جہاد و قتال کے شرائط


جاوید احمد غامدی / محمد بلال

[مدیر ''اشراق'' کے افادات پر مبنی]

سوال : آپ حضرات کا یہ موقف ہے کہ وہی اقدام جہاد وقتال قرا ر پائے گا جس میں یہ تین شرائط پوری کی گئی ہوں گی:

۱۔ ایسا اقدام ظلم و عدوان کے خلاف ہو ۔

۲۔ منظم حکومت کے تحت ہو ۔

۳۔ علانیہ ہو ۔

آپ کا یہ موقف صحیح نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم و عدوان کے علاوہ دوسری اقوام پر اسلام اور مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم کر دینے کے لیے بھی جہاد کیا ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے تو مرتدین کے خلاف بھی جہاد کیا۔ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ جہاد سے گریز بھی کیا۔ اپنی بعض مہمات کو خفیہ رکھا۔ غزوۂ بدر سے پہلے حضرت ابو سفیان کے قافلے کو روکنے کی مہم خفیہ ہی تھی ۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ حنین میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کی گئی ۔ اسی طرح جہاد کے لیے حکمران کی شرط دورِ حاضر میں کسی طرح صحیح نہیں ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارے آج کے حکمران سیکولر ہیں ، اس لیے ان کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟

جواب : جہاد کے لیے ہم دین و شریعت کی رو سے جن تین شرائط کو لازمی قرار دیتے ہیں ، آپ نے ان تینوں شرائط پر تنقید کی ہے ۔ ذیل میں ہم ترتیب وار آپ کے اٹھائے ہوئے سوالا ت کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دوسری اقوام پر اسلام اور مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے لیے جہاد

ظلم و عدوان کی شرط کے ضمن میں آپ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری اقوام پر اسلام اور مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے لیے بھی جہاد کیا۔ آپ کی یہ بات بالکل درست ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اب ہم جہاد کو ظلم و عدوان تک محدود کیوں قرار دیتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے قانون اتمامِ حجت کی وضاحت کرنی ہو گی ۔

دیکھیے ، اللہ کے رسول کسی قوم کے سامنے دین حق پیش کرتے ہیں تو دین کے ہر پہلو کو اچھی طرح واضح کرتے ہیں ، وہ مخاطب کے ہر سوال کا جواب دیتے اور اس کے ہر اعتراض کو رفع کرتے ہیں ۔ غرض یہ کہ حق اس قدر واضح کر دیتے ہیں کہ مخاطبین کے پاس انکار کرنے کا کوئی معقول عذر باقی نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ اللہ کے رسول اپنے مخاطبین کو انکار کی صورت میں خدا کے عذاب سے بھی بڑی درد مندی کے ساتھ خبردار کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعوت میں آخری تنبیہ کا لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں اور اپنا فرض آخری درجے میں ادا کر دیتے ہیں ۔ مگر اس کے باوجود وہ قوم سرکشی کا ارتکاب کرتے ہوئے دین کو ماننے سے انکار کر دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ رسول کو اس قوم کے علاقے سے ہجرت کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ ہجرت کے بعد اس قوم پر اس دنیا ہی میں اللہ کا عذاب نازل ہو جاتا ہے ۔ یہ عذاب قدرتی آفات کے ذریعے سے بھی آتا ہے اور بعض حالات میں رسول اور اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے بھی ۔ اس کے نتیجے میں اس علاقے پر رسول کا غلبہ قائم ہو جاتا ہے ۔ اس غلبے کا بطورِ اصول ذکر سورۂ مجادلہ میں موجود ہے :

''بے شک ، وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ، وہی ذلیل ہوں گے ۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی ۔ بے شک اللہ قوی ہے ، بڑا زبردست ہے ۔ '' (۵۸: ۲۰۔۲۱)

جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا کہ رسول کا انکار کرنے والی قوم پر عذاب دو صورتوں میں آتا ہے ۔ ایک قدرتی آفات کے ذریعے سے اور دوسرے رسول اور اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے ۔ قرآن مجید سے واضح ہے کہ قوم نوح ، قوم لوط ، قوم صالح ، قوم شعیب اور اسی طرح کی بعض دوسری اقوام پر قدرتی آفات کے ذریعے سے عذاب آیا ۔ اس سے مستثنیٰ صرف بنی اسرائیل رہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اصلاً توحید پر قائم تھے ۔ اس لیے ان کی ہلاکت کے بجائے ہمیشہ کے لیے مغلوبیت کا عذاب ان پر مسلط کر دیا گیا۔

