لباس کی متکبرانہ وضع (1/2)


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

—۱—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُہْرَۃٍ فِي الدُّنْیَا، أَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبَ مَذَلَّۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،۲[ثُمَّ أَلْہَبَ فِیْہِ نَارًا]''.۳

عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا لباس پہنا کہ اُس سے شہرت مقصود تھی ، اللہ قیامت میں اُس کو ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اُس میں آگ بھڑکادے گا۔۱

________

۱۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جن گناہوں پر جہنم کی وعید سنائی ہے، اُن میں ایک بڑا گناہ تکبر ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی یہ پایا جائے، وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ نیز فرمایا ہے کہ عزت پروردگار کی ازار اور بزرگی اُس کی ردا ہے۔جو اِن میں اُس کا مقابلہ کرے گا ، اُسے عذاب دیا جائے گا ۔ یہ اصلاًایک باطنی کیفیت ہے۔ انسان کا دل جب بندگی کے شعور اور خدا کی عظمت کے تصور سے خالی ہوتا ہے تو دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری چیزیں اِس کا باعث بن جاتی ہیں۔پھر اِس سے بڑے بڑے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ حق کو حق سمجھتے ہوئے اُس کی تکذیب کردینے ، رنگ ونسل اور حسب ونسب کے اعتبار سے اپنے آپ کو برتر سمجھنے، دوسروں کو حقیر سمجھ کر اُن کا مذاق اڑانے، اُن پر طعن کرنے، برے القاب دینے اور پیٹھ پیچھے اُن کے عیب اچھالنے جیسے گناہوں کا محرک انسان کا یہی پندار نفس اور غرور وتکبر ہوتا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کا ظہور جس طرح اِن سب چیزوں میں ہوتا ہے، اُسی طرح انسان کی چال ڈھال، وضع قطع ، لباس اور نشست وبرخاست میں بھی ہوتا ہے۔خدا کے دین میں اِسی بنا پر اِن سے متعلق بعض چیزوں پر بھی سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تمام چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے جن سے امارت کی نمایش ہوتی ہویا وہ بڑائی مارنے، شیخی بگھارنے، دون کی لینے، دوسروں پر رعب جمانے یا اوباشوں کے طریقے پر دھونس دینے والوں کی وضع سے تعلق رکھتی ہوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی اِسی قبیل سے ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۵۶۶۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔مسند احمد کی اِس روایت کے علاوہ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں: مسند ابن جعد، رقم۲۱۴۳۔ مسند احمد، رقم ۶۲۴۵۔سنن ابن ماجہ،رقم۳۶۰۶، ۳۶۰۷۔سنن ابی داؤد، رقم ۴۰۲۹۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۹۴۸۷۔مسند ابی یعلیٰ،رقم ۵۶۹۸۔

۲۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۴۸۷میں یہاں'یَوْمَ الْقِیَامَۃِ' ''قیامت کے دن ''کے بجاے 'فِي الْآخِرَۃِ' ''آخرت میں'' کے الفاظ آئے ہیں۔

۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۰۷۔

—۲—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ:۱''الْبَسُوْا، فِيْ غَیْرِ مَخِیْلَۃٍ وَلَا سَرَفٍ،۲ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ أَنْ تُرٰی نِعْمَتُہُ عَلٰی عَبْدِہِ''.

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھا لباس پہنو، مگر اُس میں تکبر یا اسراف نہیں ہونا چاہیے، اِس لیے کہ اللہ اِس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس نے جو نعمت اپنے بندے کو دی ہے، وہ اُس پر نظر بھی آئے۔۱

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ لباس ، رہن سہن، دفتر، مکان، ہر چیز میں اُس رفاہیت اور خوش حالی کی جھلک ہوسکتی ہے، بلکہ ہونی چاہیے جس سے اللہ نے اپنے کسی بندے کو نوازا ہے۔ صوفیانہ مذاہب کے برخلاف دین حق میں اِسی طرز عمل کو پسند کیا گیا ہے، لیکن تکبر یا اسراف کے ساتھ نہیں ، بلکہ خدا کے متواضع اور عاجز بندوں کے طریقے پر جو اُس کی گرفت سے ڈرتے اور غریبوں کے لیے سراپا شفقت رہتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۶۷۰۸سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے علاوہ یہ تعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ جن مصادر میں وارد ہے، وہ یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۷۷۔ مسند احمد، رقم۶۶۹۵۔ سنن ابن ماجہ، رقم۳۶۰۵۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۵۵۹۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۲۳۵۱۔ مستدرک حاکم، رقم۷۱۸۸۔

۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۷۷میں یہاں 'مَا لَمْ یُخَالِطْہُ إِسْرَافٌ وَلَا مَخِیْلَۃٌ' ''جب تک اُس میں اسراف اور تکبر نہ در آئے'' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔سنن ابن ماجہ، رقم ۳۶۰۵میں'مَا لَمْ یُخَالِطْہُ إِسْرَافٌ، أَوْ مَخِیْلَۃٌ'''جب تک اُس میں اسراف یا تکبر کی آمیزش نہ ہو''کی تعبیر نقل ہوئی ہے، جب کہ بعض روایات، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۵۵۹ میں 'فِيْ غَیْرِ إِسْرَافٍ، وَلَا مَخِیْلَۃٍ''' اُس میں اسراف اورتکبرنہیں ہونا چاہیے'' کے الفاظ ہیں۔

—۳—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:۱ ''الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ، وَالْقَمِیْصِ، وَالْعِمَامَۃِ [سَوَاءٌ]،۲ مَنْ جَرَّ مِنْہَا شَیْءًا خُیَلاَءَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ''.

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہ بند نیچے لٹکتا ہوا چھوڑدیا جائے یا قمیص اور عمامہ، سب کا حکم ایک ہی ہے۔جس نے اِن میں سے کوئی چیز اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے نیچے لٹکائی اور اُس کو گھسیٹتا ہوا چلا، اللہ قیامت کے دن اُس کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔۱

________

۱۔ اِس باب کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلی میں متکبرین کا یہ عام طریقہ تھا کہ لمبا قمیص پہنیں گے، پگڑی کا شملہ کمر سے نیچے تک لٹکا ہوا ہوگا، تہ بند ٹخنوں سے اِس قدر نیچے ہوگا کہ گویا آدھا زمین پر گھسٹ رہا ہے۔ روایتوں میں 'اسبال' کا لفظ اِسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لباس کی اِسی وضع پر وعید سنائی ہے۔آگے کی تمام روایات بھی اِسی سے متعلق ہیں۔یہ چیز، اگر غور کیجیے تو لباس کی اُنھی صورتوں میں نمایاں ہوتی ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، ہماری شلوار، پاجامے اور پتلون وغیرہ سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔تاہم کسی دوسرے لباس میں یہی چیز اگر کسی وقت نمایاں ہوجائے تو اُس کا حکم یقیناًوہی ہوگا جو اِس باب کی روایتوں میں بیان ہوا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۴۰سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔مصنف ابن ابی شیبہ کے علاوہ اِس کے مراجع یہ ہیں:سنن ابن ماجہ، رقم۳۵۷۶۔سنن ابی داؤد، رقم۴۰۹۴۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۵۳۳۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۳۷۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۳۲۰۹۔

۲۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۳۲۰۹۔

—۴—

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ إِلَی الْمُسْبِلِ [إِزَارَہُ]۲ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ''.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ قیامت کے دن اُس شخص کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا جو اپنا تہ بند نیچے لٹکائے رکھتا ہے۔۱

________

۱۔ یہ وعید اِس بنا پر ہے کہ تکبر من جملہ کبائر ہے اور مستکبرین کے بارے میں قرآن نے تصریح کردی ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوسکتا ہے، لیکن کوئی مستکبر جنت میں نہیں جاسکتا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۸۲۲۹سے لیا گیا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ اِس کے علاوہ جامع معمر بن راشد، رقم۱۹۹۸۱اورمستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۵۶۴میں بھی نقل ہوئی ہے۔ آپ کایہ ارشاد عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور اِن مراجع میں دیکھ لیا جا سکتا ہے: مسند ابن جعد، رقم۲۲۴۹۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۱۱۔مسند احمد، رقم۲۹۵۵۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۵۳۳۲۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۱۷، ۹۶۱۸، ۹۶۱۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۲۴۱۴۔

۲۔ یہ اضافہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک طریق مسند ابن جعد، رقم۲۲۴۹سے لیا گیا ہے۔

—۵—

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ:۱ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنْ أَسْبَلَ إِزَارَہُ فِيْ صَلاَتِہِ خُیَلاَءَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ۲ فِيْ حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ''.

