جھوٹ اور سچ


بعض برائیاں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ گنتی میں وہ ایک یا دو ہی ہوتی ہیں، لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت خطرناک ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر کینسر ایک مرض ہے، گننے میں تو یہ ایک ہی بیماری ہے، لیکن یہ ایسی موذی بیماری ہے کہ خدا نخواستہ کسی شخص کو لگ جائے تو اس کی زندگی کو ہی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

بعض اوقات ہم خیال کرتے رہتے ہیں کہ سو نیکیا ں ہم نے کر لیں، ساتھ میں ایک گناہ بھی کر لیا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہماری توجہ محض برائی کی گنتی پر نہیں، بلکہ اس برائی کی سنگینی پر ہونی چاہیے۔زکام، بخار، کھانسی اور سردرد جیسی چند بیماریاں مل کر بھی اتنی خطرناک ثابت نہیں ہوتیں، جتنا کہ تنہا کینسر خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ایک اور مثال پر غور کر لیجیے، ایک شخص ہے، اس نے اٹھ کر کسی کو مکا مار دیا ۔ مکا مارنا یقیناًایک برائی ہے۔ایک دوسرا شخص ہے، وہ موقع پا کر کسی کی جیب میں ہاتھ ڈال کرسو روپے نکال لیتا ہے۔یہ بھی ایک برائی ہے۔ دیکھنے میں مکا مارنے والے جرم کا نقصان زیادہ ہوا کہ اس کی وجہ سے دوسرا شخص تکلیف میں مبتلا ہوا۔ سو روپے کھو جانے والے کا بظاہر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، لیکن غور کیجیے تو سو روپے جیب سے نکالنے والے کا جرم نتائج کے اعتبار سے سنگین ترین ہے۔ پہلا جرم شجاعت کی صفت کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہوا، جب کہ دوسرا جرم شخصیت میں پیدا ہو جانے والی خساست کی وجہ سے صادر ہوا۔کوئی شخص خساست میں مبتلا ہو جائے، یہ بہت خطرناک بات ہے۔ خساست بذات خود ایک سنگین برائی ہے جو اس شخص کی فطرت کا حصہ بن چکی ہے۔ جب کہ مکا مارنے والے شخص کی فطرت میں شجاعت کا وصف ہے، شجاعت اپنی اصل میں ایک وصف ہی ہے، البتہ اس نے اس وصف کو درست استعمال نہ کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔

انسان سے ایسی برائی صادر ہو جائے جو کہ اس کی شخصیت میں پیدا ہو جانے والی کسی برائی سے صادر ہورہی ہو تو یہ کینسر کے مانند ایک مرض ہے۔ اپنی فطرت میں خساست پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے۔ طبیعت میں پستی پیدا ہو جائے توانسان کی اخلاقی اور روحانی شخصیت مکمل تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ انسان کو اپنی کسی صلاحیت کے منفی استعمال کے گناہ سے بھی بہرحال بچانا چاہیے۔ اپنی شخصیت میں کوئی بدی پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں بھی مکا مارنے والے سے زیادہ جیب سے سو روپے نکالنے والے کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ ایسے شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔لوگوں کی نظروں میں اس کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔ شخصیت میں پستی اور خساست پیدا ہونے سے انسان جہاں چند خطرناک برائیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، وہیں وہ کئی اعلیٰ نیکیوں کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکیاں صرف انھی لوگوں کا نصیب بن سکتی ہیں جن کی شخصیت میں اعلیٰ خصوصیات ہوں۔ جوشخص خود میں اعلیٰ اوصاف پیدا نہیں کر سکتا، وہ کبھی کسی اعلیٰ نیکی کو کر لینے کی روحانی لذت حاصل نہیں کر سکتا۔

