کیسے اللہ والے ہیں یہ اے خدا!


[''نقطۂ نظر'' کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

[توہین رسالت،مذہب پسندوں کا دوہرارویہ اور مولانامحمودحسن دیوبندی کی راے]

کچھ عرصہ قبل پاکستان کی ایک مؤقردانش گاہ مردان یونیورسٹی میں بڑا اندوہ ناک واقعہ پیش آیاجس نے ہزاروں کو رلا دیا اور رائج مذہبی فکرپرسوال کھڑے کردیے ۔ اس یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک مشتعل ہجوم نے اپنے ہی ایک ساتھی کو بڑی بے دردی سے شہیدکرڈالا۔ پی ایچ ڈی کا طالب علم مشعل خاں ایک گبرو،نڈراورمتفکرنوجوان تھا اور یونیورسٹی انتظامیہ پر اس کی کوتاہیوں کی وجہ سے تنقیدیں کرتا رہتا تھا ۔ شانِ رسالت میں گستاخی کا الزام لگاکرمشتعل ہجوم نے اُسے کمرے سے باہر گھسیٹا، زد و کوب کیا، کپڑے پھاڑے، پھرایک نوجوان نے اُس نیم جاں کے سرمیں تین گولیاں اتاریں۔ اورایک شقی نے اس کا سرپتھرسے کچل دیا۔اس کے اعضا کو توڑا گیا ، نوچااورکھسوٹاگیا۔یہ بے رحم قاتل اُسے نذرآتش کرنے کے درپے تھے کہ کسی نے مشعل کے بے جان لاشے کو ان کے چنگل سے چھڑا کرآگ میں جلانے سے بچالیا۔ ظالموں نے اس ظلم کی ویڈیوبھی بنائی اورانٹرنیٹ پر ڈال دی ۔جب اُس کی میت گاؤں میں لائی گئی تومسجدکے جاہل اورفسادی امام نے اعلان کردیاکہ کوئی اس کی نمازجنازہ نہ پڑھے کہ وہ مرتدوگستاخِ رسالت تھا۔ یعنی الزام بھی لگایااورخودہی فیصلہ بھی سنادیا!!دوسرے گاؤں سے کچھ لوگ ہمت کرکے آئے تب اس کی نمازجنازہ پڑھی گئی۔ شہیدمشعل کو کیامعلوم تھاکہ بے رحم یونیورسٹی انتظامیہ ماں باپ کے اکلوتے چراغ کویوں بجھادینے کی سازش کرڈالے گی!! بہرحال بڑاافسوس ناک واقعہ ہے جس پرعلما میں سے مفتی محمدنعیم ،مفتی تقی عثمانی اورکچھ اور لوگوں نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ۔عدلیہ نے اس کا ازخودنوٹس لیااورانتظامیہ بھی دیرسے ہی سہی جاگی مجرم پکڑے بھی گئے، مگراس کے پیچھے جومذہبی بیانیہ ہے، اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہاہے۔