عذاب کی دوسری صورت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اقوام کے ساتھ پیش آئی۔ اس صورت میں رسول ہجرت کے بعد کسی دوسرے علاقے میں اپنے ساتھیوں کو منظم کرتا ہے ،اپنا اقتدار قائم کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی سرکش اور منکر قوم کو اپنے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے موت کی سزا دیتا ہے ۔ مسلمانوں کو اسی پہلو سے خبر دی گئی تھی کہ اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے سزا دے گا ۔ ۱؂ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم پر عذاب کی ابتدا جنگ بدر سے ہوئی۔ اس جنگ میں منکرین کے اکثر سردار ہلاک کر دیے گئے ۔ اور پھر احد اور احزاب کے بعد تمام منکرین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ۲؂ مگر اس حکم پر پوری طرح عمل درآمد سے پہلے ہی اکثر و بیشتر منکرین نے توبہ کر لی اور اسلام قبول کر لیا ۔

یہ ایک خاص خدائی معاملہ ہے ،جو رسولوں کے ساتھ متعلق ہے ۔ ختم نبوت کے بعد دعوت دین کا کام علما کرتے ہیں ،مگر علما کے سرکش مخاطبین کے ساتھ یہ خدائی معاملہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ غلبے کے مقصد سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جہاد کیا ، وہ اب نہیں کیا جا سکتا ۔ اس جہاد کا حق صرف حضور اور آپ کے صحابہ کو حاصل تھا ۔ آپ اور صحابۂ کرام کے بعد یہ حق ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ آج اگر کوئی شخص اس مقصد کے لیے جہاد کرنے کی بات کرتاہے تو وہ دراصل خود کو رسول اور صحابۂ کرام کے منصب پر فائز کرنے کی جسارت کرتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ صحابۂ کرام کو یہ حق کیسے حاصل ہو گیا ؟ دیکھیے ، شہادت حق کی جو ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تھی ، وہی ذمہ داری صحابۂ کرام پر بھی تھی ۔ صحابۂ کرام کو مخاطب بنا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

''تم وہ بہترین جماعت ہو جو لوگوں (پر دین کی شہادت) کے لیے برپا کی گئی ہے ۔ تم بھلائی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر سچا ایمان رکھتے ہو۔'' (آ ل عمران۳ : ۱۱۰)

''اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک درمیان کی جماعت بنایا تاکہ تم لوگوں پر اس دین کی شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر یہ شہادت دے ۔'' (البقرہ ۲ : ۱۴۳)

سورۂ بقرہ کی اس آیت میں ''درمیان کی جماعت'' کا مطلب ہی یہ ہے کہ جس کے ایک طرف اللہ کا رسول اور دوسری طرف دنیا کی سب اقوام ہیں۔صحابۂ کرام کے اس منصب کی وجہ سے انھیں ''خیر امت'' ۳؂ بھی قرار دیا گیا۔ صحابۂ کرام کی جماعت ایک غیر معمولی جماعت تھی ۔ ایک پیغمبر کی صحبت سے تمام دینی و اخلاقی تصورات ان کی ذات میں مجسم ہو گئے تھے ۔ اس لیے انھیں باقاعدہ شہادت حق کے لیے منتخب کیا گیا ۔ سورۂ حج میں ان کے بارے میں ہے :

''اسی نے تم کو منتخب کیا اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ، تمھارے باپ ، ابراہیم کی ملت تمھارے لیے پسند فرمائی۔ اس نے تمھارا نام مسلم رکھا، اس سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی تمھارا نام مسلم ہے ۔ اس لیے (منتخب کیا) کہ رسول تم پر دین حق کی گواہی دے اور دنیا کے باقی انسانوں پر تم اس دین کی گواہی دینے والے بنو۔'' (۲۲: ۷۸)

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے چھوڑا یعنی ارتداد اختیار کیا تو انھیں اسی قانون اتمامِ حجت کی رو سے موت کی سزا دی گئی ۔ اسی طرح صحابۂ کرام نے اپنے اس خاص منصب ۴ ؂ کی وجہ سے مرتدین کو موت کی سزا دی ۔ حضرت ابوبکر صدیق کا مرتدین کے خلاف جہاد اسی ضمن میں تھا ، جو ان کے ساتھ خاص تھا۔

جہاد کا علانیہ ہونا

جہاد کے لیے علانیہ ہونے کی شرط کے حوالے سے آپ نے کہا ہے کہ غزوۂ بدر سے پہلے حضرت ابوسفیان کے تجارتی قافلے کو روکنے کی مہم خفیہ ہی تھی ۔ افسوس ہے کہ حضرت ابو سفیان کے تجارتی قافلے کے حوالے سے ہمارے ہاں ایک سنگین غلط فہمی پھیل گئی ۔ غزوۂ بدر کے بارے میں یہ رائے قائم کر لی گئی کہ اس کا مقصد اس تجارتی قافلے کو (معاذ اللہ ) لوٹنا تھا۔ اگرچہ تاریخ کی کتابوں میں غزوۂ بدر کا یہ مقصد بیان ہوا ہے ،مگر یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ایک پہلو سے قرآن مجید تاریخ کی کتاب بھی ہے ۔ اس میں تاریخی واقعات بھی بیان ہوئے ہیں ۔ قرآن مجید صد فی صد سچی کتاب ہے ۔ یہ حیثیت کسی اور کتاب کو حاصل نہیں ہے ۔ غزوۂ بدر کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہوا ہے ۔ ضروری تھا کہ اس واقعہ کو قرآن مجید کی روشنی میں دیکھا جاتا اور پھر خلاف قرآن ہر بات کو رد کر دیا جاتا ۔

