جنت کے اعمال (۳)


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: ''یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَقْوَامٌ أَفْءِدَتُہُمْ مِثْلُ أَفْءِدَۃِ الطَّیْرِ''.۲

۲۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ،۳ قَالَ: خَطَبَنَا۴رَسُوْلُ اللّٰہِ فَأَسْنَدَ ظَہْرَہُ إِلٰی قُبَّۃِ أَدَمٍ، فَقَالَ: ''أَلاَ، لا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، أَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ؟ أَللّٰہُمَّ اشْہَدْ، أَتُحِبُّوْنَ أَنَّکُمْ رُبُعُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ''؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ: ''أَتُحِبُّوْنَ أَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ''؟ قَالُوْا: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ''إِنِّيْ لَأَرْجُوْ أَنْ تَکُوْنُوْا شَطْرَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، مَا أَنْتُمْ فِيْ سِوَاکُمْ مِنَ الْأُمَمِ۵ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْیَضِ، أَوْ کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَاءِ فِی الثَّوْرِ الأَسْوَدَِ''.

۳۔عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ،۶ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ''یَقُوْلُ اللّٰہُ یَا آدَمُ، فَیَقُوْلُ: لَبَّیْکَ، وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِيْ یَدَیْکَ، قَالَ: ''یَقُوْلُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ، قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِاءَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ، قَالَ: ''فَذَاکَ حِیْنَ یَشِیْبُ الصَّغِیْرُ، وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا، وَتَرَی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ہُمْ بِسُکَارٰی، وَلَکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ''، قَالَ: [فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُوْنَ یَبْکُوْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا فَإِنَّہَا لَمْ تَکُنْ نُبُوَّۃٌ قَطُّ إِلَّا کَانَ بَیْنَ یَدَیْہَا جَاہِلِیَّۃٌ''، قَالَ: ''فَیُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاہِلِیَّۃِ فَإِنْ تَمَّتْ، وَإِلَّا کَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ]''۷ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَیُّنَا ذٰلِکَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: ''أَبْشِرُوْا، فَإِنَّ مِنْ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ أَلْفًا، وَمِنْکُمْ رَجُلٌ''، ثُمَّ قَالَ: ''[إِنَّکُمْ لَمَعَ خَلِیْقَتَیْنِ، مَا کَانَتَا مَعَ شَیْءٍ قَطُّ إِلَّا کَثَرَتَاہُ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ وَمَنْ ہَلَکَ مِنْ بَنِيْ آدَمَ وَبَنِيْ إِبْلِیْسَ]۸ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ إِنِّيْ لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُوْنُوْا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ''، فَحَمِدْنَا اللّٰہَ وَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ''وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ، إِنِّيْ لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ''، فَحَمِدْنَا اللّٰہَ وَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ''وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ، إِنِّيْ لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُوْنُوْا شَطْرَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، إِنَّ مَثَلَکُمْ فِي الْأُمَمِ کَمَثَلِ الشَّعْرَۃِ الْبَیْضَاءِ فِيْ جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، أَوْ کَالرَّقْمَۃِ فِيْ ذِرَاعِ الْحِمَارَ''.۹

