خواب


جاوید احمد غامدی / وقار ملک

[مدیر ''اشراق'' سے روزنامہ ''پاکستان'' کے لیے ایک انٹرویو]

ہم میں سے ہر کوئی خواب دیکھتا ہے کبھی بہت اچھا اور کبھی بہت برا ۔ خواب اچھا ہویا برا ، ہر کوئی اس کی تعبیر جاننے کی خواہش ضرور رکھتا ہے ۔ کبھی کبھی لوگ کسی عالم یا دانا شخص سے بھی اس بارے میں رجوع کرتے ہیں ۔ میں کئی ایسے افراد کو جانتا ہوں ، جنھوں نے خواب کی تعبیر کا ایک طریقۂ کار وضع کر رکھا ہے اور وہ بڑے اعتماد کے ساتھ تعبیر کرتے چلے جاتے ہیں خواہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو ۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ بچپن میں ، میں جب ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کے لیے سوہدرہ اپنے محلے کی جامع مسجد اہل حدیث ملکاں والی جایا کرتا تھا تو ایک روز صبح صبح ایک صاحب جو میرے عزیز دوست بشیر ملک جھنگے شاہی کے سگے بھائی تھے۔ مسجد میں تشریف لائے اور مولوی صاحب سے کہنے لگے کہ میں نے آپ سے علیحدگی میں کوئی بات کرنی ہے ۔ مولوی صاحب نے پوچھا : خیریت تو ہے ؟ جواب دیا : میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے ، اس کی تعبیر جاننا چاہتا ہوں ۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ کوئی بات نہیں ، آپ بچوں کے سامنے خواب بیان کر دیں ۔ انھوں نے خواب کی تفصیل بتائی ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے رات کو خواب میں ایک بلی کو مار دیا ہے ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ یہ خواب اچھا نہیں ہے ،آپ اس کا کسی سے ذکر مت کریں ، البتہ جس قدر جلد ممکن ہو صدقہ دیں ، مگر میں نے دیکھا کہ اس واقعہ کے دو چار دن بعد وہ صاحب انتقال کر گئے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد بچپن سے لے کر اب تک میرے ذہن میں خواب کی بڑی واضح اہمیت موجود رہی ہے ۔ بہت سے احباب سے خواب کے مختلف پہلووں پر بات بھی ہوئی ، مگر دل مطمئن نہ ہوا ۔ کبھی ایسا ہوا کہ میں نے جو خواب دیکھا ، وہ سو فی صد درست ثابت ہوا ۔ اور کئی بار خواب کے نتائج سو فی صد الٹ نکلے ۔ اس حوالے سے میں الجھن کا شکار رہا کہ خواب کے بالکل درست اور کبھی بالکل غلط ثابت ہونے کی اصل وجہ کیا ہے ؟

پچھلے دنوں جاوید احمد صاحب غامدی سے خواب کے موضوع پر مکالمہ ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے ہم لوگ اسے کچھ اور رنگ دیتے ہیں ۔ چونکہ ہم سب بہت سے خواب دیکھ چکے ہیں اور آیندہ بھی دیکھیں گے ، اس لیے اس کالم کا بنظر عمیق مطالعہ بہت مفید رہے گا ۔

میرا ان سے پہلا سوال یہ تھا کہ کسی چیز کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے انسان کی آنکھوں اور شعور کا ہونا ضروری ہوتا ہے ، مگر خواب میں آنکھیں اور شعور دونوں کام نہیں کرتے ۔ پھر بھی وہ ہر چیز کو بڑا واضح دیکھ اور سمجھ رہا ہوتا ہے ۔ آپ کی نظر میں خواب ہے کیا چیز ؟

جاوید احمد غامدی گویا ہوئے :

خواب کی حقیقت کیا ہے ۔ اس کے بارے میں علم نفسیات کے ماہرین نے جو کچھ تحقیقات کی ہیں ، ان سے پتا چلتا ہے کہ اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ہمارے لاشعور کی یادیں خواب میں نمایاں ہو جاتی ہیں اور شعور اور لاشعور باہمی مکالمہ کرنے لگ جاتے ہیں ۔ انسان کی امیدیں اور خواہشات ممثل ہو کر سامنے آ جاتی ہیں ۔شیاطین جن انسان کے لاشعور پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس کے اثرات انسان خواب میں محسوس کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمثیلی اسلوب میں مستقبل کے متعلق کوئی اچھی خبر اس تک پہنچا دیتے ہیں ۔ انبیا کا خواب خدا کی وحی ہوتا ہے اور بارہا انھیں خواب ہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہدایات دیتے ہیں یا زمین و آسمان میں اپنی نشانیاں دکھاتے ہیں ۔ خواب کی یہ چند صورتیں ہیں ، تمام صورتوں کا احاطہ ابھی تک ماہرین نفسیات کے لیے ممکن نہیں ہو سکا ۔

