خوش لباسی اور تکبر


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

—۱—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ''الْبَسُوْا، فِيْ غَیْرِ مَخِیْلَۃٍ وَلَا سَرَفٍ،۲ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ أَنْ تُرٰی نِعْمَتُہُ عَلٰی عَبْدِہِ''.

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا لباس پہنو، مگر اُس میں تکبر یا اسراف نہیں ہونا چاہیے، اِس لیے کہ اللہ اِس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس نے جو نعمت اپنے بندے کو دی ہے، وہ اُس پر نظر بھی آئے۱۔

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ لباس ، رہن سہن، دفتر، مکان، ہر چیز میں اُس رفاہیت اور خوش حالی کی جھلک ہوسکتی ہے، بلکہ ہونی چاہیے جس سے اللہ نے اپنے کسی بندے کو نوازا ہے۔ صوفیانہ مذاہب کے برخلاف دین حق میں اِسی طرز عمل کو پسند کیا گیا ہے، لیکن تکبر یا اسراف کے ساتھ نہیں، بلکہ خدا کے متواضع اور عاجز بندوں کے طریقے پر جو اُس کی گرفت سے ڈرتے اور غریبوں کے لیے سراپا شفقت رہتے ہیں۔سورۂ اعراف کی آیات ۳۱۔۳۲ میں قرآن نے اپنا یہ نقطۂ نظر پوری صراحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اُسی پر مبنی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۶۷۰۸سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے علاوہ یہ تعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ جن مصادر میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۷۷۔ مسند احمد، رقم۶۶۹۵۔ سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۰۵۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۵۵۹۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۲۳۵۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۱۸۸۔

۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۸۷۷میں یہاں 'مَا لَمْ یُخَالِطْہُ إِسْرَافٌ وَلَا مَخِیْلَۃٌ' ''جب تک اُس میں اسراف اور تکبر نہ در آئے'' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۶۰۵میں'مَا لَمْ یُخَالِطْہُ إِسْرَافٌ، أَوْ مَخِیْلَۃٌ' ''جب تک اُس میں اسراف یا تکبر کی آمیزش نہ ہو''کی تعبیر منقول ہے، جب کہ بعض روایات، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۵۵۹میں 'فِيْ غَیْرِ إِسْرَافٍ، وَلَا مَخِیْلَۃٍ' '' اُس میں اسراف اور تکبرنہیں ہونا چاہیے ''کے الفاظ آئے ہیں۔

—۲—

عَنْ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ الْجُشَمِيِّ، قَالَ:۱ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْہَیْءَۃِ،۲ فَقَالَ: ''ہَلْ لَکَ [مِنْ۳] مَالٍ؟''۴ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ''مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟''۵ قَالَ: قُلْتُ: مِنْ کُلِّ الْمَالِ مِنَ الْإِبِلِ وَالرَّقِیْقِ وَالْخَیْلِ وَالْغَنَمِ، فَقَالَ: ''إِذَا آتَاکَ اللّٰہُ مَالًا۶فَلْیُرَ عَلَیْکَ [أَثَرُ نِعْمَۃِ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ۷]''.۸

مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سخت بد حال تھا۔ آپ نے دیکھا تو فرمایا:کیا تمھارے پاس کچھ مال ہے؟میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ نے پوچھا:کیا مال ہے؟ میں نے عرض کیا:ہر طرح کا مال ہے، اونٹ بھی ہیں، غلام بھی، گھوڑے بھی اور بھیڑ بکریاں بھی۔ آپ نے فرمایا:جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو اُس کی اِس نعمت اورعنایت کا اثر تم پر نظر بھی آنا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۱۵۸۸۸سے لیا گیا ہے۔اِس واقعے کے باقی طرق الفاظ واسلوب کے کچھ فرق کے ساتھ جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم۲۰۵۱۳۔ مسند طیالسی، رقم ۱۳۹۹۔ مسند احمد، رقم۱۵۸۸۷، ۱۵۸۸۹، ۱۵۸۹۱، ۱۵۸۹۲، ۱۷۲۲۹، ۱۷۲۳۰، ۱۷۲۳۱۔ سنن ابی داود، رقم ۴۰۶۳۔ سنن ترمذی، رقم ۲۰۰۶۔السنن الکبریٰ،نسائی، رقم۹۴۸۴، ۹۴۸۵، ۹۴۸۶۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۲۲۳، ۵۲۲۴، ۵۲۹۴۔ صحیح ابن حبان، رقم۵۴۱۶، ۵۴۱۷۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۷۰۲، ۳۶۵۳۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۴۸۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۶۰۷، ۶۰۸، ۶۰۹، ۶۱۶، ۶۱۷، ۶۱۸، ۶۲۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۶۵۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۹۷۱۰۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم۴۲۴۹، ۵۷۸۷،۷۷۱۹۔

۲۔بعض طرق، مثلاً سنن ابی داود، رقم ۴۰۶۳میں یہاں یہ الفاظ منقول ہیں: 'أَتَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ ثَوْبٍ دُوْنٍ'۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۱۵۸۸۷میں ہے: 'رَآنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ أَطْمَارٌ'۔ بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۱۷۲۳۱میں یہاں یہ الفاظ ہیں: 'فَرَآنِيْ رَثَّ الثِّیَابِ'۔ بعض روایات ، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۲۹۴ میں ہے: 'فَرَآنِيْ سَيِّءَ الْہَیْئَۃِ'۔ یہ سب کم وبیش ایک ہی معنی کی تعبیرات ہیں۔

۳۔مسند احمد، رقم ۱۵۸۸۹۔

۴۔ مسند احمد، رقم ۱۵۸۹۲میں آپ کا یہ سوال اِس اسلوب میں منقول ہے: 'أَمَا لَکَ مَالٌ؟''' کیا تم صاحب مال نہیں ہو؟''۔

۵۔ مسند احمد، رقم ۱۵۸۹۱میں یہاں 'فَمَا مَالُکَ؟'''تو تمھارے پاس کیا مال ہے؟'' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔

۶۔ مسند احمد، رقم۱۵۸۸۹میں یہاں'مَالًا' کے بجاے 'خَیْرًا'کا لفظ ہے۔عربی زبان میں مال کے لیے یہ لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

۷۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۲۲۴۔

۸۔بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۱۵۸۹۲میں یہاں آپ کا آخری ارشاد ان الفاظ میں روایت ہوا ہے:'فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ، إِذَا أَنْعَمَ عَلٰی عَبْدٍ نِعْمَۃً أَحَبَّ أَنْ تُرٰی عَلَیْہِ' ''اللہ تعالیٰ جب بندے کو کسی نعمت سے نوازتا ہے تواِس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ نعمت اُس پر نظر بھی آئے''۔

—۳—

حَدَّثَ أَبُوْ رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ قَالَ:۱ خَرَجَ عَلَیْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ وَعَلَیْہِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَہُ عَلَیْہِ قَبْلَ ذٰلِکَ وَلَا بَعْدَہُ، [فقلنا: یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، تَلْبَسُ ہٰذَا؟۲]، فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَنْ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ نِعْمَۃً، فَإِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ أَنْ یُرٰی أَثَرُ نِعْمَتِہِ عَلٰی خَلْقِہِ''.۳

ابورجا عطاردی نے بیان کیا ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گھر سے نکل کر ہمارے پاس آئے تو اُنھوں نے بڑے بڑے نقش ونگار والی ریشم کی چادر پہنی ہوئی تھی ۔ اِس طرح کی چادر نہ ہم نے اِس سے پہلے کبھی اُنھیں پہنے ہوئے دیکھا تھا، نہ بعد میں کبھی دیکھا۔ہم نے کہا:اے صحابی رسول، آپ یہ چادر پہنتے ہیں؟ اُنھوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ نے جس کو کوئی نعمت دی ہو،اُسے استعمال کرنی چاہیے، اِس لیے کہ اللہ اِس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس کی نعمت کا اثر اُس کی مخلوق پر نظر بھی آئے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۱۹۹۳۴سے لیا گیا ہے۔ تعبیر کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے باقی طرق جن مصادر میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں:مسند رویانی، رقم۹۱۔ المعجم الکبیر،طبرانی، رقم۲۸۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۶۰۹۳۔شعب الایمان، بیہقی، رقم۵۷۸۹۔

