منصب رسالت اور دنیوی معاملات


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

۱۔عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، قَالَ:۱ قَدِمَ نَبِيُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ، وَہُمْ یَأْبُرُوْنَ۲ النَّخْلَ، یَقُوْلُوْنَ یُلَقِّحُوْنَ النَّخْلَ، فَقَالَ: ''مَا تَصْنَعُوْنَ؟'' قَالُوْا: کُنَّا نَصْنَعُہُ، قَالَ: ''لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا'' فَتَرَکُوْہُ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ،۳ قَالَ فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ''إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہِ، وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْیِيْ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ''.

۲۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:۵ سَمِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتًا فَقَالَ: ''مَا ہٰذَا؟''۶ قَالُوْا: یُلَقِّحُوْنَ النَّخْلَ،۷ فَقَالَ: ''لَوْ تَرَکُوْہُ فَلَمْ یُلَقِّحُوْہُ لَصَلُحَ''۸ فَتَرَکُوْہُ فَلَمْ یُلَقِّحُوْہُ، فَخَرَجَ شِیْصًا،۹[فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ]،۱۰ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَا لَکُمْ؟''،۱۱ قَالُوْا: تَرَکُوْہُ لِمَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِذَا کَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْیَاکُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِہِ،۱۲ فَإِذَا کَانَ [شَيْءٌ]۱۳مِنْ أَمْرِ دِیْنِکُمْ فَإِلَيَّ.''۱۴

۳۔عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ:۱۵ مَرَرْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ [فِيْ نَخْلِ الْمَدِیْنَۃِ]۱۶ بِقَوْمٍ عَلٰی رُءُ وْسِ النَّخْلِ، فَقَالَ: ''مَا یَصْنَعُ ہٰؤُلَاءِ؟'' فَقَالُوْا: یُلَقِّحُوْنَہُ، یَجْعَلُوْنَ الذَّکَرَ فِي الْأُنْثٰی فَیَلْقَحُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَا أَظُنُّ یُغْنِيْ ذٰلِکَ شَیْءًا'' قَالَ فَأُخْبِرُوْا بِذٰلِکَ فَتَرَکُوْہُ،۱۷ [وَنَزَلُوْا عَنْہَا، فَلَمْ تَحْمِلْ تِلْکَ السَّنَۃَ شَیْءًا]،۱۸ فَأُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ فَقَالَ: [''أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِمَا یَصْلُحُکُمْ فِيْ دُنْیَاکُمْ]،۱۹ [فَأَمَّا أَمْرُ آخِرَتِکُمْ فَإِلَيَّ]،۲۰إِنْ کَانَ یَنْفَعُہُمْ ذٰلِکَ فَلْیَصْنَعُوْہُ، [فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ]،۲۱ فَإِنِّيْ إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا،۲۲[وَإِنَّ الظَّنَّ یُخْطِءُ وَیُصِیْبُ]،۲۳ فَلاَ تُؤَاخِذُوْنِيْ بِالظَّنِّ،۲۴ وَلٰکِنْ إِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ شَیْءًا، فَخُذُوْا بِہِ، فَإِنِّيْ لَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ''.۲۵

۱۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:اللہ کے نبی مدینہ تشریف لائے۔ یہاں کے لوگ کھجور کے درختوں کو گابھا دیتے اورکہتے تھے کہ اِس طرح وہ نر کھجور کا شگوفہ مادہ کھجور میں ڈالتے اور اُس کو حاملہ کردیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو پوچھا:آپ لوگ یہ کیا کرتے ہو؟ اُنھوں نے جواب دیا:ہم یہی کرتے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا:شاید تم یہ نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔لوگوں نے یہ سنا تو اِسے چھوڑدیا۔چنانچہ پھل گر گیا یا بہت کم آیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا:میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔جب میں تمھارے دین سے متعلق کوئی حکم تمھیں دوں تواُسے لے لو، لیکن جب اپنی راے سے کچھ کہوں تو میری حیثیت بھی اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہ میں ایک انسان ہوں۔۱