معاف کر دینا، گالی سن کر خاموش ہو جانا، طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینا وغیرہ، وہ اعلیٰ ترین نیکیاں ہیں جو چھوٹی شخصیات کا حصہ بن ہی نہیں سکتیں۔انبیا علیہم السلام کی سیرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی زندگیاں اعلیٰ نیکیوں سے بھرپور ملیں گی۔ وہ بہت آسانی سے معاف کر سکتے ہیں۔ وہ تکالیف سہ کر بھی انتقام کے جوش میں بے قابو نہیں ہو جاتے۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ پیغمبروں میں شخصیت کے اعلیٰ خصائص اپنی اعلیٰ ترین شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ اتنی اعلیٰ خصائص کی حامل شخصیات کے لیے اعلیٰ ترین نیکیاں کر لینا پوری طرح ممکن ہو جاتا ہے۔اپنی شخصیت میں اعلیٰ اوصاف پیدا کرنا، البتہ محنت طلب کام ہے۔ ایک بھر پور انسانی شخصیت کی تعمیر بہت توجہ اور محنت کا کام ہے۔ دنیا میں جتنی بھی اعلیٰ نیکیوں سے لوگ واقف ہیں، ان کے پیچھے اعلیٰ شخصیات آپ کو ضرور ملیں گی۔ ایک انسانی شخصیت میں اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے کا کام اتنا آسان نہیں۔ الطاف حسین حالی نے کہا ہے نا کہ:

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

غالب نے اسی حقیقت کواپنے منفرد انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ:

بسکہ دشوار ہے ہرکام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

بدقسمتی سے ہمارے زیر اثرانسانی وجود اعلیٰ شخصی خصائص سے محروم ہو چکے ہیں۔ کم فہمی کی وجہ سے والدین اپنی اولاد کی صلاحیتیں کچل دیتے ہیں۔ اساتذہ نااہلی کے باعث طلبہ کی صلاحیتیں تباہ کر لیتے ہیں۔ نتیجے میں انسانی شخصیت مکمل کھنڈر بن جاتی ہے۔ اب ایسی شخصیات سے کسی اعلیٰ نیکی کا صدور ممکن نہیں رہتا۔ معاشرے میں برائیاں اسی وجہ سے پھیل رہی ہیں کہ انسانی خصائص سے عاری لوگوں کی ہر طرف بہتات ہے۔ ایسے تباہ حال لوگوں سے بدی اور برائی ہی فروغ پا سکتی ہے۔ کسی انسان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اسے اعلیٰ انسان بننے میں اس کی مدد کی جائے۔ گردو پیش میں انسانوں کا حال دیکھ کر کسی شاعر کا یہ شعر یاد آجاتا ہے:

خوف نا فہمیِ مردم سے مجھے آتا ہے

گاؤ خر ہونے لگے صورتِ انساں پیدا

جو شخص کھانا بروقت نہ ملنے پر ماں پرطیش آزماتا ہے۔ اپنا کام نہ ہونے پر بہن سے لڑتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیوی پر عذاب بن جاتا ہے وغیرہ، یہ سب وہ حرکات ہیں جو ایک پست شخصیت سے ہی صادر ہو سکتی ہیں۔ آج ہر گھر اس قسم کے فسادات اور بے سکونی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر گھر پست انسانوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک گھر کا سکون تباہ کرنے کے لیے وہاں ایک پست انسان کا ہونا کافی ہے۔ انسانوں کی تربیت اور انھیں اعلیٰ اوصاف سے آراستہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ سماج میں امن کی فضا قائم ہو سکے۔ حقیقی اور پایدار امن پہلے کسی شخصیت کا حصہ بنتا ہے، پھر وہاں سے پھوٹ کر پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

مجموعی طور پر پستی کا شکار سماج اس قابل نہیں رہتا کہ وہ اپنی نسلوں کو اعلیٰ انسانی خصائص اپنانے میں مدد فراہم کر سکے۔ ایسے میں سماج میں چند لوگوں پر فریضہ عائد ہو جاتا ہے کہ وہ قوم کومتنبہ کرتے رہیں۔ وہ انھیں زندگی کے اعلیٰ اہداف کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ وہ زندگی کے بارے میں قوم میں حساسیت پیدا کرتے رہیں۔یہ کام درست نہج پر شروع ہو جانے کے برسوں بعد کسی متوقع تبدیلی کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ کھنڈر بنی سڑکوں سے زیادہ خوف ناک مسئلہ کھنڈر بنی شخصیات کا ہے۔ اس مسئلہ کا گہرا ادراک لازم ہے۔ قوم اس پستی سے درست تعلیم و تربیت کے بغیر کبھی نہیں نکل سکتی۔ جو لوگ کسی شارٹ کٹ راستے سے قوم میں کسی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، وہ بلاشبہ ایک لایعنی بات کرتے ہیں۔فطرت اپنا قانون کسی کے جذبوں کے احترام میں کبھی نہیں بدل سکتی۔ شخصیت میں پستی گھس جائے تو آدمی مصلح بن کر بھی شہرت اور نام و نمود کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ یوں برائی کی اصلاح کے نام پرمزید خطرناک برائیوں کا چلن شروع ہو جاتا ہے۔

