مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ (۲) (1/2)


مسلمانوں کے حق تولیت کے 'شرعی دلائل' کا جائزہ

ہم اوپر تفصیل کے ساتھ واضح کر چکے ہیں کہ مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق تولیت کے منسوخ ہونے کا کوئی اشارہ تک قرآن وسنت اور کلاسیکل فقہی لٹریچر میں نہیں ملتا۔ یہ نقطہ نظر حال ہی میں مسلم اہل علم اور دانش وروں کے ہاں پیدا ہوا ہے اور چونکہ کسی شرعی دلیل کے بغیر یہود کی معزولی کے دعوے کی بے مائیگی ایسی واضح ہے کہ اس دعوے کے وکلا کو بھی اس کا پورا احساس ہے، لہٰذا اس خلا کی تلافی کے لیے انہوں نے کچھ دلیلیں بھی وضع کی ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کا جائزہ بھی لے لیا جائے۔

۱۔ واقعہ اسرا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے اہم واقعات میں سے ایک 'واقعہ اسرا' ہے۔ قرآن مجید کے مطابق انبیاے بنی اسرائیل کی عبادت گاہ اور ان کی دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کی حیثیت سے فلسطین کی مقدس سرزمین کی زیارت اور اس کے ماحول میں موجود روحانی نشانیوں سے فیض یاب ہونے کا موقع عنایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رات کے وقت معجزانہ طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کا سفر کرایا۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَاط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ.(اسراء ۱۷: ۱)

''پاک ہے اللہ کی ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر کرایا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں۔ بے شک وہ خوب سننے والے دیکھنے والا ہے۔''

روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں یہاں نماز کی امامت بھی کرائی اور انبیاء کرام علیہم السلام نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی۔ ۴۱؂

اس واقعے کو بعض اہل علم نے یہود کے حق تولیت کی تنسیخ اور امت مسلمہ کے حق تولیت کے جواز کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ کے خیال میں اس کی نوعیت مستقبل میں ملنے والے حق تولیت کی 'بشارت' کی تھی۔ فرماتے ہیں:

''واقعہ معراج کی طرف اشارہ جس میں یہ حقیقت مضمر تھی کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں گھروں کی امانت خائنوں اور بد عہدوں سے چھین کر نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کی گئی۔ اب یہی ان مقدس گھروں اور ان کے انوار وبرکات کے وارث اور محافظ وامین ہوں گے اور ان کے قابضین --- مشرکین قریش اور یہود --- عنقریب ان گھروں کی تولیت سے بے دخل کر دیے جائیں گے۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۷۱۴)

جبکہ سید سلیمان ندویرحمہ اللہ کی رائے میں اس کی نوعیت کسی آئندہ امر کی بشارت کی نہیں بلکہ فی الفور نافذ العمل حتمی فیصلے اور اعلان کی تھی، چنانچہ لکھتے ہیں:

''سب سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس سورہ کے جلی عنوانات کیا ہیں:

(۱) یہ اعلان کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی القبلتین (یعنی کعبہ اور بیت المقدس دونوں کے پیغمبر) ہیں۔

(۲) یہود جو اب تک بیت المقدس کے اصل وارث اور اس کے نگہبان وکلید بردار بنائے گئے تھے، ان کی تولیت اور نگہبانی کی مدت حسب وعدۂ الٰہی ختم کی جاتی ہے اور آل اسمٰعیل کو ہمیشہ کے لیے اس کی خدمت گزاری سپرد کی جاتی ہے۔'' (سیرت النبی ۳/ ۲۵۲)

''آپ کو دونوں قبلوں کی تولیت تفویض ہوئی اور نبی القبلتین کا منصب عطا ہوا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ اور بیت المقدس دونوں طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا اور اسی لیے معراج میں آپ کو مسجد حرام (کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک لے جایا گیا اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیا کی صف میں آپ کو امامت پر مامور کیا گیا تاکہ آج اس مقدس دربار میں اس کا اعلان عام ہو جائے کہ دونوں قبلوں کی تولیت سرکاری محمدی کو عطا ہوتی ہے اور نبی قبلتین نامزد ہوتے ہیں۔'' (ایضاً ص ۲۵۳)

اس استدلال کا ذرا گہری نظر سے جائزہ لیجیے:

دعوے کے ساتھ اس دلیل کے تعلق کی نوعیت تو یہ ہے کہ اگر ذہن میں کوئی مقدمہ پہلے سے قائم نہ کر لیا گیا ہو تو اس سے یہود کے حق تولیت کی منسوخی کا نکتہ اخذ کرنا فی الواقع کوئی آسان کام نہیں ۔ قرآن مجید نے واقعہ اسرا کی غرض وغایت خود یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان روحانی نشانیوں سے فیض یاب ہونے کا موقع دینا تھا جو انبیاء کی اس مقدس اور بابرکت سرزمین میں اور بالخصوص مسجد اقصیٰ کے اندر اور اس کے ارد گردجابجا بکھری ہوئی ہیں۔ یہ اس سفر کی بنیادی غرض وغایت تھی جبکہ دیگر جزوی اسرار اور حکمتوں پر ان چودہ صدیوں میں اہل علم مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے رہے ہیں لیکن اس تمام لٹریچر میں اس بات کی طرف کہیں کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اس کا مقصد یہود کو مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حق سے معزول کرنا اور اس حق کو مسلمانوں کی طرف منتقل کر دینا تھا۔ یہ راز ہمارے علما نے حال ہی میں دریافت کیا ہے۔

