مسئلۂ فلسطین


مسئلۂ فلسطین دنیا کا سب سے پیچیدہ،قدیم اور حساس مسئلہ ہے۔اس لیے کہ اس قضیے میں مذہب ، نسل اور کلچر کے تمام تر تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں ۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے مناسب یہ ہے کہ پہلے زمینی حقائق کو سمجھ لیا جائے۔اس وقت موجودہ اسرائیل کا رقبہ تقریباً اکیس ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی انسٹھ (۵۹) لاکھ ہے۔اس آبادی میں یہودیوں کی تعداد اڑتالیس (۴۸) لاکھ ہے اور عربوں کی تعداد گیارہ (۱۱) لاکھ ہے۔یعنی بیاسی (۸۲) فی صد یہودی اور اٹھارہ (۱۸) فی صد مسلمان۔

جس علاقے پر اسرائیل نے جون ۱۹۶۷ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور جس کے متعلق فلسطینی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہی مستقبل کی فلسطینی ریاست ہے ، اس میں سے ایک علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے اسرائیل کی سرحد تک ہے۔ اس علاقے کا رقبہ چھ ہزار مربع کلو میٹر سے کچھ کم ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ ہے۔دوسرے علاقے کو غزہ کی پٹی کہتے ہیں۔ یہ اسرائیل کی مغربی سرحد،مصر اور بحیرۂ روم میں گھری ہوئی ایک چھوٹی سی پٹی ہے جس کا رقبہ تین سو سا ٹھ مربع کلو میٹر ہے اور جس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔گویا مجوزہ فلسطینی ریاست میں اکتیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔

اس علاقے کی قدیم تاریخ کے مطابق ۲۵۰۰ قبل مسیح میں عرب کے علاوہ کنعان سے لوگ آکر یہاں آباد ہوئے۔اسی لیے اس کا قدیم ترین نام ''کنعان'' ہے۔اس کے بعد ایشیائے کوچک کے علاقوں سے بھی لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ۔ انھیں فلسطی کہا جاتا ہے۔چنانچہ اس علاقے کا یہ نام پڑ گیا۔جلد ہی یہ دونوں گروہ آپس میں پوری طرح گھل مل گئے۔

حضرت ابراہیم غالباً ۱۹۰۰ قبل مسیح میں اس علاقے میں تشریف لائے تھے۔یہیں ان کے ہاں حضرت اسحاق پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق کے ایک بیٹے کا نام حضر ت یعقوب تھا۔ان کا لقب ''اسرائیل'' تھا ۔ چنانچہ ان سے جو نسل دنیا میں پھیلی،اسے اسرائیل کہا جاتا ہے۔حضرت یعقوب کے بیٹے حضرت یوسف کے مصر جانے اور وہاں کی سلطنت میں ایک اہم مقام پانے کی وجہ سے حضرت یعقوب اور ان کے باقی گیارہ بیٹے بھی مصر تشریف لے گئے۔وہاں ایک عرصے تک بنی اسرائیل بہت اہم عہدوں پر فائز رہے، مگر پھر مصر کے اصلی باشندوں یعنی قبطیوں میں ان کے خلاف ردعمل پیدا ہوا اور ا ن کی پوری نسل کو غلام بنا لیا گیا۔ ایک عرصے تک یہ قوم اسی حالت میں رہی حتیٰ کہ حضرت یوسف کے چار سو سال بعد حضرت موسیٰ پیدا ہوئے، جنھوں نے اس پوری قوم کو لے کر ارض فلسطین کا رخ کیا۔وہاں کئی صدیوں پر پھیلی ایک لمبی جدوجہد کے بعد سلطنت اسرائیل قائم ہوئی۔ اسی سلطنت کا دور زریں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا ایک سو بیس سال پر پھیلا ہوا عہد تھا۔ یہودیوں کے مقدس ترین مقام ہیکل سلیمانی کی تعمیر اسی دور میں یروشلم میں ہوئی۔اس کے بعد ریاست دو حصوں میں بٹ گئی۔ ۳۵۰ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یروشلم پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی(بیت المقدس) کو برباد کیا اور بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا۔

اس کے پچاس برس بعد ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل موجودہ عراق کو فتح کیا اور بنی اسرائیل کو واپس جاکر ہیکل دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔اس دوران میں اور اس کے بعد سن ۷۰تک یہاں بنی اسرائیل کبھی اقتدار میں رہے ، کبھی غلام رہے اور کبھی دوسروں کے تحت نیم خودمختار رہے۔

سن ۷۰ میں رومیوں نے حملہ کرکے یروشلم کو ایک دفعہ پھر تباہ کیا،یہودیوں کا قتل عام کیا اور زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلاوطن کر دیا۔چوتھی صدی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی۔چنانچہ اس پورے علاقے کا سرکاری مذہب بھی عیسائیت ہو گیا۔

تین سو برس بعد یعنی ساتوں صدیں عیسوی (سن۶۳۸) میں حضرت عمر کے وقت میں مسلمانوں نے یروشلم کو فتح کیا۔ اس وقت ہیکل سلیمانی کا پورا علاقہ کھنڈرات بنا ہوا تھا۔حضرت عمر نے اس علاقے کو صاف کرایا اور اس کے جنوبی حصے میں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لیے مخصوص فرمائی۔یہی آج کی ''مسجد اقصیٰ''ہے۔

یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ سے متعلق یہودیوں اور قرآن مجید کے موقف کے اختلاف کو سمجھا جائے۔یہودیوں کے مطابق حضرت یعقوب اور ان کی پوری نسل کو پروردگار نے اپنی چہیتی نسل قرار دیا۔چنانچہ یہ نسل باقی پوری دنیا پر فضیلت رکھتی ہے۔اسی نسل کو پروردگار نے فلسطین کا سارا علاقہ حوالے کیا اور ہیکل سلیمانی کو اس کا قبلہ بنایا۔چنانچہ اس علاقے میں آباد ہونا ان کا حق ہے۔

اس کے برخلاف قرآن مجید کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل کو فضیلت ایک خاص مقصد کے لیے دی گئی تھی،وہ یہ کہ وہ خود بھی پروردگار کے احکام پر عمل کریں گے اور پوری دنیا میں توحید کا پیغام پھیلائیں گے۔چنانچہ جب بھی وہ یہ کام کرتے تھے پروردگار ان پر انعام فرماتا تھا۔اور جب وہ ا س کو پس پشت ڈالتے تھے تو پروردگاران کو سزا دیتا تھا۔چونکہ انھوں نے بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ کوجھٹلایا اور اپنی طرف سے ان کے قتل کے درپے ہوئے۔اس لیے پروردگار نے ان سے یہ فضیلت واپس لے لی۔اور اب قیامت تک ان کے لیے دوقوانین ہوں گے۔ایک یہ کہ یہ قوم مستقل مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا رہے گی ، البتہ درمیان میں امن اور خوش حالی کے ایسے وقفے آتے رہیں گے جب ان کو پروردگار براہ راست یا کسی دوسری قوم کے ذریعے سے امن اور خوش حالی دے گا۔ (سورہ آل عمران۔آیت۱۱۲) دوسرا قانون یہ ہے کہ جب بھی اس قوم کی بھلائیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں گی تو پروردگار ان پر رحم فرمائے گا اور جب ان کے ہاں برائیاں غالب ہوں گی تو آخرت کے ساتھ ساتھ انھیں دنیا میں بھی عذاب دیا جائے گا۔(سورہ بنی اسرائیل آیت ۷)

