منصب رسالت ﷺ ـــــ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف: ’’ الفرقان‘‘کی تنقید پر تبصرہ (۲)


سنت کا اجرا اور تاریخی استناد

مولانا یحیٰ نعمانی نے اپنے مضمون میں یہ بہتان طرازی بھی کی ہے کہ استاذ گرامی، معاذ اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم کو یہود و نصاریٰ یا مشرکین عرب کی سند کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں۔ اُن کے بہ قول غامدی صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی قول و فعل من جملۂ دین ہے جس کا ثبوت یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کے ہاں پایا جاتا ہے اور جس کی تصدیق بائیبل یا عرب جاہلیت کی تاریخ سے ہوتی ہے۔ اِس دشنام کے لیے مولانا نے اُسی الزام کو عنوان بنایا ہے جو اُن کے اپنے مکتب فکر کے سرخیل شیخ الاسلام حسین احمد مدنی پر لگایا گیا تھا۔ لکھتے ہیں:

''''چہ بے خبرز مقام محمدعربیست ''غامدی تصور دین میں رسول اللہ ﷺ کا یہ منصب نہیں ہے کہ ان کے ذریعے، قرآن کے علاوہ اور یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب میں چلی آرہی دین ابراہیمی کی روایت کے علاوہ، کوئی نیا دینی حکم یا سنت ومستحب عمل دیا جائے۔ وہ اگر حدیث میں دیے گئے کسی حکم کو قبول کرتے ہیں یا رسول اللہ کے حرام قرار دیے گئے کسی فعل کو حرام مانتے ہیں تو بس اسی وقت جب مشرکین عرب اور یہود ونصاریٰ کی دینی روایت میں اس کی سند مل جائے۔ اسی لیے میزان میں جو ان کے فہم دین کا مکمل صحیفہ ہے، رسول اللہ ﷺ کے جو بھی احکام قبول کیے گئے ہیں ان کی سند بھی ذکر کی گئی ہے کہ بائبل میں اس کی اصل ملتی ہے یا عربوں کی جاہلیت میں اس پر عمل تھا۔رسول اللہ ﷺ سے تواتر سے ثابت ہے کہ آپ نے مسواک کو دینی عمل قرار دیا اور اس کا اجروثواب بیان فرمایا۔ جناب غامدی صاحب اس کو قبول کرتے ہیں مگر کیوں؟ اس لیے کہ جواد علی نے اپنی کتاب المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام میں المحبر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب مسواک کیا کرتے تھے (میزان: ۶۴۱)۔لا حول ولا قوۃ الاباللہ۔ محمد رسول اللہ کے قول کو دین قرار پانے کے لیے ابو لہب، ابو جہل اور پولَس کی سند کی ضرورت ہے!!'' (الفرقان، جولائی ۲۰۱۹ء، ۳۸)

الامان الحفیظ! دروغ گوئی اور بہتان طرازی کی یہ وہ انتہا ہے کہ جس کے مقابل میں استاذ گرامی خود کو عاجز پاتے اور مہر بہ لب محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے اِس طرح کے ہر معاملے کو اپنے پروردگار کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چنانچہ اپنی ایک گفتگو میں اُنھوں نے کہا ہے:

''میرے ساتھ اِس وقت حادثہ یہ ہے کہ بہت سے مذہبی لوگوں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ میرے بارے میں جھوٹ بولیں گے، افترا کریں گے، بہتان لگائیں گے، پھر لوگوں میں اُس کو پھیلائیں گے ، اور پھر اِس کام کو کار ثواب سمجھیں گے۔ میں نے اِس طرح کے سب لوگوں کا معاملہ الله کے سپرد کر دیا ہے۔ وہ عدالت بہت جلد لگنے والی ہے جس میں ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ درختوں کے پتے بھی نہیں ہوں گے جن سے ہم اپنی برہنگی چھپا سکیں۔ اُس موقع پر اِن لوگوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اِس طرح کی باتوں کے لیے یہ کیا جواب دیں گے؟''

بہرحال، ہمارے خیال میں مذکورہ بات اگر جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو پڑھے بغیر لکھی گئی ہے تو یہ نری شقاوت ہے، اِسے علم و دیانت کے افلاس پر محمول کرنا چاہیے، اگر پڑھ کر لکھی گئی ہے تو سوء فہم کا عبرت انگیز مظاہرہ ہے اور اگر خوب سمجھ کر لکھی گئی ہے تو ظلم اور بے حسی کی اِس سے بدترین مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔

فاضل مصنف کی اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر قرآن مجید میں مذکور کسی واقعے کی تفصیل کے لیے بائیبل کا کوئی حصہ نقل کیا جائے یا سنت کے کسی حکم کا پس منظر بیان کرنےکے لیے عرب جاہلیت کا تاریخی حوالہ دیا جائے یا حدیث کی کسی روایت کے موقع و محل کی وضاحت کے لیے تاریخ و سیر کے کسی محقق کی تحقیق پیش کی جائے تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ قرآن، سنت اور حدیث کے اِن نصوص کو بائیبل ، عرب جاہلیت اور محققین تاریخ کی سند کی بنا پر قبول کیا گیا ہے۔یہ فاضل مصنف کا نادر طرز استدلال ہے جس کی علوم اسلامیہ کی تاریخ میں کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ اِس انداز فکر کو اگر مزید آگے بڑھایا جائے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ اُن سمیت ہمارے تمام اہل علم، معاذ اللہ، قرآن، سنت اور حدیث کے مشمولات اور اُن کے مطالب و اطلاقات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجاے صحابۂ کرام کی روایت یا لغت کفار عرب یا تفسیرابن جریر یا صحیح امام بخاری یا سیرت ابن ہشام کی سند سے قبول کرتے ہیں۔

ترے نشتر کی زد شریانِ قیس ناتواں تک ہے

ذیل میں ''میزان '' کی وہ بحث نقل ہے جس میں استاذ گرامی نے ڈاکٹر جواد علی کی کتاب ''المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام '' کا حوالہ دیا ہے ۔ اِس سے قارئین فاضل مصنف کےعلم و دیانت یا فہم و ادراک یا اسلوب تحقیق کا خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ ''رسوم و آداب'' کے باب کے تحت غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''...انبیا علیہم السلام جو دین لے کر آئے ہیں، وہ بھی اپنے ماننے والوں کو بعض رسوم و آداب کا پابند کرتا ہے۔ دین کا مقصد تزکیۂ نفس ہے ، لہٰذا دین کے یہ رسوم و آداب بھی اِسی مقصد کو سامنے رکھ کر مقرر کیے گئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اِن میں سے زیادہ تر دین ابراہیمی کی روایت کے طور پر عرب میں رائج تھے ۔ چند چیزوں کے سوا آپ نے اِن میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ یہ قرآن سے پہلے ہیں اور اِن کی حیثیت ایک سنت کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر و تصویب کے بعد صحابۂ کرام کے اجماع اور تواتر عملی سے امت کو منتقل ہوئی ہے ۔ اِن کا ماخذ اب امت کا اجماع ہے اور یہ سب اِسی بنیاد پر پوری امت میں ہر جگہ دین تسلیم کیے جاتے ہیں ۔ انبیا علیہم السلام کے مقرر کردہ یہی رسوم و آداب ہم تفصیل کے ساتھ یہاں بیان کریں گے۔... ۔ ناک ، منہ اور دانتوں کی صفائی ۔انبیا علیہم السلام اپنے ماننے والوں میں پاکیزگی اور طہارت کا جو ذوق پیدا کرنا چاہتے ہیں، یہ اُسی کا تقاضا ہے کہ اِس صفائی کو بھی اُنھوں نے ایک سنت کی حیثیت دی ہے ۔ تاریخ میں اِس کا ذکر اہل عرب کے دینی شعار کے طور پرہوتا ہے۔(المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، جواد علی ۶/ ۶۴۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی جو روایت امت کو منتقل ہوئی ہے ،اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وضو کے موقع پر آپ نہایت اہتمام کے ساتھ 'مضمضة' (منہ کی صفائی کے لیے اُس میں پانی پھرانا۔) اور 'استنشاق' (ناک صاف کرنے کے لیے اُس میں پانی ڈالنا۔) کرتے تھے ۔ دانتوں کی صفائی کا بھی آپ کو ایسا ہی اہتمام تھا۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا :لولا أن أشق علی أمتي لأمرتھم بالسواک مع کل صلٰوة.(بخاری ، رقم۸۸۷)''مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو ہر نماز کے وقت اُنھیں دانتوں کی صفائی کا حکم دیتا۔'''' (میزان۶۴۲، ۶۴۴)

