مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ (۲) (2/2)


چنانچہ اسلام کی انہی تعلیمات وہدایات کی روشنی میں اسلامی تاریخ کے صدر اول میں غیر مسلموں کے فتح ہونے والے علاقوں میں دیگر مذاہب کی پہلے سے موجود عبادت گاہوں کو علیٰ حالہا قائم رکھنے اور ان کے مذہبی معاملات سے تعرض نہ کرنے کی شاندار روایت قائم کی گئی۔ ابن قدامہ ''المغنی'' میں لکھتے ہیں:

''عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ: جس شہر کے بانی عجم ہوں اور اللہ تعالیٰ عربوں کو اس پر فتح عطا کر دے اور وہ اس میں داخل ہو جائیں تو اہل عجم کے معاملات حسب سابق برقرار رکھے جائیں گے۔ نیز صحابہ کرام نے بہت سے شہروں پر بزور قوت فتح حاصل کی لیکن انہوں نے اہل کتاب کی عبادت گاہوں میں سے کسی کو بھی منہدم نہیں کیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ان علاقوں میں یہود اور نصاریٰ کی عبادت گاہیں موجود ہیں اور معلوم ہے کہ یہ اسلامی فتوحات کے بعد نہیں بنائی گئیں چنانچہ لازماً یہ پہلے سے موجود تھیں اور ان کو برقرار رکھا گیا۔ عمر بن عبد العزیزرحمہ اللہ نے اپنے عمال کو لکھا تھا کہ وہ یہود ونصاریٰ یا مجوس میں سے کسی کی عبادت گاہ کو منہدم نہ کریں۔ پھر یہ کہ اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے کیونکہ یہ عبادت گاہیں مسلمانوں کے علاقوں میں موجود ہیں اور کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔'' (المغنی، ۹/ ۲۸۴)

عہد صحابہ میں اس روایت کی پاس داری کا عالم یہ رہا کہ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر جب سیدنا عمر وہاں تشریف لے گئے تو مسیحی بطریق صفرنیوس نے انہیں مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کرائی۔ اس دوران میں جب وہ کلیسائے قیامت میں گئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ بطریق نے سیدنا عمر سے گزارش کی کہ وہ وہیں نماز ادا کر لیں لیکن سیدنا عمر نے فرمایا کہ اگر آج انہوں نے یہاں نماز ادا کی تو بعد میں مسلمان بھی ان کے اس عمل کی پیروی میں یہاں نماز ادا کریں گے اور اس سے مسیحیوں کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

اسی طرح جب کلیساے قسطنطین کے دروازے پر مسیحی میزبانوں نے سیدنا عمر کے نماز پڑھنے کے لیے بساط بچھائی تو آپ نے پھر معذرت فرما دی۔

بیت لحم میں کلیسائے مہد کی زیارت کے موقع پر نماز کا وقت آیا تو سیدنا عمر نے وہاں نماز ادا کر لی لیکن پھر اندیشہ ہوا کہ ان کا یہ عمل بعد میں مسیحیوں کے لیے دقت کا باعث نہ بن جائے چنانچہ ایک خاص عہد لکھ کر بطریق کو دے دیا جس کی رو سے یہ کلیسا مسیحیوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا اور پابندی لگا دی گئی کہ ایک وقت میں صرف ایک مسلمان اس میں داخل ہو سکے گا، اس سے زیادہ نہیں۔۴۶؂

اسلامی سلطنت کے عین عروج کے زمانے میں امیر المومنین سیدنا معاویہ نے یہ چاہا کہ دمشق میں کنیسہ یوحنا کے نصف حصے کو، جو عیسائیوں کے زیر تصرف تھا، ان کی رضامندی سے مسجد میں شامل کر لیں لیکن عیسائیوں کے اس بات سے اتفاق نہ کرنے کی وجہ سے وہ اس خیال کو عملی جامہ نہ پہنا سکے اور انہیں یہ ارادہ ترک کر دینا پڑا۔۴۷؂

اس تفصیل سے اہل کتاب اور ان کی عبادت گاہوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات کے رخ اور مزاج کا پوری طرح اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کو پیش نظر رکھیے تو ہر شخص یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ مسجد اقصیٰ کے معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لیے اصل معیار کی حیثیت محض قانونی اور واقعاتی استحقاق کو نہیں بلکہ ان اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو حاصل ہونی چاہیے جن کی رعایت کی تلقین اسلام نے اہل کتاب کے حوالے سے کی ہے۔

اخلاقی لحاظ سے اس معاملے کی نوعیت کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حسب ذیل حقائق پیش نظر رہیں:

ایک یہ کہ مسجد اقصیٰ کی حیثیت یہود کے نزدیک کسی عام عبادت گاہ کی نہیں بلکہ وہی ہے جو مسلمانوں کے نزدیک مسجد حرام اور مسجد نبوی کی ہے۔ مسلمان، اپنی عام عبادت گاہوں کے برخلاف، ان دونوں مساجد کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اگر خدا نخواستہ کبھی وہ ان کے ہاتھ سے چھن جائیں اور کسی دوسرے مذہب کے پیروکار اسے اپنی مذہبی یا دنیاوی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیں تو ان پر سے مسلمانوں کا حق ختم ہو جائے گا۔ اپنے قبلے کے بارے میں یہی احساسات وجذبات دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والوں میں پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے حوالے سے مانا جانے والا یہ اصول، عدل وانصاف کی رو سے، دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے لیے بھی تسلیم کیا جانا چاہیے ۔

دوسرے یہ کہ ہیکل سلیمانی کو یہود نے اپنے اختیار اور ارادے سے ویران نہیں کیا بلکہ اس کی بربادی اور حرمت کی پامالی ایک حملہ آور بادشاہ کے ہاتھوں ہوئی جس نے جبراً یہود کو یہاں سے بے دخل کر کے اس عبادت گاہ کے ساتھ ان کے تعلق کو منقطع کر دیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان پر یہ ذلت ورسوائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پرمسلط ہوئی، لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ یہ چیز تکوینی امور میں سے ہے جو اپنی نوعیت اور حیثیت کے لحاظ سے ہمارے لیے قابل اتباع نہیں ہیں ، چنانچہ اس دائرے کے امور کو نہ کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے ماخذ بنایا جا سکتا ہے اور نہ کسی طرز عمل کے لیے دلیل۔

تیسرے یہ کہ اس عبادت گاہ کے ساتھ قوم یہود کی قلبی وابستگی اور اس کی بازیابی کے لیے ان کی تمناؤں اور امیدوں کی تصویر خود مولانا مودودیرحمہ اللہ نے یوں پیش کی ہے :