سوال : کبھی کبھار انسان بہت ڈراؤنا خواب دیکھتا ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہوتی ہے اور ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : ڈراؤنے خواب کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں ۔ یہ انسانی جسم میں کسی بیماری یا اختلال کے باعث بھی آ سکتا ہے ، نفسیاتی عوارض بھی اس کا باعث ہو سکتے ہیں اور شیاطین جن کی دراندازی سے بھی ایسا ہو سکتا ہے ۔ جسمانی اور نفسیاتی عوارض ہوں تو ان کا علاج کرنا چاہیے اور شیاطین جن کی دراندازی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے ۔ اس کے لیے ہم مسلمانوں کو اللہ اور رسول نے نہایت عمدہ دعائیں سکھائی ہیں ۔ علاج کے ساتھ ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے ۔

سوال : بعض لوگ اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ برا خواب آنے کی صورت میں اس کا کسی کے سامنے ذکر نہیں کرنا چاہیے ۔ ورنہ یہ فوری طور پر درست ثابت ہو جاتا ہے ۔ کیا واقعی کوئی ایسی بات ہے ؟

جواب : یہ محض توہمات ہیں ۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ خواب بتانا نہ بتانا آدمی کی صواب دید پر منحصر ہے ۔ بعض اوقات دوسروں سے اپنے ساتھ کسی واردات کا مکالمہ کر لینا باعث اطمینان ہو جاتا ہے ۔ یہ فیصلہ خواب دیکھنے والے کو کرنا چاہیے کہ وہ خود ہی اپنے آپ کو مطمئن کر لیتا ہے یا اسے اس طرح کے کسی مکالمے کی ضرورت ہے ۔ مذہب میں نہ اس کی تلقین کی گئی ہے اور نہ اس سے روکا گیا ہے ۔

سوال : اچھا خواب آنے کی صورت میں کیا انداز اختیار کرنا چاہیے ؟

جواب : اچھا خواب آئے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے اس میں کوئی چیز مستقبل کے بارے میں دکھائی گئی ہو تو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے عملاً بھی پورا کر دے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ڈراؤنے خواب ، بالعموم شیاطین کی طرف سے ہوتے ہیں اور اچھے خواب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ۔ لیکن یہ لازم نہیں ہے ۔ بالعموم ایسا ہوتا ہے ۔

سوال : نیک اور گنہ گار شخص کے خواب میں کیا فرق ہوتا ہے ؟

جواب : علم نفسیات کے ماہرین نے اب تک جو تحقیق کی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نیک اور بد کا کوئی فرق نہیں ۔ ہر طرح کے لوگوں کو ہر طرح کے خواب آ جاتے ہیں ۔ صرف انبیا ہیں جن کے خواب اللہ تعالیٰ کی عنایات کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ ہما شما کے ساتھ اس معاملے میں ہر طرح کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں ۔

سوال : لیکن عمومی تاثر تو یہی ہے کہ نیک آدمی کا خواب سچا ہوتا ہے اور گنہ گار کا خواب جھوٹا؟

جواب : اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ ہمارے معیارات کے لحاظ سے ہر گز نیک نہیں ہوتے ، لیکن ماہر نفسیات نے جو حقائق جمع کیے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بھی پے در پے ایسے خواب آ جاتے ہیں جو بالکل ٹھیک ثابت ہوتے ہیں ۔

سوال : شہروں میں بالعموم اور دیہاتوں میں بالخصوص لوگ خواب کی تعبیر کے لیے عالم دین سے رجوع کرتے ہیں ۔ کیا دین کے عالم کا واقعی خواب کی تعبیر سے کوئی تعلق ہے یا پھر ۔۔۔۔۔۔؟