ہم یہاں غزوۂ بدر کو قرآن مجید کی روشنی میں بیان کرتے ہیں ،مگر مسئلے کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اختصارکے ساتھ اس غزوہ کا پس منظر بیان کردیا جائے ۔

حرم کی تولیت کی وجہ سے تمام عرب قریش کا بہت احترام کرتے تھے ۔ قریش کو یہ معلوم تھا کہ مدینہ میں مسلمانوں کی ریاست قائم ہو گئی ہے ، وہ پہلے کی طرح کمزور اور نہتے نہیں رہے ۔ اب ان کی سیاسی اور فوجی حیثیت بن گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے اثرات گردوپیش میں پھیلنا شروع ہو گئے تھے ۔ اور پھر قریش کے تجارتی قافلے جس راستے سے گزرتے تھے ، وہ بھی اب اہل مدینہ کی زد میں تھا۔ قریش کو سخت اندیشہ تھا کہ مسلمان کل انھیں بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ ا س لیے بہتر یہ ہے کہ اس ابھرتی ہوئی نئی قوت کو ابھی ختم کر دیا جائے ۔

مکہ سے مدینہ تک جو قبائل پھیلے ہوئے تھے ، سب قریش کے زیر اثر تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ آنے کے چند روز بعد ہی قریش نے مدینہ کے ہجرت سے قبل کے رئیس الانصار عبد اللہ بن ابی کو خط لکھا کہ تم نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ۔ یا تو تم لوگ ان کو قتل کر ڈالو یا مدینہ سے نکال دو ۔ ورنہ ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم سب لوگ تم پر حملہ کر یں گے اور تم کو گرفتار کر کے تمھاری عورتوں پر تصرف کریں گے ۔

جب حضور کو اس خط کی اطلاع ملی تو آپ نے عبد اللہ بن ابی کو سمجھایا کہ کیا تم خود اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے لڑو گے ۔ عبداللہ بھی جانتا تھا کہ اکثر انصار مسلمان ہو چکے ہیں ۔ چنانچہ اس نے قریش کے حکم کی تعمیل نہ کی۔ اس خط سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ قریش مدینہ پر حملہ کرنے کی تیار یاں کر رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ دفاع کے نقطۂ نظر سے حضور مدینہ میں راتوں کو جاگا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ حضرت سعد بن وقاص نے ہتھیار لگا کر رات بھر پہرہ دیا ۔ صحابۂ کرام صبح تک ہتھیار باندھ کر سوتے تھے۔ اصل میں تمام عرب قریش کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے ۔ اس وجہ سے دشمنوں کی تعداد کم کرنے کے لیے حضور نے گردوپیش کے قبائل سے امن کے معاہدے بھی کیے ۔ ۲ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن حجش کو بارہ آدمیوں کے ساتھ بطن نخلہ کی طرف بھیجا ۔ (یہ مقام مکہ اورطائف کے بیچ میں ہے)۔ مقصد یہ تھا کہ قریش کے حالات کا پتا لگایا جائے ۔ اتفاق سے قریش کے چند آدمی جو شام سے تجارت کا مال لیے آ رہے تھے ،سامنے سے نکلے ۔ حضرت عبد اللہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ ان میں ایک شخص عمرو بن الحضری مارا گیا۔ دو گرفتار ہو گئے ۔ مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ حضرت عبد اللہ نے مدینہ آ کر یہ واقعہ بیان کیا اور غنیمت کی چیزیں پیش کیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تم کو اس کی اجازت نہیں دی تھی ۔ آپ نے مال غنیمت قبول کرنے سے انکار کر دیا ، قیدیوں کو رہا کر دیا اور مقتول کا خون بہا ادا کر دیا۔ صحابہ بھی حضرت عبد اللہ پر برہم ہوئے ۔ بہرحال اس واقعہ کی حیثیت ایک سرحدی جھڑپ کی تھی ، مگر قریش کے ہاں یہ واقعہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ۔ اصل میں قریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ، وہ بڑے معزز خاندانوں کے لوگ تھے ۔ مقتول عمرو بن الحضری بھی ایک بڑے باپ کا بیٹا تھا۔ اس وجہ سے اس واقعہ نے تمام قریش کو مشتعل کر دیا ۔

مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے مصارف جنگ درکار تھے ۔ انھی مصارف کے لیے اس موسم میں جو تجارتی قافلہ شام کی طرف روانہ ہوا ، اسے مکہ کی عورتوں سمیت تمام لوگوں نے جس کے پاس جو رقم تھی ، وہ ساری دے دی۔ عورتوں نے تو زیورات تک دے دیے ۔ اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مدینہ پر کس قدر شدید حملہ کرنے کا منصوبہ تھا۔ ابھی یہ قافلہ شام سے روانہ نہیں ہوا تھا کہ عمرو بن الحضرمی کے قتل کا واقعہ پیش آ گیا۔ اس نے قریش کی آتش غضب کو اور بھڑکا دیا۔