اس ضمن میں مولانا اصلاحیرحمہ اللہ کے جواب میں تو ہمیں یہی عرض کرنا ہے کہ اگر واقعہ اسرا کی نوعیت اس ضمن میں ایک اشارے کی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ اشارہ، مسجد حرام کی تولیت کے بارے میں وارد ابتدائی اشارے کی طرح، اس بات کا مقتضی تھا کہ بعد میں مناسب موقع پر اس کو واضح حکم کی شکل بھی دے دی جاتی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ نہ قرآن مجید سورۂ براء ۃ میں ایک مناسب موقع پیدا ہونے کے باوجود اس کی تصریح کرتا ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ضمن میں کوئی واضح ہدایت دیتے ہیں، نہ سیدنا عمر فتح بیت المقدس کے موقع پر اس بات کی وضاحت کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور نہ بعد کے فقہا کے ہاں اس بات کا کوئی ذکر ملتا ہے کہ یہود کا اپنے قبلے پر اب کوئی حق باقی نہیں رہا؟

باقی رہے وہ اہل علم جو اس واقعہ کو ایک حتمی اعلان کی حیثیت دیتے ہیں، تو ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ ازراہ کرم حسب ذیل سوالات کا جواب عنایت فرمائیں:

۱۔ اس میں کیا حکمت ہے کہ مشرکین کے حق تولیت کی تنسیخ کا تو قرآن مجید میں ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا گیا اور اس کے بعد ۹ ہجری میں حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی عام منادی کا اہتمام کیا لیکن مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق تولیت کی تنسیخ واقعہ اسرا میں یوں پنہاں کر دی گئی کہ زمانہ حال سے قبل تیرہ صدیوں تک کسی کے لیے اس کو دریافت کرنا ممکن ہی نہ ہوا؟

۲۔ مشرکین کی معزولیت کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۳ سالہ نبوی زندگی کے بالکل آخری زمانے میں اس وقت کیا گیا جب کہ مشرکین پر دعوت وتبلیغ کے میدان میں اتمام حجت کرنے کے بعد فتح مکہ کی صورت میں سیاسی لحاظ سے بھی ان کو مغلوب کیا جا چکا تھا۔ اس کے برخلاف اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کا آغاز مکی زندگی کے آخری سالوں میں ہوا جو مدنی زندگی میں اپنے عروج کو پہنچا۔ ان کی سیاسی طاقت کو توڑ کر ان کو مغلوب کر لینے کا حکم قرآن مجید میں بالکل آخری زمانے میں سورۂ براء ۃ میں دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں اس سمت میں جدوجہد کا آغاز بھی کر دیا لیکن اس حکم کی عملی تکمیل خلفائے راشدین کے عہد میں ہوئی۔ آخر اس کی کیا توجیہ کی جائے کہ مشرکین کی معزولی کا فیصلہ تو ان پر اتمام حجت اور سیاسی غلبہ حاصل ہو جانے کے بعد کیا گیا لیکن بیت المقدس کے حق تولیت سے یہود کی معزولی کا فیصلہ مکہ ہی میں اس وقت کر دیا گیا جبکہ، اتمام حجت اور سیاسی غلبہ تو درکنار، ابھی ان کے ساتھ باقاعدہ مباحثہ کا بھی آغاز نہیں ہوا تھا؟

۳۔ اس الجھن کا کیا حل پیش کیا جائے گا کہ مسجد اقصیٰ بہرحال اسلام میں ''تیسرے'' مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے لیے مسجد حرام اور مسجد نبوی جیسی حرمت وتقدس کے احکام بھی شریعت میں ثابت نہیں اور نہ مسلمانوں کی حج اور قربانی جیسی عبادات کے حوالے سے اسے کوئی خصوصی اہمیت حاصل ہے، تو پھر آخر کس معقول وجہ سے مسجد حرام کا معاملہ موخر کر کے مسجد اقصیٰ کی تولیت کا فیصلہ اس سے کہیں پہلے کر دینے کا اہتمام کیا گیا؟

۴۔ اگر حق تولیت کی تنسیخ کا فیصلہ واقعہ اسرا ہی کے موقع پر ہو چکا تھا تو ہجرت مدینہ کے بعد تحویل قبلہ کے حکم کی کیا حکمت اور معنویت باقی رہ جاتی ہے؟ اس حکم کی حکمت، جیسا کہ ہم آئندہ سطور میں واضح کریں گے، یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکاروں اور اور کمزور مدعین ایمان کے مابین امتیاز قائم ہو جائے اور یہود اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مانوس ہو جائیں۔ واقعہ اسرا کی اس تعبیر کے مطابق اگر مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق کی صاف نفی کی جا چکی تھی تو تحویل قبلہ سے آزمائش اور تالیف قلب کے مذکورہ مقاصد آخر کس بنیاد پر حاصل کرنا مقصود تھے؟