۴۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۱۰ قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، وَأَکْثَرْنَا الْحَدِیْثَ، قَالَ: ثُمَّ تَرَاجَعْنَا إِلَی الْبُیُوْتِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''عُرِضَتْ عَلَيَّ الأَنْبِیَاءُ اللَّیْلَۃَ [وَأُمَمُہُمْ]۱۱، فَجَعَلَ النَّبِيُّ یَجِيْءُ وَمَعَہُ الثَّلاثَۃُ مِنْ قَوْمِہِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَہُ الْعِصَابَۃُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَہُ النَّفْرُ،۱۲ وَالنَّبِيُّ لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ مِنْ قَوْمِہِ، حَتّٰی أَتٰي عَلَيَّ مُوْسَی بْنُ عِمْرَانَ فِيْ کَبْکَبَۃٍ مِنْ بَنِيْ إِسْرَاءِیلَ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ أَعْجَبُوْنِيْ، فَقُلْتُ: رَبِّ۱۳مَنْ ہٰؤُلاَءِ؟ قَالَ: ہَذَا أَخُوْکَ مُوْسَی بْنُ عِمْرَانَ، وَمَنْ تَبِعَہُ مِنْ بَنِيْ إِسْرَاءِیلَ''، قَالَ: ''قُلْتُ: رَبِّ، فَأَیْنَ أُمَّتِيْ؟ فَقِیْلَ لِي: انْظُرْ عَنْ یَمِیْنِکَ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُمَکَّۃَ [قَدْ سُدَّتْ]۱۴ بِوُجُوْہِ الرِّجَالِ، [ثُمَّ قِیْلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَسَارِکَ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّتْ بِوُجُوْہِ الرِّجَالِ،]۱۵ فَقُلْتُ: رَبِّ، مَنْ ہٰؤُلاَءِ؟ قَالَ: أُمَّتُکَ''، قَالَ: ''فقِیْلَ لِیْ: ہَلْ رَضِیْتَ؟ فَقُلْتُ: رَبِّ رَضِیْتُ''، قَالَ: ''ثُمَّ قِیْلَ لِيْ: إِنَّ مَعَ ہٰؤُلاَءِ سَبْعِیْنَ أَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ،۱۶ لاَ حِسَابَ عَلَیْہِمْ''،۱۷ قَالَ: فَأَنْشَأَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ، ادْعُ رَبَّکَ أَنْ یَجْعَلَنِيْ مِنْہُمْ، قَالَ: ''أَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ مِنْہُمْ''، ثُمَّ أَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ، ادْعُ رَبَّکَ أَنْ یَجْعَلَنِيْ مِنْہُمْ، قَالَ: فَقَالَ: ''سَبَقَکَ بِہَا عُکَّاشَۃُ''، قَالَ: ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''فِدًا لَکُمْ أَبِيْ وَأُمِّيْ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَکُوْنُوْا مِنَ السَّبْعِیْنَ، فَکُوْنُوْا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ، فَکُوْنُوْا مِنْ أَہْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ، فَکُوْنُوْا مِنْ أَہْلِ الأُفُقِ، فَإِنِّيْ رَأَیْتُ [ثَمَّ نَاسًا یَتَہَاوَشُوْنَ کَثِیْرًا]''،۱۸ قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنِّيْ لَأَرْجُوْ أَنْ یَّکُوْنَ مَنْ تَبِعَنِيْ مِنْ أُمَّتِيْ، رُبْعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ''، قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ''إِنِّيْ لَأَرْجُوْ أَنْ تَکُوْنُوا الثُّلُثَ''، فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ''إِنِّيْ لَأَرْجُوْ أَنْ تَکُوْنُوا الشَّطْرَ''، فَکَبَّرْنَا، قَالَ: فَتَلاَ نَبِيُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّمَ: ''ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ''،۱۹ قَالَ: فَرَاجَعَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلٰی ہٰؤُلاَءِ السَّبْعِیْنَ، فَقَالُوْا: نَرَاہُمْ نَاسًا وُلِدُوْا فِي الْإِسْلاَمِ، ثُمَّ لَمْ یَزَالُوْا یَعْمَلُوْنَ بِہِ حَتّٰی مَاتُوْا عَلَیْہِ، فَنُمِيَ حَدِیثُہُمْ ذٰلِکَ إِلَی نَبِيِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ''لَیْسَ کَذٰلِکَ، وَلَکِنَّہُمُ الَّذِیْنَ لاَ یَسْتَرْقُوْنَ وَلاَ یَکْتَوُوْنَ، وَلاَ یَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ''.

۵۔عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ،۲۰ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ عَالَ [ابْنَتَیْنِ، أَوْ ثَلَاثَ بَنَاتٍ، أَوْ أُخْتَیْنِ، أَوْ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ]،۲۱ [فَصَبَرَ عَلَیْہِنَّ، وَأَطْعَمَہُنَّ، وَسَقَاہُنَّ، وَکَسَاہُنَّ مِنْ جِدَتِہِ]،۲۲ وَأَدَّبَہُنَّ، وَرَحِمَہُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ، [وَیَتَّقِي اللّٰہَ فِیْہِنَّ]،۲۳[حَتّٰی یَمُتْنَ أَوْ یَمُوْتَ عَنْہُنَّ]۲۴فَلَہُ الْجَنَّۃُ''.۲۵

۶۔ أَنَّ عَاءِشَۃَ ۲۶زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَ تْنِيْ إِمْرَأَۃٌ وَمَعَہَا ابْنَتَانِ لَہَا، فَسَأَلَتْنِيْ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِيْ شَیْءًا غَیْرَ تَمْرَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَأَعْطَیْتُہَا إِیَّاہَا، فَأَخَذَتْہَا فَقَسَمَتْہَا بَیْنَ ابْنَتَیْہَا، وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْءًا، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاہَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُہُ حَدِیْثَہَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، فَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ''.

۷۔عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ،۲۷ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِيْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ، وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا، وَبِبَیْتٍ فِيْ وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ، وَإِنْ کَانَ مَازِحًا، وَبِبَیْتٍ فِيْ أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَہَُ.

۸۔عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ،۲۸ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''قُمْتُ۲۹ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ، فَإِذَا عَامَّۃُ مَنْ دَخَلَہَا الْمَسَاکِینُ،۳۰وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوْسُوْنَ''.

۹۔ عَنْ سَہْلٍ،۳۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیْمِ۳۲ فِي الْجَنَّۃِ ہٰکَذَا''، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْئًا.

