مدرسہ ڈسکورس اور روایتی مدرسہ


علامہ اقبال رحمہ اللہ کے تصور'' مذہبی فکر کی تعمیر نو'' اور ڈاکٹر فضل الرحمٰن مرحوم کے تصور ''اسلام'' پر قائم نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کا یہ پروجیکٹ پاکستان میں کافی سرگرم ہے۔اس پروجیکٹ کے نمایندگان کا تصور اسلام الہامی نہیں تاریخی ہے،یعنی اسلام کوئی فکس اور منجمد تصورات کا حامل نہیں، بلکہ ہر عہد میں ہونے والے تغیر یافتہ دین کا نام ہے۔ان کے بقول،اسلام ایک رسی کی طرح ہے، جس کے دھاگوں میں ہر زماں تاریخی عمل اپنے رنگ کا دھاگا پرو دیتا اور اسلام کی رسی کو عہد حاضر سے ہم رنگ کرتا رہتا ہے۔

اس تحریک میں اہل مدرسہ بہت تیزی سے شریک ہورہے ہیں۔جس سے بعض ہوش منداہل مدرسہ پریشان بھی ہیں، لیکن اسے قبول کرنے والے بھی مدارس ہی کے تعلیم یافتہ لوگ ہیں،بلکہ اس فکرکا بانی بھی مدرسہ کا فاضل تھا۔ میں اس مضمون میں مدارس میں اس کی قبولیت کے علمی اسباب کا جائزہ لوں گا۔ اس کے بعد ''ارباب المورد'' کے بارے میں عرض کروں گاکہ اس فکرکے لحاظ سے وہ کہاں کھڑے ہیں۔

مدرسہ ڈسکورس کاتاریخی اسلام کا تصور نیا نہیں ہے۔یہ قدیم ہے،البتہ اس کا یہ نام نیا ہے، اور اس کا احساس و شعور(realization) بھی نیا ہے۔اس قدامت کی وجہ سے اسے روایتی فکر کا منتہا کہا جاسکتا ہے۔لیکن یہ اب جس گھاٹی پر چڑھ بیٹھا ہے، مدارس کو ہو سکتا ہے اس سے وحشت ہو، جس کا اظہار وہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے خلاف کرچکے ہیں۔ لیکن اپنی بنیادوں میں یہ اہل مدرسہ کے فکرہی کی اگلی کڑی ہے جو بظاہر روایت کے شجرسے بریدہ معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں پھوٹی وہیں سےہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے دور اول سے آج تک نئے قانونی تقاضوں، فکر یونان، تصوف اور اعتزال وغیرہ کا مقابلہ ہمیشہ دوطریقوں سے کیا:اسلاف کی آرا وقیاسات سے اور اجماع علما سے۔ان کے یہاں، قرآن اس جھگڑے میں کبھی فیصلہ کن مقام پر نہیں رہا۔ احادیث و آثاراوراقوال مفسرین اسی لیے جمع ہوئے تھےکہ اسلاف کی آرا کوبطور دین استعمال کیا جاسکے۔سلفی و فقہی منہج اس اعتبار سے ایک ہی عمل تھے، کہ عہد اول کو دین کے صحیح تر تصور کے طور پر پیش کیا جائے۔نتیجہ یہ نکلا کہ عہد اول کا تصورو فہم ، اسلام قرار پایا، تو معنی کیا ہوئے کہ اسلاف نے جو دھاگے قرآن وسنت کی حبل متین میں پرو دیے تھے، وہ اسلام کا حصہ مان لیے گئے۔ہر مسئلہ کا جواب عہد اسلاف میں ملنا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا، عہد بہ عہد ہونے والےفکری ارتقا اور ''فقہی قیاسات ''کو بھی دین مان لیا گیا۔یہ درحقیقت علاقائی اور زمانی فہم کو دین کی رسی میں پرونا ہی تھا۔اہل تشیع نے اپنے آئمہ کے ملفوظات کو دین قرار دے ڈالا۔یوں ہم صدیوں سے اسلام کے تاریخی تصور میں جی رہے ہیں، خواہ ماضی میں اسے یہ نام نہ دیا گیاہو۔

مدرسہ ڈسکورس کا اس پرانی فکر پر ایک اضافہ بھی ہے۔وہ یہ کہ پرانےمحدثین و فقہا قرآن کے ایک حصے کو الہامی یا مابعد الطبیعاتی دائرے میں رکھ کر اس کی ماثوری تعبیر پر مقلدانہ طریقے پر قائم رہتے تھے کہ یہ امورانسانی علم کے دائرے سے ماورا ہیں۔ اسلامی عقیدوں کی بنیاد ایسی ہی بعض مابعد الطبیعاتی ماثورات پر رکھی گئی ہے،مثلاً آدم و حوا، ابلیس کا قصہ، خدا کا کلمۂ کن سے چھ روز میں تخلیق کائنات ،خلیفہ کا بننا، وغیرہ۔لیکن مدرسہ ڈسکورس انھیں بھی تاریخی ارتقا کی زد میں لانا چاہتا ہے۔اور اب پہلی دفعہ مدرسہ اس جیسے نصوص کی ماثوری تعبیروں پر بھی حرف زنی کرے گا، اس لیے کہ ان نصوص کا مفہوم اب عہد جدید میں تبدیلی چاہتا ہے۔ آسان طریقہ تو یہ تھا کہ اسے دیومالا قرار دے کر اٹھا پھینکا جاتا، لیکن مجبوری ہے کہ وہ قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔اس لیے اس قصے کو مجازی قراردیا جائےگا۔پھر آدم تاریخی نہیں، بلکہ ایک تمثیلی شخصیت قرار پائیں گے۔

اس مقصد کے لیےعلمی تاریخیت اور خاص طور پر لسانی تاریخیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔اس میں، مثلاًان کے ایک اہم آدمی سے بات کے دوران میں جو مثالیں سامنے آئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ 'وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ' میں 'تَجْرِيْ' کے معنی کیا ہیں؟ان کے خیال میں پرانے زمانے میں 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ' کا مفہوم یہ تھا کہ سورج زمین کے گرد چکر لگاتا ہے، اور آج اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے پورے نظام شمسی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ یوں تاریخی عمل نے 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ' کے معنی تبدیل کردیے ہیں!چنانچہ ان کے نزدیک،تمام نصوص قرآنی جدید علوم کی روشنی میں ایسا ہی تعبیر نو کا تقاضا کرتے ہیں۔پرانےزمانے میں آدم، آدم علیہ السلام سمجھے گئے اور اب لفظ 'آدم ' کسی کا نام نہیں، محض انسانیت کی علامت ہوگا۔

روایتی فقہ میں مقاصد شریعہ اور استحسان و مصالح مرسلہ کے ادلہ کا استعمال یہی بتاتا ہے کہ انسانی بہبود و ترقی کے ساتھ اسلام کو ہم آہنگ رکھا جائے۔فقہ کے انبار اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہیں، جن کی مثالیں مدرسہ ڈسکورس کے ارباب کی تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

اربابِ مدرسہ ڈسکورسز یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ فہم متن میں قاری کے :

۱۔اپنے مزاجی رجحانات،

۲۔ اس کے ماحول میں موجود علم و تہذیب کے تناظرات اور

۳۔کلام کے اپنے مدلولات کام آتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ ابو حنیفہ ،ابن حزم اور ابن تیمیہ رحمہم اللہ نے جو کچھ سمجھا اور لکھا، اس میں بھی یہی تین عوامل کارفرما تھے۔

فرنگی دور اقتدار میں جونئی علمی تحریکیں اٹھیں، ان میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے، وہ یہ کہ نصوص کی طرف رجوع کیا جائے۔مقلدین اور سلفی آج تک اس رجوع کے راستے میں رکاوٹ تھے۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو اسی وجہ سے مخالفت کا سامنا ہوا تھا کہ ان کے اصول پر شریعت از سر نو غور کی محتاج تھی،لیکن اب غالباً اہل مدارس نے یہ بات مان لی ہے کہ واقعی شریعت از سر نو غور کی محتاج ہے۔لیکن ہمارے خیال میں اس کے لیے جو اصول ثلاثہ اوپر ذکر کیے گئے ہیں، ان کی روشنی میں غور نہایت مہلک طریقہ ثابت ہو گا۔

مدرسہ ڈسکورس کی فکر سے جو نتائج نکلتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ :

o مسلمان ہر عہد میں احکام و عقائد کی عصری تقاضوں کے لحاظ سے تعبیر کرتے آئے ہیں، او ر اس کے وجود اطہر میں ان تقاضوں کے مطابق نئے نئے پیوندلگاتے آئے ہیں،آج پھر اس کی اشد ضرورت ہے۔

o عہد حاضر میں سب کچھ بدل گیا ہے۔سائنس، ٹیکنالوجی، نظریۂ ارتقا اور فلکیات، غرض بے شمار تصورات نے قدیم تصور کائنات کو تہ و بالا کردیا ہے۔لہٰذا نصوص کے فہم کو عہد حاضر کی معلومات کی روشنی میں تعبیر و تعمیر نو سے گزارنا ہو گا۔مثلاًابتداے آفرینش، ظہور حیات ، صنفی تفریق، اورتخلیق آدم سے متعلق آیات نئے علوم و معارف کی روشنی میں دیکھنے اور سمجھنے کا تقاضا کرتی ہیں، وغیرہ۔

o اس عمل سے ان نصوص کو بھی گزرنا ہےجو الہامی دائرے میں ہونے کی وجہ سے ناقابل تغیر سمجھی جاتی تھیں۔ مثلاً آدم و حوا پہلے انسان تھے، معجزات ہوا کرتے تھے ؟

o اجماع علما، ایک عہد کے تناظر کا ظہور ہے، آج نئے تناظر میں اس کا ظہور ہونا ہے۔

o احکام ہر زمانے میں تبدیل ہوتے رہے ہیں، تو آج بھی تبدیل ہونے ہوں گے۔پرانے لوگوں نے اپنے علم کی روشنی میں دین کو سمجھا، ہم بھی اپنے علم کی روشنی میں سمجھیں گے۔مثلاً 'اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ ' [1]کے معنی آج کے صنفی مساوات کی آگاہی کے دور میں تعمیر نو کے محتاج ہیں۔

اگر اسلا م اسی تاریخیت کا نام ہے، توسوال یہ ہےکہ عیسائیت جو کچھ کہ وہ عہد نبوی میں بن چکی تھی، یہودیت جیسے کہ نزول قرآن کے زمانے میں ڈھل چکی تھی، اوردین ابراہیمی کی اسماعیلی شاخ نے جو کچھ دین ابراہیمی کے ساتھ کردیا ہوا تھا،قرآن نےاسے تاریخیت کہہ کر قبول کیوں نہیں کیا؟ قرآن 'افترا علی اللہ' پھر 'يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ '[2]پھر 'اِلَّا٘ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَا٘'[3]سے کس چیز کو پکارتا ہے۔وہ کیا ہے جسے قرآن 'اِبْتَدَعُوْهَا '[4] کہہ کر بدعت کہتا ہے؟ وہ کیا ہے جسے قرآن مجید 'يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ'[5] کہہ کر کبیرہ گناہ قرار دیتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے اس سب کو تاریخیت کے نام پرقبول کیوں نہیں کیا ؟اس نے اپنے مخاطبین کو 'ضَالِيْن' اور 'مَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ ' کیوں گردانا؟حالاں کہ وہ تو اپنے دین کی ''تاریخی تعبیر ''پر کھڑے تھے!

