مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ (۱) (1/2)


عالم اسلام اس وقت اپنے طول وعرض میں جن سیاسی مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے، ان میں مسئلہ فلسطین اس لحاظ سے ایک خاص مذہبی نوعیت بھی رکھتا ہے کہ یہ سرزمین بے شمار انبیا کا مولد ومسکن ہونے کی نسبت سے ایک نہایت بابرکت اور مقدس سرزمین سمجھی جاتی ہے اور اس میں انبیاے بنی اسرائیل کی یادگار کی حیثیت رکھنے والی تاریخی مسجد اقصیٰ موجود ہے جس کی تولیت کے حق کا مسئلہ مسلمانوں اور یہود کے مابین متنازع فیہ ہے۔ یہود کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ صدیوں پہلے ''ہیکل سلیمانی'' کے نام سے ان کا ایک انتہائی مقدس مرکز عبادت تعمیر ہوا تھا جو گوناگوں تاریخی حالات اور واقعات کے نتیجے میں تباہ وبرباد ہو گیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب اس جگہ کو دوبارہ اپنے تصرف میں لے کر یہاں اس عبادت گاہ کو ازسر تعمیر کریں۔ اگرچہ اسرائیلی حکومتیں اور وہاں کے سیکولر حلقے بالعموم اس تصور کی حوصلہ شکنی ہی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور خود یہود کے مذہبی حلقوں میں بھی اس کی تفصیلات کے حوالے سے بہت کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم اصولی طور پر اس جگہ کی بازیابی اور یہاں ہیکل کی تعمیر کو ان کے اعتقادکے ایک جزو لاینفک کی حیثیت حاصل ہے۔

اس کے مقابلے میں امت مسلمہ کی نمائندگی کرنے والے کم وبیش تمام مقتدر اہل علم اور علمی وسیاسی ادارے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے جس موقف پر متفق ہیں، وہ یہ ہے کہ یہ مقام تاریخی اور شرعی لحاظ سے بلاشرکت غیرے مسلمانوں کی ملکیت ہے، اس کی تولیت اور اس میں عبادت خالصتاً مسلمانوں کا استحقاق ہے، اور یہود کا اس مقام پر عبادت کرنے یا یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کا مطالبہ مسلمانوں کے ایک مقدس مقام کی توہین اور ان کے مذہبی جذبات کی پامالی کی ایک سازش ہے۔

ہمارا احساس یہ ہے کہ امت مسلمہ کی جانب سے اجتماعی طور پر اختیار کردہ اس رویے کی تشکیل میں بنیادی عنصر کی حیثیت مسئلے کی جذباتی نوعیت اور عرب اسرائیل سیاسی کشاکش کو حاصل ہے اور بعض نہایت اہم شرعی، اخلاقی اور تاریخی پہلوؤں کے نظر انداز ہو جانے کی وجہ سے اس معاملے میں توازن واعتدال کی حدود ٹھیک ٹھیک ملحوظ نہیں رکھی جا سکیں۔ چنانچہ صورت حال اس بات کا مقتضی ہے کہ تعصبات وجذبات سے بالاتر ہو کر قرآن وسنت کی روشنی میں بے لاگ طریقے سے اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت اہتمام کے ساتھ اس امت پر یہ واضح کیا ہے کہ ان کے ہاتھ سے عدل وانصاف کا دامن کسی حال میں بھی نہیں چھوٹنا چاہیے، چاہے معاملہ کسی ایسے گروہ ہی کا کیوں نہ ہو جس نے ان پر ظلم وزیادتی کی اور ان کے ساتھ نا انصافی کا معاملہ کیا ہو:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(المائدہ۵: ۸)

''اے ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمہیں برانگیختہ کر کے نا انصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔''

اگر مسلمان کسی موقع پر عدل وانصاف کے طریقے سے گریز کا رویہ اختیار کریں تو قرآن مجید کی رو سے اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی رو رعایت کے بغیر اپنے بھائیوں کے سامنے حق بات کی شہادت دیں، چاہے اس کی زد خود مسلمانوں کے جذبات یا ان کے ظاہری مفادات پر ہی پڑتی ہو:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْتُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا.(النساء ۴: ۱۳۵)

''اے ایمان والو، عدل وانصاف پر پوری طرح قائم ہو کر اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، چاہے اس کی زد خود تمہارے اپنے یا تمہارے والدین اور اقربا کے مفادات پر پڑے۔ وہ شخص غنی ہو یا فقیر، دونوں صورتوں میں اللہ اس کے زیادہ قریب ہے۔ تم خواہش کی پیروی میں انصاف کے طریقے سے ہٹ نہ جاؤ۔ اور اگر تم گواہی میں کج بیانی کرو گے یا گواہی دینے سے اعراض کا طریقہ اختیار کرو گے تو یاد رکھو اللہ تمہارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔''