اس بحث کے بعد ہم ایک دفعہ پھر بنی اسرائیل کی تاریخ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

حضرت عمر کے زمانے میں یہ علاقہ فتح ہونے کے بعد اگلے ساڑھے چار سو برس تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔ ۱۰۷۸ء میں سلجوقی ترکوں نے یروشلم پر قبضہ کیا۔ان کے بیس سالہ دور حکومت میں عیسائی زائرین کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا جس کے رد عمل میں یورپ میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور ایک متحد عیسائی لشکر نے یروشلم پر قبضہ کر لیا۔اسی کو تاریخ میں صلیبی جنگیں کہتے ہیں۔یہ واقعہ ۱۰۹۹ ء کا ہے۔

اٹھاسی سال کے بعد اکتوبر ۱۱۸۷ء میں مسلمانوں نے صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں دوبارہ یروشلم پر قبضہ کر لیا ۔ اگرچہ اس کے بعد مزید سو سال تک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہیں ، تاہم مسلمانوں کا قبضہ برقرار رہا۔ گویا عیسائیوں کے اٹھاسی سالہ اقتدارکے بعد یروشلم پر اگلے آٹھ سو برس یعنی پہلی جنگ عظیم تک مسلمانوں کا قبضہ رہا۔

۱۵۱۷ء میں عثمانی ترکوں نے فلسطین پر قبضہ کرلیا اور اگلے چار سو برس تک یہ علاقہ عثمانی سلطنت کا حصہ رہا۔یہ سلطنت بہت مضبوط بنیادوں پر قائم تھی۔تاہم ہر آمرانہ حکومت کی طرح اس میں آہستہ آہستہ خرابیاں در آتی گئیں۔ کرپشن،عیاشی اور سازشیں پروان چڑھتی گئیں۔اجتماعی اخلاقیات دن بدن گرتی گئیں۔جہاں یورپ جمہوریت اور سائنس کی نعمتوں سے بہرہ ور ہو رہا تھا،عثمانی سلطنت نے ان دونوں کے لیے اپنے دروازے بند کر لیے اور ہر سلطان نے ازکار رفتہ طریقوں سے اپنی حکومت بچانے کی جدوجہد ہی کو اپنا مقصد سمجھا۔چنانچہ یہ سلطنت رفتہ رفتہ کمزور ہوتی گئی۔حکومت کا سارا نظام قرضوں کے سہارے چلنے لگا۔یورپی ممالک سے لیے گئے ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے جب صوبوں پر اضافی ٹیکس لگائے گئے تو اکثر صوبوں نے بغاوت کر دی ۔ حتیٰ کہ اکثر مقبوضہ جگہیں ترکی کے ہاتھ سے نکل گئیں ۔ اس پورے دور میں مذہبی طبقہ عام طور پر سلاطین کا حامی رہا۔چنانچہ عام لوگ ، سلاطین اورمذہبی طبقہ ، دونوں کے خلاف ہوگئے۔چنانچہ ۱۹۰۸ء میں سلطان عبدالحمید کو برطرف کر دیا گیا اور ایک موثر قوم پرست تنظیم ''ینگ ٹرک'' یعنی نوجوان ترکوں نے اقتدار سنبھال لیا۔اس حکومت نے ایک فاش غلطی یہ کی کہ ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم کی ابتدا سے جرمنی سے خفیہ معاہدہ کر لیا اور اتحادی افواج جن میں برطانیہ، فرانس، روس اور بعد میں امریکہ بھی شامل ہوگیا، کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔اور روسی بندرگاہوں پر بم باری شروع کر دی۔ یہ ایک بھیانک غلطی تھی ۔ ترکی کے لیے سب سے اچھی پالیسی غیر جانب داری کی تھی ۔ بہر حال اس اعلان جنگ کے بعد اتحادی افواج نے ترک مقبوضات پر بھی حملہ شروع کیا اور یروشلم دسمبر ۱۹۱۷ ء میں برطانوی فوج کے قبضے میں چلا گیا ۔ یروشلم کے تمام مسلمان باشندوں نے ترکی حکومت کی مخالفت میں برطانوی جنرل ایلن بی کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا۔

یہاں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس قبضے سے پیش تر یہودیوں کی کیا حالت تھی،عالم عرب کی کیا صورت حال تھی اور بڑی طاقتیں کیاکھیل کھیل رہی تھیں۔

۷۰ء میں جب رومیوں نے یہودیوں کو جلاوطن کر دیا۔تو اس کے بعد یہ قوم اٹھارہ سو سال تک تتر بتر رہی۔اسے یہودیوں کی اصطلاح میں 'Diaspora' کہتے ہیں۔اس دوران میں اکثر جگہوں میں یہودیوں پر مظالم ڈھائے جاتے رہے ۔ تاہم سپین کے مسلم عہد اور شمالی یورپ کے بعض ممالک میں ان سے اچھا سلوک کیا گیا ۔ صلیبی جنگوں کے دوران میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کا بھی خوب قتل عام کیا۔عثمانی ترکوں کے عہد میں بھی ان کے ساتھ مناسب سلوک کیا گیا۔مغربی یورپ میں جمہوریت آنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے ساتھ سلوک میں بھی بہتری آتی گئی۔ تاہم روس اور جرمنی میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک روا رکھا گیا۔زار روس ان کا سخت مخالف تھا۔سترھویں صدی کے لگ بھگ یہودیوں میں اپنی کم مائیگی اور بے چارگی کا احساس پیدا ہونے لگا۔اور مختلف مقامات پر یہودیوں نے اپنی مقامی تنظیمیں بنانی شروع کر دیں۔

