مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ


[''المورد'' کے اسسٹنٹ فیلو جناب عمارخان ناصر کا مضمون ''مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ '' بالاقساط ''اشراق'' کے بعض گزشتہ شماروں میں شائع ہوا تھا ۔ اس مضمون سے متعلق چند مکاتیب صاحب مضمون کو موصول ہوئے ہیں۔ یہ مکتوب اور ان کے جواب قارئین ''اشراق ''کے استفادے کے لیے شائع کیے جا رہے ہیں ۔ادارہ]

محترم محمد عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم

آپ اور مدیر ''اشراق'' مبارک باد کے مستحق ہیں کہ آپ حضرات نے ہیکل سلیمانی اور مسجد اقصیٰ کے متعلق اس دور میں کلمۂ حق بلند کیا، جب حق کی آواز بلند کرنے والا ہر شخص ''یہود کا ایجنٹ'' قرار پاتا ہے، اور پھر ایسا شخص نہ صرف مباح الدم قرار پاتا ہے ، بلکہ اس کے خلاف جہاد بالسیف سب سے بڑا مذہبی فریضہ قرار پاتا ہے۔ خدا آپ کی سعی کو قبول کرے اور آج کے تمام مدعیان اسلام کو آپ ہی کی طرح حق کو دین اور دلیل کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرنے اور باطل کو اسی پر پرکھ کر رد کرنے کی توفیق دے۔

آپ کے مضامین سے میرے ذہن میں چند سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کریں گے:

۱۔ ہمارا اور بنی اسرائیل کا دین وہی اللہ کا بھیجا ہوا دین اسلام ہے۔ اگر کچھ فرق ہے تو تقاضاے حکمت کے تحت، شریعت میں کہیں کہیں کچھ اختلاف ہے۔ ان کی شریعت کی بعض سختیاں، بنی اسرائیل کی کج روی اور کج بحثی کی وجہ سے بطور سزا ان پر عائد کی گئیں۔ اللہ کی آخری شریعت میں یہ سختیاں منسوخ کر دی گئیں۔ اسی طرح بعض سنن بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل کے برقرار رکھے گئے، مثلاً ہفتہ کے بجائے جمعہ کا تقدس۔ سوال یہ ہے کہ ہیکل کی مقدس چٹان اگر بنی اسرائیل کی دینی روایت میں مقدس تھی تو ہماری شریعت میں کیوں ایسا نہیں، جبکہ اس چٹان کی اس مقدس حیثیت کو ہماری شریعت کی کسی نص نے منسوخ نہیں کیا؟ بلکہ اس کے برعکس یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قرآن نے ہیکل اور اس سے منسوب تمام اشیا کو شعائر میں سے قرار دیا ہو۔ چنانچہ شب معراج کے رؤیا کے متعلق قرآن فرماتا ہے :

''پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے دور کی مسجد (یعنی ہیکل سلیمانی) جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ دکھائیں اسے اپنی نشانیاں۔''

اس آیت میں موجود الفاظ ''اپنی نشانیاں'' سے مراد کیا، دیگر نشانیوں کے علاوہ، ہیکل سلیمانی اور اس کے ملحقہ دیگر شعائر نہیں ہو سکتے؟ اگر ایسا مان لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ محمدی شریعت، بنی اسرائیلی شریعت کے ان شعائر کو sanctity عطا کر رہی ہے۔

یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ بنی اسرائیل کی شریعت کے شعائر کو محمدی شریعت کے شعائر قرار دینے سے میرا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان پر اپنا حق تولیت جمائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے ان بھائیوں سے share کریں جو ہماری ہی طرح خود بھی دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، یعنی یہود اور مسیحی۔

۲۔ صخرہ کے قریب سیدنا عمر یا دیگر صحابہ کے نماز نہ پڑھنے سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ شریعت محمدی میں شعیرہ نہیں ہے۔ چٹان کے قریب نماز نہ پڑھنے کی دیگر حکمتیں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً اس کی حیثیت قبلہ کے تصور کو مٹانا۔ ہیکل اور اس سے ملحق شعائر کی حیثیت قبلہ کو نص قرآنی نے منسوخ کر دیا ہے، مگر ان کے شعائر ہونے کی حیثیت کو قرآن نے رویائے شب معراج کا تذکرہ کر کے( reinforce) کیا ہے۔