مشعل خاں جیسے المیے پاکستان میں نئے نہیں ہیں۔اس واقعہ کے حوالہ سے کئی سارے مضامین پڑھنے میںآئے خاص کر ان کے جومذہب پسندیااسلام پسندکالم نگارکہے جاتے ہیں۔بڑادکھ ہواکہ اتنا ہول ناک حادثہ ہوگیا،ایک سازش کے تحت توہین رسالت کی افواہ پھیلائی گئی ،طلباکے ہجوم کواسلام کے اوردین کے نام پرگمراہ کیاگیااورایک معصوم جان کواس وحشیانہ اندازمیں بربریت کا نشانہ بنایاگیاکہ ہلاکواورچنگیزکی روحیں بھی شرما جائیں، مگر ہمارے اسلام پسند حضرات کوآفریں ہوجویہ کہنے کا گردہ رکھتے ہیں کہ' ایسے واقعے روزہی ہوتے رہتے ہیں،کہ فلاں جگہ فلاں حافظ صاحب کو شہید کیا گیا، فلاں واقعہ میں فلاں مدرسہ کے معصوم طلبہ جان سے گئے تب اتناواویلانہیں کیاگیا'۔ایک اور صاحب یوں گویاہوئے کہ' جو ہوا برا ہوا، مگر یہ تومانناپڑے گاکہ مشعل خاں توہین رسالت کامرتکب نہیں بھی ہواہو ، تھا تو وہ لبرل اور آزاد خیال'۔ اس لیے ہمیں نظررکھنی ہوگی کہ ہماری سوسائٹی کدھرجارہی ہے؟ بچوں کو تربیت دینی ہو گی ایسا نہ ہوکہ وہ ملحدلبرلوں کے شکاربن جائیں۔ اس واقعہ کے حوالہ سے ایک اورمضمون نگارنے یوں خامہ فرسائی کی کہ آج مذہب پر برا وقت آگیاہے اورلبرل فاسقین مسلمات کوچیلنج کررہے ہیں،اجماعی مسائل زیربحث لارہے ہیں، اس سب کو روکنا ہو گا تبھی ملک میں امن آئے گاوغیرہ ۔ایک مشہورمذہبی و سیاسی رہنمانے واقعہ کی حقیقت جانے بغیر تبصرہ فرمایاکہ ''جب تک حکومت اہانت کے کیسوں میں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کرے گی ہجوم قانون کواپنے ہاتھ میں لیتارہے گا''۔ (ان تبصروں کے بین السطورمیں کیا یہ پیغام چھپاہوانہیں ہے کہ لبرلوں اور آزاد خیالوں اور دوسری راے رکھنے والوں کوجینے کا کوئی حق نہیں،انھیں کچل ڈالو؟)

مشعل خاں کے واقعہ کے کچھ ہی دن بعدایک دوسرے علاقہ میں شانِ رسالت میں گستاخی کے الزام میں تبلیغی جماعت کے تین معصوم افرادپر بھی فریقِ مخالف کے ایک جوشیلے اور بہکے ہوئے نو جوان نے رات کے اندھیرے میں مسجد کے اندر گھس کرچاقوسے حملہ کیاجس میں ایک فردتوجاں بحق ہو گیا، باقی شدیدزخمی ۔اس طرح کے واقعا ت کے بعد پورے معاشرہ میں ایک بیداری پیداہونی چاہیے تھی جوبدقسمتی سے نہیں ہوئی ۔حدتویہ ہے کہ سول سوسائٹی نے بھی اپنے اطوار نہیں بدلے عامرلیاقت حسین اوراوریامقبول جان نے لفظوں سے کھیلنے اورمذہب کے غلط استعمال میں کوئی کسرنہیں چھوڑ ی ۔حال ہی میں جس طرح مولوی خادم حسین رضوی نے قانون توہین رسالت سے متعلق حکومت کی ایک غلطی (جسے درست کر لیا گیا) کو بنیاد بنا کر ۲۱ دن کا دھرنا دیا، اس کے خلاف پولیس ایکشن کی ناکامی اوراس پر فوج نے حکومت کا کہنانہ مان کرجس طرح دھرنے والوں میں رقمیں بانٹیں اوردنیابھرمیں پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی، اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ معاشرہ اپنی مذہبی انتہاپسندی سے بازآنے کے لیے تیارنہیں ہے۔اس حوالہ سے دھرنے اورعظمت رسالت کانفرنسیں ہورہی ہیں،معاشرہ میں مذہبی جنونیت بڑھتی ہی جارہی ہے، وجہ یہ ہے کہ اس سلسلہ میں جومذہبی بیانیہ ہے، اس پر نظرثانی کے لیے کوئی تیارنہیں جس کی جانب محترم جناب جاویداحمدغامدی بہت دنوں سے قوم کومتوجہ کررہے ہیں۔

ہمارامذہبی طبقہ اس سلسلہ میں کس طرح کے دو معیار رکھتا ہے، اس پہلو سے چندباتیں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔

قانون توہین رسالت کے ذیل میں خاص کرتین چیزیں بیان کی جاتی ہیں: خداتعالیٰ کی جناب میں گستاخی، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی دوسرے پیغمبرکی شان میں گستاخی اورقرآن پاک کے بارے میں کوئی نازیبا بیان۔ ہمارے مذہی جوشیلے ذراان تینوں کے حوالہ سے اپنے مذہبی، علمی وادبی تاریخی سرمایہ پر سرسری سی نظرہی ڈال لیں، ایسی کتنی ہی چیزیں اہل تصوف وارباب باطن کے ہاں نظر آجائیں گی جن کوبڑی آسانی سے توہین رسالت کے زمرہ میں لایا جا سکتا ہے ۔

اہل تصوف کوہمارامذہبی طبقہ جدیداہل حدیث کومستثنیٰ کرکے، ارباب ذوق ،اصحاب مواجید،عارفین باللہ وغیرہ جیسے بلند الفاظ اوراحترام سے لبریزآداب والقاب سے یادکرتاہے ۔عالم اسلام میں اکثرمسلمان اِن حضرات اوران سے منسوب سلاسل اور آستانوں سے عقیدت رکھتے ہیں اوربرصغیرمیں توکیادیوبندی کیابریلوی تھوڑے ہی مسلمان ہوں گے جنھوں نے ان کی عقیدت کا قلادہ اپنی گردنوں میں نہیں ڈال رکھاہوگا ۔ان حضرات سے عقیدت کے معاملہ میں لبرل وآزادخیال افرادبھی مذہبیوں سے پیچھے نہیں ہیں۔بلکہ رندمشربی ،آزادخیالی اورصلح کلیت کی سوچ کا تومرجع ہی یہی حضرات متصوفین اوران کی زندگیاں ہیں۔تاہم اِن حضرات کے ملفوظات ،احوال وکشوف میں بہت کچھ ایسا ہے (اگراس کی تاویل وتوجیہ نہ کی جائے )جوگستاخانہ موادسے بھی آگے کی چیز ہے۔ مگراس گستاخانہ موادسے آسانی سے صرف نظرکرجانے والے مریدین جوسلمان تاثیراورمشعل خاں جیسوں کے لیے شمشیربراں بن جاتے ہیں، ذرا اپنے ان بزرگوں کے ہاں بھی جھانک کردیکھ لیں۔ہم مسلمان عموماً متصوفین کو قدس اللہ اسراہم اورقدس سرہم العزیز کہتے نہیں تھکتے اوران کے کلام میں پائے جانے والے شرک جلی وخفی اوراہانت آمیز موادکی بڑی آسانی سے توجیہ کر لیتے اور ان کوشطحیات کے خانہ میں ڈال کرتاویل کرلیتے ہیں۔توسوال یہ ہے کہ مذہبیت ،تصوف اورفقہ باطن کے پردہ میں آپ کے لیے ہرچیز جائز ہے اورلبرلوں اوراپنے سے اختلاف کرنے والوں کی گردنیںآپ بغیرکسی تحقیق کے بس الزام کی بنیادپر ناپ دیتے ہیں۔اس دوغلے رویہ کوکیانام دیاجائے؟

''اولیا'' کے ملفوظات واقوال میں اِس قسم کے جملے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کولکھاجائے تو دفتر کے دفتر بھر جائیں گے، مشتے نمونہ ازخوذوارے کے طورپرچنداقوال قارئین ملاحظہ کرلیں۔(یہ جملے ہم نے مولاناکبیرالدین فوزان قاسمی کے رسالہ فکراسلامی کی تشکیلِ جدیدسے لیے ہیں)

مولاناروم (۶۷۳ھ) کے مطابق پیراورذات باری تعالیٰ برابرہیں وہ کہتے ہیں:

پیرکامل صورت ظلِ علا یعنی دید پیر دید کبریا

ہرکہ پیر و ذات رایکجا ندید نے مریدونے مریدونے مرید

''پیراللہ کے سایہ کی صورت ہے اورپیرکودیکھناخودذات کبریاکودیکھناہے۔جومریدپیراورذات باری کو''ایک ''نہ دیکھے وہ مریدہی نہیں مریدہی نہیں مریدہی نہیں۔''

یہیں سے تصورِشیخ کا مشرکانہ نظریہ پیداہوتاہے ۔مگریہ ذات باری تعالیٰ کی جناب میں گستاخی نہیں!

