مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ (۱) (2/2)


اس استدلال کے حاصل کو اگر فقہی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کو 'مشرکین مکہ' پر اور اس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کے معاملے کو مسجد حرام کی تولیت کے معاملے پر 'قیاس' کیا گیا ہے۔

ہماری رائے میں یہ استدلال دو وجوہ سے اپنی بنیاد ہی کے لحاظ سے غلط ہے:

ایک یہ کہ اس میں ایک ایسے امر میں قیاس کو دخل دیا گیا ہے جو درحقیقت 'نص ' کا متقاضی ہے۔ کسی مذہب کے ماننے والوں کو ان کی کسی عبادت گاہ بلکہ قبلہ اور مرکز عبادت کے حق تولیت سے محروم کرنا ایک ایسا نازک معاملہ ہے کہ اس میں کسی واضح نص کے بغیر محض قیاس کی بنیاد پر کوئی اقدام کیا ہی نہیں جا سکتا۔ چنانچہ دیکھیے، مسجد حرام پرمشرکین کی تولیت کی اخلاقی حیثیت پر قرآن مجید میں یہ تبصرہ ۲ ہجری میں غزوۂ بدر سے متعلق احکام وہدایات کے ضمن میں نازل ہو چکا تھا :

وَمَالَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ وَھُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَاکَانُوْٓا اَوْلِیَآءَ ہٗ اِنْ اَوْلِیَآؤُہٓٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ ھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ.(الانفال ۸: ۳۴)

''اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے، حالانکہ وہ مسجد حرام میں آنے سے لوگوں کو روکتے ہیں، جبکہ وہ اس پر تولیت کا حق بھی نہیں رکھتے۔ اس کی تولیت کا حق تو صرف پرہیز گاروں کا ہے ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔''

لیکن بیت اللہ پر مشرکین کی تولیت کے حق کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً اس وقت تک چیلنج نہیں کیا جب تک ۹ ہجری میں قرآن مجید میں اس کے بارے میں واضح ہدایت نازل نہیں ہو گئی حتیٰ کہ ۸ ہجری میں فتح مکہ کے بعد بھی ، جب مشرکین کی سیاسی قوت وشوکت بالکل ٹوٹ چکی تھی اور بیت اللہ کا حق تولیت ان سے چھین لینے میں کوئی ظاہری مانع موجود نہیں تھا، آپ نے کعبہ کی تولیت کے سابقہ انتظام ہی کو برقرار رکھا اور اس سال مسلمانوں نے اسی انتظام کے تحت ارکان حج انجام دیے۔ ۱۷؂ مشرکین کو بھی اس سال حج بیت اللہ سے نہیں روکا گیا۔ ۱۸؂

۹ ہجری میں جب سورہ براء ۃ میں مشرکین پر اتمام حجت اور ان سے اللہ اور اس کے رسول کی براء ت کا اعلان کیا گیا تو اس کے ساتھ قرآن مجید میں باقاعدہ یہ حکم نازل ہوا کہ اب بیت اللہ پر مشرکین کسی قسم کا کوئی حق نہیں رکھتے لہٰذا آج کے بعد ان کو مسجد حرام کے قریب نہ آنے دیا جائے:

مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ. اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّااللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ.(براء ت ۹: ۱۷۔۱۸)

''مشرکوں کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے کفر کی شہادت خود دیتے ہوئے وہ اللہ کی مساجد کو آباد کریں۔ ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ اللہ کی مساجد کو آباد کرنے کا حق تو صرف ان کو ہے جو اللہ اور یوم آخرت پرایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ انہی لوگوں کے ہدایت یافتہ ہونے کی امید ہے۔''

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا.(برأ ت ۹: ۲۸)

''ایمان والو، بے شک مشرک ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔''

اس حکم کے نازل ہونے کے بعد ۹ ہجری میں حج کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یوم النحر میں سورہ براء ت کی ابتدائی چار آیات پڑھ کر سنائیں جن میں مشرکین پر اتمام حجت اور ان سے اللہ ورسول کی براء ت کا اعلان ہے، اور پھر اعلان کر دیا کہ آج کے بعد نہ کوئی مشرک بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ کسی برہنہ کو حج کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ۱۹؂

کیا اس قسم کی کوئی نص مسجد اقصیٰ اور یہود کے بارے میں بھی قرآن وسنت میں دکھائی جا سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، بلکہ قرآن وسنت کی تصریحات، سیرت نبوی، تاریخ اسلام اور فقہا کی آرا میں متعدد قرائن اس دعوے کے خلاف موجود ہیں جن کی تفصیل ہم چند سطور کے بعد پیش کریں گے۔

اس استدلال کی دوسری بنیادی خامی یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کے معاملے کو مشرکین پر قیاس کرتے ہوئے ان نہایت اہم اور واضح فروق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو خود کتاب وسنت کے نصوص میں ان دونوں گروہوں کے مابین ثابت ہیں۔ ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