ذیل کی سطور میں ہم نے اسی جذبے کے ساتھ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔

مسجد اقصیٰ کی مختصر تاریخ

مصریوں کی غلامی سے رہائی کے بعد جب صحراے سینا میں بنی اسرائیل کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے باقاعدہ شریعت عطا کی گئی تو ساتھ ہی حضرت موسیٰ کو یہ ہدایت بھی کر دی گئی کہ وہ بدنی اور مالی عبادت کی مختلف رسوم ادا کرنے کے لیے خیمے کی شکل میں بنی اسرائیل کے لیے ایک عبادت گاہ بنائیں۔ اس خیمے کی بناوٹ، اس کے ساز وسامان اور اس میں ادا کی جانے والی رسوم کی پوری تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو سمجھائی۔ ۱؂ تورات میں اس خیمے کا ذکر ''خیمۂ اجتماع''، ''مقدس''، ''مسکن'' اور ''شہادت کا خیمہ'' کے مختلف ناموں سے کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ خاص وضع کا ایک صندوق بنا کر اس میں تورات کی الواح کو محفوظ کریں اور اسے 'خیمہ اجتماع' میں ایک مخصوص مقام پر مستقل طور پر رکھ دیں۔ ۲؂ تورات میں اس کو 'عہد کا صندوق' کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

اس متحرک اور قابل انتقال (Mobile) عبادت گاہ کا حکم صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے عارضی قیام اور مسلسل نقل مکانی کے پیش نظر دیا گیا تھا۔ ۱۴۵۰ ق م میں حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بیت المقدس کو فتح کیا۔ اس کے بعد تقریباً چار صدیوں تک بنی اسرائیل علاقے میں پہلے سے آباد مختلف نسلی گروہوں کے ساتھ لڑنے اور انہیں مغلوب کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ اس عرصے میں چونکہ سرزمین فلسطین پر بنی اسرائیل کے قبضے اور ان کے سیاسی اقتدار کو استحکام حاصل نہیں تھا، اس لیے مرکز عبادت کی حیثیت اسی 'خیمہ اجتماع' کو حاصل رہی۔ چار صدیوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد آخر سیدنا داؤد علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل ان کی قیادت میں ان مقامی گروہوں کو بڑی حد تک کچلنے اور ایک مستحکم سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کام یاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک باقاعدہ مرکز عبادت تعمیر کرنے کی ہدایت ملی۔ ۳؂ حضرت داؤد نے اس مقصد کے لیے ارنان یبوسی نامی شخص سے اس کا ایک کھلیان خریدا جو کوہ موریا پر واقع تھا ۴؂ اور تعمیر کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کر دیں۔۵؂ تاہم اپنی حیات میں وہ اس مرکز عبادت کو تعمیر نہ کر سکے اور اپنے فرزند سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس کی تعمیر کی وصیت کرتے ہوئے معبد کا تفصیلی نقشہ انہیں سمجھا کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ۶؂

حضرت سلیمان نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے دور حکومت میں اس نقشے کے مطابق متعینہ جگہ پر ایک شان دار عبادت گاہ تعمیر کروائی جو تاریخ میں ''ہیکل سلیمانی'' (Solomon's Temple) کے نام سے معروف ہے۔ اس کی تعمیر ۹۵۰ ق م میں مکمل ہوئی۔ اپنی شان وشوکت اور جاہ وشکوہ کے لحاظ سے یہ عمارت عجائبات عالم میں شمار ہوتی تھی۔ اس کی تعمیر کی پوری تفصیل سلاطین ۱: ۶ ۔ ۸ اور تواریخ ۲: ۳۔ ۵ میں مذکور ہے۔قرآن مجید کے بیان کے مطابق اس کی بڑی بڑی محرابوں کی تعمیر کے لیے سلیمان علیہ السلام نے ان جنات سے بھی مدد لی تھی جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مسخر کر دیا تھا۔۷؂