۳۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی یہ رائے کہ ''اس (صخرہ) کی تعظیم طریقہ یہود کی مشابہت اختیار کرنے کے زمرے میں آتی ہے'' میری ناچیز رائے میں نظر ثانی کے قابل ہے۔ امام صاحب کے علمی مقام اور مرتبہ کو پیش نظر رکھا جائے تو مجھ ناچیز کو ان سے، ظاہر ہے وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ کو سمندر سے ہوتی ہے، مگر ان کی رائے پر تبصرہ نہ کرنا ان کے اپنے اسوہ کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ صخرہ کی تعظیم کیا صرف یہود سے مشابہت ہے؟ کیا یہ بے شمار انبیاے بنی اسرائیل کی، ان کے جان نثار ساتھیوں اور زمانۂ قدیم کے ان گنت سچے مسلمانوں کی مشابہت بھی نہیں؟ پھر یہود کی مشابہت اگر کوئی جرم ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ کیا ایسا کرتے ہوئے وہ بنی اسرائیل کی شریعت کا اتباع نہیں کرتے تھے؟ امام صاحب فرماتے ہیں:ہماری شریعت میں جیسے ہفتے کے دن کے بارے میں کوئی حکم نہیں، اسی طرح صخرہ کے حوالے سے بھی کوئی خصوصی حکم باقی نہیں رہا۔'' ہفتہ کا حکم تو بنی اسماعیل کی سنت پر عمل کرنے سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے منسوخ کر دیا، مگر صخرہ کے شعیرہ ہونے کا حکم آخر کس نص سے منسوخ ہوا؟ مزید یہ کہ رویائے شب معراج میں جہاں آپ کو ہیکل دکھایا گیا، وہاں ہیکل کا Holy of holies یعنی صخرہ جو ہیکل کا اصل یا دل تھا، کیوں دکھانے سے رہ گیا؟ اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ اس کا حصہ تو تھا ہی۔

۴۔ مسجد عبد الملک (یا مسجد عمر) اس احاطے میں تعمیر کی گئی ہے جس پر اصلاً یہود کا حق ہے، اس لیے اگر وہ اسے گرانا چاہیں تو کیا ہمیں اس پر کشت وخون کرنا چاہیے؟ پھر یہ مسجد ایک عام مسجد ہے۔ جو مسجد مسلمانوں کی تیسری مقدس مسجد ہے اور جس کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے، وہ تو ہیکل سلیمانی ہے۔ اسی کے متعلق حدیث سے پتا چلتا ہے کہ یہاں مانگی جانے والی دعا کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے۔ تو پھر کیا ہمیں اس کی تعمیر یہود پر چھوڑ رکھنی چاہیے یا اس شرف کو خود حاصل کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ کیوں نہ ہم ہیکل خود حضرت سلیمان کے نقشہ پر تعمیر کر دیں؟ اور اگر یہود کے لیے یہ قابل قبول نہ ہو تو آخر ہم قبہ صخرہ کے مقدس حصے میں داخل ہونے کی سعادت سے محروم کیوں رہیں؟ احاطۂ ہیکل یہود کے حوالے کرنے کے بعد ہم مسجد عبد الملک تک کیوں محدود رہیں؟ ہم کیوں نہ ان سے درخواست کریں کہ وہ ہیکل میں اپنے طریقہ سے عبادت کریں اور ہمیں اپنے طریقے سے کرنے دیں۔ ہیکل کو اس دنیا میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ دنیا کے تین عظیم مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے پیروکاروں کے لیے انتہائی مقدس ہے۔ یہ عالم انسانیت میں محبت، امن، رواداری، خدا ترسی اور حضرت ابراہیم کے پیروکاروں کے مذاہب کی مشترکہ دعوتی اساس کا مرکز بن سکتا تھا،مگر افسوس دین ابراہیمی کے درست ترین( version )کے حامل ہونے کے دعویٰ داروں نے اسے نفرت، عدم برداشت اور قتل وغارت کا مرکز بنا دیا۔

والسلام

محمد عزیر بھور

_____

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکرمی محمد عزیر بھور صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ بے حد شکریہ۔

مسجد اقصیٰ سے متعلق میرے نقطۂ نظر کے حوالے سے آپ نے جو استفسارات کیے ہیں، ان کے بارے میں میری گزارشات حسب ذیل ہیں:

۱۔ صخرۂ بیت المقدس کے تقدس اور اس کی حرمت وعظمت کے بارے میں آپ کے ارشاد سے مجھے پوری طرح اتفاق ہے۔ یہ یقیناًایک محترم اور مقدس پتھر ہے اور اس کی حرمت کو اسی طرح ملحوظ رکھا جانا چاہیے جیسا کہ پورے احاطۂ ہیکل کی حرمت وتقدس کو۔ ہمارے فقہا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشادات کی بنا پر رفع حاجت کے وقت مسجد حرام کی طرف رخ کر کے بیٹھنے کو ممنوع قرار دیتے ہیں، وہاں صخرہ کے استقبال واستدبار سے گریز کو بھی مستحب مانتے ہیں۔ اسی طرح 'تغلیظ الیمین بالمکان' یعنی قسم کو موکد بنانے کے لیے کسی مقدس مقام میں حلف لینے کے مسئلے میں بھی ان کے ہاں بیت اللہ اور مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ صخرۂ بیت المقدس کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو باتیں ملحوظ رہنی چاہییں۔ ایک تو وہی جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، یعنی یہ کہ کسی چیز کی حرمت وتقدس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تولیت کے حق دار بھی لازماً مسلمان ہیں اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے لیے صخرہ کی عظمت وحرمت محض اعتقادی اور اصولی نوعیت کی ہے۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اس کی رسمی (Ritualistic) تعظیم کا کوئی طریقہ (مثلاً صخرہ کا طواف یا عبادت کی نیت سے اس کو چھونا یا اہتمام سے اس کے قریب نماز پڑھنا وغیرہ) صاحب شریعت سے کسی ثبوت کے بغیر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ امام ابن تیمیہ بھی، جہاں تک میں ان کی رائے پر غور کر سکا ہوں، اسی رسمی تعظیم کو یہود کی مشابہت قرار دیتے ہیں۔ ہاں، اگر وہ اس کی اعتقادی اور اصولی حرمت کی بھی، فی الواقع، بالکلیہ نفی کرتے ہوں تو پھرالبتہ، ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

۲۔ آپ کی یہ رائے کہ مسلمان ازخود ہیکل سلیمانی کو تعمیر کرکے پورے احاطۂ ہیکل کو مسلمانوں اور یہود کی مشترکہ عبادت گاہ کی حیثیت دے دیں، غالباً مثالیت پسندانہ (Idealistic) ہے۔ اگر ایسا کرنے میں کوئی حقیقی نظری یا عملی رکاوٹ نہ ہوتی تو آپ کی بات قابل غور تھی، لیکن صورت حال یہ ہے کہ جانبین کے متعصبانہ عملی رویے سے قطع نظر، یہودی فقہ کی رو سے کسی غیر یہودی کا ہیکل کی اصل عمارت میں داخلہ ہی سرے سے ممنوع ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ان کے مذہبی علما اس فقہی شرط سے دست بردار ہو کر آپ کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے رضامند ہوں گے۔ اگر آپ غور کریں تو مسئلے کا عملی حل اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا جس کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے۔ آپ کا بتایا ہوا طریقہ اگر مطلوب یا افادیت کے ساتھ قابل عمل ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے مسجد کا ایک کونا مخصوص کر دینے کا طریقہ اختیار نہ فرماتے۔

اگر مزید کوئی بات وضاحت طلب ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں۔

عمار ناصر

_____

محترمی عمار ناصر صاحب

السلام علیکم

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کا عنایت نامہ ملا جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

یہودی فقہ میں چونکہ اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ غیر یہودی ہیکل کی عمارت میں داخل ہو سکے، اس لیے ظاہر ہے ہم اصل مسجد اقصیٰ کی عمارت نہ تو تعمیر کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں، نہ اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہی تجویز قابل عمل رہ جاتی ہے جو آپ نے پیش کی ہے۔ صورت حال کی وضاحت کے بعد مجھے آپ کی رائے سے پورا اتفاق ہے۔

خاکسار

محمد عزیر بھور

_____

محترم ومکرم جناب عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم!

