کیا قرآن مجید کے حفظ کی روایت پر نظرثانی ہوسکتی ہے؟


ڈاکٹر حافظ خورشید احمد قادری[1]

''اشراق''وہ ماہنامہ ہے جو ہر ماہ دیگر رسائل کی نسبت ایک دو دن پہلے پہنچ جاتا ہے۔ جون ۲۰۱۹ء کا شمارہ بھی مئی کے آخری دن نظر نواز ہوگیا۔ ہر ماہ ''اشراق''کے ایک دو اور بعض اوقات دو سے زیادہ مضامین ایک قاری کی حیثیت سے راقم کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ جون ۲۰۱۹ء کا شمارہ سامنے آیا تو اہمیت کے گراف میں اس کا کوئی مضمون بھی دوسرے سے نیچے محسوس نہیں ہوا۔ قرآن کریم کے ایک ادنیٰ، لیکن سنجیدہ طالب علم کی حیثیت سے جس مقالے نے سو فی صد توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا، وہ ''قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت'' تھا۔ اس مقالے میں اُمت مسلمہ کی ساڑھے چودہ صدی پرانی روایت اور تعامل پر نظرثانی کی بات کی گئی ہے۔ اس موضوع پر بات کرنی بڑی جرأ ت، بلکہ جرأ ت بے جا کے زمرے میں آتی ہے۔ مضمون نگار کو اس نقطۂ نظر تک پہنچنے میں اگر کچھ برس کا عرصہ صرف ہوا ہوگا، تو راقم بھی نصف صدی سے قرآن کریم کے ایک طالب علم اور خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہا ہے۔ راقم کی راے کے مطابق حفظ قرآن مجید محض رسم نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی پختہ روایت ہے۔ حفظ قرآن کریم کی یہ روایت سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ عالم انسانیت کے پہلے فرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنھوں نے 'الحمد' سے 'والناس' تک قرآن کریم کو یاد کیا۔ حفظ قرآن کریم کی روایت سنت جبرئیل علیہ السلام بھی ہے کہ انھیں پورا قرآن کریم ایک سے زیادہ مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ پاکیزہ روایت سنت صحابہ بھی ہے کہ سینکڑوں صحابۂ کرام قرآن مجید کے مکمل متن کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے تھے۔ حفظ قرآن کریم کی روایت امہات المؤمنین کی بھی سنت ہے۔ علوم القرآن کے بہت سے علما نے حفظ قرآن حکیم کو امت کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔

یہ بات قابل تعریف ہے کہ اہل ''اشراق'' نے اس مقالے کو ''نقطۂ نظر'' کے زیر عنوان شائع کرکے اپنی غیر جانب داری کو برقرار رکھا ہے۔ اب ''نقدونظر'' کے کالم میں راقم کی اس تحریر کو جگہ ملے تو اہل ''اشراق'' کی غیر جانب داری پر مہر تصدیق ثبت ہوجائے۔

''قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظرثانی کی ضرورت'' کے مضمون نگار نے حفظ قرآن کریم کے ساتھ وابستہ جن مسائل، مصائب اور شدائد کا ذکر کیا ہے، وہ ان کی ذاتی آرا ہوسکتی ہیں، لیکن ان کا حقیقت سے تعلق نہیں بنتا۔ جن کم زوریوں کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے، وہ ہر نظام میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی وجہ سے نظام کو لپیٹ کر نہیں رکھ دیا جاتا، بلکہ اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔

چنانچہ میرے نزدیک فاضل مصنف کے موقف کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے موقف پر میرے تنقیدی نکات درج ذیل ہیں:

۱۔''اشراق'' کے مضمون نگار کے بقول ''...آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مخاطبین قرآن مجید کی زبان سے واقف تھے۔ ان کے لیے اسے سمجھے بغیر یاد کرلینا متصور ہی نہیں''۔[2]

اگر ان کے اس نقطۂ نظر کو درست مان لیا جائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آٹھ برس تک سورۂ بقرہ کا مطالعہ کس وجہ سے کرتے رہے۔ بقول مولانا اصلاحی:

''اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تعریف میں فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت آسان بنایا۔ پھر اس کی ایک ایک سورہ پر آٹھ آٹھ برس تک سر کھپانے کی کیا ضرورت ہے۔''[3]