۱۔ توحید خالص سے انحراف اور مشرکانہ عقائد واعمال سے آلودہ ہونے کے باوجود قرآن مجید توحید کو اہل کتاب اور اہل اسلام کے درمیان نقطہ اتحاد مانتا اور انہیں اس کی طرف بلانے کا حکم دیتا ہے۔۲۰؂

۲۔ تورات وانجیل کے احکام سے رو گردانی کے باوجود وہ اہل کتاب کو اصولی طور پر انہی کتابوں کا پیروکار تسلیم کرتا اور انہیں 'اہل کتاب' کے خطاب سے یاد کرتا ہے۔

۳۔ اسی بنا پر مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے مابین یہ فرق ملحوظ رکھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد مشرکین کو تو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ ان سے کہا گیا کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا مرنے کے لیے تیار ہو جائیں،۲۱؂ لیکن اہل کتاب کو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے جزیہ دے کر مسلمانوں کے زیر نگیں رہنے کی اجازت دی گئی۔۲۲؂

۴۔ اسی بنا پر قرآن مجید ان کے اور مشرکین کے مابین یہ امتیاز بھی قائم کرتا ہے کہ مشرکین کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح مسلمانوں کے لیے حرام جبکہ اہل کتاب کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح ان کے لیے جائز ہے۔ ۲۳؂

۵۔ اور اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے صنم خانوں اور مقدس مقامات کو اتمام حجت کے بعد ایک ایک کر کے ڈھا دینے کا حکم دیا، جس کی تفصیل حافظ ابن کثیرؒ نے یوں نقل کی ہے:

''قریش اور بنو کنانہ نے نخلہ کے مقام پر عزیٰ کی عبادت گاہ قائم کر رکھی تھی اور اس کی تولیت ودربانی کی ذمہ داری بنو ہاشم کے حلیف قبیلہ سلیم کے خاندان بنو شیبان کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا۔

بنو ثقیف نے طائف میں لات کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی اور اس کے متولی اور خادم بنو معتب تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابو سفیان صخر بن حرب کوبھیجا جنہوں نے اس کو گرا کر یہاں ایک مسجد بنا دی۔

اوس اور خزرج اور یثرب کے دیگر قبائل نے قدید کے علاقے میں منات کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ابو سفیان صخر بن حرب کو، اور ایک قول کے مطابق علی بن ابی طالب کو بھیج کر اس کو گرا دیا۔ (واقدی کی روایت کے مطابق اس کو سعد بن زید الاشہلیؓ نے گرایا تھا)۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، ۳/ ۷۱۱)

قبیلہ دوس، خثعم، بجیلہ اور تبالہ کے علاقے میں دیگر اہل عرب نے ذو الخلصۃ کی عبادت گاہ قائم کر رکھی تھی جس کو وہ کعبہ یمانیہ کے نام سے پکارتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جریر بن عبد اللہ الجبلی کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا۔

سلمیٰ اور آجا کے مابین جبل طے کے قریب قبیلہ طے اور ان کے قریبی قبائل نے قلس کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب کو یہاں بھیج کر اس کو گرا دیا۔'' (تفسیر ابن کثیر، ۴/ ۲۵۳، ۲۵۴)

رہاط کے مقام پر قبیلہ ہذیل کی سواع کے نام پر قائم کردہ عبادت گاہ کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے منہدم کیا۔ ۲۴؂

اس کے برخلاف اہل کتاب کی عبادت گاہوں کی حرمت وتقدس کو پوری طرح تسلیم کرتے ہوئے انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا گیا، جس کی آئندہ سطور میں دیکھی جا سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر انبیا کی تعلیمات سے یہود کے عملی انحراف کا اثر مذکورہ بالا تمام امور پر نہیں پڑتا تو صرف مسجد اقصیٰ کی تولیت کے معاملے پر وہ کس قانون، ضابطے اور اصول کی رو سے اثر انداز ہو جاتا ہے؟

علاوہ ازیں اس تضاد کا کیا حل ہے کہ جب اسلام میں اہل کتاب کی عام عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا اور ان پر اہل مذہب کی تولیت وتصرف کا حق تسلیم کیا گیا ہے تو ان کے قبلہ اور مرکز عبادت کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں کیا گیا کہ وہ اس پر تولیت وتصرف یا اس کے اندر عبادت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے ؟ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب اور اس کے قبلے کو روحانی لحاظ سے لازم وملزوم کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اور اپنے قبلے پر اہل مذہب کے حق کی نفی کا سیدھا سیدھا مطلب خود اس مذہب کے وجود وبقا اور اور اس کے ماننے والوں کے مذہبی وروحانی بنیاد پر اتحاد واجتماع کے حق کی نفی ہے۔ علم ومنطق کی رو سے ان دونوں باتوں میں کوئی تطبیق نہیں دی جا سکتی کہ ایک مذہب کے لیے بطور مذہب تو وجود وبقا کا حق تسلیم کیا جائے اور اہل مذہب کے روحانی ومذہبی جذبات کے احترام کی تعلیم بھی دی جائے لیکن ساتھ ہی یہ کہہ دیا جائے کہ اپنے قبلے میں عبادت اور اس کی تولیت کا کوئی حق ان کو حاصل نہیں ہے۔ اگر آپ ماننا چاہتے ہیں تو دونوں باتوں کو ماننا ہوگا، اور اگر نفی کرنا چاہتے ہیں تو بھی دونوں باتوں کی کرنی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے مشرکین عرب سے محض کعبہ کی تولیت کا حق ہی نہیں چھینابلکہ اس کے ساتھ ان کے اپنے مذہب پر قائم رہنے کے اختیار کی بھی صاف طور پر نفی فرما دی اور کہا کہ ان کے لیے نجات کی راہ صرف یہ ہے کہ وہ دین حق کو قبول کر لیں۔ ۲۵؂

