لے پالک


بعض اوقات بے اولاد جوڑوں کے لیے فطری اورسماجی ضرورتیں اس حدتک ناگزیرہوجاتی ہیں کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتاکہ وہ کسی اورکے بچے کولے پالک کرلیں۔اب ظاہرہے،جب وہ ایساکریں گے تو ان کے ہاں یہ شدید خواہش پیداہو گی کہ وہ جس بچے کوپالیں،جس کی ضرورتوں کاخیال رکھیں اورجس کوبرتاؤمیں اپنے حقیقی بچے کادرجہ دیں،وہ بھی انھیں ماں اورباپ کہہ کر پکارے اور مزید یہ کہ معاشرہ بھی ان کے اس تعلق کو احترام کی نظرسے دیکھے۔ہمارے خیال کے مطابق اس سارے معاملے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے نامناسب قرار دیا جائے۔ حقیقی والدین کے علاوہ کسی اورکوماں باپ کادرجہ دینااورانھیں ماں اورباپ کہہ کر پکارنا، جس طرح ہر مہذب معاشرے کے عرف میں جائز رہاہے،اسی طرح دین اسلام میں بھی یہ بالکل جائزہے۔

اس سلسلے میں 'اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ' ۱؂ کی جوآیت پیش کی جاتی ہے،اس بارے میں واضح رہے کہ اس میں نہ تو کسی غیرباپ کوباپ کہنے سے روکاگیاہے اورنہ کسی اورکے بچے کوبیٹا کہنے سے۔ اگرآیت کا مدعا یہی ہوتا تو پھر لازم تھا کہ کسی غیرماں کو ماں کہنے سے بھی روک دیا جاتا۔شارع کے پیش نظرمحض نسب کومحفوظ رکھنے کی تعلیم دیناہے،اس لیے اُس نے یہاں صرف باپ کا ذکر کیا ہے کہ دنیاکے دستورکے مطابق بچے کی نسبت باپ ہی کے حوالے سے بیان ہوتی ہے۔لہٰذا،ان الفاظ کی بنیادپرزیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتاہے کہ بچے کانسب کسی صورت تبدیل نہ ہو۔ اگر بچے کا حقیقی والدمعلوم ہے توچاہے گودمیں لینے والے اپنے آپ کوباپ کہلوائیں، مگر بچے کا نسب اُسی کے نام سے چلے۔اور اگربچہ، مثال کے طورپر،گم شدہ یالاوارث ملاہے توبھی کسی کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کا نسب اپنے آپ سے جوڑے،بلکہ اب وہ بچہ معاشرے میں اسلامی اخوت کے رشتے سے سب مسلمانوں کے ایک بھائی کے طورپرمتعارف ہو۔