...سورۂ سرا کی پہلی آیت بے حد اہمیت کی حامل ہے ، لیکن بدقسمتی سے اس پر روایات کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ اس پر بھی تحقیق فرما کر ان پردوں کو ہٹائیں، جیسا کہ آپ نے مسجد اقصیٰ کے متعلق کی ہے۔ قرآن کریم کے موجودہ تراجم ایک ہی طرح کے ہیں، جن سے میرے جیسے کم علم کو ماسواے عقیدت وعجز کے کچھ پلے نہیں پڑتا۔ ایک ترجمہ وتفسیر خواجہ احمد الدین امرتسری صاحب کا بھی ہے۔ وہ دوسرے علماکرام سے مختلف ہے، لیکن اس میں بھی مجھ کم علم کی دانست میں تاویل سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔ ممکن ہے درست ہی ہو۔ انھوں نے 'اقصا المدینۃ' کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ صحیح ہیں یا غلط، ان پر بھی آپ ہی روشنی ڈال سکیں گے...۔

نیاز آگیں

آفتاب عروج

_____

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکرمی آفتاب عروج صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور 'المسجد الاقصیٰ' کے مصداق سے متعلق آپ کے استفسار کے جواب میں عرض ہے کہ مجھے اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے بیت المقدس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ مسجد ہی مراد ہے۔ جن لوگوں نے محض اس کے لغوی معنی یعنی ''دور کی مسجد'' کو ملحوظ رکھتے ہوئے مکہ مکرمہ سے دور واقع کسی اور مسجد کو اس کے مصداق کے طور پر متعین کرنے کی کوشش کی ہے، انھوں نے آیت کے سباق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ واقعۂ اسرا سے گفتگو کا آغاز کر کے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلۂ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے بنی اسرائیل کو تورات جیسی نعمت عطا کرنے اور پھر اس سے روگردانی کی پاداش میں ان پر مسلط کی جانے والی دو تاریخی تباہیوں کا ذکر کیا ہے۔ اسی ضمن میں آیت ۷ میں ہیکل سلیمانی کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے 'ولیدخلوا المسجد' کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی زبان کے قاعدے کے مطابق اگر ایک مسلسل اور مربوط کلام میں ایک ہی لفظ دو مقامات پر معرفہ کی صورت میں استعمال ہوا ہو تو دونوں جگہ اس کا مصداق لازمی طور پر ایک ہی ہوتا ہے۔ اس اصول کی رو سے پہلی آیت میں 'المسجد الاقصی' اور ساتویں آیت میں 'ولیدخلوا المسجد' کا مصداق کسی طرح سے بھی الگ الگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جہاں تک سورۂ بنی اسرائیل کے موضوع اور مضامین کے ساتھ اس 'ابتدائیہ' کے تعلق کا سوال ہے، تو وہ بالکل واضح ہے۔ سورہ میں مشرکین مکہ اور یہود دونوں کو مشترک طور پر مخاطب بنایا گیا ہے اور اس ابتدائیہ میں دونوں کو ان کے انجام کی تصویر دکھا دی گئی ہے۔ یہود کو سابق سورہ، النحل کی آیت ۹۴ میں یہ وارننگ دی گئی تھی کہ اگر وہ دین حق کے خلاف اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو سرزمین عرب میں ان کو ایک عرصے سے باعزت اور پرامن زندگی گزارنے کا جو موقع میسر ہے، وہ ان سے چھین لیا جائے گا۔ 'فتزل قدم بعد ثبوتہا وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبیل اللّٰہ' اسی دھمکی کو سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز میں زیادہ واضح صورت میں اور تاریخی شواہد کی تائید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے محاسبہ کی یہی تفصیل بعینہٖ مشرکین کے لیے بھی سبق آموز ہے، کیونکہ اس میں یہ صاف اشارہ موجود ہے کہ جس طرح تورات سے انحراف اور بے دینی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ہیکل سلیمانی کی تولیت سے محروم کیا گیا، مشرکین بنی اسمٰعیل سے بھی مسجد حرام کی تولیت کا حق عن قریب بالکل اسی طرح چھین لیا جائے گا۔

باقی رہا خواجہ احمد الدین صاحب کا یہ استدلال کہ چونکہ سورۂ بنی اسرائیل کے نزول کے وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی مسجد موجود نہیں تھی، اس لیے وہ اس کا مصداق نہیں ہو سکتی تو اس کی غلطی میں اپنے مضمون میں واضح کر چکا ہوں۔ 'مسجد' دراصل عمارت کو نہیں ، بلکہ اس قطعہ زمین کو کہتے ہیں جسے عبادت گاہ کے طور پر مخصوص کر دیا جائے۔ عمارت ایک اضافی اور ثانوی چیز ہے۔ اگر کسی وقت عمارت قائم نہ رہے تو بھی مسجد کی حیثیت سے اس قطعہ زمین کا تقدس اور احکام برقرار رہتے ہیں۔

امید ہے کہ یہ وضاحت باعث تشفی ہوگی۔

عمار ناصر

____________