میں اس موقع پر سماج سے انسانی پستی اور اس کی وجہ سے پھیلی برائیوں کی مثالوں سے گریز کروں گا۔ یہ اصولی گفتگو ذہن نشین کر کے غور کر لیا جائے تو بنیادی مسئلہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔ مصیبت مگر یہ ہے کہ غور و فکر کی عادت بھی کسی اعلیٰ انسان کی ہی خوبی ہوتی ہے۔ بہت بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے سماج میں غور وفکر کا عادی بندہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ جو کوئی نیکی کر بھی رہا ہو، بن سمجھے ایک رسم کے طور پر کر رہا ہو گا۔ اسے نیکی کا شعور میسر نہ ہو گا۔آپ کسی سے گفتگو کر کے دیکھ لیجیے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگوں کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد ہے ہی نہیں۔ وہ بے معنی زندگی جی کر بے کار کی موت مر جاتے ہیں۔ ممکن ہے، پوچھنے پر لوگ یہ سنا سنایا جملہ دہرا بھی دیں کہ انسان کی زندگی کا مقصد عبادت کرنا ہے۔ گفتگو بڑھانے پر آپ جان جائیں گے کہ اس جملے کا کوئی واضح مفہوم ان کے ذہن میں نہیں ہوتا۔ انھوں نے کبھی اس جملے پر غور ہی نہیں کیا ہوتا۔ محض سن کر یہی جملہ آگے بھی سنا دیا جاتا ہے۔ سننے اور سنانے والا اس پر چند لمحوں کا تدبر صرف کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔

میں اس وقت اس خطرناک برائی کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس کی نشان دہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دی۔ یہ خطرناک بیماری جہاں موجود ہو، جان جائیے کہ وہاں لوگ انسانی اوصاف سے محروم ہو کر پستی کا جینا جی رہے ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریح کے مطابق یہ موذی مرض جھوٹ ہے۔ یہ ایسی بڑی بیماری ہے کہ خدا نخواستہ یہ کسی انسان کو لاحق ہو جائے تویہ پھر انڈے بچے دینا شروع کردیتی ہے۔ کہنے میں تو بس یہ ایک برائی ہوتی ہے، لیکن یہ اتنی برائیاں پیدا کر دیتی ہے کہ آپ کو برائیوں میں پھنسی اپنی جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے ۔ جھوٹا شخص پست ترین شخصیت کامالک ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی پستی تک اتر سکتا ہے۔یہ مرض ایک نشے کی طرح پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ ایک آدمی کو جھوٹ کی چاٹ لگ جائے تو جب تک یہ زندہ رہتا ہے، اس مرض میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے بے وجہ اور بالکل بے فائدہ جھوٹ بھی بولتا چلا جاتا ہے۔اس کے چھوٹ جانے سے باقی برائیاں بھی رخصت ہو جاتی ہیں۔ اپنا اور اپنے سماج کا جائزہ لیجیے تو بہ آسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اس مرض میں خوب خوب مبتلا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے اور ہدایت دے ، یہ بڑا سخت اور خطرنا ک مرض ہے جو ہماری زندگی کا ہوا اور پانی کی طرح حصہ بن چکا ہے۔

جو شحص جھوٹ بولتا ہے، اس میں بہت ساری برائیاں جمع ہوتی ہیں ۔ جھوٹ بہت پست زندگی کی علامت ہے۔جان بوجھ کرایک ایسی بات کہنا جو حقیقت کے خلاف ہو، بہت بڑی دھوکا بازی ہے ۔وہ شخص انسان کہلائے جانے کا مستحق نہیں جوغلط بیانی سے کام لے۔ یہ کیسے ہو سکتاہے کہ ایک انسان اتنا پستی میں گر جائے کہ وہ غلط بیانی کر کے دوسروں کو دھوکا دے۔