۱۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل (نرمی اور لطافت میں) گویا پرندوں کے دل ہوں گے۱۔

۲۔عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا ۔آپ اُس وقت چمڑے کے خیمے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا:آگاہ رہو جنت میں صرف وہی جائے گا جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے۔۲ پھر فرمایا :پروردگار، کیامیں نے پہنچا دیا؟ پروردگار،توگواہ رہنا۔پھر لوگوں سے پوچھا:کیا تم اِس بات کو پسند کرتے ہو کہ جنت والوں میں تم ایک چوتھائی ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول، یقینا۔ آپ نے دوبارہ پوچھا: کیا تم اِس بات کو پسند کرتے ہو کہ جنت والوں میں تم ایک تہائی ہو؟ لوگوں نے پھر وہی جواب دیا کہ ہاں، اے اللہ کے رسول۔فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ جنت کے لوگوں میں تم آدھے ہو گے۔ (یہ اِس وقت کے لحاظ سے نہیں ہے،اِس وقت تو)تم دوسری امتوں میں ایسے ہو، جیسے سفید بیل کے جسم پر ایک کالابال یا کالے بیل کے جسم پر ایک سفید بال۔

۳۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کہے گا: اے آدم، وہ عرض کریں گے: میں حاضر ہوں ،پروردگار تیری فرماں برداری کے لیے ہر وقت حاضر ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔فرمایا:اللہ کہے گا: دوزخ کے لوگوں کو نکال لو ۔وہ عرض کریں گے: دوزخ کے کتنے لوگ ہیں،پروردگار۔ ارشاد ہوگا: ہرہزار میں سے نو سو ننانوے۔۳نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہی وقت ہوگا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے، حالاں کہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہو گا۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ آپ کی یہ بات سن کرسب مسلمان رونے لگے۔ اِس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور راہ راست پر رہو ۔یہ اِس لیے ہو گا کہ ہر نبوت سے پہلے ایک جاہلیت کا زمانہ رہا ہے۔فرمایا: سو یہ لوگ اُنھی میں سے لیے جائیں گے۔۴ پھر اگر گنتی پوری ہو گئی تو ٹھیک،ورنہ منافقین سے پوری ہو جائے گی۔۵ لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ،وہ ایک شخص کون ہوگا( جو ہزار میں سے بچا رہے گا)؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے جواب میں فرمایا: خوش ہو جاؤ ،اِس لیے کہ یاجوج ماجوج ۶میں سے ہزار دوزخ کے لوگ ہوں گے تو تم میں سے ایک ہوگا۔ پھر فرمایا:تم دو ایسی قوموں کے ساتھ ہو گے کہ وہ جس کے ساتھ مل جائیں، اُس کی تعدا د بڑھا دیتی ہیں ،یعنی یاجوج ماجوج اورآدم و ابلیس کی اولاد میں سے ہلاک ہونے والے۔۷ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں میں چوتھائی ہو گے۔ ہم نے یہ سنا تو اللہ کاشکر ادا کیا اور تکبیر بلند کی ۔فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے امیدہے کہ تم جنت والوں میں ایک تہائی ہوگے ۔ہم نے پھر شکر ادا کیا اور اللہ اکبر کہا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرفرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں میں آدھے ہو گے۔۸ (یہ اِس وقت کے لحاظ سے نہیں ہے ،اِس لیے کہ اِس وقت تو)تم امتوں میں ایسے ہو،جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال یا وہ خط جو گدھے کے اگلے پاؤں میں ہوتا ہے۔۹

۴۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے۔وہ کہتے ہیں کہ اِس کے بعد ہم اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ پھر جب صبح ہوئی اور ہم دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آج رات (خواب میں) مختلف انبیا اور اُن کی امتوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ چنانچہ ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گزرے تواُن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ ایک گروہ تھا۔ اِسی طرح ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے پاس سے موسیٰ بن عمران کا گزر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک بھیڑ تھی۔ اُن کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا تومیں نے پوچھا: پروردگار ،یہ کون لوگ ہیں؟ ارشاد ہوا: یہ آپ کے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور اِن کے ساتھ بنی اسرائیل میں سے اُن کے پیرو ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ میں نے پوچھا: پروردگار، پھر میری امت کہاں ہے؟ ارشاد ہوا: اپنی دائیں جانب دیکھیے۔ میں نے نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ٹیلے ہیں ، مکہ کے ٹیلے اور لوگوں کے چہرے ہی چہرے ہیں،وہ اُن سے بھرے ہوئے ہیں۔پھر ارشاد ہوا: اپنے بائیں جانب دیکھیے ۔میں نے دیکھا تو دور افق تک چہرے ہی چہرے تھے اور وہ بھی اُن سے بھرا ہوا تھا۔میں نے یہ دیکھاتو پوچھا:پروردگار،یہ کون ہیں؟ ارشاد ہوا: یہ تمھاری امت ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر پوچھا گیا: کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کیا :پروردگار،میں ہر لحاظ سے راضی ہوں۔آپ کا بیان ہے کہ پھر مجھے بتایا گیا کہ اِن لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۱۰۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر عکاشہ بن محصن کھڑے ہو ئے اور کہنے لگے :اللہ کے نبی، اپنے پروردگار سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی اُن میں شامل کرے۔آپ نے دعا کی: پروردگار، اِس کو اُن میں شامل کر دے۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اُس نے عرض کی: اللہ کے نبی، اپنے رب سے میرے لیے بھی دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی اُنھی میں شامل کرے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اِس میں تو اب عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ۔راوی کا بیان ہے کہ اِس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں ، اگر تم اُن ستر ہزار میں شامل ہو سکو، (جن کا ذکر ہوا) تو اُن میں شامل ہونے کی کوشش کرنا۔ اگر اِس سے قاصر رہ جاؤ تو کوشش کرو کہ ٹیلے والوں میں شامل ہو جاؤ۔ اور اگر یہ بھی نہ کر سکو توافق تک پھیلے ہوئے لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو۔ اُس میں بڑی گنجایش ہے،اِس لیے کہ میں نے بہت سے لوگوں کو وہاں جمع ہوتے اور ایک دوسرے سے ملتے ہوئے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اِس کے بعد آپ نے فرمایا: میری تمنا ہے کہ میری امت میں سے میری پیروی کرنے والے جنت کا ایک چوتھائی ہوں۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ہم نے یہ سن کراللہ اکبر کہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ جنت کے ایک تہائی ہو، عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: ہم نے پھر تکبیر بلند کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ جنت کا نصف ہو۔عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں:ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔اِس کے بعد آپ نے( اہل جنت کے بارے میں سورۂ واقعہ کی) وہ آیتیں تلاوت فرمائیں جن میں کہا گیا ہے:''وہ اگلوں میں بھی ایک بڑا گروہ ہوں گے، اور پچھلوں میں بھی ایک بڑا گروہ'' ۔وہ کہتے ہیں کہ اب لوگوں میں بحث شروع ہو گئی کہ یہ ستر ہزار کون ہوں گے۔ اِس پر بعض لوگوں نے کہا:ہمارا خیال ہے کہ اِس سے وہ لوگ مراد ہیں جواسلام کی حالت میں پیدا ہوئے اور اُسی پر عمل کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پھر اُن کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا: نہیں، ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کریں گے، نہ جسم کو داغیں گے، نہ برے شگون لیں گے اور (زندگی کے تمام معاملات میں) اپنے رب ہی پر بھروسا رکھیں گے۔۱۱