جواب : خواب میں بالعموم چیزیں علامتی طور پر دکھائی جاتی ہیں ، اس لیے وہ یقیناًمحتاج تعبیر ہوتی ہیں ۔ ان کی تعبیر کا دین کے علم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کوئی بھی شخص جو علامتوں سے حقائق تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، وہ بہتر تعبیر کر سکتا ہے ۔ یہ دیہات کا کوئی دانا بوڑھا بھی ہو سکتا ہے ، علم نفسیات کا کوئی ماہر بھی اور علم و ادب کے اسالیب کو سمجھنے والا کوئی شخص بھی ۔ اس میں دین کا عالم ہونا کوئی شرط نہیں ہے ۔

سوال : کہا جاتا ہے کہ جس شخص نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اس نے واقعی سچا خواب دیکھا ، کیونکہ شیطان نبی کریم کی شکل اختیار نہیں کر سکتا ؟

جواب : یہ بشارت صحابۂ کرام کے لیے تھی ۔ ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تسلی دی تھی کہ تم اگر مجھے خواب میں دیکھو گے تو چونکہ تم مجھے پہچانتے ہو ، ا س لیے شیطان کوئی دوسری صورت اختیار کر کے تمھیں دھوکا نہیں دے سکتا ۔ ہم نے نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، نہ یہ بشارت ہمارے لیے ہے ۔

سوال : بعض لوگ خواب میں نبی کریم سے مذہبی رہنمائی لینے کا ذکر کرتے رہتے ہیں ، کیا واقعی ایسا ہونا ممکن ہے ؟

جواب : میرے خیال میں اس طرح کے لوگ ، بالعموم نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی مذہبی اور سیاسی امنگوں کو اس طرح کے خوابوں میں دیکھتے رہتے ہیں ۔ آدمی کو اپنے فیصلے علم و عقل اور قرآن و سنت کی روشنی میں کرنے چاہییں، خوابوں کی بنیاد پر نہیں ۔

سوال : کیا اب کسی شخص کو بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں نظر نہیں آ سکتے ؟

جواب : میں نے جہاں تک اس علم کا مطالعہ کیا ہے ، میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس امت کے ثقہ لوگوں کو جب بھی ایسا خواب آیا ہے ، اس کا اسلوب علامتی ہی رہا ہے ۔ اس میں بعینہٖ کوئی چیز نہیں دکھائی گئی ۔ مثال کے طو رپر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا یہ خواب بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خو د کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی قبر مبارک میں ہڈیاں جمع کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ اس کی تعبیر یہ کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی میراث جمع کرائے گا ۔ عام طور پر خواب ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ان میں اگر کوئی شخص نظر آتا ہے تو وہ بھی تمثیلی شکل ہوتی ہے ۔ ہم کبھی کبھی اپنے ماں باپ کو خواب میں دیکھتے ہیں ، ان سے باتیں کرتے ہیں ، حالانکہ وہ ہمارے ساتھ کی چارپائی پر سوئے ہوتے ہیں ۔ صبح کو اٹھ کر ان سے پوچھ لیجیے تو ان کو اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی ۔ یہی معاملہ مرنے کے بعد بھی ہوتا ہے ۔

سوال : ہمارے معاشرے میں جھوٹے خواب بیان کرنے کا رواج بہت عام ہے ۔ آپ جھوٹے خوابوں کے کھلے عام بیان کرنے کی کیا وجہ سمجھتے ہیں ؟

جواب : اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست سوسائٹی میں رہتے ہیں ۔ اس میں لوگ اس طرح کی چیزوں سے بآسانی متاثر ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے مفاد پرست لوگوں کو بیوقوف بنانے کا موقع مل جاتا ہے ۔ مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ انھوں نے کسی مذہبی رہنما کے ساتھ مل کر لکڑی کا کاروبار کیا ۔ کاروبار چل نکلا تو ایک دن حضرت نے بتایا کہ آج رات خواب میں ہم دونوں کے پیرومرشد نے ہدایت کی ہے کہ اب یہ سارا کاروبار میں اپنے ہاتھ میں لے لوں ۔ اب اس کے لیے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ یا پیرو مرشد سے بغاوت کرے یا کاروبار سے ہاتھ دھولے ۔

سوال : کیا انسان کو اپنے خواب پر توجہ دینی چاہیے یا پھر اس سے صرف نظر کرنا چاہیے ؟

