مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ  تنقیدی آرا کا جائزہ (2) حصہ دوم


موجودہ حالات میں اس بحث کی ضرورت

اب ہم اس مسئلے سے متعلق ان سوالات کا جائزہ لیں گے جو اس کی عملی نوعیت واہمیت کے حوالے سے اٹھائے گئے ہیں:

پہلا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جبکہ عالم اسلام بالعموم اور عالم عرب بالخصوص، یہود ونصاریٰ کی سیاسی ومعاشی چیرہ دستیوں کا شکار ہے اور فلسطینی قوم کی جدوجہد آزادی ایک بے حد نازک موڑ پر ہے، مسجد اقصیٰ کی تولیت کی بحث کو چھیڑنے کی ضرورت اور اس میں ایک ایسا نقطۂ نظر اختیار کرنے کا فائدہ کیا ہے جو ناقدین کے خیال میں، امت مسلمہ کے مفادات کے صریح منافی ہے۔

اس سوال سے تعرض کرتے ہوئے پہلے تو اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو بعض ناقدین کو اس مسئلے کی اہمیت کے حوالے سے لاحق ہوئی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ احاطۂ ہیکل کی تولیت کی بحث ایک مردہ بحث ہے جس کا آج کے عملی حالات سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا ا س پر زور قلم صرف کرنا ایک بے کار مشغلہ ہے۔ ہمارے خیال میں یہ رائے معاصر عالمی مسائل اور حالات سے بالکل بے خبری کی دلیل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بحث پوری طرح سے ایک زندہ بحث ہے اور اسے اگر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مذہبی تنازع قرار دیا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ صدیوں کے سکوت کے بعد صہیونی تحریک کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مساعی کے نتیجے میں یہودیوں کے ہاں ہیکل کی تعمیر کا سوال پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل اس کی حیثیت ایک نظری اعتقاد کی تھی ، لیکن قیام اسرائیل اور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد اس نے ایک عملی مسئلے کا روپ دھار لیا ہے اور یہودی مذہبی حلقوں میں ہیکل کے محل وقوع کی تعیین، اس کی تعمیر کے نقشے، مذہبی وفقہی شرائط اور ممکنہ حکمت عملی پر زور وشور سے بحثیں جاری ہیں۔ ۶۵؂

یہود کے مذہبی حلقوں میں ہیکل کی تعمیر نو پر اصولی اختلاف تو نہ پہلے تھا اور نہ آج ہے، البتہ بعض مذہبی شرائط اور معروضی حالات کے تناظر میں یہ حلقے باہم مختلف الرائے ہیں:

۱۔ قدامت پسند یہودی حلقوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ تیسرے ہیکل کی تعمیر صرف مسیح کے ہاتھوں ہوگی، اس سے قبل صرف دعا اور انتظار کیا جا سکتا ہے۔ نیز چونکہ سرخ بچھڑے کی غیر موجودگی میں اس وقت یہودی قوم رسمی طور پر ناپاکی کی حالت میں ہے، اس لیے ہیکل کے اصل مقام پران کا داخلہ ممنوع ہے۔ اور چونکہ ہیکل کے اصل مقام کی متعین نشان دہی سردست نہیں کی جا سکتی، اس لیے احتیاطاً پورے احاطۂ ہیکل میں کسی بھی یہودی کا داخلہ جائز نہیں۔

۲۔ اس کے برعکس بعض انتہا پسند حلقوں کی رائے یہ ہے کہ ہیکل کی تعمیر فوری طور پر روبہ عمل لائی جانی چاہیے، ورنہ کم از کم احاطۂ ہیکل کو یہودیوں کے تصرف میں ضرور دے دیا جانا چاہیے۔

۳۔ یہودیوں کے مذہبی طبقات کا ایک بڑا حصہ اس بات کا قائل ہے کہ ہیکل کی فوری تعمیر کی شرائط تو پوری نہیں ہوتیں، لیکن اس وقت تک یہودیوں کو اس میں دعا اور عبادت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اسرائیل کی ۵۰ فی صد سے زائد رائے عامہ اس نقطۂ نظر کے حق میں ہے اور اسرائیلی عدالتیں متعدد مواقع پر یہودی عبادت گزاروں کو احاطۂ ہیکل میں داخل ہونے اور وہاں دعا کرنے کا حق دے چکی ہیں۔ ۶۶؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ احاطۂ ہیکل کے ساتھ یہودی قوم کا مذہبی تعلق پوری شدت کے ساتھ قائم ہے۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر کی مخالفت کا اظہار اگر ہوتا ہے تو یہودیوں کے مذہب بیزار طبقات اور سیکولر پریس کی جانب سے ہوتا ہے جن کی رائے میں یہ اقدام نہ صرف سنگین سیاسی نتائج کا حامل ہوگا جس سے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین اختلافات کی خلیج مزید بڑھنے کا حقیقی خطرہ موجود ہے، بلکہ وہ قربانی کی مختلف رسوم کو زمانۂ قدیم کی یادگار قرار دیتے ہوئے جدید دور میں انھیں رجعت پسندی اور 'primitivism' کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک مذہبی لوگوں کا تعلق ہے تو تیسرے ہیکل کی تعمیر ان کے اعتقادکا جزولاینفک ہے۔ ان میں باہمی اختلاف یہ نہیں کہ ہیکل تعمیر ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا فی الفور ہیکل کی تعمیر کے لیے مذہبی شرائط پائی جاتی ہیں یا نہیں اور کیا معروضی سیاسی حالات اس کے لیے سازگار ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا اور نزاع بدستور باقی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ اسرائیلی حکومتیں عالم اسلام کے دباؤ کی وجہ سے داخلی طور پر اس مطالبے کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہیں کہ احاطۂ ہیکل کو یہودیوں کے تصرف میں دے دیا جائے، لیکن اسرائیلی رائے عامہ اور مذہبی حلقوں کے دباؤ پر ۲۰۰۰ء میں کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات میں جب بیت المقدس اور اس کے مقامات مقدسہ کی حتمی پوزیشن (Final Status) کا سوال زیر بحث آیا تو اسرائیلی وفد کی جانب سے یہ مطالبہ پورے اصرار کے ساتھ سامنے آیا کہ احاطۂ ہیکل کا زیر زمین حصہ یہودیوں کے زیر تصرف دے دیا جائے اور اس کے ایک کونے میں یہودیوں کے لیے ایک عبادت گاہ قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ (http://www.la.utexas.edu/) ابھی کچھ عرصہ قبل اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے ہیکل کی تعمیر کا جو اعلان کیا ، اس کا محرک بھی اسرائیلی رائے عامہ کے اسی عنصر کی سیاسی حمایت کا حصول تھا۔

اس وضاحت کے بعد اب ہم اصل سوال کا جائزہ لیں گے، یعنی یہ کہ اس بحث کو ان نازک حالات میں چھیڑنے کی آخر ضرورت کیا ہے؟ ہماری معروضات اس ضمن میں حسب ذیل ہیں:

۱۔ ہمارے نزدیک اس معاملے میں سب سے نازک سوال امت مسلمہ کی اخلاقی پوزیشن کا ہے۔ ہم نے اپنی تحریر میں رائج نقطہ ہاے نظر کے علمی پہلووں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاقی مضمرات کو بھی پوری طرح واضح کیا تھا اور یہ گزارش کی تھی کہ امت مسلمہ کے سیاسی اور معاشرتی وجود کی بامقصد بقا کے لیے سب سے پہلے اس کے اخلاقی وجود کا تحفظ ضروری ہے۔ اگر امت کسی معاملے میں اجتماعی طور پر ایک غیر اخلاقی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے جس کی اصلاح کی کوشش باقی تمام کوششوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہماری یہ گزارش کسی بھی درجے میں درخور اعتنا نہیں سمجھی گئی اور معاملے کو اس زاویے سے دیکھنے کے بجائے اسے قومی مفادات ہی کی عینک سے دیکھنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ کسی قوم کو داخلی احتساب پر آمادہ کرنا ویسے بھی کوئی آسان کام نہیں، لیکن اس کے ساتھ جب اجتماعی نفسیات میں یہ غرہ بھی ہو کہ ہم تو خدا کی آخری شریعت کے حامل اور افضل الرسل کی امت ہیں ، جبکہ ہمارا مخالف گروہ ایک مغضوب وملعون گروہ ہے تو عدل وانصاف اور غیر جانب داری کی دعوت، فی الواقع، کوئی آسانی سے ہضم ہونے والی چیز نہیں رہ جاتی۔ اس کا اندازہ، زیر بحث مسئلے میں، اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے کسی ناقد نے عالم عرب کے اس موقف کی تردید کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جس کی رو سے مسلمانوں کے زیر تصرف 'الحرم الشریف' کا سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ 'ہیکل' سے، جس کا ذکر قرآن مجید نے 'المسجد الاقصیٰ' کے نام سے کیا ہے، کوئی تعلق نہیں اور 'مزعومہ ہیکل' ماضی میں کبھی بھی اس احاطے کے اندر کسی جگہ واقع نہیں تھا۔ یہ دعویٰ تاریخی ومذہبی مسلمات کی کھلم کھلا تکذیب پر مبنی ہے، اور اگر امت مسلمہ کے 'مفادات' کے پیش نظر اس سے بھی 'غض بصر' کیا جا سکتا ہے تو پھر ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد 'اخلاقی حس' کا کون سا درجہ باقی رہ جاتا ہے جسے اپیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