'خیمہ اجتماع' کی جگہ اب 'ہیکل سلیمانی' کو بنی اسرائیل کی عبادات اور مذہبی رسوم کے لیے قبلہ اور ان کی مذہبی واجتماعی زندگی کے محور ومرکز کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ سوختنی قربانیوں کے لیے مذبح ۸؂اور عہد کے صندوق کے لیے ایک خاص کمرہ اسی معبد میں تعمیر کیا گیا۔ ۹؂ اس کی تکمیل کے موقع پر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو دعا کی، اس سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے اس عبادت گاہ کو اسی طرح ایک روحانی مرجع ومرکز اور 'مثابۃ للناس' کی حیثیت دے دی گئی تھی جس طرح بنی اسمٰعیل کے لیے مسجد حرام کو:

''اور سلیمان نے اسرائیل کی ساری جماعت کے روبرو خداوند کے مذبح کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور کہا... اے خداوند میرے خدا اپنے بندہ کی دعا اور مناجات کا لحاظ کر کے اس فریاد اور دعا کو سن لے جو تیرا بندہ آج کے دن تیرے حضور کرتا ہے تاکہ تیری آنکھیں اس گھر کی طرف یعنی اسی جگہ کی طرف جس کی بابت تو نے فرمایا کہ میں اپنا نام وہاں رکھوں گا، دن اور رات کھلی رہیں تاکہ تو اس دعا کو سنے جو تیرا بندہ اس مقام کی طرف رخ کر کے تجھ سے کرے گا۔ اور تو اپنے بندہ اور اپنی قوم اسرائیل کی مناجات کو جب وہ اس جگہ کی طرف رخ کر کے کریں، سن لینا بلکہ تو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے، سن لینا اور سن کر معاف کر دینا۔ اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کا گناہ کرے اور اسے قسم کھلانے کے لیے اس کو حلف دیا جائے اور وہ آکر اس گھر میں تیرے مذبح کے آگے قسم کھائے تو تو آسمان پر سے سن کر عمل کرنا اور اپنے بندو ں کا انصاف کرنا۔ ..... جب تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرنے کے باعث اپنے دشمنوں سے شکست کھائے اور پھر تیری طرف رجوع لائے اور تیرے نام کا اقرار کر کے اس گھر میں تجھ سے دعا اور مناجات کرے تو تو آسمان پر سے سن کر اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کرنا اور ان کو اس ملک میں جو تو نے ان کے باپ دادا کو دیا، پھر لے آنا۔ جب اس سبب سے کہ انہوں نے تیرا گناہ کیا ہو، آسمان بند ہو جائے اور بارش نہ ہو اور وہ اس مقام کی طرف رخ کر کے دعا کریں اور تیرے نام کا اقرار کریں اور اپنے گناہ سے باز آئیں جب تو ان کو دکھ دے تو تو آسمان پر سے سن کر اپنے بندوں اور اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کر دینا ... اگر ملک میں کال ہو، اگر وبا ہو، اگر باد سموم یا گیروئی یا ٹڈی یا کملا ہو، اگر ان کے دشمن ان کے شہروں کے ملک میں ان کو گھیر لیں، غرض کیسی ہی بلا کیسا ہی روگ ہو تو جو دعا اور مناجات کسی ایک شخص یا تیری قوم اسرائیل کی طرف سے ہو جن میں سے ہر شخص اپنے دل کا دکھ جان کر اپنے ہاتھ اس گھر کی طرف پھیلائے تو تو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے، سن کر معاف کر دینا ... اب رہا وہ پردیسی جو تیری قوم اسرائیل میں سے نہیں ہے، وہ جب دور ملک سے تیرے نام کی خاطر آئے ...اور اس گھر کی طرف رخ کر کے دعا کرے تو تو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے، سن لینا ..... اگر تیرے لوگ خواہ کسی راستہ سے تو ان کو بھیجے، اپنے دشمن سے لڑنے کو نکلیں اور وہ خداوندسے اس شہر کی طرف جسے تو نے چنا ہے اور اس گھر کی طرف جسے میں نے تیرے نام کے لیے بنایا ہے، رخ کر کے دعا کریں تو تو آسمان پر سے ان کی دعا اور مناجات سن کر ان کی حمایت کرنا۔ اگر وہ تیرا گناہ کریں (کیونکہ کوئی ایسا آدمی نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو) اور تو ان سے ناراض ہو کر ان کو دشمن کے حوالہ کر دے ایسا کہ وہ دشمن ان کو اسیر کر کے اپنے ملک میں لے جائے خوہ وہ دور ہو یا نزدیک تو بھی اگر وہ اس ملک میں جہاں وہ اسیر ہو کر پہنچائے گئے، ہوش میں آئیں اور رجوع لائیں ..... اور اس گھر کی طرف جو میں نے تیرے نام کے لیے بنایا ہے، رخ کر کے تجھ سے دعا کریں تو تو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے، ان کی دعا اور مناجات سن کر ان کی حمایت کرنا۔ .... سو تیری آنکھیں تیرے بندہ کی مناجات اور تیری قوم اسرائیل کی مناجات کی طرف کھلی رہیں تاکہ جب کبھی وہ تجھ سے فریاد کریں تو ان کی سنے۔'' ۱۰؂