اِس مضمون کے شواہدعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنن ترمذی، رقم ۲۸۱۹میں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اخبار اصبہان، ابو نعیم، رقم ۲۰۲میں اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مسند شہاب، قضاعی، رقم ۱۰۹۹میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں۔

۲۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۶۰۹۳۔

۳۔ مسند رویانی ، رقم۹۱ میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہی سے آپ کا یہ ارشاد اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے: 'إنَّ اللّٰہَ إِذَا أَنْعَمَ عَلٰی قَوْمٍ أَحَبَّ أَنْ یَرٰی أَثَرَ نِعْمَتِہِ عَلَیْہِمْ' ''اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو نعمت سے نوازتا ہے تو اِس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس کی نعمت کا اثر اُن پر نظر بھی آئے''۔

—۴—

قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ۱: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُوْرِیَّۃُ اجْتَمَعُوْا فِيْ دَارٍ، وَہُمْ سِتَّۃُ آلَافٍ، أَتَیْتُ عَلِیًّا، فَقُلْتُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، أَبْرِدْ بِالظُّہْرِ، لَعَلِّيْ آتِيْ ہٰؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُکَلِّمُہُمْ. قَالَ: إِنِّيْ أَخَافُ عَلَیْکَ. قُلْتُ: کَلَّا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجْتُ إِلَیْہِمْ، وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا یَکُوْنُ مِنْ حُلَلِ الْیَمَنِ، قَالَ أَبُوْ زُمَیْلٍ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَمِیْلًا جَہِیْرًا.قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَیْتُہُمْ، وَہُمْ مُجْتَمِعُوْنَ فِيْ دَارِہِمْ قَاءِلُوْنَ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِمْ، فَقَالُوْا: مَرْحَبًا بِکَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! فَمَا ہٰذِہِ الْحُلَّۃُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِیْبُوْنَ عَلَيَّ، لَقَدْ رَأَیْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا یَکُوْنُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ: (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ) الآیۃ [الأعراف: ۳۲].

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب حروریہ۱ نے خروج کیا تووہ سب ایک احاطے میں جمع تھے۔ اُن کی تعداد اُس وقت چھ ہزارتھی ۔میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے عرض کیا: امیر المومنین، ظہر کی نماز ذرا ٹھنڈے وقت میں پڑھ لیجیے گا تا کہ میں اِن لوگوں کے پاس جاؤں اور اِن سے بات کروں۔آپ نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔میں نے کہا: ہرگز نہیں۔ابن عباس کا بیان ہے کہ وہاں سے نکل کر میں اُن کی طرف گیاتو میں نے یمن کا بہترین لباس پہنا ہوا تھا۔ابوزمیل کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بڑے خوب صورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ چنانچہ میں اُن کے پاس پہنچا تو وہ اپنے اُس احاطے میں جمع ہوکر قیلولہ کر رہے تھے۔میں نے اُنھیں سلام کیا تو اُنھوں نے میرا خیر مقدم کیا اور چھوٹتے ہی پوچھا :یہ شان دار لباس؟ میں نے کہا: مجھ پر کیا طعن کر رہے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین سے بہترین لباس پہنے ہوئے دیکھا ہے اورقرآن میں بھی نازل ہوچکا ہے کہ اِن سے پوچھو ، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کردیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟

________

۱۔ اِس سے خوارج مراد ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کے موقع پر وہ پہلی مرتبہ کوفہ کے قریب ایک بستی 'حروراء' میں جمع ہوئے تھے۔ اُن کے لیے یہ لفظ اِسی مناسبت سے استعمال ہوتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مستدرک حاکم، رقم۲۶۵۶سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ اِسے اِن مصادر میں بھی دیکھ لیا جاسکتا ہے: سنن ابی داود، رقم ۴۰۳۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۶۷۴۰۔ جامع بیان العلم وفضلہ، ابن عبد البر، رقم ۱۸۳۴۔

—۵—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ۱: ''لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ'' قَالَ رَجُلٌ:۲ [یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۳]، إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُوْنَ ثَوْبُہُ حَسَنًا، وَنَعْلُہُ حَسَنَۃً،۴ قَالَ: ''إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ''.۵

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا ، وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ایک شخص نے یہ سنا تو پوچھا:یا رسول اللہ، آدمی پسند کرتا ہے کہ اُس کا لباس اچھا ہو، اُس کا جوتا اچھا ہو؟ آپ نے فرمایا: اللہ سراسر حسن ہے اور حسن و خوب صورتی کو پسند کرتا ہے، (اِن میں سے کوئی چیز بھی تکبر نہیں ہے)، تکبر تو یہ ہے کہ آدمی حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرے اور دوسروں کو حقیر سمجھے۱۔

________

۱۔تکبر کی حقیقت اپنی بڑائی کا احساس ہے۔یہ حد سے بڑھ جائے تو اِس کا ظہور اصلاً اِنھی دو صورتوں میں ہوتا ہے۔وضع قطع اور طرز عمل کے دوسرے تمام متکبرانہ رویے آگے پھر اِنھی سے پیدا ہوجاتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۹۱سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس متن کے دوسرے طرق اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:سنن ترمذی، رقم ۱۹۹۹۔ توحید، ابن خزیمہ،رقم۶۰۹۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۸۵۔ مساوی الاخلاق، خرائطی، رقم۵۶۰۔ مسند شاشی، رقم ۳۲۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۶۶۔ کتاب الایمان، ابن مندہ، رقم۵۴۰۔کتاب التوحید، ابن مندہ، رقم ۲۴۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۳۶۵۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۵۷۸۲۔

۲۔ یہ شخص کون تھا؟ اِس کی تعیین میں اہل علم کے ما بین اختلاف ہے۔ قاضی عیاض اور امام نووی کی راے میں اِس سے مراد مالک بن مُرارہ رَہاوی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا ذکر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اگلی روایت میں آرہا ہے۔ حافظ ابن حجر کی راے ہے کہ اِس سے مراد سَواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ ہیں جن کے اپنے ایک واقعے کی تخریج اگلے متن کے حواشی میں دیکھ لی جاسکتی ہے۔اِس باب میں شارحین کے کچھ اور اقوال بھی مذکور ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: أبو الفضل عیاض بن موسٰی بن الیحصبي، إکمَال المعلم بفوائد مسلم، تحقیق: الدکتور یَحْیٰی إِسْمَاعِیل، (مصر: دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع، ط۱، ۱۴۱۹ہ/۱۹۹۸م)، ج۱، ص۳۵۹، رقم۱۴۷۔ وأبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووي، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، (بیروت: دار إحیاء التراث العربي، ط۲، ۱۳۹۲ہ)، ج۲، ص۹۲، رقم ۱۴۷۔ وأحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني، فتح الباري شرح صحیح البخاري، (بیروت: دار المعرفۃ، د.ط، ۱۳۷۹ہ)، ج۱۰، ص۲۶۰، رقم ۵۷۸۸۔