حق تولیت کی منسوخی کے خلاف دلائل

اب ہم قرآن وسنت اور تاریخی وفقہی لٹریچر میں موجود ان قرائن کی نشان دہی کرتے ہیں جو حق تولیت کی منسوخی کے مذکورہ دعویٰ کی نفی کرتے ہیں:

اولاً، قرآن مجید نے خود اپنے اسلوب سے یہ واضح کر دیا ہے کہ بہت سے دیگر امور کی طرح، جن کی تفصیل اوپر بیان ہوئی، اللہ کے نبیوں کے تعمیر اور آباد کردہ خانہ خدا کی تولیت کے معاملے میں بھی مشرکین اور اہل کتاب کے مابین فرق کو لازماً ملحوظ رکھا جانا چاہیے چنانچہ مشرکین کے حق تولیت کی تنسیخ کے حکم پر مشتمل سورۂ براء ت کی مذکورہ آیت کے ساتھ بالکل متصل اگلی آیت میں اہل کتاب کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اب ان کی سیاسی قوت وشوکت کو توڑ کر ان کو مسلمانوں کے زیر نگیں ہونے پر مجبور کر دیا جائے:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَابِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍوَّھُمْ صٰغِرُوْنَ.(براء ت۹: ۲۹)

''اہل کتاب کے ساتھ، جو نہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی اختیار کرتے ہیں، برسر جنگ ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ زیر دستی قبول کر کے ذلت کی حالت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔''

یہاں دیکھ لیجیے، مشرکین مکہ کے برخلاف اہل کتاب کو محض سیاسی لحاظ سے مغلوب کرنے تک حکم کو محدود رکھا گیا ہے، اور مذہبی مراکز پر ان کے حق تولیت کو اشارۃً بھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ اگر مشرکین کی طرح یہود کو بھی مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حق سے معزول کرنا مقصود ہوتا تو اس کی تصریح کے لیے اس سے زیادہ موزوں موقع اور کوئی نہیں تھا لیکن، جیسا کہ معلوم ہے، اس قسم کا کوئی حکم یہاں نہیں دیا گیا۔

ثانیاً، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعدد ارشادات میں مسجد اقصیٰ کے اس مقام ومرتبہ پر روشنی ڈالی ہے جو اسے اسلامی شریعت میں حاصل ہے۔ مثلاً آپ نے فرمایا یہ دنیا کی ان تین مقدس ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے جن میں عبادت کے لیے انسان کو باقاعدہ سفر کر کے جانا چاہیے:

لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد: المسجد الحرام، والمسجد الاقصی، ومسجدی.(بخاری، رقم ۱۱۸۹)

''سامان سفر صرف تین مساجد کے لیے باندھا جائے: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری مسجد۔''

حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے مطابق آپ نے اس میں نماز پڑھنے کا ثواب عام مساجد سے ڈھائی سو گنا زیادہ بیان فرمایا۔ ۲۶؂

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی تکمیل کے موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ جو شخص بھی مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے، وہ یہاں سے اس طرح گناہوں سے پاک ہو کر جائے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔۲۷؂ پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرما لی ہوگی۔۲۸؂

اس باب میں آپ سے منقول تمام ارشادات اسی نوعیت کے ہیں اور ان میں کہیں بھی مسجد اقصیٰ کی تولیت کی قانونی وشرعی حیثیت کو زیر بحث نہیں لایا گیا اور نہ آپ نے اس حوالے سے صحابہؒ کو کوئی ہدایت دی۔ مثال کے طور پر غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے صحابہ کرام کو یہ خوشخبری دی کہ آپ کی وفات کے بعد بیت المقدس مفتوح ہوگا۔۲۹؂ یہ موقع ایسا تھا کہ اگر مسجد اقصیٰ کی حیثیت میں شرعی نوعیت کی کوئی تبدیلی پیش نظر ہوتی تو اس کے حوالے سے واضح ہدایت دے دینا مناسب تھا۔ اسی طرح اپنے مرض وفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جو بعض اہم وصیتیں کیں، ان میں سے ایک خاص طور پر مراکز اسلام کے ساتھ اہل کتاب کے تعلق کے بارے میں تھی۔ آپ نے فرمایا کہ جزیرۂ عرب میں، جسے اسلام کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے، دو دین اکٹھے نہیں ہو سکتے، اس لیے یہود ونصاریٰ کو یہاں سے نکال دیا جائے۔۳۰؂ یہ موقع بھی مسجد اقصیٰ کے بارے میں نئی ہدایات دینے کے لیے بالکل موزوں تھا لیکن آپ نے اس حوالے سے اشارۃً بھی کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی۔