اُدھر اہل مکہ کا بہت بڑا تجارتی قافلہ تقریباً ۵۰ ہزار اشرفی کا مال لے کر آ رہا تھا۔ مگر محافظ صرف تیس چالیس تھے ۔ جب یہ قافلہ اس مقام پر پہنچا جو مدینہ کی زد میں تھا تو قافلے کے سردار ابوسفیان کو اندیشہ ہوا کہ مسلمانوں کا کوئی طاقت ور دستہ حملہ نہ کر دے ۔ چنانچہ ابو سفیان نے ایک آدمی مکہ کی طرف دوڑادیا کہ وہاں سے مدد لے آئے ۔ اس آدمی نے مکہ جا کر کہا کہ :''قریش والو، اپنے قافلۂ تجارت کی خبر لو۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے آدمی لے کر اس کے درپے ہو گیا ہے ۔دوڑو دوڑو، مدد کے لیے دوڑو۔'' اس پر سارے مکہ میں ہیجان برپا ہو گیا۔ تقریباً ایک ہزار کا لشکر تیار ہو کر نکلا۔ مقصد یہ تھا کہ اپنے تجارتی قافلے کو بھی بچا لیا جائے اور ساتھ مدینہ میں ابھرنے والی مسلمانوں کی طاقت کو ہمیشہ کے لیے کچل دیا جائے ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ قریش تو پہلے ہی سے مسلمانوں کے خاتمے کی تیاری کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی۔ اسلام اور مسلمانوں کے ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ دفاعی جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

حضور نے انصار اور مہاجرین کو جمع کیا اور بتایا کہ ایک طرف شمال سے تجارتی قافلہ آرہا ہے اور دوسری طرف جنوب سے قریش کا ایک بڑا لشکر بڑھ رہا ہے ۔ کمزور قسم کے مسلمانوں کے ایک گروہ نے رائے دی کہ قافلے پر حملہ کیا جائے ، اس سے ہماری مالی حالت بہتر ہو جائے گی ۔ ظاہر ہے کہ آسانی پسند کرنے والے لوگ ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ مگر حضور کے پیش نظر کچھ اور تھا ۔ آپ نے دوبارہ صورت حال سامنے رکھی ۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار ، سب نے نہایت جوش کے ساتھ قریش کے لشکر کا مقابلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور جنگ میں سچی جاں نثاری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کا عہد کیا۔البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کمز ور قسم کے مسلمانوں کا گروہ اس جنگ سے ہچکچا رہا تھا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً ۳۰۰ جاں نثاروں اور معمولی سامانِ حرب کے ساتھ جنوب کی راہ لی ، جہاں سے قریش کا لشکر آ رہا تھا۔ یہاں اس بات پر غور کیا جائے کہ اگر قافلے کو لوٹنا پیش نظر ہوتا تو شمال کی راہ لی جاتی۔

اُدھر بدر کے پاس پہنچ کر جب قریش کو معلوم ہوا کہ ابوسفیان کا قافلہ خطرے کی زد سے نکل گیا ہے تو دو قبائل کے سرداروں نے کہا کہ اب لڑنا ضروری نہیں رہا۔ مگر ابوجہل نہ مانا ۔ وہ دو قبائل واپس چلے گئے ۔ باقی لشکر آگے بڑھتا چلا گیا۔ ظاہر ہے کہ قریش کا اصل مقصد تو مسلمانوں کا خاتمہ تھا ، جو ابھی پورا ہونا تھا۔

بہرحال اسلام اور کفر کی جنگ ہوئی ۔ مسلمانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نصرت الہٰی زمین پر اتری ۔ہزاروں فرشتے مسلمانوں کے ساتھ لڑے ۔ قریش کو عبرت ناک شکست ہوئی ۔

اب قرآن مجید کو دیکھیے ، اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ اگرچہ یہ چاہتا تھا کہ تجارتی قافلے پر حملہ کیا جائے ، مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ۔ سورۂ انفال میں ہے :

''یاد کرو جب کہ اللہ تم سے دو گروہوں (قریش کا لشکر اور تجارتی قافلہ) میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمھارا لقمہ بنے گا اور تم یہ چاہ رہے تھے کہ غیر مسلح گروہ (تجارتی قافلہ) تمھارا لقمہ بنے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹے ۔ '' (۸: ۷)

کیا اس کے بعد بھی اس کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام نے تجارتی قافلے کی طرف رخ کیا ہو گا۔

مزید دیکھیے ، سورۂ انفال ہی میں ہے :

''جب تمھارے رب نے ایک مقصد کے ساتھ تم کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ بات ناگوار تھی ۔ وہ تم سے امر حق میں جھگڑتے رہے باوجودیکہ حق ان پر اچھی طرح واضح تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اور وہ اس کو دیکھ رہے ہیں ۔'' (۸ : ۵۔۶)

