مسئلۂ عراق اور مسلمانوں کا طرز عمل


عراق کے خلاف امریکہ کے اعلان جنگ سے دنیا بھر کے مسلمان متفکر ہیں۔ انھیں خطرہ ہے کہ یہ جنگ اہل عراق کی تباہی پر منتج ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی جانیں تلف ہو سکتی، املاک برباد ہو سکتی اور بستیاں راکھ کا ڈھیر بن سکتی ہیں اور اس خطۂ ارضی میں ان کی تعمیر و ترقی کے راستے برسوں تک کے لیے مسدود ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر مسلمانوں کے عوام و خواص یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت علم جہاد بلند کرے اور اللہ کی نصرت کے بھروسے پر امریکہ کو بزور و قوت حملے سے روک دے اور اسے ایسی سزا دے کہ وہ آیندہ مسلمانوں کے خلاف جرأت کاتصور بھی نہ کر سکے۔ ہمارے ہاں یہ خواہش بالعموم تین ہی مقدمات کے حوالے سے سامنے آرہی ہے۔

ایک یہ کہ اسلام میں مسلمانوں کے باہمی تعلق کی اساس رشتۂ اخوت پر استوار ہے۔ مسلمان بھائیوں کے بارے میں فکرمند ہونا ، ان کی تعمیر و ترقی کی تمنا رکھنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور اگر وقت پڑے تو ان کی حفاظت و بقا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا اخوت کا عین تقاضا ہے۔

دوسرے یہ کہ امریکہ ایک مفاد پرست قوت ہے ۔ اس نے اپنی طاقت دنیا پراپنے اقتدار کے استحکام اور دوام کے لیے مختص کر رکھی ہے۔اس مقصد کے لیے اگر اسے عدل و انصاف کے منافی اقدام بھی کرنا پڑے تو وہ اس سے بھی گریز نہیں کرتا۔ عراق پر اس کا جنگ مسلط کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو سراسر ظلم ہے۔

تیسرے یہ کہ اگر مسلمان اپنے اندرجذبۂ ایمانی بیدار کر کے ظالموں کے خلاف برسر پیکار ہو جائیں تووہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے فیض یاب ہوسکتے ہیں۔ ان کی ابتدائی ایک ہزار سالہ تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے اپنی ہمت اور نصرت الٰہی کے بھروسے پر عظیم سلطنتوں کو زیر کیا ہے۔

ہمارے نزدیک یہ تینوں باتیں بنیادی طور پر درست ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے حقائق بھی ہیں جن کے بغیر یہ باتیں ادھوری ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جذبۂ اخوت مسلمانوں کے وجود اجتماعی کی اساس ہے۔ امت کے تن مردہ میں زندگی کی اگر کوئی رمق باقی ہے تو اس کا سبب یہی جذبہ ہے۔ اسی نے کشمیر، فلسطین،افغانستان اور چیچنیا میں ہونے والی خون ریزی پردنیا بھر کے مسلمانوں کو مغموم کر رکھا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اپنے نونہالوں کوبے دریغ میدان جنگ کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ افتراق امت کے اس زمانے میں بھی اس جذبے کی بنا پر امت کی عظمت رفتہ کی بحالی کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔

اخوت کے اس بے پایاں جذبے سے کسی کو انکار نہیں، مگر اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ایک عرصے سے امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے ۔ بین الاقوامی سیاست میں ان کی کوئی متفقہ پالیسی نہیں ہے۔ ہر ملک اپنے مقامی مفادات ہی کو ترجیح دیتا ہے ۔ ایک ریاست کے مسلمانوں پردوسری مسلمان ریاستوں کے دروازے اسی طرح بند ہوتے ہیں جس طرح غیرمسلموں کے لیے بند ہوتے ہیں۔ مسلمان ریاستیں آپس میں ایک دوسرے کے افرادی اورمادی وسائل کے استعمال کے لیے منصوبہ بندی نہیں کرتیں ۔ نتیجۃً بعض ریاستوں میں مسلمان بھوکوں مرتے ہیں اور بعض میں مسلمان انتہائی عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ مزید براں یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں اخوت کی گرمی جذبات اس وقت نظر نہیں آتی جب کوئی مسلمان ملک اخلاقی پستی کا اظہار کرتا ہے، دینی شعار سے غفلت برتتا ہے، عدل و انصاف کا خون کرتا ہے یابرادر ملک ہی سے برسر جنگ ہو جاتا ہے۔