ہماری پستی کا عالم تو یہ ہے کہ اس گھٹیا خصلت کو ہم اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ لوگ اپنے قریبی احباب کو فخریہ بتاتے ہیں کہ ہم نے فلاں کو اس طرح الو بنایا ہے۔لوگ دھوکا دینے کے ہنر کو اپنی ہوشیاری سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے سیانے دنیا کے گھٹیا ترین اور پست ترین لوگ ہوتے ہیں۔اوپر سے بے وقوف اتنے ہوتے ہیں کہ اپنی اس پستی کو اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ ایسے دھوکا بازوں کو، صادق اور امین رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے نکالا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرا امتی ہو کر دوسروں کو دھوکا بھی دے دے، یہ خصلت میری امت کے لوگوں کی نہیں ہو سکتی[1] ۔ قرآن مجید میں سچائی پرقائم رہنے کا جو معیار ہمیں دیا گیا ہے ، وہ سورۂ نساء میں یوں بیان کیا گیا ہے: ''اے اہل ایمان ہمیشہ انصاف پہ کھڑے رہنا، انصاف سے کبھی نہ پھرنا، اللہ کے لیے گواہ بنے رہنا ۔اور تم گواہی ہمیشہ اس سچائی کے ساتھ دو، اگرچہ تمھیں اپنے خلاف دینی پڑ جائے ''[2]۔

آپ نے کسی وجہ سے جذباتی ہو کر کسی کو برا بھلا کہہ دیا۔ اب جرگہ لگا ہوا ہے۔ فیصلہ کرنے والے لوگ آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ نے اس شخص کو ایسا کہا ہے ؟ اب آپ کے ایمان اور انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ سچائی سے اعتراف جرم کریں اور کہیں کہ میرے خلاف یہ شکایت بالکل درست ہے۔ مجھ سے جہالت اور جذبات میں یہ تلخ کلامی سرزد ہو گئی تھی، اب میں اس جرم پر اپنے بھائی سے معذرت کرتا ہوں۔ آپ یہ نہ کریں کہ وہاں موقع پر کوئی انسان نہیں تھا تو چلیے مکر جاتے ہیں۔ اور یوں کہہ دیں کہ جی میں نے تویوں کہا ہی نہیں تھا۔ یہ سچا ہے تو گواہ لائے۔ آپ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس شخص پردوسرا ظلم یہ ڈھا رہے ہیں کہ اس پر جھوٹ بولنے کا بہتان بھی باندھ رہے ہیں۔ اب سوچیے، خدا کی نظر میں وہ شخص کتنا پست ہوتا ہے جو ایک تو دوسرے کو برا بھلا کہتا ہے اور معذرت کرنے کے بجاے الٹا اسی کو جھوٹا قرار دلواتا ہے۔یہ سنگین ترین جرم ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد آزادی کی تحریک کے پرزوررہنماؤں میں سے تھے۔ برطانوی حکومت کے خلاف تقاریرکیا کرتے تھے۔ایک بار انھیں گرفتارکرکے چند کارندوں کو اس کام پرلگا دیاگیاکہ وہ ان کی وہ تقاریرجمع کریں جس سے ان پر حکومت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بن سکے۔ تقاریرجمع کرنے والوں سے ایسا ٹھوس مواد جمع نہ ہوسکا۔ مولاناآزادنے خوداپنے قلم سے حکومت کے خلاف موقف لکھ کر پیش کر دیا۔ اور ساتھ یہ کہا کہ ''سچائی اس وجہ سے نہیں چھپائی جا سکتی کہ مخالف اسے سامنے لانے سے عاجز آگیا ہے''[3]۔

سچائی پر قائم رہنے والوں میں ایک مثال سقراط کی بھی ہے۔یہ یونان کے علاقہ ایتھنز کا فلاسفر تھا۔اس کی دل چسپی یہ ہوتی تھی کہ وہ سچائیوں کا ادراک حاصل کرسکے۔اسے کڑھن ہوتی تھی کہ کیوں لوگ سچائی کو جاننا نہیں چاہتے۔ اور جو کوئی کسی سچائی کو اپنائے ہوئے ہے، وہ بھی اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتا نہیں ہے۔وہ لوگوں سے ان کی مانی ہوئی چیزوں کے حوالے سے سوالات کیاکرتا تھا یا درست تر الفاظ میں سوالات اٹھایا کرتا تھا۔ لوگوں کو اپنے مانے ہوئے تصورات سے عقیدت ہوتی ہے۔ وہ غلط سے غلط نظریے کو بھی ایک بار مان لیں تو اسے چھوڑنا ان کے لیے گراں ہوجاتا ہے۔پھر معاشرے کا ایک ٹرینڈ سیٹ ہوجائے تو معاشرے کے بڑے کسی نئے ٹرینڈ کی مخالفت پراتر آتے ہیں۔ انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ کسی نئے ٹرینڈ کے فروغ پانے کے بعد ان کی جھوٹی بڑائی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ برادری والوں نے انبیا کی سچی دعوت کی مخالفت بھی اسی وجہ سے کی۔سقراط کے اس سلسلے کو برادری والوں نے خطرے کی گھنٹی سمجھا۔ ان کے پاس اس کے سوالات کے توکوئی جواب نہ تھے، انھوں نے یہی حل نکالا کہ اس کو ہلاک ہی کر دیا جائے۔چنانچہ اس پر تین بڑے الزامات لگائے گئے کہ:

۱۔ یہ ہمارے نوجوانوں کو گم راہ کررہا ہے۔

۲۔ یہ ہمارے دیوتاؤں کو نہیں مانتا۔

۳۔ یہ کسی الگ خدا کا تصور پیش کرتا ہے۔

چنانچہ ان تین جرائم کی پاداش میں برادری والوں نے اس پر سزاے موت جاری کر دی۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ آدمی کو زہرکاپیالہ پلایا جاتا تھا۔ سقراط کو بھی زہرکاپیالہ پلا دیا گیا تھا۔جب اسے سزاے موت ہوئی تو ایتھنز کے لوگوں کے سامنے اس نے جو تقریر کی، وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اسے یقین تھا کہ وہ سچائی پرجان دے رہا ہے۔سزاے موت دینے والے لوگ جھوٹ پر تھے۔ اسے اس سزا پرکوئی افسوس بھی نہ تھا۔ اس نے لوگوں سے کہا تھا کہ تمھیں اندازہ ہوجائے گا کہ تم نے ایک بہت ذہین انسان کو بلاوجہ مار دیاہے۔پیالہ پینے سے پہلے اس کے شاگردوں اور دوستوں نے کوشش کی کہ سقراط ایتھنز کی ریاست چھوڑ کر بھاگ جائے۔ سقراط نے کہاکہ میں نے یہ خود کہہ رکھا ہے کہ سزا کا اختیار ریاست کے پاس ہو گا۔اب میں خود بھاگ جاؤں تو یہ اپنے ہی نظریے کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا۔ ایسی صورت میں میں جہاں جاؤں گا، وہاں سچائی کی تلقین کیسے کر سکوں گا؟اس کے دوست جانتے تھے کہ محض موت کے ڈر سے سقراط نہیں بھاگ سکتا۔اسے یہاں سے لے جانے کے لیے ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ سچائی کی راہ پیالہ پینے کے بجاے یہاں سے بھاگ جانا ہے۔ لیکن دوستوں کی گفتگو رایگاں گئی، وہ اس پر ثابت نہیں کرسکے تھے کہ یہاں سے بھاگ جانا کس طرح سچائی ہے۔ بالآخر اپنے دور کا یہ عظیم انسان اپنے علاقہ والوں کے فیصلے کے نتیجے میں زہرکا پیالہ پی کر ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اس کی طبیعت میں سچائی کی ایسی محبت رچ بس چکی تھی کہ اس کے لیے اس نے اپنی جان بھی دے دی[4]۔

انبیاے کرام علیہم السلام تو تھے ہی سچائی کے پیمبر۔انھیں بھی سچائی کی تلقین پر برادری والوں نے سخت سزائیں دیں۔ کئی انبیا کو تو قتل تک کیا گیا۔خدا کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو لقب ہی صادق اور امین تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سچائی کے ساتھ سچ پر قائم رہے، اس کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سچائی کی تلقین پر جس اذیت سے دوچار ہونا پڑا، اس میں سے بہت کچھ ہمیں معلوم ہی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ یہ روش ماضی کے لوگوں کی ہی ہوا کرتی تھی۔ گو دنیا آج اس جہالت سے نکل چکی ہے، اب کسی کو محض بات کرنے سے، اپنا نظریہ پیش کرنے سے کہیں مارا نہیں جاتا۔ لیکن ہمارے برصغیر میں یہ جہالت ابھی بھی موجود ہے۔آج بھی یہاں لوگوں کو عام ٹرینڈ سے ہٹ کربات کہنے پرمارا جاتا ہے۔ انھیں اذیت پہنچائی جاتی ہے۔