فاضل مصنف کی ایسی ہی دروغ گوئی کا ایک اور مظاہرہ دیکھیے۔ لکھتے ہیں:

''''آج جناب غامدی صاحب نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ ''دین کے لاریب صرف دو ماخذ ہیں: ایک قرآن اور دوسرے ملت ابراہیمی کی وہ روایت جو یہود ونصاریٰ میں اور عرب کے مشرکین میں چلی آرہی تھی، جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تائید وتصویب کے ساتھ امت میں دین کی حیثیت سے جاری کیا۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی چیز نہ دین ہو سکتی ہے اور نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔ ''پھر طرفہ دیکھیے! جناب غامدی صاحب اس قدر بڑا دعویٰ فرماتے ہیں اور دین کا ماخذ واصل (Source) ایسانیا بیان کرتے ہیں جو آج تک کسی نے نہیں بتایا، اور ماشاء اللہ پوری کتاب 'میزان' اپنے اس دعوے کی دلیل سے خالی !! یعنی دلیل کے نام پر کوئی معمولی سی چیز بھی اس کی جناب پیش نہیں فرماتے کہ محمد رسول اللہ کا کوئی حکم یا تحلیل وتحریم کا کوئی ارشاد صرف اسی وقت دین اور شریعت قرار پائے گا جب وہ ملت ابراہیمی کی روایت کا حصہ ہو۔ اتنا بڑا دعویٰ، اور حجت بس یہ کہ میں یہ سمجھتا ہوں!! '' (الفرقان، جولائی ۲۰۱۹ء، ۴۴)

سوال یہ ہے کہ کیا غامدی صاحب نے ماخذ دین کے حوالے سےوہی بات تحریر کی ہے جسے فاضل مصنف نے واوین لگا کر نقل کیاہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ یہ جناب جاوید احمد غامدی کے الفاظ ہیں؟ استاذ گرامی کے درج ذیل اقتباس سے اِس کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اِس سے مزید برآں اِس غلط بیانی کی بھی تردید ہو جائے گی کہ غامدی صاحب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ سنت کے دین ابراہیمی کی روایت پر مبنی ہونے کی کوئی دلیل نہیں دی، جیسا کہ فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ ''ماشاء اللہ پوری کتاب 'میزان' اپنے اس دعوے کی دلیل سے خالی''۔

غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''...اِس (دین) کے ماخذ کی تفصیل ہم اِس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے: ۱۔ قرآن مجید ۲ ۔سنت سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔ قرآن میں آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت بھی اُسی کا حصہ ہے۔ارشاد فرمایا ہے: ثُمَّ اَوْحَيْنَا٘ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًاﵧ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ. (النحل۱۶: ۱۲۳) ''پھر (یہی وجہ ہے کہ ) ہم نے تمھاری طرف وحی کی کہ اِسی ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو، جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔'''' (میزان۱۳)

ہماری بات اگر ابھی بھی ابلاغ سے محروم ہے تو تفہیم مزید کے لیے فاضل مصنف کے اپنے بزرگوں کے چند حوالے نقل ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ سنن کو مشرکین عرب میں رائج دین ابراہیمی کی روایت کے تاریخی تناظر میں بیان کرنا علماے امت کا عام طریقہ ہے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی پتا چلے گا کہ اُن کے اِس اسلوب بیان سے کسی کو کبھی یہ شبہ نہیں ہوا کہ وہ اِن سنن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند کے بجاے اہل عرب کی تاریخ کے حوالے سے قبول کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ بھی واضح ہو گا کہ دین ابراہیمی کی روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بطور دین قبول کرنے میں جناب جاوید احمد غامدی اور علماے امت کے موقف میں اصولی لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں 'اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا' کی قرآنی نص کو بنیاد بناتے اور اِس بنا پر قریش میں رائج سنن کےسیدنا ابراہیم علیہ السلام سے تاریخی استناد کو قبول کرتے ہیں۔

مولانا منظور نعمانی اپنی شہرۂ آفاق کتاب ''معارف الحدیث'' میں یوم عاشور کے روزہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''...یوم عاشورہ زمانۂ جاہلیت میں قریش مکہ کے نزدیک بھی بڑا محترم دن تھا اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑو اسماعیل ؑ کی کچھ روایات اس دن کے بارے میں ان تک پہنچی ہوں گی اور رسول اللہﷺ کا دستور تھا کہ قریش ملت ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے ان میں آپﷺ ان سے اتفاق اور اشتراک فرماتے تھے۔ اسی بناء پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ پس اپنے اس اصول کی بناء پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے۔'' ( ۴/ ۳۸۵)

حج میں وقوف عرفات کے حوالے سے ''معارف الحدیث'' میں لکھا ہے:

'' عرب کے عام قبائل جو حج کے لئے آتے تھے وہ سب نویں ذی الحجہ کو حدود حرم سے باہر نکل کے عرفات میں وقوف کرتے تھے، لیکن رسول اللہﷺ کے خاندان والے یعنی قریش جو اپنے کو کعبہ کا مجاور و متولی اور ''اہل حرم اللہ'' کہتے تھے وہ وقوف کے لئے بھی حدود حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے، بلکہ اس کی حد کے اندر ہی مزدلفہ کے علاقہ میں مشعر حرام پہاڑی کے پاس وقوف کرتے تھے اور اس کو اپنا امتیاز سمجھتے تھے ۔ اپنے اس پرانے خاندانی دستور کی بناء پر قریش کو یقین تھا کہ رسول اللہﷺ بھی مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کریں گے، لیکن چونکہ ان کا یہ طریقہ غلط تھا اور وقوف کی صحیح جگہ عرفات ہی ہے، اس لئے آپﷺ نے منیٰ سے چلتے وقت ہی اپنے لوگوں کو ہدایت فرما دی تھی کہ: آپ کے قیام کے لیے خیمہ نمرہ میں نصب کیا جائے۔'' (۴/ ۴۱۹)

حدود حرم کے تعین کے تاریخی استناد کے بارے میں مولانا منظور نعمانی لکھتے ہیں:

''اِس علاقہ حرم کی حدود پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے معین کی تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے عہد میں انہی کی تجدید فرمائی اور اب وہ حدود معلوم و معروف ہیں ۔'' ( ۴/ ۴۴۵)

مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر ''معارف القرآن'' میں تحریر کیا ہے:

"حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئی۔" (۵/ ۵۰۴)

"تفسیر عثمانی" میں بیان ہوا ہے:

"...مقصد یہ ہے کہ حلال و حرام اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم ہے۔"(۴۶۳)

امام شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت حنیفیہ اسماعیلیہ کی کجیاں درست کرنے اور جو تحریفات اس میں واقع ہوئی تھیں، ان کا ازالہ کرکے ملت مذکورہ کو اپنے اصلی رنگ میں جلوہ گر کرنے کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔ چنانچہ: 'مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ' (اور 'اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ') میں اسی حقیقت کا اظہار ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ ملت ابراہیم کے اصول کو محفوظ رکھا جائے اور ان کی حیثیت مسلمات کی ہو۔ اسی طرح جو سنتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں، ان میں اگر کوئی تغیر نہیں آیا تو ان کا اتباع کیا جائے۔ جب کوئی نبی کسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے تو اس سے پہلے نبی کی شریعت کی سنت راشدہ ایک حد تک ان کے پاس محفوظ ہوتی ہے جس کو بدلنا غیر ضروری، بلکہ بے معنی ہوتا ہے۔ قرین مصلحت یہی ہے کہ اس کو واجب الاتباع قرار دیا جائے، کیونکہ جس سنت راشدہ کو وہ لوگ پہلے بنظراستحسان دیکھتے ہیں، اسی کی پابندی پر مامور کیا جائے تو کچھ شک نہیں کہ وہ اس کو قبول کرنے میں ذرہ بھی پس و پیش نہیں کریں گے اور اگر کوئی اس سے انحراف یا سرتابی کرے تو اس کو زیادہ آسانی سے قائل کیا جاسکے گا، کیونکہ وہ خود اس کے مسلمات میں سے ہے۔" (حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۷۲۴)