۵۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ واقعہ اسرا سے اس استدلال کی جڑ قرآن مجید نے سورہ بنی اسرائیل کی انہی آیات میں خود کاٹ دی ہے۔ واقعہ اسرا کے ذکر کے بعد قرآن مجید نے اسی سلسلہ بیان میں مسجد اقصیٰ کی بربادی اور اس میں سے یہود کی بے دخلی کے دو تاریخی واقعات کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے:

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا.(اسراء۱۷: ۸)

''توقع ہے کہ تمہارا رب تم پر پھر رحمت کرے گا۔ اور اگر تم نے دوبارہ سرکشی اور فساد کا رویہ اختیار کیا تو ہم بھی اس عذاب کا مزہ تمہیں دوبارہ چکھا دیں گے۔''

یعنی قرآن مجید واقعہ اسرا کے بعد بھی اس بات کا امکان تسلیم کرتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے یہود کو دوبارہ اپنے مرکز عبادت کی بازیابی اور اس میں سلسلہ عبادت کے احیا کا موقع ملے، اگرچہ یہ موقع بھی پہلے مواقع کی طرح اطاعت اور حسن کردار کے ساتھ مشروط ہوگا۔

ان دلائل سے واضح ہے کہ ہمارے اہل علم کی ایجاد کردہ واقعہ اسرا کی یہ تازہ تعبیر علمی لحاظ سے بالکل بے بنیاد ہے۔

۲۔ تحویل قبلہ

یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کے ضمن میں دوسرا استدلال تحویل قبلہ کے واقعے سے کیا جاتا ہے۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد یہود کی تالیف قلب اور مسلمانوں کے ایمان کو جانچنے کے لیے کچھ عرصہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کے بجائے مسجد اقصیٰ کو، جو یہود کا قبلہ تھی، مسلمانوں کا قبلہ مقرر فرمایا تھا اور تقریباً سترہ ماہ تک مسلمان اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ بعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے انہیں دوبارہ مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس واقعہ کا تذکرہ سورء بقرہ کی آیات ۱۴۲ تا ۱۴۵ میں کیا گیا ہے۔

سید سلیمان ندویرحمہ اللہ اس واقعہ کو یہود کے حق تولیت کی معزولی کا حکم نامہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

''بیت المقدس اسلام کا دوسرا قبلہ ہے اور اس کی تولیت امت محمدیہ کا حق تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس تولیت کی بشارت دے دی تھی اور فرما دیا تھا کہ میری موت کے بعد یہ واقعہ پیش آئے گا۔'' (سیرت النبی، ۳/ ۳۸۵)

اس ضمن میں خود قرآن مجید کی تصریحات سے تین باتیں صاف واضح ہیں:

ایک یہ کہ مسجد اقصیٰ کو قبلہ مقرر کرنے کے حکم کا مقصد یہ تھا کہ اہل ایمان کی آزمائش کی جائے اور مضبوط اہل ایمان اور کمزور اہل ایمان کے مابین امتیاز قائم کر دیا جائے:

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ.(البقرہ۲: ۱۴۳)

''اور ہم نے یہ قبلہ جس کی طرف آپ رخ کرتے رہے، صرف اس لیے مقرر کیا تاکہ ہم رسول کی پیروی کرنے والوں اور الٹے پاؤں پلٹ جانے والوں کے مابین امتیاز قائم کر دیں۔''

دوسری یہ کہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کرنے کا یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعاً پسند نہیں تھا اور آپ کی یہ خواہش تھی کہ دوبارہ مسجد حرام کو مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا جائے:

قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا.(البقرہ۲: ۱۴۴)

''آپ کے چہرے کے بار بار آسمان کی طرف اٹھنے کو ہم دیکھتے رہے ہیں سو ہم آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جو آپ کو پسند ہے۔''

تیسری یہ کہ اس حکم کے منسوخ ہونے پر یہود ناخوش تھے اور ان کی خواہش تھی کہ مسلمان انہی کے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کو مسترد کر دیا:

وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ وَمَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ وَلَءِنِ اتَّبََعْتَ اَھْوَآءَھُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ.(البقرہ۲: ۱۴۵)

''نہ آپ ان کے قبلے کی طرف رخ کریں گے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کی طرف۔ اور اگر واضح حکم آجا نے کے بعد آپ ان کی خواہشات کے پیچھے چلے تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا۔''

اس کے ساتھ اہل علم کی بیان کردہ یہ حکمت بھی پیش نظر رکھیں کہ مسجد اقصیٰ کو قبلہ مقرر کرنے سے یہود مدینہ کی تالیف قلب یعنی انہیں مسلمانوں کے ساتھ مانوس اور اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود تھا۔۴۲؂

اب ذرا غور فرمائیے کہ ان میں سے کون سی بات ہے جو حق تولیت کی تنسیخ کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے؟

اگر مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ مقرر کرنے کا مقصد یہود کے حق تولیت کو منسوخ کرنا تھا تو واقعہ کی یہ حکمت اہمیت کے لحاظ سے قرآن کی بیان کردہ حکمت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کیا وجہ ہے کہ قرآن اس اہم تر حکمت سے یہاں صرف نظر کر جاتا ہے؟