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے نماز میں اپنا تہ بند تکبر سے نیچے لٹکایا ، اللہ کو اُس کے کسی حلال وحرام کی کوئی پروا نہ ہوگی۔۱

________

۱۔یعنی خدا کی نگاہ میں وہ ناقابل التفات ہوگا۔ یہ وہی مضمون ہے جو دوسری روایتوں میں 'لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلَیْہِ' وغیرہ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔یہاں اسلوب میں سختی کی وجہ یہ ہے کہ اِس گناہ کا ارتکاب اگر اُس وقت بھی کیا جائے ، جب خدا کے حضور میں عاجزی کے اظہارکا موقع ہوتا ہے تو اِس کی شناعت بہت زیادہ ہوجائے گی۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن سنن ابی داؤد، رقم۶۳۷سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے علاوہ یہ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ اِن مصادر میں بھی دیکھ لی جاسکتی ہے: مسند بزار، رقم ۱۸۸۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۰۰۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۰۵۵۹۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۳۳۰۶۔

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۸۰۶میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اِس باب کی ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے: 'أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ جَرِّ الْإِزَارِ'''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہ بند کو لٹکا کر گھسیٹنے سے منع فرمایا ہے''۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذاتی عمل بھی اِس باب میں بیان ہوا ہے۔ مصنف ہی کی رقم۲۴۸۱۶میں ہے:'أَنَّہُ کَانَ یُسْبِلُ إِزَارَہُ فَقِیْلَ لَہُ فِيْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: إِنِّيْ رَجُلٌ حَمِشُ السَّاقَیْنِ''' وہ اپنا تہ بند لٹکایا کرتے تھے۔اُن سے جب اِس معاملے میں کچھ کہا جاتا تو فرماتے تھے:''میں اِس لیے کرلیتا ہوں کہ در اصل پتلی پنڈلیوں والاآدمی ہوں''۔ ''

۲۔بعض روایات، مثلاً مسند بزار، رقم۱۸۸۴میں یہاں 'فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ' کے بجاے 'لَمْ یَکُنْ مِنَ اللّٰہِ' کے الفاظ آئے ہیں اور راوی نے اُس میں اپنے اِس شک کا اظہار بھی کیا ہے کہ 'فِي الصَّلٰوۃِ''' نماز میں'' کے الفاظ آپ نے فرمائے تھے یا نہیں۔

—۶—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ۱: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ جَرَّ ثَوْبَہُ۲ خُیَلاَءَ۳، لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ القِیَامَۃِ''۴. فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ ثَوْبِيْ۵ یَسْتَرْخِيْ۶ [حَتّٰی یَقَعَ الْأَرْضَ۷]، إِلَّا أَنْ أَتَعَاہَدَ ذٰلِکَ مِنْہُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذٰلِکَ خُیَلاَءَ''۸.

ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی ازار کا کپڑا غرور سے (زمین پر) گھسیٹتا ہوا چلے گا ، اللہ قیامت کے دن اُس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں فرمائے گا۔ اِس پر ابو بکررضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میری ازار کے کپڑے کی ایک طرف تو نیچے ہو کر زمین تک لٹک جاتی ہے، الاّ یہ کہ ہر وقت اُس کا خیال کرتا رہوں ۔آپ نے فرمایا: تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے۔۱

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ لٹک جاتی ہے، لیکن تم دانستہ نہیں لٹکاتے ہو کہ اُس سے تکبر یا متکبرانہ وضع کے ساتھ کسی مشابہت کا تاثر پیدا ہو۔آپ کا یہ جواب پوری صراحت کے ساتھ واضح کردیتا ہے کہ اِس معاملے میں حکم کی بنیاد فی الواقع تکبر ہی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۳۶۶۵ سے لیا گیا ہے۔ یہی مضمون عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ہُبیب بن مغفل غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوا ہے۔اسلوب وتعبیر اور تفصیلات میں، البتہ کچھ فرق ہے۔