''دو ہزار برس سے دنیا بھر کے یہودی ہفتے میں چار مرتبہ یہ دعائیں مانگتے رہے ہیں کہ بیت المقدس پھر ہمارے ہاتھ آئے اور ہم ہیکل سلیمانی کو پھر تعمیر کریں۔ ہر یہودی گھر میں مذہبی تقریبات کے موقع پر اس تاریخ کا پورا ڈراما کھیلا جاتا رہا ہے کہ ہم مصر سے کس طرح نکلے اور فلسطین میں کس طرح سے آباد ہوئے اور کیسے بابل والے ہم کو لے گئے اور ہم کس طرح سے فلسطین سے نکالے گئے اور تتر بتر ہوئے۔ اس طرح یہودیوں کے بچے بچے کے دماغ میں یہ بات ۲۰ صدیوں سے بٹھائی جا رہی ہے کہ فلسطین تمہارا ہے اور تمہیں واپس ملنا ہے اور تمہارا مقصد زندگی یہ ہے کہ تم بیت المقدس میں ہیکل سیلمانی کو پھر تعمیر کرو۔ بارہویں صدی عیسوی کے مشہور یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون (Maimonides) نے اپنی کتاب شریعت یہود (The Code of Jewish Law) میں صاف صاف لکھا ہے کہ ہر یہودی نسل کا یہ فرض ہے کہ وہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو ازسرنو تعمیر کرے۔ مشہور فری میسن تحریک (Freemason Movement) بھی، جس کے متعلق ہمارے ملک کے اخبارات میں قریب قریب سارے ہی حقائق اب شائع ہو چکے ہیں، اصلاً ایک یہودی تحریک ہے اور اس میں بھی ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کو مقصود قرار دیا گیا ہے بلکہ پوری فری میسن تحریک کا مرکزی تصور یہی ہے اور تمام فری میسن لاجوں میں اس کا باقاعدہ ڈراما ہوتا ہے کہ کس طرح سے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ میں آگ لگنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔ صدیوں سے یہودی قوم کی زندگی کا نصب العین یہی رہا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کو تعمیر کرے اور اب بیت المقدس پر ان کا قبضہ ہو جانے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے اس نصب العین کو پورا کرنے سے باز رہ جائیں۔'' (ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۶۹ء)

چوتھے یہ کہ یہودیوں کی بہت سی عباداتی رسوم، بالخصوص قربانیاں، ایسی ہیں جو ان کے مذہبی قانون کے مطابق ہیکل کے ساتھ مخصوص ہیں اور اس کے بغیر ان کی ادائیگی فقہی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ گویا مسجد اقصیٰ سے ان کو روکنا محض ایک عبادت گاہ سے محروم رکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے اپنی مذہبی رسوم کو بجا لانے کے حق کی نفی کو بھی مستلزم ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جس مرکز عبادت سے اہل مذہب کو اس کی شدید ترین بے حرمتی کرنے کے بعد بے دخل کر دیا گیا ہو، جن کے مذہبی قانون میں اس کی تولیت کی ذمہ داری کسی دوسرے گروہ کے سپرد کرنے کی ممانعت کی گئی ہو، اور اس کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے ان کے مذہبی جذبات کا عالم یہ ہو جو اوپر کے اقتباس میں بیان ہوا ہے، اس کے بارے میں اس استدلال کی عقل واخلاق اور دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کیا حیثیت ہو گی کہ چونکہ ہم نے اہل مذہب کی غیر موجودگی میں اس مقام پر عمارت تعمیر کر لی ہے اور صدیوں سے اس میں عبادت انجام دیتے چلے آ رہے ہیں، اس لیے اس کے حوالے سے ان کے تمام حقوق بیک قلم منسوخ ہو گئے ہیں؟ کیا ایک کھوئے ہوئے مرکز عبادت میں ازسرنو جمع ہونے اور اس میں سلسلہ عبادت کے احیا کا جذبہ، فی الواقع، ایسا ہی قابل نفرت ہے کہ اسے اس طرح کی بے معنی سخن سازیوں سے بے وقعت کرنے کی کوشش کی جائے؟ کیا اگر، خاکم بدہن، یہود کے بجائے یہ صورت حال مسلمانوں کو درپیش ہوتی تو بھی وہ اس قسم کے استدلالات سے مطمئن ہو کراپنے قبلے سے دست بردار ہو جاتے؟

مذہبی اخلاقیات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ عبادت گاہوں کے بارے میں فیصلے کے لیے جس چیز کو سب سے بڑھ کر ملحوظ رکھا جانا چاہیے، وہ خود اہل مذہب کے اعتقادات اور ان کا مذہبی قانون ہے۔ اس اصول کی روشنی میں مذکورہ استدلال کی کم مائیگی بالکل واضح ہے۔ ۴۸؂

عالم عرب کا موقف — چند علمی و اخلاقی سوالات

مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے مذکورہ دونوں نقطہ ہائے نظر کی کمزوری ہم واضح کر چکے ہیں، تاہم اختلاف کے باوجود یہ ماننا چاہیے کہ ان کی غلطی اصلاً علمی ہے اور غلط فہمی کے اسباب بھی بڑی حد تک قابل فہم ہیں۔ لیکن بے حد افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس باب میں امت مسلمہ کا انحراف محض علمی غلط فہمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے رویے کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے علمی واخلاقی بد دیانتی اور مذہبی استحصال کا مظہر قرار دیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ذیل میں ہم اس کی کچھ تفصیل پیش کر رہے ہیں:

۱۔ ہیکل سلیمانی کے وجود سے انکار

اس وقت امت مسلمہ کے نمائندگی کرنے والے مذہبی وسیاسی راہنماؤں، صحافیوں اور ماہرین تاریخ کی اکثریت سرے سے ہیکل سلیمانی کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک ہیکل کا وجود محض ایک افسانہ ہے جو یہود نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنے کے لیے گھڑ لیا ہے۔ یہ خیال نہ ہو کہ اس خیال کا اظہار سطحی قسم کے غیر معتبر لوگ محض اپنی نجی مجالس میں کر دیتے ہیں۔ نہیں، امر واقعہ یہ ہے کہ اس نقطہ نظر کی وکالت اور ترجمانی کے فرائض مسلم دنیا کے چوٹی کے مذہبی اور سیاسی رہنما اعلیٰ ترین علمی اور ابلاغی سطحوں پر کر رہے ہیں ۔

عالم عرب کے معروف اسکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی فرماتے ہیں:

''اپنے تمام تر ترقی یافتہ سائنسی، تکنیکی اور انجینئرنگ سازوسامان کے ساتھ وہ تیس سال سے تلاش کر رہے ہیں کہ مفروضہ ہیکل سلیمانی کا کوئی نشان ہی مل جائے لیکن وہ اس میں ناکام ہیں۔ اس نام نہاد ہیکل سلیمانی کے وجود کا امکان ہی کہاں ہے؟''(http://www.mkis.org/FatawasResults.asp?Id=2)

فلسطین کے موجودہ مفتی اعظم عکرمہ صبری صاحب نے ۱۷ جنوری ۲۰۰۱ء کو جرمن اخبار ڈائی ویلٹ (Die Welt) کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا:

''ماضی میں اس مقام پر یہودی ہیکل کے وجود کا کوئی معمولی سا بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔ پورے شہر میں کوئی ایک پتھر بھی ایسا نہیں جو یہودی تاریخ پر دلالت کرتا ہو۔ اس کے بالمقابل ہمارا حق بالکل واضح ہے۔ یہ مقام پندرہ صدیوں سے ہمارا ہے۔ حتیٰ کہ جب صلیبیوں نے اسے فتح کیا تو بھی یہ اقصیٰ ہی رہا اور ہم نے جلد ہی اسے واپس لے لیا۔ یہودی تو یہ تک نہیں جانتے کہ ان کے ہیکل کا ٹھیک ٹھیک محل وقوع کیا تھا اس لیے ہم اس مقام پر سطح زمین کے نیچے یا اس کے اوپر ان کا کوئی حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔''

جب ان سے کہا گیا کہ ماہرین آثار قدیمہ تو اس پر متفق ہیں کہ مغربی دیوار فی الحقیقت تباہ شدہ ہیکل ہی کی دیوار ہے تو انہوں نے جواباً فرمایا:

''دنیا کو دھوکا دینا یہودیوں کا خاص فن ہے لیکن وہ ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتے۔ مغربی دیوار کے ایک بھی پتھر کا یہودی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہودیوں کے اس دیوار پر حق جتانے کا مذہبی یا تاریخی طور پر کوئی جواز نہیں۔ لیگ آف نیشنز کی کمیٹی نے ۱۹۳۰ء میں یہودیوں کو یہاں دعا کرنے کی اجازت صرف ان کو مطمئن کرنے کے لیے دی لیکن اس نے یہ ہرگز تسلیم نہیں کیا کہ اس دیوار پر ان کا کوئی حق ہے۔''

انہوں نے مزید فرمایا کہ

''میں نے سنا ہے کہ تمہارا ہیکل نابلس یا غالباً بیت لحم میں تھا۔'' (Makor Rishon, May 22, 1998)

یریحو میں فلسطینی اتھارٹی کے ڈائریکٹر آف اسلامک وقف شیخ اسماعیل جمال فرماتے ہیں:

''اسرائیل کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الاقصیٰ کے نزدیک نہ ان کا کوئی ہیکل ہے اور نہ اس کے کوئی بچے کھچے آثار۔ قرآن مجید کی رو سے بنی اسرائیل بیت لحم کے مغرب میں کسی جگہ مقیم نہ تھے نہ کہ یروشلم میں۔'' (Chicago Jewish Sentinel, May 18, 1995)

فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے ۲۰۰۰ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کے ساتھ مذاکرات کے دوران میں ہیکل سلیمانی کے وجود کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا:

''میں ایک مذہبی آدمی ہوں اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا کہ میرے ذکر میں یہ بات لکھی جائے کہ میں نے اس پہاڑی کے نیچے مفروضہ ہیکل کی موجودگی کو تسلیم کر لیا۔'' (الحیاۃ الجدیدۃ، ۱۲ اگست ۲۰۰۰ء)

رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے ۱۷ ربیع الاول ۱۴۲۴ھ کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق:

''رابطہ کے سیکرٹری جنرل الدکتور عبداللہ بن عبد المحسن الترکی نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ ہیکل سلیمانی کے کھنڈرات کے اوپر قائم ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ تاریخی دستاویزات اسرائیلیوں کے اس دعوے کے بطلان کو ثابت کرتی ہیں جس کا اعلان وہ مسجد کو گرا کر اس کی جگہ ہیکل کی تعمیر کے منصوبوں کی تکمیل کی غرض سے کرتے رہتے ہیں۔''

رابطہ عالم اسلامی کے سرکاری بیانات اور عرب اخبارات وجرائد میں لکھنے والے کم وبیش تمام اصحاب قلم کی تحریروں میں ہیکل سلیمانی کا ذکر کرتے ہوئے بالعموم 'الہیکل المزعوم' (مفروضہ ہیکل) کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ عرب میڈیا کے زیر اثر اب برصغیر کی صحافتی تحریروں میں بھی اس موقف کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، حتیٰ کہ دار العلوم دیوبند جیسے موقر علمی ادارے کے ترجمان ماہنامہ ''دار العلوم'' کے ایک حالیہ شمارے میں بھی اسی موقف کی ترجمانی کی گئی ہے۔

حقائق وواقعات کی رو سے یہ موقف اس قابل نہیں کہ اس علمی وتاریخی بحث میں اس سے تعرض بھی کیا جائے۔ قرآن و سنت کی تصریحات، مسلمہ تاریخی حقائق، یہود ونصاریٰ کی مذہبی روایات، مسلمانوں کے تاریخی لٹریچر اور مسلم محققین کی تصریحات کی روشنی میں نہ اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہے کہ مسجد اقصیٰ دراصل ہیکل سلیمانی ہی ہے اور نہ اس دلیل میں کوئی وزن ہے کہ اثریاتی تحقیق کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کے کوئی آثار دریافت نہیں ہو سکے۔ ہمیں یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ بد قسمتی سے اس حسن ظن کی بھی کوئی گنجائش نہیں کہ مذکورہ موقف کے وکلا شاید حقائق سے بے خبر ہیں یا کوئی غلط فہمی انہیں لاحق ہو گئی ہے۔ خود فلسطین کے مسلم رہنما اسرائیل کے وجود میں آنے اور بیت المقدس پر صہیونی قبضے سے قبل تک ان تاریخی حقائق کو تسلیم کرتے رہے ہیں اور انہیں جھٹلانے کی جسارت انہوں نے کبھی نہیں کی چنانچہ یروشلم پوسٹ کے ۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے شمارے میں یروشلم کی سپریم مسلم کونسل کی ۱۹۳۰ء میں شائع کردہ ایک ٹورسٹ گائیڈ سے چند اقتباسات نقل کیے گئے ہیں جن میں سے دو حسب ذیل ہیں:

''یہ مقام دنیا کے قدیم ترین مقامات میں سے ہے۔ اس کے ہیکل سلیمانی ہونے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اور، جیسا کہ عالمی سطح پر مانا جاتا ہے، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت داؤد نے خدا کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور سوختنی اور امن کی قربانیاں پیش کیں۔''