ثالثاً، حضرات صحابہ کے طرز عمل میں بھی مسجد اقصیٰ کی تقدیس وتکریم سے بڑھ کر اس پر حق تولیت کے تصور کا کوئی سراغ نہیں ملتا، بلکہ حق تولیت تو درکنار، بعض اکابر صحابہ تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی کسی خاص فضیلت کے تصور سے بھی ناآشنا تھے۔ حضرت سعد نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا مجھے بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت ابو ذر غفاری کا ارشاد ہے کہ کسی سرخ ٹیلے پر نماز پڑھ لینا مجھے بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے۔ حضرت حذیفہ کا قول ہے کہ اگر میں سفر کرتے ہوئے بیت المقدس سے ایک یا دو فرسخ کے فاصلے پر پہنچ جاؤں تو بھی میں وہاں نہیں جاؤں گا اور نہ وہاں جانا مجھے پسند ہے۔ حضرت علی کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے بیت المقدس کے ارادے سے ایک اونٹ خریدا ہے اور سامان سفر تیار کر رکھا ہے۔آپ نے اس سے کہا، اپنااونٹ بیچ دو اور اس مسجد یعنی مسجد کوفہ میں نماز ادا کرلو، کیونکہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد مجھے یہ مسجد سب سے زیادہ محبوب ہے۔ ۳۱؂ کسی عبادت گاہ کی فضیلت و مرتبے کا قائل ہونا اس کے ساتھ تعلق اور وابستگی کا کم سے کم درجہ ہے۔ جب یہ جلیل القدر صحابہ اسی سے ناواقف ہیں تو یہ بات ناقابل تصور ہے کہ ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی مسجد اقصیٰ کے حق تولیت کے امت مسلمہ کو منتقل ہونے کا کوئی خیال موجود ہو۔

سیدنا عمر کے عہد حکومت میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو امیر المومنین خود یہاں تشریف لائے اور یہاں کے باشندوں کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں فاتحین اور مفتوحین کے باہمی تعلقات اور حقوق وفرائض کے تمام اہم پہلوؤں پر واضح دفعات موجود ہیں حتیٰ کہ مقامی عیسائی بطریق کے اصرار پر یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کوئی یہودی ان کے ساتھ بیت المقدس میں قیام نہیں کرے گا، لیکن مسجد اقصیٰ کی تولیت کا معاملہ اس میں بھی زیر بحث نہیں آیا۔ پھر جب سیدنا عمر مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر صخرۂ بیت المقدس کے اوپر اور اس کے اردگرد پڑے ہوئے کوڑا کرکٹ کو صاف کیا تو اس اہم موقع پر بھی انہوں نے مسجد کی تولیت کے معاملے سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ انہوں نے کعب الاحبار سے محض یہ سادہ سا مشورہ طلب کیا کہ: 'این تری ان اصلی'؟۳۳؂ ''تمہاری رائے میں مجھے کس جگہ نماز پڑھنی چاہیے؟'' اور پھر مسلمانوں کے نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں ایک جگہ مخصوص کرنے پر اکتفا کی جس سے واضح ہے کہ اس کو بلاشرکت غیرے مسلمانوں کی تحویل میں دے دینے کا کوئی تصور ان کے ذہن میں نہیں تھا۔

رابعاً، اس ضمن میں یہ پہلو بھی کم قابل لحاظ نہیں ہے کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کو مسلمانوں کے دو مقدس ترین اور مخصوص دینی مراکز قرار دینے کے بعد ناگزیر تھا کہ ان مقامات کا یہ تشخص برقرار رکھنے کے لیے وہاں غیر مسلموں کے مستقل قیام کو ممنوع قرار دے دیا جائے۔ چنانچہ سیدنا عمر نے یہ ضابطہ بنایا کہ وہ مدینہ منورہ میں غیر مسلموں کو ضرورت کے تحت تین دن سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں دیتے تھے۔۳۴؂ یہ روایت پوری اسلامی تاریخ میں قائم رہی ہے۔ لیکن بیت المقدس کے حوالے سے اس قسم کی کوئی ہدایت اسلامی قوانین میں نہیں دی گئی بلکہ پوری مسلم تاریخ میں اس شہر کے ساتھ ان کی وابستگی اور تعلق کو بالعموم احترام ہی کی نظر سے دیکھا گیا اور ان کے وہاں آنے جانے اور وہاں قیام کرنے پر کسی قسم کی کوئی پابندی، بعض استثنائی اور وقتی وجوہ سے قطع نظر، اصولی طور پر کبھی عائد نہیں کی گئی حتیٰ کہ جب بعض مسلم حکمرانوں نے بیت المقدس کی زیارت کے لیے جانے والے اہل ذمہ پر ایک خاص ٹیکس عائد کیا تو فقہا نے صراحتاً اس کے عدم جواز کا فتویٰ دیا۔۳۵؂ اگر مسجد اقصیٰ پر اہل کتاب کی تولیت کو منسوخ کر کے اسے مسلمانوں ہی کے لیے خاص کر دیا گیا ہے تو حرمین شریفین اور بیت المقدس کے احکام میں اس فرق کی آخر کیا توجیہ کی جائے؟