۳۔ مستخرج ا بی عوانہ، رقم۸۵۔

۴۔ بعض طرق، مثلاً سنن ترمذی، رقم۱۹۹۹ میں اِس شخص کا یہ جملہ متکلم کے صیغے میں اور اِس طرح روایت ہوا ہے: 'إِنَّہُ یُعْجِبُنِيْ أَنْ یَکُوْنَ ثَوْبِيْ حَسَنًا، وَنَعْلِيْ حَسَنَۃً' ''مجھے یہ چیز خوش آتی ہے کہ میرا لباس اچھا ہو، میرا جوتا اچھا ہو''۔

۵۔ بعض طرق، مثلاً مسند شاشی، رقم ۳۲۷میں اِس شخص کا یہ سوال اور آپ کا جواب اِن الفاظ میں منقول ہے: 'إِنِّيْ رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ حَتّٰی فِيْ عَلَاقَۃِ سَوْطِيْ وَشِرَاکِ نَعْلِيْ؟ قَالَ: لَیْسَ الْکِبْرُ ذَاکَ، وَلَکِنَّ الْکِبْرَ مَنْ سَفِہَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ أَوْ غَمَطَ النَّاسَ' ''میں ایک ایسا شخص ہوں جسے خوب صورتی اِس درجے محبوب ہے کہ چابک لٹکانے کے فیتے اور جوتوں کے تسمے میں بھی میں اِس کا خیال رکھتا ہوں، (یا رسول اللہ، کیا یہ تکبر ہے؟)۔آپ نے فرمایا:یہ تکبر نہیں ہے۔تکبر تو یہ ہے کہ آدمی حق کے مقابلے میں جہالت دکھائے اور دوسروں کو حقیر سمجھے''۔

—۶—

قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ:۱ کُنْتُ لَا أُحْبَسُ۲ عَنْ ثَلَاثٍ:۳ عَنِ النَّجْوٰی، عَنْ کَذَا، وَعَنْ کَذَا، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، وَعِنْدَہُ مَالِکُ بْنُ مُرَارَۃَ الرَّہَاوِيُّ، قَالَ: فَأَدْرَکْتُ مِنْ آخِرِ حَدِیْثِہِ، وَہُوَ یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنِّيْ رَجُلٌ قَدْ قُسِمَ لِيْ مِنَ الْجَمَالِ مَا تَرٰی، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِيْ بِشِرَاکَیْنِ، فَمَا فَوْقَہُمَا، أَفَلَیْسَ ذٰلِکَ ہُوَ الْبَغْيَ؟ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَیْسَ ذٰلِکَ بِالْبَغْيِ، وَلَکِنَّ الْبَغْيَ مَنْ سَفِہَ الْحَقَّ، أَوْ بَطِرَ الْحَقَّ، وَغَمَطَ النَّاسَ''.

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے تین چیزوں سے روکا نہیں جاتا تھا :سرگوشی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آنے سے اور فلاں اور فلاں چیز سے۔چنانچہ ایک دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مالک بن مرارہ رہاوی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں پہنچا تو اپنی بات کے آخر میں وہ کہہ رہے تھے:یا رسول اللہ، میں وہ شخص ہوں کہ اللہ نے جو حسن وجمال مجھے عطا فرمایا ہے، وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں، لہٰذا میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اِس میں مجھ سے دوچار تسمے بھی آگے بڑھے تو کیا یہی تکبر اور سرکشی نہیں ہے؟آپ نے فرمایا:نہیں، یہ تکبر نہیں ہے۔تکبر تو یہ ہے کہ آدمی حق کے مقابلے میں جہالت دکھائے یا فرمایا کہ سرکشی اختیارکر لے اور دوسروں کو حقیر سمجھے۱۔

________

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب سوال کے لحاظ سے ہے، ورنہ مالک بن مرارہ نے اپنا جو رویہ بیان کیا ہے، وہ بھی بظاہر کچھ مستحسن معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم آپ نے اُس پر کوئی تبصرہ کرنا اِس موقع پر پسند نہیں فرمایا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۴۰۵۸سے لیا گیا ہے۔متن کے معمولی اختلاف کے ساتھ اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۳۶۴۴۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۲۹۱۔ مسند شاشی، رقم ۸۴۹۔ مستدرک حاکم، رقم ۷۳۶۷۔