۲۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں تو آپ نے پوچھا: یہ کیا آوازیں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کھجوروں کو پیوند لگائے جارہے ہیں ۔اِس پر آپ نے فرمایا:اگر یہ لوگ پیوند نہ لگاتے تو شاید اِن کے حق میں بہتر ہوتا۔ چنانچہ لوگوں نے چھوڑدیا اور (اُس سال)پیوند نہیں لگائے۔اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کھجور کا پھل ردی آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ نے پوچھا:کیوں؟ کیا ہوا؟لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر اُنھوں نے پیوند نہیں لگائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: اگر تمھارا کوئی دنیوی معاملہ ہوتو اُسے تم مجھ سے بہتر جانتے ہو ، لیکن جب تمھارے دین کا معاملہ ہوتو وہ میرے ہی پاس آئے گا۔

۳۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اُنھوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو مدینہ کے باغات میں کھجوروں کے اوپر چڑھے ہوئے تھے۔ آپ نے یہ دیکھا تو پوچھا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا:کھجوروں کو گابھا دے رہے ہیں۔ یہ نر کھجور کا شگوفہ مادہ میں ڈالتے ہیں تو وہ حاملہ ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا:میرا خیال نہیں ہے کہ اِس سے کچھ فائدہ ہوتا ہو۔راوی کا بیان ہے کہ اُن لوگوں کو بتایا گیا تو اُنھوں نے اِسے چھوڑدیا اور یہ عمل نہیں کیا۔چنانچہ اُس سال پھل بھی نہیں آیا۔اِس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا:دنیا کے معاملات میں جو چیز تمھارے لیے اچھی ہے ، اُسے تم مجھ سے بہتر جانتے ہو۔ تمھاری آخرت کا معاملہ، البتہ مجھی سے متعلق ہے ۔۲ اِس طرح پیوند لگانے سے تمھیں کچھ فائدہ ہوتا ہے تو ضرور لگاؤ۔بات یہ ہے کہ میں تمھاری طرح ایک انسان ہی ہوں، لہٰذا میں نے بس ایک خیال ظاہر کیا تھااور خیال ٹھیک بھی ہوتا ہے اور غلط بھی۔سو اِس طرح کے معاملات پر مجھے جواب دہ نہ ٹھیراؤ، لیکن میں کوئی بات اللہ کی طرف سے کہوں تو اُس کو ضرور لو ، اِس لیے کہ میں اللہ پر ہر گز جھوٹ نہیں باندھوں گا۔

ترجمے کے حواشی

۱۔ مطلب یہ تھا کہ اِس طرح کی سب چیزیں آپ محمد رسول اللہ کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ محمد بن عبد اللہ کی حیثیت سے کہتے اور کرتے ہیں۔لہٰذا یہ صحیح بھی ہوسکتی ہیں اور غلط بھی۔ اُنھیں خدا کی بات یا دین کا کوئی حکم یا آپ کی سنت سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔دنیوی معاملات لوگوں کے تجربے، مشاہدے اور عقلی تجزیے کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ اُنھیں اِسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔آپ سے جو چیز لوگوں کو سیکھنی ہے، وہ دین ہے۔اُس سے متعلق ہر بات کے لیے، البتہ آپ ہی کی طرف رجوع کیا جائے گا۔اِس میں کسی اور کو مرجع وماخذ بنانے کی جسارت نہیں کی جائے گی۔