۲۔عجمی اقوام کے تفقہ فی الدین کے لیے قرآن مجید کو ناظرہ پڑھنا پہلا، حفظ کرنا دوسرا اور اس کے معانی و مفاہیم سے آگاہی تیسرا مرحلہ ہے۔ ان تینوں میں سے کسی ایک مرحلے کو بھی کم اہم نہیں کہا جاسکتا۔

۳۔ماہنامہ ''اشراق'' لاہور کے مقالہ نگار کا دعویٰ ہے کہ:

''...قرآن مجید صبح سے لے کر شام تک سارا وقت لگا کر اوسطاً تین سے چار سال میں حفظ کیا جاتا ہے۔ اتنا وقت اتنی ضخامت کی کسی بھی کتاب کو زبانی یاد کرنے کے لیے کافی ہے خصوصاً جب الفاظ میں ایک خاص قسم کی موسیقیت اور موزونیت بھی پائی جاتی ہو تو یہ اور سہل ہو جاتا ہے۔''[4]

مضمون نگار شاید اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ اوسط (average) درجے کے طلبا اڑھائی سے تین برس میں، اوسط درجے سے بہتر (above average) طلبا ڈیڑھ سے دو سال میں، جب کہ ذہین و فطین طلبا ایک سے ڈیڑھ سال میں مکمل قرآن کریم حفظ کر لیتے ہیں۔ البتہ عام ذہانت سے نیچے (below average) طلبا کے حوالے سے مضمون نگار کا بیان بالکل درست ہے کہ وہ تین سے چار سال میں حفظ قرآن کریم مکمل کرتے ہیں۔ اب مضمون نگار کا دعویٰ ہے کہ:

'' ...اتنا وقت اتنی ضخامت کی کسی بھی کتاب کو زبانی یاد کرنے کے لیے کافی ہے۔''

منطقی لحاظ سے تو یہ بات درست ہوسکتی ہے، لیکن عملی طور پر انسانی تاریخ میں اتنی ضخامت کی کتنی کتب کو حفظ کیا گیا ہے اور کتنے لوگوں نے حفظ کیا؟ اس حقیقت سے سب اہل نظر آ گاہ ہیں۔

اس حوالے سے مولانا وحید الدین خان (پ۱۹۲۵ء) کی تحقیق یوں ہے:

''خدا نے یہ انتظام کیا کہ قرآن کے حفظ... کا نادر طریقہ شروع ہوا جو اس سے پہلے معلوم تاریخ میں کبھی کسی کتاب کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے دل میں یہ جذبہ اُبھر آیا کہ وہ قرآن کے متن کو شروع سے آخر تک یاد کریں اور یاد رکھیں۔ اس طرح کے افراد تاریخ کے ہر دور میں ہزاروں کی تعداد میں پیدا ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ قرآن کے زمانہ سے شروع ہوکر آج تک جاری ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق دنیا میں کوئی بھی دوسری کتاب نہیں ہے جس کے ماننے والوں نے اس طرح اس کو یاد کرنے کا اہتمام کیا ہو جس طرح قرآن کے ماننے والے ہر دور میں کرتے رہے ہیں۔ قرآن کو یاد کرنے کے رواج نے اس کی حفاظت کے اس انوکھے انتظام کو ممکن بنا دیا جس کو ایک فرانسیسی مستشرق نے دہرا جانچ (Double Checking) کا طریقہ کہا ہے۔ یعنی ایک لکھے ہوئے نسخہ کو دوسرے لکھے ہوئے نسخہ سے ملانا اور اسی کے ساتھ حافظہ کی مدد سے اس کی صحت کو جانچتے رہنا۔''[5]

پھر مضمون نگار نے حفظ کے لیے ایک شرط بھی لگائی ہے کہ:

'' ...جب الفاظ میں ایک خاص قسم کی موسیقیت اور موزونیت بھی پائی جاتی ہوتو یہ اور بھی سہل ہوجاتا ہے۔''[6]

یہ حقیقت تو اظہر من الشمس ہے کہ یہ موسیقیت اور موزونیت بھی تو قرآن کریم کی معجزانہ حیثیت کا ہی ایک پہلو ہے۔