اس سے بھی واضح ہے کہ اگر مسلمانوں کا ارادہ تجارتی قافلے کو لوٹنا ہوتا تو ایک گروہ میں یہ خوف کیوں پیدا ہوا۔ وہ قافلہ تو ایک ترنوالہ تھا۔ یہ خوف اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ قریش کا ایک غیر معمولی لشکر ان کے خاتمے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے اور اب انھوں نے اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔

اس کے علاوہ ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے کہ شریعت اسلامی میں غارت گری کس قدر سنگین جرم ہے ۔ اخلاقی مسلمات میں بھی اس کی شناعت بالکل واضح ہے ۔ حیرت اور افسوس ہے کہ اس کے باوجود بعض دینی علم رکھنے والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام پر ایسا الزام عائد کر دیتے ہیں۔

علامہ شبلی نعمانی نے مسلمانوں کی اس غلط فہمی کی سنگینی کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا ۔ انھوں نے قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت کیا کہ غزوۂ بدر کا اصل محرک کیا تھا۔ انھوں نے یہ بحث کرنے سے قبل یہاں تک لکھ دیا کہ :

''میں اس بات سے خوب واقف ہوں کہ تاریخ اور محکمۂ عدالت میں فرق ہے ۔ مجھ کو یہ بھی معلوم ہے کہ تاریخ کا انداز بیان مقدمۂ دیوانی یا فوج داری کا فیصلہ لکھنے سے بالکل مختلف ہے ۔ میں اس کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ میرا منصب واقعہ نگاری ہے فیصلہ نویسی نہیں ۔ لیکن موقع ایسا آ پڑا ہے کہ ایک واقعۂ تاریخی نے مقدمۂ عدالت کی حیثیت حاصل کر لی ہے ، اس لیے مجھ کو اپنے مقصد سے ہٹ کر فصل مقدمہ کا قلم ہاتھ میں لینا پڑتا ہے۔ اس بات کا مجھ کو مطلق خوف نہیں کہ اس فیصلہ میں عام مؤرخین اور اربابِ سیر میرے حریف مقابل ہیں ، نہایت جلد نظر آ جائے گا کہ حق اکیلا تمام دنیا پر فتح پا سکتا ہے ۔''(سیر ت النبی ۱/ ۲۱۰)

سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے بھی اس ضمن میں لکھا :

''جنگ بدر کے بیان میں تاریخ و سیرت کے مصنفین نے ان روایات پر اعتماد کر لیا ہے جو حدیث اور مغازی کی کتابوں میں وارد ہوئی ہیں ،لیکن ان روایات کا بڑا حصہ قرآن کے خلاف ہے اور قابل اعتماد نہیں ہے ۔ محض ایمان ہی کی بناپر ہم جنگ بدر کے متعلق قرآن کے بیان کو سب سے زیادہ معتبر سمجھنے پر مجبور نہیں ہیں ، بلکہ تاریخی حیثیت سے بھی آج اس جنگ کے متعلق اگر کوئی معتبر ترین بیان موجود ہے تو وہ یہی سورۂ انفال ہے ، کیونکہ یہ لڑائی کے بعد ہی متصلاً نازل ہوئی تھی اور خود شرکاے جنگ اور مخالف و موافق سب نے اس کو سنا اور پڑھا تھا۔ معاذ اللہ اس میں کوئی ایک بات بھی خلاف واقعہ ہوتی تو ہزاروں زبانیں اس کی تردید کر ڈالتیں ۔'' (تفہیم القرآن ۲/ ۱۲۶)

یہ غزوۂ بدر کا ایک پہلو ہے ۔ اس کا دوسرا اور اہم تر پہلو یہ ہے کہ اس غزوہ سے اللہ تعالیٰ کے قانون اتمامِ حجت کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف جو موت کی سزا نافذ ہونی تھی ، اس کا بھی آغاز ہو گیا۔ یہ بات قرآن مجید سے بالکل واضح ہے ۔ غزوۂ بدر کے حوالے سے سورۂ انفال میں ہے :

'' یاد کرو جب کہ اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمھارا لقمہ بنے گا اور تم یہ چاہ رہے تھے کہ غیرمسلح گروہ تمھارا لقمہ بنے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹے تاکہ مجرموں کے علی الرغم وہ حق کو پابرجا اور باطل کو نابود کرے ۔ '' (۸ : ۷۔۸)