شاہ صاحب مزید لکھتے ہیں:

"یہ بات وہ سب(عر ب)جانتے تھے کہ انسان کا کمال اور اس کی سعادت اس میں ہے کہ وہ اپنا ظاہر اور باطن کلیۃً اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اس کی عبادت میں اپنی انتہائی کوشش صرف کرے۔ طہارت کو وہ عبادت کا جز سمجھتے تھے اورجنابت سے غسل کرنا ان کا معمول تھا۔ ختنہ اور دیگر خصال فطرت کے وہ پابند تھے۔ تورات میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور اس کی اولاد کے لیے ختنہ کو ایک شناخت کی علامت مقرر کیا۔ یہودیوں اور مجوسیوں وغیرہ میں بھی وضو کرنے کا رواج تھا اور حکماے عرب بھی وضو اور نماز عمل میں لایا کرتے تھے۔ ابوذر غفاری اسلام میں داخل ہونے سے تین سال پہلے، جب کہ ابھی ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نیاز حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، نماز پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح قس بن ساعدہ ایادی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہود اور مجوس اور اہل عرب جس طریقے پر نماز پڑھتے تھے، اس کے متعلق اس قدر معلوم ہے کہ ان کی نماز افعال تعظیمہ پر مشتمل ہوتی تھی جس کا جزو اعظم سجود تھا۔ دعا اورذکر بھی نماز کے اجزا تھے۔ نماز کے علاوہ دیگر احکام ملت بھی ان میں رائج تھے۔ مثلاً زکوٰۃ وغیرہ۔... صبح صادق سے لے کرغروب آفتاب تک کھانے پینے اور صنفی تعلق سے محترز رہنے کو روزہ خیال کیا جاتا تھا۔ چنانچہ عہد جاہلیت میں قریش عاشورکے دن روزہ رکھنے کے پابند تھے۔ اعتکاف کو بھی وہ عبادت سمجھتے تھے۔ حضرت عمر کا یہ قول کتب حدیث میں منقول ہے کہ انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک دن کے لیے اعتکاف میں بیٹھنے کی منت مانی تھی جس کا حکم انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔... اور یہ تو خاص و عام جانتے ہیں کہ سال بہ سال بیت اللہ کے حج کے لیے دور دور سے ہزاروں کی تعداد میں مختلف قبائل کے لوگ آتے تھے۔... ذبح اور نحر کو بھی وہ ضروری سمجھتے تھے۔ جانور کا گلا نہیں گھونٹ دیتے تھے یا اسے چیرتے پھاڑتے نہیں تھے۔ اسی طرح اشہر الحرم کی حرمت ان کے ہاں مسلم تھی۔... ان کے ہاں دین مذکور کی بعض ایسی مؤکد سنتیں ماثور تھیں جن کے ترک کرنے والے کو مستوجب ملامت قرار دیا جاتا تھا۔ اس سے مراد کھانے پینے، لباس، عید اور ولیمہ، نکاح اور طلاق، عدت اور احداد، خریدو فروخت، مردوں کی تجہیزو تکفین وغیرہ کے متعلق آداب اور احکام ہیں جو حضرت ابراہیم سے ماثور و منقول تھے اور جن پر ان کی لائی ہوئی شریعت مشتمل تھی۔ ان سب کی وہ پابندی کرتے تھے۔ ماں بہن اور دیگر محرمات سے نکاح کرنا اسی طرح حرام سمجھتے تھے، جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔ قصاص اور دیت اور قسامت کے بارے میں بھی وہ ملت ابراہیمی کے احکام پر عامل تھے۔ اور حرام کاری اور چوری کے لیے سزائیں مقرر تھیں۔'' (حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۲۹۰ -۲۹۲)

قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق

فاضل مصنف نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ غامدی صاحب ، معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن احکام و ارشادات کو قبول نہیں کرتے جن کی اصل قرآن میں نہیں ہے یا جو دین ابراہیمی کی روایت کا حصہ نہیں ہیں۔ اِس الزام کی دلیل کے طور پر اُنھوں نے جن مثالوں کو پیش کیا ہے ،وہ یہ ہیں:

سونے کے برتنوں میں کھانے کی حرمت، مردوں کے لیے سونا اور ریشم کا لباس پہننے کی ممانعت ، عورتوں کو ایام میں نماز پڑھنے سے رخصت ، ڈاڑھی رکھنے کی ہدایت اور بات کرنے سے نماز کا ٹوٹ جانا۔

یہ وہ باتیں ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں اور جن کے بارے میں فاضل مصنف کاکہنا ہے کہ غامدی صاحب اِنھیں دائرۂ دین میں شامل نہیں سمجھتے۔ فاضل مصنف نے لکھا ہے:

''...بے شمار احکام ایسے ہیں جن کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں آیا ہے اور نہ ان کا کوئی سراغ ''دین ابراہیمی کی روایت'' میں اس طور پر ملتا ہے کہ عرب یا یہود ونصاریٰ ان پرکاربند تھے۔ مثلاً سونے کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے، مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے لباس حرام ہیں، عورتیں ماہواری ایام میں نماز نہیں پڑھیں گی، اور بعد میں ان کی قضا بھی نہیں کریں گی۔ ڈاڑھی رکھنا اور بڑھانا واجب ہے۔ بات کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ وغیرہ نہ جانے کتنے حلال وحرام کے احکام ہیں جو غامدی صاحب کے اصول کے ذریعے دین کا حصہ نہیں رہیں گے اور ''خارج از اسلام'' قرار پائیں گے۔ ان کے تصور دین اور فکری اصول کا لازمی تقاضہ یہی ہے۔''(الفرقان، جولائی ۲۰۱۹ء، ۳۷)

فاضل مصنف کی یہ تقریر بھی دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ سونے کے برتنوں میں کھانے کی حرمت، مردوں کے لیے سونا اور ریشم کا لباس پہننے کی ممانعت ، عورتوں کو ایام میں نماز پڑھنے سے رخصت اور مونچھوں کو پست رکھنے اور ڈاڑھی بڑھانے کی ہدایت کو استاذ گرامی نے اپنی کتاب ''میزان'' کے باب ''اخلاقیات'' میں ''فضائل و رذائل'' کے زیر عنوان بیان کیا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیات ۲۲ تا ۳۹ میں مذکور اخلاق کے فضائل و رذائل کی ۱۰ چیزوں کو بیان کیا ہے۔ اِن میں سے دسویں چیز غرور و تکبر ہے۔ اِس کے تحت اُنھوں نے سورۂ لقمان کی آیات نقل کر کے بخاری، مسلم اور ابن ماجہ کی روایتوں کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو نقل کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:

''دسواں حکم یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کوئی شخص اکڑ کر نہ چلے، اِس لیے کہ یہ مغروروں اور متکبروں کی چال ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ تم کتنا ہی زمین پر پاؤں مارتے ہوئے چلو، لیکن اُس کو پھاڑ نہیں سکتے اور کتنا ہی اترا کر اور سر اٹھا کر چلو، لیکن پہاڑوں کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے۔... یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ انسان کا یہ غروروتکبر صرف اُس کی چال میں ظاہر نہیں ہوتا، اُس کی گفتگو، وضع قطع، لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ''اور لوگوں سے بے رخی نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ اللہ کسی اکڑنے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، حقیقت یہ ہے کہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔''(لقمان ۳۱: ۱۸- ۱۹) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر ایسی تمام چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے جن سے امارت کی نمایش ہوتی ہو یا وہ بڑائی مارنے، شیخی بگھارنے، دون کی لینے، دوسروں پر رعب جمانے یا اوباشوں کے طریقے پر دھونس دینے والوں کی وضع سے تعلق رکھتی ہوں۔ریشم پہننے، قیمتی کھالوں کے غلاف بنانے اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے آپ نے اِسی لیے روکا ہے (بخاری، رقم ۵۶۳۳، ۵۶۳۵، ۵۸۳۷۔ مسلم، رقم ۵۳۸۷ - ۵۳۸۸)۔ یہاں تک کہ چھوٹی ڈاڑھی اور بڑی بڑی مونچھیں رکھنے والوں کو بھی یہ متکبرانہ وضع ترک کر دینے کی نصیحت کی اور فرمایا ہے کہ وہ ڈاڑھی بڑھا لیں، لیکن مونچھیں ہر حال میں چھوٹی رکھیں (بخاری، رقم ۵۸۹۲۔ مسلم،رقم۶۰۲)۔ آپ کا ارشاد ہے: جس نے اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے کوئی لباس پہنا، اللہ اُسے قیامت میں ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اُس میں آگ بھڑکا دی جائے گی (ابن ماجہ،رقم ۳۶۰۷)۔اِسی طرح فرمایاہے: اللہ قیامت کے دن اُس شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا جو غرور سے اپنا تہ بند گھسیٹتے ہوئے چلتا ہو( بخاری، رقم ۵۷۸۳۔ مسلم، رقم ۵۴۵۵)۔''(میزان۲۳۸- ۲۳۹)

جہاں تک ایام میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا تعلق ہے تو اسے غامدی صاحب نے نماز کے شرائط کے زیرعنوان بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''نماز کے لیے جن چیزوں کا اہتمام ضروری ہے ، وہ یہ ہیں : نماز پڑھنے والا نشے میں نہ ہو ، وہ اگر عورت ہے تو حیض ونفاس کی حالت میں نہ ہو، وہ باوضو ہو اور حیض و نفاس یا جنابت کے بعد اُس نے غسل کر لیا ہو ، سفر ، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں ، یہ دونوں مشکل ہو جائیں تو وہ تیمم کر لے ، قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو ۔ ''(میزان ۲۸۱)

اِسی طرح غامدی صاحب نے نماز کے دوران میں کسی سے بات کرنے کو نماز کے آداب کے خلاف قرار دیا ہے اور بناے دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہی کو بنایا ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہدایات اِس حکم کی وضاحت میں نقل ہوئی ہیں ، وہ یہ ہیں: ۱۔ نماز میں کسی کے ساتھ کوئی بات نہ کی جائے ۔ فرمایا ہے: نماز تو صرف تسبیح وتکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے، اِس میں لوگوں کی بات چیت کی قسم کی کوئی چیز جائز نہیں ہے (مسلم، رقم ۱۱۹۹)۔زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ہم پہلے نماز میں اپنے ساتھ کے نماز ی سے کوئی بات کرلیتے تھے ، لیکن 'وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ' کا حکم نازل ہوا تو ہمیں اِس سے رو ک دیا گیا او رخاموشی کے ساتھ نماز پڑھنے کی ہدایت کی گئی (بخاری، رقم ۱۲۰۰۔مسلم، رقم ۱۲۰۳ - ۱۲۰۴)۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو آپ جواب دیتے تھے ، لیکن نجاشی کے ہاں سے واپسی پر ہم نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ ہم نے پوچھا :یارسول اللہ ، آپ نماز میں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا :نماز میں ایک ہی مشغولیت ہوسکتی ہے ۔(بخاری، رقم ۳۸۷۵۔مسلم، رقم ۱۲۰۱) ''(میزان ۳۲۷)

فاضل مصنف نے اپنے اِس الزام کے لیے کہ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کو دین دینے کا حق دار اور مجاز تسلیم نہیں کرتے ، ''میزان ''کے جس اقتباس کا حوالہ دیا ہے، وہ درج ذیل ہے:

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنھیں اصطلاح میں 'حدیث' کہا جاتا ہے،اُن کے بارے میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اُن سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔چنانچہ اِس مضمون کی تمہید میں ہم نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔ لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح ،آپ کے اسوۂ حسنہ اور دین سے متعلق آپ کی تفہیم و تبیین کے جاننے کا سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ حدیث ہی ہے ۔لہٰذا اِس کی یہ اہمیت ایسی مسلم ہے کہ دین کا کوئی طالب علم اِس سے کسی طرح بے پروا نہیں ہو سکتا ۔ حدیث کی یہی اہمیت ہے، جس کے پیش نظر ضروری ہے کہ قرآن و سنت کے بعد اِس پر تدبر کے اصول بھی یہاں بیان کر دیے جائیں۔ ''( ۶۲ )

فاضل مصنف نے اِس پیرے کے اِن دو جملوں کو بنیاد بنایا ہے:

''حدیث سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔''

'' یہ چیز حدیث کےدائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔''

اِن کی بنا پر اُنھوں نے یہ لکھا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک :

'' ...حدیث کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ قرار پا سکے۔ ہاں اگر رسول اللہ ﷺ کے حکم و ارشاد کی تائید ''ملت ابراہیمی کی روایت''سے ہو جائے تو آپ ﷺ کا حکم دین میں جگہ پاجائے گا۔ ورنہ چاہے آپ ﷺ کسی چیز کو حرام کہیں، یا اس کے مرتکب پر لعنت بھیجیں، یا اس پر اللہ کے عذاب کی وعید سنائیں، یا کسی چیز کو من جملۂ واجبات فرمائیں اور حکم دیں، وہ چیزیں ضروری یا دینی حکم کا درجہ نہیں پا سکیں گی۔ ایسے موقعے پر کسی خوبصورت سی عبارت کے ذریعے ان احکامِ رسول کو غامدی دین ومسلک میں ''لغو'' قرار دے دیا جائے گا۔ اس لیے کہ ان کے یہاں تو ''یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے''۔''(الفرقان، جولائی ۲۰۱۹ء، ۴۵)

اِس اقتباس سے واضح ہے کہ فاضل مصنف نے استاذ گرامی کی بات کو بالکل غلط طریقے سے پیش کیا ہے۔ استاذ گرامی یہ نہیں کہہ رہے کہ حدیث میں کسی عقیدہ و عمل کا بیان نہیں ہے، بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اِس سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا۔ اِسی طرح اُنھوں نے یہ نہیں لکھا کہ یہ چیز حدیث کےدائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی حکم کا ماخذ بن سکے، بلکہ یہ لکھا ہے کہ یہ چیز حدیث کےدائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔ اِن دونوں جملوں میں اصل الفاظ ''اضافہ'' اور ''نئے ''کے ہیں۔ یعنی اُن کا موقف یہ ہے کہ حدیث میں عقائد کا بیان بھی ہے اوراعمال کا بھی، مگر یہ بیان اُنھی عقائد و اعمال کی شرح وفرع اور تفہیم و تبیین پر مبنی ہےجو قرآن میں مذکور اور سنت میں جاری ہیں۔ اِسی طرح اِس میں آپ کے احکام بھی نقل ہوئے ہیں، لیکن اُن کی نوعیت نئے احکام کی نہیں ہے ، بلکہ قرآن و سنت کے احکام کی تشریح و تعبیر اور اُن پر آپ کے عملی نمونے کی ہے۔چنانچہ اُن کے نزدیک قرآن و سنت کے احکام بھی دین ہیں اور حدیث میں نقل اُن کی شرح و فرع ، تفہیم و تبیین اور اُن پر عمل کے لیے آپ کا اسوۂ حسنہ بھی دین ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر اُن کی نسبت متحقق ہے تو اُن کا انکار ایمان کے منافی ہے۔ اِس بات کو اُنھوں نے پوری صراحت کے ساتھ اِن الفاظ میں لکھا ہے:

''...دین سے متعلق جو چیزیں اِن (اخبار آحاد/ احادیث) میں آتی ہیں ،وہ درحقیقت قرآن و سنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم و تبیین اور اِس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ اِس معاملے میں یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اِس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ اِس دائرے کے اندر ، البتہ اِس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے ۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ۔'' (میزان ۱۵ )

استاذ گرامی کے مدعا کی تفہیم کے لیے ''فتح الباری'' یا ''عمدۃ القاری'' کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ یہ صحیح بخاری کی شرحیں ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اِن کتب کے مندرجات امام بخاری کے تحقیقی کام میں نہ کوئی اضافہ کرتے ہیں اور نہ اُس سے ہٹ کر کوئی نئی تحقیق بیان کرتے ہیں، بلکہ یہ اُسی کام کی تفہیم و تبیین اور شرح و وضاحت ہیں جو امام صاحب نے اپنی صحیح میں جمع کیا ہے تو اُس کی بات کو بجا قرار دیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ قائل نے اِن شروح کی حیثیت کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ استاذ گرامی کا یہ موقف کہ حدیث قرآن و سنت کی شرح و فرع اور تفہیم و تبیین ہے،کوئی منفرد موقف نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی موقف ہے جس پر علماے امت کی اکثریت قائم ہے۔ اِس ضمن میں چند حوالے ملاحظہ کر لیجیے:

امام شافعی لکھتے ہیں:

وسنته لا تکون إلا بالإبانة عن اللہ تبارک و تعالیٰ واتباع أمره.(الام ۷/ ۳) ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کی توضیح اور اُسی کے حکم کی اتباع ہے۔''

چنانچہ امام شافعی نے اسی بنا پرآیات قرآنی کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ آیات جنھیں خارج کے بیان کی ضرورت نہیں اور دوسری وہ جن کی تبیین سنت سے ہوتی ہے۔ ابو زہرہ امام شافعی کے اِس موقف کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''جب صورت یہ ٹھیری کہ قرآن بیان کلّی ہے اور سنت حسب ضرورت اس کی شارح و مفسر تو شافعی بیان قرآن کی دو قسمیں کرتے ہیں:۱۔وہ بیان قرآن جو نص ہے اور جس کی تشریح و توضیح کے لیے خارج سے کسی امداد کی ضرورت نہیں، وہ خود واضح ہے۔۲۔وہ بیان قرآن جواپنی تشریح و توضیح میں سنت کا محتاج ہے، خواہ اپنے اجمال کی تفصیل میں یامعنی محتمل کی تعیین میں یا عموم کی تخصیص میں۔''(محمد ابو زہرہ، امام شافعی عہد اور حیات،لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز، ص۸۵)

امام احمد بن حنبل کہتے ہیں:

ما أجسر علی ھذا أن أقوله ولکن السنة تفسر الکتاب وتعرف الکتاب وتبینه. ''یہ کہنے کی جسارت میں نہیں کر سکتا( کہ سنت کتاب اللہ پر حاکم ہے) ۔ سنت تو قرآن کی تفسیر کرتی، اس کی تعریف کرتی اور اس کی مجمل باتوں کی وضاحت کرتی ہے۔'' (الکفایہ فی علم الروایہ، باب تخصیص السنن لعموم محکم القرآن و ذکر الحاجۃ فی المحمل الی التفسیر و البیان)

امام شاطبی نے لکھاہے:

السنة راجعة في معناھا إلی الکتاب، فھي تفصیل مجمله، وبیان مشکله، وبسط مختصره. وذلک لأنها بیان له. فلا تجد في السنة أمرًا إلا والقرآن دل علٰی معناه دلالة إجمالیة وتفصیلیة. ''سنت اپنے معنوں میں کتاب کی طرف راجع ہوتی ہے اور وہ قرآن کے اجمال کی تفصیل، اس کے مشکل کی وضاحت اور مختصر کی تفصیل ہے،اس لیے کہ وہ قرآن کا بیان (وضاحت) ہے۔لہٰذا آپ سنت میں کوئی ایسی بات نہیں پائیں گے جس کے معنی پر قرآن دلالت نہ کررہا ہو۔ خواہ یہ دلالت اجمالی ہو یا تفصیلی ہو۔''(الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمٰن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، ۲۰۰۶ء، ج ۴، ص۱۰)

استاذ گرامی کا نقطۂ نظربھی یہی ہے جسے اُنھوں نے اپنی کتاب ''مقامات'' میں امام شافعی کے موقف کی تائید میں ''عام و خاص'' کے زیر عنوان واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''...رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الہٰی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات و تضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ و معنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم و تبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الہٰی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم و تبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔... ہم نے ''میزان'' میں کوشش کی ہے کہ امام کے موقف کو پوری طرح مبرہن کر دیں، اِس لیے کہ اصولاً وہ بالکل صحیح ہے۔ اہل نظر ''میزان'' کے مقدمہ ''اصول و مبادی'' میں ''میزان اور فرقان'' کے زیر عنوان یہ مباحث دیکھ سکتے ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ قرآن مجید کے احکام سے متعلق روایتوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ اُس کے الفاظ کا مضمر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریحات سے ظاہر کر دیا ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو اِس سے لفظ کے باطن میں اتر کر اُس کو سمجھنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے، اِسے رد کر دینے یا اِس سے قرآن کے نسخ پر استدلال کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔'' (مقامات۱۴۴)

استاذ گرامی کیسے احادیث کو قرآن مجید کی تفہیم و تبیین کے طور پر پیش کرتے ہیں، اِس بات کی تفہیم کے لیے اُن کی کتاب ''میزان'' سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

۱۔ محرمات نکاح کی جو فہرست سورۂ نساء (۴) کی آیات ۲۲ تا ۲۴ میں بیان ہوئی ہے، اُس میں ارشاد فرمایا ہے کہ ''تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی (تم پر حرام کی گئی ہیں)''۔

یعنی قرآن سے واضح ہے کہ جس طرح نسب اور مصاہرت کی بنا پر اللہ نے بعض خواتین سے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے، اِسی طرح رضاعت کے تعلق سے بھی نکاح کی ممانعت فرمائی ہے۔ اِس ضمن میں قرآن مجید کا مدعا یہ ہے کہ دودھ پلانے کی عمر میں بالاہتمام دودھ پلانا ہی رضاعت ہے،چند گھونٹ اتفاقاً پی لینے سے یا دودھ پینے کی عمر کے بعد ایسا کوئی واقعہ ہونے سے رضاعت کا تعلق قائم نہیں ہو جاتا ۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید کا یہی مدعا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے بخاری و مسلم کے حوالے سے لکھا ہے:

''قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے: سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا : ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اِس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا (مسلم ، رقم ۳۵۹۰)۔ سیدہ ہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ کو یہ ناگوار ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ، یہ میرے رضاعی بھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اپنے اِن بھائیوں کو دیکھ لیا کرو، اِس لیے کہ رضاعت کا تعلق تو صرف اُس دودھ سے قائم ہوتا ہے جو بچے کو دودھ کی ضرورت کے زمانے میں پلایا جائے ( بخاری، رقم ۵۱۰۲۔ مسلم ، رقم ۳۶۰۶) ۔''(میزان ۴۱۵)

۲۔ اِسی طرح دیکھیے کہ نکاح کی وہ حرمتیں جو قرآن نے سورۂ نساء (۴) میں مصاہرت کے پہلو سے بیان کی ہیں، اُن میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اِس کے لیے 'وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ' کے الفاظ آئے ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمانا، قرآن کے اِسی حکم کا بیان ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:

''...قرآن نے 'بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ'ہی کہا ہے ، لیکن صاف واضح ہے کہ زن و شو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اُسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے ۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ 'أن تجمعوا بین الأختین وبین المرأة وعمتھا وبین المرأة وخالتھا'۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے ، لیکن 'بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ 'کے بعد یہ الفاظ اُس نے اِس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اِس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اُس کا کوئی طالب علم اِس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : لا یجمع بین المرأة وعمتھا ولا بین المرأة وخالتھا. (الموطا ، رقم ۱۶۰۰) ''عورت اور اُس کی پھوپھی ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہے ، نہ عورت اور اُس کی خالہ۔'''' (میزان ۴۱۸)