یوں تو یہودیوں میں یہ احساس بھی سترھویں صدی سے ہی پیدا ہوگیا تھا کہ ان کا اصل وطن فلسطین ہے جہاں انھیں واپس جانا چاہیے، مگر اس کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل جرمنی کے ایک مشہور دانش ور اور وکیل تھیوڈر ہرزل نے دی جس نے ۱۸۹۵ء میں صیہونیت (Zionism) کے نام سے یہ شروع کی ۔ زایان یا صیہون دراصل یروشلم کے قریب ایک پہاڑی کا نام ہے۔ ابتدا میں یہ خیال بھی تھاکہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسی جگہ مل جائے جہاں یہودی امن سے رہ سکیں اور اس ضمن میں نظر انتخاب یوگنڈا پر گئی۔ تاہم یہودیوں کی اکثریت نے اسے نامنظور کر کے فلسطین ہی کو اپنا مقصد قرار دیا ۔۱۸۸۱ء میں فلسطین میں صرف چوبیس ہزار یہودی تھے ۔ روس میں زار کے ظلم سے بچنے کے لیے بہت سے یہودیوں نے روس چھوڑ کر فلسطین کا رخ کیا۔ چنانچہ ۱۹۱۴ء میں فلسطین میں پچاسی ہزار یہودی آباد تھے۔اس وقت وہاں فلسطینیوں کی تعداد چھ لاکھ تھی۔

اس وقت بین الاقوامی صورت حال کیا تھی۔اسے جاننا بھی ضروری ہے۔انیسویں صدی میں سلطنت برطانیہ سب سے بڑی طاقت تھی ، مگر اس صدی کے دوسرے آخر میں جرمنی بھی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرا۔یہ دونوں اور یورپ کی باقی طاقتیں صنعتی اعتبار سے ترقی کے منازل طے کر رہی تھیں اور ظاہر ہے کہ ان کے درمیان خام مال،تیار مال کی فروخت اور دوسرے وسائل کے لیے مقابلہ لازمی تھا ۔ چنانچہ ایک طرف برطانیہ،فرانس اور روس کا اتحاد بن گیااور دوسری طرف جرمنی، اٹلی ، آسٹریا اور ہنگری کا اتحاد بن گیا۔اس منظر نامے میں ترکی کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی ۔ اس لیے کہ وہ ہر اعتبار سے پس ماندہ تھا اور اسی لیے یورپ کا''مرد بیمار''کہلاتا تھا ۔ چنانچہ جب پہلی جنگ عظیم ۱۹۱۴ء میں چھڑ گئی تو ترکی نے بلاضرورت اس میں جرمنی کا ساتھ دیا اور روسی بندرگاہوں پر حملہ کر کے اپنی طرف سے جنگ کی ابتدا بھی کر دی ۔ چنانچہ برطانیہ اور اس کی اتحادی افواج نے ترکی مقبوضات ، جن میں فلسطین بھی شامل تھا ، کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا۔

اب دیکھیے کہ اس وقت عالم عرب کی صورت حال کیا تھی ۔ ۱۵۱۷ء میں عثمانی ترکوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا تھا ۔ اسی کے لگ بھگ مصر سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ترکوں کے قبضے میں چلے گئے ۔ عربوں میں قبائلی معاشرت تھی اور ترکوں کا ر ویہ ان کے ساتھ حاکمانہ تھا ۔ چنانچہ جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹتی رہیں ۔ قوم پرستی کا جذبہ بڑھتا رہا اور ترک انتہائی بے رحمی کے ساتھ مختلف بغاوتوں کو کچلتے رہے ۔ چنانچہ پورے عالم عرب میں بلحاظ مجموعی ترکوں کے خلاف نفرت کی ایسی فضا پیدا ہوگئی کہ وہ ترکوں کے خلاف ہر طاقت کا خیر مقدم کر نے کے لیے تیار تھے۔

چنانچہ جب پہلی جنگ عظیم چھڑی تو برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لیے ایک پلان بنایا ۔ اس پلان کے تحت برطانیہ نے ایک طرف دنیا بھر کے یہودیوں کی حمایت حاصل کر نے کی کوشش کی جواب بہت مال دار ہو چکے تھے اور جن کے پیسے اور علم وہنر کی برطانیہ کو سخت ضرورت تھی ۔ دوسری طرف برطانیہ نے ان عرب طاقتوں کی حمایت کا اعلان کیا جو ترکوں سے برسرپیکار تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ کیمسٹری کا یہودی پروفیسر ڈاکٹر وائنر مین جو اس وقت صیہونی تحریک کا سربراہ تھا ، نے برطانوی حکومت کو چند ایسی ایجادات بنا کر دیں جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلہ بھاری ہوگیا ۔ اس کے عوض اس نے برطانوی حکومت سے یہ انعام مانگا کہ وہ یہ وعدہ کرے کہ جنگ عظیم میں کامیابی کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کا ایک قومی وطن قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ نومبر ۱۹۱۷ میں وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے سے یہ وعدہ کر لیا ۔ اس خط کو عرف عام میں ''اعلان بالفور'' کہا جاتا ہے۔

دوسری طر ف برطانیہ نے جنگ عظیم کے دوران میں سرزمین حجاز (یعنی مکہ ومدینہ)کے حاکم حسین ابن علی،جسے عام طور پر ''شریف حسین آف مکہ'' کہا جاتا ہے،کو یہ پیش کش کی کہ اگر وہ ترک عثمانی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے اپنی آزادی کا اعلان کرے تو برطانوی حکومت اس کی حمایت اور مدد کرے گی۔چنانچہ شریف حسین نے یہی کیا اور ترک حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا ۔ یہ بڑی عجیب لیکن اہم بات ہے کہ ۲۴ اکتوبر۱۹۱۵ء کو مصر میں برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری مک موہن نے شریف حسین کے نام خط میں تمام عرب آبادی کی آزادی کا وعدہ کیا تھا ''ماسوائے شام کے چند مغربی اضلاع کے'' ۔ یہی وہ بات ہے جس کی بنیاد پر برطانیہ یہ دعویٰ کرتاہے کہ اس نے اسرائیل کے قیام کے اپنے ممکنہ عزم کو کبھی خفیہ نہیں رکھا ۔ تاہم اس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے مئی ۱۹۱۶ میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کو سائی کس پائی کاٹ معاہدہ کہا جاتا ہے جس کے مطابق جنگ کے بعد لبنان اور شام فرانس کو ملنا تھا اور عراق،اردن اور فلسطین برطانیہ کو۔

برطانیہ کے اس معاہدے کا راز ۱۹۱۷ء میں روسی حکومت نے اس وقت افشا کیا جب جنگ عظیم اول کے درمیان میں ہی روس میں کمیونسٹو ں نے زار کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت قائم کر لی۔اعلان بالفور کا بھی اسی طریقے سے پتا چلا۔

ادھر یہ حال تھا اور ادھر عرب،انگریزوں کے گن گا رہے تھے۔دسمبر ۱۹۱۷ میں جب برطانوی افواج یروشلم پہنچیں تو یروشلم کے تمام شہریوں نے شہر سے باہر آکر ان کا والہانہ استقبال کیا ، حالانکہ اس وقت تک برطانیہ کے یہودیوں سے کیے گئے تمام وعدے سامنے آچکے تھے۔