۲۔اِس سے واضح ہوا کہ دین کا موضوع اصلاً آخرت ہے ۔اللہ کے پیغمبر اِسی کی منادی کرنے اور اِسی میں کامیابی کا راستہ بتانے کے لیے آئے۔یہ راستہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا تزکیہ ہے ۔ اُن کی تمام تعلیمات اِسی سے متعلق ہیں۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر جنگ میں تیر، تلوار اور اِس طرح کے دوسرے اسلحہ استعمال کیے ہیں یا اونٹوں پر سفر کیا ہے یا مسجد بنائی ہے تو اُس کی چھت کھجور کے تنوں سے پاٹی ہے یا اپنے تمدن کے لحاظ سے بعض کھانے کھائے ہیں اور اُن میں سے کسی کو پسند اور کسی کو ناپسند کیا ہے یا ایک خاص وضع قطع کا لباس پہنا ہے جو عرب میں اُس وقت پہنا جاتا تھااور جس کے انتخاب میں آپ کے شخصی ذوق کو بھی دخل تھا یا کسی مرض کا کوئی علاج کیا یا بتایا ہے تو اِس کا آپ کے منصب نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔لہٰذا اِس طرح کی چیزوں کو نہ دین بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور نہ اِن کی بنیاد پر خدا کے پیغمبر کے متعلق کوئی راے قائم کرنی چاہیے۔یہ آپ کے شخصی معاملات ہیں، اِنھیں اِسی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۲۳۶۲سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہیں ۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہے:صحیح مسلم، رقم۲۳۶۲۔صحیح ابن حبان، رقم ۲۳۔ المعجم الکبیر، رقم ۴۴۲۴۔

۲۔بعض روایتوں، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم۲۳میں اِس جگہ 'یُؤَبِّرُوْنَ'کا لفظ ہے۔اِس کے معنی بھی وہی ہیں جو 'یَأْبُرُوْنَ'کے ہیں۔ اِس سے مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔

۳۔ المعجم الکبیر، طبرانی،رقم۴۴۲۴میں اِس کے بجاے یہ الفاظ منقول ہیں:'فَتَرَکُوْہَا فَشِیْصَتْ'۔ ''چنانچہ لوگوں نے اِسے چھوڑدیا تو اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھل ردی آیا''۔

۴۔صحیح ابن حبان، رقم۲۳میں یہ بات اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے:'إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا حَدَّثْتُکُمْ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہِ، وَإِذَا حَدَّثْتُکُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دُنْیَاکُمْ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ'''میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔جب میں تمھیں دین کے کسی معاملے سے متعلق کوئی بات کہوں تواُسے لے لو اور جب میں کسی دنیوی معاملے سے متعلق کوئی بات تمھیں بتاؤں تو میری حیثیت بھی اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہ میں ایک انسان ہوں''۔

۵۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۱۲۵۴۴سے لیا گیا ہے۔ کم وبیش اِسی تعبیر کے ساتھ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے اِس کے مراجع یہ ہیں:صحیح مسلم، رقم ۲۳۶۳۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۴۸۰، ۳۵۳۱۔ صحیح ابن حبان، رقم۲۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ اِن مصادر میں دیکھ لی جاسکتی ہے:مسند احمد، رقم ۲۴۹۲۰۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۴۷۱۔ مسند بزار، رقم۳۳۔

۶۔ بعض روایات، مثلاً مسند ابی یعلیٰ، رقم۳۴۸۰میں اِس جگہ 'مَا ہٰذِہِ الْأَصْوَاتُ؟''' یہ آوازیں کیسی ہیں؟'' کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔

۷۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند ابی یعلیٰ، رقم۳۵۳۱میں یہاں 'النَّخْلُ یَأْبِرُوْنَہُ'''یہ لوگ کھجور کے درختوں کو گابھا دے رہے ہیں'' کے الفاظ ہیں۔

۸۔ صحیح مسلم، رقم۲۳۶۳میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:'لَوْ لَمْ تَفْعَلُوْا لَصَلُحَ'''اگر تم یہ نہ کرتے تو بہتر ہوتا''۔ بعض طرق، مثلاًصحیح ابن حبان، رقم۲۲میں اِس جگہ'لَوْ لَمْ یَفْعَلُوْا لَصَلُحَ ذٰلِکَ''' اگر یہ لوگ ایسا نہ کرتے تو بہتر ہوتا''کے الفاظ منقول ہیں۔مسند بزار، رقم۶۹۹۲میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:'لَوْ تَرَکُوہَا لَصَلُحَتْ، فَصَارَتْ شِیصًا''' اگر یہ اِس کو چھوڑدیتے تو بہتر ہوتا۔ پھراِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھل ردی آیا''۔