اس طرح اس عبادت گاہ کو بنی اسرائیل کے ایک مذہبی وروحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی عظمت وشوکت اور دنیاوی جاہ وجلال کے ایک نشان کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی زبانی بنی اسرائیل کو یہ تنبیہ بھی اس عبادت گاہ کی تعمیر کے ساتھ ہی فرما دی تھی کہ:

''اگر تم میری پیروی سے برگشتہ ہو جاؤ اور میرے احکام اور آئین کو جو میں نے تمہارے آگے رکھے ہیں، نہ مانو بلکہ جا کر اور معبودوں کی عبادت کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگو تو میں اسرائیل کو اس ملک سے جو میں نے ان کو دیا ہے، کاٹ ڈالوں گا اور اس گھر کو جسے میں نے اپنے نام کے لیے مقدس کیا ہے، اپنی نظر سے دور کر دوں گا اور اسرائیل سب قوموں میں ضرب المثل اور انگشت نما ہوگا اور اگرچہ یہ گھر ایسا ممتاز ہے تو بھی ہر ایک جو اس کے پاس سے گزرے گا، حیران ہوگا اور سسکا رہے گا اور وہ کہیں گے کہ خداوند نے اس ملک اور اس گھر سے ایسا کیوں کیا؟'' (۱۔ سلاطین ۹: ۱۔۹ نیز دیکھیے ۲۔ تواریخ ۷: ۱۱۔۲۲)

ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے ۳۵۰ سال بعد یہ پیش گوئی پہلی مرتبہ یرمیاہ نبی کے زمانے میں پوری ہوئی۔ بنی اسرائیل کے اجتماعی طور پر شرک میں مبتلا ہو جانے اور شریعت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دینے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بابل کے بادشاہ نبوکد نضر کو ان پر مسلط کیا جس نے ۵۸۶ ق م میں یروشلم پر حملہ کر کے ہیکل کو جلا کر برباد کر دیا ، اس کے تمام خزانے اور قیمتی ظروف لوٹ لیے، بنی اسرائیل کا قتل عام کیا اور انہیں اسیر بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ ۱۱؂

بنی اسرائیل کی توبہ اور اصلاح حال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ آزادی کی نعمت عطا کی اور فارس کے بادشاہ خورس (Cyrus) نے بابل کو فتح کرنے کے بعد ۵۳۸ ق م میں اسیری میں آئے ہوئے بنی اسرائیل کو واپس یروشلم جانے اور وہاں ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ ۱۲؂

ہیکل ثانی کی تعمیر، جس کو زربابلی ہیکل کا نام دیا گیا، ۵۱۵ق م میں مکمل ہوئی۔ یہ ایک بالکل سادہ سی عبادت گاہ تھی جس کا اور تزئین وآرائش اور تعمیر کے معیار کے لحاظ سے سلیمانی ہیکل کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ (حجی ۲: ۳۔۹) یہ عبادت گاہ تقریباً ۴۵۰ سال تک قائم رہی لیکن اس عرصے میں وقتاً فوقتاً حملہ آوروں کے ہاتھوں بے حرمتی کا نشانہ بنتی رہی۔ ۱۶۹ ق م میں یونانی بادشاہ انطوخیوس چہارم ایپی فینس نے ہیکل پر قبضہ کر کے اس کے سازوسامان اور خزانے کو لوٹ لیا۱۳؂ اور اس میں زیوس (Zeus) دیوتا کے نام پر قربانی کا مذبح قائم کر کے سردار کاہن کو مجبور کیا کہ وہ اس پر ایک خنزیر کو قربانی کرے۔ اس کے رد عمل میں 'مکابیوں کی بغاوت' نے جنم لیا اور ۱۶۵ ق م میں یہوداہ مکابی کی قیادت میں بنی اسرائیل حملہ آوروں کو بے دخل کر کے ہیکل کی بازیابی اور تطہیر میں کام یاب ہو گئے۔۱۴؂ اس کی یاد میں یہودی اب تک حنوکہ (Hanukkah) کا سالانہ تہوار مناتے ہیں۔