صحیح بخاری کے اِس طریق کے علاوہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مضمون جن مصادر میں روایت ہواہے، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۹۸۰، ۱۹۹۸۴۔ موطا مالک، رقم ۷۰۰، ۷۰۲۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم۴۔ مسند طیالسی، رقم ۲۰۶۰۔ مسند حمیدی، رقم ۶۵۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۸۰۷، ۲۴۸۰۸۔ مسند اسحاق، رقم ۱۹۶۵۔ مسند احمد، رقم ۴۴۸۹، ۴۵۶۷، ۴۸۸۴، ۵۰۱۴، ۵۰۳۸، ۵۰۵۰، ۵۰۵۵، ۵۰۵۷، ۵۱۷۳، ۵۱۸۸، ۵۲۴۸، ۵۳۲۷، ۵۳۷۷، ۵۴۳۹،۵۴۶۰، ۵۵۳۵، ۵۷۷۶، ۵۸۰۳، ۶۱۲۳، ۶۱۵۰، ۶۱۵۲، ۶۲۰۴، ۶۴۴۲۔ منتخب من مسند عبد بن حمید، رقم ۸۲۲۔ صحیح بخاری، رقم ۵۷۸۳، ۵۷۹۱۔ صحیح مسلم، رقم ۲۰۸۵۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۶۹۔ سنن ترمذی، رقم ۱۷۳۰، ۱۷۳۱۔ مسند بزار، رقم، ۵۵۴۹، ۵۵۵۰، ۵۵۵۱، ۶۰۹۰، ۶۰۹۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۲۷، ۵۳۲۸، ۵۳۳۶۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۳۶، ۹۶۴۱، ۹۶۴۲، ۹۶۴۳، ۹۶۴۴، ۹۶۴۵، ۹۶۴۷، ۹۶۴۸، ۹۶۴۹، ۹۶۵۱، ۹۶۵۲، ۹۶۷۶۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۵۷۲، ۵۶۴۴، ۵۷۲۲، ۵۷۹۴، ۵۸۲۵۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۴۸۲، ۸۵۷۲، ۸۵۷۳، ۸۵۷۴، ۸۵۷۵، ۸۵۷۶، ۸۵۷۷، ۸۵۷۸، ۸۵۷۹، ۸۵۸۰، ۸۵۸۱، ۸۵۸۲، ۸۵۸۳، ۸۵۸۴، ۸۵۸۵، ۸۵۸۶، ۸۵۸۷، ۸۵۸۸، ۸۵۸۹، ۸۵۹۰، ۸۵۹۱، ۸۵۹۲، ۸۵۹۳، ۸۵۹۴، ۸۵۹۵، ۸۵۹۶، ۸۵۹۷، ۸۵۹۸، ۸۵۹۹، ۸۶۰۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۴۳، ۶۵۸۱۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۵۸۶۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۹۷۹، ۱۴۷۷، ۱۷۰۰، ۲۷۹۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۳۲۹۵۔ مسند شہاب، رقم ۱۰۶۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۳۲۵۲۔ معرفۃ السنن و الآثار، بیہقی، رقم ۴۱۲۹۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اِس مضمون کی روایتوں کے مراجع یہ ہیں: موطا مالک، رقم ۷۰۱۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۱۴۴۔ مسند طیالسی، رقم ۲۶۰۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۸۱۰۔ مسند اسحاق، رقم ۷۰، ۷۱، ۷۲۔ مسند احمد، رقم ۹۰۰۴، ۹۳۰۵، ۹۵۵۵، ۹۸۵۴، ۱۰۰۲۳، ۱۰۲۰۷، ۱۰۵۴۱۔ صحیح بخاری، رقم ۵۷۸۸۔ صحیح مسلم، رقم ۲۰۸۷۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۷۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۴۰۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۵۶۰، ۸۵۶۱، ۸۵۷۰۔

ہُبیب بن مغفل غفاری رضی اللہ عنہ سے اِس مضمون کی روایت مسند احمد، رقم ۱۵۶۰۵، ۱۸۰۷۷ اور مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۵۴۲ میں دیکھ لی جا سکتی ہے۔ اُن سے اِس باب میں جو تنہا متن نقل ہوا ہے، وہ یہ ہے:

عَنْ ہُبَیْبِ بْنِ مُغْفِلٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّہُ رَاٰی مُحَمَّدًا الْقُرَشِيَّ قَامَ یَجُرُّ إِزَارَہُ، فَنَظَرَ إِلَیْہِ ہُبَیْبٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''مَنْ وَطِءَہُ خُیَلَاءَ وَطِءَہُ فِي النَّارِ''. (مسند احمد، رقم ۱۵۶۰۵)