اِس کے شواہد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس کے جو طرق روایت ہوئے ہیں، اُن کے مراجع یہ ہیں:الادب المفرد، بخاری، رقم۵۵۶۔سنن ابی داود، رقم۴۰۹۲۔صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۶۷۔شعب الایمان، بیہقی، رقم ۵۷۸۳، جب کہ سواد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ خود بیان کیا ہے۔اُس کے متابعات اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں:کتاب الزہد، ہنَّاد، رقم۸۲۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۶۴۷۷، ۶۴۷۹۔معرفۃالصحابہ، ابو نعیم، رقم ۳۵۵۶۔

۲۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۳۶۴۴میں یہاں 'أُحْبَسُ' کے بجاے 'أُحْجَبُ'کا لفظ آیا ہے۔دونوں کا مدعا ایک ہی ہے۔

۳۔ یہاں اِس طریق کے ایک راوی عبد اللہ بن عون مزنی کہتے ہیں کہ اِن تین باتوں میں سے ایک میرے شیخ عمرو بن سعید بھول گئے تھے اور ایک میں بھول گیا ہوں۔ چنانچہ اِن میں سے یہی ایک بات محفوظ رہ سکی ہے۔ ابن عون کے الفاظ یہ ہیں:'قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَنَسِيَ عَمْرٌو وَاحِدَۃً، وَنَسِیْتُ أَنَا أُخْرٰی، وَبَقِیَتْ ہٰذِہِ'۔

—۷—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:۱ [قَالَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِّنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ:]۲ ''أَنْہَاکَ عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ''، قَالَ: قُلْتُ أَوْ قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ہٰذَا الشِّرْکُ قَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: الْکِبْرُ أَنْ یَّکُوْنَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَہُمَا شِرَاکَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: ''لَا''، قَالَ: ہُوَ أَنْ یَّکُوْنَ لِأَحَدِنَا حُلَّۃٌ یَلْبَسُہَا؟ قَالَ: ''لَا''، قَالَ: الْکِبْرُ ہُوَ أَنْ یَّکُوْنَ لِأَحَدِنَا دَابَّۃٌ یَرْکَبُہَا؟ قَالَ: ''لَا''، قَالَ: أَفَہُوَ أَنْ یَّکُوْنَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ یَجْلِسُوْنَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: ''لَا''، قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: ''سَفَہُ الْحَقِّ، وَغَمْصُ النَّاسِ''.

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بدو سے کہا کہ میں تجھے شرک سے اور تکبر سے منع کرتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یاکسی اور نے عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ شرک تو ہم سمجھ گئے ، لیکن تکبر کیا ہے؟ کیا یہ تکبر ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھے جوتے ہوں جن کے خوب صورت تسمے ہوں؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔عرض کیا:کیا یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس نیا جوڑا ہو جسے وہ زیب تن کرے ؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔عرض کیا:پھر کیا تکبریہ ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس کوئی عمدہ جانور ہو جس پر وہ سواری کرے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔عرض کیا:پھر کیا یہ ہے کہ اُس کے دوست ہوں جن کے ساتھ وہ مجلس آرائی کرے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔ پوچھا گیا:پھر تکبر کیا ہے، یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا:حق کے مقابلے میں جہالت دکھانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۶۵۸۳سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس طریق کے علاوہ اِس کو الادب المفرد، بخاری، رقم ۵۴۸میں بھی دیکھ لیا جاسکتا ہے۔

مستدرک حاکم، رقم ۷۰میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ اِس طرح بیان کرتے ہیں:'قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمِنَ الْکِبْرِ أَنْ أَلْبَسَ الْحُلَّۃَ الْحَسَنَۃَ؟ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ'' ' ''میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا یہ تکبر ہے کہ میں عمدہ لباس پہنوں؟ آپ نے فرمایا: اللہ سراسر حسن ہے اور حسن و خوب صورتی کو پسند کرتا ہے، (یہ تکبر نہیں ہے)''۔

