کیا حفظ قرآن کی ’’رسم‘‘ غیرضروری اور بدعت ہے؟


حافظ صلاح الدین یوسف*

غامدی گروہ کا ایک اور نہایت فتنہ انگیز شوشہ

["نقطۂ نظر" کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفقہونا ضروری نہیں ہے۔]

ماہنامہ ''اشراق'' کے شمارہ جون ۲۰۱۹ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار کا تعلق اس گروہ سے ہے جو مسلمات اسلامیہ کا منکر ہے، مثلاً جسمانی معراج، حد رجم، حضرت مسیح کے دوبارہ نزول، ظہور امام مہدی اور دیگر مسلمات اسلامیہ۔ مردوں کی خطابت و امامت عورت بھی کر سکتی ہے، وغیرہ۔ اس کی تفصیل راقم کی کتاب ''فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات'' (ناشر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی، مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ لاہور) سے مل سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ہر مسئلے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا بھی اس گروہ کا خاص شعار ہے۔ اس کے لیے یہ لوگ تلبیس کاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہے جو غامدی، اصلاحی اور فراہی کہلاتا ہے اور متفق علیہ احادیث کا منکر ہے۔

تلبیس کاری ایک خاص فن ہے جس میں حق و باطل کی آمیزش کی جاتی ہے، کیونکہ خالص باطل کو پیش کرنا بھی مشکل ہے اور اس کو منوانا بھی مشکل۔ باطل کے ساتھ کچھ کچھ حق کی آمیزش ہوتی ہے تو ایک جرعۂ تلخ بھی قند شیریں کی طرح خوش گوار معلوم ہونے لگتا ہے۔

اس مضمون میں بھی اسی فن کاری سے تلبیسی کام لیا گیا ہے۔ مثلاً اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ ابلاغ کے لیے حفظ ضروری نہیں ہے۔ یہ بات بلاشبہ، صحیح ہے کہ ابلاغ کے لیے حفظ ضروری نہیں، بلکہ اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ مبلغ اگر حافظ بھی ہو تو اس کو ابلاغ میں بہت زیادہ سہولت ہوتی ہے؟ پھر حفظ کی اہمیت سے انکار کیوں کر ممکن ہے؟ علاوہ ازیں اس سے ابلاغ کا کام زیادہ موثر طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ پھر اس کو غیرضروری کس طرح کہا جا سکتا ہے؟

دوسری بات حفظ کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے یہ کہی گئی ہے کہ حفظ کے بجاے اس کا سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ معنی و مفہوم کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، لیکن اس سے کون انکار کرتا ہے؟ جو حفظ کرتے یا کرواتے ہیں، وہ اس کے منکر تو نہیں، بلکہ اس کے مقر ہیں۔

تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ وعید کا تعلق بھول جانے سے نہیں، عمل سے ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ وعید کا تعلق حفظ کر کے بھول جانے سے نہیں ہے، بلکہ عمل نہ کرنے پر ہے، لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ یہ رسم ہی صحیح نہیں ہے؟ حفظ کرانے سے مقصود ہی قرآن پر عمل کرنے کی ترغیب دینا ہے نہ کہ کچھ اور۔ اگر کوئی بچہ حفظ کر کے بے عمل بن جاتا ہے تو اس کی وجہ تو عام معاشرتی بے راہ روی ہے جس کی لپیٹ میں بعض حفاظ بھی آ جاتے ہیں۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے بعض بچے بھی کچھ حاصل نہیں کر پاتے اور ان کو کسب معاش کے لیے کوئی چھوٹا موٹا کام کر کے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ کیا اس سے یہ مطلب اخذ کرنا صحیح ہو گا کہ تعلیمی ادارے بھی فضول اور بچوں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں؟

حفظ قرآن کی ترغیب میں چند اہم احادیث

۱۔ 'من قام رمضان إيمانًا، واحتسابًا غفر له ما تقدم من ذنبه'.( بخاری، رقم ۲۰۰۹)

اس سے رمضان کے قیام اللیل، یعنی تراویح کی فضیلت واضح ہے۔ ہاں، جس کو اس فضیلت کے حصول کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس کو اگر اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس کی مرضی۔ تاہم ہر مسلمان اس کے حصول کا خواہش مند ہے اور خواہش مند ہونا چاہیے۔

اور دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

۲۔'يقال لصاحب القرآن: اقرا، وارتق، ورتل كما كنت ترتل في الدنيا، فإن منزلك عند آخر آية تقرؤها'،''روز قیامت حافظ قرآن کو کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور منزلیں چڑھتا جا۔ اور اسی طرح ٹھیر ٹھیر کر پڑھ، جیسا کہ ترتیل سے تو دنیا میں پڑھتا تھا، اور جہاں تو قرآن ختم کرے گا، وہی تیرا مقام ہو گا ''(ابو داؤد، رقم ۱۴۶۴)۔

۳۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حافظ قرآن کا جو مقام و مرتبہ تھا، وہ آپ کے اقوال و اعمال سے ظاہر ہے۔ جب جنگ احد کے شہدا کی تدفین کا مرحلہ آیا تو فرمایا کہ جو حفاظ کرام ہیں، ان کو پہلے دفن کیا جائے (بخاری، رقم ۱۳۴۷)۔

۴۔ ایک صحابی کی غربت کے پیش نظر اس کا حق مہر ہی قرآن مجید یاد کرانا رکھا گیا۔ وہ غریب تھے تو ان کو فرمایا کہ ''تجھے جتنا قرآن یاد ہے، وہ اپنی بیوی کو یاد کرا دینا، یہی تیرا حق مہر ہو گا'' (بخاری، رقم ۵۱۴۹)۔

ان تمام روایات سے حفظ قرآن کی فضیلت واضح ہے۔

_______

[*]۔ مشیر وفاقی شرعی عدالت پاکستان۔

____________