آپ نے فرمایا :پھر میں اپنی امت کا میر منزل ہوں گا، کیونکہ میری( وفات کی) مصیبت جیسی کسی اورمصیبت سے وہ دوچار نہ ہوئے ہوں گے۔ ''

۳۱۔اِس روایت کا متن اصلاً المعجم الکبیر،طبرانی ،رقم۱۵۴۳۱سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے: مسند طیالسی، رقم۱۱۵۹۔ مسنداحمد، رقم ۱۵۲۸۷، ۱۹۸۸۵۔ مسندبزار، رقم ۲۸۳۰۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۹۸۵۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۱۸۵۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۰۲۳۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۵۴۱۸۔ مستدرک، حاکم، رقم۱۳۴۹۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۶۵۵۳۔

۳۲۔مسند احمد،رقم ۱۵۲۸۷۔

۳۳۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم ۱۹۸۵۔

۳۴۔ روایت جس کتاب سے نقل کی گئی ہے، اس میں یہاں 'ابنہ' کے بجاے لفظ 'اللّٰہ' مذکور ہے۔ یہ غالباً کسی مخطوطے میں لفظ پر نقطے نہ ہونے کی بنا پر پڑھنے کی غلطی ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں 'ابن' ہی کا محل ہے۔ چنانچہ ہم نے متن میں تصحیح کر دی ہے۔

۳۵۔اِس روایت کا متن مسند احمد ،رقم ۱۲۳۳۵سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۲۳۹۸،۱۳۷۴۱۔صحیح بخاری،رقم ۵۲۴۸۔مسند بزار،رقم ۲۷۹۰۔سنن الترمذی، رقم۲۳۳۷۔مسند ابی یعلیٰ،رقم۴۱۷۸۔

یہی مضمون ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔ اِسے درج ذیل کتابوں میں دیکھ لیا جا سکتا ہے:

مسند احمد ،رقم ۷۴۱۴، ۲۱۶۴۲۔سنن دارمی،رقم ۲۷۰۹۔سنن ترمذی، رقم ۲۳۳۸۔السنن الکبریٰ، نسائی،رقم ۱۰۹۲۹۔ صحیح ابن حبان،رقم۳۰۰۶،۳۰۰۸۔المعجم الاوسط، طبرانی،رقم۵۵۹، ۴۸۸۰، ۸۳۴۷۔ مسند شامیین،رقم۲۲۳۴۔

۳۶۔بعض روایات مثلاً، مسند احمد،رقم ۲۱۶۴۲ میں 'إِذَا أَخَذْتُ کَرِیمَتَیْکَ، فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی' ''اگر تمھاری دونوں محبوب آنکھوں کی بینائی میں سلب کرلوں اور تم اِس صدمے پر ابتدا ہی میں صبر کرو اور راضی رہو'' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق، مثلاً مسند احمد ،رقم ۷۴۱۴میں 'مَنْ أَذْہَبْتُ حَبِیبَتَیْہِ' ''جس کی دونوں محبوب آنکھوں کی بینائی میں سلب کرلوں''کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

۳۷۔اِس روایت کا متن اصلاًصحیح بخاری،رقم۱۷۷۳سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ ، رقم۸۹۱۱۔موطا امام مالک ،رقم ۹۸۸۔مسنداحمد،رقم۷۴۴۸،۸۵۹۱۔ صحیح بخاری، رقم ۲۶۴۲، ۳۴۱۶۔ صحیح مسلم، رقم ۱۷۱۱،۱۷۱۲۔سنن ترمذی، رقم ۳۶۳۶۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۴۲۷۵، ۴۲۷۶۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۲۲۱۶، ۳۱۰۱۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۲، ۳۵۰۱۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۳۰۶۷۔

یہی مضمون جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اورابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔اِس کے مصادر یہ ہیں:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۸۹۷۶۔ مسند احمد، رقم ۲۰۸۹۱، ۲۰۸۴۰۔ سنن دارمی، رقم۲۳۲۵۔ مسندبزار،رقم ۳۳۵۶۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۵۹۱۳، ۵۹۱۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۷۴۶، ۴۷۴۷۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۷۱۶۵۔ المعجم الکبیر، طبرانی،رقم۱۶۲۱۔

۳۸۔ابو ذر رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق، مثلاً المعجم الاوسط، طبرانی ،رقم، ۶۲۱۳میں زوجین کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے: 'قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَیْنِ مِنْ مَالِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ابْتَدَرَتْہُ حَجَبَۃُ الْجَنَّۃِ، قُلْتُ: بَعِیرَیْنِ، فَرَسَیْنِ، شَاتَیْنِ، دِرْہَمَیْنِ، خُفَّیْنِ، نَعْلَیْنِ' '' ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اپنے مال میں سے جوڑا اللہ کی راہ میں خر چ کیا، جنت کے دربان اُس کے استقبال کے لیے سبقت کی کوشش کریں گے۔ ابوذر کہتے ہیں: یعنی دو اونٹ،دو گھوڑے،دو بکریاں،دو درہم،دو موزے،دو جوتے۔''

۳۹۔صحیح بخاری،رقم۳۴۱۶۔

۴۰۔صحیح بخاری،رقم۲۶۴۲۔

۴۱۔صحیح بخاری،رقم ۲۶۴۲ میں اس جملے کے بجاے 'ذَاکَ الَّذِيْ لَا تَوَی عَلَیْہِ' ''اُس کو تو کچھ نقصان نہیں ہے'' کے الفاظ ہیں۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ) فتح الباري شرح صحیح البخاری. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق: حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفی الباز.

ابن ماجہ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر.

أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط ۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي.(۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی لبیہقي. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال فی أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). سنن النساءي الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبدالفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی للنسائی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________