۵۔ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،اُنھوں نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو یا تین بیٹیوں یادو یا تین بہنوں کی پرورش کی اور یہ ذمہ داری صبر و استقامت کے ساتھ نبھائی،اِس پرجزع فزع نہیں کی (کہ لڑکیاں پیدا ہوگئیں)اورجو ثروت خدا نے بخشی تھی،اُس سے فائدہ اٹھا کر اُنھیں کھلایاپلایا،پہنایا،اُنھیں تہذیب سکھائی،اُن کی شادیاں کیں، اُن کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا اور اُن کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا رہا، یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئیں یا اُن کو چھوڑ کر یہ دنیا سے رخصت ہوگیا، اُس شخص کے لیے جنت ہے ۔۱۲

۶۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت میرے پاس آئی۔ اُس کے ساتھ اُس کی دو بیٹیاں بھی تھیں۔ اُس نے دست سوال دراز کیا تومیرے پاس اُس کو دینے کے لیے صرف ایک کھجور تھی۔میں نے وہی اُس عورت کو دے دی تواُس نے وہ لے کر آدھی آدھی دونوں بچیوں میں تقسیم کردی،اُس میں سے خود کچھ نہیں کھایا۔پھر وہ اور اُس کی بچیاں اُٹھیں اور چلی گئیں۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تومیں نے اُس کی یہ بات آپ کو سنائی۔ اِس پر آپ نے فرمایا:جسے اِن بچیوں سے آزمایا جائے اور وہ اِن کے ساتھ حسن سلوک کرے،۱۳ اُس کے لیے یہ جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

۷۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں اُس شخص کے لیے سواد جنت میں ایک گھر کی ضمانت دیتاہوں جو جھگڑا چھوڑ دے، اگرچہ حق پر ہو۔اور اُس شخص کے لیے وسط جنت میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھوٹ نہ بولے،اگرچہ ہنسی مذاق سے ہو ۔اور اُس شخص کے لیے بھی فردوس بریں میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو اپنے اخلاق اچھے بنا لے۔

۸۔اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑ ا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُس میں داخل ہونے والے زیادہ تر مساکین ہیں، جب کہ مال دار حساب کتاب کے لیے روک لیے گئے ہیں۔۱۴

۹۔سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اِس طرح ہوں گے۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں، شہادت کی انگلی اور درمیان کی انگلی سے اشارہ کیااور دونوں میں کچھ فاصلہ رکھا۔

ترجمے کے حواشی

۱۔یہی دل ہیں جنھیں خدا کی یاددہانی کرائی جائے تو اُس کے حضور میں پیشی کے اندیشے سے لرزاں و ترساں ہو جاتے، قرآن سنایا جائے تو آنسو بن کر بہ نکلتے، پیغمبر کو دیکھ لیں تو سراپا اطاعت بن جاتے اور انسانوں کی طرف متوجہ ہوں تو مجسم شفقت و محبت ہو کر اُن سے متعلق ہر حق کو انصاف کے ساتھ، بلکہ اِس سے آگے بڑھ کر احسان کے جذبے سے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنت اِسی نرمی، لطافت اور خدا ترسی کا صلہ ہے۔ سختی ، درشتی ، خشونت اور قساوت اِس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اِس ارشاد میں اِسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اِس کا بہترین نمونہ خود آپ کی ذات والا صفات تھی۔ یہ نمونہ آپ کے ماننے والوں میں سے ہر شخص کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اِس لیے کہ اِسی کی پیروی جنت کی ضمانت ہے۔