'' ہُبیب بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے محمد قرشی کو دیکھا کہ وہ کھڑا اپنا تہ بند نیچے لٹکا کر گھسیٹ رہا ہے تو اُس سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے متکبرانہ اپنا تہ بند زمین پر گھسیٹا، وہ اُس کو دوزخ میں بھی گھسیٹے گا۔''

۲۔ مسند احمد، رقم ۵۰۳۸ میں یہاں 'ثَوْبَہُ' ''اپنا کپڑا'' کے بجاے 'ثَوْبًا مِنْ ثِیَابِہِ' ''اپنے لباس کا کوئی کپڑا'' کے الفاظ آئے ہیں، جب کہ بعض روایتوں، مثلاً جامع معمر بن راشد ہی کی رقم ۱۹۹۸۰ میں یہاں 'ثَوْبَہُ' کے بجاے 'إِزَارَہُ' ''اپنا تہ بند'' کے الفاظ ہیں۔

۳۔ مسند احمد، رقم ۵۰۱۴ میں یہاں 'مِنَ الْخُیَلَاءِ' کے بجاے 'مِنْ مَخِیْلَۃٍ' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ معنی کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۴۔ بعض طرق، مثلاً مسند طیالسی، رقم ۲۰۶۰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے آپ کا یہ ارشاد اِس تعبیر کے ساتھ نقل ہوا ہے: 'مَنْ جَرِّ إِزَارَہُ لَا یُرِیْدُ بِذٰلِکَ إِلَّا الْمَخِیْلَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَنْظُرُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ'۔ جب کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۵۷۸۸ میں یہ اِس اسلوب میں نقل ہوا ہے: 'أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ یَوْمَ القِیَامَۃِ إِلٰی مَنْ جَرَّ إِزَارَہُ بَطَرًا''' ''قیامت کے دن اللہ اُس شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند لٹکا کر گھسیٹا''۔

۵۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۵۸۱۶ میں یہاں 'ثَوْبِيْ' ''میرا کپڑا'' کے بجاے 'إِزَارِيْ' ''میرا تہ بند'' کا لفظ آیا ہے۔

۶۔ مسند احمد، رقم ۶۳۴۰ میں اِس موقع پرسیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے الفاظ اِس طرح نقل ہوئے ہیں: 'إِنَّہُ یَسْتَرْخِيْ إِزَارِيْ أَحْیَانًا' ''میرا تہ بند بعض اوقات نیچے ہو کر لٹک جاتا ہے''۔ صحیح بخاری، رقم ۶۰۶۲میں 'إِنَّ إِزَارِيْ یَسْقُطُ مِنْ أَحَدِ شِقَّیْہِ؟' ''میرا تہ بند ایک طرف سے نیچے گر جاتا ہے'' کے الفاظ ہیں۔ سنن ابی داود، رقم ۴۰۸۵ میں ہے: 'إِنَّ أَحَدَ جَانِبَيْ إِزَارِيْ یَسْتَرْخِيْ' ''میرے تہ بند کی ایک جانب نیچے لٹک جاتی ہے''۔

۷۔ جامع معمر بن راشد، رقم ۴۵۲۔

۸۔ مسند حمیدی، رقم ۶۶۴ میں یہاں 'إِنَّکَ لَسْتَ مِنْہُمْ' ''تم اُن میں سے نہیں ہو'' کے الفاظ آئے ہیں۔ صحیح بخاری، رقم ۶۰۶۲ میں یہاں 'لَسْتَ مِمَّنْ یَصْنَعُہُ خُیَلاَءَ' ''تم اُن میں سے نہیں ہو جو تکبر سے ایسا کرتے ہیں'' کے الفاظ ہیں۔

روایت میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اپنے لباس کے بارے میں تردد کا اظہار اور آپ کی طرف سے اِس کی یہ وضاحت ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ اِس باب کے جن طرق میں نقل ہوئی ہے، اُن کے مراجع یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۴۵۲، ۱۹۹۸۰۔ مسند حمیدی، رقم ۶۶۴۔ مسند احمد، رقم ۵۳۵۱، ۵۳۵۲، ۵۸۱۶، ۶۲۰۳، ۶۳۴۰۔ صحیح بخاری، رقم ۵۷۸۴، ۶۰۶۲۔ سنن ابی داود، رقم ۴۰۸۵۔ سنن ترمذی، رقم ۵۴۴۴۔ مسند بزار، رقم ۶۰۵۴۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۳۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۳۸۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۳۳۱۴، ۳۳۱۵۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم ۴۱۲۳۔