مذہبی گروہ جھوٹے فتوے جاری کرتے ہیں۔ من گھڑت بہتانات باندھتے ہیں۔آج ہمیں سقراط کی موت پر افسوس ہورہا ہے، انبیا کو اذیت دینے والوں پرغصہ آرہاہے، لیکن غور کریں تو ہم بھی سچائی کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ جہاں کہیں علم یا سچائی کی بات اٹھے گی، ہم فوراً مخالفت پر اترآتے ہیں۔ کسی سچی آواز کو اٹھنے ہی نہیں دیتے۔آج کی اس دنیا میں سب سے جاہل اور بدتہذیب قوم ہم بنے ہوئے ہیں۔ہم نے ایک کوشش کی کہ نئی نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کیا جا سکے۔ان کا رشتہ کتاب و قلم سے جڑ سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک رسالے کا اجرا کیا گیا۔اس عمل میں تو کوئی برائی نہیں۔لیکن اس عمل سے برادری والوں کو خوشی نہیں ہوگی۔ان کی رگوں میں وہی جاہلانہ تشویشیں دوڑنے لگیں گی۔اور تو اور بعض مولوی صاحبان کو بھی اس سے سخت تکلیف پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ لوگوں کو ڈرارہے ہیں کہ انھیں گم راہ کردیا جائے گا۔ایسی جاہل اور بدتوفیق روحیں آج بھی موجود ہیں۔ہمارے ہاں تو بے حساب ہیں۔ یہ نہ خود سچائیوں کی تلقین کر سکتے ہیں اور نہ دوسروں کی تلقین گوارا کر سکتے ہیں۔ان کے نصیب میں ہمیشہ سچائی کی مخالفت ہی رہی ہے۔ کم مقبول روحیں ایسی ضرور ہوتی ہیں جو سچائی پا کر اسے سینے سے لگا لیتی ہیں۔ سچائی کو ٹھکرانے کا جرم وہ کبھی نہیں کرتیں۔

بات ہو رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ کہتے ہیں کہ جھوٹی گواہی کسی صورت میں مت دینا۔ اگر غلطی سے گناہ کر بھی لو تو بعد میں جب آپ سے گواہی طلب کی جائے تو سچی گواہی ہی دو، بھلے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ تمھارا معیار بہر حال یہی ہونا چاہیے ۔ والدین کے خلاف بھی گواہی دینی پڑ جائے تو دے دو۔ آپ کے والد کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہوا تو والد نے برا بھلا کہنے میں پہل کر دی ، موقع پر آپ موجود تھے۔ جب آپ سے بعد میں پوچھا جائے تو آپ کو یہ بتانا پڑے گا کہ پہل میرے والد کی تھی۔اگر آپ والد کو بچانے کے لیے جھوٹی گواہی دیں گے توآپ خدا کے مجرم ہوں گے۔آپ کی جھوٹی گواہی سے ایک مظلوم کو انصاف نہیں مل پائے گا، اس کا وبال بھی آپ پر ہو گا۔ والدین ہوں یا رشتہ دار، بہرحال سچی گواہی ان کے خلاف ہونے کے باوجود اللہ کے حکم سے دے دی جائے گی ۔

ایسے موقعوں پر سچی گواہی دینا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس موقع پہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل کر عدل سے نہ پھر جانا ۔ اپنوں کو بچانے کے لیے خواہشات کے لیے عدل سے پھر گئے تو یہ بڑا خطرناک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے موقع پر اگر تم نے گول مول بات کی یا آپ نے سچی گواہی سے اعراض کر دیا تو اتنا ضرور یاد رکھو کہ تمھارا یہ باطل عمل خدا کی نظروں میں ہے اور کون سچا اور کون جھوٹا ہے، لوگ بھلے نہ سمجھ سکیں، البتہ خدا اس کو اچھی طرح سمجھتا ہے، اور کل ہم سب نے اس کے روبرو پیش ہونا ہے۔وہاں ہمارے ہر عمل کا حساب ہو کر رہے گا۔ پروردگار موت سے پہلے پہلے ہمیں اپنے اعمال درست کرنے کی توفیق بخشے۔

________

[1]۔ ترمذی، رقم۱۳۱۵۔'من غش فلیس منا'۔

[2]۔ النساء ۴: ۱۳۵۔'يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰ٘ي اَنْفُسِكُمْ'۔

[3]۔ قول فیصل ، مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کا عدالتی بیان ۔

[4]۔ سقراط، کورامیسن، اردو ترجمہ: معاذ ہاشمی۔

____________