امام غزالی کے نزدیک عوام کی توحید لا الٰہ الا اللہ ہے اورخواص کی توحیدلاموجودالااللہ ۔غورفرمائیے کہ اِس سے عقیدۂ توحیدپر کس طرح ضرب پڑتی ہے ۔کتنی ہی آیات کریمہ و حدیثوں کا خون ہوتاہے !مگرغزالی پھربھی شیخ الاسلام ہیں؟ ابوالحسن خرقانی (م ۴۲۵ھ) نے دعویٰ کیا کہ ''میں خداسے دوسال چھوٹا ہوں'' ایک بارجلال آیا تو فرمایا: ''میں ہی مصطفائے زمانہ اورخدائے وقت'' ہوں۔ بایزید بسطامی (۲۶۰ھ) نے تواپناخیمہ'' عرش کے بالکل بالمقابل اور قریب لگادیاتھا۔ ''وہ یہ بھی فرمایاکرتے تھے: 'سبحاني ما أعظم شأني' (یعنی میں خداہوں میری شان کتنی بلند ہے) یہی جملہ حاجی امداداللہ مہاجرمکی سے منقول ہے جن سے تمام اکابرِدیوبندارادت کی نسبت رکھتے ہیں۔

صوفیا کے امام اکبر،وحدۃ الوجودکے پہلے فلسفی، مبلغ اورداعی ابن العربی (۶۳۸ھ) ابلیس کومؤحداعظم مانتے تھے پھربھی شیخ اکبرہی رہے اوران کے ماننے والے سلمان تاثیراورمشعل خاں کا جنازہ پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں کیوں؟ کیا اوریا مقبول جان جواب دیں گے؟قرآن کے بارے میں مولانارومی (۶۷۳ھ) فرماتے ہیں:

من زقرآن مغز را برداشتم استخواں را پیشِ سگاں انداختم

''میں نے قرآن سے اس کا مغزنکال کرہڈیاں کتوں کے آگے پھینک د ی ہیں۔''

حالاں کہ خودرومی کی مثنوی کاارباب تصوف کے ہاں کیامقام ہے، وہ اس جملہ سے پتا چلتاہے:

مثنوی مولوی معنوی ہست قرآن درزبان پہلوی

''مثنوی مولانائے روم فارسی زبان میں قرآن ہے۔''

مثنوی کے پڑھنے کے لیے قراء ت کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے۔چودھویں صدی کے ایک بڑے صوفی شیخ فضل رحمان گنج مرادآبادی نے ایک مریدسے کہا: ''مثنوی معنوی بہت پڑھاکرو(اس کومحض لفظاً پڑھنے سے )تین سوآدمی قطب ابدال ہوگئے ہیں''۔

جامع السلاسل شیخ جنید بغدادی (۲۹۸ ھ) فرماتے ہیں: ''آدم نے حضورالٰہی کوایک لقمہ کے عوض بیچ دیا،موسیٰ نے دیدار کرنا چاہا، لیکن میں نے دیدارِالٰہی کی تمنانہیں کی، بلکہ خودخدانے چاہاکہ مجھے دیکھے ،خداکی قسم قیامت میں میرا جھنڈا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلندہوگا،اس کے نیچے تمام جن وانس اورانبیاء ہوں گے ''۔کیااس جملہ میں صریح توہین رسالت نہیں ہے ؟جوعلماے دیوبند، علماے بریلی اور دوسرے فرقوں و جماعتوں کے علما و اکابر صوفی اماموں کی ان ہفوا ت پر یقین رکھتے ہیں اوران کی تاویل کرتے ہیں،وہ کس منہ سے سلمان تاثیراور اہانت کے دوسرے مزعومہ ملزمین کا خون مانگتے ہیں؟ کیامولوی خادم حسین رضوی کے پاس اس سوال کا جواب ہے ؟