قرآن کا یہ طرز تخاطب بتاتا ہے کہ مدرسہ ڈسکورس، تحریف الکلمات، تشکیل بدعات اور افترا علی اللہ کے عمل کو قرآن کے علی الرغم علمی توثیق فراہم کرکے ان کی عہد جدید میں'' تجدید ''کرنا چاہتا ہے۔اس لیے روایتی علما کو اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔لیکن ان کے لیے غور کرنے کے لیے چند باتوں کو ذرا کھلے دل ودماغ سے دیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ان مسلکی امور پر بھی دھیان دینا ہوگا کہ جس کی وجہ سے ان میں اور مدرسہ ڈسکورس میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ میں نے اس مضمون میں ان مماثلتوں کو غلط فہمیوں کا نام دیا ہے، تاکہ غور کے لیے توجہ پا سکیں۔

روایتی مدرسہ اور مدرسہ ڈسکورس کی ہم آہنگی کی بنیادیں

مدرسہ ڈسکورس، محدثانہ اپروچ اور فقہی روایت ایک ہی علمی عمل کی پیداوار ہیں۔اس تاریخی عمل نے چند غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔ذیل میں ان کا جائزہ لیتے ہیں:

فقہ و شریعت کی ہم سری

یہ پہلی غلط فہمی ہے کہ احکام الہٰی اور سنت رسول کی طرح فقہا و علما کے فتاویٰ و توضیحات دین ہیں،یعنی شریعت الہٰی، سنت نبوی اور علما کے نظریات وفتاویٰ کو یکساں طور پر اسلام قرار دیا گیا ہے۔ ابوحنیفہ و شافعی کے اقوال و فرامین بھی اسلام ہیں، ہاورن الرشید کے عہد کے قاضیوں کے فیصلے بھی اسلام ہیں،محمڈن لاء بھی اسلام ہے، نظریاتی کونسل کی تجاویز بھی اسلام ہیں۔غرض مسلمان علما، قاضیوں، اور مفتیوں کی تمام قیل و قال اسلام ہے۔ ہمارے اسلامی لٹریچر میں، مثلاً آج 'تکافل' کی اصطلاح ایجاد ہوئی ہے، وہ بھی اسلام ہے۔مدرسہ کا یہ ذہن ہے جس کی وجہ سے ان کو اسلام تاریخیت کی پیداوار نظر آتا ہے۔

ہماری مراد یہ ہے کہ علما، قاضیوں، مفتیوں اور فقیہوں کے اقوال دین بن گئے، حالاں کہ وہ غیر اللہ کے اقوال ، اور فہم انسانی تھے۔جب حضرت عمر نے عراق کی زمینوں کو نہیں بانٹا، جب انھوں نے تین طلاق کو ایک کے طور پر نافذ کیا تو اسے اسلام کی شریعت قرار دیا گیا۔یونہی عہد عہد کے فتاویٰ دین کا حصہ بنتے گئے۔اسی طرح صوفیوں نے جو اخذوایجاد کیے، وہ بھی دین بن گئے۔وحدت الوجود اورطریقت اسی طرح دین ہے، جس طرح فقہا کی تشکیل کردہ فقہ، جب اس سب کو دین سمجھا جائے گا تو بلاشبہ تاریخیت ہی تاریخیت نظر آئے گی۔

شیعہ و سنی مدرسہ کا اسلام آج بھی وجود میں آتا ہے۔جب ان کے عہد کا فقیہ و امام کسی نئے مسئلے میں فتویٰ دیتا ہے تو وہ اسلام کے وجود اطہر میں اپنا پیوند لگا دیتا ہے۔نیا نیا لگا ہر پیوند ایسا ہی دین سمجھا جاتا ہے، جیسے کہ قرآن و سنت کو۔میرے اس مختصر تجزیے سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارے زندہ مسالک کے نزدیک اسلام دراصل اس روایت کا نام ہے جو اسلاف، ائمۂ اہل بیت، فقہاے اہل سنت اور صوفیہ کے اجماعی و انفرادی فتاویٰ نے بنائی ہے۔قرآن وسنت تو بس برکت کے لیے ہیں، اسلام کانام ونسب اور چند احکام گو قرآن وسنت سے ہیں، لیکن اس کا تنا، شاخیں، پتے اور پھل پھول سب ان لوگوں کے ہاتھوں نے لگائے ہیں، جو تاریخی عمل میں سامنے آتے رہے۔ حنفی، شافعی اور مالکی فقہی فتاویٰ، راوی کی حکایات،اہل بیت کی باتیں اور مکاشفات صوفیہ فرمان نبوی کی طرح دینی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ اسلام کے وجود کا غیرمنفک حصہ ہیں۔

مدرسہ ڈسکورس نے صرف اتنا کیا ہے کہ وہ کام جو تمام مکاتب فکر عملا ً کرتے آرہے ہیں،اس کو شعوری طور پردریافت کیا، سمجھا اور بیان کردیا ہے۔پھر اس کے بارے میں یہ کہا کہ اس کو شعور ی طور پر قبول کیا جائے اور سمجھا جائے کہ پچھلی صدیوں میں کیا ہوتا رہا ہے، تو آج بھی وہی کیا جائے اوراس کے کچھ نکلنے والے تازہ نتائج کو بھی قبول کرلیا جائے۔اس کے بعد اسلام کی تعمیر نو کی جائے تاکہ اسلام عہد حاضر میں زندہ رہ سکے۔اقبال نے جب فکر اسلامی کی تعمیر جدید کا نعرہ بلند کیا تھا تو ان کے پیش نظر یہی تھا، کیونکہ ان کے اس مقالے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ اسلام جامد نہیں ہے[6]۔اقبال کے اس پیغام کو ڈاکٹر فضل الرحمٰن، مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، اور علامہ محمد اسد وغیرہ نےاٹھایا۔ ان سب نے اپنے اپنے رنگ میں اسلام کی تعمیر نو کا کام کیا ۔ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اپنےانداز میں مذکورہ مقالے کو اہمیت دی اور اقبال کے نظریے کو سمجھا اور اپنی کتابوں، بالخصوص ''اسلام ''میں پیش کیا۔اقبال کا یہ کہنا ہے کہ اسلام ایک جامد ڈھانچا نہیں ہے۔اوپر بیان کردہ مختصر جائزہ بتاتا ہے کہ ہر صدی اسلام کی تعمیر کرتی رہی ہے۔ آج کا عہد بہت وسیع تعمیرنو کا تقاضا کرتا ہے۔تعمیر نو ترجمہ ہے: reconstruction کا،جس کے معنی تجدید و تعبیرکے نہیں ہوتے،بلکہ تعمیر نو کے ہوتے ہیں۔اس میں پرانی عمارت ختم ہو جاتی ہے،لیکن اقبال کے اس لفظ کا ترجمہ 'تشکیل جدید'کردیا گیا تھا، جس سے اس کےاصل مفہوم کا زور تھوڑا دب سا جاتا ہے،گو مراد وہی ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام بس وہ ہے جو قرآن و سنت میں آیا ہے۔ان دونوں کے باہر جو کچھ ہے، وہ اسلام نہیں ہے۔یہ تمام چیزیں، جیسے فقہ، قانون، تصوف، وغیرہ دین اسلام نہیں ہے، نہ اس کا حصہ ہے۔ان سب کو اسلام نہیں، بلکہ مسلم قانون اور مسلم علم و فلسفہ کہنا چاہیے۔جیسے ہی ان دونوں کو جدا گانہ دیکھا جائے گا تو اسلام کا تصور تاریخیت دھڑام سے گر جائے گا۔یہ فریب نظر پیدا ہی اس وجہ سے ہوا کہ اسلام ہر اچھے برے دور میں پیدا ہونے والے تصورات وتفقہات کو کہہ دیا گیا ہے۔

فقہ امصار اور شریعت

دوسری غلط فہمی یہ ہوئی کہ ریاست ہاے اسلامیہ جو بھی قانون سازی کرتی رہی ہیں، اسے دین کا درجہ ملتا رہا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے امضاےطلاق ثلاثہ آرڈیننس سے لے کر ''فتاویٰ عالمگیریہ'' وغیرہ تک سب کچھ اسلام ہے۔ ریاست کبھی اصلاح معاشرہ کے لیے اقدامات کرتی ہے، اور کبھی اپنے تحفظ و مصالح کے لیے۔ مثلاً سیدنا عمر نے طلاق ثلاثہ کو نافذ کرنے کا جو حکم دیا تھا، اس میں ان کا کہنا یہ نہیں تھا کہ قرآن کے مطابق تین طلاق کو تین ہی شمار کیا جائے گا۔ ان کے الفاظ تو یہ تھے کہ دین میں لوگوں کے لیے جس بات میں( سوچ بچار کے لیے) مہلت تھی، اس میں وہ عجلت برتنے لگ گئےہیں تو اگر ہم ان پر نافذ کردیں، تو شاید وہ اس عجلت سے رک جائیں۔ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ اس اصول پر انھوں نے تین طلاقوں کو نافذ کردیا[7]۔بعد کا فقیہ اس عمل کی توجیہ یہ کربیٹھا کہ حضرت عمر نے اپنے عصری تقاضے سے نصوص کےمفہوم کو تبدیل کیا ہے۔ لہٰذا ان کا سزا نامہ فقہ اسلامی میں داخل ہو کر شریعت کی نئی تعبیر قرار پایا[8]۔اس عمل سے بھی اسلام ایک تاریخی ارتقائی دین معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ان کے مطابق حضرت عمر کی طرح، ہر حکومت نے اسلام کے وجود اطہر میں جوڑ لگائے ہیں۔

لسانی تاریخیت

تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ زبان تاریخیت کے عمل سے معنی تبدیل کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مثلاً قرآن کہتا ہے کہ 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ': سورج چلتا ہے، قدما سمجھتے تھے کہ وہ زمین کے گرد گھومتا ہے، آج قرآن کا طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ وہ کہشکشاؤں کے ساتھ محوسفر ہے تو دیکھا کہ 'سورج چلتا ہے ' کا مفہوم مرور زمانہ سے بدل گیا۔ لہٰذا، اگر اس طرح کی آیات میں معنی بدل سکتے ہیں تو احکامی آیات کے بھی معنی بدل سکتے ہیں۔جب سماجی اعتبارات بدل جائیں تو 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ' کی طرح 'اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ' کےمعنی بھی بدلیں گے،لیکن مقلدین اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔

یہ محض مغالطہ ہے، نہ 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ' کے معنی بدلے ہیں اور نہ جدید علوم اورسماجی تناظر نے ان میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ دراصل یہ اس طرز فہم کا نتیجہ ہے، جسے فکر یونان کے دفاع میں عہد شافعی سے اہل علم اپنائے ہوئے ہیں۔جس میں کلام کے مصداقات کی تلاش ہی وہ چیز رہی ہے جو نہ صرف دلالت کلام کی قوت کے لیے ہادم دین بنتی رہی ہے، بلکہ آیات متشابہات میں غارت گر ایمان بھی ہوتی رہی ہے ۔مصداق ہی وہ چیز ہے جو ذہنوں میں اور مرور زمانہ سے بدلتا رہتا ہے، جس سے لسانیات میں fluidity کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

قدما گو زبان کو تاریخیت کے زاویے سے نہ دیکھتے ہوں، مگر یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے زبان کو حتمیت کے درجے میں کبھی نہیں مانا، بلکہ کلام سے باہر موجود چیزوں کو حتمی مان کر ان کی روشنی میں تاویلات کو روا رکھا، اور ہمیشہ مصداقات کو متعین اگر نہیں بھی کیا تو ان کے درپے ضرور رہے۔ متشابہات کے فہم میں جب، مثلاً یہ جملہ بولا گیا کہ 'الاستواء معلوم، والكيف مجهول'، تو یہ جملہ دراصل لسانی نہیں خارجی عامل سے آیت کے مصداق کے تعین کی کوشش کے رد کے لیے غیر لسانی سہارا اختیار کرنے کی سعی تھی،حالاں کہ نہ استوا معلوم تھا اور نہ کیف، دونوں کا مصداق نامعلوم شے تھی، اور تا قیامت نامعلوم رہےگی۔ اس کا اصل جواب یہ تھا کہ ان آیات میں مصداق کا تعین پیش نظر ہی نہیں،مصداق کے بغیر بھی آیت اپنے مدعا میں دو ٹوک ہے۔آگے چل کر ہم واضح کریں گے کہ فہم کلام میں مصداق کےتعین کی بسا اوقات کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات مصداق غیر معلوم ہوتا ہے، لیکن مدعاے کلام اس کو جانے بغیر بھی ادا ہو جاتا ہے۔

توضیح قرآن کا تصور

چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ اہل مدرسہ سنت کو مستقل بالذات ماخذ دین نہیں مانتے، بلکہ قرآن کی توضیح یا تفصیل مانتے ہیں، حالاں کہ معاملہ یوں نہیں تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ توضیح و تفصیل تو درکنا ر، اس کے لیے قرآن مجید میں اشارہ تک بھی نہ ہو، تب بھی سنن کومانا جائے گا۔ یہ خبر واحد کے شرائط تھے کہ قرآن کے خلاف نہ ہو، وہ دائرة للقرآن ہو، وہ اس کی توضیح و تفسیر ہو، وغیرہ۔لیکن امتداد زمانہ سے جب سنت اور خبر واحد میں فرق ختم ہوا تو سنت کا درجہ گر کر خبر واحد کے برابر رہ گیا۔اس تصور کی کوکھ سے اس غلط فہمی نے جنم لیا جس پر شافعی کی ''الرسالہ''، شاطبی کی ''موافقات''، ابن حزم کی ''الاحکام ''اور تمام فقہ و شرح حدیث کاذخیرہ گواہ ہیں[9]۔ سنت کے ساتھ جو ظلم ہوا سو ہوا، جیسے ہی سنت کو توضیح یا تفصیل قرآن کا مقام دیا گیا، تو تفسیر و توضیح کے معنی ہی بدل گئے۔مثلاً ،شروح زکوٰۃ کو لیجیے، یہ نہ قرآنی حکم کی تفصیل تھیں اور نہ توضیح ، بلکہ وہ الگ سے ایک مستقل حکم تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیین زکوٰۃ کو جب تفصیل قرار دیا گیا،اور قرآن کو مجمل تواس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآنی ا لفاظ میں وہ معنی گھسیڑ دیے گئے جن کا لفظ متحمل ہی نہیں تھا۔اس نے مسلم دنیا میں یہ فضا پیدا کی کہ قرآن کے الفاظ کی لفظی دلالت سے ہٹ کر بھی تعبیر و تشریح ہو سکتی ہے۔اسی سے آج یہ جرأت پیدا ہوئی ہے کہ قرآن کے معنی تاریخ کی زد میں آکر بدلتے رہتے ہیں،کیونکہ ان کے مطابق،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے معنی، لفظی دلالت سے ہٹ کر، اپنے ذہن کے لحاظ سے طے کیے تھے، آپ کے بعد، اس عمل نبی کو اسوہ مانتے ہوئے، ائمۂ فقہ نے بھی یہی کیا تھا۔لہٰذا ہم بھی آج یہی عمل کرسکتے ہیں۔ان کے ہاں، دین نصوص کے فہم کا نہیں، بلکہ ہرعہد حاضر کے تناظر میں تعمیر نو کا نام ہے۔ غلام احمد پرویز صاحب اس تعبیر نو کا اختیار عالم دین کو، بلکہ مرکز ملت کو دینا چاہتے ہیں۔

اخبار آحاد نے توضیح القرآن کا درجہ پا کر اس عمل کو مزید بے اصولا بنا دیا تھا، لیکن اسے شافعی کی''الرسالہ'' سے تا حال اصولی صورت دینے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ مثلاً تخصیص اور نسخ وغیرہ کےنظریے انھی بے اصولیوں کو اصولی شکل دینے کی سعی تھے، اور آج سماجی تناظر میں نصوص کو سمجھنے کا نام دینا بھی اسی کی ایک صورت ہے۔مثلاً اللہ نے چار چیزوں کو حرام کیا، اللہ کے رسول نے ان چار پر اور کئی جانوروں کا اضافہ کردیا تو 'اِنَّمَا' کے معنی مجاز کے کردیے گئے، وغیرہ۔زبان کے ساتھ اس معاملہ نے لفظی دلالتوں کو ہمیشہ کے لیے بے وزن کردیا۔دلالت لسانی ایک بوسیدہ کپڑے کے مانند تھی، جس کی ہر دھجی باقی کپڑے سے اکھڑی جاتی ہو۔ لہٰذا لسانی دلالتوں پر، پہلے فقہا ومحدثین کے اصول پھر صوفیہ کا اعتبار اور فلسفہ کے قضایا عقلیہ غالب آگئے، سو تاریخیت کے لیے ہمیشہ کے لیے بنیادیں فراہم ہو گئیں، جسے ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اب دریافت کرلیا۔دراصل جس روایت کو سرسید توڑنے کی کوشش کررہے تھے، فضل الرحمٰن اسی کو تاریخیت کا درجہ دے کر بچانے کی کوشش کررہے تھے،جب کہ نتائج سرسید ہی کے حاصل ہورہے تھے۔سرسید اس روایت کو کار بے بنیاد کہہ کر از سر نو تعمیر دین کی دعوت دے رہے تھے تو فضل الرحمٰن تاریخیت کے عمل کو بیان کرکے اپنے لیے اسی تعمیر نو کا جواز پیدا کررہے تھے۔ فکرسرسید، روایت کے رد کردینے کی وجہ سے سوسال کے لگ بھگ عمر پا کر وفات پاگئی۔ فضل الرحمٰن کو مدرسہ نے قبول کرلیا، تو شاید روایت کا سہار ا مل جانے پر چند صدیوں کے لیے جی پائے، لیکن آگاہ رہنا چاہیے کہ مدرسہ ڈسکورس کار نبوت کرے گا،یعنی نئے تناظر میں عبادات و معاملات کی نئی تشریع ہوگی نہ کہ تشریح۔اقبال ہی نے کہا تھا:

زمانے کے انداز بدلے گئے نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

تمدّن، تصوّف، شریعت، کلام بُتانِ عَجم کے پُجاری تمام!

حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ اُمّت روایات میں کھو گئی

مصادر کی ہم سری

پانچویں غلط فہمی یہ ہوئی کہ مصادر دین، قرآن و سنت اور حدیث ہم پلہ قرار پائے۔ امام شافعی نے اخبار آحاد کو وجوب عملی کے لیے منوایا تھا، لیکن آہستہ آہستہ خبر واحد علم کا ماخذ بھی بن گئی اور وجوب علم کا فریضہ ادا کرنے لگی،اس لیے کہ ہر ذہن کے لیے اس بات میں فرق کر لینا آسان نہیں کہ آپ جس حکم پر عمل کررہے ہیں، اسے عملا ًماننے کے باوجود علماً نہ مانیں۔ یہ عام ذہن کو تضاد فکر سا معلوم ہوتا ہے۔ امام شافعی کی بات کا لازمی تقاضا تھا کہ حدیث میں صرف عملی چیزیں ہی محفوظ کی جاتیں، لیکن ہوا یہ کہ اخبار آحاد میں صرف عملی چیزیں محفوظ نہیں کی گئیں، بلکہ خالص علمی چیزیں بھی ثبت کر لی گئیں۔ مثلاً آمد مسیح علیہ السلام کے اخبار،اس پر وجوب عمل کے کیا معنی؟ کیا یہ تضاد فکر نہیں کہ آمد مسیح کی خبر ظنی ہے تو عقیدہ تو نہ بنائیں، لیکن ظنی طور پر اسے مانیں۔ سو اس کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی کہ اخبار کو بھی علم کا درجہ دیا جائے،سو ایسا ہوا۔ اس کے لیے غلط، مگردو ٹوک استدلال آپ کو ابن حزم کے ہاں ملے گا کہ کس طرح 'الذكر' کہہ کر انھوں نے ہر چیز کو حفاظت الہٰی کے دائرے میں لا موجود کیا۔چنانچہ عہد مابعد ابن حزم، روایتی مدرسہ اسی فکری ارتقا کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ دین میں ظن و قطع کا فرق نہیں ہے۔چنانچہ صدیوں کی لڑائی اس جگہ پہنچی کہ قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس ارتقا ے فکرنے دین کے بارے میں اس حساسیت کو ختم کردیا کہ دین میں کس چیز کو شامل کیا جائے۔چنانچہ بےدردی سے وجود اطہر میں پیوند کاری کی گئی۔اس سے پہلے قیاس اور اجماع علما کو بھی دین کا ماخذ سمجھ لیا گیا تھا، جو بجا طور پر تاریخیت کا تاثر دیتے ہیں۔ فقہا کے مقابلے میں اہل ظاہرنے اس عمل کو زیادہ تیزی سے اختیار کیا۔ چنانچہ ان کے ہاں حدیث کی بنیاد پر دیا گیا عالم کا فتویٰ قیاس کے مقابلے میں زیادہ قوی معیار پر دین بن جاتا ہے۔