اس کے بعد اگلے تیس برس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آباد کاری کے لیے جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سے کام لیا۔ تاہم برطانیہ کی اس کوشش میں بہت سے عربوں نے بھی اپنا کردار یوں ادا کیا کہ شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے تمام غیر حاضر زمین داروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کردیں ۔ بہت سے فلسطینیوں نے بھی اپنی زمین یہودیوں کو پیچ دی اگرچہ بہت سے لوگوں اور اہل علم نے انھیں اس سے روکا۔

جب یہودیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی تب وہاں کے مسلمانوں کو ہوش آیا اور ۱۹۳۶ ء سے لے کر ۱۹۳۹ ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی، مگر اس بغاوت کے مقابلے میں برطانوی اور یہودی اکٹھے تھے ، چنانچہ بغاوت کچل دی گئی۔ یہ بھی ایک دل خراش حقیقت ہے کہ اس وقت بھی فلسطینی آپس میں تقسیم تھے جب کہ یہودی پہلے دن سے ہی ایک تنظیم ''جیوش ایجنسی''کے تحت منظم تھے ، اس کے ساتھ ہی یہودیوں نے ایک منظم اور تربیت یافتہ فوج بھی تیار کر لی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مملکت کے قیام کے لیے یہودیوں نے جتنی قربانی دی ، اس کی تاریخ میں مثالیں بہت کم ہیں ۔ مختلف حکومتوں کے خوف سے بھاگنے والے تو خیر آہی رہے تھے،لیکن بہت بڑ ے لوگ بھی اپنی آرام دہ زندگی چھوڑ کر فلسطین کے صحراؤں میں آکر اپنے مستقبل کی مملکت کی تعمیر میں جت گئے۔

فلسطین میں یہودیوں کی آبادی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ ساری دنیا سے یہودی اپنے مستقبل کے قومی وطن کی خواہش میں یہاں آتے گئے ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں جرمنی سے بھاگ کر آنے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ہٹلر نے چھ لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا اور باقی جان بچا کر فلسطین بھاگ آئے ۔ ۱۹۴۸ء میں یعنی اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات لاکھ اٹھاون ہزار یہودی بس گئے تھے ۔ جب برطانیہ نے دیکھا کہ اب وہاں ایک یہودی وطن بن سکتا ہے تو اس نے اس پورے علاقے کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا ۔ اس وقت صورت حال یہ بنی کہ امریکہ اور روس سمیت تمام طاقت ور ممالک اسرائیل کے حامی تھے ۔ چنانچہ نومبر۱۹۴۷ میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے سے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ۔ اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن(۵۶) فی صد دیا گیا ، حالانکہ یہودیوں کی آبادی اس وقت کل آبادی کی ایک تہائی تھی اور فلسطینی ریاست کو چوالیس (۴۴) فی صد دیا گیا حالانکہ فلسطینیوں کی آبادی دو تہائی تھی۔ یہ صریحاً ایک ناجائز تقسیم تھی ۔ چنانچہ فلسطینیوں اور ارد گرد کے عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔

راقم کے نزدیک اس وقت فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک کا یہ انکار ایک غلطی تھی ۔ اسی لیے کہ یہ انکار زمینی حقائق کے خلاف تھا اور اس سے فلسطینیوں کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔اس وقت تمام بڑی طاقتیں اسرائیلی ریاست کے قیام کے حق میں تھیں ۔ یہودی ، مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ طاقت ور اور پرجوش تھے ۔ اس کے مقابلے میں مسلمان ممالک کمزور اور آپس میں ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے والے تھے ۔ بات یہ ہے کہ اپنا مقصد کبھی نہیں بھولنا چاہیے، لیکن سمجھوتا ہمیشہ پیش آمدہ حالات کی بنیاد پر کر نا چاہیے اور اس وقت کا صبر سے انتظار کرنا چاہیے جب حالات ایک نئی کروٹ لے لیں ۔سمجھوتا کبھی بھی منصفانہ نہیں ہوا کرتا ، بلکہ یہ ہمیشہ عملی ہوا کرتا ہے۔

یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ اردن کا شاہ عبداللہ بھی فلسطینی ریاست کا سخت مخالف تھا ۔ اس لیے کہ اس سے اس کو اپنی ریاست کے لیے خطرہ محسوس ہوتا تھا ۔ چنانچہ اس نے اسرائیلی حکومت سے خفیہ مذاکرات کر کے فلسطینی ریاست رکوانے اور اس کے بعض حصوں پر خود قبضہ کرنے اور بعض حصوں پر اسرائیلیوں کو قبضہ کرنے کی اجازت دینے کا خفیہ سمجھوتا کر لیا۔

۱۴ مئی ۱۹۴۸ کو آخری برطانوی رجمنٹ کے رخصت ہوتے ہی اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کر لیا ۔ لیکن فلسطین نے اپنی آ زادی کا اعلان نہیں کیا ۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ فلسطینی اپنی چوالیس فی صد زمین پر آزادی کا اعلان کرتے اور بقیہ زمین حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ۔ اس کے بجائے اردگرد کے چار عرب ممالک شام ، اردن ، مصر اور عراق نے مل کر اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کرلیا ۔ یہ تمام افواج بہت کمزور ، نیم تربیت یافتہ اورمورال کے لحاظ سے انتہائی پست تھیں ۔ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے بھی دشمن تھے اور ان کے بہت سے کمانڈر اسرائیلیوں سے ملے ہوئے تھے ۔ چنانچہ ان کو شکست فاش ہوئی۔ اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ اب اس کے پاس ستتر (۷۷) فی صد علاقہ تھا ۔ مغربی کنارے کو اردن نے اور غزہ کی پٹی کو مصر نے اپنے قبضے میں کر لیا ۔ گویا فلسطینی ریاست نہ بنانے دینے کے جرم میں اسرائیل کے ساتھ یہ دونوں ممالک بھی شریک تھے ۔ حالانکہ اگر یہ دونوں ممالک اپنے زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینی ریاست بنا دیتے تو ساری دنیا اس کو فوراً تسلیم کر لیتی اور اسرائیل سے مزید گفت وشنید نہایت آسان ہوتی۔

عرب ممالک نے ایک اور طریقہ سے بھی اسرائیل کو بڑا فائدہ پہنچایا ۔ وہ یوں کہ۱۹۴۸ء میں پہلے کے اسرائیل میں یورپ سے آنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ یہودی شامل تھے ۔ ان کو اشکینازے (Ashkeneze) کہا جاتا ہے۔لیکن ۱۹۴۸ء کے بعد آنے والے لاکھوں یہودیوں میں سے اکثر کا تعلق مشرقی ممالک خصوصاً مسلم عرب ممالک یعنی تیونس ، مراکش ، مصر وغیرہ سے ہے ۔ ان کو سیفارڈم (Sephardim) کہا جاتا ہے۔اسرائیل میں اب انھی مشرقی یہودیوں کی اکثریت ہے ۔ عرب ممالک چاہتے تو ان یہودیوں کے بدلے ریاست فلسطین کے لیے گفت وشنید کر سکتے تھے، مگر ان کے ہاں اس امر کا کوئی شعور نہ تھا۔