۶۳ ق م میں یونانیوں کی جگہ جنرل پومپی کی قیادت میں رومی فوج نے فلسطین پر قبضہ کیا تو اس موقع پر زربابلی ہیکل کا ایک بڑا حصہ تباہی کی نذر ہو گیا۔ بعد میں رومی حکومت نے یہودیوں کو نیم سیاسی خود مختاری دے دی تو یہودیہ کے بادشاہ عظیم ہیردویس نے، جس کا زمانہ حکومت ۳۷ ق م سے ۴ عیسوی تک ہے، زربابلی ہیکل کی تعمیر نو کر کے ہیکل کے رقبے کو وسیع تر کر دیا، اس کے گرد چار دیواری تعمیر کی اور زمین سے اس کی اونچائی مزید بلند کر دی۔یہ تعمیر ۱۹ ق م میں شروع ہوکر ۴۶ سال تک جاری رہی۔

ہیکل کی تباہی اور فلسطین سے یہودیوں کی بے دخلی کی پیش گوئی دوسری مرتبہ ۷۰ء میں پوری ہوئی۔ ۶۶ ء میں یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی جس کو کچلنے کے لیے رومی جنرل طیطس (Titus) نے ۷۰ء میں یروشلم پرحملہ کر کے یہود کا قتل عام کیا اور ہیکل کو بالکل تباہ وبرباد کر دیا۔ زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا گیا اور یروشلم میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا، تاہم بعد کے ادوار میں یہ پابندی نرم کر کے یہودیوں کو مخصوص مواقع پر یروشلم میں آنے اور ہیکل کے کھنڈرات کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ہیکل کی اس دوسری تباہی میں اس کی صرف مغربی دیوار محفوظ رہ گئی تھی جو رفتہ رفتہ یہودیوں کا مقام اجتماع اور ان کی گریہ وزاری کا مرکز بن گئی اور اس بنا پر ''دیوار گریہ'' (Wailing Wall) کہلانے لگی۔ ۱۵؂

۱۳۶ء میں رومی شہنشاہ ہیڈرین نے یروشلم کو دوبارہ آباد کر کے اس کا نام Aelia Capitolina رکھا اور ہیکل کی جگہ رومی دیوتاJupiter کے نام پر ایک عالی شان معبد تعمیر کرایا۔ چوتھی صدی عیسوی میں مسیحیت کے روم کا سرکاری مذہب بن جانے کے بعد ۳۳۶ء میں قسطنطین اعظم نے اس معبد کی جگہ کلیسائے نشور (Church or Resurrection) تعمیر کرا دیا۔

۶۳۸ء میں مسلمانوں نے یروشلم کو فتح کیا تو اس موقع پر امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صحابہ کی معیت میں مسجد اقصیٰ میں آئے۔ اس وقت ہیکل کے پتھر (صخرۂ بیت المقدس) کے اوپر کوڑا کرکٹ پڑا ہوا تھا۔ سیدنا عمر نے صحابہ کے ساتھ مل کر اس کو صاف کیا اور احاطہ ہیکل کی جنوبی جانب میں نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ مخصوص کر دی۔ بعد میں اس جگہ پر لکڑی کی ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ ۶۸۸ء میں اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے صخرۂ بیت المقدس کے اوپر ایک شان دار گنبد تعمیر کرا دیا جو 'قبۃ الصخرۃ' (Dome of Rock) کے نام سے معروف ہے۔ اسی نے لکڑی کی مذکورہ سادہ مسجد کی تعمیر نو کر کے اس کے رقبے کو مزید وسیع کر دیا۔ اسلامی لٹریچر میں 'مسجد اقصیٰ' سے مراد یہی مسجد ہے۔

۱۰۷۸ء میں جب سلجوقی ترکوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو ان کے ۲۰ سالہ دور حکومت میں یورپ اور پوری دنیا سے آنے والے مسیحی زائرین کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا گیا اور ان کی زیارت میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ اس کے رد عمل میں ۱۰۹۶ء میں مغربی یورپ میں غیض وغضب کی ایک لہر اٹھی جس نے صلیبی جنگوں کا روپ دھار لیا۔ پوپ اربن دوم کے حکم پر عیسائی مجاہدین کا ایک لشکر یروشلم پر قبضے کے لیے روانہ ہوا جس نے ۱۰۹۹ء میں یروشلم پر قبضہ کر کے مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرۃ کو اپنے تصرف میں لے لیا۔ مسیحی فاتحین نے قبۃ الصخرہ کے اوپر ایک صلیب نصب کر کے اس کو Templum Domini کا اور مسجد اقصیٰ کو Templum Solomonis کا نام دے دیا۔