—۷—

عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ۱، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ فِيْ جَرِّ الذَّیْلِ مَا قَالَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَکَیْفَ بِنَا؟ فَقَالَ: ''جُرِّیْہِ شِبْرًا''، فَقَالَتْ: إِذًا تَتَکَشَّفُ الْقَدَمَانِ۲، قَالَ: ''فَجُرِّیْہِ ذِرَاعًا''۳.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دامن کو لٹکانے کے بارے میں فرمایا جو کچھ فرمایا۱ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم عورتوں کے لیے کیا ہدایت ہے؟ اِس کے جواب میں آپ نے فرمایا : تم ایک بالشت نیچے لٹکا سکتی ہو۔۲ ام سلمہ نے عرض کیا: اِس طرح تو ہمارے پاؤں کھل جائیں گے۔۳آپ نے فرمایا: اچھا تو ہاتھ برابر لٹکالو۔۴

________

۱۔ مطلب یہ ہے کہ دامن کے بارے میں بھی وہی ہدایت فرمائی جو مردوں کو اُن کی ازار کے بارے میں فرمائی ہے۔یہ اِس لیے کہ اسبال کرتے اور قمیص میں بھی ہوتا تھا، جس طرح کہ پیچھے روایت میں بیان ہوا ہے۔ یہاں اگرچہ ابہام کا اسلوب ہے، لیکن آگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے 'قَالَ فِيْ جَرِّ الذَّیْلِ مَا قَالَ' کا یہ مدعا بالکل واضح ہو جاتا ہے۔

۲۔ یعنی آدھی پنڈلی سے ایک بالشت نیچے۔اِس کا قرینہ یہ ہے کہ پچھلی روایت میں جو وعید مذکور ہے، اُس کے ساتھ آپ ازار کو یہیں تک رکھنے کی تاکید بھی فرماتے تھے۔چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اِسی کے پیش نظر پوچھا اور آپ نے اِسی کے مطابق جواب دیا ہے۔

۳۔اِس سے معلوم ہوا کہ اُس زمانے میں عورتیں اپنے پاؤں بھی دوسروں کے سامنے کھولنا پسند نہیں کرتی تھیں۔ یہ، ظاہر ہے کہ حیا کے احساس کا سماجی اطلاق ہے جو زمانے کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اِس سے شریعت کا کوئی حکم اخذ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

۴۔ یعنی ہاتھ برابر لٹکانے کے نتیجے میں اگر ٹخنوں سے کچھ نیچے بھی ہوجائے تو مضایقہ نہیں ہے، لیکن اِس سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۸۹۱ سے لیا گیا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اِس واقعے کو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے۔سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے متن کے کچھ اختلاف کے ساتھ اِس کے متابعات اِن مصادر میں مذکور ہیں: موطا مالک، رقم ۱۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۴۸۹۰۔ مسند اسحاق، رقم ۱۸۴۱۔ مسند احمد، رقم ۲۶۵۱۱، ۲۶۵۳۲، ۲۶۶۳۶، ۲۶۶۸۱۔ سنن دارمی، رقم ۲۶۸۶۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۸۰۔ سنن ابی داود، رقم ۴۱۱۷، ۴۱۱۸۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۵۳، ۹۶۵۴، ۹۶۵۵، ۹۶۵۷، ۹۶۵۸، ۹۶۵۹، ۹۶۶۰، ۹۶۶۱، ۹۶۶۲۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۳۷، ۵۳۳۸، ۵۳۳۹۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۸۹۰، ۶۸۹۱، ۶۹۷۷۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۵۷۹، ۹۱۶، ۱۰۰۷، ۱۰۰۸۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۳۲۵۳۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۵۷۳۵۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس واقعے کی روایت اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۹۸۴۔ مسند اسحاق، رقم۱۹۶۵۔ مسند احمد، رقم ۴۴۸۹، ۵۱۷۳۔ سنن ترمذی، رقم ۱۷۳۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۵۳۳۶۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۹۶۵۱، ۹۶۵۲۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۸۶۰۰۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۳۲۵۲۔