''سلیمان کے اصطبل'' کے بارے میں اس کتابچہ میں لکھا ہے:

''اس کمرے کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں یقینی طور پر کچھ معلوم نہیں۔ غالباً اس کی تاریخ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے معاصر ہے۔ ... مورخ یوسفس کے مطابق ۷۰ عیسوی میں طیطس کے فتح یروشلم کے وقت یہ موجود تھے اور یہودیوں نے اسے پناہ گاہ کے طور پر ستعمال کیا تھا۔''

۱۹۳۰ء ہی میں برطانوی ہائی کمیشن کے سامنے دیوار گریہ کے حوالے سے مسلم نمائندوں نے جو بیان دیا، اس میں کہا گیا:

''جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم یروشلم میں تشریف لائے تو قدیم ہیکل کے مقام کو، جو کہ پہلے ہی مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز تھا، مسجد حرام کے مقابلے میں مسجد اقصیٰ کا نام دیا گیا۔ اس وقت مکہ کے لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے، چنانچہ یروشلم اور بالخصوص ہیکل کا ایریا ایک مخصوص عرصے کے لیے مسلمانوں کا پہلا قبلہ قرار پائے۔''

اس سے واضح ہے کہ عالم عرب کا یہ کم وبیش اجماعی موقف، جس کو متعدد اکابر علمائے دین ومفتیان شرع متین کی تائید ونصرت بھی حاصل ہے اور جس کو مسلم اور عرب میڈیا تسلسل کے ساتھ دہرا رہا ہے، صاف طور پر کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔

۲۔ مقامات مقدسہ کی شرعی پوزیشن

مسجد اقصیٰ کی فضیلت اور اس کے مقام ومرتبہ کے متعلق قرآن وحدیث میں متعدد بیانات موجود ہیں، جن میں سے بنیادی نوعیت کے نصوص کا ذکر سطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔ لیکن مسجد اقصیٰ اور اس سے متعلق بعض مقامات کو مسلمانوں کے 'مقدس' مقامات ثابت کرنے اور عامۃ المسلمین میں اس حوالے سے جذباتی فضا پیدا کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کی سطح پر ایسے بہت سے تصورات کو بلاتمیز فروغ دیا جا رہا ہے جو علمی لحاظ سے بالکل بے بنیاد ہیں اور اکابر اہل علم نے ان کی واضح طور پر تردید کی ہے۔ ان ضمن میں یہاں چند تصریحات کو نقل کر دینا مناسب ہوگا:

۱۔ عرب دنیا کے اخبارات وجرائد بالالتزام مسجد اقصیٰ کا ذکر ''الحرم الشریف'' اور ''ثالث الحرمین'' کے القاب سے کرتے ہیں۔ ''حرم'' کا لفظ شریعت کی ایک خاص اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے ایسا علاقہ جس کی حرمت وتقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے اندر بعض مخصوص پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ مسجد اقصیٰ کاروئے زمین کی تیسری افضل ترین مسجد ہونا تو قابل اعتماد روایات سے ثابت ہے لیکن اس کے ''حرم'' ہونے کا کوئی ثبوت قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے ۔ امام ابن تیمیہرحمہ اللہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''بیت المقدس میں ایسا کوئی مکان یا مقام نہیں جس کا نام حرم ہو اور نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور مقام ہے جسے حرم کے نام سے موسوم کیا گیا ہو۔ صرف تین مقامات کے متعلق حرم کا لفظ استعمال ہوا ہے:

۱۔ حرم مکہ زادہ اللہ عزا وشرفا۔ اس کے حرم ہونے پر تمام امت مسلمہ کا اتفاق ہے۔

۲۔ حرم نبوی۔ جمہور علما کے نزدیک حرم نبوی عیر پہاڑ سے ثور پہاڑ تک ہے۔ اس کی حد تقریباً برید در برید ہے۔ جمہور علما جیسے امام مالکرحمہ اللہ، امام شافعیرحمہ اللہ اور امام احمدرحمہ اللہ کے نزدیک یہ حرم ہے۔ اس سلسلے میں کئی مشہور حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔

۳۔ وج ، طائف کے علاقے میں ایک وادی کا نام ہے۔ اس کے متعلق ایک حدیث ذکر کی جاتی ہے جو احمدرحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کی ہے لیکن کتب صحاح میں مذکور نہیں اور اکثر علما کے نزدیک یہ حرم نہیں۔ امام احمدرحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے چنانچہ اس حدیث سے کسی نے حجت نہیں پکڑی۔

مذکورہ بالا تینوں مقامات کے ماسوا کوئی جگہ حرم نہیں۔ تمام علماے امت اس مسئلہ میں متفق ہیں کیونکہ حرم وہ ہوتا ہے جس جگہ شکار کرنا یا نباتات کو کاٹنا یا اکھاڑنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو لیکن مذکورہ تینوں مقامات کے سوا اللہ تعالیٰ نے کسی جگہ شکار کرنا یا نباتات کو اکھاڑنا حرام قرار نہیں دیا۔'' (ماہنامہ ترجمان الحدیث، اپریل ۱۹۸۱ء، ص ۲۶)

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

''دنیا میں کوئی حرم نہیں ہے، بیت المقدس نہ کوئی اور، سوائے ان دو حرموں (مکہ اور مدینہ) کے۔ ان کے علاوہ کسی جگہ کو حرم کہنا، جیسا کہ کئی جاہل لوگ حرم القدس اور حرم الخلیل کہتے ہیں، بالکل غلط ہے کیونکہ یہ دونوں اور ان کے علاوہ کوئی اور جگہ حرم نہیں ہے۔ اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اور وہ حرم جس کے حرم ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے، وہ حرم مکہ ہے۔ رہا مدینہ تو جمہور علما کے نزدیک اس کا بھی ایک حرم ہے جیسا کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور احادیث موجود ہیں۔'' (مجموع الفتاویٰ ۲۶/ ۱۱۷)

عبد اللہ بن ہشام انصاری فرماتے ہیں:

''میں نے اس شہر (بیت المقدس) کے رہائشیوں میں سے بڑے بڑے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ ''حرم قدس'' کا لفظ بولتے ہیں۔ وہ اس چیز کو حرام قرار دیتے ہیں جسے اللہ نے حلال کہا ہے اور ایسا کہہ کر وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔'' (تحصیل الانس لزائر القدس بحوالہ ''فضیلت بیت المقدس اور فلسطین وشام'' ص ۴۳)

سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی نے اپنے فتویٰ نمبر ۵۳۸۷ میں لکھا ہے:

''ہمارے علم میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ مسجد اقصیٰ بھی مسجد حرام اور مسجد نبوی کی طرح حرم ہے۔'' (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ ۶/ ۲۲۷ بحوالہ بالا)

۲۔ قبۃ الصخرۃ ہیکل سلیمانی کی چٹان یعنی قربانی کے پتھر کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس پتھر کو یہود کے قبلہ کی حیثیت حاصل ہے لیکن اسلامی روایات میں اس کے لیے کوئی تقدس اور فضیلت ثابت نہیں۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق سیدنا عمر جب مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے تو انہوں نے نومسلم یہودی عالم کعب احبار سے پوچھا کہ ہمیں نماز کے لیے کون سی جگہ منتخب کرنی چاہیے؟ کعب نے کہا کہ اگر آپ صخرہ کے پیچھے نماز پڑھیں تو سارا بیت المقدس آپ کے سامنے ہوگا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح یہود کے قبلے کی تعظیم بھی ہو جائے گی۔ اس پر سیدنا عمر نے یہ کہہ کر ان کی تجویز مسترد کر دی کہ ''تمہارے ذہن پر ابھی تک یہودی اثرات موجود ہیں۔ ''۵۰؂

اس پتھر کی تعظیم کا تصور بعد کے زمانے میں سیاسی اغراض کے تحت باقاعدہ پیدا کیا گیا اور اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس پر ایک نہایت شاندار قبہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ ولید کے اس اقدام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ابن خلکان لکھتے ہیں:

''جب عبد الملک خلیفہ بنا تو اس نے ابن زبیر کی وجہ سے اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا کیونکہ ابن زبیر حج کی غرض سے مکہ مکرمہ آنے والے لوگوں سے اپنے لیے بیعت لیتے تھے۔ جب لوگوں کو حج سے روکا گیا تو انہوں نے بہت شور کیا چنانچہ عبد الملک نے بیت المقدس میں صخرہ کے اوپر عمارت بنا دی اور لوگ عرفہ کے دن یہاں حاضر ہو کر وقوف کی رسم ادا کرنے لگے۔'' (وفیات الاعیان ۳/ ۷۲)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''صخرہ کے پاس حضرت عمر نے نماز پڑھی نہ صحابہ کرام نے۔ نیز خلفاے راشدین کے زمانہ میں اس پر کوئی گنبد نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت معاویہ، یزید اور مروان کے عہد حکومت میں ننگا تھا۔ پھر جب عبد الملک بن مروان نے ملک شام کو فتح کیا اور اس کے اور ابن زبیر کے مابین اختلاف کی خلیج بڑھ گئی تو لوگ حج کر کے حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے۔ یہ بات عبد الملک کو ناگوار گزری۔ اس نے چاہا کہ لوگوں کو ابن زبیر کے پاس جانے سے روکا جائے۔ چنانچہ اس نے صخرہ پر ایک قبہ بنا دیا اور سردی گرمی میں اس پر غلاف دینے کا رواج شروع کیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں بیت المقدس کی زیارت کا شوق پیدا ہو اور ابن زبیر کے پاس جمع ہونے سے ہٹ جائیں۔ صحابہ کرام اور تابعین میں اہل علم اس صخرہ کی تعظیم نہیں کرتے تھے۔'' (ماہنامہ ترجمان الحدیث، اپریل ۱۹۸۱ء، ص ۲۳)

سیاسی اغراض کے تحت کیے جانے والے اس اقدام کو مذہبی استناد عطا کرنے کے لیے رفتہ رفتہ قبۃ الصخرۃ کے تقدس اور فضیلت کے متعلق اوہام وخرافات (Myths) کا ایک مجموعہ وجود میں آ گیا جن کی تردید اکابر اہل علم مسلسل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ عوام الناس میں پھیلے ہوئے ان بے بنیاد اوہام اور ان کے متعلق اہل علم کی آرا کو حافظ محمد اسحق زاہد نے ذیل کے اقتباس میں بہت خوبی کے ساتھ جمع کر دیا ہے:

''یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قبۃ الصخرۃ کی الگ کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اگر کوئی فضیلت ہے تو وہ محض اس کے مسجد اقصیٰ کے اندر واقع ہونے کی وجہ سے ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کے متعلق بے بنیاد باتیں پھیلا رکھی ہیں، مثلاً یہ کہ:

۱۔ اس کے اوپر ایک موتی رات کے وقت سورج کی طرح چمکتا تھا، پھر بخت نصر نے اسے خراب کر دیا تھا۔

۲۔ یہ جنت کے پتھروں میں سے ایک ہے۔

۳۔ زمین کے تمام پانی اسی قبۃ الصخرۃ کے نیچے سے جاری ہوتے ہیں۔

۴۔ یہ قبہ فضا میں لٹکا ہوا ہے، زمین سے جڑا ہوا نہیں۔

۵۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں اور فرشتوں کی انگلیوں کے نشانات ہیں۔

۶۔ یہ اللہ کا زمینی عرش ہے اور خطہ زمین کے عین وسط میں واقع ہے۔

۷۔ اسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے لیے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو یہ بھی اوپر اٹھ گیا تھا، لیکن جبریل علیہ السلام نے اسے ٹھہر جانے کا حکم دیا تو یہ ٹھہر گیا۔

۸۔ قبۃ الصخرۃ کی مسجد اقصیٰ میں وہی فضیلت ہے جو کہ خانہ کعبہ میں جڑے ہوئے حجر اسود کی ہے۔

قبۃ الصخرۃکے بارے میں یہ اور اس طرح کی دیگر خرافات زبان زد عام ہیں، جن قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ صخرہ کے متعلق تمام احادیث کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

وکل حدیث فی الصخرۃ فہو کذب مفتری والقدم الذی فیہا کذب موضوع مما عملتہ ایدی المزورین الذین یروجون لہا لیکثر سواد الزائرین.(المنار المنیف، ۸۷)

''صخرہ کے متعلق تمام احادیث جھوٹی اور من گھڑت ہیں اور اس میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے) قدموں کے جو نشانات بتائے جاتے ہیں، وہ بھی جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگوں کی طرف سے بنائے گئے ہیں، اور وہی انہیں مشہور بھی کرتے ہیں تاکہ زائرین کی تعداد میں اضافہ ہو۔''

اور عبد اللہ بن ہشام انصاری رقم طراز ہیں:

قد بلغنی ان قوما من الجہلاء یجتمعون یوم عرفۃ بالمسجد، وان منہم من یطوف بالصخرۃ، وانہم ینفرون عند غروب الشمس، وکل ذلک ضلال واضغاث احلام.(تحصیل الانس لزائر القدس، ح : ۶۴)

''میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عرفہ کے روز کچھ جاہل لوگ مسجد اقصیٰ میں جمع ہوتے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگ صخرہ کا طواف کرتے ہیں، اور غروب آفتاب کے وقت واپس چلے جاتے ہیں، حالانکہ یہ محض گمراہی اور اڑتے پھرتے پراگندہ خیالات ہیں۔''

اور شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

الفضیلۃ للمسجد الاقصی ولیست للصخرۃ، وما ذکر فیہا لا قیمۃ لہ من الناحیۃ العلمیۃ.