صوفی شیخ عبداالقدوس گنگوہی نے فرمایاکہ ''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومعراج پر بلایاوہ وہاں سے واپس آگئے، خداکی قسم میں اگرمعراج پر گیاہوتاتوکبھی واپس نہ آتا''(مفہوم)یہ مقولہ علامہ اقبال نے اپنے خطبات ''Reconstruction of religious thought in Islam'' میں بھی نقل کیا ہے، بلکہ ایک خطبہ کی ابتدا اسی سے کی ہے اوراس کونبوت اورصوفیانہ واردات میں فرق کی توجیہ کے لیے دلیل قراردیاہے۔عام طورپرتوجیہ کی جاتی ہے کہ صوفیاکی روحانی واردات ماوراے کلام ہے ،اس کا تجربہ ممکن ہے لیکن بیان ممکن نہیں اورجب کوئی صوفی مغلوب الحال ہوکراُسے بیان کرنے کی کوشش کرتاہے تواس سے بیان میں غلطی ہوجاتی ہے۔جوحسنِ توجیہ یہاں کام میں لائی گئی کیاغیرصوفیا کے لیے نہیں لائی جا سکتی؟ کیا تاج دار ختم نبوت لوگوں کا دل چیرکردیکھ لیتے ہیں؟

ہمیں مذکورہ بزرگوں سے نہ کوئی چڑ ہے نہ پرخاش اورنفرت۔یہ سارے بزرگ کب کے اللہ کوپیارے ہو چکے۔ ہمارامدعایہ ہے کہ ان بزرگوں کے مریدین میں امت مسلمہ کی بہت بڑی تعدادشامل ہے ۔اب یہ کیساتضاد فکر و عمل ہے کہ اپنے بڑوں ، بزرگوں اور مرشدوں کے سات خون معاف ،ان کے لیے ساری تاویلیں تیار،نہ ادب و احترام میں کوئی کمی! اورجولوگ مذہب کی رائج الوقت تعبیروں سے اتفاق نہیں رکھتے یاان سے مطمئن نہیں، ان کے خلاف عوام کالانعام کواکسادیاجائے !مذہب پسندوں کے اس دوہرے رویہ اورڈبل اسٹینڈرڈکاکیاجوازہے؟ایک کے لیے تاویل اورحسن ظن تودوسرے کے لیے کیوں نہیں؟ یہ حضرات مریدین سے 'اشرف رسول اللہ' اور 'چشتی رسول اللہ' کا کلمہ تک پڑھوا لیں، لیکن ان کے دین وایمان پر کوئی فرق نہ پڑے اوردوسرا مذہبی عالم ومفکررائج مذہبی فکرپر کوئی سوال اٹھا دے توہمارے دارالافتا اس کوسیدھے سیدھے ملحدوکافرقراردے دیں!

ممتاز قادری کی سزاکے بعد''دلیل'' کے ایک کالم نگارنے کہاکہ اس کوشہادت کا درجہ دینے کا مطالبہ عوام کررہے ہیں اور جمہوریت میں حکومتوں کاکام عوام کی بات مانناہوتاہے ،ہم نے ان کے جواب میں عرض کیاکہ یہ جمہوریت نہیں یہ تو Mobocracy ہے جوجمہوریت کے پردہ میں ہرجگہ حاوی ہوتی جارہی ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اقتدارپر وہ ٹولہ مسلط ہوچکاہے جوجمہوریت میں نہیں موبوکریسی میں یقین رکھتاہے اوربدقسمتی سے اب یورپ اورامریکا میں بھی کچھ اسی طرح کا منظرنامہ بنتادکھائی دے رہاہے۔