۲۔ مسجد اقصیٰ کی تولیت کا معاملہ محض ایک مذہبی اور اخلاقی معاملہ نہیں، اس کا مسئلۂ فلسطین کے سیاسی پہلو کے ساتھ بھی نہایت گہرا عملی تعلق ہے۔ قیام اسرائیل ان بے شمار جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں میں سے ایک ہے جو عالم اسلام کے طول و عرض میں یورپی طاقتوں کے غلبہ واستیلا کے نتیجے میں ظہور پزیر ہوئیں۔ یہ تبدیلیاں معمولی نوعیت کی نہیں تھیں۔ انھوں نے عالم اسلام کے پورے سیاسی نقشے کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ اس غلبے کے نتیجے میں عالم اسلام، جس کا بیش تر حصہ وقت کی دو عظیم سلطنتوں یعنی خلافت عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت کے زیر سایہ سیاسی لحاظ سے متحد تھا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ان میں سے سلطنت مغلیہ کے بیش تر رقبے پر اس وقت ایک بہت بڑی غیر مسلم ریاست قائم ہے، جبکہ سلطنت عثمانیہ کے زیادہ تر یورپی مقبوضات 'عالم اسلام' سے نکل کر غیر مسلم دنیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ وسطی ایشیا کا مسلم اکثریت پر مشتمل خطہ عرصہ دراز تک ایک غیر مسلم سپر پاور کا حصہ بنا رہا۔ خود باقی ماندہ عالم اسلام میں لسانی، نسلی، مذہبی، سماجی اور معاشی بنیادوں پر کثیر الجہات تبدیلیوں کا جو غیرمختتم سلسلہ شروع ہوا، وہ اس پر مستزاد ہے۔ اس سے کئی صدیاں قبل یورپ کی انھی طاقتوں کے ہاتھوں اندلس کی عظیم الشان مسلم سلطنت کی تباہی کا زخم ہم سہہ چکے ہیں۔

سیاسی ومعاشی مغلوبیت کا یہ مظہر دراصل قاضی تقدیر کی مقرر کردہ وہ سزا ہے جو جرم ضعیفی کی مرتکب ہر قوم کو، بلا استثنا، اس دنیا میں مل کر رہتی ہے۔ یہ سزا جب نافذ ہوتی ہے تو کسی قوم کے لیے عظمت رفتہ کے خوابوں میں جینا ممکن نہیں رہتا۔ کوئی قوم اگر اس کے بعد ماضی میں جینا چاہتی ہے تو وہ اپنی سزا کی مدت میں محض اضافہ ہی کرتی ہے۔ اس کے بعد فیصلوں اور حکمت عملی کی درست بنیاد کی حیثیت معروضی حقائق کو حاصل ہو جاتی ہے نہ کہ خواہشات، امنگوں اور ماضی کے تاریخی حقائق کو۔ چنانچہ سیاست اور جغرافیہ میں رونما ہونے والی مذکورہ تمام تبدیلیوں کو، جو ظاہر ہے کہ یورپی طاقتوں کی جانب سے قانونی اور اخلاقی قدروں کی پامالی ہی کے نتیجے میں رونما ہوئی تھیں، عالم اسلام نے 'معروضی حقائق' کی منطق کی رو سے قبول کر لیا اور آج وہ کسی قسم کے موثر بہ ماضی مطالبات اور قانونی ونظری سوالات اٹھائے بغیر وضع موجود (Status-quo) ہی کے تناظر میں ان سب طاقتوں کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے۔

فلسطین کا معاملہ بھی معروضی حالات کے اس جبر سے مستثنیٰ نہیں، اور صیہونیت سے قطع نظر کر لیجیے تو عرب ممالک اسی خطے میں زمینی حقائق کے ادراک کا عملی ثبوت بھی دے چکے ہیں، چنانچہ دوسری جنگ عظیم میں عربوں نے ترکوں کے اقتدار سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس شرط پر برطانوی حکومت کا ساتھ دیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر ترکی کے تمام عرب مقبوضات کو ایک یا ایک سے زائد آزاد اور خود مختار عرب مملکتوں کی حیثیت دے دی جائے گی۔ تاہم برطانوی حکومت نے فرانس کے ساتھ اپنے ایک خفیہ معاہدہ (Sykes-Picot Agreement) کے تحت، جس سے عربوں کو قصداً بے خبر رکھا گیا تھا، ۶۷؂ جنگ کے اختتام پر فلسطین کا کنٹرول خود سنبھال لیا اور ۱۹۲۰ء میں لیگ آف نیشنز نے فلسطین کو باقاعدہ برطانوی انتداب کے سپرد کر دیا۔ برطانوی حکومت کی اس دوغلی پالیسی کے باوجود اس کے بعد ۱۹۴۸ء تک برطانوی انتداب ہی کو قانونی اتھارٹی تسلیم کرتے ہوئے خطے کے تمام عرب ملک اس کے ساتھ معاملات کرتے رہے۔ سلطنت برطانیہ کے ساتھ کیے جانے والے قانونی و سیاسی معاہدوں کی پاس داری کا حال یہ تھا کہ ۱۹۳۸ء میں جب حکومت برطانیہ کی طرف سے ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر، جس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی حکومت فلسطین کے انقلاب پسندوں کے ساتھ مالی تعاون کرنے کے علاوہ یورپ سے اسلحہ خرید کر انھیں مہیا کر رہی ہے، سعودی حکمران شاہ عبد العزیز سے جواب طلبی کی گئی تو انھوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا:

''ہمارے مابین ایک سچی دوستی اور مشترک مفادات کے حوالے سے کئی معاہدات موجود ہیں۔ ہمیں اس کا پورا یقین ہے کہ عربوں کے موجودہ اور مستقبل کے مفادات کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے برطانیہ کے ساتھ دوستی اختیار کر لیں۔ اگر اہل فلسطین میری بات مانتے تو برطانیہ سے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے پر امن ذرائع کو ہی واحد حکمت عملی کے طور پر اختیار کرتے۔ حکومت برطانیہ کے علم میں اس بات کا آنا ضروری ہے کہ فلسطینی انقلاب کے لیے ہماری مدد کے حصول کے لیے بہت سی کوششیں کی گئیں ، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم کوئی ایسا اقدام کریں جس سے ہمارے اور برطانیہ کے مابین معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔'' (جبران شامیۃ: 'آل سعود، ماضیہم ومستقبلہم' ۲۱۲)

جہاں تک معروضی حقائق کا تعلق ہے تو وہ صہیونی ریاست کے معاملے میں دنیا کے کسی بھی دوسرے سیاسی معاملے سے بڑھ کر واضح اور نمایاں ہیں۔ عربوں کے مقابلے میں یہودیوں کی ذہنی، تعلیمی، معاشی، سیاسی اور تدبیری فوقیت مسلم اور اپنے مشن کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی اور اس کے حصول کے لیے جانی ومالی قربانی کا جذبہ عدیم المثال ہے۔ اس کے ساتھ انھیں برطانیہ، روس اور امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کی پشت پناہی بھی آغاز ہی سے واضح طور پر حاصل رہی ہے۔ یورپ میں صدیوں تک یہودی جس مذہبی اور معاشرتی ایذا رسانی (Persecution) کا نشانہ بنے رہے، اس کی بنا پر ہمدردی کی ایک عمومی فضا مغربی دنیا میں ان کے لیے پائی جاتی ہے اور اپنی غیر معمولی تدبیری کوششوں سے انھوں نے عالمی آئینی اداروں سے بھی ریاست اسرائیل کو فی نفسہٖ ایک جائز اور قانونی ریاست تسلیم کرا رکھا ہے۔ ریاست اسرائیل دنیا کے نقشے پر ان گوناگوں عوامل کے نتیجے میں، عربوں کی تمام تر مزاحمت کے باوجود، ظہور پزیر ہوئی اور جب تک ان عوامل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اس کا وجود باقی رہے گا۔ ان حالات میں صہیونی ریاست کے عملاً قائم ہو جانے کے بعد اسی حکمت عملی کو اپنائے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا جسے عالم اسلام کے طول وعرض ، بلکہ خود فلسطین میں حالات کے جبر کے تحت اختیار کیا گیا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معروضیت اور عملیت پسندی کا یہ رویہ قیام اسرائیل کے حوالے سے یک سر غائب ہے۔ عرب ممالک اور عوام ایک عرصے تک تو طاقت کے توازن میں فرق کو ہی سمجھنے میں ناکام رہے، چنانچہ قیام اسرائیل کے بعد مسلسل ربع صدی تک اسرائیل کے ساتھ عسکری مخاصمت کے راستے پر چل کر ہر جنگ میں پہلے سے زیادہ رقبے سے ہاتھ دھونے اور لاکھوں فلسطینیوں کو گھر سے بے گھر کرانے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ پھر جب نصف صدی کے تجربات ارد گرد کے عرب ملکوں اور فلسطین کی سیاسی قیادت کو زمینی حقائق سے کچھ آشنا کر دینے میں کامیاب ہوئے تو جہادی تنظیمیں اپنے خود کش حملوں کے ساتھ یہ بتانے کے لیے آن موجود ہوئیں کہ انھیں منزل سے نہیں، صرف سفر سے غرض ہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں فلسطینی قوم اپنے کسی ہدف کو پانے میں تو کامیاب نہیں ہو سکی، البتہ اس کے مسائل ومشکلات میں ہر گزرنے والے مرحلے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اب اگر اسرائیل کے حوالے سے عرب دنیا کی اس جذباتی اور غیر حقیقت پسندانہ حکمت عملی کے نفسیاتی اسباب تلاش کیجیے تو 'مسجد اقصیٰ' کا معاملہ ان میں سرفہرست ہوگا۔ یہ حکمت عملی جس نفسیاتی فضا میں اختیار کی گئی، اس کی تشکیل میں اس تصور کا کردار غیر معمولی ہے کہ مسجد اقصیٰ صرف اور صرف مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ ہے اور اس خطے میں یہودیوں کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کر لینے کے بعد اس عبادت گاہ سے ان کو دور رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حرمت کے فتوے کی بنیاد بھی اصلاً اسی مسئلے پر ہے۔ یہی مسئلہ عرب اور مسلم دنیا میں اس مذہبی جذباتیت کے فروغ کا سبب ہے جس کی بنیاد پر صدام اور ناصر جیسے قوم پرست اور سیکولر ڈکٹیٹروں کو صلاح الدین ایوبی جیسے عالی مرتبت جرنیل کے ساتھ تشبیہ دینا گوارا کیا گیا۔ امت مسلمہ کی یہی وہ 'دکھتی رگ' ہے جس کو چھیڑ کر ایریل شیرون جیسے امن دشمن یہودی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین جاری امن مذاکرات کے سارے عمل کو برباد کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اور آج بھی اس خطے میں پائدار امن کے قیام میں جو مسائل بنیادی رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں یروشلم اور اس کے مقامات مقدسہ کی تولیت کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ معروضی حالات کا ادراک کرنے کی صلاحیت پر یہ جذباتی مسئلہ کس درجے میں اثر انداز ہوا ہے، اس کا اندازہ کرنا ہو تو مولانا مودودی کا تجویز کردہ یہ ''سیدھا اور صاف حل'' ملاحظہ فرما لیجیے:

''یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل مسئلہ محض مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور خود بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک فلسطین پر یہودی قابض ہیں۔ اصل مسئلہ فلسطین کو یہودیوں کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کا ہے۔ اور اس کا سیدھا اور صاف حل یہ ہے کہ اعلان بالفر سے پہلے جو یہودی فلسطین میں آباد تھے، صرف وہی وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، باقی جتنے یہودی ۱۹۱۷ء کے بعد سے اب تک وہاں باہر سے آئے اور لائے گئے ہیں، انھیں واپس جانا چاہیے۔'' (سانحہ مسجد اقصیٰ ۹۱۔ ۲۰)

ا سرائیل کے حوالے سے اس خاص امتیازی رویے کا جواز ثابت کرنے کے لیے پیش کی جانے والی دوسری توجیہات (Justifications)، مثلاً صہیونی حکما کے نام نہاد پروٹوکولز یا عظیم تر اسرائیل کا منصوبہ، زیادہ تر زیب داستاں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور بالفرض ان چیزوں کی کوئی واقعی حقیقت ہو بھی تو وہ اسرائیل کے ساتھ سیاسی سطح پر معاملہ کرنے میں مانع نہیں، کیونکہ اسرائیل اس مفروضہ ریاست کے قیام کے لیے اندھا دھند پیش قدمی کرنے کی پوزیشن میں بہرحال نہیں ہے، چنانچہ وہ اس مفروضہ عظیم تر ریاست کے بعض علاقوں پر قابض ہونے کے بعد عملی مصلحتوں کے پیش نظر صحراے سینا مصر کو اور بعض مقبوضہ علاقے لبنان کو واپس کر چکا ہے، گولان کی پہاڑیاں بعض تحفظات کے ساتھ شام کو واپس کرنے کے لیے تیار ہے اور مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر اصولی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ خود عرب دنیا اسرائیل کے مبینہ توسیع پسندانہ عزائم کے باوجود عملاً اسرائیل کے ساتھ پرامن تعلقات کے قیام کی ضرورت کا احساس کر چکی ہے۔ مصر اور اردن کب سے اس کے وجود کو جائز تسلیم کر چکے ہیں۔ سعودی عرب، لبنان اور شام ہمسایہ عرب ملکوں کے مقبوضہ علاقوں کی واپسی اور فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کی شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں۔ ۶۸؂ فلسطین کی سیاسی لیڈر شپ عسکریت کا راستہ ترک کر کے گزشتہ ایک دہائی سے اسرائیلی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کا ڈول ڈالے ہوئے ہے۔ اور تو اور، حماس کے سپریم لیڈر شیخ احمد یاسین نے شہادت سے قبل متعدد مواقع پر یہ اعلان کیاکہ اسرائیل اگر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو تسلیم کر لے تو حماس قیام امن کے عمل میں تعاون کرے گی۔ روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۷ جنوری ۲۰۰۴ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق:

''حماس کے سرکردہ رہنما عبد العزیز رانتیسی نے اپنی خفیہ کمین گاہ سے ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ اگر اسرائیل ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقے خالی کر دے تو حماس دس سالہ جنگ بندی پر تیار ہے۔ تنظیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ موجودہ صورت حال میں ہم اپنی سرزمین کے پورے علاقے کو آزاد نہیں کر اسکتے لہٰذا فی الحال ہم مغربی کنارے، جس میں یروشلم اور غزہ کی پٹی بھی شامل ہو، پر مشتمل فلسطینی ریاست قبول کر لیں گے اور اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے انخلا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں فائر بندی قبول کر لیں گے۔ حماس کے رہنما نے بتایا کہ اس پیشکش کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لے گی یا ا س سے اسرائیل فلسطینی جھگڑا ختم ہو جائے گا۔''

گویا 'بعد از خرابی بسیار' تمام متعلقہ فریق ان زمینی حقائق کو تسلیم کرنے اور ان کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ معاملہ کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں جن کے واقعی ادراک سے، دیگر بہت سے عوامل کے ساتھ ساتھ، احاطۂ ہیکل کے بارے میں یہ تصور بھی نفسیاتی طور پر مانع ہے کہ یہودی اس پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ اب اگر یہ تصور کوئی شرعی اور دینی بنیاد نہیں رکھتا تو کیا یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ معاملہ کی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے لائی جائے اور ان بے بنیاد تصورات کی اصلاح کی کوشش کی جائے جو معروضی حقائق کو تسلیم کرنے اور کوئی نتیجہ رخی (Result-oriented) حکمت عملی اختیار کرنے کے حوالے سے امت مسلمہ، بالخصوص عالم عرب کو یک سو نہیں ہونے دے رہے؟

۳۔ اس مسئلے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے جو ہمارے لیے اس بحث کو ان نازک حالات میں چھیڑنے کا محرک بنا ہے۔ امت مسلمہ کی منصبی ذمہ داری، جیسا کہ اس بحث کے آغاز میں تفصیل سے بیان ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں اقوام عالم تک دین ابراہیمی کا ابلاغ ہے۔ جہاں تک جزیرۂ عرب اور اس کے گردونواح کے علاقوں کا تعلق ہے، یہ ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے 'اتمام حجت' کے درجے میں انجام دی۔ اس اتمام حجت میں دو عوامل تو تکوینی لحاظ سے، عالم اسباب میں، معاون بنے: ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب کے جن اہل کتاب کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا، وہ سرزمین عرب کے اندر مقیم ہونے کی وجہ سے اپنے مذہبی صحائف کی پیش گوئیوں اور سینہ بہ سینہ چلی آنے والی روایات سے پوری طرح واقف اور ان کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے منتظر تھے۔ دوسرے یہ کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت اور اس کے مختلف مراحل کو بتمام و کمال اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا اور غلبۂ اسلام کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کی تکمیل خود ان کے سامنے ہوئی۔ ان تکوینی عوامل کے علاوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں تدبیری لحاظ سے بھی ایسی حکمت عملی اختیار فرمائی کہ اہل کتاب میں مسلمانوں کے ساتھ قرب واشتراک کا احساس پیدا ہو اور انبیاے بنی اسرائیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مابین اتحاد اور یگانگت کے پہلو اجاگر ہو جائیں۔ چنانچہ :

o آپ نے اپنی دعوت کے لیے مشترک اساس ملت ابراہیمی کو قرار دیا اور اہل کتاب کے سامنے یہ بات مختلف پہلووں سے نمایاں کی کہ آپ کسی نئے دین کے داعی نہیں ، بلکہ دین ابراہیمی کی انھی تعلیمات کے احیا کے لیے تشریف لائے ہیں جو اہل کتاب اور اہل اسلام کے لیے مشترک طور پر ماخذ ومصدر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ۶۹؂

o مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ اہل کتاب کو اپنی دعوت کا مخاطب بنانے میں حکمت اور موعظہ حسنہ سے کام لیں اور اگر کہیں بحث مباحثہ کی ضرورت پیش آجائے تو تہذیب اور شایستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ ۷۰؂

o اسی ضمن میں انھیں یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ اہل کتاب کی علمی ومذہبی خیانتوں سے محض ضرورت کی حد تک تعرض کریں اور اس کو مجادلہ ومباحثہ کا مستقل موضوع بنا کر ایک نفسیاتی وذہنی بعد پیدا کرنے کے بجائے ان کی اس قسم کی باتوں سے درگزر اور اعراض سے کام لیں۔ ۷۱؂

o مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی گئی کہ وہ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے پراپیگنڈا، بے ہودہ اعتراضات، گستاخی وبے ادبی اور زبانی اذیت کی دیگر ناگوار صورتوں کو حتی الامکان صبر اور تقویٰ کے ساتھ برداشت کریں۔ ۷۲؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دعوتی حکمت عملی کے تحت یہود کے ناقابل برداشت حد تک گستاخانہ رویے پر بھی عام طور پر صبر واعراض اور عفو ودرگزر ہی سے کام لیا۔ ۷۳؂

اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی حوالوں سے اہل کتاب کے ساتھ موافقت و موانست اور دعوت و مکالمہ پر مبنی ایک نہایت پرامن، مثبت اور موافقانہ فضا قائم کی، جس کی ایک جھلک ذیل کے چند واقعات میں دیکھی جا سکتی ہے:

o مکی عہد نبوت میں جب روم کے مسیحیوں اور فارس کے مجوسیوں کے مابین جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مسلمان بہت غمگین ہوئے۔ رومیوں کے ساتھ اس ہمدردی کو قرآن مجید نے بنظر استحسان دیکھا اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ عنقریب رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوگا اور اس دن مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوگی۔ ۷۴؂

o ہجرت کے بعد ایک مخصوص عرصے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود کی تالیف قلب کے لیے ان کے قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ ۷۵؂

o فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں مدینہ منورہ کے یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت میں عاشورا کا روزہ رکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا۔ ۷۶؂

o ایک انصاری نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: 'والذی اصطفی موسیٰ علی البشر' (اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے) اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے انبیا میں سے بعض کو بعض سے افضل قرار دیں۔ ۷۷؂

o ۹ ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انھوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روک دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نماز پڑھنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ ۷۸؂

o ایک شخص کا جنازہ گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے، تو فرمایا: کیا وہ انسان نہیں ہے؟ ۷۹؂

o رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ان کے ساتھ معاشرتی اور قانونی معاملات میں ہر موقع پر عدل و انصاف کا رویہ اختیار فرمایا جس کی شہادت ایک موقع پر خود یہود نے یوں دی کہ: 'ہذا الحق وبہ تقوم السماء والارض'، ۸۰؂ ''یہی وہ حق اور انصاف ہے جس کے سہارے زمین اور آسمان قائم ہیں۔''

o جن معاملات میں آپ کو کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہوتی تھی، ان میں آپ اہل کتاب کے قوانین اور طریقوں کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ ۸۱؂

o لباس اور وضع قطع سے متعلق امور میں بھی آپ مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے طریقے کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔ ۸۲؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تدبیری کوششوں کی وجہ سے اہل کتاب کو تعصبات اور نفسیاتی الجھنوں سے صاف ماحول میں پوری ذہنی آزادی کے ساتھ آپ کی دعوت کو سمجھنے کا موقع ملا اور آپ کے دعواے نبوت کی حقانیت ان پر پوری طرح واضح ہو گئی، چنانچہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، ۸۳؂ البتہ وہ آپ کو صرف بنی اسماعیل کا نبی قرار دیتے ہوئے خود کو آپ پر ایمان لانے کے حکم سے مستثنیٰ سمجھتے تھے۔ ۸۴؂ یہ اعتقاد عہد نبوی اور عہد صحابہ کے اہل کتاب تک محدود نہیں تھا ، بلکہ ان علاقوں میں آباد ان کی آیندہ نسلیں بھی بالعموم اسی کی قائل رہیں۔ ۸۵؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوتی حکمت عملی کی اتباع، جس کے نتیجے میں دعوت حق کے مذکورہ نتائج حاصل ہوئے، زمان ومکان کی تبدیلیوں سے قطع نظر امت مسلمہ کے لیے ہر ماحول اور ہر زمانے میں ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ شہادت حق کی ذمہ داری ادا کی جا سکتی ہے اور نہ دعوت وتبلیغ سے ان نتائج کے حاصل ہونے کی کوئی توقع ہی کی جا سکتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو اپنے زمانے میں حاصل ہوئے، لیکن اسے ایک بد قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ مغربی یورپ اور اس کے زیر اثر دوسرے علاقوں کے باشندوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا عمل اس طرح کے موافق اور سازگار ماحول میں شروع نہ کیا جا سکا۔ اس خطے کی مسیحی طاقتوں سے مسلمانوں کا پہلا واسطہ صلیبی جنگوں میں پڑا اور ایک صدی پر محیط ان خوں ریز جنگوں کی تلخ یادیں صدیوں کے لیے فریقین کے ذہنوں پر نقش ہو گئیں۔ یورپ کے عوام کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کی جو بھیانک اور مسخ شدہ تصویر قرون وسطیٰ میں پیش کی جاتی رہی، اس کے پس منظر میں جہالت، تعصب، جذبۂ تحقیق کے فقدان اور عدم رواداری کے ساتھ ساتھ صلیبی جنگوں کی پیدا کردہ نفسیاتی فضا بھی پوری طرح کار فرما تھی۔ یہ تاریخ کا ایک جبر تھا، تاہم اس کا ازالہ تاریخ کے ایک دوسرے جبر کے ذریعے سے ممکن ہوا۔ علم وفکر پر اہل مذہب کی عائد کردہ غیر فطری پابندیوں سے جب اہل مغرب کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو انھوں نے مذہب کو ایک جوا قرار دے کر اس کو اپنے کندھوں سے اتار پھینکا۔ ریاست کی طرف سے ایک مخصوص مذہب کو اختیار کرنے کی پابندی کا خاتمہ کر دیا گیا اور اپنی رائے اور ضمیر کے مطابق کسی بھی مذہب کو اختیار کرنے کا حق ہر فرد کا بنیادی انسانی حق قرار پایا۔ آج مغرب اپنے تاریخی تجربات کی روشنی میں جس اخلاقی قدر کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور جس پر وہ گویا 'ایمان' لائے ہوئے ہے، وہ یہی مذہبی آزادی، رواداری اور باہمی احترام کی قدر ہے۔ یورپ میں مذہب اور ریاست کی علیحدگی کم از کم اس حوالے سے اپنے اندر خیر کا ایک نمایاں پہلو رکھتی ہے کہ اس نے مذہب اور ریاست دونوں کو ایک دوسرے کی مجبوریوں سے چھٹکارا دلا دیا۔ ریاست، کلیسا کے مذہبی تعصبات سے بلند ہو کر لوگوں کی فلاح وبہبود پر توجہ دینے کے قابل ہوئی، اور اہل مذہب کی چشم تنگ انسانی زندگی کی بلند تر آدرشوں اور وسیع تر مقاصد کے ادراک کے لیے وا ہو گئی ۔ مستثنیات سے صرف نظر کر لیجیے تو آج یورپ میں مذہب اور ریاست ، دونوں اس بنیادی قدر پر متفق ہیں۔ اس ضمن میں کاتھولک کلیسا کا انقلاب حال خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اس کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ گزشتہ صدیوں میں روا رکھا جانے والا رویہ بھی سامنے رکھیے اور وٹیکن کی مجلس دوم ۸۶؂ کا یہ اعلان بھی ملاحظہ فرمائیے:

''کلیسیا اہل اسلام کو بھی عزت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ تو اس واحد خدا کی تعظیم کرتے ہیں جو انسان سے ہم کلام ہوا۔ یہ اسے واجب الحی اور واجب الوجود، رحمان ورحیم، قادر مطلق، آسمان اور زمین کا خالق تسلیم کرتے ہیں اور دیانت داری کے ساتھ اس کے وہ احکام عمل میں لاتے ہیں جو محض بشری فہم وادراک سے بالکل باہر ہیں۔ اس بات میں یہ حضرت ابراہیم کی سی اطاعت پیش کرتے ہیں جس سے اہل اسلام اپنے ایمان کے مطابق تعلق رکھتے ہیں۔اہل اسلام اگرچہ خداوند یسوع کی الوہیت سے منکر ہیں تاہم اسے نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ وہ یسوع کی کنواری ماں کا بھی احترام کرتے ہیں اور اکثر عقیدت مندانہ طور پر اسے یاد کرتے ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ وہ یوم قضا کے بھی منتظر ہیں جب خدا تمام بنی نوع انسان کو مردوں سے زندہ کر کے ان کے کاموں کے مطابق جزا دے گا۔ آخر کار یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ وہ اخلاقی زندگی کی قدر کرتے ہیں اور خصوصاً نماز، زکوٰۃ اور روزوں سے خدا کی پرستش کرتے ہیں۔ چونکہ گزشتہ صدیوں کے دوران میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ وجدل اور عداوت برپا ہوتی رہی، اس لیے یہ مقدس مجلس سب کو یہ ترغیب دیتی ہے کہ ماضی کو بھول کر مخلصانہ طور پر ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور کل بنی آدم کے فائدے کے لیے معاشرتی انصاف، اخلاقی بھلائی، سلامتی اور آزادی کو محفوظ رکھیں اور ترقی دیں۔'' (ویٹی کن مجلس دوم، مترجم: حمید ہنری ۵۶۲)