۲۔یعنی خدا کو اپنے آقا ،اپنے معبود اور کائنات کے بادشاہ کی حیثیت سے تسلیم کر لے اوراُس کے احکام کی پیروی کے لیے تیار رہے۔

۳۔یہ اُسی طرح کا اسلوب ہے، جس طرح ہم کہتے ہیں کہ فلاں معاملے میں ایک فی ہزار لوگ بھی صحیح رویہ اختیار کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔ قرآن کی سورۂ اعراف (۷) میں بھی تنبیہ اور تہدید کے ایک موقع پر فرمایا ہے: 'وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ'، ''جنوں اور انسانوں میں سے بہتوں کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے'' (۱۷۹)۔ مدعا یہ ہے کہ جنت کے لیے بہت کم لوگ منتخب ہو سکیں گے، زیادہ تعداد اُنھی لوگوں کی ہو گی جو حساب کے بعد پہلے مرحلے میں دوزخ ہی کے مستحق قرار پائیں گے۔

۴۔ یعنی اُن لوگوں میں سے ہوں گے جو پیغمبروں کی ہدایت سے محروم رہے اور عقل و فطرت کی جو روشنی اللہ تعالیٰ نے عطافرمائی تھی، اُس سے بھی کسب فیض نہیں کر سکے۔ چنانچہ خواہشوں کی اسیری میں زندگی بسر کرکے دنیا سے رخصت ہو گئے۔

۵۔ یعنی اُن لوگوں سے پوری ہو جائے گی جو پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد بظاہر ایمان لے آئے، لیکن حقیقت میں خدا اور اُس کے رسولوں کی ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ لفظ 'مُنَافِقِیْن' قرآن میں اِسی طرح کے لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔

۶۔ یہ دونوں نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں جو ایشیا کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئی۔ پھر اُنھی کے بعض قبائل یورپ پہنچے اور اِس کے بعد چند صدی پہلے امریکا اور آسٹریلیا کو آباد کیا۔ اِن میں سے ایک بڑی تعداد نے اگرچہ مسیح علیہ السلام کو مانا ہے، لیکن خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اُس کے بیٹے اور جسدی ظہور کی حیثیت سے مانا ہے۔ باقی زیادہ تر توہمات کے پیرو رہے ہیں۔ دور حاضر میں اِنھی کی ایک بڑی تعداد اب الحاد کی علم بردار بن کر کھڑی ہورہی ہے۔ قرآن اور بائیبل، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اِنھی کا خروج ہے جس کے بعد قیامت برپا ہو جائے گی۔

۷۔ مطلب یہ ہے کہ اِن دونوں کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہے گی۔ تاہم جب تک دنیا قائم ہے، تمھیں اِنھی کے ساتھ رہنا ہے اور اِنھی کے ساتھ رہتے ہوئے اور اِن کے تمام انحرافات کے باوجود اپنے آپ کو خدا کی ہدایت پر قائم رکھنے کی جدوجہد کرنی ہے۔

۸۔ یعنی اُن لوگوں کے مقابلے میں جو دوسری امتوں میں سے جنت کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ یہ غالباً اِس لیے ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھی اور دیکھتے دیکھتے اربوں تک پہنچ گئی ہے۔

۹۔ یعنی تعداد میں بہت کم ہو۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے حین حیات ایمان لانے والے ایک لاکھ سے کچھ ہی زیادہ تھے۔ یہ تشبیہ اُسی کے پیش نظر ہے۔

۱۰۔یعنی اُن کا معاملہ ایسا صاف ہو گا کہ کسی حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہو گی۔ وہ اِس کے بغیرہی جنت میں داخل ہو جائیں گے، جیسے صدیق و فاروق اور اِسی شان کے بعض دوسرے صحابہ و تابعین۔

۱۱۔یعنی شرک کی ادنیٰ صورتوں سے بھی محفوظ ہوں گے اور اپنے علم و عمل میں تفویض اور توکل کے اُس مقام پر ہوں گے جسے قرآن مجید میں بعض موقعوں پر اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اِسی کے حاملین میں انسانی تاریخ کی نمایاں ترین ہستی ہیں۔

۱۲۔اِس لیے کہ وہ خدا پر سچے ایمان اور اُس کے حضور میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ یہ سب کرتا ہے۔

۱۳۔یعنی اِس کو خدا کی آزمایش سمجھ کراُن سے حسن سلوک کرے۔

۱۴۔یہ غالباًنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی رؤیا ہے جسے اِس طرح بیان کردیا گیا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم۵۰۷۸سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے: مسند ابو داؤد طیالسی، رقم۲۵۰۳۔ مسند احمد ،رقم ۸۱۸۳۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۸۴۹۔

