خدا کے کنبے پر خرچ کرنا


ایک آدمی اللہ تعالیٰ کو دریافت کر کے دل سے مان لیتا ہے ، تو اس کے اندرایک حیوانی انسان کے بجاے ربانیانسان وجود میں آجاتا ہے۔ وہ گردو پیش کو حیوانی نگاہ سے نہیں، بلکہ ربانی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس کاتمام مخلوق کودیکھنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دو بھائیوں کاآپس میں کہیں کوئی الجھاؤ پیدا ہو جائے تو ایک سمجھ دار بھائی یہ کہتا ہے کہ میں اس سے بدلہ بھی لے سکتا ہوں ، لیکن چونکہ یہ میرا بھائی ہے، ہم نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا ہوا ہے، ہمارا خون ایک ہے، اس نسبت کا خیال رکھتے ہوئے میں اس سے نہیں لڑ رہا ۔ گویا یہاں اس کے سامنے محض مخالف انسان نہیں، بلکہ اس کا بھائی ہے اور وہ اس کو بھائی کی نظر سے دیکھنے کی وجہ سے بدلہ لینے سے خود کو باز رکھتا ہے۔

آپ نے یہ کہتے بھی کسی کو سنا ہو گا کہ میرے والد نے میرے ساتھ حق تلفی کر دی، اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اپنا حق لیے بغیر کبھی نہ چھوڑتا، لیکن چونکہ وہ میرے والد ہیں، اس وجہ سے میں خاموش ہو جاتا ہوں، کچھ نہیں کہتا۔ یہ تو دنیوی رشتوں کا لحاظ رکھنے کی مثالیں ہوئیں۔ مگر مومن کا سب سے مضبوط رشتہ چونکہ اپنے خدا سے ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی اپنی زندگی میں خدا کے رشتے کی لاج رکھتا ہے۔ لوگ بھائی اور باپ کے رشتے کی وجہ سے چپ ہو جاتے ہیں، اس کے نزدیک خدا کا رشتہ بھی اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے، اس لیے وہ خدا کے رشتے کی لاج رکھتا اور اس کی خاطر خاموش ہو جاتا ہے۔ جو مومن ہوتا ہے، وہ تمام مخلوق کو خدا کے کنبے کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس کی نظر میں یہ نہیں ہوتا کہ یہ کوئی فلاں بن فلاں ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ یہ جو بھی ہے، بس میرے خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہے ۔ وہ خدا کی بنائی ہوئی اس مخلوق کا احترام خدا کی وجہ سے کر رہا ہوتا ہے، ان کی طرف سے ملی ایذا کو بھی خدا کی وجہ سے معاف کر دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے اور خدا کے نزدیک تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اس کے کنبے کے ساتھ بہتر ہے[1]۔ یعنی جس طرح ایک باپ اپنی اولاد سے تب خوش ہوتا ہے جب وہ سب آپس میں اچھی طرح رہ رہے ہوں اور جو بیٹا باپ کی دوسری اولاد کو ستائے، باپ کی نظر میں وہ ناپسندیدہ ہو جاتا ہے، اسی طرح خدابھی اپنی مخلوق کو عزیز رکھتا ہے۔ وہ اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے ، جو اس کے کنبے کے ساتھ بھلائی کرتا اور انھیں خوشی پہنچاتا ہے۔

اگر خدا کے کنبے کو کوئی شخص ستائے گا تو خدا کی نظر میں وہ مبغوض ہو گا۔ خدا اس سے ناراض ہو کر اسے سزا دے گا۔ایسا شخص خدا کو سخت ناپسند ہے جس سے خدا کی مخلوق کو تکلیف پہنچ رہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی درست معرفت کے بعد یہ نتیجہ پیدا ہونا ضروری ہو جاتا ہے کہ مومن خدا کی مخلوق کومحترم جانے۔ وہ خلق خدا کی بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ سورۃ المؤمنون میں مومنین کی تیسری صفت زکوٰۃ کے طور پر خدا کی مخلوق پرمال خرچ کرنا بتائی گئی ہے۔ خدا کے اس کنبے میں سے ضرورت مند لوگوں کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی یہ ہے کہ آپ اپنی کمائی کے اندر ان کا حصہ بھی تسلیم کریں۔

خدا یہ تقاضا کرتا ہے کہ میری خاطر آپ نے میری مخلوق کے مستحق بندوں پر لازماً مال خرچ کرنا ہے۔ آپ نے نظر رکھنی ہے کہ کون لوگ مستحق ہیں، پھر آپ نے ان کی مالی مدد کرنی ہے۔ خدا کے دیے ہوئے مال میں سے خدا کے مستحق کنبے پر خرچ کرنا مومنین پرعائدایک لازمی دینیفریضہہے۔ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ،جب تک کہ وہ خدا کی طرف سے عائد کردہزکوٰۃادا کرنے کی ذمہ داری قبول نہ کرلے ۔ پھر نشان دہیکر کے بتا دیا گیا ہے کہ خدا کے کنبے میں کن کن لوگوں کا اس حوالے سے آپ نے خیال رکھنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے باپ اپنی اولاد کو، اپنے کسی معذور بیٹے کے لیے باقی اولاد کووصیت کر رہا ہو کہ میرے اس خاص بیٹے کا آپ نے خاص خیال رکھنا ہے۔ یوں خدا بھی اپنے کنبے کے ذی استطاعت لوگوں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ میری مخلوق کے معذوروں اور مستحقین کا خیال رکھنا۔ خدا نےزکوٰۃخرچ کرنے کے لیے جن طبقات کا ذکر کیا، وہ یہ ہیں :