مصادر فقہ: مصادر دین

چھٹی غلط فہمی یہ پیدا ہوئی ہے کہ قیاس و اجما ع جو فقہ امصار کے مصادر تھے،انھیں دین کے مصادر سمجھ لیا گیا، کیونکہ ان سے جو احکام برآمد ہورہے تھے، وہ دین کا حصہ بن رہے تھے۔ اپنی سادہ ترین صورت میں قیاس، بلاشبہ حکم شرعی کا محض امتداد بنتا ہے،اس سے نیا دین وجود پذیر نہیں ہوتا۔جیسے حرمت شراب کے اصول پر ہر نشہ آور چیز کی حرمت دین میں اضافہ نہیں تھی،لیکن قیاس کی بعض صورتیں دین میں اضافہ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔اجماع علما کو باعتبار حجت قرآن وسنت کی حیثیت مل گئی۔ آپ کی جرأت نہیں کہ علما کی اُن آرا پر زبان درازی کریں کہ جن پر ان کا نام نہاد یا واقعی اتفاق ہو چکا ہے۔تو گویا خطا سے پاک ایک مصدر وجود پذیر کردیا گیا۔ گویا صرف احکام و فتاویٰ ہی دین نہیں بنائے گئے، بلکہ ایک مصدر بھی دین میں شامل ہو گیا۔اجماع کے بعد قیاس کو 'القضايا العقلية قطعية'کے اصول پر قطعی قرار دے دیا گیا تھا،اس لیے کہ وہ جس منطق پر قائم تھا، اس میں خطا نہیں مانی جاتی۔لہٰذا اگر آپ ذرا دھیان سے معاملہ پر غور کریں تو قرآن قطعی الدلالت نہیں تھا، سنت متواتر ہ تفصیل قرآن بن کر بے محل ہو کراپنی شفافیت کھو بیٹھی تھی، اور حدیث ویسے ہی ظنی الثبوت تھی، تو شفاف اورقطعی کیا بچا: بس اجماع اور قیاس! یہ دونوں کیا ہیں؟ تاریخیت۔

مقاصدشریعہ یا حکم الہٰی

ساتویں غلط فہمی مقاصد شریعہ سے متعلق ہے۔غزالی اور شاطبی نےاس دین میں نصوص کی حاکمیت کی رہی سہی اہمیت کو ختم کیا۔انھوں نے شرائع کو مقاصد کے ساتھ جوڑ دیا۔ مقاصد ایسےمتعین کیےکہ جو دینی نہیں دنیوی تھے۔گویا دین جو رضاے الہٰی کے گرد گھومتا تھا، اسے مصلحت مکلف کے گرد گھما دیا۔مصلحت کی تاریخ بھی نئی نہیں، پرانی ہے۔استحسان اور مصالح مرسلہ کی اصطلاحات گو بعد میں پیدا ہوئیں، مگر تصورات پرانے تھے۔ اجماع وقیاس سے چونکہ ملی قانون بھی شریعت بن رہا تھا، اورملی قانون بلاشبہ عوام کے مصالح کے پیش نظر بنایا جاتا ہے، لہٰذا مقاصد شریعہ بنیادی حیثیت حاصل کرگئے،لیکن غزالی و شاطبی کے مقاصد شریعہ، الہٰی شریعت کو بھی ساتھ رکھتے تھے، اب فضل الرحمٰن نے مقاصد کو اصل قرار دے دیا اور شرائع کو ان کے لیے ذریعہ اور وسیلہ۔ مقاصد اجما ع وقیاس کی طرح دائمی اور قطعی بن گئے اور شرائع الہٰی وقتی اور علاقائی۔ یہ وہ تاریخی ارتقا ہے جو مسلم فکر میں ہوا ہے۔ مقاصد شریعہ اور شرائع کے انسانی قلم رو میں ہونے کی اگلی اسٹیج یہی بن سکتی تھی۔ مقاصد شریعہ اب شارع بن کر سامنے آئے ہیں۔ فقیہ ایک اعتبار سے منہا ہو چکا ہے۔لیکن اس کا کردار سماجی تناظر کے نمایندے کا ہے، جو اپنے ذاتی مزاج کی ملونی سے دین سازی کرکے اس کی چاشنی میں چوکھا پن لائے گا۔

یہ وہ مقام ہے جس پر روایتی فکر لاشعوری طور پر کھڑا تھا، مدرسہ ڈسکورس نے اسی مقام سے مدارس کو پکارا ہےکہ دین ہمیشہ علما کے 'مَا يَكْتُبُوْنَ' کا نام رہا ہے، نہ کہ قرآن و سنت کے نصوص کا۔آؤ، یہ عمل زندہ کریں کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔اس کی ایک مثال ان لوگوں کی ہے جو پاکستان میں فقہ کی دنیا آباد کیے بیٹھے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ مغربی قانون کے اصول و ضوابط جان کر فقہ اسلامی جدید مسائل کا حل کرسکتی ہے۔

تاریخیت

یہ فکر اسلامی کے ارتقا کی مختصراور تاریخیت کے زاویے سے کہانی ہے۔امت کے اہل فقہ و حدیث کے دین کے ساتھ مذکورہ بالا معاملات سے ''دین سازی ''علما کا کام قرار پایا ہے،حالاں کہ یہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے۔دین کا مصدر بھی بس یہی دو تھے،لیکن ان کو نئے مآخذ سے replace کر دیا گیا۔اللہ اور رسول کے فرامین ہی دین تھے،لیکن وہ ظنی قرار پائے، بس اجماع و قیاس سے دین ثابت ہونے لگا۔یوں دین کے تاریخیت والے تصور نے جنم لیا، جسے اقبال نے دریافت کیا کہ اسلام کیسے ہردم متحرک ہے اور اقبال کی اس دریافت کو فضل الرحمٰن نے اپنے رنگ میں سمجھا اور تاریخ کے آئینہ میں منعکس دکھا کر آگے بڑھایا۔

مدرسہ ڈسکورس کےمغربی ماخذ

کیتھولک پاپائیت

اس تحریک کا پہلا مغربی ماخذکیتھولک چرچ ہے۔کیتھولک چرچ مارٹن لوتھر کی تحریک رجوع الی النصوص کو روایتی مسیحیت کے خلاف خطرہ سمجھتا ہے،اس لیے کہ نصوص کی روایت سے ہٹ کر تعبیر کا دروازہ کھولنا، مسیحیت کے بنے ہوئے ڈھانچےکاہادم اور شارع کا مقام پوپ سے لے کر خدا کو لوٹانے کانام ہے۔ مدرسہ ڈسکورس بھی اپنی نوع میں کیتھولک ہے ، لیکن یہ دو رُخا ہے۔ایک طرف یہ تحریک اپنے آپ کو روایت سے جوڑتی معلوم ہوتی ہے کہ مذہب ہے ہی نری تاریخیت: ہر عہد میں نصوص کی تعبیر ،تعمیر اور تغیر سماجی و ذاتی رجحانات کے تحت ہوئے، اس لیے ہم پیروان ملت ہیں ۔ دوسری طرف وہ اس فقہی روایت کو دفن کرکے نئی تعمیرات کے راستے کھولنا چاہتے ہیں، لیکن لوتھر کی طرح یہ کام وہ خدا کو لوٹانا نہیں چاہتے، بلکہ تناظرات میں پھنسے فقیہ ہی کو سونپنا چاہتے ہیں۔اس اعتبار سے وہ اقبال اور سرسید، دونوں کے پیرو ہیں۔یوں یہ قدیم روایت اور جدید تناظرات کے اجتماع کا نام ہے۔جدت پسندوں کو اس میں تجدید اور قدامت پرستوں کو اس میں روایت کی خوبو محسوس ہوتی ہے۔

نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کیتھولک چرچ کا ایک مرکز ہے۔مدرسہ ڈسکورس اسی سے پھوٹا ہے۔گویا روایتی اسلام کو بائیں ہاتھ میں تھام لیا جائے جو کیتھولک چرچ کا پیغام ہے، نصوص کی نئی تعمیر کرکے ــــ جو پاپائیت کا وظیفہ ہے ــــ دائیں ہاتھ میں تھام لی جائے۔ یوں اسلام کو اکیسویں صدی کے لیے تیارکیا جائے۔کیتھولک چرچ نے عہد حاضر میں، تورات کے بیش تر تاریخی مندرجات کو جو مابعد الطبیعاتی ماثورات کی نوعیت کے ہیں،انھیں تمثیل اور مجاز سے تعبیر کیا ہے۔مثلاً قصۂ آدم و حوا اور ابلیس،انسانی تخلیق کے مراحل، تخلیق کائنات کے واقعات وغیرہ کو۔ ان کے بقول، چاہیے تو یہ ہے کہ انھیں دیو مالائی قرارد یا جائے، لیکن تورات میں ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں، لہٰذا انھیں مجازی قرار دے دیا گیا۔ گویا آدم علیہ السلام انسانوں کے اب وجد کوئی شخص نہیں محض علامتی انسان ہیں، جو تمثیل کے انداز میں باتیں سمجھانے کے لیے ایک کردار کے طور پر تخلیق کرلیے گئے ہیں۔ٹھیک یہ طرز فکر آپ کو مدرسہ ڈسکورسزکے ہاں دکھائی دے گا۔گویا دین اسلام کی مابعد الطبیعاتی حکایات ، جو ہمیں سچی مابعد الطبیعاتی اساسات فراہم کرتی ہیں، وہ منہدم کی جائیں گی۔ان اساسات کا انہدام عقلیت کے لیے تو نہایت دل نواز ہے، مگردین کے لیے زہر ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہر مذہب دیومالا تشکیل کرتا ہے تاکہ اس کے عقیدوں کو بنیادیں فراہم ہوں۔ اسلام بھی روزازل کی سچی واقعاتی ماثورات پیش کرتا ہے، جس پر اس کے عقائد کی بنیادیں ہیں۔

ہم اللہ کو رب کیوں مانتے ہیں، صرف اس لیے کہ ہمارے دین کی ماثورات کے مطابق اللہ نے ہمیں کلمۂ کن سے بنایا ہے،وہی ہمیں پالتا ہے، ہمیں امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وحدت آدم کا اسلامی تصور اسی حقیقی حکایت پر قائم ہے کہ ہم سب انسان کالے ہوں یا گورے، آدم و حوا کی اولاد ہیں، جنھیں مٹی سے براہ راست کلمۂ کن سے پیدا کیا گیا[10]۔ اللہ نے اپنی کائنات کی قلم رو میں بعض کام فرشتوں کو سونپ رکھے ہیں۔فرشتے اس کی غیرمرئی مخلوق ہیں۔اللہ انسانوں میں سے بعض کو چن کر رسالت دیتا رہا ہے۔ یہ باتیں، دین اسلام کی بنیاد بنتی ہیں۔اگر ان کا انکار کردیا جائے تو مذہب کی مذہبی اساسات ختم ہو جائیں گی۔ مدرسہ ڈسکورس اب ان بنیادوں کا انکار کرے گا، جس کے نتائج واضح ہیں۔