۸۸ سال کے بعد ۲ اکتوبر ۱۱۸۷ء کو مسلمان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں دوبارہ یروشلم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور مسجد اقصیٰ کو مسجد کی حیثیت سے بحال کر کے قبۃ الصخرہ سے صلیب اتار دی گئی۔

۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے میں کام یاب ہو گیا جس میں مسجد اقصیٰ واقع ہے اور مسجد کو اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا،تاہم اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر احاطہ مقدسہ کی چابیاں اردن کے حکمران ہاشمی خاندان کے سپرد کر دیں۔ اس وقت سے اس احاطے اور اس سے ملحق بعض عمارتوں کا کنٹرول یروشلم کے مسلم وقف کے پاس ہے جو اس کے جملہ امور کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے۔ ۱۶؂

________

اس مختصر جائزے سے واضح ہے کہ تاریخی لحاظ سے مسجد اقصیٰ کے ساتھ مذہبی تعلق ووابستگی کے دعوے دونوں فریق بنیادی طور پر سچے ہیں۔ یہودیوں کے لیے یہ عبادت گاہ قبلہ ومرکز اور ان کی دینی ودنیاوی عظمت رفتہ کے نشان کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دعا اور مناجات کے لیے وہ اسی کی طرف رخ کرتے ہیں اور اس میں سلسلہ عبادت کے احیا کی تمنائیں بر آنے کے لیے صدیوں سے ان کے سینوں میں تڑپ رہی ہیں۔

مسلمانوں کی وابستگی اور عقیدت بھی اس عبادت گاہ کے ساتھ معمولی نہیں۔ یہ مقام انبیاے بنی اسرائیل کی ایک یادگار ہے جن پر ایمان اور جن کا احترام وتعظیم مسلمانوں کے اعتقاد کا جزو لاینفک ہے۔ انہوں نے اس وقت اس عبادت گاہ کو آباد کیا جب یہود ونصاریٰ کی باہمی آویزشوں کے نتیجے میں یہ ویران پڑی تھی۔ ان کا یہ عمل تمام مذہبی، عقلی اور اخلاقی معیارات کے مطابق ایک نہایت اعلیٰ روحانی اور مبارک عمل ہے جس پر وہ جتنا بھی فخر کریں، کم ہے۔

فریقین کے تعلق ووابستگی کے دعوے کو درست مان لینے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اس پر تولیت کا حق کس فریق کو ملنا چاہیے اور فریقین میں سے کس کے حق کو کس بنیاد پر ترجیح دی جائے؟ جہاں تک قانونی پہلو کا تعلق ہے، اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے دعواے تولیت کو ایک عملی وجہ ترجیح حاصل ہے۔ مسلمان بحالت موجودہ اس کی تولیت کے ذمہ دار ہیں اور یہ ذمہ داری وہ گزشتہ تیرہ صدیوں سے، صلیبی دور کے استثنا کے ساتھ، تسلسل کے ساتھ انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ عبادت گاہ نہ یہودیوں سے چھینی تھی اور نہ ان کی پہلے سے موجود کسی عبادت گاہ کو ڈھا کر اس پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی متعدد قرادادوں میں بھی اس کی تولیت کا حق دار مسلمانوں ہی کو تسلیم کیا گیا ہے۔

تاہم قانونی پہلو کو اس معاملے کا واحد قابل لحاظ پہلو سمجھنے کے عام نقطہ نظر سے ہمیں اختلاف ہے اور زیر نظر تحریر میں ہم اسی نکتے کی توضیح کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اس نوعیت کے مذہبی تنازعات میں قرآن سنت کی رو سے اصل قابل لحاظ چیز، جس کی رعایت مسلمانوں کو لازماً کرنی چاہیے، وہ اخلاقی پہلو ہے۔ اس بحث کی تنقیح کے لیے ہمارے نزدیک اس بنیادی سوال پر غور وخوض مناسب ہوگا کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت کا مسلمانوں کے ہاتھوں میں آنا آیا شرعی نوعیت کا کوئی معاملہ ہے یا تکوینی وواقعاتی نوعیت کا؟ دوسرے لفظوں میں، آیا یہ اسلامی شریعت کا کوئی حکم اور تقاضا ہے کہ مسلمان یہود کو اس عبادت گاہ سے لاتعلق قرار دے کر ان کی جگہ اس کی تولیت کی ذمہ داری خود سنبھال لیں یا محض تاریخی حالات وواقعات نے ایسی صورت حال پیدا کر دی تھی کہ مسلمانوں کو اس کی تولیت کی ذمہ داری اٹھانی پڑی؟