صلیبی جنگوں کی تلخ یادوں کو مغرب کی نفسیات سے مٹانے اور اسلام کی اصل دعوت کو ایک کھلے اور آزاد ماحول میں اہل مغرب تک پہنچانے کے حوالے سے یہ انقلاب حال یقیناًایک 'خوش قسمتی' قرار پاتا، لیکن بدقسمتی یہاں اس طرح آڑے آئی کہ جب تعصب اور جہالت کے خلاف خود یورپ نے بغاوت کا علم بلند کیا اور اس میں ادیان ومذاہب سمیت انسانی علم کے دائرے میں آنے والی ہر چیز کی آزادانہ تحقیق کا جذبہ پیدا ہوا تو مسلمان یورپی طاقتوں کے ہاتھوں اپنی سیاسی اور معاشی مغلوبیت کے غم میں مبتلا ہو کر اپنے دعوتی کردار سے غافل ہو چکے تھے۔ چنانچہ یورپ کے ذہنی اور فکری انقلاب نے دعوت اسلام کے حوالے سے جو امکانات پیدا کیے، مسلمان ان کو کسی بھی قابل ذکر درجے میں استعمال نہ کر سکے۔ یہ فضا اسلام کی دعوت کے فروغ کے لیے جس قدر ضروری اور مفید تھی، مسلمانوں نے اتنا ہی اس کی ناقدری کا ثبوت دیا۔ اور اب تو سیاسی اور معاشی محرومیوں کا احساس اتنا غالب آ چکا ہے کہ ہماری حکمت عملی میں نہ 'دعوت اسلام' کو کوئی مقام حاصل ہے اور نہ اپنے اقدامات اور پالیسیوں کا ہم اس زاویے سے جائزہ لینے کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اسلام کی دعوت پر وہ کس طرح سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ مغربی دنیا علمی، فکری اور سماجی سطح پر مذہبی رواداری کے حوالے سے جس قدر حساس ہوتی جا رہی ہے، مسلمانوں کی طرف سے اس قدر کی پامالی داخلی اور خارجی ، دونوں دائروں میں اتنی ہی شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ حقیقت چاہے کچھ ہو، لیکن آج لگتا یہ ہے کہ مذہبی رواداری اصل میں مغرب کی قدر ہے، اس لیے کہ مسلمان عالمی سطح پر اپنے دین کا تعارف جس صورت میں پیش کر رہے ہیں، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی، یہودی اور مسیحی عبادت گاہوں پر خود کش حملے، ہیکل سلیمانی کے بارے میں تاریخی مسلمات کی تکذیب اور نہایت کمزور دلائل کی بنیاد پر یہودیوں کے تاریخی و مذہبی حق کی نفی اس کے نمایاں مظاہر ہیں۔

تھا جو ناخوب ، بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اس صورت حال کا تجزیہ تاریخی تناظر میں جو بھی کیا جائے اور اس کا ذمہ دار جن اسباب وعوامل کو بھی ٹھہرایا جائے، یہ بات طے شدہ ہے کہ اسلام کو اپنی اصل صورت میں مغربی اقوام تک پہنچانے کی ذمہ داری ان نفسیاتی اور ذہنی رکاوٹوں کو دور کیے بغیر پوری نہیں کی جا سکتی جن کو کھڑا کرنے میں خود ہماری کوتاہ نظری کا حصہ کم نہیں ہے۔ یہ اقوام مسیحیت کی پیروکار ہیں جو صدیوں سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب چلا آ رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کے مطابق قیامت کے برپا ہونے کے وقت بھی اسے یہی حیثیت حاصل ہوگی۔ ۸۷؂ گویا مغرب کی یہ مسیحی اقوام دعوت اسلام کا سب سے بڑا ہدف ہیں اور ان تک اس پیغام کو پہنچانے کے لیے مذہبی اساسات میں اشتراک کو اجاگر کرنا اور امن اوربھائی چارے کی فضا کا قیام آج بھی دعوت اسلام کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں دیکھیے تو احاطۂ ہیکل کے تنازع کا ایک منصفانہ اور معقول حل مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے تشدد، جارحیت اور عدم رواداری کے منفی تاثر کے ازالے اور دعوت اسلام کے حوالے سے مثبت اور سازگار فضا کی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر امت مسلمہ کی قیادت سطحی جذباتیت سے بالاتر ہو کر اپنی بصیرت اور فراست کو بروے کار لاتے ہوئے دنیا کا یہ سنگین ترین مذہبی تنازع حل کر سکے تو دعوت اسلام کے اس قدر لامحدود مواقع اور امکانات پیدا ہو سکتے ہیں کہ ان کا پیشگی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت کا انتظار کیے بغیر جب خارجی حالات کا دباؤ اس مسئلے کا کوئی ممکنہ طور پر ناپسندیدہ حل قبول کرنے پر ہمیں مجبور کر دے، یہ پیش کش خود امت مسلمہ کی جانب سے ایک بلند اخلاقی شعور اور داعیانہ بصیرت کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے نتیجے میں دعوت اسلام کے لیے تیار ہونے والی (Responsive) فضا سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی پیشگی وضع کر لی گئی ہو۔

کیا کوئی عملی حل ممکن ہے؟

اب ہم اس بحث کے آخری نکتے کی طرف آتے ہیں۔ اوپر کی ساری بحث سے یہ سوال قدرتی طور پر سامنے آتا ہے کہ کیا اس تنازع کا کوئی قابل قبول عملی حل ممکن بھی ہے، اور کیا کوئی ایسی صورت نکالی جا سکتی ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک کو اس عبادت گاہ سے بالکلیہ لاتعلق اور اس میں عبادت کے حق سے محروم کیے بغیر دونوں کے حق تولیت وعبادت کے لیے گنجایش پیدا کی جا سکے؟ ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اس کے لیے مناسب ہوگا کہ اس مقام کی تاریخ کے بعض اہم پہلووں پر ایک نظر ڈال لی جائے۔

احاطۂ ہیکل (Temple Mount)، جو کہ آج کل 'الحرم الشریف' کے نام سے معروف ہے، بحالت موجودہ تقریباً پینتالیس ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے۔ سطح سمندر سے یہ احاطہ اوسطاً ۲۴۰۰ فٹ بلند ہے اور اس کو ایک غیر متساوی الاضلاع چار دیواری محیط ہے۔ جنوبی جانب سے اس دیوار کی لمبائی تقریباً ۹۱۰، شمالی جانب سے تقریباً ۱۰۲۵، مشرقی جانب سے تقریباً ۱۵۲۰ اور مغربی جانب سے تقریباً ۱۵۸۰ فٹ ہے۔ اسی احاطے کے اندر کسی مقام پر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے وہ شان دار عبادت گاہ تعمیر کی تھی جو تاریخ میں 'ہیکل سلیمانی' کے نام سے معروف ہوئی۔ 'ہیکل' کی اصل عمارت کی بنیادیں، اس کی تعمیر کا نقشہ اور حدود اسرائیلی شریعت میں بالکل متعین تھیں اور ان میں کمی بیشی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں تھا، چنانچہ ۵۸۶ ق م میں بخت نصر کے ہاتھوں تباہی کے بعد دوسرے ہیکل کی تعمیر بھی انھی بنیادوں پر ہوئی اور یہودی مذہبی قوانین کے مطابق تیسرا ہیکل بھی بعینہٖ انھی بنیادوں پر تعمیر ہوگا۔ البتہ 'مسجد' کی اصل عمارت کے ارد گرد نسبتاً وسیع تر رقبے میں ایک چار دیواری بھی تعمیر کی گئی تھی جسے بعد میں دو مرحلوں پر مزید وسیع کر دیا گیا۔ پہلی مرتبہ یہ توسیع یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس نے ۱۹ ق م میں، جبکہ دوسری مرتبہ رومی شہنشاہ ہیڈرین نے ۱۳۶ء میں کی۔ ہیڈرین کی مقرر کردہ چار دیواری ہی آج تک برقرار چلی آ رہی ہے۔

۶۳۸ء میں سیدنا عمر کی زیر قیادت بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے اس احاطے میں نصاریٰ کے پھینکے ہوئے کوڑا کرکٹ اور گندگی کو صاف کرا کر اس کی جنوبی دیوار کے قریب ایک جگہ کو اپنی عبادت کا مرکز بنا لیا اور بعد میں وہاں ایک باقاعدہ مسجد تعمیر کر لی گئی۔ ابتدا میں کچھ عرصہ تک یہ 'مسجد عمر' کے نام سے معروف رہی، ۸۸؂ لیکن چونکہ ہیکل کے پورے احاطے میں مسلمانوں نے صرف یہی جگہ نماز کے لیے مخصوص کر لی تھی، اس لیے مسلمانوں کے ہاں 'مسجد اقصیٰ' کا لفظ اپنے اصل مفہوم یعنی ہیکل سلیمانی اور اس کو محیط پوری چار دیواری کے بجائے رفتہ رفتہ اسی مخصوص مسجد کے لیے بولا جانے لگا۔ عبد الملک بن مروان نے اپنے دور حکومت میں احاطے کے تقریباً وسط میں واقع صخرۂ بیت المقدس پر بھی ایک قبہ تعمیر کرا دیا۔ یہی دو عمارتیں آج بھی احاطے کے اندر اہم اور نمایاں ہیں۔ عبد الملک کی پیروی میں بعد کے مسلمانوں نے بھی مختلف اوقات میں یہاں مختلف جگہوں پر چھوٹے بڑے قبے تعمیر کر لیے جنھیں مختلف ناموں سے موسوم کر دیا گیا۔

اس وقت عملی صورت حال کے لحاظ سے یہ پورا احاطہ صدیوں سے مسلمانوں کے زیر تصرف ہے اور اس تسلسل کی بنیاد پر یروشلم کے مسلم وقف کا موقف یہ ہے کہ اس احاطے کی ایک انچ جگہ پر بھی یہودی کوئی حق نہیں رکھتے اور اس کے کسی بھی حصے پر ان کو تولیت وتصرف کا حق دینا احکام شریعت کے بالکل خلاف ہے۔ مفتی اعظم فلسطین عکرمہ صبری کے الفاظ میں:

''مسجد اقصیٰ کے ارد گرد تمام عمارتیں اسلامی وقف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان عمارتوں کے دروازے، کھڑکیاں اور راستے براہ راست مسجد اقصیٰ کی جانب کھلتے ہیں اور برکت اور تقدس کے لحاظ سے ان کا درجہ بھی وہی ہے جو کہ مسجد اقصیٰ کا۔ لہٰذا اسلامی قانون کی رو سے ان میں سے کسی بھی عمارت کو غصب کر کے اسے یہودیوں کی عبادت گاہ میں تبدیل کرنا ناممکن ہے۔'' (http://www.la.utexas.edu/)

ہمارے نزدیک موجودہ نزاع کی اصل جڑ مسلم وقف کا یہی انتہا پسندانہ موقف ہے، اور اس پر نظر ثانی نہ صرف قرآن وسنت کے نصوص ، بلکہ امت مسلمہ کے اس رویے کی روشنی میں بھی ضروری ہے جو اس نے گزشتہ صدیوں میں، احاطۂ ہیکل پر عملاً قابض ہونے کے باوجود، ہیکل کی تعمیر کے امکان کے حوالے سے اختیار کیے رکھا۔ یہودیوں کا یہ عقیدہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی کہ ایک وقت آئے گا جب وہ اس مقام پر 'ہیکل سلیمانی' کی تعمیر نو کریں گے۔ اس امکان کے حوالے سے امت مسلمہ کے رد عمل کا تاریخی لحاظ سے جائزہ لیجیے تو وہ منفی نہیں ، بلکہ مثبت رہا ہے:

۱۔ فتح بیت المقدس کے موقع پر سیدنا عمر کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہوئے ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ انھوں نے مسلمانوں کے لیے عبادت کی ایک ایسی جگہ منتخب کی جو ہیکل کی اصل عمارت سے بالکل ہٹ کر واقع تھی۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ مستقبل میں یہود اور مسلمانوں کے مابین کسی تنازع کے پیدا ہونے کا امکان باقی نہ رہے۔

۲۔ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اگرچہ بعض سیاسی یا مذہبی اغراض کے تحت سیدنا عمر کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے احاطۂ ہیکل کے اندر اس چٹان کے اوپر بھی ایک گنبد تعمیر کرا دیا جسے مسلم مفسرین کی تصریح کے مطابق یہود کے قبلہ کی حیثیت حاصل ہے اور جہاں یہودی روایات کے مطابق ہیکل سلیمانی کا مقدس ترین مقام (Holy of holies) واقع تھا، تاہم یہ کوئی مسجد نہیں ، بلکہ محض ایک زیارت گاہ تھی۔ ۸۹؂ عبد الملک کا یہ اقدام اگرچہ عملاً ان الجھنوں اور پیچیدگیوں کا بنیادی سبب ہے جن سے آج ہمیں سابقہ پیش آ رہا ہے، تاہم خود اس کے ذہن میں پورے احاطۂ ہیکل سے اہل کتاب کے حق کی بالکلیہ نفی کا کوئی تصور نہیں تھا، چنانچہ اس نے قبۃ الصخرۃ کی تعمیر اور اس کے انتظام وانصرام میں یہودیوں کو بھی شریک ہونے کا موقع دیا۔ اردن یونیورسٹی میں تاریخ یروشلم کے محقق ڈاکٹر کامل جمیل العسلی اور 'Encyclopaedia Judaica' کے مقالہ نگار بتاتے ہیں کہ ساتویں صدی میں مسجد اقصیٰ کو آباد کرنے کے بعد مسلمانوں نے مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کو بھی یہاں بطور مجاور خدمت انجام دینے کا موقع فراہم کیا۔ ۹۰؂

پندرہویں صدی کے عرب مورخ قاضی القضاۃ مجیر الدین الحنبلی ۹۱؂ نے اپنی کتاب ''الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل'' میں اس کی حسب ذیل تفصیل نقل کی ہے:

''مسجد اقصیٰ کے لیے دس یہودی خادم مقرر کیے گئے جن سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ اگلی نسلوں میں ان کی تعداد بڑھ کر بیس ہو گئی۔ ان کے ذمے گرمی سردی کے موسم اور زیارت کے ایام میں مسجد اور اس کے ارد گرد طہارت خانوں کے کوڑا کرکٹ کو صاف کرنا تھا۔ اسی طرح دس مسیحی خاندانوں کو نسل در نسل مسجد اقصیٰ کی خدمت کے لیے مقرر کیا گیا۔ یہ مسجد کے لیے چٹائیاں تیار کرنے کے علاوہ ان چٹائیوں اور اس نالی کی صفائی کرتے تھے جس سے گزر کر پانی حوضوں تک آتا تھا۔ دیگر کاموں کے علاوہ پانی کے حوضوں کی صفائی بھی انھی کے ذمے تھی۔ مسجد کے یہودی خادموں کی ایک جماعت شیشے کے چراغ، پیالے اور فانوس وغیرہ تیار کرتی تھی اور ان سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ اسی طرح وہ خادم بھی جزیہ سے مستثنیٰ تھے جنھیں چراغوں کی بتیوں کی دیکھ بھال پر مامور کیا گیا تھا۔ ان کو یہ ذمہ داری عبد الملک کے زمانے سے لے کر ہمیشہ کے لیے نسل در نسل سونپ دی گئی تھی۔'' ( ۲۸۱)

۳۔ صخرہ کی تعظیم وتکریم کے حوالے سے عبد الملک کے اس اقدام کو اکابر اہل علم نے قرآن وسنت اور سلف کے طریقے سے صریحاً متجاوز قرار دیا اور اس پر کڑی تنقید کی۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''نہ سیدنا عمر نے صخرہ کے قریب نماز پڑھی اور نہ مسلمانوں نے، اور نہ انھوں نے ا س کو چھونے یا بوسہ دینے کا طریقہ ہی اپنایا۔ عبد اللہ ابن عمر کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ جب بیت المقدس میں آتے تو مسجد اقصیٰ میں آ کر نماز ادا کرتے تھے ، لیکن صخرہ یا دوسرے مقامات کے قریب بھی نہیں جاتے تھے۔ یہی طریقہ سلف میں سے عمر بن عبد العزیز، اوزاعی اور سفیان ثوری جیسے معتمد اہل علم سے مروی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کا صرف وہ حصہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے جسے سیدنا عمر نے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص کیا۔ اس کے علاوہ باقی کسی حصے کو دوسرے حصے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں... صخرہ تو اصل میں یہود کا قبلہ ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کو (محض ایک محدود وقت کے لیے) قبلہ مقرر کیا گیا تھا ، لیکن پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا، چنانچہ ہماری شریعت میں جیسے ہفتے کے دن کے بارے میں (جس کی یہود تعظیم کرتے ہیں) کوئی خصوصی حکم نہیں، اسی طرح صخرہ کے حوالے سے بھی کوئی خصوصی حکم باقی نہیں رہا۔ اس کی تعظیم کا طریقہ یہود کی مشابہت اختیار کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔'' (اقتضاء الصراط المستقیم ۴۳۴۔ ۴۳۵)

۴۔ مسلمانوں کا سلسلۂ عبادت پوری تاریخ میں اصلاً سیدنا عمر کے مخصوص کردہ اسی حصے تک محدود رہا ہے جہاں اس وقت 'مسجد اقصیٰ' قائم ہے، اور اسی حصے کو وہ بلا شرکت غیرے صرف مسلمانوں کا حق سمجھتے رہے ہیں۔ قرون وسطیٰ میں یروشلم کا سفر کرنے والے متعدد سیاحوں اور زائرین کے بیانات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے یہودیوں کو احاطۂ ہیکل میں آنے جانے اور ہیکل کے اصل محل وقوع کے قریب دعا اور عبادت کرنے کی اجازت حاصل تھی اور صرف مسجد عمر یعنی موجودہ مسجد اقصیٰ میں ان کا داخلہ ممنوع تھا۔ ۹۲؂

خلافت عثمانیہ کے دور میں بعض سیاسی وجوہ کے تحت احاطۂ ہیکل میں یہود ونصاریٰ کے داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی، لیکن انیسویں صدی میں جب سلطنت عثمانیہ اور یورپ کی مسیحی طاقتوں کے مابین صلح وامن کے تعلقات قائم ہوئے تو ۱۸۵۶ء میں ترکوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کے احاطۂ ہیکل میں آنے جانے پر عائد اس پابندی کو منسوخ کر کے سابقہ اجازت کی ب

۵۔ فقہی ذخیرے میں کہیں بھی مسجد اقصیٰ کے ساتھ یہود کے تعلق اور اس پر ان کے حق کی نفی نہیں کی گئی، بلکہ فقہاے احناف نے، اس کے برخلاف، اپنی کتابوں میں باقاعدہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ مسلمانوں کی عام مساجد سے مختلف ہے، چنانچہ عام مساجد کے لیے وہ اہل ذمہ کے وقف یا وصیت کردہ مال کو قبول نہیں کرتے ، کیونکہ ان کی حیثیت خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی ہے، لیکن مسجد اقصیٰ کے حوالے سے وہ اہل کتاب کا یہ حق پوری طرح تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اس کی تعمیر وتزئین اور اس کے انتظامات کے لیے اپنا مال وقف یا وصیت کریں۔ ۹۴؂ اس کا مفہوم، ظاہر ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اس کو خالصتاً اہل اسلام کی نہیں ، بلکہ اہل اسلام اور اہل کتاب ، دونوں کی مشترکہ عبادت گاہ مانتے اور اس پر اہل کتاب کا مذہبی حق تسلیم کرتے ہیں۔

