’’جزیرہ نماے عرب یا صرف حجاز‘‘


اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم کے ذریعے سے جن دو علاقوں کا اپنی توحید کے مراکز کے طور پرانتخاب کیا تھا ،ان میں سے ایک جزیزہ نماے عرب ہے ،جہاں سیدنا ابراہیم نے اپنے بیٹے سیدنا اسمٰعیل کو آباد کیا تھا،اور دوسرا کنعان ہے،جہاں پہلے سیدنااسحٰقاور پھر سیدنا یعقوب علیہم السلام مامور ہوئے،جنھیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔

ساتویں صدی عیسویں میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو سرزمین عرب میں بھیجا گیا تو ہدایت کی گئی کہ وہ زمین جو خدا کی توحید کے لیے خاص ہے،اس میں اب دین پورا کا پورا صرف اللہ کا ہو جانا چاہیے۔ 'وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ'(الانفال۸:۳۹)۔

آپ نے اس ہدایت پر پوری طرح عمل کیا اور یہی ہدایت اپنے صحابہ کوبھی فرمائی۔آپ کا ارشاد ہے:

أَخْرِجُوْا يَهُوْدَ أَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ. (احمد، رقم۱۶۹۳)

''حجاز کے یہودیوں اور اہل نجران ( نصاریٰ ) کو جزیرہ نماے عرب سے نکال باہر کرو۔''

ایک دوسرے موقع پر آپ نے فرمایا:

لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُوْدَ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا.(مسلم، رقم۳۳۱۹)

''میں ان یہود اور نصاریٰ کو ضرور بہ ضرور عرب کے جزیرے سے نکال دوں گا،یہاں تک کہ اس جگہ مسلمانوں کے سوا کسی کو نہیں رہنے دوں گا۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی بعد کے لوگوں کو پوری صراحت سے یہ تلقین فرمائی کہ اس جزیزہ نماے عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے ہیں۔مسند احمد میں ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُوْلُ اللہ أَنْ قَالَ: ''لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِيْنَانِ''.(رقم۲۵۷۵۸)

''عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عہد جو لیا، وہ یہ تھا کہعرب کے جزیرے میں دو دین باقی نہیں رہیں گے۔''

قرآن مجید اور احادیث کی ان واضح تصریحات کے بعد یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ یہ حکم اس پورے جزیرہنماے عرب کے لیے ہے جو آج ان ممالک پر مشتمل ہے:

المملكة العربية السعودیة

سلطنة عُمان

الإمارات العربية المتحدة

دولة الكويت

دولة قطر

مملكة البحرین

یمن اس میں شامل نہیں ہے ، اس لیے کہ یمن اگرچہ جغرافیہ کے لحاظ سے جزیزہ نماے عرب کا حصہ ہے، لیکن اپنے سیاسی نظم کے اعتبار سے ہمیشہ جداگانہ حیثیت میں قائم رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسالت مآب نے جب قرب و جوار کی ریاستوں کو خطوط لکھے تو ان میں یمن کے سردار بھی شامل تھے، جنھوں نے ۷ ھ میں پوری قوم سمیت ایمان قبول کر لیا تھا۔

یہی نقطۂ نظر امت اسلامی کے اکثر علما نے اپنایا ہے،تاہم بعض اہل علم اس معاملے میں ایک مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ حکم پورے جزیرہ نماے عرب کے لیے نہیں، بلکہ صرف حجاز کے لیے خاص ہے۔

ان میں سے ایک شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہیں۔انھوں نے اپنی کتاب ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں جہاد کے باب میں مال غنیمت کی تقسیم کے ضمن میں، دنیا میں ممالک کی تقسیم پر مختصر گفتگو کی ہے، جس سے ان کا یہ نقطۂ نظر سامنے آتا ہے ۔شاہ صاحب لکھتے ہیں:

وَأَن الْبِلَاد على قسمَيْنِ: قسم تجرد لأهل الْإِسْلَام كالحجاز، أَو غلب عَلَيْهِ الْمُسلمُونَ، وَقسم أَكثر أَهله الْكفَّار فغلب عَلَيْهِم الْمُسلمُونَ بعنوة أَو صلح.(۲/ ۲۷۴)

''دنیا میں ممالک دو طرح کے ہیں:ایک وہ جنھیں اسلام کے لیے خاص کر لیا گیا ہے، جیسے حجاز یا وہ جن پر مسلمان غالب آگئے ہوں، اور دوسری قسم کے وہ ممالک ہیں جن میں کفار کی اکثریت ہو اور پھر مسلمانوں کا غلبہ قائم ہوگیا ہو، لڑ کر یا پھر صلح سے۔''

شاہ صاحب کی مذکورہ عبارت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ جس علاقے کو مسلمانوں کے لیے خاص قرار دے رہے ہیں، وہ ''حجاز'' ہے۔ہم جانتے ہیں کہ حجاز جزیزہ نماے عرب کا محض ایک حصہ ہے جو تاریخی طور پر نجد اور تہامہ کے مابین ایک حدفاصل ہے۔ شاہ صاحب اگر یہاں حجاز کو ہی اس حکم کے تحت بیان کرنا چاہتے تھے تو یہ یقیناً امت میں رائج نقطۂ نظر سے مختلف تھا جس کی تفصیل انھیں کرنی چاہیے تھی۔البتہ ایک امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جز بول کر کل مراد لینے کے اصول پر حجاز یہاں عرب ہی کے لیے بولا جا رہا ہواور مراد جزیرہ نماے عرب ہو۔اس امکان کو شاہ صاحب کی چند دوسری عبارات سے تقویت ملتی ہے جہاں حجاز محض اس ایک مخصوص علاقے کے لیے نہیں، بلکہ وہاں کے دوسرے علاقوں کے لیے بھی بولا جا رہا ہے۔ ''حجۃ اللہ البالغہ'' ہی میں ہے:

فَوَقع شيوع تدوين الحَدِيث والأثر فِي بلدان الْإِسْلَام، وَكِتَابَة الصُّحُفوالنسخ حَتَّى قل من يكون أهل الرِّوَايَةإِلَّا كَانَ لَهُ تدوين أَو صحيفَة أَو نُسْخَةمن حَاجتهم لموقع عَظِيم، فَطَافَ من أدْرك من عظمائهم ذَلِك الزَّمَان بِلَادالْحجاز وَالشَّام وَالْعراق، ومصر واليمنوخراسان، وجمعوا الْكتب، وتتبعوا النّسخ.(۱/ ۲۵۴)

''(اسی اہتمام کی وجہ سے)حدیث کی تدوین کا عمل اطراف میں پھیل گیا اور بلاد اسلام میں جا بہ جا حدیث کی کتابیں اور نسخے مرتب ہونے لگے، یہاں تک کہ اہل روایت میں کوئی ایسا عالم نہ تھا جس کی کوئی کتاب نہ ہو۔اس وقت کی ضرورت نے یہ صورت حال پیدا کر دی تھی۔اس زمانے کے بلند پایہ علما نے تمام ممالک، مثلاً حجاز، شام، عراق، مصر ،یمن اور خراسان کا سفر کیا، اور کتابوں اور نسخوں کو مختلف جگہوں سے جمع کر کے ان کی اشاعت کا اہتمام کیا۔''

مذکورہ عبارت میں شاہ صاحب نے جزیرہ نماے عرب کے علاقوں کو 'بلاد حجاز' سے تعبیر کیا اور یمن سمیت باقیتمام علاقے جو اس سے باہر ہیں، انھیں الگ سے ذکر کیا ہے۔اسی طرح دوسری جگہ پر 'اہل حجاز' اور 'اہل عراق' کی تعبیر اختیار کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حجاز محض ایک مخصوص علاقہ نہیں ہے:

أَقُول: اخْتَار أهل الْحجاز من الصَّحَابَة وَالتَّابِعِينَ وَالْفُقَهَاء أَن السّنة للْمحرمِأَلا ينْكح، وَاخْتَارَ أهل الْعرَاق أَنه يجوز لَهُ ذَلِك.(۱/۹۱)

چونکہ شاہ صاحب نے اپنے نقطۂ نظر کی صراحت نہیں کی، اس لیے یہ دونوں امکان مانے جاسکتے ہیں کہ ان کی مراد حجاز کہہ کر جزیرہ نماے عرب بھی ہو سکتی ہے اور محض حجاز بھی۔

اس حکم کو سرزمین حجاز تک خاص کرنے کا نقطۂ نظر جن دوسرے صاحب علم سے نقل ہوا ہے، وہ امام شافعی ہیں۔امام صاحب کا یہ نقطۂ نظر ''مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح'' میں اس مقام پر سامنے آتا ہے، جہاں زیربحث ہی غیر مسلموں کا حرم اور جزیزہ نماے عرب میں قیام ہے۔لکھتے ہیں:

قَالَ النَّوَوِيُّ: أَوْجَبَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّوَغَيْرُهُمَا مِنَ الْعُلَمَاءِ إِخْرَاجَ الْكَافِرِ مِنْجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَقَالُوا: لَا يَجُوزُ تَمْكِينُهُمْ سُكْنَاهَا وَلَكِنَّ الشَّافِعِيَّ خَصَّ هَذَاالْحُكْمَ بِالْحِجَازِوَهُوَ عِنْدَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ وَالْيَمَامَةِ وَأَعْمَالِهَا دُوْنَ الْيَمَنِ وَغَيْرِهِ.(۶/ ۲۶۳۱)

''نووی کہتے ہیں: مالک، شافعی اور دیگر علما نے کفار کو عرب کے جزیرے سے نکالنے کو لازم سمجھا ہے اور ان کے وہاں رہنے اور سکونت اختیار کرنے کو بھی نا جائز سمجھا ہے، لیکن امام شافعی نے اس حکم کو حجاز کے لیے خاص کیا ہے، اور حجاز مکہ، مدینہ، یمامہ اور اس کے ارد گرد یمن وغیرہ کے سوا دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔''

امام شافعی کا یہ نقطۂ نظر ابن عبدالبر نے اپنی کتاب ''الاستذکار'' میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے:

وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ الَّتِي أَخْرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ الْيَهُودَوَالنَّصَارَى مِنْهَا مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ وَالْيَمَامَةُوَمَخَالِيفُهَا فَأَمَّا الْيَمَنُ فَلَيْسَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ.(۸/ ۲۴۷)

''اور شافعی کہتے ہیں کہ عرب کے جزیرے جس سے عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو نکالا تھا، اس میں مکہ، مدینہ، یمامہ اور اس کے اطراف شامل ہیں، جب کہ یمن جزیرہ نماے عرب کا حصہ نہیں ہے۔''

اس عبارت میں حجاز کا تو ذکر نہیں ہے جس سے یہ کہا جا سکا ہے کہ امام صاحب صرف جزیرہ نماے عرب کی تعیین میں اختلاف رکھتے ہیں، البتہ جزیزہ نماے عرب کی تعیین میں جن بعض علاقوں کو انھوں نے خاص کیا ہے، اور وہ علاقے یقیناً حجاز ہی کا حصہ تھے۔امام شافعی کے اس نقطۂ نظر کی بنیاد بعض اخبار آحاد معلوم ہوتی ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اس موضوع کی بعض روایات میں یہ حکم حجاز سے متعلق بھی نقل ہوا ہے۔یہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی روایات ہیں۔ ان میں سے چند نمایندہ روایات درج ذیل ہیں:

۱۔أَخْرِجُوْا يَهُوْدَ الْحِجَازِ مِنَ الْحِجَازِ.(مسند حمیدی، رقم ۸۳)

''حجاز کے یہودیوں کو حجاز سے باہر نکال دو۔''

۲۔ أَخْرِجُوْا يَهُودَ مِنَ الْحِجَازِ، وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ.(سنن دارمی، رقم۲۴۱۸)