۳۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیات ۲۳۴- ۲۳۵ میں بیواؤں کی عدت کا حکم بیان ہوا ہے۔ اِس میں مردوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اگر بیوہ ہونے والی خواتین سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اُنھیں عدت کے زمانے میں غم زدہ عورت یا اُس کے خاندان کے سوگ اور غم کا لحاظ کرنا چاہیے اور نکاح کا پیغام بھیجنے اور خفیہ عہد و پیمان سے احتراز کرنا چاہیے۔ اگر ضرورت ہو تو اشارے کنایے میں اظہار مدعا پر اکتفا کرنا چاہیے۔ قرآن مجید نے یہاں مردوں ہی کے حوالے سے بات کی ہے، مگر عورتوں کو اِس معاملے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا۔ غامدی صاحب کے نزدیک اِن آیات میں عورتوں کے لیے جو حکم مقابلتاً مفہوم ہوتا ہے ، اُسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا ہے:

'' اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورت کا رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ (یعنی مردوں ہی کی طرح غم اور سوگ کے معروفات کا لحاظ کرنے کا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اگر اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں اُس کے لیے عدت گزار رہی ہیں تو سوگ کی کیفیت میں گزاریں اور زیب و زینت کی کوئی چیز استعمال نہ کریں ۔ ارشاد فرمایا ہے:المتوفی عنھا زوجھا لا تلبس المعصفر من الثیاب ولا الممشقة ولا الحلی ولا تختضب ولا تکتحل.(ابوداؤد، رقم ۲۳۰۴) ''بیوہ عورت رنگین کپڑے نہیں پہنے گی،نہ زرد ، نہ گیروسے رنگے ہوئے۔ وہ زیورات استعمال نہیں کرے گی اور نہ منہدی اور سرمہ لگائے گی ۔''''(میزان ۴۶۴)

۴۔ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳-۳۴ میں اللہ اور رسول اللہ سے جنگ کرنے (محاربہ) اور فساد فی الارض کی سزائیں بیان ہوئی ہیں۔ یہ سزائیں عبرت ناک طریقے سے قتل، سولی، ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دینا اور جلاوطن کرنا ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زناکے بعض مجرموں کو جلا وطنی اور رجم (عبرت ناک طریقے سے قتل ) کی سزا دینا قرآن مجید کے اِسی حکم کا اطلاق تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

''آیت میں یہ سزائیں حرف 'اَوْ' کے ساتھ بیان ہوئی ہیں ۔اِس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید نے یہاں حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جرم کی نوعیت ، مجرم کے حالات اور جرم کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے اِن میں سے جو سزا مناسب سمجھے ، اِس طرح کے مجرموں کو دے سکتی ہے۔تقتیل اور تصلیب جیسی سزاؤں کے ساتھ اِس میں نفی کی سزا اِس لیے رکھی گئی ہے کہ سزا میں انتہائی سختی کے ساتھ حالات کا تقاضا ہو تو مجرم کے ساتھ نرمی کے لیے بھی گنجایش باقی ر کھی جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ نے اپنے زمانے میں اوباشی کے اُن مجرموں کو جو اپنے حالات اور جرم کی نوعیت کے لحاظ سے کسی حد تک رعایت کے مستحق تھے ، مائدہ کی اِسی آیت کے تحت جلاوطنی کی سزا دی اور وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہ تھا ، اِسی آیت کے تحت رجم کر دیے گئے ۔... چنانچہ زنا کے بعض عادی مجرموں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :خذوا عني، خذوا عني، خذوا عني، فقد جعل اللہ لھن سبیلاً. البکر بالبکر جلد مائة ونفي سنة والثیب بالثیب جلد مائة والرجم.(مسلم ، رقم ۴۴۱۴) ''مجھ سے لو، مجھ سے لو، مجھ سے لو۔ اللہ نے اِن عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے۔ اِس طرح کے مجرموں میں کنوارے کنواریوں کے ساتھ ہوں گے اور اُنھیں سو کوڑے اور جلاوطنی کی سزا دی جائے گی۔ اِسی طرح شادی شدہ مرد و عورت بھی سزا کے لحاظ سے ساتھ ساتھ ہوں گے اور اُنھیں سو کوڑے اور سنگ ساری کی سزا دی جائے گی۔'''' (میزان ۶۱۵)

۵۔ سورۂ نساء (۴) کی آیت ۴۳ اور سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۶ میں تیمم کا حکم اِن الفاظ میں بیان ہو ا ہے کہ ''اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر پانی نہ ملے تو کوئی پاک جگہ دیکھو اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔''

غامدی صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اِسی حکم پر قیاس کر کے موزوں اور عمامے پر مسح کرنے کی اجازت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نساء اور مائدہ میں مذکور) تیمم کے اِسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے موزوں اور عمامے پر مسح کیا (بخاری، رقم۱۸۲، ۲۰۳، ۲۰۵۔ مسلم، رقم ۶۲۲، ۶۳۳)اور لوگوں کو اجازت دی ہے کہ اگر موزے وضو کر کے پہنے ہوں تو اُن کے مقیم ایک شب و روز اور مسافر تین شب و روز کے لیے موزے اتار کر پاؤں دھونے کے بجاے اُن پر مسح کر سکتے ہیں(مسلم، رقم ۶۳۹)۔''(میزان ۲۹۰)

۶۔ سورۂاعراف (۷) کی آیت ۱۵۷ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ '' اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھیراتا ہے اور اُن کے اوپر سے اُن کے وہ بوجھ اتارتا اور بندشیں دور کرتا ہے جو اب تک اُن پر رہی ہیں۔'' قرآن مجید نے پاک چیزوں کے لیے 'طیبات' اور ناپاک چیزوں کے لیے 'خبائث' کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اب واقعہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں خورو نوش سے متعلق جو چیزیں طیب اور خبیث یا بالفاظ دیگر حلال و حرام ٹھیرائی گئی ہیں ، اُن تمام کو جمع کرنے سے طیبات اور خبائث کی کوئی جامع و مانع فہرست مرتب نہیں ہوتی۔ اِس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ متعدد چیزیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہوا، اُن کے حلال و حرام کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک اِس کا فیصلہ اُس دین فطرت کی بنیاد پر کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو ودیعت کر کے اِس دنیا میں بھیجا ہے۔ اُن کے نزدیک یہی سبب ہے کہ جس کی بنا پر قرآن نے طیبات و خبائث کا ذکر کیا ہے، مگر اُن کی کوئی فہرست بیان نہیں کی۔ اُس نے صرف اُن چار چیزوں کی حرمت کو بیان کیا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے مشتبہ ہو سکتی ہیں یا جن کا فیصلہ انسان اپنی عقل و فطرت کی روشنی میں نہیں کر سکتا۔ تاہم، جہاں تک اِس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا تعلق ہے تو آپ نے دین فطرت ہی کی چیزوں کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''اِن طیبات وخبائث کی کوئی جامع ومانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہیں کی گئی ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت اِس معاملے میں بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا چیز طیب اور کیا خبیث ہے۔ وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ شیر ،چیتے، ہاتھی،چیل، کوے ،گد ،عقاب ، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہیں۔اُسے معلوم ہے کہ گھوڑے اور گدھے دسترخوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ نشہ آور چیزوں کی غلاظت کو سمجھنے میں بھی اُس کی عقل عام طور پر صحیح نتیجے پر پہنچتی ہے۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اِس معاملے میں انسان کو اصلاً اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچلی والے درندوں ،چنگال والے پرندوں(مسلم، رقم ۳۴۳۳، ۴۹۹۴) اور جلالہ (نسائی، رقم ۴۴۵۲) وغیرہ کا گوشت کھانے کی جو ممانعت روایت ہوئی ہے ،وہ اِسی فطرت کا بیان ہے۔ شراب کی ممانعت سے متعلق قرآن کا حکم بھی اِسی قبیل سے ہے۔'' (میزان۶۳۲)