خامساً، فقہ اسلامی کے وسیع اور جامع ذخیرے میں اس بات کی کوئی تصریح، ہمارے علم کی حد تک، نہیں ملتی کہ مسجد اقصیٰ کو اہل کتاب کے تصرف سے نکال کر اہل اسلام کی تولیت میں دے دیا گیا ہے۔ ویسے تو اس نہایت اہم معاملے سے عدم تعرض ہی اس تصور کی نفی کے لیے کافی ہے، لیکن اس سے بڑھ کر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فقہی مکاتب فکر میں سے ایک بڑے مکتب فکر یعنی فقہاے احناف کی آرا میں ایسے شواہد بھی موجود ہیں جو حق تولیت کی تنسیخ کے تصور کی صاف نفی کرتے ہیں۔

اس کا پہلا قرینہ تو اس بحث میں ملتا ہے جو سورہ براء ت کی آیت: 'انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا' کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے فقہا کے ہاں پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا بنیادی زاویہ نگاہ ایک ہے، یعنی ان سب کے نزدیک اس حکم کی اصل علت، ظاہر نص کے مطابق، محض اعتقادی نجاست ہے، البتہ اس حکم کے دائرہ کار کی تحدید کے حوالے سے ان میں باہم اختلاف رائے پایا جاتا ہے:

امام شافعیؒ اس پابندی کو علت اور وقت کے لحاظ سے تو عام مانتے ہیں لیکن محل کے لحاظ سے خاص۔ علت کے عموم کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم اگرچہ مشرکین کے لیے بیان ہوا ہے، لیکن اعتقادی نجاست کی علت چونکہ دوسرے غیر مسلموں میں بھی پائی جاتی ہے، اس لیے کوئی بھی غیر مسلم، چاہے وہ مشرک ہو یا کتابی، مسجد حرام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ وقت کے عموم کا مطلب یہ ہے یہ پابندی کسی خاص زمانے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ محل کے خصوص سے مراد یہ ہے کہ امام صاحب اس پابندی کو صرف مسجد حرام کے لیے مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی تمام مساجد میں ان کے نزدیک غیر مسلم داخل ہو سکتے ہیں۔ان کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے یہ پابندی خاص طور پر صرف مسجد حرام کے لیے بیان کی ہے، لہٰذا باقی مساجد پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔۳۶؂

امام مالکؒ اور امام احمدؒ کی رائے میں یہ حکم علت، وقت اور محل ہر لحاظ سے عام ہے، یعنی ان کے نزدیک تمام غیر مسلموں کا داخلہ مسجد حرام سمیت تمام مساجد میں ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ جس طرح اعتقادی نجاست کی علت کی بنا پر یہ حکم مشرکین کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں کو بھی شامل ہے، اسی طرح حرمت وتقدس کی علت کی بنا پر مسجد حرام کے علاوہ دیگر تمام مساجد کو بھی شامل ہے۔ اگر غیر مسلم مسجد حرام کی حرمت کی بنا پر اس میں داخل نہیں ہو سکتے، تو اسی علت کی بنا پر دوسری تمام مساجد میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔

فقہائے احناف نے اس حکم کی تعبیر ایک بالکل مختلف زاویے سے کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ پابندی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ان مشرکین عرب کے لیے تھی جن کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی معاہدہ نہیں تھا اور جن پر اتمام حجت کے بعد یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا مرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ نیز ان کے لیے بھی یہ ممانعت ہر حال میں نہیں بلکہ حسب ذیل صورتوں میں تھی:

ایک یہ کہ وہ ایام حج میں حج کی غرض سے مسجد حرام میں داخل ہوں۔ گویا عام دنوں میں ان کے داخلہ پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ ۳۷؂

دوسری یہ کہ وہ عریاں ہو کر یا غلبہ اور استیلا کے ساتھ اس میں داخل ہوں۔ ۳۸؂

تیسری یہ کہ وہ مسجد حرام کے امور میں تصرف وتولیت کے اختیار میں شریک ہوں۔۳۹؂

گویا جمہور فقہا کی رائے کے برعکس، احناف کے نزدیک مسجد حرام میں داخلے کی یہ پابندی نہ تمام غیر مسلموں کے لیے ہے اور نہ ہر زمانے کے لیے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ احناف کے نزدیک اس حکم کی علت مفرد نہیں بلکہ مرکب ہے، یعنی اس کی وجہ محض اعتقادی نجاست نہیں کہ اس کے دائرۂ اطلاق میں تمام غیر مسلموں اور تمام مساجد کو شامل کر لیا جائے، بلکہ حکم کے سیاق وسباق کی رو سے اعتقادی نجاست کے ساتھ ساتھ پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت بھی اس کی علت کا حصہ ہے۔ چونکہ مذکورہ مشرکین عرب پر ہر لحاظ سے اتمام حجت کر دیا گیا تھا، اس لیے آخری مرحلے میں ان سے اپنے دین پر قائم رہنے کا حق چھین لینے کے ساتھ ساتھ مسجد حرام کی تولیت اور اس میں عبادت کرنے کا حق بھی سلب کر لیا گیا جس کی ایک لازمی فرع یہ تھی کہ اس میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے۔