''یہودیوں کو حجاز سے اور اہل نجران کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرو۔''

۳۔أَخْرِجُوا الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ.(مصنف ابن ابی شیبہ ،رقم ۳۲۲۹۵)

''یہود کو سرزمین حجاز اور اہل نجران، یعنی نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے باہر نکال دو۔''

ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے منسوب تمام روایات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مذکورہ بالا بعض روایات میں راویوں نے بات کو تھوڑا الٹ پلٹ دیا ہے، ورنہ اصل بات انھی ابو عبیدہ سے بیش تر طرق میں بالکل ٹھیک ٹھیک بیان ہوگئی ہے۔مثلاً دیکھیے احمد، رقم ۱۶۳۲ میں انھی سے روایت ہے:

أَخْرِجُوْا يَهُوْدَ أَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ.

''اہل حجاز کے یہودیوں اور اہل نجران (نصاریٰ) کو جزیرہ نماے عرب سے نکال باہر کرو۔''

صاحب ''اعلاء السنن'' نے اس طرح کی روایات سے استدلال کر کے اس حکم کو اہل حجاز تک خاص کرنے پر بہت عمدہ علمی نقد کیا ہے۔انھوں نے بنیادی طور پر تین باتیں کہی ہیں:

پہلی یہ کہ یہ تو ہو سکتا ہے کہ حجاز بول کر مجازاً جزیرہ نماے عرب مراد لیا جائے، کیونکہ حجاز کے علاقوں میں زیادہ آبادی تھی، لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جزیزہ نماے عرب بول کر حجاز مراد لیا جا سکے۔

ان کی اس بات کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے ہم آج کہتے ہیں کہ واشنگٹن سے حکم نامہ آیا ہے، تو یہاں واشنگٹن سے امریکا مراد لیا جاتا ہے، لیکن اگر کہا جائے کہ امریکا سے لوگوں کو نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے تو اب امریکا سے صرف واشنگٹن مراد نہیں لیا جا سکتا۔

دوسری بات انھوں نے اٹھائی ہے کہ اگر حجاز ہی سے باہر نکالنے کا حکم ہے تو نجران تو پہلے ہی حجاز سے الگ ہے ۔اہل نجران کو الگ سے نکالنے کا حکم پھر کیوں دیا گیا۔انھیں تو حجاز سے نکالا ہی نہیں جا سکتا۔روایات میں صراحت سے اہل نجران کو جزیزہ نماے عرب سے باہر نکال دینے کی تصریح ہے۔

تیسری بات وہ لکھتے ہیں کہ اس موضوع کی تمام روایات پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ زیادہ تر طرق میں جزیزۂ عرب کے الفاط نقل ہوئے ہیں، اسی کی روشنی میں حجاز والی روایات کو بھی دیکھنا چاہیے۔مزید تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہی وجہ تھی کہ وہ خیبر کے یہود ہوں یا نجران کے نصاریٰ انھیں جب نکالا گیا تو جزیرہ نماے عرب کے کسی علاقے میں پناہ لینے کے بجاے انھیں شام و عراق جانا پڑا(۱۲/۵۵۹)۔

لہٰذا اس ساری بحث سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحیدکے مرکز کے طور پر جس علاقے کو خاص کیا، وہ جزیرہ نماے عرب کا پورا علاقہ ہے، صرف حجاز نہیں ہے ۔اس علاقے کی سرحدوں کے تعین میں اہل علم کے مابین یقیناً اختلاف ہو سکتا ہے،(''الاستذکار'' میں یہ اختلافات دیکھے جا سکتے ہیں)لیکن اسے جزیزہ نماے عرب کے کسی ایک حصے، مثلاً حجاز تک خاص کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بالکل ٹھیک ٹھیک اسی بات کوبیان کررہا ہے:

لا يجتمع دينان في جزيرة العرب.(موطا، رقم ۱۵۸۴)

''جزیزہ نماے عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔''

____________