یہاں غور کیجیے کہ غامدی صاحب صرف احادیث میں مذکور ممانعتوں کو بیان فطرت قرار نہیں دے رہے، بلکہ قرآن میں نقل شراب کی حرمت کے حکم کو بھی بیان فطرت ہی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

مزید لکھتے ہیں:

''اِس میں شبہ نہیں کہ انسان کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ شریعت نے اِس طرح کی کسی چیز کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔'' (میزان۶۳۳)

شاہ ولی اللہ نے اِسی بیان فطرت کو '' اخلاق مطلوبہ'' اور ''طبائع سلیمہ'' کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں لکھتے ہیں:

''اور اس کے بعد اُن جانوروں کو کھانے کا درجہ ہے کہ جو انسان سے مطلوبہ اخلاق کے خلاف اخلاق پر پیدا ہوا، حتیٰ کہ ان کی طرف کسی ضرورت سے ہی رخ کرتے ہیں اور ان کی مثال دی جاتی ہے۔ اور طبائع سلیمہ ان کو ناپاک سمجھتی ہیں اور ان کو کھانے سے انکار کرتی ہیں۔'' (۲/ ۹۲۴)

امام شاطبی نے اِس مسئلے کو اِن الفاظ میں واضح کیا ہے:

''اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ چیزوں (طیبات) کو حلال اور گندی چیزوں (خبائث) کو حرام کیا۔ اب ان دونوں اصلوں، (یعنی طیبات اور خبائث) کے درمیان بہت سی چیزیں ہیں جنھیں کسی ایک اصل سے ملایا جا سکتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایسی وضاحت کی جس سے معاملہ واضح ہو جائے۔ آپ نے سب کچلی والے درندوں اور پنجوں والے پرندوں کو کھانے سے منع فرما دیا اور گھریلو گدھوں کو کھانے سے منع کیا اور فرمایا کہ وہ ناپاک ہیں... گویا (احادیث میں مذکور) یہ سب باتیں خبائث کی اصل سے الحاق کے معنی کی طرف راجع ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ، سرخاب، خرگوش اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کا پاکیزہ چیزوں (طیبات) کی اصل سے الحاق کر دیا ہے۔''(الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمٰن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، ۲۰۰۶ء، ج ۴، ص۵۵)

اِس آخری مثال کو ہم نے قدرے تفصیل سے اِس لیے بیان کیا ہے کہ فاضل مصنف نے اِس کے حوالے سے اپنے مضمون میں ایک مفصل تقریر کی ہے، جس کے آخر میں اُنھوں نے بیان کیا ہے:

''...وہ چیزیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے حرام قرار دیا جیسے تما م درندے جیسے شیر، چیتا، کتا، بھیڑیا، جانوروں میں ہاتھی، گدھا، نیز پرندوں میں چیل، عقاب، گدھ، وغیرہ۔ ان کے بارے میں جناب موصوف (غامدی صاحب) فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کی ان باتوں کو شریعت کا بیان نہیں سمجھتے، محض فطرت انسانی کا بیان سمجھتے ہیں۔'' (الفرقان، جولائی ۲۰۱۹ء، ۴۱)

بہرحال، یہ چند مثالیں ہیں ۔ ''میزان'' کی ہر بحث قرآن و سنت اور احادیث کے باہمی تعلق کو اِسی طریقے سے بیان کرتی ہے ۔ جس سے قرآن و سنت کا اصل یا مستقل بالذات دین کو بیان کرنا اوراحادیث کا اُس کی تفہیم و تبیین کرنا پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اِس میں اگر کوئی شخص نقد یا اختلاف کر سکتا ہے تو اِس قدر کر سکتا ہے کہ غامدی صاحب نے قرآن و سنت کے احکام اور احادیث میں مذکور اُن کی تفہیم و تبیین میں جو نسبت اور تطبیق پیدا کی ہے، وہ فلاں فلاں پہلوؤں سے درست نہیں ہے، مگر یہ ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ اُنھوں نے، معاذ اللہ، احادیث سے صرف نظر کیا ہے یا اُن کا استخفاف یا انکار کیا ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ غامدی صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفہیم و تبیین کو اللہ تعالیٰ کی تائید و تصویب سے متصف سمجھتے ہیں اور اِس بنا پر وہ آپ کی ہر تشریح، ہر توضیح، ہر تفریع، ہر فیصلے، ہر اجتہاد اور قیاس کو خطا سے پاک سمجھتے اور من جملۂ دین قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

''حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔''(مقامات۱۷۴)

احادیث میں عقائد کا بیان

فاضل مصنف نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ غامدی صاحب عقائد کو احادیث سے اخذ نہیں کرتے ، چنانچہ وہ آخرت، قیامت، جنت وجہنم اور عالم غیب کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو قبول نہیں کرتے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

''...ان کے نزدیک حدیث سے دین میں کوئی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہو سکتا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں آخرت، جنت جہنم اور دیگر عقائد کے سلسلے میں ارشاد فرمائیں اور عالم غیب کے جن بے شمار واقعات و حقائق کی خبر دی، چاہے ان کی روایت متواتر و مشہور اور صحیح ہی کیوں نہ ہو، ان سے دین اور اس کا کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ان کے نزدیک یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین کے کسی عقیدے یا حکم کا ماخذ بن سکے۔

ناظرین کرام غور فرمائیں کہ اس کا مطلب کیا ہوا؟ آپ ﷺ ساری زندگی اپنی مجلسوں میں جو گفتگو فرماتے رہے، اور عالم غیب کی جو تفصیلی خبریں دیتے رہے اگر ان کا دین سے کوئی تعلق (بقول جناب غامدی صاحب) نہیں ہے، تو کیا وہ سب فضول اور بے مطلب باتیں تھیں؟ ''(الفرقان، جولائی ۲۰۱۹ء ، ۳۵)

یہ بات بھی صریحاً غلط ہے۔''میزان'' سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے جن سے واضح ہو گا کہ استاذ گرامی اِس نوعیت کی احادیث کو جو روایت اور درایت کے محدثانہ معیار پر پوری اترتی ہیں ، ہر لحاظ سے قبول کرتے ہیں:

۱۔ قیامت کی علامات

غامدی صاحب نےاپنی کتاب '' میزان'' میں علامات قیامت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کم و بیش تمام ارشادات کو بخاری اور مسلم کی متعدد روایات کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ اِن علامات کی نوعیت اور اِن کی سند بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے لکھا ہے:

''یہ دن کب آئے گا؟ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اِس کا وقت اُسی کے علم میں ہے اور اپنے کسی نبی یا فرشتے کو بھی وہ اِس پر مطلع نہیں کرتا(الاعراف۷: ۱۸۷۔ طٰہٰ۲۰: ۱۵۔ حٰم السجدہ۴۱: ۴۷)۔ اِس کے آثار و علامات، البتہ قرآن و حدیث اور قدیم صحیفوں میں بیان ہوئے ہیں۔...

پہلی قسم کی علامات اُس اخلاقی انحطاط کا ذکر کرتی ہیں جو قیامت سے پہلے پورے عالم میں پیدا ہو گا۔ چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، زنا، شراب نوشی اور قتل و غارت گری عام ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کو بغیر کسی جرم کے مارا جائے گا؛ مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں اتنی کم ہو جائے گی کہ پچاس عورتوں کے معاملات ایک مرد کے سپرد ہوں گے؛ دنیا میں صرف اشرار باقی رہ جائیں گے، خدا کا نام لینے والوں سے دنیا خالی ہو جائے گی۔ (بخاری، رقم ۸۰، ۸۱۔ مسلم، رقم ۳۷۵، ۶۷۸۵، ۷۳۰۴)۔ دوسری قسم کی علامات میں سے اہم ترین یاجوج و ماجوج کا خروج ہے۔...