۲۔اِس روایت کی ابتدا اِس واقعے کے بیان سے ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک بدو آیاجس نے آپ سے گفتگو کی اور آپ نے اُسے چند باتوں کی ہدایت فرمائی ۔ یہ تفصیل چونکہ ہمارے موضوع سے متعلق نہیں تھی ، اِس لیے ہم نے اِس کو حذف کر کے یہ جملہ اُسی کے مطابق اپنی طرف سے قوسین میں لکھ دیا ہے۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دارالمعرفۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن خزیمۃ، أبو بکر محمد بن إسحاق السلمي النیسابوري. (۱۴۱۴ھ/ ۱۹۹۴م).کتاب التوحید وإثبات صفات الرب عزّوجل. ط۵. تحقیق: عبد العزیز بن إبراہیم الشہوان. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۴م). جامع بیان العلم وفضلہ. ط۱. تحقیق: أبي الأشبال الزہیري. المملکۃ العربیۃ السعودیۃ: دار ابن الجوزي.

ابن عدي أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ/۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت: الکتب العلمیۃ.

ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.

ابن مَنْدَہ أبو عبد اللّٰہ محمد بن إسحاق العبدي. (۱۴۰۶ہ). الإیمان لابن مندہ. ط۲. تحقق: د. علي بن محمد بن ناصر الفقیہي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن مَنْدَہ أبو عبد اللّٰہ محمد بن إسحاق العبدي. (۱۴۲۳ہ/ ۲۰۰۲م). التوحید ومعرفۃ أسماء اللّٰہ عز وجل وصفاتہ علی الاتفاق والتفرد.ط۱. تحقیق وتخرج: الدکتور علي بن محمد ناصر الفقیہي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

أبو داود، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داود. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.

أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.

أبو نعیم أحمد بن عبد اللّٰہ الأصبہاني. (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). أخبار أصبہان. تحقیق: سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

أبو نعیم أحمد بن عبد اللّٰہ الأصبہاني. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸م). معرفۃ الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل بن یوسف العزازي. الریاض: دار الوطن للنشر.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). مسند أبي یعلٰی. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۹م). الأدب المفرد. ط۳. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار البشائر الإسلامیۃ.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م).

البیہقي أبو بکر أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۳ہ/ ۲۰۰۳م). شعب الإیمان. ط۱. تحقیق: الدکتور عبد العلي عبد الحمید حامد. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع.

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض.مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.

الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/ ۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین.ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الخرائطي أبو بکر محمد بن جعفر السامري. (۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۳م). مساوئ الأخلاق ومذمومہا. ط۱. تحقیق وتخریج: مصطفٰی بن أبو النصر الشلبي. جدۃ: مکتبۃ السوادي للتوزیع.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

الذہبی شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۲ھ/ ۱۹۶۳م). میزان الاعتدال في نقد الرجال. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار المعرفۃ للطباعۃ والنشر.

الرُّویاني، أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ) المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علي أبو یماني. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.

السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثي. (۱۴۱۰ھ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامي.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسي، أبو داود سلیمان بن داود البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داود الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عیاض بن موسٰی أبو الفضل الیحصبي. (۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸م). إکمَال المعلم بفوائد مسلم. ط۱. تحقیق: الدکتور یحْیٰی إِسْمَاعِیل. مصر: دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع.

القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر.(۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي، الکلبي. (۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: دکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

معمر بن أبي عمرو راشد، الأزدي، البصري. (۱۴۰۳ھ). الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

ہَنَّاد بن السَّرِي بن مصعب أبو السَّرِي التمیمي الدارمي. (۱۴۰۶ھ). الزہد. ط۱. تحقیق: عبد الرحمٰن عبد الجبار الفریواءي. الکویت: دار الخلفاء للکتاب الإسلامي.

____________