''فضیلت صرف مسجد اقصیٰ کی ہے، صخرہ کی نہیں۔ اور اس کے متعلق جو کچھ ذکر کیا جاتا ہے، اس کی علمی طور پر کوئی قیمت نہیں ہے۔''

اور سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی نے بھی لکھا ہے:

ولیست صخرۃ بیت المقدس معلقۃ فی الفضاء وحولہا ہواء من جمیع نواحیہا بل لا تزال متصلۃ من جانب بالجبل التی ہی جزء منہ متماسکۃ معہ.(فتاوی اللجنۃ الدائمہ : ۱/ ۲۶)

''بیت المقدس کا صخرہ فضا میں لٹکا ہوا ہرگز نہیں کہ اس کے ارد گرد چاروں طرف ہوا ہی ہو، بلکہ وہ چٹان کے ساتھ ملا ہوا ہے جس کا وہ ایک حصہ ہے''

(فضیلت بین المقدس اور فلسطین وشام، ص ۵۴۔۵۶)

۳۔ مسجد اقصیٰ کی تاریخ کے تحت ہم بتا چکے ہیں کہ ۷۰ء میں ہیکل سلیمانی کی تباہی میں اس کی صرف مغربی دیوار محفوظ رہ گئی تھی۔ اس مذہبی وتاریخی اہمیت کے پیش نظر اس دیوار کو یہود کے ہاں ایک مقدس ومتبرک مقام کی حیثیت حاصل ہو گئی اور اس دیوار کی زیارت کے لیے آنے اور اس کے پاس دعا ومناجات اور گریہ وزاری نے رفتہ رفتہ ان کے ہاں ایک مذہبی رسم کی حیثیت اختیار کر لی۔ یہ حقیقت تاریخی لحاظ سے بالکل مسلم ہے اور مسلمانوں کے ادوار حکومت میں بھی یہودیوں کے اس حق کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ تاہم انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں فلسطین میں بڑھتے ہوئے صہیونی اثر ونفوذ کے باعث یہودیوں نے سابقہ روایت سے ہٹ کر دیوار گریہ کے پاس اپنے مذہبی معمولات میں اضافہ کرنے اور اس پر قانونی ملکیت کا حق جتانے کی کوشش کی تو مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین تنازعات پیدا ہونے لگے۔ ہم یہاں اس تنازع کے قانونی اور تاریخی پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے محض اس دعوے کی اخلاقی حیثیت کو واضح کرنا چاہتے ہیں جس کو دہرانے میں مسلم میڈیا اور عرب سیاسی ومذہبی راہ نما یک زبان ہیں، یعنی یہ کہ مغربی دیوار دراصل وہ مقام ہے جس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کے موقع پر اپنے جانور براق کو باندھا تھا، اس لیے یہ مسلمانوں کا ایک مقدس مقام ہے نہ کہ یہود کا۔ مفتی اعظم فلسطین عکرمہ صبری نے ۲۴ مارچ کو اطالوی اخبار La Republica کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:

''بات بالکل صاف ہے: دیوار گریہ یہودیوں کا مقدس مقام نہیں ہے، یہ تو مسجد کا اٹوٹ انگ ہے۔ ہم اس کو دیوار براق کہتے ہیں، جو اس گھوڑے کا نام ہے جس پر سوار ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم یروشلم سے آسمان پر تشریف لے گئے۔''

ایک اور بیان میں انہوں نے کہا:

''دیوار براق کے کسی ایک پتھر کا بھی یہودیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہودیوں نے اس دیوار کے پاس انیسویں صدی میں دعا مانگنا شروع کی جب ان کے دلوں میں کئی آرزوئیں پروان چڑھنا شروع ہوگئی تھیں۔'' (کل العرب، ۱۸ اگست ۲۰۰۰ء)

۱۰ اکتوبر کو وائس آف فلسطین پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں یاسر عرفات نے کہا:

''اس دیوار کا نام مقدس دیوار براق ہے نہ کہ دیوار گریہ۔ ہم اس کو دیوار گریہ نہیں کہتے۔ ۱۹۲۹ء میں اس مسئلے پر ہونے والے ہنگاموں کے بعد شا بین الاقوامی کمیٹی نے قرار دیا کہ یہ مسلمانوں کی ایک مقدس دیوار ہے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براق کو باندھنے کا ذکر واقعہ اسرا کی روایات میں موجود ہے۔۵۱؂ لیکن اس جگہ کی تعیین کا نہ کوئی قرینہ ہے اور نہ ابتدائی دور کے مسلم مورخین نے اس کی کوئی کوشش کی ہے۔ خود عہد صحابہ میں اس ضمن میں اختلاف موجود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھا بھی یا نہیں۔ سیدنا حذیفہ کی رائے یہ تھی کہ :

''لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے اس جانور کو باندھ دیا۔ کیوں؟ کیا آپ کو یہ خدشہ تھا کہ وہ بھاگ جائے گا؟ اسے تو عالم الغیب والشہادۃ نے آپ کے لیے مسخر کیا تھا۔ '' (ترمذی، رقم ۳۱۴۷۔ مسند احمد، رقم ۲۲۲۴۳)

بہت بعد میں جب مسجد اقصیٰ کے حوالے سے طرح طرح کے اوہام وتخیلات رواج پانا شروع ہوئے تو اس تناظر میں اس کے مختلف مقامات کی تعیین اور ان کے بارے میں تقدس کے تصورات پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ سلسلہ تا حال جاری ہے اور دیوار گریہ کو 'دیوار براق' قرار دینے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بیسویں صدی سے قبل اس بنیاد پر اس دیوار کے تقدس کا کوئی تصور مسلمانوں کے ہاں نہیں پایا جاتا تھا کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھا تھا، بلکہ سولہویں صدی عیسوی کے عثمانی خلیفہ سلطان سلیم کے بارے میں ثابت ہے کہ اس کے دور سے پہلے ''دیوار گریہ'' ملبے اور کوڑے کرکٹ میں دبی ہوئی تھی اور اس کا کوئی نشان تک لوگوں کو معلوم نہ تھا۔ سلطان سلیم کو اتفاقاً اس کے وجود کا علم ہوا تو اس نے اس جگہ کو صاف کرا کے یہودیوں کو اس کی زیارت کی اجازت عطا کی۔۵۲؂