اکتوبر۱۹۵۶ء میں اسرائیل نے صحرائے سینا اور غزہ کی پٹی پر حملہ کر کے انھیں دو دن کے اندر فتح کر لیا۔دو دن بعد برطانیہ اور فرانس کی فوجیں،پہلے سے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت نہر سویز میں اتر گئیں اور اس پر قبضہ کر لیا۔اس مداخلت پر امریکہ نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس کے الٹی میٹم کے ذریعے سے قابض افواج یہ جگہیں خالی کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ اس سے عربوں خصوصاً مصر کو یہ سبق حاصل ہو نا چاہیے تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں وہ کتنے کمزور ہیں اور اپنی کمزوری دور کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی ، مگر اس کے برعکس اس پورے عرصے کے دوران میں تمام عرب ریاستیں آپس میں لڑتی بھڑتی رہیں ۔ مصر اور سعودی عرب کی افواج کئی برس تک یمن میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں۔کچھ عرب ممالک امریکی کیمپ میں شامل تھے اور کچھ روس کے گن گاتے تھے ۔ بذات خود روسی اور امریکہ ، دونوں اسرائیل کے پورے پورے پشتی بان تھے۔

جون ۱۹۶۷ میں ایک اور عرب اسرائیل جنگ ہوئی ۔ اس وقت مصر کے صدر جمال عبدالناصر تھے ۔ جوبلا ضرورت نعرے بازی، دھمکیوں اور پرجوش تقریروں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ ان کا تکیہ کلام ہی یہ تھا کہ ہم اسرائیل کو اٹھا کر بحیرہ روم میں غرق کردیں گے ۔ مئی کے اواخر اور جون کے شروع میں انھوں نے ہر جگہ یہ کہنا شروع کیا کہ ہم اسرائیل سے جنگ کے لیے تیار ہیں اور بس اسرائیل پر ہمارا حملہ ہوا ہی چاہتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے بحیرۂ روم میں تمام بحری جہازوں کی آمدورفت رکوا دی۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کو،جو اسرائیل اور مصر کی سرحدات پر موجود تھا،باہر نکال دیا اور کہا کہ ہم اسرائیل پر حملے کے لیے اپنی افواج جمع کر رہے ہیں۔

بجائے اس کے کہ عرب ممالک اسرائیل پر حملہ کرتے ، پانچ جون ۱۹۶۷ کو اسرائیل نے نہایت خاموشی سے تینوں عرب ملکوں یعنی مصر ، شام اور اردن پر بیک وقت حملہ کر دیا ۔ ایک دن کے اندر اندر اس نے ان تینوں ممالک کے تمام ہوائی جہازوں کو ختم کر دیا اور تمام ہوائی اڈے تباہ کر دیے ۔ چھ دن کے اندر اندر اسرائیل نے مصر سے سار ی غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا چھین لیا ۔ صحرائے سینا کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے یعنی بذات خود اسرائیل کے رقبے سے تین گناہ زیادہ ۔ خود صدر ناصر کے مطابق اس وقت سویز کینال سے لے کر قاہرہ تک مصری فوج کا ایک سپاہی بھی موجود نہ تھا۔اور اگر اسرائیلی فوج چاہتی تو آسانی کے ساتھ قاہرہ پر قابض ہو سکتی تھی ۔ اس کے ساتھ اسرائیل نے اردن سے دریائے اردن کا سارا مغربی کنارہ بشمول یروشلم اپنے قبضے میں کر لیا اور شام سے گولان کی پہاڑیاں ، جن کا رقبہ ایک ہزار ایک سو پچاس مربع کلو میٹر ہے،چھین لیا۔ گویا اس جنگ میں اسرائیل نے سارے کے سارے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔

چھ اکتوبر ۱۹۷۳ کو مصر کے صدر انور السادات اور شام نے بیک وقت اسرائیل سے اپنے مقبوضہ علاقے واگزار کرانے کے لیے اس پر حملہ کیا ۔ ابتدا میں ان دونوں کو کامیابی ہوئی، مگر امریکہ کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کی بہت بڑی اسلحی امداد نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ۔ شام کے محاذ پر اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا اور سویز کے محاذ پر اس کی افواج مغربی ساحل پر بھی اتر گئیں ۔ اسی جنگ پر بعدمیں تبصرہ کرتے ہوئے انورالسادات نے کہاکہ اس جنگ سے مجھے یہ احساس ہو گیا کہ میں اسرائیل سے تو لڑ سکتا ہوں ، مگر امریکہ سے نہیں لڑ سکتا۔

۱۹۷۸ ء میں سادات نے امریکی ثالثی کے ذریعے سے کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل سے سمجھوتا کیا جس کے تحت اسرائیل نے صحرائے سینا خالی کر دیا ۔ گویا سادات نے مصر کا علاقہ تو واپس لے لیا ، مگر فلسطین کا جو پورا علاقہ اس کے پاس تھا یعنی غزہ کی پٹی اور جس پر اسرائیل نے ۱۹۷۶ء میں قبضہ کر لیا تھا،اسے اس نے اسرائیل ہی کے قبضے میں رہنے دیا۔یہ ہے فلسطین کے کاز سے عربوں کی کمٹ منٹ۔

یوں تو فلسطین کی لا تعداد سیاسی اور عسکری تنظیمیں قائم ہوئیں ، مگر ان میں سب سے اہم پی ایل او ہے۔جس کا قیام ۱۹۶۴ء میں عمل میں لایا گیا تھا ۔ اس کے بنیادی چارٹر میں یہ بات شامل تھی کہ سارا فلسطین (بمع اسرائیل) فلسطینیوں کا ہے اور یہودیوں کا اس پر کوئی حق نہیں ۔ اس تنظیم کے عسکری بازو کو '' فلسطین لبریشن آرمی '' کانام دیا گیا ۔ الفتح کی بنیاد ۱۹۵۷ء میں رکھ دی گئی تھی ۔ ۱۹۶۷ء سے لے کر ۱۹۷۰ء تک مختلف مسلح فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کے خلاف بہت سی گوریلا کارروائیاں کیں۔ ستمبر ۱۹۷۰ اور جولائی ۱۹۷۱ میں ان مسلح تنظیموں کی اردن کی افواج سے لڑائی ہو گئی جس کے نتیجے میں انھیں اردن سے نکال دیا گیا۔اسی طرح لبنانی فوج کے ساتھ لڑائی کے بعد وہاں بھی ان کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ اس کے بعد مصر اور شام نے بھی اپنی سرحدوں کی طرف سے ان کی مسلح کارروائیوں پر پابندی لگا دی ۔۱۹۸۷ء میں اسرائیل نے لبنان میں موجود فلسطینی گوریلوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اسی (۸۰) دن تک ایک آپریشن کیا جس کے بعد ایک معاہدے کے تحت چھ ہزار فلسطینی جنگجووں کو یمن، تیونس، الجزائر اور سوڈان کے دور دراز کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔ ان تمام ناکامیوں کی وجہ سے پی ایل اونے اسرائیل کو ختم کرنے کا نکتہ واپس لے لیا ۔ اور اس کے ساتھ پرامن طریقے سے ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنا مقصد بنا لیا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عسکریت کیوں ناکام ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پی ایل او ایک تنظیم ضرور تھی ، بلکہ تقریباً ایک سو تنظیموں کا اتحاد تھی ، مگر اس کی پشت پر کوئی ایسی ریاست نہیں تھی جو کھلم کھلا اس کو اپناتی اوراسرائیل کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ۔ اس لیے ایک ایک کرکے تمام عرب ممالک نے اس کو اپنے سے دور کیا ۔ یعنی ' disown' کیا ۔ یہ تنظیم اپنے مسلح حملوں کے ذریعے سے زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی تھی کہ اسرائیل کو تنگ کرے۔