اس تمہید کے بعد اب ہم اصل نکتے کی طرف آتے ہیں۔ احناف تمام مساجد میں غیر مسلموں کے دخول کے جواز کے قائل ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس اجازت کے دائرے میں مسجد اقصیٰ بھی ان کے نزدیک شامل ہے یا نہیں؟ فقہی ذخیرے میں ہمیں اس حوالے سے کوئی صراحت میسر نہیں ہوئی، لیکن منطقی طور پر یہاں امکان دو ہی ہیں:

ایک یہ کہ مذکورہ بحث میں احناف کے پیش نظر مسجد اقصیٰ کے علاوہ باقی مساجد ہیں اور مسجد اقصیٰ اس کے دائرۂ اطلاق سے خارج ہے۔ اگر یہ صورت ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ احناف مسجد اقصیٰ کو ان مساجد کے زمرے میں ہی نہیں سمجھتے جن کے حوالے سے اسلامی شریعت کے احکام زیر بحث آئیں۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی کہ ان کے نزدیک مسجد اقصیٰ پر مسلمان نہ بلاشرکت غیرے تصرف کا استحقاق رکھتے ہیں اور نہ یک طرفہ طور پر اس پراسلامی شریعت کے احکام نافذ کرنے کے مجاز ہیں۔

دوسرا یہ کہ اس بحث کے دائرۂ اطلاق میں مسجد اقصیٰ بھی شامل ہے۔ یہ صورت اس لیے متبادر لگتی ہے کہ جس زمانے میں یہ فقہی بحث پیدا ہوئی، اس وقت مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے تصرف میں تھی اور یہود ونصاریٰ کے عملاً اس سے لاتعلق ہونے کی وجہ سے اس کو عمومی حیثیت سے منجملہ دیگر مساجد کے ہی سمجھا جاتا تھا۔ اس امکان کو مان لیجیے تو ایک سیدھا سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسجد اقصیٰ کا حق تولیت اہل کتاب سے چھین لیا گیا ہے تو احناف، جو مسجد حرام میں مشرکین عرب کے دخول کے عدم جواز کو حق تولیت کی تنسیخ کی ایک فرع قرار دیتے ہیں، مسجد اقصیٰ پر اس حکم کا اطلاق کیوں نہیں کرتے؟ کیا ان کے نزدیک اس اصول کا اطلاق اہل کتاب پر نہیں ہوتا؟ اگر ہوتا ہے تو اس کے دائرۂ اطلاق میں صرف عہد نبوی یا عہد صحابہ کے اہل کتاب آتے ہیں یا یہ حکم ہمیشہ کے لیے موثر ہے؟ نیز یہ ممانعت بالکل مطلق ہے یا بعض مخصوص حالات وکیفیات تک محدود ہے؟ اور اگر اہل کتاب پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا تو ان کے اور مشرکین کے مابین فرق کی کیا وجہ ہے؟ ان سوالات پر احناف کے ہاں اسی طرح بحث ہونی چاہیے تھی جس طرح مشرکین عرب کے حق تولیت کے حوالے سے ہوئی ہے، بلکہ اس حوالے سے ان پر بحث کا داعیہ اس لحاظ سے زیادہ قوی تھا کہ مشرکین عرب کا خاتمہ تو عہد نبوی اور عہد صحابہ میں ہی کر دیا گیا تھا، اور بعد کے حالات میں ان کے مسجد حرام میں دخول یا عدم دخول کی بحث محض نظری نوعیت کی تھی، جبکہ یہود بطور ایک مذہبی گروہ کے اس اعتقاد کے ساتھ مسلسل دنیا میں موجود ہیں کہ مسجد اقصیٰ ان کا قبلہ ہے اور ایک وقت آئے گا جب وہ یہاں اپنے ہیکل کو ازسرنو تعمیر کریں گے۔

اس پس منظر کے ساتھ جب ہم فقہاے احناف کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے حوالے سے کسی تفصیل میں جائے بغیر مسجد اقصیٰ میں اہل کتاب کے دخول کو جائز قرار دیتے ہیں تو اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ ان کے ذہن میں اہل کتاب کے حق تولیت کی تنسیخ کا کوئی تصور موجود نہیں۔