۲۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ جملہ روایتوں میں متعدد اسالیب میں نقل ہوا ہے۔ بعض طرق، مثلاً المعجم الکبیر،طبرانی، رقم ۱۰۰۸ میں یہاں اُنھی سے 'إِذًا تَنْکَشِفُ الْقَدَمَانِ' ''اِس طرح تو پاؤں ظاہر ہو جائیں گے'' کے الفاظ آئے ہیں۔ کئی طرق، مثلاً مسند احمد، رقم ۴۴۸۹ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہاں 'إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُنَا' ''اِس طرح تو ہمارے پاؤں ظاہر ہو جائیں گے'' کے الفاظ ہیں۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۳۲۵۲ میں اُنھی سے یہاں 'إذًا تَخْرُجُ سُوْقُہُنَّ' ''اِس طرح تو اُن کی پنڈلیاں کھل جائیں گی'' کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔

۳۔ کئی طرق، مثلاً مسند اسحاق، رقم ۱۸۴۱ میں ہے کہ آپ نے عورتوں کو اپنا دامن ہاتھ برابر لٹکالینے کی ہدایت کے ساتھ یہ فرمایا کہ 'لَا یَزِدْنَ عَلَیْہِ' ''اِس سے زیادہ نہ لٹکائیں''۔

—۸—

عَنْ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِيِّ،۱ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَبِعَ رَجُلاً مِنْ ثَقِیْفٍ [قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَہُ]،۲ حَتّٰی ہَرْوَلَ فِيْ أَثَرِہِ، حَتّٰی أَخَذَ ثَوْبَہُ، فَقَالَ: ''ارْفَعْ إِزَارَکَ [وَاتَّقِ اللّٰہَ]''.۳ قَالَ: فَکَشَفَ الرَّجُلُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنِّيْ أَحْنَفُ، وَتَصْطَکُّ رُکْبَتَايَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''[ارْفَعْ إِزَارَکَ]،۴ کُلُّ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ''، قَالَ: وَلَمْ یُرَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُہُ إِلٰی أَنْصَافِ سَاقَیْہِ حَتّٰی مَاتَ.۵

شرید بن سُوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے جس نے اپنا تہ بند نیچے لٹکا رکھا تھا، یہاں تک کہ تیز چلتے ہوئے آپ اُس کے پاس پہنچ گئے اور اُس کی ازار کا کپڑا پکڑ کر فرمایا:اپنا تہ بند اوپر کرو اور اللہ سے ڈرو۔ اُس نے اِس پر اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا: یا رسول اللہ، میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی بات نہیں)، تم اپنا تہ بند اونچا رکھو، اللہ کی ہر تخلیق اچھی ہی ہے۱۔راوی کہتے ہیں کہ اِس کے بعد مرتے دم تک اُس شخص کو جب بھی دیکھا گیا، اُ س کا تہ بند آدھی پنڈلیوں تک ہی رہتا تھا۔

________

۱۔اِس طرح کے معاملات میں سختی اور نرمی موقع ومحل کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور افراد کے لحاظ سے بھی۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک اثر سے، جس کا حوالہ اوپر متن کے حواشی میں گزر چکا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ متعذرین کے لیے اِسے ضروری نہیں سمجھتے تھے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم۱۹۴۷۲سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا شرید بن سُوید ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند احمد کی اِس روایت کے علاوہ اِس واقعے کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۹۴۷۵۔ مسند حمیدی، رقم۸۲۹۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۷۲۴۰۔

۲۔مسند حمیدی، رقم۸۲۹۔

۳۔مسند احمد، رقم ۱۹۴۷۵۔

۴۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۷۲۴۰۔

۵۔بعض روایتوں، مثلاً المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۷۹۰۹میں اِسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہوا ہے، وہ فرماتے ہیں:

بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِذْ لَحِقَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ الْأَنْصَارِيُّ فِيْ حُلَّۃٍ إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، قَدْ أَسْبَلَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْخُذُ بِنَاحِیَۃِ ثَوْبِہِ، وَیَتَوَاضَعُ لِلّٰہِ وَیَقُوْلُ: ''اللّٰہُمَّ عَبْدُکَ، وَابْنُ عَبْدِکَ، وَابْنُ أَمَتِکَ''، حَتّٰی سَمِعَہَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ، فَالْتَفَتَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنِّيْ أَحْمَشُ السَّاقَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''یَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَۃَ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ کُلَّ خَلْقِہِ یَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَۃَ، إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُسْبِلِیْنَ''، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِکَفِّہِ تَحْتَ رُکْبَۃِ نَفْسِہِ، فَقَالَ: ''یَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَۃَ، ہٰذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ''، ثُمَّ رَفَعَہَا، ثُمَّ وَضَعَہَا تَحْتَ ذٰلِکَ فَقَالَ: ''یَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَۃَ، ہٰذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ''، ثُمَّ رَفَعَہَا، ثُمَّ وَضَعَہَا تَحْتَ ذٰلِکَ فَقَالَ: ''یَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَۃَ ہٰذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ''.

'' ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھے کہ عمرو بن زرارہ بھی اِس اثنا میں تہ بند اور چادر کی ایک پوشاک پہنے حاضر ہوئے۔اُنھوں نے اپنا کپڑا نیچے لٹکایا ہوا تھا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اُس کے کپڑے کا کنارہ پکڑ کر اللہ کے لیے عاجزی کا اظہار کرنے لگے ، آپ نے فرمایا:اے اللہ، تیرا بندہ ہے، تیرے غلام اور تیری بندی کا بیٹا ہے، یہاں تک کہ آپ کے یہ کلمات عمرو بن زرارہ نے بھی سن لیے تو اُنھوں نے آپ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا:اے اللہ کے رسول، میں یہ اِس لیے کرلیتا ہوں کہ میری پنڈلیاں دبلی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر فرمایا:اے عمرو بن زرارہ،اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کو نہایت خوبی سے تخلیق فرمایا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ کپڑے نیچے لٹکائے رکھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنے کے نیچے ہتھیلی رکھ کر فرمایا:اے عمرو بن زرارہ، تہ بند لٹکانے کی جگہ یہ ہے۔ پھر آپ نے اپنی ہتھیلی اٹھالی اور اُس کو اُس جگہ سے ذرا نیچے رکھ کر فرمایا:اے عمرو بن زرارہ، تہ بند لٹکانے کی جگہ یہ ہے۔ پھر آپ نے اپنی ہتھیلی اٹھائی اور اُس کو اُس جگہ سے ذرا نیچے رکھ کر فرمایا:اے عمرو بن زرارہ، تہ بند لٹکانے کی جگہ یہ ہے۔''

یہ واقعہ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مسند احمد، رقم۱۷۷۸۲اور مسند شامیین، طبرانی، رقم ۱۲۳۷میں بھی نقل ہوا ہے۔

اِس باب میں ایک واقعہ جابر بن سُلیم ہُجیمی رضی اللہ عنہ سے بھی بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۲۰۶۳۳ میں منقول ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے علم کی کچھ مفید باتیں سکھانے کی درخواست کی تو آپ نے جو نصیحتیں اُس موقع پر اُن کو فرمائیں، اُن میں ایک یہ بات بھی تھی: 'وَإِیَّاکَ وَتَسْبِیْلَ الْإِزَارِ، فَإِنَّہُ مِنَ الْخُیَلاَءِ، وَالْخُیَلاَءُ لَا یُحِبُّہَا اللّٰہُ' ''تہ بند کو لٹکانے سے اجتناب کرنا، اِس لیے کہ ایسا غرورکی بنا پر کیا جاتا ہے اور غرور اللہ کو بالکل پسند نہیں ہے''۔

اِس واقعے کے راوی تنہا جابر بن سُلیم رضی اللہ عنہ ہیں۔مسند احمد کی اِس روایت کے علاوہ الفاظ اور تفصیلات کے کچھ فرق کے ساتھ یہ جن مراجع میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہیں: مسند ابن جعد، رقم۳۱۰۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۷۹۲، ۲۴۸۲۲۔ مسند احمد، رقم ۲۰۶۳۴۔ سنن ابی داؤد، رقم۴۰۸۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۶۱۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۲۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۶۳۸۶۔ مستدرک حاکم، رقم۷۳۸۲۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۲۱۰۹۳۔

لباس کی متکبرانہ وضع (2/2)

____________