لیکن یہ کام کرے گا کون؟ ظاہری بات ہے عالم دین۔عالم دین کیسے کرسکتا ہے، اگر وہ دین سازی کا اختیار نہیں رکھتا، یا وہ نصوص کی تعبیر نو نہیں کرسکتا؟اس کا جواب یہ دیا جارہا ہے کہ اسلام کا تاریخی تصور یہ بتاتا ہے کہ فقہ اور تصوف کی صورت میں عالم دین یہ کام کرتے رہے ہیں۔ اسی کو آگے بڑھائیے، عالم دین کو پوپ کا مقام دیجیے تو وہ آپ کے دین کی اساسات بھی تبدیل کردے سکے گا۔یوں وہ حق رکھے گا کہ قرآن کے نصوص کی ایسی تعبیر کی داغ بیل ڈالے جس کے نقوش اوپر ہم نے واضح کیے ہیں۔

سماجی علوم کا منہج

اس کا دوسرا ماخذ عہد حاضر کا غالب نظریۂ علم ہے۔یہ نظریۂ علم انسانی عقل و ذہانت کو معیار نہیں مانتا، بلکہ اختبارات(tests)، تجربات(experiments) وغیرہ کو معیار حق مانتا ہے۔لہٰذا، اگر آپ نے ایک چیز کی پیمایش کرنا ہو تو اس میں دس روپے کا فُٹ، آپ کی نہایت قیمتی آنکھوں اور اعلیٰ ذہن کے مقابلے میں زیادہ صحت کے ساتھ فیصلہ کن ہے۔اس نظریۂ علم کوempiricismکہتے ہیں۔ سائنس کا تمام ترانحصار اسی نظریے پر ہے۔

اس نظریہ کی کوکھ سے ہی سوشل سائنسز کے نظریے نے جنم لیا ہے۔اس میں بھی معیار حق خارج میں پڑا ہوتا ہے۔مثلاً میں اگر یہ کہوں کہ پاکستانی لوگ زیادہ تر مذہبی ہیں، تو یہ بات سائنسی علم کا درجہ نہیں پاسکتی۔ جب تک کہ میں اس نظریے کو سرویز(surveys) اور انٹریوز وغیرہ کے ذریعے سے ثابت نہ کردوں۔اب وہی بات جو میں نے اندازے سے کہی تھی، ثابت ہو کر علم کا درجہ پا لے گی۔ مذہب کو بھی اس کے اثر میں اسی سان پر چڑھا دیا گیا۔لہٰذا ہر چھوٹی بڑی کتاب میں مذہب کو سماجی وتہذیبی قرار دے دیا گیا، چنانچہ جب علوم کی درجہ بندی کی گئی تو مذہب کو بھی سماجی علوم (humanities)کے دائرے میں ڈالا گیا،جس کے معنی یہ تھے کہ مذہب دراصل انسانوں کے سماجی تصورات سے پیدا ہوتا ہے۔لہٰذا اسلام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔وہ بھی ایک سماجی مذہب ہے۔تہذیبی عناصر نے اسے وجود بخشا ہے،بلکہ ہر تہذیب نے جہاں جہاں اسلام گیا،اسلام کے تار میں اپنے تار ملائے ہیں۔

لہٰذا، یہ سماجی تناظر تفسیر قرآن اور فقہ سازی میں موثر ماننا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ ارباب مدرسہ ڈسکورسز اسی تصور کی لے کو بڑھا رہے ہیں کہ تعبیر احکام و عقائد کا کام بھی اسی سماجی تناظر میں کیا جائے، اور ذاتی رجحانات بھی چونکہ سماج میں رنگے ہوتے ہیں، وہ اسی تہذیب کا شخصی رنگ ہے، اس لیے تعبیر نصوص میں ان کو بھی بار پانے دیا جائے۔ سماجی اور ذاتی رجحانات کو تعبیر نصوص میں موثر مانا جائے،کیونکہ مذہب اٹھتا ہی سماج سے ہے۔ سماج ہی گویا دین کی تشکیل کرے گا۔

ہمارا موقف

اوپر جو نکات واضح کیے گئے ہیں، ہم ان میں صاف اور سیدھی جگہ پر کھڑے ہیں۔ہمارے نزدیک دین کسی تاریخیت کا شکار نہیں ہے۔وہ پہلے دن افترا علی اللہ سے جدا ایک ممتاز احکام و شرائع کا مجموعہ تھا اور آج بھی ہے۔قرآن کے متن کی حفاظت اور سنت کے تواتر نے یہ ممکن بنا رکھا ہے کہ آج بھی دین اور علماو مسالک کے اضافوں کو جدا کرکے دیکھا جا سکے۔پرانی امتوں نے اپنے اپنے دین میں جن باتوں کو بڑھا لیا ہوا تھا، قرآن ان کی تردید کرتا اور ان کے اپنانے کو جرم قرار دیتا ہے،اس لیے فقہ و فتاویٰ کے نام سے جو کچھ انبار ہم نے تیار کررکھا ہے، وہ اسی ذیل میں آتا ہے۔الّا یہ کہ وہ محض امتداد حکم الہٰی ہو۔فقہ و فتاویٰ ہی وہ چیز ہے جو زمانی و سماجی تناظرات سے تبدیل ہوتی ہے۔لیکن قرآن و سنت کے نصوص کے معنی و مدعا کوتناظرات سماج و مجتہد سے بدلا نہیں جا سکتا ۔ان میں بیان شرائع اسلامیہ بھی امتداد زمانہ سے ناقابل عمل نہیں ہوتے۔'اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ ' کے جو معنی عہد قدیم میں تھے، وہی دور متوسط میں تھے اور وہی آج بھی ہیں، وہی کل بھی ہوں گے۔ یہ جس طرح عہد قدیم میں قابل عمل تھا، آج بھی قابل عمل ہے۔

دین کی تاریخیت کی نفی

قرآن مجید کے بے شمار نصوص، جن میں سے بعض کا حوالہ اوپر گزرا، حدیث کے بےشمار نصوص، جن میں سے سب سے معروف 'کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة' ہے، کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دین دینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کو حاصل ہے۔ان کے سوا یہ مقام و حیثیت کسی کو حاصل نہیں کہ ان کا قول و فعل اور تقریر دین اور ہدایت الہٰی قرار پائے۔لہٰذا درج ذیل امور اس بات کا لازمی نتیجہ ہیں۔ یہاں میں ان تصورات کو نکات کی صورت میں بیان کررہا ہوں، کیونکہ اس سے ان پر غور کرنا آسان ہوگا:

o دین کا مصدر حقیقی صرف اورصرف قرآن و سنت ہیں۔ لہٰذا دین صرف اور صرف قرآن و سنت تک محدود ہے۔ ان میں جو شرائع و عقائد بیان ہوئے ہیں،بس وہی دین کے مندرجات ہیں۔ان کے باہر کوئی چیز دین نہیں ہے۔

o قرآن و سنت، دونوں مستقل بالذات (independent)مصادر ہیں، ان دونوں کو ایک دوسرے سے ثبوت پانے کی ضرورت نہیں ہے۔

o سنت قرآن کے مجمل کی تفصیل نہیں، بلکہ خود اپنی ذات میں ایک مستقل ماخذہے۔قرآن مجید سنت کے بعض احکام کا محض تذکرہ کرتا ہے۔

o حدیث میں ان دونوں کاجزوی ریکارڈہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآنی احکام اور سنت پر عمل کا اسوہ اور بعض آیات و سنن کی تبیین وارد ہوئی ہے۔

o انتقال و حفاظت کے ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدم التفات کی وجہ سے حدیث کو ظنی الثبوت اور مروی المفہوم ہونے کی بنا پر قرآن و سنت کی بنیاد پر ہی مانا اور سمجھا جائے گا۔

o قرآن وسنت مستقل ماخذ ہیں، جب کہ حدیث ان کے ماتحت ہے۔حدیث کو ثبوت میں ظن، روایت بالمعنیٰ اور راویوں کی خطا ووہم کے امکانات کی وجہ سےقرآن و سنت کے برابر نہیں رکھا جاسکتا۔

o اجماع مجتہدین اور قیاس ہرگز دین کے ماخذ نہیں ہیں۔ البتہ وہ دین کی روشنی میں بعض مسائل کا حل ہیں، شارع کی تصدیق کے فقدان اور امکان خطا کی وجہ سے دین شمار نہیں ہو سکتے۔

o کسی فتویٰ پر علما کا وہ اجماع جس کے اجماع کا وقوع بھی اجماع سے ثابت ہو جائے، وہ بھی کسی بات کو دین نہیں بناسکتا، چہ جائیکہ وہ اجماع جس کا محض دعویٰ ہی کیا جاتا ہے۔علما توکیا تمام امت بھی اکٹھی ہو کر قرآن و سنت سے جدا کوئی نیا حکم دے گی تو وہ دین نہیں بن سکتا۔

o قرآن کے احکام بظاہر جامد ہیں، لیکن تکلیف و اہلیت کے قرآنی تصورکے تحت ہر عہدمیں قابل عمل ہیں۔

o علما کے فتاویٰ دین نہیں، نہ عدالتوں کے فیصلے دین ہیں، ہاں دین کے فہم یا عملی اطلاقات کی مثالیں ضرور ہیں ،لیکن انھیں دین کا مقام حاصل نہیں ہے۔کسی بڑے سے بڑے امام کا قول یقیناً حق ہوسکتا ہے، لیکن وہ دین کی حیثیت نہیں پاسکتا، اس لیے کہ اللہ و رسول کے حکم یا فرمان کے سطح کی چیزنہیں ہے،اس لیے اسے ہمیشہ دین سے جدا رکھنا چاہیے۔[11]

ان نکات کے ماننے کے بعد فقہ و تصوف اور علم کلام دین سے الگ قرار پاتے ہیں، ان کے غلط و صحیح ہونے کا مسئلہ یہاں زیر بحث نہیں، صرف یہ زیر بحث ہے کہ یہ چیزیں دین کے وجود اطہر کا جز نہیں ہیں۔لہٰذا دین اور تاریخیت ایک دوسرے کے لیے اجنبی قرار پاتے ہیں۔

لسانی تاریخیت کا مسئلہ

الفاظ جس ماحول میں بولے جارہے ہوتے ہیں، بلاشبہ اس ماحو ل کے تناظرکے اثرات ان میں موجود ہوتے ہیں۔ اس بات کا بھی پورا امکان ہے کہ پھر وہ الفاظ جس ماحول میں سمجھے جارہے ہوں، اس ماحول کا علم و رواج بھی فہم کلام میں اثر انداز ہو۔ پہلا اثر قبول کرنا کلام کے فہم کے لیے بسا اوقات ضروری ہوتا ہے۔مثلاً 'اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ'[12]کے بعض پہلو سمجھنے کےلیے 'هُمَا' اور 'الْغَار' سے واقفیت اہم ہوجاتی ہے۔لیکن دوسرا اثر کلام کو غارت کردے سکتا ہے۔جب کلام صادر ہو رہا ہوتا ہے تو وہ مخاطب کی طرف جاتا ہے، لیکن اپنی حقیقت میں کبھی متکلم، اپنے اولین مخاطب اور اپنے عہد صدور کے ماحول سے جدا نہیں ہوتا۔چنانچہ اگر قاری اسے اپنے ماحول میں لا کر سمجھے تو متکلم کی مراد و منشا کو کھودے سکتا ہے۔مثلاً:میں ایک ہندو سےکہوں کہ میں کسی خدا کو نہیں مانتا جس کو تم مانتے ہو۔ ایک مسلمان اسے اپنے تناظر میں سمجھے تو مجھے ملحد بنا کر رکھ دے گا۔

