خورشید احمد گیلانی کا سانحۂ ارتحال


دریغا ! کہ وہ شخص رخصت ہو گیا جس نے تمام عمر اخلاص و محبت اور خلق و وفا کو شعارِ زندگی بنائے رکھا۔اسے نہ کبھی ستایشِ زمانہ کی طلب رہی اور نہ اس نے کبھی قدر ناشناسیِ عالم کا گلہ کیا۔ وہ اس کی پروا کیے بغیر کہ زمانہ کیا کہے گا، اپنا سوزِ دل زبان پر لاتا رہا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ: یہ دور اہلِ محبت کو سازگار نہیں اس نے لوگوں سے جلوت میں بھی محبت کی اور خلوت میں بھی۔وہ اصلاح کا تمنائی اور تعمیر کا طلب گار تھا۔ وہ ہمیشہ اسی جستجو میں رہا کہ اپنے ہم قوموں میں باہمی رنجشوں کو دور کرڈالے۔وہ چاہتا تھا کہ اس خطۂ ارضی کے باسی مایوسی کی کیفیت سے نکلیں اور تخریبی طرزِ عمل کے بجائے تعمیر و ترقی کا اسلوب اپنائیں۔ اس کی آرزو تھی کہ اس کی قوم کی قیادت قابل اورصالح رہنماؤں کے ہاتھوں میں آجائے۔ وہ اکثر یہ خواب دیکھا کرتا کہ مذہبی رہنما علمی اختلافات کو نفرتوں کا سبب نہ بنائیں۔ ان تمناؤں اور آرزوؤں کو پانے کے لیے اس نے اپنی زبانِ خوش گفتارکوزندگی کے آخری لمحے تک مصروفِ نوا رکھا۔ اس کی نواے پُر سوز اب سنائی دینا بند ہوگئی ہے ۔ شاید اسی لیے ہر صاحبِ ذوق کی زبان پریہ نوحۂ غم جاری ہے کہ :

خاموش ہو گیا ہے چمن بولتا ہوا

______

صاحب زادہ خورشید احمد صاحب گیلانی۱۹۵۶ء میں شکار پور (راجن پور ) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۷۶ ء میں لاہور منتقل ہو گئے۔ پچھلے ماہ انھوں نے نہ صرف شہرِ لاہور ،بلکہ اس دنیا کو بھی ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔اس صدی میں مولانا عبدالرحمن نگرامی اور جناب سراج منیر کے بعد عالمِ شباب میں کسی سحر آفرین شخصیت کی موت کا یہ تیسرا بڑا حادثہ ہے۔مولانا نگرامی چھتیس سینتیس سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کے بارے میں سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ:''دارالعلوم ندوہ نے اپنی تیس برس کی مدت میں جتنے کارآمد اور علمِ دین کے خادم پیدا کیے، یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ عبدالرحمن ان سب سے بہتر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ذات میں علم و عمل کی ساری خوبیاں پیدا کر دی تھیں۔''ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی کے بقول: ''ہمارے استاد زبردست ادیب، شعلہ بیان خطیب اور ایک بے مثل شاعر تھے۔''جناب سراج منیر کی وفات بھی جواں عمری ہی میں ہوئی، وہ بھی علم و ادب کی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ یہی معاملہ خورشید احمد گیلانی کا ہے۔ زندگی کے صرف پینتالیس سال گزارنے کے بعدوہ رخصت ہو گئے۔

خورشید احمد گیلانی رجالِ امت کے اس گروہ سے تعلق رکھتے تھے جواس صدی میں احیاے امت کا خواب دیکھتا رہا ہے۔ وہ تصوف کی طرف بھی مائل تھے اور مذہبی مسلک کے لحاظ سے بھی خاص مکتبِ فکر سے وابستہ تھے۔ اس سب کچھ کے باوجود نہ انھوں نے اپنی بات کو کبھی حق کی حتمی حجت قرار دیا، نہ اپنے نقطۂ نظر کا کوئی حصار قائم کیا اور نہ فرقہ بندی اور تنگ نظری کی آلایشوں کو اپنے قریب پھٹکنے دیا۔ ان کے یہ الفاظ ان کی شخصیت کی پوری طرح عکاسی کرتے ہیں:

''راقم ان لوگوں میں شامل ہے جسے کبھی بھی کوئی گروہی سوچ مسحور نہیں کر سکی، کسی جماعت اور گروہ کا سربراہ کہلانے سے زیادہ اسے اس میں فخر اور لطف محسوس ہوتا ہے کہ وہ امتِ محمدیہ کا ایک ادنیٰ فرد ہے، اس لیے کہ ہر گروہ کی نسبت زیادہ سے زیادہ کسی امام، فقیہ، مفتی ، صوفی اور لیڈر سے ہے ، جبکہ امت کی نسبت حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ کسی کا دماغ چل گیا ہے کہ وہ اس نسبت کو ترک کر دے، کیونکہ یہی نسبت اگلے جہان کے لیے بھی وسیلۂ نجات ہے۔'' (وحدتِ ملی، ص ۴)

اللہ تعالیٰ نے انھیں خطابت اور تحریر کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی تحریریں صحتِ زبان اور حسنِ بیان دونوں کا خوبصورت مرقع ہیں۔موجودہ زمانے میں اہلِ تصنیف کا یہ المیہ ہے کہ وہ جلد اور زیادہ لکھنے کے شوق میں زبان کی صحت اور اسلوب کی خوبصورتی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے۔ خورشید گیلانی صاحب کا معاملہ یہ نہیں تھا ۔ ان کی تحریروں سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لفظ لفظ پر رکے ہوں گے ، بار بار لغت کی مراجعت کی ہو گی اور مضمون مکمل کرنے کے بعد اسے بار ہا پڑھا ہو گا۔ ان کی لافانی تحریر کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیے:

''اختلاف فی الاصل کوئی بری بات نہیں، تاآنکہ وہ افتراق کی حدوں کو نہ چھونے پائے۔ اختلاف رنگ میں ہوتا ہے، نسل اور زبان میں ہوتا ہے، ذوقِ لباس و طعام میں ہوتا ہے، عادات و اطوار میں ہوتا ہے، غرضیکہ کوئی انسان دوسرے انسان سے کلیتہً ہم رنگ و ہم آہنگ نہیں ہوتا اور کسی سے اس کی توقع رکھنا بھی تقاضائے فطرت کے منافی ہے۔ بایں ہمہ اسی اختلافِ رنگ و بو سے گلشنِ حیات کی زینت و رونق ہے۔ کچھ ایسا ہی تعبیر و تشریح کا اختلاف دو یا دو سے زیادہ مکاتبِ فکر میں ہوسکتا ہے اور فی الواقع ہوتا ہے، مگر وہ اپنے حدود میں رہ کر باعثِ رحمت بنتا ہے، کیونکہ اسی اختلافِ فکر و نظر سے اجتہاد کا ذوق پیدا ہوتا ہے، مذاقِ سلیم کی آبیاری ہوتی ہے، مادۂ تحقیق بڑھتا ہے، زاویۂ نظر وسیع ہوتا ہے، فکر کا افق بلند ہوتا ہے اور یوں پیداواری اور تخلیقی صلاحیتیں اپنے جوہر دکھانے کے قابل بنتی ہیں۔ اگر یہ ذرا سا اختلاف بھی نہ ہو تو پوری انسانی دنیا خود کلامی کی مریض بن کر رہ جائے اور اکتشاف و انکشاف اور اکتساب و احتساب کی دولت سے محروم ہو جائے۔''(وحدتِ ملی، ص۶۱)

الفاظ کی جادو گری میں انھیں ملکہ حاصل تھا۔اس کی ایک خوب صورت مثال یہ اقتباس ہے:

''نہ جانے وہ اللہ والے کون سی بستی کے رہنے والے تھے جو اپنے قاتل کو دودھ کا پیالہ پیش کرتے تھے، جو راہ میں کانٹے بچھانے والوں کوتحفے میں پھول بھیجا کرتے تھے، دشمن کو دشمن نہیں، نادان سمجھ کردست بدعا ہو جاتے تھے، مخالف کی بری بات سن کر اپنی زبان کی سلامتی کی فکر کرتے تھے، مدِمقابل کی پیشانی پر شکن دیکھ کر اس کے دل کی گرہ کھولنے کا جتن کرتے تھے، کوئی جاہل مخاطب ہوتا تھا تو 'قالوا سلاماً' کہہ کر ایک طرف ہو جاتے تھے، کسی گم کردہ راہ سے واسطہ پڑتا تو اس سے بگڑتے، نہ اس پر بپھرتے، بس ہدایت کی تلقین کرتے۔ معلوم نہیں وہ لوگ کہاں گئے جن کے جذبۂ ایمان کے سامنے تاتاریوں کا جنگی مان ٹوٹ گیا، جن کا چہرہ دیکھ کر ملحدوں کو خدا یاد آ جاتا تھا، جن کا اندازِ کرم وحشیوں کو روشِ ستم بھلا دیتا تھا۔ آج بھی اسی بستی کو ڈھونڈا جائے، ایسے لوگوں کا کھوج لگایا جائے، ورنہ آج کے ''لیڈروں'' کا چہرہ بے مہر ہو چکا ہے، ان کی قیادت، قیامت ڈھا رہی ہے، ان کے نعرے دن میں تارے دکھا رہے ہیں ، ان کی سوچ، بہت پوچ ہوتی جا رہی ہے، ناک اونچی رکھنے کے چکر میں امت کی ناک کٹ رہی ہے، ان کا قد بڑھانے کا شوق امت کے گلے کا طوق بن گیا ہے، ان کا ذوقِ خودنمائی قوم کے لیے باعثِ رسوائی ہو گیا ہے، آج کا میرِ کارواں خوئے دل نوازی سے محروم ہے، اور آج کے قافلہ سالار سے امت بے زار ہے۔''(وحدتِ ملی، ص۹۳)

یہاں دیکھیے کہ انھوں نے معانی کے تضاد اور ہم آہنگ الفاظ سے کیاخوب شاعری کی ہے۔ 'قاتل کے لیے دودھ کا پیالہ '، 'کانٹے بچھانے والے کے لیے پھول'، 'دشمن کے لیے دعا'، اسی طرح 'ملحدوں کو خدا یاد آنا '، اندازِ کرم سے روشِ ستم بھول جانا'، 'قیادت کا قیامت ڈھانا'، 'نعرے کا تارے دکھلانا'، 'سوچ کا پوچ ہونا'، 'شوق کا طوق ہونا'، 'خود نمائی کا رسوائی ہونا' اور 'سالار سے بے زار ہونا' کے اسالیب میں انھوں نے اپنے احساسات اور جذبات کوکس خوبی اور کس بے ساختگی سے ظاہر کیا ہے۔ اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں:

''کتاب لکھنے کے لیے جس علم، قلم ، اسلوب اور طریقے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ میرے ہاں نہیں، البتہ اظہارِ جذبات کے لیے جو درد، کرب اور بے ساختگی مطلوب ہے، اس سے اپنا دامنِ دل کبھی خالی نہیں رہا، اور یہ متاع کچھ کم بے بہا نہیں۔''(روحِ انقلاب، ص۳)