جہاں تک سورۂ احزا ب کی آیت: 'مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ' ۲؂ کاتعلق ہے،تواس میں بھی اس طرح کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔حضرت زیدکونبی صلی اللہ علیہ وسلم کامنہ بولابیٹاکہاجاتاتھا۔ظاہرہے، منہ سے بول دینے سے کوئی کسی کاحقیقی رشتے دارنہیں ہوجاتاکہ اس کی بنیاد پر نکاح کے معاملے میں حرمت کی بحث ہو۔نکاح کی حرمت یا تو کچھ مقدس رشتوں کی وجہ سے پیداہوتی ہے یاپھر خدا کے کسی رشتے کو حرام قراردے دینے سے ،جیساکہ ازواج مطہرات کے معاملے میں ہوا۔یہاں حقیقت حال کوبیان کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ آپ زید سمیت،کسی مرد کے باپ نہیں ہیں کہ زیدکی مطلقہ سے نکاح کرنے پرکوئی اعتراض اٹھائے۔باقی رہی یہ بات کہ لوگ زید کوآج کے بعد آپ کا منہ بولابیٹاکہیں یانہ کہیں ،اس آیت کااس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن اس بارے میں کچھ سنجیدہ سوالات اُس وقت ضرورپیداہوتے ہیں جب بچے کی ولدیت کامرحلہ زیربحث ہو۔ مثال کے طورپر، ہمارے ملکی قوانین کے مطابق ہر شخص کی شہری شناخت کے لیے لازم قراردیاگیاہے کہ اس کے والد کا نام بیان کیا جائے۔ لیکن جب معاملہ لے پالک کرنے کاہوتوہمارے اس قانون میں ایک واضح سقم موجود ہے۔ اس کے حل کے لیے جو تجاویزپیش کی جاتی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ ریاست کی کسی بڑی شخصیت کو ان کا باپ قراردے دیاجائے ۔ہماری راے میں اس تکلف کے بجاے یہ سیدھاراستہ اختیارکرناچاہیے کہ جن لے پالک بچوں کے حقیقی والدمعلوم ہوں، ان کی ولدیت میں ان کے حقیقی والد ہی کانام لکھاجائے اورجن کے والد معلوم نہ ہوں، ان کے لیے ان کوگودمیں لینے والوں کا سرپرست کے طورپراندراج کرلیا جائے۔ہاں،اگرکوئی عام شخص اس کا سرپرست نہ ہوتوپھرکسی بھی ریاستی شخصیت کواس کاسرپرست قرار دیا جاسکتا ہے۔تاہم جب تک اس مسئلے میں نئی قانون سازی نہیں کرلی جاتی ،اس وقت تک اس کے سواکوئی اورراستہ نہیں ہے کہ گم شدہ اورلاوارث بچوں کے سرپرست اپناہی نام ولدیت کے لیے تجویزکردیں۔صرف یہ احتیاط رہے کہ وہ اس عمل کوکاغذی کارروائی کی حیثیت سے مجبوراً قبول کریں اوراپنے اردگردکے ماحول میں حقیقت حال کومناسب درجے میں واضح کردینے کا التزام بھی رکھیں۔

کم وبیش یہی صورت حال اس وقت بھی پیداہوجاتی ہے جب کسی ادارے کے ملازم کواپنی اولادکے لیے مراعات حاصل کرناہوتی ہیں۔ یہاں بھی یہی قانون بنناچاہیے کہ جومراعات اُس ملازم کی حقیقی اولاد کوحاصل ہوتی ہیں، وہی اِس خاص صورت میں اُس کے لے پالک کوبھی حاصل ہو جائیں۔ مگرجب تک یہ مجوزہ قانون بنانہیں لیا جاتا، اُس وقت تک مجبوری ہے کہ ان مراعات سے دست برداری اختیار کی جائے۔اس لیے کہ یہاں مسئلہ کسی ناگزیر تقاضے سے عہدہ برآہونے کانہیں ہے،بلکہ اُن حقوق کوحاصل کرنے کا ہے جنھیں ادا کرنے کا اُس اِدارے نے عہد کیا ہے اورنہ وہ اس کاپابند ہی ہے۔

اس معاملے میں کچھ سوالات معاشرتی اوراخلاقی نوعیت کے بھی سامنے آتے ہیں:

ایک یہ کہ گودمیں لینے والے مردوعورت اوراس لے پالک کے درمیان میں حقیقی رشتہ موجودنہ ہونے کی وجہ سے کیا گھر میں محرم اور غیرمحرم کے مسائل پیدانہیں ہوں گے؟عرض ہے کہ اس بات کے باوجودکہ ان کے درمیان میں کوئی حقیقی رشتہ قائم نہیں ہوتا،ماں کی ممتااور باپ کی شفقت کے نتیجے میں اپنائیت اورتقدس کاایک رشتہ، بہرحال قائم ہو جاتا ہے۔ اور یہ رشتہ اتنا کمزور اوربے وقعت نہیں ہے کہ اس پر اس طرح کے سوالات اٹھادیے جائیں۔ انسانی فطرت تو اس بارے میں اپنافیصلہ دے ہی دیتی ہے،دین اسلام بھی اس طرح کے موقعوں پر عذراورتنگی کالحاظ کرتے ہوئے اپنے احکام میں رخصت دیتاہے۔جیسے عورتوں کواخفاے زینت کاحکم دیتے ہوئے جب مستثنیات کوبیان کیا تو اس ذیل میں غلاموں اورزیردست مردوں جیسے اجنبی لوگوں کوبھی شمار کیا گیا۔۳؂ اسی طرح اجازت لے کرگھرمیں داخل ہونے کے حکم میں بھی غلاموں کوخصوصی رعایت دی گئی۔ ۴؂