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِﵧ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِﵧ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ.(التوبہ۹: ۶۰)

''صدقات تو درحقیقت فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن کے لیے جو اُن کے نظم پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہے۔ نیز اِس لیے کہ گردنوں کے چھڑانے میں اور تاوان زدوں کے سنبھالنے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کا مقرر کردہفریضہہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔''

۱۔ فقرا و مساکین کے لیے: 'فقیر' کا لفظ اُس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنی معیشت کے لیے دوسروں کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ غنی کا مقابل ہے اور ہر قسم کے حاجت مندوں کے لیے عام ہے۔ مسکین اِس کے مقابل میں سخت ہے۔ مسکنت کے لفظ میں عاجزی، درماندگی ، بے بسی اور بے چارگی شامل ہے۔ اِس اعتبار سے مسکین اُسے کہا جائے گا جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہو۔

۲۔ 'الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا': یعنی ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں۔ اِس لیے کہ ریاست کے تمام ملازمین درحقیقت 'العاملین علی أخذ الضرائب وردھا إلی المصارف' ہی ہوتے ہیں۔ متصدقینیااِس طرح کے بعض دوسرے الفاظ کے بجاے قرآن نے یہ لفظ اِسی مدعا کو ادا کرنے کے لیے اختیار کیا ہے۔

۳۔ 'الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ': یعنی اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں تمام سیاسی اخراجات کے لیے۔

۴۔ 'فِيالرِّقَابِ': یعنی ہر قسم کی غلامی سے نجات کے لیے۔

۵۔ 'الْغٰرِمِيْنَ': یعنی کسی نقصان ، تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے۔

۶۔ 'فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ': یعنی دین کی خدمت کے کاموں میں۔

۷۔ 'ابْنِ السَّبِيْلِ': یعنی مسافروں کی مدد اور اُن کے لیے سڑکوں، پلوں، سراؤں وغیرہ کی تعمیر کے لیے[2]۔

آپ نے کسی مستحق کی مدد کرنی ہو تو اس طرح نہ کریں کہ اس کی عزت نفس مجروح ہو جائے۔ آپ اس کی مفلسی کا تماشا مت بنوائیں۔ اس کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے بہت شایستگی کے ساتھ اس کی مدد کریں۔ آپ جا کر یہ بھی مت کہیں کہ میں آپ کو فطرانہ یازکوٰۃدینا چاہتا ہوں۔ اس طرح کہنے میں اس کی عزت نفس مجروح ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں آج کل یہ غلط فیشن بنا ہوا ہے کہ کہیں سے آٹے کے دس تھیلے اٹھا کر لے آتے ہیں اور غریبوں اور بیواؤں کوقطار میں کھڑا کر کے ان کے فوٹو بنانا شروع کر دیتے ہیں، ان کی عزت نفس مکمل کچلنے کے لیے آٹے کے تھیلوں پر بھی اپنے ٹرسٹ کی مہر لگا دیتے ہیں تاکہ جو بھی دیکھے، جان جائے کہ ان کے ہاں ٹرسٹ کے آٹے کی روٹی بنتی ہے۔ شہرت کے بھوکے سخی کو کل ریاکاری کے اس کھیل کی وجہ سے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ ایسے خرچ کی خدا کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔

جو لوگ خدا کے لیے اس کی مخلوق پر خرچ کرتے ہیں، ان کا طریقہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

آپ سے کسی نے قرض لے لیا اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ بے چارہ واپس نہیں کر سکتا ،تو بڑی خوش دلی کے ساتھ اس کو وہ قرضہ معاف کر دیں۔ یہ بہت بڑی نیکی کا کام ہے۔ وہ مقروض ہے، اس سے کسی کے پیسے واپس نہیں دیے جارہے، آپ کے پاس استطاعت ہے توآپ اس کی جگہ یہ قرض ادا کر دیں۔ خدا کی مخلوق کے ساتھ ایسی مخلصانہ نیکیوں پر خدا خوش ہو کر بہت بڑے اجر سے نوازتے ہیں۔

مومن خداکے بندوں پر خرچ کر کے سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس نے خدا کے ہاتھ میں رقم رکھ دی۔ وہ خدا اس رقم کو بہترین اجر میں بدل کرکل قیامت کے روز اسے واپس لوٹا دے گا۔ کل خدا کے سامنے سب مفلس بن کر پیش ہوں گے۔ جن لوگوں نے یہاں اپنی رقم خدا کے ہاتھ میں رکھ دی ہو گی، کل اس افلاس کی گھڑی میں ان کی یہ دی ہوئی رقم انھیں اجر کی صورت میں واپس کر دی جائے گی۔ جن دولت مندوں نے یہاں خدا کے لیے خدا کے بندوں پر خرچ ہی نہیں کیا یا خرچ تو کیا، مگر محض شہرت کے لیے کیا تو ایسے لوگ کل خسارے میں ہوں گے۔ خدا کے ہاں سے انھیں کل کچھ نہیں ملے گا، بلکہ ریاکاری کے جرم کی وجہ سے ایسے لوگ الٹا سزا کے مستحق بن جائیں گے۔

____________

۱۔ مسند بزار، رقم۶۹۴۷۔'الْخَلْقُ عِیَالُ اللہ، وَأَحَبُّہُمْ إِلَی اللہ أَنْفَعُہُمْ لعیالہ'۔

۲۔ البیان، جاوید احمد غامدی۲/۳۶۱-۳۶۲۔