۴۔مقالہ نگار کی یہ بات بھی نظری (theoretical) ہے کہ:

'' ...کتاب اگر اپنی زبان میں ہوتو اس سے بھی کم وقت میں اس کا زبانی یاد کرلینا ممکن ہے۔''[7]

آپ کو، مجھے یا ہم میں سے کسی کو بھی اپنی زبان کی کتنی کتابیں یاد ہیں؟ ظاہر ہے کوئی بھی نہیں، لیکن اس حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن کریم کے بہت سے حصے ہم سب کو یاد ہیں۔

۵۔قرآن کریم کے کلام و پیام کے ابلاغ کا سب سے بڑا ہدف (target) فرد ہے۔ اگر کوئی کلام اللہ کو حفظ کرتا ہے تو اس تک اس کے ابلاغ کے دروازے خودبخود کھل جاتے ہیں۔ اس طرح صاحب مضمون کا درج ذیل دعویٰ بھی باطل ہوا:

'' ...اس تمام جان کا ہی کا قرآن مجید کے کلام و پیام کے ابلاغ سے کوئی تعلق تلاش نہیں کیا جاسکتا۔''[8]

۶۔مضمون نگار کا یہ دعویٰ تو سخت گمراہ کن ہے:

'' ...حفاظ بقیہ عمر اس قصور واری کے احساس میں گزارتے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید بھلا کر سخت گناہ کردیا ہے۔''[9]

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب قرآنی متن، قرآنی تعلیمات اور قرآنی علوم ہی اوڑھنا بچھونا بن جائیں تو وہ حافظ قرآن بچہ جس نے پانچ جماعتیں اسکول میں نہیں پڑھیں۔ تین ماہ کی تیاری کے بعد چھٹی جماعت میں داخلے کے لیے پچاس سے زیادہ امیدواروں میں پہلی پوزیشن حاصل کر لیتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی برکتوں کے سبب ایم-اے کا مقالہ قرآنیات پر عربی میں لکھتا ہے۔ وہ ایم فل کا مقالہ قرآنیات پر ہی انگریزی زبان میں لکھتا ہے۔ وہ پی-ایچ- ڈی کا مقالہ بھی قرآنیات پر انگریزی زبان میں لکھتا ہے۔ المورد میں ڈاکٹر خالد ظہیر کے علاوہ تمام غیرحفاظ اکابرین میں سے کوشش اور خواہش کے باوجود بہت سے اپنی عربی دانی اور علم و فضل کے باوجود ابھی تک پی-ایچ- ڈی کے سنگ میل تک نہیں پہنچ پائے۔ جب کہ ایک کم عمر اور کم علم حفظ قرآن کریم کے سائے میں اپنے نظام تعلیم کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کرکے برسرکار ہے۔

۷۔صاحب مقالہ کا یہ نکتہ تو بالکل مغربی این جی اوز کی زبان کا حامل ہے:

'' ...کم سن اور نوجوان بچے اتنا طویل وقت مسلسل بیٹھ کر ایک ایسی کتاب کو حفظ کرنے کی مشقت جھیلتے ہیں جس کی زبان کے فہم سے بھی وہ ناواقف ہوتے ہیں۔ پھر یہ سب وہ اپنی خوشی سے نہیں، بلکہ اپنے بڑوں کی خوشنودی یا ان کے جبر اور خوف کی وجہ سے کرتے ہیں۔''[10]

مضمون نگار نے اسلام کی پوری تاریخ اور مزاج سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ نکتہ اُٹھایا ہے: کیا ابو داؤد اور ترمذی کی یہ روایت ان کی نظر سے نہیں گزری: 'مروا الصبي الصلوة إذا بلغ سبع سنين و إذا بلغ عشر سنين فاضربوه عليها'، ''بچے کو نماز پڑھنے کے لیے کہو جب وہ سات برس کا ہوجائے اور جب وہ دس برس کا ہوجائے تو اس (کے نہ پڑھنے کی) وجہ سے اس کی پٹائی کرو۔''

جب نماز بڑوں کی خوشنودی، جبر یا خوف کی وجہ سے پڑھی جاسکتی ہے تو قرآن کریم یاد کرنے میں کیا حرج ہے۔ انسانی تاریخ میں بیش تر بچوں کی تعلیم کا آغاز انھی تجربات اور احساسات کے تحت ہوتا ہے۔ کیا صاحب مقالہ کو اس تاریخی حقیقت سے انکار ہے؟