وہ صاحبِ طرز ادیب تھے۔ ان کی تحریر کا ایک منفرد اسلوب تھا۔ یہ اسلوب شیرینیِ زبان، زجر و توبیخ، طنز وتعریض ، سلاست و روانی اوراندازِ خطابت کی جملہ خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ان کی تحریر پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے کوئی شعلہ بیان خطیب آپ کے سامنے بیٹھا ہے اور گرمیِ گفتار سے آپ کے دماغ کو جھنجوڑ رہا ہے اور دل کو گرما رہا ہے۔ فرقہ پرستی کے رویے پر تنقیدکرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں:

''اگر فرقہ پرستی اس لیے ناگزیر ہے کہ وہ امرِ واقعہ کے طور پر موجود ہے تو اس کے ہم بھی قائل ہیں، لیکن ہر چیز کا وقوع و وجود اس کے حسن و جواز کی دلیل ہرگز نہیں، وجود برائی کا بھی مسلمہ ہے، برائی کے وجود کا مسلمہ ہونا برائی کو نیکی میں نہیں بدل دیتا، اسی طرح فرقہ پرستی موجود ہے، یہ امرِ واقعہ ہے، دنیا اس کا شکار ہے، کئی سو سال سے چلی آ رہی ہے، لیکن ہماری نظر میں یہ برائی ہے، کلنک کا ٹیکہ ہے، امت کے دامن پر بدنما دھبہ ہے، جسدِ ملت میں رستا ہوا ناسور ہے، استعمار کی سازش ہے، حکمِ خدا و رسول کی صریح خلاف ورزی ہے، امت کے حق میں زہرِ قاتل ہے، ضمیرِ مسلم پر بھاری بوجھ ہے، اچھے معاشرے کے گلے کی پھانس ہے،اسلامی انقلاب کے راستے کا روڑا ہے، کینہ پروروں اور نفرت کے پجاریوں کی پناہ گاہ ہے، دورِ ملوکیت کا فتنہ ہے، 'انما المومنون اخوۃ' جیسے فرمانِ الٰہی پر شدید ترین حملہ ہے، ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔'' (وحدتِ ملی، ص ۵۳)

وہ بنیادی طور پر شعبۂ صحافت سے متعلق تھے۔حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اس شعبے میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خان کی قائم کردہ روایات کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا۔اس شعبے میں ان کے اصل مخاطب مسلمانانِ پاکستان تھے ۔ وہ ان کی غلطیوں پر براہِ راست اور بے کم کاست تنقید کرتے تھے :

''پینتالیس برس کوئی معمولی عمر نہیں ہماری آزادی کی، ہمارے ملک کی اور خود ہماری قوم کی، قانونِ فطرت کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آدمی پختہ کار ہوتا ہے، مگر ہم عہدِ طفولیت سے باہر نہیں نکل سکے۔ اس عمر میں آدمی سنجیدہ ہو جاتا ہے اور ہم روز بروز کھلنڈرے ہوتے جا رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان نفع و نقصان کی تمیز سیکھ جاتا ہے، مگر ہم ہر لمحے سود و زیاں سے بے خبر اور بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں۔ آج سے پچاس سال پہلے ہم یا ہمارے بڑے ایسے ہرگز نہیں تھے۔ ہمیں یا ہمارے بزرگوں کو کامل شعور تھا کہ ذاتی اور قومی مفاد کی کیاحدیں ہیں؟ ہمارا اصل دشمن کون ہے؟ ہماری ترقی کا راز کس چیز میں پنہاں ہے؟ زمانے کی ہوااپنے دوش پر کیا پیغام لیے پھرتی ہے؟ زمانے میں پنپنے کا گر کیا ہے؟ملی تشخص کی کیا قدروقیمت ہے؟ اور آج ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمارے سامنے کیا ہو رہا ہے؟ اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔سیاست نیلام گھر، معیشت کالا دھندا، معاشرت دھماچوکڑی اور منبر و محراب میدانِ جنگ بن کر رہ گئے ہیں۔''(وحدتِ ملی، ص۷۵)

''فکرِ امروز'' میں لکھتے ہیں:

''ہم سیاسی پولرائزیشن اور مذہی فرقہ بندی کی مذمت شدید الفاظ میں کرتے ہیں، مگر رونق ہمیشہ اس جلسے کی بڑھاتے ہیں جہاں سب سے بڑا سیاسی پھکّڑ باز اور فرقہ پرست مولوی تقریر کرنے والا ہو جو قبائے سیاست کی دھجیاں ادھیڑ اور آئینۂ مذہب کی کرچیاں بکھیر کر رکھ دے۔'' (ص ۲۰۷)

ایک اور مقام دیکھیے:

''جب مظاہرہ اور جلوس ختم ہوتا ہے تو باہر نکل کر آدمی یوں محسوس کرتا ہے کہ یہاں سے کوئی سیاسی لیڈر اپنا جلوس لے کر نہیں گزرا ، بلکہ بھوت بلاؤں کا ایک غول تھا جو یہاں سے ہو کر گیا، کیونکہ سڑک پر ٹائروں کا دھواں، روڑے ، پتھر اور اینٹ کا انبار، کاروں، ٹریفک سگنلز، سائن بورڈ کے شیشوں کی کرچیاں، ٹوٹی پھوٹی سائیکلیں، الٹی ہوئی ریڑھیاں نظر پڑتی ہیں۔ کوئی شخص جی کڑا کر کے سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر مظاہرے اور جلوس کا منظر دیکھے اور نعروں کی زبان سنے تو گویا وہ جلوس نہیں ، قوم کے اخلاق کا ''فلوس ''نکلا ہوتا ہے۔''(فکرِ امروز ، ص ۱۲۳)

معاشرے کی حالتِ زار کا یہ نوحہ بھی پڑھ لیجیے:

''جس معاشرے کی مسجد اور بازار میں ایک ہی زبان استعمال ہوتی ہو، یعنی گالی کی زبان، جس کی منڈی میں ملنے والی ہر چیز ملاوٹ زدہ ہو حتیٰ کہ جان بچانے والی دوائیں بھی! جس سوسائٹی میں قانون کانا ہو، ایک طرف سے آنکھ بند رکھتا ہو، جہاں عدل کی ترازو زور اور زر سے جھکائی جاتی ہو، جس جگہ باڑھ، کھیت چرنے کا شغل فرماتی ہو، جو دور اپنے دامن سے شریفوں کو جھٹکا دے کر باہر پھینک دیتا اور رزیلوں کو کنگرو کے بچے کی طرح اپنے سینے میں سموئے رکھتا ہو، جس عہد میں انسان کے خون اور نالی کے پانی میں تمیز نہ رہ گئی ہو، شہر و دیہات میں نوکِ زبان نوکِ شمشیر بن گئی ہو، جہاں ہر نظر دوسرے کے لیے تیر کی انی ہو کر رہ گئی ہو، آنکھیں شعلہ بار اور ہاتھ دستِ قضا بن گئے ہوں، تکلف برطرف، ایسے معاشرے کو رستا ہوا ناسور کہنے میں کیا حرج ہے؟'' (فکرِ امروز، ص ۱۶۸)

خورشید گیلانی مغرب اور تہذیبِ مغرب کے شدید مخالف تھے، مگر وہ اس مخالفت کے ساتھ ساتھ نہایت حقیقت پسند بھی تھے ۔ عام روش کے برعکس وہ امت کو اس خود کشی کا درس نہیں دیتے کہ وہ نتائج سے بے پروا ہو کر تلوار اٹھائے اور مغرب پر پل پڑے۔ وہ مسلمانوں کو اس پر ابھارتے ہیں کہ وہ سیاست و معیشت ، علم و ہنراور تہذیب و تمدن کے میدانوں میں دنیا پر اپنی سبقت قائم کریں۔ ان کے نزدیک اس کے بغیر امت دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی۔ لکھتے ہیں:

''جب ہم خود کو اور دوسری اقوام بالخصوص یورپ اور امریکہ کی قوتوں کو میزانِ عمل میں تولتے ہیں تو بدقسمتی سے ہمارا پلڑا بہت اوپر اٹھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ہم صدرِ اول میں اتنے بے وزن تو نہیں تھے، بلکہ ہم تو اقوامِ عالم کے لیے معیارِ حق اور تہذیب کا درجہ رکھتے تھے، اگر ہم اپنے آپ سے استفسار کریں اور کچھ سوالوں کا جواب چاہیں تو نظر اوپر نہیں اٹھتی، بلکہ گریبان کی طرف جھکتی ہے کہ:

ہم انگریزوں کے مقروض ہیں یا وہ ہمارے قرض دار؟

ہم ان کی ثقافت سے مرعوب ہیں یا وہ ہماری تہذیب کے مقلد؟

ہم ان کے صنعت و حرفت میں محتاج ہیںیا وہ ہمارے دستِ نگر؟

ہم ان کے فیشن کے دل دادہ ہیں یا وہ ہمارے طرزِ تمدن کے شیدائی؟

ہماری تقدیر ان کے دامن سے وابستہ ہے یا ان کا مقدر ہمارے ہاتھوں میں ہے؟

ہم اپنا بجٹ ان کی امداد کے سہارے ترتیب دیتے ہیںیا ان کے بجٹ کا ہم پر دارومدار ہوتا ہے؟

ہم ان کے دیے ہوئے نظامِ سیاست کے اسیر ہیں یا وہ ہمارے پابندِ نظام؟

ہم ان کی شرائط پر ان سے معاملہ کرتے ہیں یا وہ ہماری شرائط پر معاہدے؟

ہمیں ان کی خوش نودی مطلوب رہتی ہے یا انھیں ہماری خوشی کا خیال رہتا ہے؟'' (فکرِ امروز ، ص ۱۵۳)

صاحب زادہ خورشید احمد گیلانی نے اخلاق و کردار کے لحاظ سے بہت صاف ستھری زندگی بسر کی۔ وہ اخلاقِ عالیہ کا بہت اچھا نمونہ تھے۔ جس سے بھی ملتے بہت مروت و محبت سے ملتے۔ اس سب کچھ کے باوجود وہ کسی جگہ بھی اس طرح سے قبول نہ کیے گئے کہ پھر وہیں کے ہو کر رہ جاتے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ جس بات کو صحیح سمجھتے تھے، اسے بے کم و کاست بیان کر دیتے تھے۔ تصنع اور بناوٹ کو اختیار کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے تھے۔ زبانِ حال سے ہمیشہ یہی کہتے ہوئے نظر آتے تھے کہ:

اسی خطا پہ گریزاں ہیں ہم سفر میرے

کہ میری طبعِ رواں مصلحت شناس نہیں

______

اس کی موت کا ظاہری سبب عارضۂ سرطان تھا، مگر اس کا داخلی سبب شاید لوگوں کی اصلاح کا غم تھا۔ اسے یہ غم تھا کہ اس کی قوم کے لوگ فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں؛ اسے یہ غم تھا کہ لوگ رواداری کے بجائے تعصب کی فضا کو پسند کرتے ہیں ؛ اسے یہ غم تھاکہ لوگ معمولی باتوں پرلڑنے مرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں؛ اسے یہ غم تھا کہ لوگوں کا خون ایک دوسرے کے لیے ارزاں ہو گیا ہے؛ اسے یہ غم تھا کہ اس کی قوم نے اپنے وجودِ اخلاقی پر موت کی کیفیت طاری کر لی ہے؛ اوراسے اس بات کا بھی غم تھا کہ اس کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جواس قوم میں خلق و محبت اور مہرو وفا کی موت کا رونا روئے۔ اسی لیے وہ یہ کہہ کر اس جہاں سے رخصت ہو گیا کہ:

غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی

کہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد

____________