یہ حقیقت اگر مسلم ہے تو پھر ہمارے نزدیک اس موقع پر جذبۂ اخوت کا صحیح اظہار یہ ہے کہ مسلمان اپنی تمام توجہ ایک دوسرے کی خیر و سلامتی اور تعمیر و ترقی پر مرتکز کریں۔ ان کے امیر ممالک غریب ممالک کو اقتصادی لحاظ سے مضبوط کرنے میں بھرپور تعاون کریں، انھیں سودی قرضوں سے نجات دلائیں، ان کے علاقوں میں سرمایہ کاری کریں، اپنی ریاستوں میں ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں، ان کے ساتھ تجارتی معاہدے کریں، ان کی سرزمین پر درس گاہیں، تحقیقی مراکز اور رفاہی ادارے قائم کریں۔ اگر کوئی ملک سیاسی لحاظ سے بے حکمتی کی روش اختیار کر رہا ہے تو سب مل کر اسے روکیں،کسی ملک کی اخلاقی غلطیوں کو قبول کرنے کے بجائے اور اس معاملے میں اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کے لیے تادیب و تنبیہ کا رویہ اختیار کریں۔ بین الاقومی معاملات میں اپنے اجتماعی وجود کے حوالے سے ایک ہی پالیسی کو سامنے لے کر آئیں۔

دوسری بات بھی صحیح ہے کہ تاریخ کی ہر سپر پاور کی طرح امریکہ بھی دنیا کواپنے نظریات اور مفادات ہی کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ دنیا پر اس کا اقتدار ہمیشہ مسلم رہے؛ علم، اسلحہ اور اقتصاد میں اس کا کوئی ثانی نہ ہو؛ اقوام عالم اس کی بالادستی کوبرضا و رغبت یا طوعاً و کرہاً تسلیم کرتی ہوں؛ ریاستوں کے باہمی معاملات اس کی منشا کے مطابق تشکیل پائیں اوراس کی تہذیب دیگرتمام تہذیبوں پر غالب ہو۔ غالباً اسی زاویۂ نظر کا نتیجہ ہے کہ وہ جمہوریت کا علم بردار ہے ، لیکن اگر اپنے اقتدار کا سوال پیدا ہوجائے تو اس کے وجود سے آمریت ہی کا صدور ہوتا ہے۔وہ امن ، انصاف ، آزادی، حق خودارادیت اور احترام انسانیت جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا داعی ہے ، لیکن اگر ان کی زد میں اس کے اپنے مفادات آ جائیں توان کا خون کرنے میں بھی اسے کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ وہ اقوام عالم کے مابین اشتعال کو ناپسند کرتا ہے ، لیکن اگر وہ خود مشتعل ہو جائے تودوسری قوموں کے لیے اس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے محفوظ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکہ کے بارے میں یہ سب باتیں درست ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امر واقعی ہے کہ دنیا کی عنان اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ فوجی قوت کے لحاظ سے اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اقتصادی ضرورتوں کے لیے قومیں اسی کی طرف رجوع کرتی ہیں۔ اکثر ممالک کے بجٹ اسی کی خیرات اورقرضوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کے حل کے لیے اقوام عالم کی نظریں اسی کی طرف اٹھتی ہیں اور بین الاقومی معاملات میں بالعموم اسی کی منشا نافذ العمل ہوتی ہے۔باہمی تنازعات میں اسی کو ثالث مانا جاتا ہے۔ اسی کی تہذیب اور اسی کی اقدار تک رسائی کو قومیں اپنی ترقی کی معراج تصور کر رہی ہیں۔ جدید علوم و فنون کے میدان میں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام بھی ابھی اس سے صدیوں پیچھے ہیں۔ یہی صورت حال ہے جس کی وجہ سے دنیا کے طاقت ور ممالک بھی اس کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اس صورت حال میں اگر مسلمان امریکہ پر اپنی برتری قائم کرنا چاہتے ہیں تو یہ لازم ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ سے برتر مقام پر فائز ہو جائیں تاکہ اقوام عالم کی نگاہیں امریکہ کے بجائے ان کی طرف اٹھنی شروع ہو جائیں۔ اس مقصدکے لیے یہ ناگزیر ہے کہ مسلمانوں کی تمام ریاستوں میں آمرانہ حکومتوں کے بجائے جمہوری حکومتیں قائم ہوں اور دنیا پر یہ واضح ہو کہ مسلمان پروردگار عالم کی ہدایت 'امرہم شوریٰ بینھم' پر پوری طرح کاربند ہیں۔ وہ دنیا میں عدل و انصاف کے سب سے بڑے علم بردار بن کر سامنے آئیں۔ دنیا کو معلوم ہو کہ عدل پر مبنی فیصلے کی زد اگر ان کے اپنے وجود پر بھی پڑے گی تو وہ اس موقع پر بھی عدل ہی کے طرف دار ہوں گے۔ وہ مذہبی، وطنی اور لسانی تعلق سے بالاتر ہو کر محض انسانی بنیادوں پر مظلوم اور مجبور کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئیں ۔ دنیا یہ جان لے کہ اگر مظلوم و بے کس کوئی ہندو، کوئی عیسائی اور کوئی یہودی بھی ہو گا تو اس کے حق میں سب سے پہلی آواز اہل اسلام میں سے بلند ہو گی۔ مزید براں سائنس، ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی قوت میں وہ اپنے آپ کو اس مقام پر لے آئیں کہ امریکہ، برطانیہ، روس، چین، جاپان،جرمنی اور فرانس جیسی طاقتیں بھی ان کے سامنے دست طلب دراز کریں۔