پھر مفسرین نے اس کی جو دوسری حکمت یعنی یہود کی تالیف قلب سمجھی ہے، وہ حق تولیت کی منسوخی کے بالکل معارض ہے۔ اگر مسلمانوں کو یہود کے قبلے کی طرف رخ کرنے کا حکم دینے کا مقصد یہود کے قلوب کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نرم کرنا تھا تو ظاہر ہے کہ پھر اس حکم کا مقصد ان کے حق تولیت کی تنسیخ نہیں ہو سکتا۔ حق تولیت کی تنسیخ کے دعوے کے ساتھ ان کے قبلے کی طرف رخ کرنا آخر تالیف قلب کا کون سا طریقہ ہے؟

پھر اگر مسجد اقصیٰ کے استقبال کا مطلب مسلمانوں کے نزدیک یہ تھا کہ اس مرکز پر اب یہود کا کوئی حق باقی نہیں رہا تو اس حکم کے منسوخ ہونے پر یہود کو خوش ہونا چاہیے تھا یا ناخوش؟ کیا وہ اس لیے مسلمانوں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کو قبلہ بنائے جانے کے خواہش مند تھے کہ اس طریقے سے مسلمان ان کے قبلے پر حق جمائے رکھیں اور زبان حال سے ان کے سینوں میں نشتر چبھوتے رہیں؟

پھر قرآن مجید جس طرح قبلتک کے الفاظ سے مسجد حرام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبی تعلق کو واضح کرتا ہے، اسی طرح کسی منفی تبصرے کے بغیر قبلتہم کے الفاظ سے مسجد اقصیٰ کے ساتھ یہود کی قلبی وابستگی کی کیفیت کو بھی بیان کرتا ہے۔ حق تولیت کی منسوخی کے معرض بیان میں اس اسلوب کی ناموزونیت کسی صاحب ذوق سے مخفی نہیں۔

علاوہ ازیں مدنی زندگی کے عین آغاز میں، جبکہ ریاست مدینہ کے استحکام کے لیے یہود کے داخلی تعاون کی اہمیت سیاسی لحاظ سے ناقابل انکار تھی، ایک ایسا اعلان کرنے میں کیا حکمت تھی جس کی اس وقت نہ عملاً کوئی اہمیت تھی اور نہ اس کے رو بہ عمل لائے جانے کا کوئی فوری امکان؟ یہود جیسی کینہ پرور قوم کے ساتھ ایک سنگین نوعیت کی مذہبی بحث چھیڑ دینے کا اس نازک موقع پر آخر کیا فائدہ تھا؟

واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا اسے 'یہود کا قبلہ' تسلیم کرتے ہوئے شراکت کے اصول پر رخ تھا نہ کہ تنسیخ کے اصول پر۔ اپنے پس منظر، جزئیات اور قرآن کے اسلوب بیان کے لحاظ سے یہ واقعہ اس سے ابا کرتا ہے کہ اس سے یہود کے حق تولیت کی منسوخی کا حکم تو درکنار، کوئی اشارہ بھی استنباط کیا جائے۔ ہم، فی الواقع، نہیں سمجھ سکے کہ اس پس منظر کے ساتھ مسجد اقصیٰ کو عارضی طور پر مسلمانوں کا قبلہ مقرر کرنے کے اس حکم کو دلالت کی کون سی قسم کے تحت مستقل تولیت کا پروانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

واقعہ اسرا اور تحویل قبلہ کے واقعات سے استدلال کے مذکورہ انداز اصلاً علمی نوعیت کے ہیں اور ان کی کم مائیگی بالکل واضح ہے۔ ان کے علاوہ ایک اور انداز استدلال بھی موجود ہے جسے صحافتی، سیاسی یا جذباتی میں سے کوئی بھی عنوان دیا جا سکتا ہے اور جسے میڈیا میں اور عالمی فورموں پر اس وقت مسلمانوں کے بنیادی استدلال کی حیثیت حاصل ہے۔ اس طریق استدلال میں یہود کے حق تولیت کے برقرار رہنے یا منسوخ ہو جانے کا سوال ہی سرے سے گول کر کے بات کا آغاز یہاں سے کیا جاتا ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر معراج کے موقع پر مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے تھے اور مسلمانوں نے ایک مخصوص عرصے تک اس کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کی تھیں، اس لیے اس مسجد پر مسلمانوں ہی کا حق ہے اور دوسرا کوئی اس میں شرکت کا دعوے دار نہیں ہو سکتا۔

اس سلسلے میں ہماری گزارش یہ ہے کہ واقعہ اسرا اور تحویل قبلہ کے واقعات یقیناًمسجد اقصیٰ کے ساتھ مسلمانوں کی اعتقادی اور مذہبی وابستگی کے اسباب میں سے اہم سبب ہیں لیکن ان کی یہ تعبیر کہ اب اس مقام پر صرف اور صرف مسلمان حق رکھتے ہیں اور یہود کے تمام اعتقادات اور جذبات کی کوئی وقعت نہیں رہی، عقلی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے ایک نہایت بودا موقف ہے۔ ۱۹۳۰ ء میں برطانوی شاہی کمیشن نے دیوار گریہ کے حوالے سے مسلم موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:

''کمیشن مسلم فریق کا یہ موقف قبول کرنے کے لیے تیار ہے کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار ہو کر یہاں آئے تھے، اس لیے پوری مغربی دیوار مسلمانوں کے لیے مقدس ہے لیکن کمیشن کی رائے میں اس بات سے اس حقیقت کی نفی نہیں ہو جاتی کہ یہودیوں کے لیے بھی اس دیوار کا تقدس برقرار رہے۔ اگر پیغمبر کی تشریف آوری کی قابل احترام یاد (یہ الگ بات ہے کہ ان کے براق کو یہودیوں کے گریہ وزاری کے مقام سے ایک مخصوص فاصلے پر باندھا گیا تھا) پوری کی پوری مغربی دیوار کو مسلمانوں کے لیے مقدس بنا سکتی ہے تو اسی اصول پر اس تعظیم کو بھی احترام کی نظر سے کیوں نہ دیکھا جائے جس کا اظہار اس سے بھی کئی صدیاں پہلے سے یہودی اس دیوار کے متعلق کرتے چلے آ رہے ہیں جو ان کے اعتقاد کے مطابق اس قدیم ہیکل کی واحد باقی ماندہ یادگار ہے جس کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی موجودگی سے معمور ہے؟''

یہ تبصرہ واقعہ اسرا اور قبلہ ثانی کی مذکورہ تعبیر پر بھی بعینہ صادق آتا ہے۔ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد اقصیٰ میں تشریف لانے اور مسلمانوں کے کچھ عرصہ تک اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے مسلمان اس کی تولیت کے حق دار بن سکتے ہیں تو آخر یہود اس بنیاد پر کیوں یہ حق نہیں رکھتے کہ اس مقام کو تین ہزار سال سے ان کے قبلے کی حیثیت حاصل ہے، اس کا حج ان کے مذہبی فرائض کا حصہ ہے، اور ان کے سینکڑوں انبیا اور کاہن صدیوں تک اس میں تعلیم وتبلیغ کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں؟

۳۔ فتح بیت المقدس کی بشارت

سید سلیمان ندویرحمہ اللہ کے مذکورہ اقتباس میں فتح بیت المقدس کی بشارت نبوی کو بھی اس ضمن میں دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خلط مبحث کی ایک افسوس ناک مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جس چیز کی بشارت دی ، وہ یہ تھی کہ اہل کتاب کے سیاسی طور پر مغلوب ہونے کے نتیجے میں بیت المقدس کا شہر بھی مفتوح ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آجائے گا۔ اس کا مسجد اقصیٰ کی تولیت کے معاملے سے آخر کیا تعلق ہے؟

اگر اس فقہی ضابطے کا حوالہ دیاجائے کہ کسی شہر کے مفتوح ہونے کی صورت میں وہاں کی عبادت گاہوں پر تولیت کا حق بھی مفتوحین سے چھن جاتا ہے تو ہم عرض کریں گے کہ فقہا کی تصریحات کے مطابق یہ ضابطہ بزور قوت مفتوح ہونے والے علاقوں کے لیے ہے، جبکہ بیت المقدس صلحاً مفتوح ہوا تھا۔نیز اگر بیت المقدس پر اس ضابطہ کا اطلاق کیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہاں کی ساری عبادت گاہوں کو اس کے دائرے میں آنا چاہیے تو پھر سیدنا عمرؓ نے معاہدۂ بیت المقدس میں یہاں کی عبادت گاہوں پر اہل مذہب کے تولیت وتصرف کے حق کو کس اصول کے تحت تسلیم کیا؟ اور اگر بیت المقدس کے مفتوح ہونے کے بعد اہل کتاب کی دیگر عبادت گاہوں پر ان کا حق تولیت باقی رہ سکتا ہے تو مسجد اقصیٰ پر، جو کہ ان کا قبلہ بھی ہے، کیوں نہیں رہ سکتا؟ اگر یہ کہا جائے کہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ دیگر عبادت گاہوں سے مختلف ہے تو سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت میں اس کا کہاں ذکر ہے اور اس تفریق کی شرعی بنیاد کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سیاسی طور پر مغلوب ہونا ایک الگ بات ہے اور عبادت گاہ کے حق تولیت سے معزول ہونا ایک بالکل دوسری بات۔ دونوں کو کسی بھی طرح سے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

۴۔ اہل کتاب کے ہاں پیش گوئیاں

مولانا قاری محمد طیب نے اس سلسلے میں نصاریٰ کی کتابوں میں موجودچند مزعومہ پیش گوئیوں کو بھی دلیل میں پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

''اسلام سے پہلے کے نصاریٰ بھی بیت المقدس کو اسلام کا حق سمجھے ہوئے تھے۔ ... کتب مقدسہ کی اس خبر کے مطابق جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فتح بیت المقدس کے لیے شام پہنچے تو انہیں دیکھ کر اس کے نصرانی متولیوں نے ان تمام علامات کی تصدیق کی جو کتاب مقدس میں وہ حضرت عمرؓ کے بارے میں پڑھ چکے تھے اور بلا لڑے بھڑے بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا جو بیت المقدس کے حق اسلام ہونے کی نمایاں شہادت ہے۔'' (مقامات مقدسہ اور اسلام کا اجتماعی نظام، ۶۵۰)

اگر ''بیت المقدس'' سے مولانا علیہ الرحمۃ کی مراد یروشلم کا شہر ہے تو وہ ہماری بحث کے دائرے سے خارج ہے، البتہ اگر شہر کی تولیت کے ضمن میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق بھی داخل سمجھا جا رہا ہے تو گزشتہ سطور میں کی گئی بحث کی روشنی میں یہ بات درست نہیں۔