۸۔پہلے بھی یہ بات (نکتہ ۳) ہوچکی کہ مضمون نگار کی نگاہ میں حفظ قرآن کریم تین سے چار سال میں ہی ہوتا ہے۔[11] حقیقت یہ ہے کہ ایسے بچے دس فی صد سے بھی کم ہوتے ہیں۔ بیش تر بچوں کا حفظ قرآن کریم کی وجہ سے کوئی تعلیمی نقصان نہیں ہوتا۔ مقالے کے آخر میں مقالہ نگار خود اپنے بیانیے کی نفی یوں کرتے ہیں:

'' ...کچھ بچے تو قدرتی طور پر زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے والدین انھیں حفظ میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ بچے دیگر میدانوں میں بھی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔''[12]

مقالہ نگار نے سارا صغریٰ کبریٰ تین سے چار برس میں حفظ مکمل کرنے والے طلبا کے گرد بنایا، لیکن آخر پر یہ حقیقت ان کی نوک قلم پر آگئی کہ والدین انھی بچوں کو حفظ میں ڈالتے ہیں جو قدرتی طور پر زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ اس نکتے سے تو مضمون نگار نے راقم کے نظریے کو تقویت دی ہے۔ اللہ کرے زور قلم اورزیادہ۔

۹۔صاحب مضمون نے اپنے مقالے کے ابتدائی حصے میں حفظ قرآن کریم کے لیے تین سے چار سال کا عرصہ متعین کیا۔[13] لیکن مضمون کے اختتام کے قریب پہنچتے پہنچتے مبالغہ آرائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اس عرصہ کو تین سے پانچ سال بنا دیا۔[14]

مقالہ نگار نے اپنے مقالہ کی بنا 'وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ'،''ہم نے اس قرآن کو یاد دہانی کے لیے آسان بنا دیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی یا د دہانی حاصل کرنے والا'' (القمر ۵۴: ۳۲)پر رکھی ہے۔ حالاں کہ یاد دہانی اور حفاظت میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔ یاددہانی ایک فرد کا ذاتی معاملہ، جب کہ حفاظت قرآن کریم پوری اُمت کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ صاحب مضمون نے ایک غلط نظریے پر عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی اس کاوش کی داد ایک بزرگ درج ذیل شعر کے ذریعے سے پہلے ہی دے چکے ہیں:

خشت اولچوں نہد معمار کج

تاثر یا می رود دیوار کج

اگر وہ اپنے مقالے کی بنا 'اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ'، ''بے شک، ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم خود اس کی حفاظت کریں گے''(الحجر ۱۵ : ۹) پر اٹھاتے تو یقیناً ان کے دلائل کی دیوار زیادہ بلند نہ ہو پاتی۔

اللہ تعالیٰ نے یہود کو حکم دیا کہ 'بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ'،''وہ اللہ کی کتاب (تورات) کی حفاظت کا بندوبست کریں''(المائدہ ۵ : ۴۴) ۔ اس کے برعکس قرآن کریم سے متعلق ارشاد ہوا: 'اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ' (الحجر ۱۵ : ۹)۔ حفاظت قرآن کریم کی اس آیت سے متعلق مولانا وحید الدین خان کا تبصرہ ملاحظہ ہو:

''اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان سے خدا کے فرشتے اُتریں گے اور وہ قرآن کو اپنے سایہ میں لیے رہیں گے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں اخروی حقیقتوں کو غیب میں رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہاں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ فرشتے سامنے آکر قرآن کی حفاظت کرنے لگیں۔ موجودہ دنیا میں اس قسم کا کام ہمیشہ معمول کے حالات میں کیا جاتا ہے نہ کہ غیر معمولی حالات میں۔ یہاں قرآن کی حفاظت کا کام تاریخی اسباب اور چلتے پھرتے انسانوں کے ذریعہ لیا جائے گا تاکہ غیب کا پردہ باقی رہے۔''[15]