دوسرا سوال یہ کہ بسااوقات ایساہوتاہے کہ گودمیں لیاہوابچہ اپنے نئے والدین کی تمناؤں کامرکزاوراُن کے بڑھاپے کا واحد سہارا بن جاتا ہے۔اس صورت میں وہ فطری طورپرچاہتے ہیں کہ ان کامال ومتاع ان کی موت کے بعد اس بچے کے حصے میں آئے۔لیکن وراثت کے قانون میں سب حق داروں کاحق طے ہوجانے کے بعدآخراس مسئلے کا حل کیاہے؟ہماری راے میں وراثت کے بارے میں جو احکام بیان فرمادیے گئے ہیں ،ان سے اِعراض یاان کے مقرر حصوں میں کمی بیشی کرنے کا حق توکسی کوحاصل نہیں ہے،مگروصیت کرنے کا حق میت کوضرور دیاگیا ہے۔ اس لیے وہ اس بچے کووصیت کی مدمیں جودیناچاہیں،دے سکتے ہیں۔اوران کی یہ وصیت اس لحاظ سے اوربھی خصوصی حیثیت رکھتی ہے کہ منفعت کے جس اصول پرخدانے حصے مقررکیے ہیں،وہ منفعت بدرجۂ اتم یہاں موجود ہے۔ مزید یہ بات بھی سامنے رہے کہ وراثت اوراس کی تقسیم کی ساری بحث موت کے بعدپیداہوتی ہے،اس لیے اگروہ لوگ چاہیں تو اپنی زندگی ہی میں اس بچے کو اپنے مال کامالک بنادے سکتے ہیں۔

تیسرا یہ کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی جوباربارتاکیدآئی ہے،کیاان بچوں پربھی اس کااطلاق ہوتاہے یا نہیں اوران پربھی کیا لازم ہے کہ وہ اپنے اِن والدین کی خدمت کریں؟عرض ہے کہ قرآن مجیدنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیددواخلاقی بنیادوں پر کی ہے: بچے کوجنم دینا اورپھراس کوپالناپوسنااوراس کی نگہداشت کرنا۔ پہلے کے لیے حمل،ولادت اوررضاعت کی مشقتوں کو گنوایا ہے اور 'رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا'۵؂ میں دوسرے کا حوالہ دیاہے۔بلکہ ماں کے مقابلے میں باپ کااولاد کے اوپرجوحق قائم ہوتاہے ، اس میں بنیادی حیثیت اسی پرورش کے عمل کوحاصل ہے۔لہٰذا، اس بچے پر لازم ہے کہ وہ ولادت کے تعلق سے اپنے حقیقی والدین کے ساتھ اور پرورش اورنگہداشت کی وجہ سے اِن والدین کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤکرے۔

________

۱؂ الاحزاب ۳۳: ۵۔ ''تم منہ بولے بیٹوں کواُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔یہی اللہ کے نزدیک قرین انصاف ہے۔''

۲؂ الاحزاب ۳۳: ۴۰۔ ''(حقیقت یہ ہے کہ) محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔''

۳؂ النور ۲۴: ۳۱۔

۴؂ النور ۲۴: ۵۸۔

۵؂ بنی اسرائیل ۱۷: ۲۴۔ ''پروردگار، اُن پررحم فرما،جس طرح انھوں نے(رحمت وشفقت کے ساتھ) مجھے بچپن میں پالاتھا۔''

____________