اور اگر ''بیت المقدس'' سے ان کی مراد براہ راست مسجد اقصیٰ ہے تو ان کا یہ استدلال نہ تحقیقی لحاظ سے کوئی وزن رکھتا ہے اور نہ الزامی لحاظ سے۔ الزامی لحاظ سے اس لیے کہ الزام کی بنیاد ظاہر ہے کہ ایسے مآخذ پر ہونی چاہیے جنہیں خود اہل کتاب کے نزدیک استناد اور اعتبار کا درجہ حاصل ہو، نہ کہ مسلم مورخین کی نقل کردہ تاریخی روایات پر۔ اور تحقیقی لحاظ سے اس لیے کہ جب تک قرآن وسنت کی تصریحات سے مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق مسلمانوں کے لیے ثابت نہ ہوجائے، مذکورہ تاریخی پیش گوئیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہو سکتی۔ گویا اصل مسئلہ اس دعوے کے حق میں قرآن وسنت سے ثبوت فراہم کرنا ہے۔ اس کے بغیر اس استدلال کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے اقدامات کے لیے شرعی جواز قرآن وسنت سے نہیں بلکہ یہود ونصاریٰ کے ہاں موجود پیش گوئیوں سے اخذ کرتے ہیں۔

مسلمانوں کے حق تولیت کا واقعاتی تسلسل

سطور بالا میں ہم اس نکتے پر سیرحاصل گفتگو کر چکے ہیں کہ اسلامی شریعت میں نہ مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق تولیت کو منسوخ کیا گیا ہے اور نہ اس کے کسی حکم کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان اس کی تولیت کی ذمہ داری لازماً اٹھائیں۔ اس حوالے سے جو استدلال پیش کیا گیا ہے، وہ علمی لحاظ سے بے حد کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض جید اہل علم تولیت کے اس حق کو محض حالات وواقعات کا نتیجہ تسلیم کرتے اور واقعاتی حقائق ہی کو مسلمانوں کے حق تولیت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیرحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''ہیکل سلیمانی کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ اسے ۷۰ء میں بالکل مسمار کر دیا گیا تھا اور حضرت عمر کے زمانے میں جب بیت المقدس فتح ہوا، اس وقت یہاں یہودیوں کا کوئی معبد نہ تھا بلکہ کھنڈر پڑے ہوئے تھے اس لیے مسجد اقصیٰ اور قبہ صخرہ کی تعمیر کے بارے میں کوئی یہودی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ ان کے کسی معبد کو توڑ کر مسلمانوں نے یہ مساجد بنائی تھیں۔ '' (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۶۹ء)

حکیم الامت علامہ محمد اقبالرحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''صدیاں گزر گئیں کہ ایک معبد تعمیر ہوا تھا جسے ہیکل سلیمانی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ معبد مسلمانوں کے یروشلم فتح کرنے سے بہت پہلے برباد ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا ذکر حضرت عمر فاروقؓ سے فرمایا تو انہیں ہیکل یا مسجد اقصیٰ کے صحیح موقع ومحل سے بھی مطلع کر دیا۔ فتح یروشلم کے بعد حضرت عمرؓ بہ نفس نفیس یروشلم تشریف لے گئے تو انہوں نے مسمار شدہ ہیکل کا محل وقوع دریافت فرمایا اور وہ جگہ ڈھونڈ لی۔ اس وقت اس جگہ گھوڑوں کی لید جمع تھی جسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا۔ مسلمانوں نے جب اپنے خلیفہ کو ایسا کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی جگہ صاف کرنی شروع کر دی اور یہ میدان پاک ہو گیا۔ عین اسی جگہ مسلمانوں نے ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی جس کا نام مسجد اقصیٰ ہے۔ یہود ونصاریٰ کی تاریخ میں تو یہ کہیں مذکور نہیں کہ موجودہ مسجد اقصیٰ اسی جگہ پر واقع ہے جہاں ہیکل سلیمانی واقع تھا۔ اس تشخیص کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اس کی زیارت کے لیے اس وقت آنا شروع کیا جب یہ مشخص ہو چکی تھی۔'' (انقلاب، ۱۰ ستمبر ۱۹۲۹ء بحوالہ المعارف، اقبال نمبر، ستمبر اکتوبر ۱۹۷۷ء، ۸۰)

اس استدلال کو مکمل انداز میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ مسلمانوں نے اس مقام کو یہودیوں سے چھین کر یا ہیکل کو گرا کر یہاں مسجد اقصیٰ کو تعمیر نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس عبادت گاہ کو اس وقت تعمیر اور آباد کیا جب یہ بربادی، ویرانی اور خستہ حالی کا شکار تھی، نیز گزشتہ تیرہ صدیوں سے مسلمان اس کی تولیت کے امور کے ذمہ دار چلے آ رہے ہیں اور اقوام متحدہ نے بھی اسی بنیاد پر ان کے اس حق کو قانونی اور جائز تسلیم کیا ہے، اس لیے اب یہود کے اس پر کسی قسم کا حق جتانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ہم اس بحث کے آغاز میں یہ عرض کر چکے ہیں کہ قانونی لحاظ سے اس استدلال کے درست ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن ہمیں اس بات کو ماننے میں شدید تردد ہے کہ یہ موقف اس اعلیٰ اخلاقی معیار کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے جس کی تعلیم اہل کتاب اور ان کی عبادت گاہوں کے متعلق اسلام نے دی ہے۔