۹۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۴۸۰میں ہے: 'قَالَ: فَأَمْسَکُوْا فَلَمْ یَأْبِرُوْا عَامَہُمْ، فَصَارَ شِیْصًا''' راوی کا بیان ہے کہ (یہ بات سن کر)اُنھوں نے یہ عمل روک لیا اور اُس سال گابھانہیں دیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھل ردی آیا''۔مسند احمد، رقم۲۴۹۲۰میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اِس جگہ یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:'فَلَمْ یُؤَبِّرُوْا عَامَئِذٍ، فَصَارَ شِیْصًا''' چنانچہ اُس سال اُنھوں نے گابھا نہیں دیا تونتیجتاً پھل ردی آیا''۔

۱۰۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۴۸۰۔

۱۱۔صحیح مسلم، رقم۲۳۶۳میں اِس جگہ یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:'فَمَرَّ بِہِمْ فَقَالَ: 'مَا لِنَخْلِکُمْ؟'''' پھر آپ کا گزر اُن لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے پوچھا:تمھاری کھجوروں کا کیا ہوا؟''۔

۱۲۔صحیح مسلم، رقم۲۳۶۳میں اِس کے بجاے یہ الفاظ ہیں:'قَالَ:'أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْیَاکُمْ'''' آپ نے فرمایا:تم اپنے دنیوی معاملات کو(مجھ سے)بہتر جانتے ہو''۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۳۵۳۱اِس جگہ یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:'إِذَا کَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْیَاکُمْ فَشَأْنُکُمْ'''جب تمھارا کوئی دنیوی معاملہ ہوتو تم خود ہی دیکھ لیا کرو''۔

۱۳۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۳۴۸۰۔

۱۴۔ مسند احمد، رقم۲۴۹۲۰میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اِس جگہ یہ الفاظ منقول ہیں:'إِذَا کَانَ شَیْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْیَاکُمْ فَشَأْنَکُمْ بِہِ، وَإِذَا کَانَ شَیْئًا مِنْ أَمْرِ دِینِکُمْ فَإِلَيَّ'''جب تمھارا کوئی دنیوی معاملہ ہوتو اُس کوتم خود ہی دیکھ لیا کرو اور جب تمھارے دین کا کوئی معاملہ ہوتو ضروری ہے کہ اُسے میرے ہی پاس لایا جائے''۔ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے موقع پر بھی آپ کے یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:'إِنْ کَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْیَاکُمْ فَشَأْنُکُمْ بِہِ، وَإِنْ کَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِینِکُمْ فَإِلَيَّ' ''اگرتمھارا کوئی دنیوی معاملہ ہوتو اُس کوتم خود ہی دیکھ لیا کرو اور اگرتمھارے دین کا کوئی معاملہ ہوتو وہ میرے ہی پاس آئے گا''۔ دیکھیے:صحیح ابن خزیمہ، رقم ۴۱۰۔

۱۵۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۲۳۶۱سے لیا گیا ہے۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے اِس باب کی روایات الفاظ کے کچھ تفاوت کے ساتھ جن مراجع میں نقل ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم ۲۲۷۔ مسند احمد،رقم ۱۳۹۵، ۱۳۹۹، ۱۴۰۰۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۱۰۲۔سنن ابن ماجہ، رقم ۲۴۷۰۔ مسند بزار، رقم ۹۳۷۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۳۹۔ مسند شاشی، رقم۷،۹۔