۶۔ اس عقیدے کا اظہار کرنے والے یہودیوں کے خلاف کسی قسم کے مواخذہ یا محاسبہ کا کوئی تذکرہ ہمیں تاریخ میں نہیں ملتا ، بلکہ اس کے برعکس مثالیں ملتی ہیں۔ قرون وسطیٰ کے مشہور یہودی عالم اور فلسفی موسیٰ بن میمون نے اپنی کتاب 'The Code of Jewish Law' میں صاف طور پر لکھا تھا کہ فقہی شرائط کے پورا ہونے پر 'ہیکل سلیمانی' کی تعمیر یہودیوں کی ہر نسل کے لیے ایک مذہبی فریضے کی حیثیت رکھتی ہے، ۹۵؂ اس کے باوجود انھیں سلطان صلاح الدین ایوبی کے دربار میں ان کے ذاتی معالج اور دوست کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل تھا اور انھی کے اثر ورسوخ کے تحت سلطان نے بعض یہودی خاندانوں کو یروشلم میں آباد ہونے کی اجازت دی تھی۔ ۹۶؂

مذکورہ تاریخی شواہد اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بیت المقدس اور اس کے مقامات مقدسہ سے، جن میں احاطۂ ہیکل بھی شامل ہے، یہود ونصاریٰ کو روکنے کی کوشش یا حق تولیت وعبادت کے تناظر میں ان پر کوئی پابندی پوری اسلامی تاریخ میں، چند استثنائی صورتوں کے سوا، کبھی عائد نہیں کی گئی۔ یہ بات اس تناظر میں خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ حجاز مقدس کو، جس میں مسجدحرام واقع ہے، غیر مسلموں کے قیام کے لیے شرعاً ایک ممنوعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ دونوں مقامات کے حوالے سے ان متباین رویوں کا زیر بحث نکتے کے ساتھ تعلق اتنا واضح ہے کہ خود یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کے قائل اہل علم بھی اس کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ مولانا قاری محمد طیّب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''جزیرۂ عرب سے یہود ونصاریٰ کے اخراج کی بنیاد نہ تعصب ہے نہ جانب داری اور نہ قومی انفرادیت ، بلکہ صرف اس حرم الٰہی کو عالمی بد امنی سے بچانا تھا جس کو تشریعاً وتکویناً 'ہدی للعالمین' اور 'قیاما للناس' اور 'حرما آمنا' کہہ کر عالمی امن گاہ اور عالمی ہدایت گاہ بنایا گیا تھا ، کیونکہ قدرتی طور پر جو عالمی امن گاہ ہوگی، اس کی بد امنی بھی عالمی ہی ہوگی نہ کہ مقامی۔ اندریں صورت اگر اس مرکز امن میں یہود ونصاریٰ اور مشرکین وغیرہ مختلف قوموں کی مخلوط آبادی رکھی جاتی تو قدرتی طور پر مذہبی تعصبات اور فرقہ وارانہ کشیدگیوں کا پیدا ہونا وہاں بھی ناممکن نہ ہوتا...دوسرے کسی وقت بھی بالخصوص قومیتوں کے فروغ کے وقت، جیسا کہ آج کا دور ہے، مشرکین زور پکڑ کر یہ آواز بھی اٹھا سکتے تھے کہ چونکہ کعبہ محترمہ قومی طور پر ان کا ہے اور وہ پشت ہا پشت سے بت پرستی ہی کا مذہب لیے ہوتے تھے، لہٰذا کعبہ میں اگر مسلمان نماز پڑھیں تو اسی میں ان کی مورتیاں بھی رکھوا دی جائیں جن کی وہ بھی پوجا پاٹ کرتے رہیں...تو نتیجہ یہ ہوتا کہ جس گھر کی وضع ہی توحید عبادت اور رد شرک کے لیے ہوئی تھی، اسی سے اشراک عبادت اور رد توحید کے دھارے بہنے لگتے۔'' (مقامات مقدسہ ۵۹۳)

''جہاں بیت المقدس سابق میں مسلمانوں کا قبلہ اول اور بعد میں موضع صلوٰۃ وجاے ہجرت رہتا آ رہا ہے، وہیں وہ یہود ونصاریٰ کا بھی قبلہ اور مذہبی مرکز ہے اور اس لیے شام میں مسلمانوں کی طرح ان دونوں قوموں کی آمد ورفت اور قلبی دواعی سے ان کا قیام ومقام بھی طبعاً ضروری تھا جس سے روک دیا جانا اسلام نے باوجود اپنی قدرت واقتدار کے کبھی گوارا نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اس رکاوٹ کو اپنا حق سمجھا، بلکہ ہمیشہ ان قوموں کو وہاں آنے جانے کی آزادی دیے رکھی جو آج تک بھی قائم ہے۔'' ( ۶۲۳)

''مسلمانوں نے اپنے قبضہ کے دور میں بلاشائبہ تعصب مسجد اقصیٰ، بیت اللحم، صخرۂ معلقہ اور طور سینا کی اسی طرح عظمت وتقدیس اور حفاظت کی جس طرح انھوں نے کعبہ مقدسہ کو عظمتوں کا گھر یقین کر کے اس کی تقدیس کی، جس سے یہود ونصاریٰ کی کبھی بھی دل شکنی نہیں ہوئی ، بلکہ ان دونوں قوموں کے لیے اقصیٰ وطور کے دروازے اسی طرح بفراخ دلی کھولے رکھے جس طرح خود ان کے لیے وہ کھلے ہوئے تھے۔'' ( ۷۱۱)

سوال یہ ہے کہ جس امکان کے پیش نظر حجاز مقدس میں یہود ونصاریٰ کے قیام کو ممنوع قرار دیا گیا، وہی امکان مسجد اقصیٰ کے بارے میں یہود کے باقاعدہ اور علانیہ مذہبی عقیدے کی صورت میں امت مسلمہ کے سامنے موجود تھا، پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود امت مسلمہ نہ صرف اس شہر ، بلکہ اس عبادت گاہ کے ساتھ ان کے تعلق ووابستگی کو بنظر احترام دیکھتی اور یہاں ان کو آزادانہ آنے جانے اور مستقل سکونت اختیار کرنے کی اجازت دیتی رہی؟

اس تفصیل کی روشنی میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ قبۃ الصخرہ سمیت پورے احاطۂ ہیکل کو سیدنا سلیمان علیہ السلام کی مسجد کا حصہ ہونے کے تعلق سے ایک عمومی تقدس اور احترام کا مرتبہ تو یقیناًحاصل ہے، لیکن موجودہ 'مسجد اقصیٰ' کے علاوہ پورے احاطۂ ہیکل پر تولیت وتصرف کا حق جتانے اور یہودیوں کے حق کی کلیتاً نفی کرنے کا دینی و تاریخی لحاظ سے نہ کوئی جواز ہے اور نہ ضرورت۔ ہمارے نزدیک یہی وہ نکتہ ہے جو اس تنازع میں ایک قابل عمل حل کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اس لیے کہ اس کو مان لینے کی صورت میں مسلمانوں کا زاویۂ نگاہ اس عبادت گاہ کے حوالے سے یہود کے زاویۂ نگاہ سے قطعی مختلف قرار پاتا ہے۔ جہاں تک یہود کا تعلق ہے، ان کی دلچسپی بعینہٖ ان بنیادوں پر تیسرے ہیکل کی تعمیر سے ہے جن پر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے پہلا ہیکل تعمیر فرمایا تھا۔ ہیکل کی تباہی کو صدیاں گزر جانے کے بعد اس کی چار دیواری میں توسیع اور متعدد بار تعمیرات کے نتیجے میں ہیکل کی اصل بنیادوں کی متعین طور پر نشان دہی تو زیر زمین کھدائی اور اثریاتی تحقیق (Archaelogical Research) کے بغیر ممکن نہیں، تاہم بائیبل اور تالمود میں بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں یہودی علما نے تخمیناً اس کی تعیین کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں ان کے ہاں تین نقطہ ہاے نظر پائے جاتے ہیں:

پہلے نقطۂ نظر کے مطابق، جسے 'روایتی نقطۂ نظر' کہا جاتا ہے اور جسے یہودی علما اور ربیوں کے ہاں اب تک قبول عام حاصل ہے، ہیکل سلیمانی عین اس مقام پر یا اس سے نہایت قریب واقع تھا جہاں اس وقت قبۃ الصخرہ موجود ہے۔ صخرہ درحقیقت قربان گاہ کا پتھر ہے جہاں سوختنی قربانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ بیش تر یہودی ماہرین آثار قدیمہ بھی اسی نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں۔ تاہم بعض نئی تحقیقات میں روایتی نقطۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے یہ رائے اختیار کی گئی ہے کہ ہیکل عین قبۃ الصخرہ کے بجائے اس سے کچھ ہٹ کر واقع تھا۔ اس ضمن میں دو رائیں ہیں:

یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے راکاہ (Racah) انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے پروفیسر آشر کوف مین (Physicist Asher Kaufman) کی تحقیق کے مطابق ہیکل کا مقدس ترین مقام یعنی قدس الاقداس (Holy of Holies) قبۃالصخرہ کی شمالی جانب میں قبۃ الروح (Dome of the Spirits) کے اندر موجود پتھر کی جگہ واقع تھا۔ یہ جگہ قبۃ الصخرہ کے شمال میں ۱۱۰ میٹر یعنی ۳۳۰ فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس ضمن میں تل ابیب کے ایک ممتاز ماہر تعمیر توویا ساگیو (Tuvia Sagiv) کی رائے کے مطابق ہیکل کا محل وقوع قبۃ الصخرہ کی جنوبی جانب میں تھا۔ یہ جگہ قبۃ الصخرہ اور مسجد اقصیٰ کے درمیان تقریباً وسط میں ہے اور اس وقت یہاں فوارۂ کاس (Al Ka's fountain) واقع ہے۔ ۹۷؂

یہود کے نقطۂ نگاہ کے برعکس مسلمانوں کا اصل مذہبی مقصد احاطۂ ہیکل کی تولیت یا ہیکل کی اصل بنیادوں پر مسجد کی تعمیر نہیں، بلکہ اس مقدس مقام پر محض عبادت کا حق حاصل کرنا ہے، چنانچہ تورات میں بیان کردہ ہیکل کے مخصوص نقشے اور اس کی متعین بنیادوں کو اسرائیلی شریعت کے احکام کے حوالے سے جو بھی اہمیت حاصل ہو، اسلامی نقطۂ نگاہ سے عظمت و تقدس اور عبادت پر اجر وثواب ملنے کے پہلو سے یہ پورا احاطہ یکساں فضیلت رکھتا ہے، بلکہ اس میں اگر مزید توسیع بھی کر لی جائے تو اجر وثواب کی نوعیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس مقام پر نماز ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے، وہ ہیکل کی چار دیواری کے اندر ، لیکن 'ہیکل' کی اصل عمارت سے باہر واقع ہے۔ ۶۳۸ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسلمانوں نے بھی ہیکل کی اصل بنیادوں سے کسی قسم کی کوئی دلچسپی ظاہر کیے بغیر سیدنا عمر کی پیروی میں اسی مقام پر نماز ادا کرنا شروع کر دی اور بعد میں وہاں ایک باقاعدہ مسجد تعمیر کر لی گئی۔ یہی مسجد، آج 'مسجد اقصیٰ' کہلاتی ہے، اور یہودی ماہرین کے تجویز کردہ مذکورہ تینوں مقامات میں سے جس مقام کو بھی ہیکل کا اصل محل وقوع مانا جائے، موجودہ مسجد اقصیٰ اس کی زد میں نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ ربی شلومو گورن جیسے انتہا پسند یہودی رہنما نے بھی، جس نے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیلی فوج کے کمانڈر سے قبۃ الصخرہ کو ڈائنامائیٹ سے اڑا دینے کا مطالبہ کیا تھا، وزارتی کمیٹی برائے مقامات مقدسہ (Ministerial Committee for Holy Places) کو بھیجی جانے والی یادداشت میں یہ تجویز پیش کہ قبۃ الصخرۃ کا ایریا تو مسلمانوں کے لیے ممنوع قرار دیا جائے ، لیکن مسجد اقصیٰ چونکہ ہیکل کی اصل عمارت کے اندر شامل نہیں، اس لیے وہاں مسلمانوں کو رسائی کی اجازت دے دینی چاہیے۔ ۹۸؂

گویا موجودہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کے حق تولیت کو محفوظ رکھتے ہوئے احاطۂ ہیکل کے تنازع کا ایک معقول حل موجود ہے۔ یہ حل یہودی مذہبی حلقوں کے لیے تو بدیہی طور پر قابل قبول ہے، البتہ مسلمانوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے موجودہ موقف پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان بے بنیاد مذہبی تصورات کو خیرباد کہنا ہوگا جو پوری عبادت گاہ سے یہود کے حق تولیت کی تنسیخ یا قبۃ الصخرۃ کی اہمیت وتقدس کے حوالے سے وضع کر لیے گئے ہیں اور سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے طرز عمل کی اتباع میں اپنے حق کو اس جگہ تک محدود ماننا ہوگا جہاں روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا تذکرہ ملتا ہے اور جسے سیدنا عمر نے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص فرما دیا تھا۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ۔

____________

۶۵؂ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سید سلمان حسینی ندوی، 'ہزارۂ سوم کی قیامت صغریٰ'۴۴ ۔ ۷۷۔

۶۶؂ Yoel Cohen, "The Political Role of the Israeli Chief Rabbinate in the Temple Mount Question", Jewish Political Studies Review, Vol. 11:1-2, Spring 1999 (http://www.jcpa.org)

۶۷؂ مفتی عبد القیوم قادری، تاریخ نجد وحجاز ۳۵۹۔ ۳۶۰ بحوالہ ''دی سیکرٹ لارنس آف عریبیہ'' از فلپ نائٹلی/کولن سمپسن۔

۶۸؂ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے سعودی عرب کے مجوزہ امن منصوبے کی معنویت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ''نئی اور اہم بات یہ ہے کہ اب اسرائیل دفعۃً واحدۃ (in one shot) پورے عالم عرب کے ساتھ پر امن تعلقات قائم کر سکتا ہے۔'' ان سے پوچھا گیا کہ کیا عالم عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے فی الواقع تیار ہے تو انھوں نے کہا: ''اگر وہ جنگ کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں تو ہم بالکل تیار ہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ یہودیوں سے ہماری کیا دشمنی ہے؟ وہ بھی ہماری دنیا کا ایک حصہ ہیں۔'' پوچھا گیا کہ یہ تصور کرنا کچھ مشکل سا نہیں ہے کہ ریاض میں اسرائیلی سفارت خانہ قائم ہو؟ تو انھوں نے کہا: ''اگر سعودی عرب میں اسرائیلی اور اسرائیل میں سعودی سفارت خانہ قائم ہو تو دو ملکوں کے مابین تعلقات کی صورت میں یہ تو ہوتا ہی ہے۔''(Weekly Time, April 8, 2002, 32)

۶۹؂ آل عمران، ۶۴۔ العنکبوت، ۴۶۔

۷۰؂ النحل، ۱۲۵۔ العنکبوت، ۴۶۔

۷۱؂ المائدہ، ۱۳۔

۷۲؂ البقرہ: ۱۰۴۔ آل عمران، ۱۸۶۔

۷۳؂ بخاری، استتابۃ المرتدین، ۶۴۱۴۔ ایضاً، الہبۃ، ۲۴۲۴۔ مسلم، السلام، ۴۰۵۹۔ ترمذی، البیوع، ۱۱۳۴۔

۷۴؂ الروم :۱۔۵۔

۷۵؂ البقرہ: ۱۴۳۔

۷۶؂ بخاری، الصوم، ۱۸۶۵۔

۷۷؂ بخاری، احادیث الانبیاء، ۳۱۶۲۔

۷۸؂ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۴/ ۱۰۸۔

۷۹؂ بخاری، الجنائز، ۱۲۲۹۔

۸۰؂ ابوداؤد، البیوع، ۲۹۶۱۔

۸۱؂ مسلم، الحدود، ۳۲۱۲۔ طحاوی، شرح معانی الآثار ۱/ ۳۱۵۔

۸۲؂ بخاری، اللباس، ۵۴۶۲۔

۸۳؂ البقرہ: ۷۶۔

۸۴؂ البقرہ: ۹۱۔

۸۵؂ سرخسی، شرح السیر الکبیر ۱/ ۱۵۱، ۱۵۲۔ ابو اللیث السمرقندی، فتاویٰ النوازل۲۰۸۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۲۸/ ۶۲۶۔

۸۶؂ ۱۹۶۲۔۱۹۶۵۔

۸۷؂ مسلم، الفتن واشراط الساعۃ، ۵۱۵۸ ۔

۸۸؂ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۷/ ۵۶۔

۸۹؂ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، مقالہ: 'Dome of the Rock' ۴/۱۶۳۔ منشی عبد القدیر، بیت المقدس ۱۸۸۔

۹۰؂ (Dr. Kamil Jamil Al-Asalai, "Jerusalem in History", Arab Studies Quarterly, Vol. 16 Number 4, Fall 1994, (http://www.al-bushra.org)- Encyclopaedia Judaica, "Jerusalem", vol. 9, p. 1410)

۹۱؂ ۱۴۹۶ء۔

۹۲؂ تفصیل کے لیے دیکھیے: جیوش انسائیکلو پیڈیا، مقالہ ''یروشلم''۔

۹۳؂ منشی عبد القدیر، بیت المقدس ۹۳۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، مقالہ ''القدس'' ۱۶ / ۱/ ۳۰۸۔ جیوش انسائیکلو پیڈیا، مقالہ ''یروشلم''۔

۹۴؂ ابن نجیم، البحر الرائق ۸/ ۴۵۵۔ ابن الہمام، فتح القدیر ۶/۲۰۱۔ ابن عابدین، رد المحتار ۴/۳۴۱۔ فتاویٰ عالمگیری ۶/ ۱۴۴۔

۹۵؂ سید ابوالاعلیٰ مودودی، سانحہ مسجد اقصیٰ ۵۔

۹۶؂ پندرہ روزہ تعمیر حیات، ۱۰ جون ۲۰۰۳، ۲۱ ۔ http://www.rabbiwein.com/۔

۹۷؂ تفصیل کے لیے دیکھیے: Labmert Dolphin & Michael Kollen, "On the Location of the First and Second Temples in Jerusalem", (http://ldolphin.org/

۹۸؂ Yoel Cohen, "The Political Role of the Israeli Chief Rabbinate in the Temple Mount Question", Jewish Political Studies Review, Vol. 11:1-2, Spring 1999

(http://www.jcpa.org