یعنی غزوۂ بدر میں اللہ تعالیٰ کے پیش نظر اصلاً قریش کے حملے کا دفاع نہیں تھا ۔ ورنہ یہ فرمایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارا دفاع کرے اور قریش کو شکست دے ۔ بلکہ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ''اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹے تاکہ مجرموں کے علی الرغم وہ حق کو پابرجا اور باطل کو نابود کرے ۔ ''چنانچہ اس غزوہ سے عرب میں اسلام اور مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم کرنے اور باطل کو نابود کرنے کا آغاز ہو گیااور ظاہر ہے کہ باطل کے علم بردار قریش تھے ، دوسرے قبائل دراصل ان کے پیرو تھے ۔ اسی غزوہ سے قریش پر عذابِ الہٰی کی پہلی قسط نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر ایک پہلو سے دفاع تھا اور دوسرے پہلو سے اقدام ۔ اس اقدام کا حکم اس سے پہلے سورۂ بقرہ کی آیت ۱۹۰ میں دیا جا چکا تھا۔ اور ذہن میں رہے کہ آیاتِ قرآنی گردوپیش میں سنائی اور پھیلائی جا رہی تھیں۔ یہاں ہم اس بات کی وضاحت کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جنگ و جہاد کے حوالے سے علانیہ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دوسرے کو یہ بتا دیا جائے کہ ہم فلاں دن ، فلاں مقام پر اور فلاں طریقے سے حملہ کریں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کو آگاہ کر دیا جائے کہ اب ہم برسرِ جنگ (At War) ہیں، اس کے بعد یہ واضح نہیں کیا جاتا ہے حملہ کیسے ، کہاں اور کس مقام پر کیا جائے گا ۔ سورۂ بقرہ میں مسلمانوں کے برسرجنگ ہونے اور کب تک برسر جنگ رہنے کا ذکر موجود ہے :

''اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑیں اور (اس میں ) کوئی زیادتی نہ کرو ۔ بے شک ، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور انھیں جہاں پاؤ ، قتل کرو اور وہاں سے نکالوجہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے ۔ اور (یاد رکھو کہ) فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے ۔ اور مسجد حرام کے پاس تم ان سے خود پہل کر کے جنگ نہ کرو، جب تک وہ تم سے اس میں جنگ نہ کریں ۔ پھر اگر وہ جنگ چھیڑ دیں توانھیں (بغیر کسی تردد کے) قتل کرو۔ اس طرح کے منکروں کی یہی سزا ہے ۔ لیکن وہ اگر اپنے (اس انکار سے )باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا ، مہربان ہے ۔ اور تم ان سے برابر جنگ کیے جاؤ ۔ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور (اس سرزمین میں ) دین اللہ ہی کا ہو جائے گا۔''(۲: ۱۹۰۔ ۱۹۳)

قانونِ اتمام حجت اور غزوۂ بدر کے پہلو سے مزید وضاحت کے لیے سورۂ انفال کے اس مقام کو بھی دیکھ لیجیے :

''پس تم لوگوں نے ان کو قتل نہیں کیا ، بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور جب تو نے ان پر خاک پھینکی تو تم نے نہیں پھینکی ، بلکہ اللہ نے پھینکی کہ اللہ اپنی شانیں دکھائے ۔ اور اپنی طرف سے اہل ایمان کے جوہر نمایاں کرے ۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے ۔ یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اوراللہ کافروں کے سارے داؤ بے کار کر کے رہے گا ۔ اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو تمھارے سامنے فیصلہ آ گیا اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے ۔اور اگر تم پھر یہی کرو گے تو پھر ہم بھی یہی کریں گے اور تمھاری جمعیت تمھارے کچھ کام نہ آئے گی ۔ خواہ کتنی ہی زیادہ ہو اور بے شک اللہ مومنین کے ساتھ ہے ۔ (۸ : ۱۷۔۱۹)

یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ یہ کسی عام جنگ کی بات نہیں ہو رہی ،بلکہ ایک خاص خدائی معاملے کا ذکر ہو رہا ہے ۔ ایک پہلو سے دیکھیں تو اس غزوہ میں منکرین پر مزید اتمامِ حجت بھی کر دیا ۔ قریش خود کہتے تھے کہ جو یہ جنگ جیتے گا ، اسے حق پر سمجھا جائے گا ۔ یہ جنگ حق و باطل کی میزان تھی ۔ قرآن مجید نے اسی پہلو سے اسے ''یوم الفرقان'' بھی قرار دیا ۔ مگر قریش ضدی اور ہٹ دھرم تھے ۔ وہ اپنے کفر اور فتنے پر بدستور قائم رہے ۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں یہ حکم الہٰی نازل ہوا :