اگر معاملہ شرعی نوعیت کا ہے تو پھر اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ وہ نصوص اور دلائل جن سے اس ضمن میں استناد کیا جا سکتا ہے، کون سے ہیں اور عقل ومنطق کی میزان میں ان سے استدلال کتنا وزن رکھتا ہے؟

اور اگر معاملے کی نوعیت شرعی نہیں بلکہ واقعاتی ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سلسلے میں عام مذہبی اخلاقیات اور خود اسلامی تعلیمات کا تقاضا کیا ہے اور کیا محض واقعاتی تسلسل اخلاقی لحاظ سے اس بات کا جواز فراہم کرتا ہے کہ یہود کے تاریخی ومذہبی حق کو بالکل مسترد کر دیا جائے؟

آئیے ان دونوں نکتوں کا ذرا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں۔

حق تولیت سے یہود کی معزولی

سب سے پہلے ہم اس امکان پر پر غور کریں گے کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق حالات وواقعات کے نتیجے میں نہیں، بلکہ شریعت کے کسی باقاعدہ حکم کے تحت ملا ہے ۔ اس سلسلے میں بنیادی استدلال یہ ہے کہ چونکہ یہود انبیا کے قتل، عہد شکنی، تحریف آیات اور کتمان حق کے مجرم ہیں اور اس جرم کی پاداش میں انہیں دنیا کی رہنمائی اور فضیلت علی العالمین کے منصب سے معزول کر دیا گیا ہے، اس لیے انبیاء کی سرزمین اور ان کی قائم کردہ عبادت گاہ پر بھی ان کا کوئی حق باقی نہیں رہاا ور جس طرح انبیا کے مشن کی وراثت امت مسلمہ کو منتقل ہو گئی ہے، اسی طرح مسجد اقصیٰ کی ملکیت وتولیت کا حق بھی یہود سے چھن کر ان کو منتقل ہو گیا ہے۔ مکتب دیوبند کے معروف عالم دین مولانا قاری محمد طیبؒ صاحب نے اس استدلال کو یوں واضح کیا ہے:

''یہ تینوں مرکز اسلام کی جامعیت کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی کے دیے سے نہیں ملے بلکہ خدا کی طرف سے عطا ہوئے اور انہی کے قبضہ وتصرف میں دیے گئے ہیں جن میں کسی غیر کے دخل یا قبضہ کا ازروئے اصول کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ...... حجاز میں مشرکین ملت ابراہیم کے نام سے عرب پر قابض ومتصرف تھے لیکن جب انہوں نے شعائر اللہ کی جگہ بے جان مورتیوں اور پتھر کے سنگ دل خداؤں کو جگہ دے دی .... تو سنت اللہ کے مطابق قبضہ تبدیل کر دیا گیا۔ ....شام کی مقدس سرزمین بلاشبہ اولاً یہود کو دی گئی اور فلسطین ان کے حصہ میں لگا دیا گیا جیسا کہ قرآن نے 'کتب اللّٰہ لکم' سے اس کا انہیں دے دیا جاناظاہر کیا ہے لیکن انہوں نے عہد شکنی کی اور خدائی تعلیمات سے منہ موڑ کر الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا۔ ...ان حرکات کے انتہا کو پہنچ جانے پر حق تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اور اس ملک کی ملکیت سے محروم کر کے ان پر نصاریٰ کو مسلط کیا چنانچہ بعثت نبوی سے تین سو سال پہلے نصاریٰ شام اور فلسطین کی ارض مقدس پر قابض ہو گئے۔ ..... لیکن اقتدار جم جانے کے بعد رد عمل شروع ہوا اور بالآخر وہ بھی قومی اور طبقاتی رقابتوں میں مبتلا ہو کر اسی راہ چل پڑے جس پر یہود چلے تھے۔ ... صخرہ معلقہ کو جو یہود کا قبلہ تھا، غلاظت کی جگہ قرار دیا اور اس کی انتہائی توہین شروع کر دی۔ محض اس لیے کہ وہ یہود کا قبلہ تھا، اس پر پلیدی ڈالی اور اسے مزبلہ (کوڑی) بنا کر چھوڑا۔ ... ظاہر ہے کہ شعائر الٰہیہ اور نشانات خداوندی کی توہین کے بعد کوئی قوم بھی پنپ نہیں سکتی اس لیے بالآخر نصاریٰ کا بھی وقت آ گیا۔ ان کا اقتدار یہاں ختم ہوا اور حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر انہیں بیت المقدس کا متولی بنایا۔ '' (مقامات مقدسہ اور اسلام کا اجتماعی نظام، ص ۶۴۳ تا ۶۴۷)