آئیے اب لسانی تاریخیت کو ہم سورج کی اسی مثال سے سمجھتے ہیں، جو ہم نے اوپر بیان کی ہے:

کلام قدیم لوگوں کا فہم آج ہمارا فہم

وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے سورج اپنے نظام شمسی اور کہکشاں کے ساتھ سفر کررہا ہے

اس گوشوارے میں 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ '[13]کا مفہوم تاریخی معنی میں سمجھایا گیا ہے۔پرانے لوگ سورج کے چلنے سے مراد یہ لیتے تھے کہ سورج مشرق سے مغرب کی طرف چلتے ہوئے زمین کے گرد گھومتا ہے ،لیکن سائنس کی ترقی کے بعد آج اس جملے کا فہم تبدیل ہو گیا ہے۔تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کلام کے معنی تاریخی تناظر سے بدل گئے۔ ہمارے خیال میں یہ خام خیالی ہے۔اس جملے کاتاریخ نے کچھ نہیں بگاڑا۔ جو معنی پہلے سمجھے گئے، وہ بھی وہی تھے جو آج سمجھے جارہے ہیں، فرق اس دائرے میں ہے جو مقصود کلام نہیں ہوتا۔ ذیل کے چارٹ سےکلام کے معنی کے بنیادی پہلو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔میرے خیال میں کلام بالعموم معنی کے اعتبار سےدرج ذیل معانی کے حامل ہوتے ہیں[14]۔ اسے مذکورہ بالا مثال ہی سےسمجھتے ہیں:

کلام معنی مراد مدعا مصداق

الشَّمْسُ تَجْرِيْ سورج چلتا ہے سورج کا پابند سفر ہونا سورج کےخدا ہونے کی نفی سورج کا زمین کے گرد گھومنا ( قدما کا فہم) سورج کا اپنی گلیکسی کے ساتھ سفر (جدید فہم)

مصداق اس آیت میں مقصود کلام نہیں تھا۔یعنی قرآن نے جب سورج کے چلنے کا ذکر کیا، تو وہ سائنس کی کتاب کی طرح سورج کی چال نہیں بتانا چاہتا، وہ تو اس سےخدا کی قدرت یا سورج کی غلامانہ گردش پر استدلال کررہا تھا۔کلام میں کبھی یہ ہوتا ہے کہ معنی ہی مدعا، اور مراد ہوں۔ مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ سورج ساکن ہے، تو اس کے جواب میں اگر میں یہ کہوں کہ سورج چلتا ہے، تو معنی ہی مراد اور مدعا ہےکہ تمھاری یہ بات غلط ہے کہ سورج ساکن ہے۔لیکن اگر سورج چلتا ہے، کا جملہ اس بات کے جواب میں کہا جائے کہ سورج دیوتا ہے، تو معنی''سورج چلتا ہے'' مراد نہیں بن سکتے۔اب مراد یہ ہوگی کہ دیوتا کو کام کرنے کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کرنی چاہیے،اورمدعا یہ ہوگا کہ سورج دیوتا نہیں ہے۔ ان مثالوں میں دیکھ لیجیے کہ سورج کی چال زیر بحث ہی نہیں کہ وہ مشرق سے مغرب میں چلتا ہے یا گھوڑے کی طرح چلتا ہے یا وہ کہکشاؤں میں محو پروا ز ہے۔اس چیز کو میں نے مصداق کہا ہے۔ لہٰذا اس پوری بحث میں دیکھیے کہ سورج کی چال، یعنی ''سورج چلتا ہے'' کا مصداق کلام کا مطلوب و مقصود ہی نہیں ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ جب بھی دین کو عصریت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ انھی مصداقات کےدرپے ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ تخت پر کیسے بیٹھتے ہیں، تخت کی وسعت کیا ہے، کیا تخت اتنا بڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر بیٹھ سکتے ہیں، وغیرہ۔ چنانچہ فلاسفہ سے قرآن کا واسطہ پڑا تو وہ بھی مصداق کے درپے ہوئے اور تصوف، علم کلام بھی اور آج سائنس سے واسطہ پڑا تو وہ بھی مصداقات کی بنا پر قرآن پر نقد کرتے ہیں، اور اب مدرسہ ڈسکورس والے اٹھے ہیں تو وہ بھی تاریخیت کو مصداقات کے اختلافات ہی سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یوں یہ 'تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ'[15]والا معاملہ ہو گیا، حالاں کہ مصداق بالعموم صرف ان احکام میں مقصود بنتا ہے جن احکام میں کوئی چیز کرنے کا یا لانے کا حکم ہو، جیسے 'اَقِمِ الصَّلٰوةَ' میں 'الصَّلٰوة' کا مصداق کیا ہے، متعین کرنا ہوگا۔

مزید وضاحت کے لیے ایک روز مرہ کی مثال سے بات سمجھتے ہیں۔مہمان کے آنے پر باپ بیٹے سے کہے کہ بیٹا، ان کے لیے پانی وانی لاؤ۔اس کا مصداق نلکے کا پانی بھی ہوسکتا ہے اور چائے بھی اور سوفٹ ڈرنک وغیرہ بھی،کیونکہ 'پانی وانی لانے ' کا جملہ مصداق کے تعین کے لیے بولا ہی نہیں گیا، مدعا مہمان نوازی تھی۔البتہ یہاں مصداق ایک پہلو سے پیش نظر ہے، وہ یہ کہ پانی وانی مہمان نوازی کی نوعیت کا ہو۔

کلام معنی مراد مدعا مصداق

بیٹا مہمان کے لیے پانی وانی لاؤ مشروب طلب ہوا ہے مہمان کو کچھ پیش کیا جائے مہمان نوازی پانی، سوفٹ ڈرنک، چائے، لسی وغیرہ میں سے کچھ بھی

یہاں کلام کے قطعی اور ظنی ہونے کے سمجھانے کی سبیل بھی پیدا ہوگئی ہے۔ لہٰذا موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، عرض کردوں کہ پہلی تین باتوں میں بالعموم قطعیت حاصل ہو جاتی ہے۔ البتہ مصداق کے معاملے میں قضیہ در قضیہ فرق ہوتا ہے۔بعض اوقات کلام میں مصداق غیر متعین ہوتے ہوئے بھی کلام واضح ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات مصداق تو سرے سے معلوم ہی نہیں ہوتا، لیکن مکمل معنی میں کلام ابلاغ مدعا کررہا ہوتا۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی قدرت وتخلیق کی وسعت بتانے کے لیے یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے سات آسمان و زمین بنائے، جب کہ ہم میں سے کسی کو ان کا مصداق معلوم نہیں۔ہاں شاید جن انبیا کو ملکوت السموات دکھائی گئی ہو، ان کو اس کا مصداق معلوم ہو۔تو کیا ان جملوں کا مدعا بیان نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے کہ مصداق معلوم ہو نہ ہو، مدعا بیان ہوگیا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہوں ''میں نے لیپ ٹاپ لے لیا ہے''۔لیپ ٹاپ کا مصداق کیا ہے، کس رنگ کا ہے، کس ماڈل کا ہے وغیرہ معلوم نہ بھی ہو، تو جو میں اطلاع دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے لیپ ٹاپ نامی چیز خرید لی ہے۔اس صورت میں اتنا کافی ہے کہ مخاطب لیپ ٹاپ کے نوع کی کسی بھی چیز یا تصور سے واقف ہو۔

الفاظ معنی مراد مدعا مصداق

قطعی قطعی قطعی قطعی قطعی/غیرقطعی/قطعی مگر غیر متعین[16]

اس ساری بحث کا مقصود یہ تھا کہ اگر مصداق کو بیچ میں نہ لایا جائے تو کلام کے معنی کی تاریخیت بے معنی ثابت ہوتی ہے۔'الشَّمْسُ تَجْرِيْ ' سے سورج کی حرکات کا تعین پیش نظر ہی نہیں تھا کہ اسے معنی کی تاریخیت کے حوالے کیا جائے، اور یہ نتیجہ نکالا جائے کہ متن قرآن کے نئے سماجی و علمی تناظر میں معنی بدل رہے ہیں۔لہٰذا تاریخی تناظر ،لسانی ارتعاش(fluidity)صرف مصداق سے متعلق ہو سکتا ہے، معنی مراد اور مدعا سے نہیں، اوریہی وہ دائرہ ہے جہاں کلام اور ذہنی تصورات کی غیر قطعیت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔لہٰذا مدرسہ ڈسکورس کے تصور کی فہم قرآن کے لیے کسی طور ضرورت نہیں ہے۔

مصداق سے تاریخیت کا تعلق بھی اسی وقت ہوگا جب مصداق میں تبدیلی آجائے۔ مثلاً سورج مستقر میں تیرنے کے بجاے، پاؤں چلنے لگے۔یا آج کے لیپ ٹاپ کے مقابلے میں مستقبل کا لیپ ٹاپ بالکل جداگانہ ہو جائے، وغیرہ۔اس صورت میں مدعا ے کلام ناقابل فہم ہو سکتا ہے، تبدیل نہیں۔مثلاً یہ جملہ کہ'' اس نے کتاب پڑھنے کے بعد لپیٹ دی''،اس مخاطب کے لیے قابل فہم نہیں ہے، جسے طومارscroll کے نوع کی کتاب سے واقفیت نہ ہو۔ وہ یہی سمجھے گا کہ کتاب کسی کپڑے میں لپیٹ دی گئی تھی۔

جیسا ہم نے اوپر لکھا کہ مصداق کا مسئلہ احکام میں ہو سکتا ہے کہ اس صورت میں اس کا متعین ہونا ضروری ہوتا ہے، لیکن شرعی احکام میں تاریخیت اثر انداز ہی نہیں ہوتی۔مثلاً 'الصَّلَاة' ہمیشہ 'الصَّلَاة' ہی ہے، تاریخ اس کی ہیئت پر کچھ اثر انداز نہیں ہوتی۔اسی طرح ''چور کے ہاتھ کاٹو'' میں 'ہاتھ' کا مصداق کیا ہے، 'چور' کا مصداق کون ہے، وغیرہ۔اس میں کوئی زمانی و ذاتی رجحا ن اور تناظر عمل میں نہیں آتا۔'ہاتھ' کا جومطلب عہد قدیم میں تھا، وہی آج بھی۔چور جسے کل کہتے تھے، وہ آج بھی معلوم ہے، گو واردات کے طریقے بدل گئے ہوں۔ ایسے ہی تمام احکام ہیں: نماز پڑھو، روزہ رکھو، شراب نہ پیو، زانی کو سو کوڑے لگاؤ، شوہر بیویوں کے قوام ہیں، وغیرہ تاریخی عمل سے گزرنے کے باوجود معنی میں تبدیلی نہیں کرتے۔گو ہمیں ان کے بارے میں اعتراضات کا سامنا ہے، لیکن ان احکام کے معنی واضح اور متعین ہیں۔