صاحب مضمون کے اختتامی کلمات نہ صرف اسلام کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ، بلکہ مستقبل سے بھی آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہیں۔ ماضی میں جب جب دشمن اقوام نے قرآن کریم کے نسخوں کو دریا برد کرنے، نذر آتش کرنے یا سمندر میں ڈال دینے سے اللہ کے آخری کلام کو ختم کر دینا چاہا تو یہ صرف حفاظ قرآن کریم کے سینے ہی تھے جہاں سے قرآن کریم کو کھرچا نہیں جاسکا۔ اور اللہ کا آخری کلام اپنی پوری شان سے اہل نظر کی رہنمائی کے لیے موجود رہا۔ مستقبل کے حوالے سے صاحب مضمون رقم طراز ہیں:

''موجودہ دور میں، جب کہ قرآن مجید کو محفوظ رکھنے، پڑھنے اور آیات اور موضوعات تلاش کرنے کے جدید ترین ذرائع وجود میں آچکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں انسان کے قیمتی وقت کو ایک ایسی مشقت میں لگایا جائے جس کا کوئی مطالبہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اور نہ دین کا کوئی مفاد اب اس سے وابستہ ہے۔''[16]

صاحب مضمون کو یہ بات زیر نظر رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم کو محفوظ کرنے کے جو جدید ذرائع وجود میں آچکے ہیں، یہ سب انسانی ذرائع ہیں، یہ حفاظ کرام کے سینوں کی طرح معتبر نہیں ہوسکتے۔ یہ Hang ہو سکتے ہیں، Corrupt ہو سکتے ہیں، Invalid ہوسکتے ہیں، Hack ہو سکتے ہیں اور حتیٰ کہ مکمل طور پر Crash ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ حفاظ قرآن کریم کے سینے ہیں جو صور اسرافیل پھونکے جانے تک نغمۂ سرمدی کو دہرانے کا یقینی وسیلہ بنے رہیں گے۔

اُمت مسلمہ سے حفاظت قرآن کریم کا مطالبہ اگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہ ہوتا تو جنگ یمامہ میں حفاظ کرام کی شہادت سے دربار خلیفۃ الرسول میں سراسیمگی نہ پھیل جاتی اور شیخین کلام اللہ کی حفاظت کے لیے حضرت زید بن ثابت کی سربراہی میں حفاظ کرام کی کمیٹی نہ بٹھاتے۔

جہاں تک حفظ قرآن کریم کے ساتھ دین کے مفاد کی وابستگی کا تعلق ہے، اس حقیقت سے کوئی باشعور مسلمان انکار نہیں کرسکتا کہ پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کی اجتماعیت، نماز پنجگانہ، نماز جنازہ، نماز عیدین، دینی تعلیم، تدریس و تربیت، تفسیر، حدیث، فقہ، جدید قانون سازی اور اجتہاد، سب کا انحصار حفظ قرآن کریم پر ہی ہے۔وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم۔

_________

[1]۔ اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ علوم اسلامیہ، جی سی یونیورسٹی، لاہور۔

[2]۔ عرفان شہزاد،ڈاکٹر، قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت، ماہنامہ اشراق، ادارۂ علم و تحقیق، المورد، لاہور، ج۳۱، شمارہ ۶، جون ۲۰۱۹ء، ص۳۵۔

[3]۔ اصلاحی، امین احسن، مبادی تدبر قرآن، فاران فاؤنڈیشن، لاہور، ۱۹۹۹ء، ص۱۳۰۔

[4]۔ عرفان شہزاد،ڈاکٹر، قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت، ص۳۵۔

[5]۔ وحید الدین خان، مولانا، عظمت قرآن، دارالتذکیر، رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور، ۱۹۹۸ء، ص۸۷۔

[6]۔ عرفان شہزاد،ڈاکٹر، قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت، ص۳۶۔

[7]۔ ایضاً۔

[8]۔ ایضاً۔

[9]۔ ایضاً۔

[10]۔ ایضاً، ص۳۷۔

[11]۔ ایضاً ص۳۵۔

[12]۔ ایضاً ص۳۸۔

[13]۔ ایضاً، ص۳۶۔

[14]۔ ایضاً، ص۳۷۔

[15]۔ وحید الدین خان، مولانا، عظمت قرآن، ص۸۶۔

[16]۔ عرفان شہزاد،ڈاکٹر، قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت، ص۳۸۔

____________