۱۹۳۰ء میں برطانوی شاہی کمیشن کے سامنے جب فریقین نے اپنا اپنا موقف پیش کیا تو دیوار براق کے حوالے سے یہودیوں نے یہ الزام عائد کیا کہ:

''ہیکل میں داخل ہونے کے لیے محمد نے کون سا راستہ اختیار کیا، اس کا تعین کبھی نہیں کیا جا سکا اور یہ صرف حالیہ زمانے کی بات ہے کہ مسلمانوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا ہے کہ پیغمبر یہاں سے گزرے تھے اور انہوں نے اپنے پروں والے خچر کو اس دیوار میں لوہے کے ایک حلقے کے ساتھ باندھ دیا تھا جو اب مسجد براق کا ایک حصہ ہے۔ نیز حالیہ سالوں تک مسلمان اس دیوار کو دیوار براق بھی نہیں کہتے تھے۔ مسلم اہل حل وعقد نے ۱۹۱۴ء میں حرم کی جو سرکاری گائیڈ شائع کی، اس میں اس دیوار کے کسی خاص تقدس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔''

اس کے جواب میں مسلم نمائندے کوئی دلیل دینے کے بجائے صرف یہ دعویٰ دہرا کر رہ گئے کہ:

''اس دیوار اور اس کے سامنے موجود گزرگاہ کے تقدس کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ سفر معراج کے موقع پر پیغمبر اسلام کا پروں والا خچر براق یہاں آیا اور اس کو حرم کی مغربی دیوار کے ساتھ باندھا گیا۔''

مذکورہ بالا تمام امور کے حوالے سے امت مسلمہ کی پوزیشن علمی واخلاقی لحاظ سے ناقابل دفاع ہے۔ یہ روش صراحتاً علمی بد دیانتی اور مذہب کے نام پر لوگوں کے جذباتی استحصال کے زمرے میں آتی ہے۔

خلاصہ بحث

ماسبق میں مسجد اقصیٰ کی تولیت وتصرف کے حق کے حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان کے دلائل کی تنقید وتنقیح پر مبنی جو بحث ہم نے کی ہے، اس کا حاصل اہم نکات کی صورت میں درج ذیل ہے:

۱۔ قرآن مجید مسلمانوں کی مساجد کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کی عبادت گاہوں کو بھی اللہ کی یاد کے لیے بنائے گئے گھر تسلیم کرتا اور ان کے احترام وتقدس کو ملحوظ رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کو علاوہ بریں یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ اس کی تعمیر ایک جلیل القدر پیغمبر کے ہاتھوں ہوئی اور اسے بنی اسرائیل کے سینکڑوں انبیائے کرام کے دعوتی وتبلیغی مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔ اسلام چونکہ تمام انبیا کو ایک ہی سلسلہ رشد وہدایت سے منسلک مانتا، سب کی یکساں تعظیم وتکریم کی تعلیم دیتا اور سب کے آثار وباقیات کے احترام کی تلقین کرتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصیٰ کا شمار روئے زمین کی تین افضل ترین مساجد میں کیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں نماز پڑھنے کے لیے باقاعدہ سفر کر کے جانے کو مشروع قرار دیا۔

۲۔ فتح بیت المقدس کے بعد مسلمانوں نے اس نہایت مقدس اور فضیلت والی عبادت گاہ کو، جو صدیوں سے ویران پڑی ہوئی تھی، آباد اور تعمیر کیا۔ قرآن وسنت کی اصولی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے اس اقدام کی نوعیت خالصتاً احترام وتقدیس اور تکریم وتعظیم کی تھی نہ کہ استحقاق اور استیثار کی۔ اس کی تولیت کی ذمہ داری انہوں نے یہود کو اس سے بے دخل کر کے اس پر اپنا حق جتانے کے تصور کے تحت نہیں بلکہ ان کی غیر موجودگی میں محض امانتاً اٹھائی تھی۔ لیکن چونکہ اس سارے عرصے میں یہود کے نزدیک نہ مذہبی لحاظ سے ہیکل کی تعمیر نو کی شرائط پوری ہوتی تھیں اور نہ وہ سیاسی لحاظ سے اس پوزیشن میں تھے کہ اس کا مطالبہ یا کوشش کریں، اس لیے کم وبیش تیرہ صدیوں تک جاری رہنے والے اس تسلسل نے غیر محسوس طریقے سے مسجد اقصیٰ کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی اور اس پر استحقاق کا ایک ایسا تصور پیدا کر دیا جس کے نتیجے میں معاملے کا اصل پس منظر اور اس کی صحیح نوعیت نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔

۳۔ گزشتہ صدی میں جب یہود کے مذہبی حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ باقاعدہ صورت میں سامنے آیا تو وہ صہیونی تحریک کے سیاسی عزائم کے جلو میں آیا۔ امت مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری بلاشبہ یہ تھی کہ وہ سیاسی کشاکش سے بالاتر ہو کر اس مطالبے کو اس کے صحیح شرعی ومذہبی تناظر میں دیکھتی اور اسلام کی اصولی تعلیمات کی روشنی میں اس معاملے کا فیصلہ عدل وانصاف کے ساتھ بالکل بے لاگ طریقے سے کرتی۔ اہل کتاب اور ان کی عبادت گاہوں کے بارے میں اسلام کی اصل تعلیم رواداری اور مسامحت کی ہے۔ مرکز عبادت اور قبلہ کی حیثیت رکھنے والے مقام کے احترام اور اس کے ساتھ وابستگی کی جو کیفیت مذاہب عالم کے ماننے والوں میں پائی جاتی ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اسی طرح یہود کی شریعت میں ہیکل کے مقام وحیثیت، اس کی تباہی وبربادی پر ان کے دلوں میں ذلت ورسوائی کے احساسات اور اس کی بازیابی کے حوالے سے ان کے سینوں میں صدیوں سے تڑپنے والے مذہبی جذبات بھی ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ یہ ایک نہایت اعلیٰ، مبارک اور فطری جذبہ ہے اور خود قرآن مجید یہود سے ان کے اس مرکز عبادت کے چھن جانے کی وجہ ان کے اخلاقی جرائم کو قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس امکان کو بھی صراحتاً تسلیم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اور ان کی آزمائش کے لیے اس مرکز کو دوبارہ ان کے تصرف میں دے دے۔