آئیے، پہلے اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں:

عبادت گاہوں کے متعلق اسلام کا رویہ

قرآن مجید کے نزدیک دین کا اصل الاصول خدا کی یاد اور اس کی عبادت ہے اس لیے وہ اعتقادات کے باہمی امتیاز، طریقہ ہائے عبادت کے اختلاف اور احکام وشرائع کے فرق کے باوجود اہل کتاب کی عبادت گاہوں کو اللہ کی یاد کے مراکز تسلیم کرتا، انہیں مساجد کے ساتھ یکساں طور پر قابل احترام قرار دیتا اور ان کی حرمت وتقدس کی حفاظت کا حکم دیتا ہے:

وَلَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا.(الحج۲۲: ۴۰)

''اور اگر اللہ نے (دنیا میں) ایک گروہ کے ظلم وعدوان کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے دفع کرنے کا قانون نہ بنایا ہوتا تو راہب خانوں، کلیساؤں، گرجوں اور مسجدوں جیسے مقامات، جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے، گرا دیے جاتے۔''

خدا کی عبادت میں اشتراک کے اس تصور سے آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے مابین جو باہمی رویہ پیدا ہوتا ہے، وہ ظاہر ہے کہ رواداری، مسامحت اور احترام کا رویہ ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ بوقت ضرورت مسلمانوں کو اہل کتاب کی عبادت گاہوں میں اور اہل کتاب کو مسلمانوں کی مساجد میں عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ چنانچہ صحابہ میں سے حضرت عمر، حضرت عبد اللہ ابن عباس، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور تابعین میں سے ابراہیم نخعی، اوزاعی، سعید بن عبد العزیز، حسن بصری، عمر بن عبد العزیز، شعبی، عطا اور ابن سیرین رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر اہل علم سے کلیساؤں میں نماز پڑھنے کی اجازت اور بوقت ضرورت اس پر عمل کرنا منقول ہے۔۴۳؂

دوسری طرف ۹ ہجری میں جب نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انہیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انہوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روکنا چاہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں نماز پڑھنے دو چنانچہ انہوں نے مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔۴۴؂

عبادت گاہوں کے تقدس واحترام کی اسی تصور کے پیش نظر قرآن مجید نے مذہبی اختلافات کی بنیاد پر لوگوں کو اللہ کی عبادت سے روکنے یا اس کی عبادت کے لیے قائم کیے گئے مراکز پر تعدی کرنے کو ایک سنگین ترین اور ناقابل معافی جرم ہے۔ یہود ونصاریٰ کے مابین اعتقادات اور قبلے کی سمت میں اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو عبادت سے روکنے اور عبادت گاہوں پر تعدی کے واقعات ان کی پوری تاریخ میں رونما ہوتے رہے ہیں۔ قرآن مجید نے اس طرز عمل پر نہایت سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے فرمایا:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِی خَرَابِھَاط اُولٰٓءِکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَآئِفِیْنَ لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُق فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ.(البقرہ۲: ۱۱۴، ۱۱۵)

''اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کرنے میں رکاوٹ ڈالے اور مسجدوں کو ویران کرنے کی کوشش کرے؟ ان کا حق تو یہی تھا کہ وہ ان مسجدوں میں داخل ہوں تو اللہ کے خوف وخشیت ہی کی حالت میں داخل ہوں۔ ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سو تم جس طرف بھی رخ کرو، اللہ کی ذات اسی طرف ہے۔ بے شک اللہ بہت وسعت دینے والا علم رکھنے والا ہے۔''

عہد رسالت میں مشرکین مکہ نے متعدد مواقع پر مسلمانوں کو مسجد حرام میں جانے اور وہاں عبادت کرنے سے روک دیا جس کی بنا پر خدشہ تھا کہ مسلمان بھی موقع ملنے پر ان کے قافلوں اور عازمین حج کو روکنے لگیں گے، چنانچہ قرآن مجید نے بیت اللہ کے طواف وزیارت کا قصد کرنے والوں اور ان کے قربانی کے جانوروں سے کسی بھی قسم کا تعرض کرنے پر پابندی عائد کر دی :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ وَلَا الشَّھْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْھَدْیَ وَلَا الْقَلَآءِدَ وَلَآ اآمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رِضْوَانًا وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ.(المائدہ ۵: ۲)

''اے ایمان والو، اللہ کے شعائر اور حرام مہینوں اور قربانی کے جانوروں اور ان کے پٹوں اور بیت الحرام کا قصد کرنے والوں کی بے حرمتی نہ کرو جو اللہ کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ اور جب تم احرام سے نکل آؤ تو شکار کر سکتے ہو۔ اور اگر کسی گروہ نے تمہیں مسجد حرام سے روکا ہے تو ان کے ساتھ دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم بھی ان کے ساتھ زیادتی کرو۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تو ایک دوسرے کی مدد کرو لیکن گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ نہایت سخت سزا دینے والا ہے۔''