۲۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۱۷۰۷۵میں اہل یمن کی یہی صفت اِس طرح بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'أَہْلُ الْیَمَنِ أَرَقُّ قُلُوْبًا، وَأَلْیَنُ أَفْئِدَۃً، وَأَنْجَعُ طَاعَۃً' ''یمن کے لوگ دل و دماغ کے نرم اور رقیق اور خوب اطاعت گزار ہوتے ہیں''۔

۳۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم ۳۳۱سے لیا گیا ہے ۔اِسے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ اُن سے یہ جن کتابوں میں نقل ہوئی ہے ،وہ یہ ہیں:صحیح بخاری ،رقم ۶۰۷۴۔ سنن ترمذی،رقم ۲۴۸۶۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۵۱۷۹۔

یہی مضمون انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے اور اِن مصادر میں دیکھ لیا جا سکتا ہے: مسند عبد بن حمید،رقم۱۱۹۵۔ مسند ابی یعلیٰ،رقم۳۰۸۰۔صحیح ابن حبان،رقم۷۵۱۳۔مستدرک حاکم،رقم ۸۷۹۷۔

۴۔بعض روایات مثلاً،مسند ابن ابی شیبہ،رقم ۲۹۹ میں منقول ہے کہ آپ نے یہ خطبہ منیٰ میں دیا۔اِسی طرح السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۵۱۷۹ اور بعض دوسری روایتوں میں یہ بات بھی نقل ہوئی ہے کہ اُس وقت تقریباً چالیس افراد آپ کے ارد گرد موجود تھے۔

۵۔صحیح بخاری،رقم۶۰۷۴ میں 'فِيْ سِوَاکُمْ مِنَ الأُمَمِ' کے بجاے 'فِيْ أَہْلِ الشِّرْکِ' ''اہل شرک میں'' کے الفاظ ہیں۔

۶۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم ،رقم ۳۳۲ سے لیا گیا ہے ۔اِسے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے اور یہ اِن مصادر میں دیکھ لی جا سکتی ہے:مسند احمد،رقم ۱۱۰۶۶۔مسند عبد بن حمید،رقم۹۲۵۔صحیح بخاری، رقم ۳۱۲۱،۴۳۹۷،۶۰۷۶۔السنن الکبریٰ ،نسائی،رقم۱۰۸۲۶۔مستخرج ابی عوانہ،رقم۱۹۱۔مستدرک حاکم، رقم ۷۷۔

یہی مضمون عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اُن سے یہ جن مصادر میں نقل ہوا ہے ،وہ یہ ہیں: مسند احمد ،۱۹۴۳۵،۱۹۴۵۵۔سنن ترمذی،رقم۳۱۱۱۔المعجم الکبیر، طبرانی،رقم۱۴۷۴۱۔مستدرک حاکم ،رقم۷۶ ،۲۸۴۳۔

۷۔یہ اضافہ سنن ترمذی،رقم۳۱۱۱ میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیاگیا ہے ۔

۸۔یہ اضافہ مسند احمد ،رقم۱۹۴۵۵ میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۹۔مسند احمد،رقم۱۹۴۵۵ میںیہی بات عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اِن الفاظ میں روایت ہوئی ہے: 'أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا کَالشَّامَۃِ فِيْ جَنْبِ الْبَعِیْرِ' ''تمام امتوں میں تم لوگ اونٹ کے پہلو میں نشان کی طرح ہوگے''۔

۱۰۔اِس حدیث کا متن اصلاً مستدرک حاکم، رقم۸۸۲۲سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

مسند طیالسی،رقم۳۴۷، ۴۰۰۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۳۰۱۶۔مسند ابن ابی شیبہ، رقم۳۵۲، ۴۰۲۔ مسنداحمد، رقم۳۶۷۵،۳۶۹۰،۳۸۵۷۔مسند بزار،رقم۱۶۳۸۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۲۸۱۔مسند شاشی،رقم ۶۰۵،۲۶۰۔صحیح ابن حبان، رقم۶۲۱۸۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۹۶۵۵۔مستدرک حاکم، رقم ۸۳۴۵۔السنن الکبریٰ، بیہقی۱۹۴۴۔

ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی مضمون جن دوسرے صحابہ سے نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ،انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ،سہل بن سعد رضی اللہ عنہ،ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،ثوبان رضی اللہ عنہ،آمنہ بنت محصن رضی اللہ عنہا، عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ۔

اِن صحابہ سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں منقول ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۳۱۰۳۱۔مسند اسحاق بن راہویہ، رقم۵۷۔ مسند احمد، رقم ۷۸۱۷،۸۹۹۴، ۹۶۶۷، ۱۹۴۶۶،۱۹۵۱۶۔سنن دارمی،رقم۲۷۲۰،۲۷۳۶۔صحیح بخاری،رقم۳۱۸۱، ۵۲۹۷، ۵۳۳۸، ۵۳۹۰، ۶۰۸۷۔ صحیح مسلم، رقم ۳۲۳،۳۲۴،۳۲۵،۳۲۸۔مسند بزار، رقم ۹۱۴،۸ ۱۳۰، ۲۱۶۳۔السنن الکبریٰ،نسائی ، رقم۷۳۰۴۔ صحیح ابن حبان ۶۲۲۳، ۶۵۶۸، ۷۴۰۱۔المعجم الکبیر، طبرانی،رقم۱۵۰۲۵۔المعجم الاوسط،طبرانی،۹۳۹۹۔مستدرک حاکم، ۴۹۵۹۔