۱۶۔ مسند احمد، رقم ۱۳۹۹۔

۱۷۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۳۹میں اِس کے بجاے یہ الفاظ ہیں: 'فَأَخَذُوا بِذٰلِکَ فَتَرَکُوہُ''' چنانچہ اُن لوگوں نے آپ کی بات کو لے لیا اور درختوں کو (اُس سال)یونہی چھوڑدیا''۔

۱۸۔ مسند احمد، رقم ۱۳۹۹۔مسند بزار، رقم۹۳۷میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں:'فَبَلَغَہُمْ ذٰلِکَ فَتَرَکُوہُ فَصَارَ شِیْصًا' '' پھر آپ کی یہ بات اُن تک پہنچی تو اُنھوں نے اِسے ( اُس سال) ترک کردیا، جس کے نتیجے میں پھل ردی آیا''۔مسند شاشی، رقم ۷میں یہ الفاظ ہیں:'فَتَرَکُوہُ فَلَمْ یَحْمِلْ نَخْلُہُمْ'''اُنھوں نے یہ عمل چھوڑدیا تو اِس کے نتیجے میں اُن کی کھجور کی فصل اچھی نہیں ہوئی''۔

۱۹۔ مسند بزار، رقم۹۳۷۔

۲۰۔ مسند بزار، رقم۶۹۹۲۔

۲۱۔ مسند احمد، رقم ۱۳۹۹۔

۲۲۔ مسند احمد، رقم ۱۳۹۹میں یہاں یہ الفاظ ہیں:'إِنَّمَا ہُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتُہُ''' یہ بس ایک خیال تھا جو میں نے ظاہر کیا تھا۔

۲۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۴۷۰۔

۲۴۔ مسند شاشی، رقم۷ میں اِس کے بجاے یہ الفاظ منقول ہیں:'فَإِنِّيْ إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِيْ بِظَنِّيْ' ''لہٰذا میں نے بس ایک خیال ظاہر کیا تھا۔سو میری اِس طرح کی راے پر مجھے جواب دہ نہ ٹھیراؤ''۔

۲۵۔ مسند طیالسی، رقم ۲۲۷میں اِس جگہ یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:'وَلٰکِنْ إِذَا قُلْتُ لَکُمْ شَیْئًا عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنِّيْ لَا أَکْذِبُ عَلَی اللّٰہِ شَیْئًا''' لیکن جب میں تمھیں اللہ کی طرف سے کوئی بات کہوں (تو اُس کو ضرور لو)، اِس لیے کہ میں اللہ پر کوئی جھوٹ نہیں باندھتا''۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم ۱۳۹۵میں ہے: 'وَلٰکِنْ إذَا أَخْبَرْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ فَخُذُوہُ، فَإِنِّيْ لَنْ أکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ شَیْئًا' ''لیکن میں جب کسی چیز سے متعلق تمھیں اللہ کی طرف سے بتاؤں تو اُس کو ضرور لو ، اِس لیے کہ میں اللہ پر ہر گز کوئی جھوٹ نہیں باندھوں گا''۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے موقع پر آپ کے یہ الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں:'وَمَا أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّہُ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ فَہُوَ الَّذِيْ لَا شَکَّ فِیہِ' ''اور میں جس بات کے بارے میں تمھیں بتاؤں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے تو اُس میں شک کی کوئی گنجایش نہیں ہے''۔دیکھیے:صحیح ابن حبان، رقم۲۱۰۶۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن خزیمۃ، أبو بکر محمد بن إسحاق، النیسابوري. (د.ت). صحیح ابن خزیمۃ. د.ط. تحقیق: د. محمد مصطفی الأعظمي. بیروت: المکتب الإسلامي.

ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ/۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

الشاشي، أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثي.(۱۴۱۰ھ) مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسي، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عبد الحمید بن حمید بن نصر الکَسّي، أبو محمد. (۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۶م). المنتخب من مسند عبد بن حمید. ط۱. تحقیق: صبحي البدري السامراءي، محمود محمد خلیل الصعیدي. القاہرۃ: مکتبۃ السنۃ.

المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي. (۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النووي، یحیی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________