حاکمیت لفظ

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سماجی تناظر اور ذاتی رجحانات اسی وقت تک اثر انداز ہوتے ہیں، جب روایتی طریقے سے نصوص کو سمجھا جائے۔ جس کی تقریر اوپر تفصیل سے ہوگئی ہے۔جب کلام کو اس کے الفاظ، سیاق و سباق اور نسق کو سامنے رکھ کر سمجھا جائے ، اور الفاظ کی حاکمیت مانی جائے تو تاریخیت دم توڑ جائے گی ۔ یہ بات درست ہے کہ فہم کلام میں قاری کا مزاج، اور اس کاماحول اثر انداز ہوجاتے ہیں، لیکن یہ اصولی حیثیت نہیں رکھتے۔لہٰذا اگر کلام کے الفاظ و متعلقات کو یہ حیثیت حاصل ہو تو قاری کا مزاج اور ماحو ل کا تناظرمنہا کیا جانا ناممکن نہیں ہے ۔

دین کے احکام و عقائد سے متعلق نصوص اپنی حقیقت میں اس قدر واضح ہیں کہ تناظر و مزاج اصلاً اثر انداز نہیں ہوتے،لیکن اگر بعض علما ایسا کردیں تو الفاظ کی دلالت کی روشنی میں اس اثر کو زائل کیا جاسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ قرآن کو حاکمیت کا مقام دیا جائے۔ اس مقصد سے ہمارے فکر میں درج ذیل اصول [17]مانے جاتے ہیں، جو نہ صرف قرآن سے ماخوذ ہیں، بلکہ وہ سماجی تناظر اور ذاتی رجحانات کے اثرات سے بچنے کا بھی ذریعہ ہیں:

۱۔ قرآن تاریخیت سے بلند عربی معلیٰ میں ہے، جسے قرآن مجید نے 'بِلِسَانِكَ' کا نام دیا ہے[18]۔اس لیے نہ حمیری زبان سے قرآن کی تفسیر ہو گی اور نہ تاریخیت کا شکار آج کی زبان سے۔

۲۔ قرآن غریب و شاذ الفاظ اور اسلوب کی کجی سے پاک ہے[19]، اس لیے معروف الفاظ و اسالیب کی رو سے تفسیر کی جائے گی۔

۳۔ قرآن ہر طرح کی کتب، فلسفوں، فکر، تناظرات، رجحانا ت پر حاکم و میزان ہے[20]۔

۴۔ حدیث بھی تیسرے اصول کی وجہ سے قرآن کے ماتحت ہوگی،اس لیے اسلاف کی آرا ومرویات محض مدد گار تفسیر تو ہوں گی، حاکم نہیں۔

۵۔ قرآن کی آیات ایک دوسرے کے سمجھنے کے لیے معاون ہیں [21]۔

۶۔ ختم نبوت کا لازمی تقاضا ہے کہ نبی کریم انسانوں میں سے آخری پیغام بر اور قرآن دین کی آخری کتاب ہے، اب ان کے بعد کوئی فرقان میزان اور پیغام الہٰی کا ماخذ نہیں ہے۔

۷۔ قرآن ایک منظم اور مربوط کلام ہے، قرآن کی ترتیب [22]اورسورتوں کی تقسیم اسی پر دلالت کرتی ہے[23]۔

فہم نصوص کا اختلاف، بلاشبہ مسئلہ پیدا کرتا ہے، لیکن اگر اس میں الفاظ قرآنی کو فیصلہ کن مانا جائے تو اس کے رفع کرنے کے امکانات روشن ہیں، لیکن اگر قاری کے زمانی و مزاجی یا عصری و بشری تناظرات فیصلہ کن ہوں تو بات کہیں نہیں ٹھیرے گی۔نہ مزاج ایک سے ہوتے ہیں اور نہ زمانہ لوگوں پر ایک سے اثرات ڈالتا ہے۔جس عصری ارتقا سے سرسید پیدا ہوئے، اسی سے فراہی، اقبال اور نانوتوی پیدا ہوئے۔لہٰذا یہ کوئی قوی معیار نہیں ہوگا کہ ہم عصریات کو تناظر بنا کر کلام میں اتریں اور اسے عصری تقاضوں کے مطابق تاویل عطا کردیں۔یہ نرا گھاٹے کا سودا ہوگا۔اصل الاصول وہی ہے کہ قرآن کے کلام کو لسان قریش کی روشنی میں سمجھا جائے اور اس کے شرائع و عقائد کا تعین کیا جائے۔جس چیز کے مصداق کے تعین کی ضرورت ہے، اس پر ماضی و حال میں فرق نہیں ہوتا۔

دین کی ضرورت

ہمارے نزدیک دین کی ضرورت دو وجہ سے ہے: ایک اس لیے کہ ان عقائدو قوانین میں جن کے تعین کے لیے ہمارے پاس عقلی بنیادیں واضح نہیں ہیں، ان میں اللہ کی ہدایت معلوم ہوجائے، لیکن یہ بھی ثانوی وجہ ہے۔ پہلی اور بنیادی وجہ انسان کا امتحان ہے۔انسان کو اس امتحان میں اجتماعی اور انفرادی زندگی میں نہایت سنجیدہ امتحان درپیش ہے۔

لیکن، عہدحاضر میں، مادیت کا غلبہ ہے۔ فلاح انسانیت کےدنیوی تصورنے دین کے بنیادی تصور کو تبدیل کرڈالا ہے۔پہلے مقاصد شریعہ، پھر دینی ریاست کے نام سے فلاح انسانیت کا خواب دین سے جوڑا گیا، اب اسی کی کوکھ سے الحاد برآمد ہوا، اس لیے کہ مذہب کہیں بھی دنیا میں فلاح انسانیت کا فريضہ ادا کرتے دکھائی نہیں دیتا، بلکہ بہت سے مواقع پر اس کی فلاح کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، مثلاً سرمایہ کارانہ نظریۂ معاش اورسود کی حرمت رزق میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔فلاح انسانیت کے موجودہ تصورات سے اسلام کے بعض شرعی احکام میل نہیں کھاتے۔ لہٰذا اس نئے اعتبار سے، نئے شرعی احکام کی ضرورت ہے، مدرسہ ڈسکورس اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے احکام کی نئی تعبیر کے پیش نظر نئے اجتہادی تصورات کو تاریخیت کے رنگ سے پیش کرکے منوانا چاہتا ہے۔

مقاصد احکام کا مسئلہ

لہٰذا،وہ یہ کہتا ہے کہ حکم کے مقصد کو باقی رکھ کراحکام کی تعبیر کی جائے۔فقہ اسلامی کا روایتی تصور قانونی و حکمی ہے،یعنی وہ حاکم، محکوم علیہ، اورحکم وغیرہ کی نفسیات میں جیتا ہے،لیکن مقصد حکم کا فلسفہ اس کے اس مزاج کا قاتل ہوگا،اس لیے کہ اس میں بالخصوص حکم کی مطلق نفی ہوجاتی ہے۔شاید یہی اکیلی وجہ ہے کہ بعض فقہاے عہد حاضر لاشعور ی طور پر مدرسہ ڈسکورس کی مخالفت کررہے ہیں۔

عہد حاضر اور اسلام

اسلام، بادشاہ کائنات کا فرمان واجب الاذعان ہے۔یہ عہد حاضر سے مطابقت رکھے یا نہ رکھے،اسے ماننے اور عمل کرنے والا نجات پائے گا۔وہ بیوی جو اپنے شوہر کی قوامیت کو صرف اس لیے قبول کرلے کہ یہ اس کے خدا کا فرمان ہے؛ وہ شخص جو اپنے بوڑھے اور بیماریوں کے گھر باپ کے بول و براز کو صرف اس لیے صاف کرتا پھرے کہ کل اس کے بارے میں خدا نے پوچھنا ہے، تو وہ کامیاب ہو گئے۔بلاشبہ، انھوں نے عہد جدید کے خاندانی نظام کے خلاف کام کیا ہے، جس میں صرف بیوی بچوں کی ذمہ داری سر پر عائد ہوتی، اور شوہر قوام نہیں ہے۔وہ عورت جس نے اپنے تشخص کو گھر کے نظام کو چلانے کے لیے قوامیت کے ماتحت کردیا، اس نے خدا کے الفاظ میں صالحات[24] کا درجہ پایا۔ہم اسلام کو اسی رنگ سے دیکھتےہیں۔لیکن بعض قدیم فقہا، جیسے شاطبی اور غزالی وغیرہ نے بھی اسے دنیوی فلاح کے لیےپیش کیا، جسے مقاصد الشریعہ میں بیان کیا گیا اور آج مدرسہ ڈسکورسز بھی اسی طرح پیش کرنا چاہتاہے۔ جب کہ اسلام اصلاً آخرت کی کامیابی کے لیے آیا ہے۔

دور جدید کے آغاز ہی میں سرسید احمد خان اور مابعد اقبال اور مودودی صاحبان وغیرہ نے دین کا دفاع کرنے کی سوچی تو چار طرح سے دفاع کیا:

۱۔ اسلام کا کامیاب اور مکمل نظام زندگی ہونا۔

۲۔ سائنس اور علوم جدیدہ کے مطابق ہونا۔

۳۔ اجتہاد کی بنا پر متحرک الشریعہ ہونا۔

۴۔ رزق، صحت اور زندگی میں برکتیں عطا کرنے والا ہونا۔

یہ باتیں اسلام کو محتاج کرگئیں کہ اسلام سماجی اور وقتی تقاضوں کے مطابق ہو، زندگی میں کامیابی کا ضامن ہو، سائنس pure/social sciencesکے مطابق ہو۔اگر ایسا ہو تو قابل قبول ہے، وگرنہ وہ قابل قبول نہیں ہے۔چنانچہ اسی کے رد عمل میں وہ لوگ سامنے آئے جو اسلام کو فقہ، فلسفہ، سائنس اور تاریخیت وغیرہ سے پاک کرکے دیکھنا چاہتے تھے[25]، اسلام کو خالص حالت میں دیکھنے والوں کی سعی بھی بدقسمتی سے سرسید، اقبال اور مودودی صاحبان کی ہم مشربی سمجھی گئی۔ فضیلت کی راہ اختیار کرنے والوں نے بھی رزق، صحت اور زندگی میں برکتوں کو اسلام کے ساتھ جوڑ دیا۔اب ساری امت، بالخصوص اہل پاک و ہند، اسلام کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ڈاکٹر اقبال اور مودودی صاحب نے اسے مکمل ضابطۂ حیات قرار دیا ہے، ڈاکٹراقبال اور ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اسے متحرک دکھایا ہے، سرسید نے سائنسی حقائق کے مطابق ثابت کیا ہے، اور روایت پسندوں نے رزق، صحت اور زندگی کی دنیوی برکتوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سعی میں سب نے بعض حقیقتوں کا انکار کیا ہے، لیکن سب سے سنگین بات یہ پیدا ہوگئی ہے کہ خدا کا دین مہجور ہو گیا ہے۔ دین اپنے ثبوت کے اعتبار سے صحیح ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ مفید اور جدید علوم کے مطابق ہونے کی وجہ سے مانے جانے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو اب مجرد قرآن میں ہونا، کسی بات کو قابل قبول نہیں بناتا۔دوسری شرطیں لازم ہیں جن کاپچھلے پیروں میں ذکر ہوا۔اسی فضا میں مدرسہ ڈسکورسز کی تحریک ظاہر ہوئی ہے، کہ آؤ شریعت اور آیات قرآنی کو تاریخی تناظر میں سمجھ کر عہدحاضر کے مطابق کر دکھائیں۔