باقی رہا یہ سوال کہ احناف اور شوافع نہ سہی، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک تو مسجد اقصیٰ میں اہل کتاب کے دخول کے عدم جواز کا حکم بہرحال ثابت ہے، تو اس سے ہمارے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے کہ مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک اس کی علت حق تولیت کی تنسیخ نہیں بلکہ اعتقادی نجاست ہے۔ ہم یہاں جو بات واضح کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اہل کتاب کے حق تولیت کی تنسیخ کا ذکر فقہا کے ہاں، خواہ وہ احناف اور شوافع ہوں یا مالکیہ اور حنابلہ، نہیں ملتا۔ مالکیہ اور حنابلہ اگر اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے، مثلاً غیر مسلموں کی اعتقادی نجاست کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ میں اہل کتاب کے دخول کے عدم جواز کے قائل ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ ایک بالکل دوسری بحث ہے اور اس ضمن میں یہ ان سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر مسجد اقصیٰ کا بلاشرکت غیرے مسلمانوں ہی کی عبادت گاہ ہونا ازروے شریعت ثابت نہیں ہے، تواس پر مسلمانوں کی مخصوص مساجد کے احکام جاری کرتے ہوئے اہل کتاب پر یہ پابندی کیونکر عائد کی جا سکتی ہے؟

حق تولیت کی تنسیخ کے خلاف دوسرا قرینہ فقہاے احناف کے ہاں اس فقہی بحث میں ملتا ہے کہ اسلامی ریاست میں اہل ذمہ کو اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر وتزئین یا انتظام امور کے لیے مال وقف کرنے یا وصیت کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ جمہور فقہا کی رائے میں انہیں نہ اپنی عبادت گاہوں کے لیے یہ حق حاصل ہے اور نہ مسلمانوں کی مساجد کے لیے۔ اگر وہ ایسی کوئی وصیت کریں تو اسے غیر موثر سمجھا جائے گا۔ ۴۰؂

فقہاے احناف کے ہاں، البتہ، اس میں کچھ تفصیل ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حنفی فقیہ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

''جان لو کہ ذمی کی وصیت کی تین صورتیں ہیں: پہلی صورت بالاتفاق جائز ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسے کام کی وصیت کرے جو ہمارے نزدیک بھی باعث ثواب ہو اور ان کے نزدیک بھی، مثلاً یہ وصیت کرے کہ اس کے مال سے بیت المقدس میں چراغ جلائے جائیں یا وصیت کرنے والا رومی ہو اور وصیت کرے کہ اس کے مال سے ترکوں کے خلاف لڑائی کی جائے۔ یہ وصیت خواہ وہ کچھ مخصوص لوگوں کے حق میں کرے یا عمومی طور پر، دونوں صورتوں میں درست ہوگی۔ دوسری صورت بالاتفاق باطل ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسے کام کی وصیت کرے جو نہ ہمارے نزدیک باعث ثواب ہو اور نہ ان کے نزدیک، مثلاً گانا گانے والیوں یا نوحہ کرنے والیوں کے حق میں وصیت کر دے۔ اسی طرح اگر وہ کسی ایسے کام کے لیے وصیت کریں جو صرف ہمارے نزدیک باعث ثواب ہے، جیسے حج اور مسلمانوں کے لیے مساجد تعمیر کرنا، تو ان کی وصیت درست نہیں۔ تیسری صورت میں اختلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی ایسے کام کی وصیت کرے جو صرف ان کے ہاں باعث ثواب ہو جیسے گرجا تعمیر کرنا۔ اگر یہ وصیت وہ غیر معین لوگوں کے نام کرے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک درست ہوگی جبکہ صاحبین کے نزدیک نا درست۔ اور اگر چند معین افراد کے نام کرے تو بالاتفاق درست قرار پائے گی۔''(رد المحتار، کتاب الوصایا، فصل فی وصایا الذمی وغیرہ، ۶/ ۶۹۶)

اسی طرح اہل ذمہ کے وقف کی صورتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''بحر الرائق وغیرہ میں ہے کہ ذمی کے وقف کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ کسی ایسے کام کے لیے وقف کرے جو ہمارے نزدیک بھی نیکی کا کام ہو اور ان کے نزدیک بھی، جیسے فقرا کے حق میں یا مسجد اقصیٰ کے لیے۔ اگر وہ کسی گرجے پر وقف کرے تو درست نہیں کیونکہ یہ صرف ان کے نزدیک نیکی ہے۔ اسی طرح اس کا حج اور عمرہ کے لیے مال وقف کرنا بھی درست نہیں کیونکہ وہ صرف ہمارے نزدیک نیکی ہے۔''(رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب قد یثبت الوقف بالضرورۃ، ۴/ ۳۴۱)

یہی بات ابن ہمام نے 'فتح القدیر' میں یوں بیان کی ہے:

''اگر ذمی نے اس مقصد کے لیے مال وقف کیا کہ اس کے ساتھ حج یا عمرہ کیا جائے تو یہ جائز نہیں کیونکہ حج اور عمرہ ان کے نزدیک قرب الٰہی کا ذریعہ نہیں ہیں۔ ہاں اگر وہ مسجد اقصیٰ کے لیے مال وقف کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ ان کے نزدیک بھی کار ثواب ہے اور ہمارے نزدیک بھی۔'' (فتح القدیر، کتاب الشرکۃ، فصل: لا یودی احد الشریکین زکاۃ مال، ۶/ ۲۰۱)