________

۱؂ خروج باب ۲۵ تا ۳۱ ۔

۲؂ خروج ۴۰: ۲۰۔

۳؂ ۲۔سموئیل ۵تا۷۔

۴؂ تواریخ ۱: ۲۱: ۲۵۔

۵؂ تواریخ ۲: ۳:۱۔

۶؂ تواریخ۱: ۲۲ ، ۲۸: ۱۱۔۲۱۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ نے فرمایا: مسجد حرام۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ انہوں نے دوبارہ سوال کیا کہ ان دونوں کی تعمیر کے مابین کتنا عرصہ تھا؟ آپ نے فرمایا: چالیس سال۔ (صحیح البخاری، رقم ۳۴۲۵)

اس روایت پر یہ اشکال ہے کہ تاریخ کے مسلمات کی رو سے مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی اور ان کے اور سیدنا ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کے مابین، جو مسجد حرام کے معمار تھے، کئی صدیوں کا فاصلہ ہے جبکہ روایت میں دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان صرف چالیس سال کا فاصلہ بتایا گیا ہے۔

علماے حدیث کے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما دی تھی اور مذکورہ روایت میں اسی کا ذکر ہے، جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے صدیوں بعد اسی جگہ پر ہیکل سلیمانی کو تعمیر کیا۔ اس لحاظ سے ان کی حیثیت ہیکل کے اولین بانی اور موسس کی نہیں بلکہ تجدید کنندہ کی ہے۔ (ابن قیم: زاد المعاد، ۱/۵۰۔ ابن حجر: فتح الباری، ۶/۴۹۵۔ ابن کثیر: قصص الانبیاء، ۵۵ا)

۷؂ سبا: ۱۳۔

۸؂ تواریخ ۱: ۲۲:۱۔

۹؂ تواریخ ۱: ۲۲:۱۹۔

۱۰؂ سلاطین ۱: ۸:۲۲۔۵۳۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''حضرت سلیمان علیہ السلام جب بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے دعا کی کہ جو شخص بھی مسجد اقصیٰ میں خالصتاً نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے، وہ یہاں سے اس طرح گناہوں سے پاک ہو کر جائے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھے امید ہے کہ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرما لی ہوگی۔''

(نسائی، رقم ۶۹۴۔ ابن ماجہ، ۱۴۰۸)

۱۱؂ تواریخ ۲: ۳۶: ۱۱۔ ۲۱، یرمیاہ ۵۲: ۱۲۔۱۴۔

۱۲؂ عزرا: ۱۔

۱۳؂ مکابیوں ۱: ا: ۲۰۔۲۴۔

۱۴؂ مکابیوں ۱: ۴:۳۶۔۴۸۔

۱۵؂ ہیکل سلیمانی کی ان دو مشہور ومعروف بربادیوں کا تذکرہ قرآن مجید نے بھی سورۂ بنی اسرائیل میں کیا ہے:

''اور ہم نے تورات میں بنی اسرائیل سے صاف کہہ دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی پر اتر آؤ گے۔ پس جب ان میں سے پہلا موقع آیا تو ہم نے تم پر اپنے نہایت سخت گیر اور طاقت ور بندوں کو مسلط کر دیا جو تمہارے گھروں کے اندر گھس آئے، اور یہ وعدہ پورا ہو کر رہنا تھا۔ پھر ہم نے ان کے خلاف تمہیں بالادستی کا موقع دیا اور مال واولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں خوب جتھے والا بنا دیا۔ اگر تم نے بھلائی کا رویہ اختیار کیا تو اپنے ہی فائدے کے لیے، اور اگر بد چلن ہو گئے تو اپناہی نقصان کیا۔ پھر جب دوسرا موقع آیا (تو اسی طرح دشمنوں کو تم پر مسلط کیا جوتم پر چڑھ آئے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ کررکھ دیں اور اسی طرح مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی مرتبہ گھسے تھے اور جو چیز ان کے ہاتھ لگے، اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیں۔ توقع ہے کہ تمہارا رب تم پر پھر رحم کرے گا۔ لیکن اگر تم نے دوبارہ یہی رویہ اپنایا تو ہم بھی یہی کچھ کریں گے۔ اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔'' (بنی اسرائیل)

۱۶؂ مسجد اقصیٰ کی تاریخ سے متعلق ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: ممتاز لیاقت: ''تاریخ بیت المقدس''، منشی عبد القدیر: ''بیت المقدس''، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، مقالہ جاتSolomon's Temple, Wailing Wall:۔

____________