ہم اسلام کو خدا کے مستقل احکام کی صورت میں دیکھتےہیں، اور خدا کے احکام و تصورات کے پیش نظر حکمتوں کو جاننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ مذکورہ بالا بگاڑ میں اسلام پر امت کا اعتماد بحال کیا جائے،اس لیے ہم نہ 'اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَآءِ' کے معنی تاریخیت اور سماجی تناظرات کی روشنی میں بدلتے ہیں اور نہ 'وَاضْرِبُوْهُنَّ' کے۔البتہ قرآن و سنت پر جتنے اضافے امتیوں نے کیے ہیں، ان کو قرآن و سنت سے غیر موافق ہونے پر چھوڑنے کے قائل ہیں، اس لیے کہ اللہ نے ان کا ماننا لازم نہیں کیا ہے۔

____________

[1]۔النساء ۴: ۳۴۔

[2]۔البقرہ ۲: ۷۹۔

[3]۔یوسف ۱۲: ۴۰۔

[4]۔الحدید ۵۷: ۲۷۔

[5]۔النساء ۴: ۴۶۔

[6]۔اقبال کی کتاب ''The Reconstruction of Religious Thought in Islam'' کا چھٹا خطبہ 'The Principle of Movement in the Structure of Islam'۔

[7]۔ 'إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوْا فِيْ أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيْهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ' (مسلم، رقم ۱۴۷۲) میں قرائن کلام کی وجہ سے یہاں ' فَلَوْ ' کا جواب 'لما استعجلوا' حذف مان رہا ہوں، جسے اوپر ترجمہ میں واضح کردیا ہے۔بر سبیل تذکرہ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ حضرت عمر کے اس جملے 'قَدِ اسْتَعْجَلُوْا فِيْ أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيْهِ أَنَاةٌ' سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ وہ ایک مجلس میں 'تین دفعہ طلاق دیتا ہوں' کہہ دینے کے مسئلے پر بات نہیں کررہے ہیں، بلکہ ان کے سامنے ایسے واقعات تھے کہ جس میں لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں جو تین طلاقوں کا حق دیا گیا ہے، ان تینوں کو استعمال کرکے طلاق دے رہے ہیں، اس میں قاضی کی حیثیت سے وہ تینوں کو نافذ بھی کرسکتے تھے اور شرع متین کی خلاف ورزی کی وجہ سے لایعنی بھی قرار دے سکتے تھے،لیکن اس مصلحت کے پیش نظر کہ انھوں نے اگر نرمی اختیار کی تو طلاق کا یہ غلط طریقہ ہی رواج پا جائے گا، انھوں نے سختی برتی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی راے بھی وہی ہو، جو عبد اللہ ابن عمر کی تھی کہ 'وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ فِيْمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِكَ. وَبَانَتْ مِنْكَ'،''تو اگر تم نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو تم نے بیوی کو طلاق دینے میں واردحکم الہٰی کی معصیت کی ہے، اور تیری بیوی تجھ سے بائن ہوئی''(مسلم، رقم ۳۶۵۶)،لیکن یہ بات کاملاً ان کے مروی جملے سے مطابقت نہیں رکھتی۔دوسرے یہ کہ 'قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيْهِ أَنَاةٌ' سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ قرآنی منشا یہی سمجھتے ہیں کہ تین طلاقیں ایک ہی وقت میں نہیں دینی چاہییں۔

[8]۔ حالاں کہ سیدنا عمر شریعت میں نہ تبدیلی کررہے تھے اور نہ اسے نئی تعبیر نص قرار دے رہے تھے، ان کے الفاظ 'لَهُمْ فِيْهِ أَنَاةٌ' کے مطابق دین کا اصل حکم تو مہلت ہی کا ہے،لیکن وہ محض اصلاح الناس کے لیے حاکم کا ایک اختیار استعمال کررہے تھے۔اس اختیار کو بیان کرنے کے لیے انھوں نے 'أَمْضَيْنَا' کے الفاظ استعمال کیے۔

[9]۔ ''الرسالہ'' قول، فعل اور تقریر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان قرار دیتی ہے، جب کہ ابن حزم کی ''الاحکام'' قرآن و حدیث کے نصوص کو ہم سر کرتی ہے، اس لیے کہ اب مسلم فکر جہاں تک پہنچ چکی تھی، اس میں یہ ناگزیر ہو چکا تھا۔بعد میں اسی طرح نصوص کو بہ حیثیت حکم الہٰی اور قول رسول ماننے کے بجاے مقاصد شریعہ کا سہارا دیا گیا، کیونکہ اصول فقہ مصالح کی وادی میں داخل ہو کر شرع و قانون کو دنیوی فلاح کا قانون قرار دے چکے تھے۔ امام شافعی سے شروع ہو کر غزالی و شاطبی تک پہنچنے والے اسلامی فکر کے ارتقا کا یہ لازمہ تھا۔

[10]۔نظریۂ ارتقادراصل تورات ،انجیل اور قرآن کی اسی ماثور بات کا رد ہے ۔لیکن ان قرآنی نصوص کی توضیح نظریۂ ارتقا کو درست مان کر کی جارہی ہے۔

[11]۔ ہمارے مدرسۂ فکر میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے، اسی لیے استاذ گرامی نے بیان دین کے لیےاپنی کتاب ''میزان'' میں تحقیقات پیش کی ہیں، اور فقہ و فتاویٰ کے ضمن کی چیزیں اپنی کتاب ''مقامات ''میں سپرد تحریر کی ہیں۔

[12]۔ التوبہ ۹: ۴۰۔

[13]۔ واضح رہے کہ قرآن کی آیت مذکورہ قدیم و جدید مفہوم کو بیان ہی نہیں کررہی۔اس آیت سے جو مطلب لیا جا رہا ہے، الفاظ قرآن کی روشنی میں بالکل غلط ہے، کیونکہ آیت صرف اتنی نہیں ہے کہ 'الشَّمْسُ تَجْرِيْ'، بلکہ آیت یہ ہے: 'وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ' (يٰس ۳۶: ۳۸)۔ اس آیت میں 'لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا' کی وجہ سے کسی چال کی طرف اشارہ ہے ہی نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ کسی لگے بندھے راستے یا منزل کی طرف گام زن ہے،یعنی وہ اس 'مُسْتَقَر' کا پابند ہے۔اسی کو اگلے جملہ میں 'تَقْدِيْر' کا لفظ بیان کررہا ہے۔

[14]۔ چارٹ میں بعض الفاظ کے معنی:

o معنی : اس سے مراد کلام کا لفظی مفہوم ہے۔ مثلاًمیں نے میزبان سے کہا: ''پانی ہی پلادو''،اس کے معنی ''پینے کے لیے پانی طلب کرنا''کے ہوئے۔بسااوقات یہی مراد و مدعا بھی ہوتا ہے،لیکن ہمیشہ نہیں ۔

o مراد : اس کا مطلب وہ بات ہے جو جملہ بول کر بتایا یا جتایا جارہا ہے۔مثلاً اوپر کی مثال میں مراد یہ ہوئی کہ ''مہمان کو کچھ کھلایا پلایا جاتا ہے، لہٰذا اور کچھ نہیں تو پانی ہی پلادو''۔

o مدعا کے تحت وہ چیز آتی ہے،جس کے لیے بات کی گئی ہوتی ہے۔مثلاً اوپر کی مثال میں مدعا یہ ہوا کہ'' تم نے ابھی تک مہمان نوازی نہیں کی، لہٰذا مہمان نوازی کرو''یعنی طنز و تعریض۔

o مصداق کے تحت وہ بات آتی ہے جو مادی و غیر مادی دنیا میں اس لفظ کا ممثل 'له' ہوتا ہے۔ اوپر کی مثال میں لفظ 'پانی' کا مصداق، مثلاً ''شربت پلانا'' یا ''سادہ پانی پلانا''ہوسکتا ہے۔'الشمس' کی مثال میں آسمان میں چمکنے والا سورج 'الشمس' کا مصداق ہے، وغیرہ۔

[15]۔ البقرہ ۲: ۱۱۸۔

[16]۔اگر تعین مصداق غیر مطلوب ہو تو غیر قطعی ہو سکتا ہے،مثلاً سات آسمان۔ اگرتعیین مطلوب ہو تو بعض صورتوں میں غیر متعین ہو سکتا ہے، مثلاً اوپر کی مثال میں مہمان نوازی کے لوازمات، مگر وہ اس معنی میں قطعی ہے کہ مہمان کے شایان شان چیز ہو، مصداق ہی مطلوب ہونے کی صورت میں بالکل قطعی بھی ہوتا ہے،مثلاً 'اَقِمِ الصَّلٰوةَ' میں نماز۔

[17]۔ چند ایک کے سوا،ان نکات کی مزید تفصیل کے لیے استاذ گرامی کی کتاب ''میزان'' میں ''مبادی تدبر قرآن'' کی فصول دیکھیے۔

[18]۔ ماخوذ ا ز مریم ۱۹: ۹۷۔

[19]۔ ماخوذ از الشعراء۲۶: ۱۹۵، اور الزمر ۳۹: ۲۸۔

[20]۔ ماخوذ از الشوریٰ ۴۲: ۱۷، الفرقان ۲۵: ۱، اور المائدہ ۵: ۴۸۔

[21]۔ ماخوذ از ہود۱۱: ۱اور الزمر ۳۹: ۲۳۔

[22]۔ ماخوذ از الحجر ۱۵: ۸۷۔

[23]۔ ماخوذ از ہود ۱۱: ۱۳۔

[24]۔ درج ذیل آیت میں 'فَالصّٰلِحٰتُ ' کا لفظ اسی بات کی طرف اشارہ کررہا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَا٘ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُﵧ وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّﵐ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًاﵧ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا. (النساء۴: ۳۴)

[25]۔ دیکھیےاستاذ گرامی کی کتاب ''میزان'' کا خاتمہ۔

____________________