۱۱۔صحیح ابن حبان، رقم ۷۵۰۵۔

۱۲۔ صحیح بخاری ،رقم۶۰۶۸میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ بات اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: 'وَالنَّبِيُّ یَمُرُّ مَعَہُ الْعَشَرَۃُ، وَالنَّبِيُّ یَمُرُّ مَعَہُ الْخَمْسَۃُ' ''ایک نبی گزریں گے تو اُن کے ساتھ دس لوگ ہوں گے،اور ایک گزریں گے تواُن کے ساتھ پانچ ہوں گے''۔

۱۳۔صحیح بخاری ،رقم۶۰۶۹میںیہاں 'رب 'کے بجاے جبریل علیہ السلام کا ذکر ہے۔

۱۴۔ مسند ابن ابی شیبہ،رقم۴۰۲۔

۱۵۔مسند احمد ،رقم۳۶۷۵۔

۱۶۔ مسند احمد رقم۸۵۰۵ا میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی بات اِس اضافے کے ساتھ نقل ہوئی ہے:

'أَنَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ: ''سَأَلْتُ رَبِّيْ فَوَعَدَنِيْ أَنْ یُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِيْ سَبْعِیْنَ أَلْفًا عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃِ الْبَدْرِ، فَاسْتَزَدْتُ، فَزَادَنِيْ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعِیْنَ أَلْفًا، فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ، إِنْ لَمْ یَکُنْ ہٰؤُلَاءِ مُہَاجِرِيْ أُمَّتِيْ؟ قَالَ: إِذَنْ أُکْمِلَہُمْ لَکَ مِنَ الْأَعْرَابِ''.

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے اپنے رب سے درخواست کی تو اُس نے مجھ سے وعدہ کرلیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمیوں کو چودھویں کی رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتاجنت میں داخل کرے گا۔ میں نے اِس میں مزید اضافہ کی درخواست کی تو میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کردیا ۔میں نے پوچھا :پروردگار، اگر یہ لوگ میری امت کے مہاجرین میں سے نہ ہوئے؟ اللہ نے فرمایا:پھر میں یہ تعداد تمھارے لیے دیہات کے لوگوں میں سے پوری کردوں گا''۔

یہ، ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے جس کی حقیقت اُس کے ظہور کے بعد ہی معلوم ہوگی۔

۱۷۔صحیح بخاری رقم۶۰۶۹میں 'وَلَا حِسَابَ' کے بعد 'وَلَا عَذَابَ' کا اضافہ نقل ہوا ہے۔

۱۸۔مسند طیالسی،رقم۴۰۰۔اصل روایت میں'یَتَہَرَّشُوْنَ'ہے جس کی مناسبت یہاں سمجھ میں نہیں آتی۔ہمارا خیال ہے کہ یہ غالباً نقل کی غلطی ہے۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں وہی لفظ ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔

۱۹۔الواقعہ ۵۶: ۳۹۔۴۰۔

۲۰۔اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد ،رقم۱۱۷۰۶سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۲۴۸۵۲۔مسند احمد بن حنبل ،رقم۱۱۱۶۹، ۱۱۷۰۶۔صحیح ابن حبان،رقم۴۵۱۔سنن ابو داؤد، رقم۴۴۸۳۔ سنن ترمذی،رقم۱۸۳۱، ۱۸۳۵۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی مضمون انس بن مالک رضی اللہ عنہ،عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اِن صحابہ سے اِس کے مصادر یہ ہیں:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۵۰، ۲۴۸۵۳۔مسند احمد، رقم ۱۲۲۶۱، ۱۲۳۵۳، ۱۳۹۶۰، ۱۷۰۷۲، ۲۴۸۴۸۔ مسند عبد بن حمید،رقم۱۳۸۵۔سنن ترمذی،رقم۱۸۳۳۔صحیح مسلم،رقم۴۷۷۱۔مسند بزار، رقم۲۳۷۳۔ صحیح ابن حبان، رقم ۴۵۲۔ مسند ابی یعلیٰ۱۷۴۹،۲۱۸۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۵۷۳، ۵۲۹۹، ۸۳۷۷۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۴۱۴۔

۲۱۔ یہ اضافہ سنن ابو داؤد ،رقم۱۲۲۶۱میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۲۲۔یہ اضافہ سنن ابن ماجہ رقم،۳۶۶۷میں عتبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۲۳۔مسند احمد،رقم ۱۱۱۶۹۔

۲۴۔یہ اضافہ سنن ابو داؤد،رقم ۱۲۲۶۱میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۲۵۔انس بن مالک سے مروی بعض طرق ،مثلاً صحیح مسلم ، رقم ۴۷۷۱میں یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: 'جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَا وَہُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَہُ' ''میں اور وہ قیامت کے دن اِس طرح آئیں گے ۔آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا''۔