یہی زمانہ قرب قیامت کی اُن علامتوں سے بھی متعین ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کے ایک سوال کے جواب میں بیان فرمائی ہیں، جب وہ لوگوں کی تعلیم کے لیے انسانی صورت میں آپ کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا:

أن تلد الأمة ربتها، وأن تری الحفاة العراة العالة رعاء الشاء یتطاولون في البنیان.(مسلم، رقم۹۳)

''ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جن دے گی اور دوسری یہ ہے کہ تم (عرب کے) اِن ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے کنگال چرواہوں کو بڑی بڑی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے دیکھو گے۔''...

اِس کے بعد جو علامتیں ظاہر ہوں گی، وہ نبی صلی ا للہ علیہ وسلم نے یاجوج و ماجوج کے خروج کو شامل کر کے ایک ہی جگہ بیان کر دی ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

إن الساعة لاتکون حتی تکون عشر آیات: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف في جزیرة العرب، والدخان، والدجال، ودابة الأرض، و یاجوج و ماجوج، وطلوع الشمس من مغربها، ونار تخرج من قعر عدن ترحل الناس، وریح تلقي الناس في البحر.(مسلم، رقم ۷۲۸۶)

مدعا یہ ہے کہ قیامت کی دس علامتیں ہیں۔ یہ جب تک ظاہر نہ ہو جائیں، قیامت برپا نہ ہو گی۔...

اِن کے علاوہ ظہور مہدی اور مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کو بھی قیامت کی علامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہم نے اِن کا ذکر نہیں کیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ظہور مہدی کی روایتیں محدثانہ تنقید کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ اِن میں کچھ ضعیف اور کچھ موضوع ہیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ بعض روایتوں میں جو سند کے لحاظ سے قابل قبول ہیں،ایک فیاض خلیفہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے(مسلم، رقم ۷۳۱۸)،لیکن دقت نظر سے غور کیا جائے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اِس کا مصداق سیدنا عمر بن عبدالعزیز تھے جو خیر القرون کے آخر میں خلیفہ بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی اُن کے حق میں حرف بہ حرف پوری ہو چکی ہے۔ اِس کے لیے کسی مہدی موعود کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ نزول مسیح کی روایتوں کو اگرچہ محدثین نے بالعموم قبول کیا ہے، لیکن قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیے تو وہ بھی محل نظر ہیں۔'' (میزان ۱۷۹)

۲۔ جنت کے احوال

جنت کے احوال کےحوالے سے جناب جاوید احمد غامدی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادت کو اِس طریقے سے نقل کیا ہے:

'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید وضاحت کی ہے کہ جنت میں رہنے والے کھائیں گے اور پئیں گے، لیکن نہ تھوکیں گے، نہ بول و براز کی ضرورت محسوس کریں گے، نہ ناک سے رطوبت نکلے گی، نہ بلغم اور کھنکھار جیسی چیزیں ہوں گی۔ وہاں کے پسینے سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہ ایسی نعمتوں میں رہیں گے کہ کبھی کوئی تکلیف نہ دیکھیں گے۔ نہ اُن کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے، نہ جوانی زائل ہو گی۔ اُس میں منادی پکارے گا کہ یہاں وہ صحت ہے جس کے ساتھ بیماری نہیں؛ وہ زندگی ہے جس کے ساتھ موت نہیں؛ وہ جوانی ہے جس کے ساتھ بڑھاپا نہیں۔ لوگوں کے چہرے اُس میں چاند تاروں کی طرح چمک رہے ہوں گے(بخاری، رقم ۳۳۲۷۔ مسلم، رقم ۷۱۴۹، ۷۱۵۶- ۷۱۵۷)۔ یہ تمام تصویریں ہمارے فہم کے لحاظ سے ہیں۔ ورنہ حقیقت کیا ہے؟ اِس کی بہترین تعبیر وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائی ہے کہ اُس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے وہ کچھ مہیا کیا ہے جسے نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اُس کا خیال کبھی گزرا ہے(بخاری، رقم ۳۲۴۴، ۴۷۷۹۔ مسلم، رقم ۷۱۳۲)۔ '' (میزان ۲۰۰)

۳۔ ایمانیات

دین کے جن عقائد کو 'ایمان' سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جنھیں قرآن مجید نے جا بجا بیان کیا ہے، اُنھیں بھی غامدی صاحب نے آیات قرآنی کے ساتھ ساتھ حدیث کے حوالوں سے بھی واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''دین کا باطن ''ایمان'' ہے ۔اِس کی جو تفصیل قرآن میں بیان ہوئی ہے ،اُس کی رو سے یہ بھی پانچ ہی چیزوں سے عبارت ہے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ ہی کی ایک فرع — تقدیر کے خیر و شر — کو اِن میں شامل کر کے اِنھیں اِس طرح بیان فرمایا ہے :

الإیمان أن تؤمن باللہ، وملٰئکته، وکتبه، ورسله، والیوم الآخر، و تؤمن بالقدر خیره وشره.(مسلم ، رقم۹۳)

''ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو مانو اور اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں کو مانو، اور آخرت کے دن کو مانو، اور اپنے پروردگار کی طرف سے تقدیر کے خیر و شر کو بھی۔'' ''(میزان۷۶)

۴۔ عقیدۂ ختم نبوت

عقیدۂ ختم نبوت کی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے بھی انھوں نے روایات کا حوالہ دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''...اِس میں شبہ نہیں کہ آپ سے پہلے کے نبیوں کو ہم آپ ہی کی تصدیق سے مانتے ہیں، مگر اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنے بعد آنے والے کسی نبی کی نہ آپ نے بشارت دی ہے، نہ تصدیق فرمائی ہے، بلکہ نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بار بار اعلان کیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ پھر یہی نہیں، اِس سے آگے یہ بات بھی آپ نے واضح کر دی ہے کہ نبوت کا منصب ہی ختم نہیں ہوا، اُس کی حقیقت بھی ختم ہو گئی ہے، لہٰذا اب کسی شخص کے لیے نہ وحی و الہام کا امکان ہے اور نہ مخاطبہ و مکاشفہ کا۔ ختم نبوت کے بعد اِس طرح کی سب چیزیں ہمیشہ کے لیے ختم کر دی گئی ہیں۔

آپ کے ارشادات درج ذیل ہیں:

''میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی، نہایت حسین و جمیل، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اُس عمارت کے گرد پھرتے اور اُس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے، مگر کہتے تھے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ فرمایا کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔''(بخاری، رقم۳۵۳۵)

''نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، صرف بشارت دینے والی باتیں رہ گئی ہیں۔ عرض کیا گیا: وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا: اچھا خواب۔ (بخاری، رقم ۶۹۹۰) '' ''(میزان ۱۵۴)

درج بالا تفصیل اِس حقیقت کی شاہد ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک دین کا اکیلا، واحد اور تنہا ماخذرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس ہے۔ آپ کے علاوہ نہ کوئی دین دے سکتا ہے اور نہ کسی سے دین حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جس کلام کو آپ نے قرآن قرار دیا، وہی قرآن ہے۔ جس عمل اور جس روایت کو آپ نے اپنی سند عطا کی ہے، وہی سنت ہے۔ جو حدیث آپ کی نسبت سے متحقق ہے، اُس کا انکار ایمان کے منافی ہے۔ آپ نے جس چیز کو مستقل بالذات دین کے طور پر دیا ،ہم اُسے اِسی حیثیت سے تسلیم کریں اور جسے آپ نے شرح و وضاحت، تفہیم و تبیین یا اسوۂ حسنہ کے طور پر دیا تو اُسے اِنھی حیثیتوں سے قبول کرنا دین کا تقاضا ہو گا۔ چنانچہ مشمولات دین میں سے اصل اور شرح و فرع کی نوعیت ، اُن کے تاریخی تناظر اور اُن کے ذرائع انتقال کے فرق اور اُن سے متعلق اصطلاحات کے مصداق و اطلاق کے اختلافات سے قطع نظر ہر وہ چیز دین ہے جسےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے امت کو دیا ہے اور جسے کوئی صاحب ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے قبول کرتا ہے۔

____________