دوسری طرف پی ایل او کواس اتحاداور ایک متفقہ لیڈر یاسر عرفات چننے کا بڑا سیاسی فائدہ پہنچا ۔ ۱۹۷۴ء میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک قوم تسلیم کیا اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے کئی قرار دادیں منظور کیں۔

۱۹اگست ۱۹۹۳ کو اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان ''اوسلوامن معاہدہ'' ہوا۔اس معاہدہ پر گواہوں کی حیثیت سے امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ دوسال کے خفیہ مذاکرات کے بعد طے پایا۔اس معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو نظری اعتبار سے تسلیم کر لیا ۔ اس معاہدے کا منفی نکتہ یہ ہے کہ اس میں ایک پیچیدہ اور بہت آہستہ رو طریقۂ کارکے مطابق فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات تفویض کیے جانے تھے ۔ ظاہر ہے کہ ایک ایسے علاقے میں جو انتہائی حساس ہو جہاں بیسیوں نقطۂ نظر کے لوگ بستے ہوں،جہاں لاکھوں لوگوں کے پاس اسلحہ ہو،جہاں پر ہر کوئی دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہو،وہاں ایک تنظیم کو بہت محدود قسم کے اختیارات تفویض کیے جائیں اور اس سے یہ توقع رکھی جائے کہ ان اختیارات سے کام لے کر اپنے لوگوں کو قابو کریں گے۔ایسی توقع رکھنا بالکل غلط ہے۔اس سے حالات مزید پیچیدہ ہوں گے اور نئے نئے مسائل جنم لیں گے۔اس کے بجائے صحیح طریقۂ کا ریہ تھا کہ فلسطینی وفد اس بات پر اصرار کرتا کہ ان کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر مکمل اختیار دے کر ان کی ریاست تسلیم کر لی جائے اور اسی طریقے سے یہ ریاست وجود میں آجائے،جس طرح ریاستیں وجود میں آیاکرتی ہیں۔بے شک یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوتے ، لیکن اس موقف سے انحراف نہ کیا جاتا۔

راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ اسرائیل جانتا تھا کہ اتنے پیچیدہ طریقۂ کار کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ، لیکن اس نے جان بوجھ کر فلسطینی وفد کو پھنسایا کہ فلسطینی اتھارٹی ناکام ہو جائے اور آخری حل میں اسرائیل کو مزید رعایتیں اور غرب اردن کی مزید زمین مل جائے۔ فلسطین وفد اس جال میں پوری طرح پھنس گیا۔ اس معاہدے کا دوسرا منفی نکتہ یہ تھا کہ اس میں حساس ترین مسئلے یعنی یروشلم کی تقسیم اور دیوار گریہ اور قبۃ الصخر ۃ کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ان کے بغیر بھلا مذاکرات کا کیا مطلب تھا۔ چنانچہ اس معاہدے پر عمل درآمد میں دونوں فریقوں کی طرف سے ناکامی ہوئی اور حالات مزید بگاڑ کی طرف چلے گئے۔

حماس اور پہلا انتفاضہ

فلسطین کی بیش تر تنظیمیں اور بذات خود پی ایل او سیکولر تنظیمیں ہیں۔ دسمبر ۱۹۸۷ میں حماس کے نام سے ایک ایسی مزاحمتی تحریک سامنے آئی جو اپنے جذبات کی آب یاری اسلام سے کرتی ہے۔اس کے رہنما جسمانی طور پر معذور ، لیکن انتہائی باصلاحیت شیخ احمد یاسین ہیں ۔ اس تنظیم کے کارکن اجتماعی اخلاقیات کے اعتبار سے دوسری تنظیموں سے بہت ممتاز تھے ۔ اس لیے اسے جلد مقبولیت حاصل ہو گئی ۔ اگلے سال اس تحریک نے انتفاضہ یعنی مزاحمت شروع کی ۔ اس کی مزاحمت کا انداز اچھوتا تھا۔ بچوں،خواتین اور نوجوانوں کے پاس چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے جنھیں وہ اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر پھینکتے۔ ظاہر ہے اس سے ان ٹینکوں کا تو کچھ نہ بگڑتا ، مگر اس سے اس مزاحمت کی مظلومیت ، اس کا برحق ہونا اور اس کا عزم بھر پور طریقے سے ظاہر ہوجاتا ۔ یہ بین الاقوامی طورپر اپنے آپ کو منوانے اور عوام کو متحد،منظم اور پرعزم رکھنے کا نہایت اچھا ذریعہ تھا۔ یہ تحریک اصلاً عدم تشدد کی تحریک تھی ۔ اسی لیے ہمیشہ اس تحریک کے لوگ تو شہید ہوتے رہے ، لیکن اس نے کسی اسرائیلی بچے یا خاتون پر تشدد نہیں کیا ۔ اس سے اس تحریک کی اخلاقی ساکھ پوری دنیا میں بیٹھ گئی۔

راقم کے نزدیک یہ اپنی اصل میں نہایت قابل قدر تحریک تھی ۔ تاہم اس کے دو اجزا صحیح نہیں تھے ۔ ایک یہ کہ اس تحریک کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑا جائے ۔ درپیش صورت حال میں ناقابل عمل بات تھی ۔ دوسرایہ کہ ٹینک کو پتھر مارنا بذات خود عدم تشدد ہے ، لیکن اس میں تشدد کے جراثیم موجود تھے ۔ یہ اقدام کسی بھی وقت اس سے کسی اگلے قدم میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔ عدم تشدد کی صحیح حکمت عملی موجود دنیا میں وہی ہے جو قائداعظم ، گاندھی اور نیلسن منڈیلا نے استعمال کی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اس تحریک کے پہلے چار سالوں میں اس میں عوام کی شرکت اور اس کی اخلاقی ساکھ فقید المثال رہی ۔ لیکن آخری دو سالوں میں اس نے بھی دوسری تنظیموں کی طرح مسلح اقدامات شروع کردیے جس سے اس میں عوامی شمولیت کم ہوگئی ۔ چنانچہ ۱۹۹۴ ء کے لگ بھگ یہ تحریک مدھم پڑگئی ۔ اگرچہ حماس کی عوامی مقبولیت اب بھی موجود ہے جو پی ایل او کے بعد دوسرے درجے پرہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے نام نہاد اقتدار