۲۶۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم۴۷۶۹سے لیا گیا ہے۔سیدہ عائشہ سے یہ درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مسند طیالسی، رقم۱۵۳۹۔مسند اسحاق، رقم۱۵۱۴، ۱۵۱۵۔مسند احمد۲۳۵۰۴، ۲۴۰۱۳، ۲۴۷۶۳، ۲۵۴۷۶۔مسند عبد بن حمید،رقم۱۴۸۲۔صحیح بخاری،رقم ۱۳۳۴، ۵۵۶۳۔سنن ترمذی، رقم۱۸۳۲، ۱۸۳۴۔ صحیح ابن حبان، رقم۳۰۱۵۔

۲۷۔اِس روایت کا متن سنن ابو داؤد ،رقم۴۱۶۹سے لیا گیا ہے ۔اِس کے راوی صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابوامامہ اِنھی کی کنیت ہے۔اِن سے یہ روایت السنن الکبریٰ بیہقی، رقم۹۵۰۷میں بھی نقل ہوئی ہے۔

۲۸۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم۴۹۲۵سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:مسند ابن ابی شیبہ،رقم۱۵۵۔مسند احمد،رقم۲۱۲۳۲، ۲۱۲۷۳۔صحیح بخاری، رقم۴۸۲۲، ۶۰۹۲۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۸۹۲۲، ۱۱۲۶۰، ۱۱۳۲۲۔صحیح ابن حبان،رقم۶۸۱۔

یہی مضمون جن دوسرے صحابہ سے نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۔اِن صحابہ سے اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:

مسند طیالسی،رقم۸۶۵، ۲۸۷۳۔مسند احمد، رقم ۲۰۱۰، ۶۴۳۲، ۷۷۵۲، ۱۹۴۰۵، ۱۹۵۳۱۔مسند عبدبن حمید، رقم ۶۹۸۔ صحیح بخاری،رقم۴۸۲۴، ۵۹۹۵، ۶۰۵۱۔صحیح مسلم، رقم۴۹۲۶۔سنن ترمذی، رقم۲۵۴۴۔مسند بزار، رقم ۱۱۰۳، ۳۰۴۹۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۸۹۱۸، ۸۹۱۹، ۸۰۲۰، ۸۹۲۱۔صحیح ابن حبان،رقم۷۶۱۵، ۷۶۴۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۲۶۰۲، ۱۲۶۰۴، ۱۴۶۵۱۔

۲۹۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایات، مثلاًالسنن الکبریٰ،نسائی رقم ۸۹۲۱میں 'قُمْتُ' کے بجاے 'إِطَّلَعْتُ' کا لفظ ہے۔اِسی طرح عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق،مثلاً مسند طیالسیرقم۸۶۵میں 'نَظَرْتُ'کالفظ آیا ہے۔

۳۰۔عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق،مثلاً مسند طیالسی ،رقم۸۶۵میں 'الْمَسَاکِیْن' کے بجاے 'الْفُقَرَاء' کا لفظ ہے۔

۳۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم۴۹۱۸سے لیاگیا ہے ۔اِس کے راوی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مسند احمد، رقم۲۲۲۲۷۔صحیح بخاری،رقم۵۵۷۳۔سنن ترمذی،رقم۱۸۳۷۔سنن ابو داؤد ،رقم۴۴۸۵۔ صحیح ابن حبان، رقم۴۶۵۔السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم۱۱۷۲۸۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۵۰۰۔

اُن کے علاوہ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ام سعد رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہوئی ہے اور اِن مصادر میں منقول ہے: مسند احمد،رقم۸۶۸۲۔صحیح مسلم، رقم۵۳۰۰۔السنن الکبریٰ نسائی، رقم ۲۳۴۱۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۲۰۸۰۳۔

۳۲۔صحیح مسلم ، رقم۵۳۰۰میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اِس جگہ 'کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہُ أَوْ لِغَیْرِہِ' ''خواہ وہ یتیم اُس کا اپنا ہو یا کسی دوسرے کا''کے الفاظ آئے ہیں۔

یتیم کے لیے قربانی دینے والوں کا کیا مقام ہے؟ مسند ابی یعلیٰ،رقم ۶۶۱۴میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِ س کے بارے میں یہ روایت بھی نقل ہوئی ہے:

'عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''أَنَا أَوَّلُ مَنْ یُّفْتَحُ لَہُ بَابُ الْجَنَّۃِ، إِلاَّ أَنَّہُ تَأْتِي امْرَأَۃٌ تُبَادِرُنِيْ، فَأَقُوْلُ لَہَا: مَا لَکِ؟ وَمَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُوْلُ: أَنَا امْرَأَۃٌ قَعَدْتُ عَلٰی أَیْتَامٍ لِيْ''.

''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔مگر اُس وقت ایک عورت آئے گی اور مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی۔اِس پر میں کہوں گا :کیوں، کون ہو تم؟اِس کے جواب میں وہ کہے گی: میں وہ عورت ہوں جواپنے یتیم بچوں کے لیے بیٹھی رہی اور آگے شادی نہیں کی''۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفی الباز.

ابن ماجہ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط ۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح.ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي.(۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی لبیہقي.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت).صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). سنن النسائي الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبدالفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی للنسائي. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________