اسی ضمن میں یہ ضابطہ بھی اسلامی تعلیمات کا ایک ناقابل تبدیل حصہ ہے کہ کسی مخصوص عبادت گاہ کی تولیت اور اس کے امور میں تصرف اور فیصلے کا حق اسی مذہب کے متبعین کو حاصل ہے جنہوں نے اس کو قائم کیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود مدینہ کے ساتھ میثاق میں 'للیہود دینہم وللمسلمین دینہم' کی شق شامل کر کے ان کے تمام مذہبی حقوق کے احترام وحفاظت کی پابندی قبول کی۔ اسی طرح نجران کے مسیحیوں ساتھ معاہدے میں یہ شق شامل تھی کہ:

ولنجران وحاشیتہا ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ اللّٰہ علی دماۂم واموالہم وملتہم وبیعہم ورھبانیتہم واساقفتہم وشاہدہم وغائبہم وکل ما تحت ایدیہم من قلیل او کثیر وعلی ان لا یغیروا اسقفا من سقیفاہ ولا واقہا من وقیہاہ ولا راہبا من رھبانیتہ.(الاموال، ابو عبید، ص ۱۱۸۔ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ۴/ ۱۰۸۔ سنن البیہقی ۹/ ۲۹۲)

''بنو نجران اور ان کے تابعین کی جان ومال، دین اور عبادت گاہوں ، راہبوں اور پادریوں کو، غائب اور موجود سب کو اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ حاصل ہے۔ ان کے پاس موجود ہر تھوڑی یا زیادہ چیز کی حفاظت کی بھی ضمانت دی جاتی ہے، اور اس بات کی بھی کہ ان کے کسی پادری یا گرجے کے منتظم یا راہب کو اس کے منصب سے ہٹایا نہیں جائے گا۔''

سیدنا ابوبکرؓ نے جیش اسامہ کو روانگی کے وقت جو ہدایات دیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ:

ولا تہدموا بیعۃ.(ابن عساکر، تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ۱/ ۱۳۴)

''اور تم کسی گرجے کو نہ گرانا۔''

وسوف تمرون باقوام قد فرغوا انفسہم فی الصوامع فدعوہم وما فرغوا انفسہم لہ. (ایضاً، ۱/ ۱۱۸، ۱۱۹)

''اور تمہارا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو خانقاہوں میں بند کر رکھا ہو۔ تم ان کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دینا۔''

سیدنا عمر نے اہل بیت المقدس کو جو تحریری امان دی، اس کے الفاظ یہ ہیں:

ھذا ما اعطی عبد اللّٰہ عمر امیر المومنین اہل ایلیاء من الامان، اعطاہم امانا لانفسہم واموالہم ولکنائسہم وصلبانہم وسقیمہا وبریۂا وسائر ملتہا، انہ لا تسکن کنائسہم ولا تہدم ولا ینتقض منہا ولا من حیزہا ولا من صلیبہم ومن احب من اھل ایلیاء ان یسیر بنفسہ ومالہ مع الروم ویخلی بیعہم وصلبہم فانہم آمنون علی انفسہم وعلی بیعہم وصلبہم حتی یبلغوا مامنہم.(تاریخ طبری، ۳/ ۶۰۹)

''یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے امیر المومنین عمر نے اہل ایلیا کو دی۔ یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ نہ ان کے گرجاؤں میں سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے، نہ ان کو یا ان کے احاطے کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا۔ ایلیا کے باسیوں میں سے جو یہ چاہیں کہ اپنی جان ومال لے کر رومیوں کے ساتھ چلے جائیں اور اپنے گرجے اور صلیبیں چھوڑ جائیں تو ان کی جانوں، گرجوں اور صلیبوں کو امان حاصل ہے یہاں تک کہ وہ کسی پرامن جگہ پر پہنچ جائیں۔''

عہد صحابہ کی فتوحات میں اہل کتاب کے ساتھ کیے جانے والے کم وبیش تمام معاہدوں میں ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی ضمانت کا ذکر ملتا ہے۔ ۴۵؂

________

۴۱؂ تفسیر ابن کثیر ۳/ ۳۴۔ البدایہ والنہایہ ۳/ ۱۰۹، ۱۱۱۔

۴۲؂ رازی، مفاتیح الغیب،۴/ ۱۱۵۔ ابن العربی، احکام القرآن، ۱/ ۶۰۔

۴۳؂ بخاری، باب الصلاۃ فی البیعۃ۔ مصنف ابن ابی شیبہ ۲/ ۷۹۔ نیل الاوطار، ۲/ ۱۶۲۔ المجموع شرح المہذب ۳/ ۱۶۴۔ فقہ السنۃ، ۱/ ۲۱۵۔

۴۴؂ السیرۃ النبویہ، ابن ہشام، ۴/ ۱۰۸۔ سیرت النبی، شبلی نعمانی، ۲/ ۲۴۔

۴۵؂ مثلاً دیکھیے: معاہدۂ دمشق (ابن عساکر، تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ۱/ ۱۴۹۔ الاموال لابی عبید ص ۲۰۷) معاہدۂ طفلیس (الاموال ص ۲۰۸، ۲۰۹) معاہدۂ حلب (تاریخ ابن خلدون اردو ۱/ ۳۳۴) معاہدۂ لد وفلسطین (تاریخ طبری ۳/ ۶۰۹) وغیرہ۔

____________