''ان کفر کرنے والوں سے کہہ دو کہ اگر یہ باز آ جائیں تو جو کچھ ہو چکا ہے وہ معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہ پھر یہی کریں گے تو اگلوں کے باب میں سنتِ الہٰی گزر چکی ہے ۔ اور ان سے جنگ کرو تاآنکہ فتنہ کا قلع قمع ہو جائے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے ۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ دیکھ رہا ہے ۔ اور اگر انھوں نے اعراض کیا تو جان رکھو کہ اللہ تمھارا مولیٰ و مرجع ہے ۔ کیا ہی خوب مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مدد گار !'' (الانفال ۸ : ۳۸۔۴۰)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانونِ اتمام حجت کی سنت کی تذکیر فرمائی اور ساتھ قریش کے سرکشی پر اڑے رہنے پر مسلمانوں کے لیے جہاد و قتال کے اپنے حکم اور مسلمانوں کے برسرِ جنگ ہونے کا اعادہ فرمایا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی یعنی جب تک جزیرہ نماے عرب میں دوسری اقوام پر اسلام اور مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم نہیں ہو جاتا ، یہ جنگ جاری رہے گی ۔ لہٰذا غزوۂ بدر کے بعد جزیرہ نماے عرب میں مسلمانوں نے جو جنگیں لڑیں ، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمام حجت کی رو سے وہ عذابِ الہٰی تھا جو مسلمانوں کی تلواروں سے منکرین پر نازل ہونا تھا۔ اس لیے غزوۂ بدر کے بعد جہاد و قتال کے علانیہ یا خفیہ ہونے کی بحثیں بے کار ہیں ۔ جب مسلمان منکرین کے خلاف رسول کے غلبے اور باطل کے مٹنے تک برسرِ جنگ ہو گئے تو انھیں یہ حق بھی حاصل ہو گیا کہ وہ کھل کر کارروائی کریں یا خفیہ طریقے سے۔ اس لیے کہ جنگ و جہاد میں حالات کے لحاظ سے مختلف تدابیر اختیار کی ہی جاتی ہیں ۔

قانونِ اتمام حجت کی رو سے مسلمانوں کی طرف سے منکرین کا بطور سزا ایک قتال تو وہ ہو رہا تھا جو مسلمان اپنا دفاع کرتے ہوئے کرتے تھے یعنی منکرین مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے اقدام کرتے تھے اور مسلمان دفاع میں جنگ کرتے تھے اور پھر اسی جنگ میں منکرین کا قتال بھی ہو جاتا تھا۔ جب مسلمانوں کو قانون اتمام حجت کی رو سے خود اقدام کر کے قتال کرنے کا حکم ہوا تو منکرین کو مزید خبردار کرنے کے لیے اس کی باقاعدہ منادی کا حکم دیا گیا ۔ سورۂ توبہ میں ہے :

''اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حجِ اکبر کے دن لوگوں میں منادی کر دی جائے کہ اللہ ان مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی ۔ اس لیے اگر توبہ کر لو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر روگردانی کرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے ، اور ان منکروں کو ، (اے پیغمبر)، ایک دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ مشرکین ہیں جن سے تم لوگوں نے معاہدہ کیا اور انھوں نے اس میں نہ کوئی خیانت کی ہے اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے ۔ سو ان کا معاہدہ ان کی قرار دادہ مدت تک پورا کرو۔ اللہ ، یقیناًان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو حدود کی پابندی کرتے ہیں ۔ پھر جب (حج کے بعد ) حرام مہینے گزر جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ ، قتل کرو، انھیں پکڑو ،انھیں گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک لگاؤ۔ ہاں ، اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بے شک ، اللہ بخشنے والا ہے ، وہ سراسر رحمت ہے ۔ '' (۹ : ۳۔۵)

دور حاضر کے مسلمان حکمران

یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ نے جہاد کے لیے حکمران کی شرط کو تسلیم کر لیا ورنہ ہمارے ہاں تو بہت سے لوگ اس شرط کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ حالانکہ اس معاملے میں انبیا و رسل کا اسوہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ سخت ترین ظلم برداشت کر لیتے ہیں ، اپنے ساتھیوں کو ہر طرح کا ظلم سہنے کی نصیحت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ اس معاملے میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی موت قبول کر لیتے ہیں ، مگر اس وقت تک جہاد کرنا تو درکنار اس کا نام بھی نہیں لیتے جب تک انھیں کسی علاقے پر سیاسی اقتدار حاصل نہیں ہو جاتا ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور چند صحابۂ کرام نے مکہ میں تیرہ سال تک دعوت کا کام کیا۔ اس دور میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ، مگر وہاں آپ نے جہاد کا نام بھی نہیں لیا۔ حالانکہ اس وقت نصرتِ الہٰی کے قانون کے مطابق اگر مسلمان سو کے مقابلے میں دس بھی ہوتے تو انھیں لازماً کامیابی حاصل ہو جاتی مگر دیکھیے ، وہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جس بات کی سب سے زیادہ ہدایت فرمائی ، وہ تھی صبر ۔ صبر ، جسے آج پُرجوش مسلمان بزدلی کا نام دیتے ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک جہاد نہیں کیا، جب تک انھوں نے اپنی قوم کو مصر سے نکال کر ایک آزاد علاقے میں اپنی حکومت قائم نہیں کر لی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ساری زندگی سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو سکا ، لہٰذا انھوں نے جہاد کا نام بھی نہیں لیا۔