۴۔ اس معاملے میں امت مسلمہ کے موقف اور رویے کا جس قدر بھی تجزیہ کیجیے، یہی بات نکھرتی چلی جاتی ہے کہ وہ'استحقاق' کی نفسیات سے مغلوب ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کی 'امانت' کو ایک مستقل مذہبی حق قرار دینے اور یہود کو اس سے قطعاً لا تعلق ثابت کرنے کے لیے علمی سطح پر انحرافات کا ایک سلسلہ وجود میں آچکا ہے۔ ایک گروہ نے سرے سے مسجد اقصیٰ کی مسلم اور متواتر تاریخ کو ہی جھٹلادیا۔ دوسرے گروہ نے تکوینی اور واقعاتی طور پر امت مسلمہ کو ملنے والے حق تولیت کو ایک ابدی اور ناقابل تبدیلی شرعی حق کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ جبکہ تیسرے گروہ نے تیرہ صدیوں کے واقعاتی تسلسل کو ہی حتمی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں دیگر قابل لحاظ امور کے ساتھ ساتھ مذہبی اخلاقیات اور قرآن وسنت کی اصولی تعلیمات کو بھی کوئی وزن دینے سے انکار کر دیا۔ ان علمی انحرافات کے نتیجے میں آج جذبات کی شدت اور احساسات کے تناؤ کا یہ عالم ہے کہ کوئی شخص اس مسئلے کی غیر جانبدارانہ علمی تحقیق کرنے کے لیے تیار نہیں۔

۵۔ اس صورت حال سے واضح ہے کہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ امت مسلمہ کے لیے بھی اسی طرح ایک اخلاقی آزمایش (Test Case) کی حیثیت رکھتا ہے جس طرح کہ وہ بنی اسرائیل کے لیے تھا ، اور افسوس ہے کہ اس آزمائش میں ہمارا رویہ بھی حذو النعل بالنعل اپنے پیش روؤں کے طرز عمل ہی کے مماثل ہے۔ ارض فلسطین پر حق کا مسئلہ موجودہ تناظر میں اصلاً ایک سیاسی مسئلہ تھا اس لیے اس کی وضع موجود میں یہود کے پیدا کردہ تغیر حالات پر اگر عرب اقوام اور امت مسلمہ میں مخالفانہ رد عمل پیدا ہوا تو وہ ایک قابل فہم اور فطری بات تھی، لیکن ہیکل کی بازیابی اور تعمیر نو کے ایک مقدس مذہبی جذبے کو ''مسجد اقصیٰ کی حرمت کی پامالی کی یہودی سازش'' کا عنوان دے کر ایک طعنہ اور الزام بنا دینا، مسجد اقصیٰ پر یہود کے تاریخی ومذہبی حق کی مطلقاً نفی کر دینا اور، اس سے بڑھ کر، ان کو اس میں عبادت تک کی اجازت نہ دینا ہرگز کوئی ایسا طرز عمل نہیں ہے جو کسی طرح بھی قرین انصاف اور اس امت کے شایان شان ہوجس کو قوامین للہ شہداء بالقسط کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس امت کو اپنا فرض منصبی پہچاننے، اس کے تقاضوں کو بے کم وکاست پورا کرنے اور اس باب کے تمام انحرافات سے رجوع کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ اللّٰہم اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔ آمین۔

________

۴۶؂ محمد حسین ہیکل: ''حضرت عمر'' مترجم: حبیب اشعر، ص ۳۰۱، ۳۰۲۔

۴۷؂ بلاذری، فتوح البلدان اردو، ۱/ ۱۹۱۔ ولید بن عبد الملک نے اپنے زمانے میں جبراً عیسائیوں کے حصے کو بھی مسجد میں شامل کر لیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا دور آیا تو عیسائیوں کی شکایت پر انہوں نے حکم دیا کہ ''مسجد میں جو اضافہ کیا گیا ہے، وہ نصاریٰ کو واپس دے دیا جائے۔'' تاہم باہمی گفت وشنید سے یہ طے پایا کہ اس گرجے کے بدلے میں عیسائیوں کو الغوط کے علاقے میں ایک دوسرا گرجا دے دیا جائے۔ (فتوح البلدان ، حوالہ بالا)

۴۸؂ خود فقہ اسلامی کی بعض جزئیات اس استدلال کی صراحتاً نفی کرتی ہیں۔ جلیل القدر حنفی عالم ابن عابدین شامی نے یہ واقعہ ذکر کیا ہے کہ دمشق میں یہودیوں کا ایک فرقہ ''الیہود القرایین'' کے نام سے موجود تھا جس کی ایک عبادت گاہ بھی تھی۔ یہ فرقہ رفتہ رفتہ وہاں سے ناپید ہو گیا۔ ۱۲۴۸ھ میں ایک عرصے کے بعد اس فرقے سے تعلق رکھنے والے والا ایک مسافر دمشق میں آیا تو مقامی عیسائیوں نے اسے کچھ رقم ادا کر کے اس سے ان کی عبادت گاہ کو گرجا بنا لینے کی اجازت لے لی اور عیسائیوں کی قوت وشوکت کی بنا پر کچھ مقامی یہودی گروہوں نے بھی اس کی تائید کر دی۔ یہ معاملہ جب مسلم حکام کے علم میں آیا تو انہوں نے قانونی لحاظ سے اس کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے علماء فقہ سے رجوع کیا۔ ابن عابدین کہتے ہیں کہ بعض دنیا پرست علما نے اس معاملے کو درست قرار دے دیا لیکن میں نے اس کے حق میں فتویٰ دینے سے انکار کر دیا۔ اپنی اس رائے کی متعدد وجوہ میں سے ایک وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ:

''ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ یہ عبادت گاہ چونکہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی تھی اس لیے اس مذہب کے کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے مذہب والوں کے حوالے کر دے، اگرچہ تمام اہل کفر ہمارے نزدیک ایک ہی ملت کا حکم رکھتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی مدرسہ مثال کے طور پر احناف کے لیے وقف کیا گیا ہو تو کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے فقہی مسلک کے تصرف میں دے دے، اگرچہ دین دونوں کا ایک ہے۔'' (رد المحتار، ۴/ ۲۰۵)

۴۹؂ اکتوبر ۲۰۰۲ء، ص ۴۵۔

۵۰؂ مسند احمد، ۱/ ۳۸۔

۵۱؂ صحیح مسلم ومسند احمد عن انس،مسند البزار والترمذی عن بریدہ، دلائل النبوۃ للبیہقی عن ابی سعید۔ بحوالہ تفسیر ابن کثیر، ۳/ ۲۔ ۲۴۔

۵۲؂ ماہنامہ سیارہ لاہور، اشاعت خاص، نومبر ۲۰۰۱ء، ص ۳۷، ۳۸۔

____________