بہرحال ہماراسوال اہانتِ رسول کے حوالے سے یہ ہے کہ اِس قانون کے علم بردار، محافظ اورحمایتی علما و مفتیین، صحافی اور کالم نگار حضرات کیامذکورہ بزرگوں کے نقل کیے گئے مقولوں اورملفوظات کوDisownکرنے کی اخلاقی جرأت کریں گے ؟ اوریامقبول جان،ڈاکٹرمحمدامین اورمولوی خادم حسین رضوی صاحبان کیاخیال ہے ؟

بات جب توہینِ رسالت کی آتی ہے توبڑے بڑے اس میں اپنی عقل وفکرکوبڑی آسانی سے طاق پر رکھنے کے لیے تیارہوجاتے ہیں جیسے کہ غازی علم دین کی موت پر اقبال نے کہا''ترکھان کا بیٹابازی لے گیا''ایک عام دلیل اور منطق یہ دی جاتی ہے کہ برصغیرکی ملتِ اسلامیہ اِس معاملہ میں بہت زیادہ حساس ہے اوراس حساسیت کا اظہارتوہین رسالت کے قانون کے تقدس سے ہوتاہے۔اس معاملہ میں علما، دانش ور، صحافی اورعوامی لیڈرسب ایک ہی پیج پر ہیں۔ گویا سب نے مان لیاہے کہ یہ معاملہ ایساہے جس میں کسی دلیل ،کسی منطق اورکسی شرعی استدلال کی سِرے سے ضرورت ہی نہیں۔ حالاں کہ یہ ذہنیت اسلامی نہیں نہ قرآن یاسنت اس کی آب یاری کرتے ہیں۔یہی بات توہمارے ملک ہندوستان میں ہندووفرقہ پرست قوتیں کرتی ہیں۔جن کا کہناہے کہ دھرم کا معاملہ آستھاکا معاملہ ہے، اس میں کسی دلیل اور Reason کادخل نہیں ہوتا،یہاں تک کہ عدالت کوبھی دھرم کے کسی معاملہ میں مداخلت کا حق نہیں ہے ۔ اگر برصغیر کے مسلمانوں میں اتنی شدیدحساسیت پائی جاتی ہے تواس کی جڑقرآن میں نہیں، بلکہ ''باخدادیوانہ باشی با محمد ہوشیار'' جیسے صوفیانہ مقولوں میں ہے۔اس ذہنیت کی اصلاح معاشرہ کے باشعورلوگوں کوکرنی چاہیے تھی، ان لوگوں کو کرنی چاہیے تھی جواپنے آپ کوتحریکی فکرکا علم بردارکہتے ہیں۔ مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہ رہی ہے ۔پاکستان کے امیرجماعت اسلامی ممتاز قادری کے بیٹے کواسٹیج پر بٹھاکرعوامی ریلیاں کرتے رہے ،گرچہ اس کا ان کوفائدہ نہیں ملا اور نوزائیدہ تحریک لبیک کے منہ پھٹ، بلکہ دشنام طرازی میں ملکہ رکھنے والے ایک چھوٹے سے مولوی نے حکومت کی غلطیوں کو کیش کر کے مولوی سے علامہ اورپھرسیاسی قائدتک کا سفرایک ہی جست میں طے کرلیا۔

سوال یہ ہے کہ مسلمان توہین رسالت کے نام پر جومرنے مارنے پر اتنی آسانی سے آمادہ ہوجاتے ہیں، کیااس کا منشا فی الواقع حبِ رسول کی شدت ہے یاکچھ اورہی اس نفرت کی تہ میں چھپاہواہے ؟

مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس مناسبت سے اہل دیوبندکی ایک بڑی شخصیت اوراکابرعلما کے شیخ مولانامحمودالحسن دیوبندی کی تشخیص قارئین کے سامنے لائی جائے ۔اپنے شاگردمولانامناظراحسن گیلانی (م ۱۹۵۶ء) کے اسی سوال کے جواب میں مولانامحمودنے فرمایاکہ توہین رسالت کے واقعات پر مسلمانوں کا پُرتشددردعمل کسی واقعی حبِ رسول پر مبنی نہیں، بلکہ وہ اس لیے بھڑکتے ہیں کہ اس سے دراصل ان کی اناکوٹھیس پہنچتی ہے۔ مولاناگیلانی نے یہ واقعہ اپنی ایک کتاب میں نقل کیاہے ،قصہ یوں ہے :ایک دن اس حدیث پر گفتگوکے ذیل میں کہ: ''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل الایمان نہیں ہوسکتاجب تک وہ مجھ سے اپنے رشتہ دار،اپنے مال ودولت اوردوسرے تمام لوگوں سے محبت کرنے والانہ ہو''(مسلم جلداول بشرح النووی ص ۲۹۰) شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی نے فرمایاکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی مرضی کے آگے سب کچھ قربان کردیاجائے لیکن مسلمان ایسانہیں کرتے ''گیلانی کہتے ہیں:فقیرنے عرض کیاکہ بحمداللہ عام مسلمان بھی سرکارکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی اس دولت سے سرفراز ہیں ،جس کی دلیل یہ ہے کہ ماں باپ کی توہین کوتوایک حدتک مسلمان برداشت کرلیتاہے،زیادہ سے زیادہ گالیوں کے جواب میں وہ بھی گالیوں پر اتر آتاہے ،لیکن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلکی سبکی(اہانت ) بھی مسلمانوں کواس حدتک مشتعل کردیتی ہے کہ ہوش و حواس کھوبیٹھتے ہیں۔ آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ لو گ جان پر کھیل گئے ۔سن کرحضرت نے فرمایاکہ ہوتابے شک یہی ہے جو تم نے کہا،لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تہ تک تمھاری نظر نہیں پہنچی ۔محبت کا اقتضایہ ہے کہ محبوب کی مرضی کے آگے ہر چیز قربان کی جائے۔ لیکن عام مسلمانوں کا جو برتاؤ آں حضرت کی مرضی مبارک کے ساتھ ہے،وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ پیغمبرنے ہم سے کیاچاہاتھااورہم کیاکررہے ہیں، اس سے کون ناواقف ہے۔ پھر سبکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جومسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت بن جاتی ہے،اس کی وجہ محبت تونہیں ہو سکتی۔ خاک سار نے عرض کیا تو آپ ہی بتائیں اس کی وجہ کیاہے؟ نفسیات انسانی کے اس مبصرحاذق نے فرمایاکہ سوچو گے تو درحقیقت آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سبکی میں اپنی سبکی کا غیرشعوری احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی خودی اورانانیت مجروح ہوتی ہے (کہ) ہم جسے اپناپیغمبراوررسول مانتے ہیں تم اس کی اہانت نہیں کر سکتے۔ چوٹ دراصل اپنی اس ''ہم ''پر پڑتی ہے۔ لیکن مغالطہ ہوتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے ان کوانتقام پر آمادہ کیا ہے۔ نفس کا یہ دھوکا ہے۔اپنی جگہ ٹھنڈے دل سے جو غور کرے گا، اپنے طرزعمل کے تناقض کے اس نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے۔ بہرحال محبوب کی مرضی کی جسے پروا نہ ہو،اذان ہورہی ہے اورلایعنی اورلاحاصل گپوں سے بھی جواپنے آپ کوجداکرکے مؤذن کی پکارپرنہیں دوڑتا، اُسے انصاف سے کام لیناچاہیے کہ محبت کا دعویٰ اس کے منہ پر کس حد تک پھبتا ہے''۔ (مناظر احسن گیلانی: احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن ص ۱۵۴۔۱۵۵ مکتبہ طیبہ، دیوبند ۱۴۱۶ھ)

رسرچ ایسوسی ایٹ مرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند۔

____________