۵جولائی ۱۹۹۴ کو فلسطینی انتظامیہ نے دستوری حلف اٹھایا۔اس کے بعد فلسطینی انتظامیہ کے سامنے چند بڑے مسائل نے جنم لیا ۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ حماس اور اسلامی جہاد غرب اردن اور اسرائیل کے اندر مسلح کارروائیاں کر رہی تھیں۔اسرائیل نے مطالبہ کیا کہ ان کارروائیوں کو روک دیا جائے۔فلسطینی اتھارٹی کے پاس ان کو روکنے کی کوئی طاقت نہیں تھی چنانچہ اسرائیل نے اس کو بہانہ بناکر اسے اوسلو معاہدے پر عمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ٹیکس جمع کرنا ، امن برقرار رکھنا ، مجرموں کو سزائیں دینا ، ایسے کام ہیں جن سے عوامی مقبولیت میں کمی آتی تھی۔چنانچہ عوام کی طرف سے بھی فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون نہیں تھا۔

بدقسمتی سے جس طرح عام طور پر مسلمانوں میں آمریت کے جراثیم ہیں،وہی حال یاسر عرفات اور اس کی پوری ٹیم کا ہوا۔ اتھارٹی نے اپنے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈال دیا۔کرپشن بہت بڑھ گئی۔علاقہ ایک پولیس اسٹیٹ کا منظر پیش کرنے لگا۔ کاروبار خراب ہو گئے۔چنانچہ اس اتھارٹی کی بین الاقوامی اور اندرونی پوزیشن بہت خراب ہو گئی۔اور اسرائیل کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اس صورت حال کو استعمال کرے۔

تاہم اس معاہدے کے کچھ فوائد بھی ہوئے۔ اگر فلسطینی قوم متحد رہتی اور فلسطینی اتھارٹی کی فروگزاشتوں پر تنقید کرتے ہوئے خالصتاً عدم تشدد سے کام لیتی تو بعد کی آزمایش اور مصیبتیں کم ہو سکتی تھیں۔ مثلاً اس معاہدے کے بعد فلسطینی ریاست کو دنیا کے دوتہائی ممالک نے تسلیم کر لیا۔نوے فیصد فلسطینی عملاً اسرائیل کی قبضے سے آزاد ہوگئے اور اب ہر فلسطینی کے پاس اسرائیلی پاسپورٹ کے بجائے فلسطین کا پاسپورٹ ہے۔تاہم حماس نے اس درمیان میں خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔اس صورت حال سے اسرائیل کی انتہاپسند لیکوڈ پارٹی نے فائدہ اٹھایا اور ۱۹۹۶ میں وہ انتخابات جیت گئی جس سے فلسطینیوں کے راستے میں مزید مشکلات پیدا ہو گئیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے حکومتی مذاکرات

جولائی ۲۰۰۰ ء میں کیمپ ڈیوڈ میں صدر کلنٹن کے ذریعے سے یاسر عرفات اور اسرائیل کے اعتدال پسند لیبر پارٹی کے وزیراعظم ا یہود بارک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔یہ مذاکرات کئی دن جاری رہے۔کلنٹن نے ان مذاکرات کی کامیابی کی سرتوڑ کوشش کی ، مگر یہ کامیاب نہ ہوسکے۔ناکامی کی اصل وجوہات دوتھیں ایک یہ کہ یروشلم کے معاملے میں یاسر عرفات کا رویہ غیرلچک دار تھا۔ اور دوسرا یہ کہ ا یہود بارک نے ان چھ لاکھ (جن کی تعداد اب بہت بڑھ چکی ہے) فلسطینی مہاجرین کو واپس لینے سے انکار کردیا جو ۱۹۴۸ ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بے گھر ہوگئے تھے۔ بالآخر کلنٹن نے ایک فارمولا پیش کیا۔جس کے مطابق مسجد اقصیٰ اور مشرقی یروشلم فلسطین کے پاس ہوتا اور دیوار گریہ سمیت مغربی یروشلم اسرائیل کے پاس ہوتا۔ واضح رہے کہ مشرقی یروشلم میں دولاکھ فلسطینی بستے ہیں اورمغربی یروشلم میں ساڑھے چار لاکھ یہودی بستے ہیں۔ مہاجرین کے متعلق کلنٹن کی تجویز تھی کہ انھیں فلسطینی ریاست میں آباد کیا جائے اور ان کی آباد کاری کے سارے اخراجات امریکہ برداشت کرے گا۔ یہ فارمولا ا یہود بارک نے منظور کرلیااور یاسر عرفات نے اسے مسترد کردیا چنانچہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔

راقم کے نزدیک یہ فلسطینیوں اور یاسر عرفات کی سب سے فاش غلطی تھی ۔ انھیں جو کچھ مل رہا تھا ، اس سے زیادہ ملنا مستقبل قریب میں ناممکن تھا۔

اس حل کے بارے میں تفصیلی بحث ہم بعد میں کریں گے جب بیت المقدس ، قبۃالصخرا ، دیوار گریہ اور مسجد اقصیٰ جیسی اصلاحات کی وضاحت کی جائے گی۔

۲۸ دسمبر کے بعد دوسرا انتفاضہ

مذاکرات کی ناکامی سے معتدل وزیراعظم ایہود بارک کی اپنے ملک میں مقبولیت کم ہوگئی ، اس لیے کہ وہ اس وعدے پر برسراقتدار آیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔اس کی اس کم ہوتی ہوئی مقبولیت سے اس کے حریف لیکوڈ پارٹی کے لیڈر ایرل شیرون نے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔چنانچہ اس نے یہ اعلان کیا کہ وہ۲۸ دسمبر۲۰۰۰ کو قبۃ الصخرا کا باہر سے دورہ کرے گا۔ واضح رہے کہ اس کا یہ دورہ خدانخواستہ مسجد اقصیٰ کا نہیں تھا ۔ مسجد اقصیٰ کی نگرانی آج بھی اردن کی وزارت اوقاف کے پاس ہے ۔ قبۃالصخرا ایک چٹان کے اوپر گنبد کا نام ہے ( یہی وہ گنبد ہے جس کی تصویرکو لوگ عام طور پر غلطی سے مسجد اقصیٰ سمجھتے ہیں) ۔ جس کی ایک تاریخی اہمیت ضرور ہے ، مگر اس کی کوئی دینی اہمیت نہیں۔اس طرح ایرل شیرون دو مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ ایک یہ کہ وہ اسرائیلی عوام کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ، ا یہود بارک کے برعکس ، ایک سخت موقف اختیار کرنے والا فرد ہے ۔ دوسرا وہ اس طریقے سے فلسطینیوں کو اشتعال دلانا چاہتا تھا تا کہ ہنگامے ہوں ۔ حالات ایہود بارک کے قابو میں نہ رہیں اور اسے نئے نتخابات کرانے پڑیں۔