جواب : خواب جب بھی آئیں گے ، اپنی نوعیت کے لحاظ سے دیکھنے والے پر اثر انداز ہوں گے ۔ کمزور نفسیات کے لوگ زیادہ متاثر ہو جاتے ہیں ۔ بندۂ مومن کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے پروردگار پر بھروسا کرے ۔ اچھی باتوں پر اس کا شکر ادا کرے او ربری باتوں سے ہراساں ہونے کے بجائے مطمئن رہے کہ کوئی چیز بھی اللہ کے حکم کے بغیر واقع نہیں ہوتی ۔

سوال : استخارہ کیا ہے۔ اسلام میں اس کی اہمیت پر آپ کیسے روشنی ڈالیں گے ؟

جواب : استخارہ محض ایک دعا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی دعائیں سکھائی ہیں ، ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے ۔ اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ بندہ جب کوئی فیصلہ کرے تو اس میں اپنی تدبیر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی یہ درخواست کرے کہ وہ اس پر خیر کا پہلو واضح کر دے ۔ اس میں کوئی چیز دوسری دعاؤں سے مختلف نہیں ہے ۔

سوال: عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ استخارہ کرنے والے شخص کو خواب میں اشارہ ہو جاتا ہے کہ فلاں کام بہتر ہے یا نہیں ، مگر کئی بار استخارہ کرنے والے کو قطعی کوئی اشارہ نہیں ہوتا ، ایسی صورت میں وہ کیسے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے ؟

جواب : استخارہ کے کئی پہلو ہوتے ہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہماری عقل ہی میں خیر کا پہلو آ جاتا ہے ، کسی ذریعے سے ہمارے علم میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے خواب میں بھی رہنمائی ہو جاتی ہے ۔

سوال : بعض لوگ جب استخارہ کرتے ہیں تو انھیں ان کی خواہش کے مطابق اشارہ نہیں ملتا ۔ وہ دوبارہ یا سہ بارہ استخارہ کرتے ہیں ، حتیٰ کہ انھیں پسند کا اشارہ مل جاتا ہے ، ایسا کیوں کر ہوتا ہے ؟

جواب : جی ہاں ! بسا اوقات آدمی اپنے رجحانات اور خواہشات ہی کو خواب میں دیکھ لیتا ہے ۔ انسانی نفسیات ایسی واقع ہوئی ہے کہ اسے کوئی چیز بار بار تجویز کی جائے تو وہی اس کے لاشعور کا حصہ بن کر خواب یا بے داری میں نمایاں ہو جاتی ہے۔

سوال : ہمارے ہاں بعض لوگ علم نجوم ، ستاروں کا علم ، حال ، قیافہ ، ہاتھ کی لکیروں وغیرہ پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں ۔ اسلام ان کے بارے میں کیا رہنمائی کرتا ہے ؟

جواب : اللہ تعالیٰ نے جس طرح جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بعض لوگوں کو غیر معمولی صلاحیت دی ہوتی ہے ۔ اسی طرح بعض لوگ نفسی لحاظ سے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے لوگ بارہا مستقبل کی بعض چیزوں کو قبل ازوقت محسوس کر لیتے ہیں ۔ اس صلاحیت کا کفر و ایمان سے کوئی تعلق نہیں ۔ سائنس میں جس طرح آئن اسٹائن غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوا ، اسی طرح بعض لوگ نفسی صلاحیتوں میں درجۂ کمال پر پہنچ جاتے ہیں ۔ بعض دوسرے لوگ جنات وغیرہ سے رابطہ کر کے بھی ایسی چیزیں لے لیتے ہیں جو انھوں نے فرشتوں سے اچک لی ہوتی ہے ۔ اسی طرح قیافہ کے بعض علوم بھی ہیں جن کی روشنی میں آدمی بعض اندازے لگا لیتا ہے ۔ ہاتھوں کی لکیریں ، ستاروں کا علم اور بعض دوسری چیزیں اس میں شامل ہیں ۔ بعض لوگ ان میں سے کسی ایک چیز اور بعض ایک سے زیادہ چیزوں میں مہارت رکھتے ہیں ۔ یہ سب اسی کے مظاہر ہیں ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کے بجائے اللہ کی ہدایت اور اپنے علم و عقل کی روشنی میں زندگی بسر کرے ۔

____________