یہاں اس جزئیہ کی صحت یا عدم صحت سے بحث نہیں، لیکن اس سے اتنی بات بالکل واضح ہے کہ فقہاے احناف کے نزدیک مسجد اقصیٰ کا معاملہ مسلمانوں کی عام مساجد سے مختلف ہے۔ عام مساجد کے لیے وہ اہل ذمہ کے وقف یا وصیت کردہ مال کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ان کی حیثیت خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی ہے اور ان پر خرچ کرنا چونکہ اہل ذمہ کے نزدیک کار ثواب نہیں ہے اس لیے ان کے حق میں ان کی وصیت یا وقف بھی درست نہیں، لیکن مسجد اقصیٰ پر خرچ کرنے کے لیے وہ اہل ذمہ کے وقف اور وصیت کو درست قرار دیتے ہیں جس کا مفہوم، ظاہر ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اس کو خالصتاً اہل اسلام کی نہیں بلکہ اہل اسلام اور اہل کتاب دونوں کی مشترکہ عبادت گاہ مانتے اوراس کی تعمیر وتزئین کے لیے مال خرچ کرنے کو اہل کتاب کا مذہبی حق تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اہل کتاب کے حق تولیت کو ازروئے شریعت منسوخ ماننے کی صورت میں 'اشتراک' کے اس تصور کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔

اس کے بالمقابل دوسرا گروہ دوسری تمام مساجد کی طرح مسجد اقصیٰ میں بھی غیر مسلموں کے دخول کے عدم جواز کا قائل ہے لیکن اس ضمن میں وہ حق تولیت کی تنسیخ کے حوالے سے مسجد اقصیٰ کو خصوصی طور پر زیر بحث لائے بغیر محض عمومی نوعیت کا یہ استدلال کرنے پر اکتفا کرتا ہے کہ چونکہ غیر مسلم اعتقادی طور پر ناپاک ہیں اس لیے وہ کسی بھی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اگر اس گروہ کے ذہن میں بھی حق تولیت کی تنسیخ کا کوئی تصور ہوتا تو یقیناًوہ اس بحث میں اس کو بطور دلیل پیش کرتا کیونکہ حق تولیت سے معزولی کی خصوصی دلیل اعتقادی نجاست کی عمومی دلیل سے کہیں زیادہ وزنی اور مضبوط ہے۔

[باقی]

________

۱۷؂ شبلی نعمانی: سیرت النبی، ۱/ ۳۳۸۔

۱۸؂ السیرۃ النبویہ، ابن کثیر، ۴/ ۷۰۔

۱۹؂ شبلی نعمانی: سیرت النبی، ۱/ ۳۳۹۔

۲۰؂ آل عمران: ۶۴۔

۲۱؂ براء ۃ: ۵۔

۲۲؂ براء ۃ: ۲۹۔

۲۳؂ المائدہ: ۵۔

۲۴؂ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، ۳/ ۷۱۱۔

۲۵؂ برأت: ۵۹۔

۲۶؂ مستدرک حاکم، ۴/ ۵۰۹۔

۲۷؂ سنن النسائی، رقم ۶۹۴۔

۲۸؂ ابن ماجہ، رقم ۱۴۰۸۔

۲۹؂ ابن ماجہ، ۴۰۴۲۔ مسند احمد، روایات معاذ۔

۳۰؂ مسند احمد، بحوالہ نیل الاوطار ۸/ ۷۳۔

۳۱؂ مصنف ابن ابی شیبہ ، ۲/ ۳۷۳، ۳۷۴۔

۳۲؂ یہ محض سیاسی نوعیت کی ایک وقتی شرط تھی، چنانچہ بعد کے زمانے میں جب حالات میں تبدیلی پیدا ہوئی تو مسلمانوں کے اہل حل و عقد نے بھی رفتہ رفتہ اس شہر میں یہودیوں کو قیام کی اجازت دے دی اور اہل علم نے بھی اس پر کوئی نکتۂ اعتراض نہیں اٹھایا۔

۳۳؂ مسند احمد، ۱/ ۳۸۔

۳۴؂ موسوعہ فقہ عمر اردو ۳۹۷۔

۳۵؂ رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب العاشر فی الزکاۃ ۲/ ۳۱۳۔ نیز کتاب الجہاد، باب المستامن، فصل فی استئمان الکافر ۴/ ۱۶۹۔

۳۶؂ احکام القران، ابن العربی، ۲/ ۴۷۰۔

۳۷؂ ابوبکر الجصاص، احکام القرآن ۳/ ۱۳۱۔

۳۸؂ ابن ہمام، فتح القدیر، ۱۰/ ۶۳۔

۳۹؂ شرح السیر الکبیر للسرخسی ۱/ ۱۳۵۔

۴۰؂ مغنی المحتاج، محمد بن احمد الشربینی الخطیب، ۳/ ، کتاب الوقف۔ الشرح الکبیر، ۴/ ۷۸، ۷۹، باب فی احکام الوقف۔ المغنی، ابن قدامۃ، ۶/ ۱۲۲، مسئلہ ۴۷۳۰۔ کشاف القناع عن متن الاقناع، ۴/ ۳۶۴۔

____________