اب آپ کا اعتراض صرف یہ ہے کہ دورِ حاضر میں مسلمان حکمران دینی اعتبار سے بہت کمزور ہیں اور بعض تو بالکل سیکولر ہیں ، اس لیے دینی معاملات میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ بلاشبہ آج کے مسلمان حکمران دینی اعتبار سے کمزور ہیں ، مگر اس افسوس ناک حقیقت کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے جہاد کے لیے حکمران کی شرط پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ جہاد کے معاملے میں اصل مسئلہ حکمران کا حکمران ہونا ہے ۔ جہاد کا حق صرف اور صرف حکمران کو حاصل ہے ۔ اگر حکمران جہاد کے موقع پر جہاد نہیں کرتا تو جہاد معطل ہو جائے گا ، مگر ایسا نہیں ہو گا کہ کسی اور شخص کو یہ حق حاصل ہو جائے گا۔ اس صورت حال میں علما کا کام بس اتنا ہے کہ وہ حکمران کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلاتے رہیں ۔ اس کے باوجود حکمران اگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتاتو خدا کے ہاں اسی کی گرفت ہو گی ۔ اور اگر حکمران سے مایوس ہو کر علما خود یہ کام کرنا شروع کر دیں تو یہ ایک سنگین تجاوز ہے ۔

تقسیم کار کا یہ اصول عقلِ عام (Common Sense) پر مبنی ہے ۔ معاشرے کے تمام شعبوں میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایک اسپتال میں اگر کوئی سرجن اپنا فرض ادا نہیں کرتا تو منتظم اسے اپنا فرض ادا کرنے کے لیے کہتا تو ہے ، مگر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خود لوگوں کی سرجری کا کام شروع کر دے ۔

ہمارے ملک میں شرعی لحاظ سے چوروں کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے ۔ اس صورت حال میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ علما نے خود چوروں کے ہاتھ کاٹنے شروع کر دیے ہوں ۔ وہ حکمرانوں کو شریعت پر عمل کرنے کی نصیحت ہی کرتے ہیں ۔ شرعی سزاؤں پر عمل کی طرح جہاد بھی حکمران کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔

اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی اخلاقی ، علمی اور حربی حالت بہت پست ہے ۔ غیرمسلم اقوام اس معاملے میں بہت برتر مقام پر ہیں ۔ حربی قوت کے لحاظ سے تو مسلمان ان اقوام سے سیکڑوں سال پیچھے ہیں۔ اس صورت حال میں شریعت ، حکمت اور حقیقت کے اعتبار سے کسی بھی مسلمان حکمران کو کسی قسم کا کوئی جہادی اقدام نہیں کرنا چاہیے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو عبرت ناک شکست ان کا مقدر بنے گی ۔ جن مسلمانوں نے اس حقیقت کو فراموش کر کے اقدام کیا ہے وہ اس ذلت کا مزہ چکھ چکے ہیں ۔ ہمارا خیال ہے کہ مسلمان حکمرانوں کو دینی پہلو سے نہ سہی ، مگر دنیوی پہلو سے اس حقیقت کا پوری طرح احساس ہے ۔ اسی لیے وہ بجا طور پرکسی بھی قسم کے جہاد ی اقدام سے گریز کرتے ہیں ۔ لیکن اگر بالفرض ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہو کہ مسلمان حکمران دینی اور دنیوی اعتبار سے جہاد کرنے کے پوری طرح اہلہوں ، مگر پھر بھی گریز سے کام لیں تو بھی مسلمان اپنے طورپر جہاد نہیں کر سکتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

''مسلمانوں کا حکمران ان کی سپر ہے ۔ قتال اسی کے پیچھے رہ کر کیا جاتا ہے اور لوگ اپنے لیے اسی کی آڑ پکڑتے ہیں ۔ ''(بخاری ، رقم۲۹۵۷)

دیکھ لیجیے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صرف حکمران کا ذکر فرمایا ہے ، اس کے کچھ خاص اوصاف کے حامل ہونے کی شرط عائد نہیں فرمائی۔مسلمان حکمران دینی لحاظ سے کمزور ہوں تو مسلمان شہریوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ اس ضمن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اصولی ہدایت پر مبنی ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں :

''میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز (کے بارے میں غیر محتاط ہوں گے ،وہ اس کو کبھی) صحیح وقت پر پڑھیں گے اور کبھی مؤخر کر کے پڑھیں گے ۔ تم لوگ بہرحال ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔ اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم ان کے ساتھ پڑھو تو تمھیں بھی اس کا اجر مل جائے گا اور اگر وہ اسے مؤخر کر کے پڑھیں تو تم ان کے ساتھ پڑھو تو تمھیں اس کا اجر مل جائے گا اور گناہ ان کے سر آئے گا ۔ یاد رکھو جو مسلمانوں کی ریاست (کی اطاعت) سے الگ ہوا اور اسی حال میں مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔'' (مسندِ احمد ،رقم ۱۵۲۵۴)

____________

۱؂ التوبہ ۹ : ۱۴۔

۲؂ التوبہ ۹ : ۳۔ ۵۔

۳؂ آل عمران ۳ :۱۱۰۔

۴؂ صحابۂ کرام کے اس خصوصی منصب کے پہلو سے مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ، میزان ۲۰۱، جاوید احمد غامدی ۔