تیسری بات بھی صحیح ہے کہ اللہ کی مدد ان لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے جو ظلم و عدوان کے خلاف برسر جنگ ہوتے اور راہ جہاد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہماری تاریخ میں خالد بن ولید ، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر، صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم جیسے جرنیلوں نے فتوحات کی عظیم داستانیں رقم کی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ تین صدیوں کے دوران میں مسلمان جہاد کے پورے جذبے کے باوجودغیر مسلموں ہی کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے ہیں۔ سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان جیسے بہادروں کی انگریزوں سے شکست، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید جیسے اصحاب ایمان کی سکھوں کے مقابلے میں ہزیمت، مسلمانان ہند کی اپنی ہی سرزمین پر جنگ آزادی میں ناکامی،عراق کی کویت پر حملے کے بعد امریکی تاخت کی وجہ سے پسپائی، فلسطین اور کشمیر میں نصف صدی سے جاری آزادی کی تحریکوں کی بے ثمری اور طالبان اور افغانستان کی امریکہ کے ہاتھوں تباہی سے صرف نظر کسی صاحب بصیرت کے لیے ممکن نہیں ہے ۔

اس تناظر میں ہمارے نزدیک مسلمانوں کے لیے اس حقیقت کا ادراک ناگزیر ہے کہ نصرت الٰہی کا معاملہ الل ٹپ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس کی پیروی کے بعد ہی اللہ کی مدد کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

''اے نبی ، مسلمانوں کو جہاد پر ابھارو۔ اگر تمھارے بیس ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غلبہ پا لیں گے اور اگر سو ایسے ہوں گے تو ان کافروں کے ہزار پر بھاری رہیں گے ، اس لیے کہ یہ بصیرت نہیں رکھتے ۔ اچھا ، اب اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری آ گئی ہے ۔ لہٰذا اگر تمھارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غلبہ پائیں گے اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے ، اور( حقیقت یہ ہے کہ ) اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو (اس کی راہ میں ) ثابت قدم رہیں ۔'' (الانفال ۸ : ۶۵۔۶۶)

ان آیات سے یہ باتیں واضح ہوتی ہیں :

اولاً ، مسلمانوں کی کوئی جماعت اس وقت تک نصرت الہٰی کی مستحق نہیں قرار پاتی ، جب تک اس کے اندر ثابت قدمی نہ ہو۔

ثانیاً، مسلمانوں کو چاہیے کہ جنگ کے لیے ضروری اسباب و وسائل ہر حال میں فراہم کریں اور محض جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی اقدام نہ کریں ۔

ثالثاً، مسلمانوں کی قوت دشمن کے مقابلے میں کم سے کم ایک نسبت دو کی ہونی چاہیے۔ قوت کے لحاظ سے یہ تناسب اصلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی جماعت کے لیے بیان ہوا ہے ۔ اس کے پورا ہو جانے کے بعد ان کے لیے نصرت الہٰی کی حیثیت وعدۂ خداوندی کی تھی جسے ہر حال میں پورا ہونا تھا ،مگر بعد کے مسلمانوں کے لیے اس کی حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اور دو کا تناسب حاصل کر لینے کے بعد اللہ سے یہ توقع قائم کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی نصرت کے دروازے ان پر کھول دے گا۔

___________