سوال یہ ہے کہ اس وقت کون سی حکمت عملی فلسطینی عوام کے حق میں بہتر تھی ۔ کیا انھیں اشتعال میں آنا چاہیے تھا؟ یا انھیں شیرون کی چال ناکام بنانی چاہیے تھی؟ظاہر ہے کہ ان کے حق میں صحیح حکمت عملی یہ تھی کہ وہ اس دورے کی زبانی کلامی خوب مذمت کرتے ، مگر کوئی متشددانہ اقدام نہ کرتے تاکہ شیرون کی سازش ناکام ہو جاتی، مگر فلسطینی شیرون کی چال میں آ گئے۔ اگلے دن سے ایک نیا انتفاضہ شروع ہو گیا ۔ پرتشدد ہنگامے شروع ہو گئے ۔ اگلے چند مہینوں میں ان ہنگاموں میں سیکڑوں فلسطینی اور بیسیوں یہودی کام آئے ۔ بالآخر ایہود بارک کو نئے انتخابات کا اعلان کر نا پڑا جس میں شیرون نے باسٹھ (۶۲) فی صد ووٹ لے کر ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔

شیرون کی کامیابی کے بعد اسرائیل کی طرف سے ظلم وبربریت کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ۔ فلسطینیوں کی طرف سے ہر تشدد کا اسرائیل کی طرف سے دس گنا ردعمل کے ساتھ جواب دیا گیا ۔ کئی کئی دن تک یاسر عرفات کے دفتر کا محاصرہ کیا گیا ۔ ان کے دفتر کی بجلی اور پانی کو بند کر دیا گیا ۔ حتیٰ کہ ان کے لیے خوراک کی فراہمی بھی بند کر دی گئی ۔ بلڈوزروں کے ذریعے سے مشتبہ افراد کے گھر مسمار کردیے گئے۔

اسی دوران میں فلسطینیوں کی طرف سے خود کش حملے شروع ہو گئے۔یوں تو اس سے بہت پہلے سے اکاد کا خودکش حملے جاری تھے ، مگر اب باقاعدہ ایک ترتیب کے ساتھ یہ کیے گئے۔کچھ خود کش حملے تو براہ راست فوجی تنصیبات پر کیے گئے ، لیکن کئی حملے سول جگہوں مثلاً ریستوران ، بس اور عام علاقوں میں کیے گئے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیل کے اندر خوف کی ایک فضا بن گئی ۔ اور اس کا نقصان یہ ہوا کہ باقی دنیا نے اسرائیل کے خلاف ان خودکش حملوں کی مذمت کر دی۔

یہ خودکش حملے حکمت عملی اور اصول ، دونوں کے خلاف تھے ۔ خودکش حملوں کے لیے وہی انسان اپنے آپ کو پیش کرتا ہے جو انتہائی پرعزم اور بہادر ہو۔ایسے ہی لوگ کسی تحریک کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ جب اپنی جان ، جان آفرین کے سپرد کر دیتے ہیں تو یہ تحریک کے لیے ایک بڑا نقصان ہوتا ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ایسے حملوں کی رفتار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اصولی اعتبار سے بھی یہ حملے غلط ہیں ۔ اگر ایسا کوئی حملہ کسی باقاعدہ ریاست کی طرف سے کسی برسرجنگ ریاست کی فوج کے خلاف ہو تو اس کے جواز کا سوچا جاسکتا ہے ، لیکن اگر یہ غیر فوجی تنصیبات کے خلاف ہو اور اس میں عام لوگ ہلاک ہوں توانھیں کسی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایسے حملوں کا توڑ کرنے کے لیے حریف طاقتیں بھی اپنی حکمت عملی بنا لیتی ہیں۔اسرائیل نے اس سے نمٹنے کے لیے یہ حکمت عملی اپنائی کہ خودکش حملہ آورں کے گھر مسمار کر دیے اور ا ن کے رشتہ داروں کو جلاوطن کردیا۔ظاہر ہے کہ اسرائیل کا یہ طرزعمل بہت ظالمانہ اور غلط تھا۔مگر بہر حال اس سے یہ خودکش حملے آہستہ آہستہ تھم گئے۔

انتفاضہ کا یہ دوسرا دور کسی مثبت نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا۔اس سے فلسطینیوں کے مال و جان کا بڑا نقصان ہوا۔اور یہ بات صاف واضح ہو گئی کہ اس سے پہلے اسرائیل فلسطینی ریاست کے لیے جتنی زمین دینے کے لیے تیار تھا،اب وہ ان سے بھی سخت تر شرائط پر معاملہ کرے گا۔

امریکہ کا نیا روڈ میپ اور محمود عباس کی وزارت عظمیٰ

امریکہ نے یہ الزام لگایا کہ امن منصوبے کے راستے میں اصل رکاوٹ یاسر عرفات ہے اور جب تک وہ کسی اور فرد کو وزیراعظم نامزد نہیں کرلیتا،تب تک امریکہ اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔چونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اگرچہ امریکہ، اسرائیل کا پشتی بان اور حمایتی ہے ، لیکن اس کے بغیر یہ مسئلہ حل توکیا،ایک انچ آگے بھی نہیں سرک سکتا ، بلکہ مسلسل مسلمانوں کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے ، اس لیے یاسر عرفات پر ہر طرف سے یہ دباؤ پڑا کہ ایک بااختیار وزیراعظم مقرر کرے۔ چنانچہ اس نے اپنے ایک قریبی ساتھی محمود عباس (ابومازن) کو وزیراعظم نامزد کیا۔یہ نام امریکیوں کو بھی قبول تھا۔ اس لیے انھوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور صدر بش نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا روڈمیپ دے دیا ۔ اس روڈ میپ کے مطابق اگلے دوبرس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں آ ناہے اور اس مقصد کے لیے ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس میں ہراہم مرحلے پراسرائیل اور فلسطین کو ایک ایک قدم لینا ہے ۔ اس روڈ میپ میں تین اہم ترین مسائل یعنی فلسطینی مملکت کے حدود،یروشلم کا مستقبل اور فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی کا کوئی حل نہیں دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اصل حل کا انحصار تو انھی مسائل پر ہے ۔ یہ روڈ میپ یاسر عرفات کے ساتھ ساتھ شیرون کو بھی منظور نہیں تھا، لیکن امریکہ کے دباؤ پر دونوں فریقوں کو یہ منظور کرنا پڑا ۔ اس روڈ میپ کے بعد دونوں طرف سے تشدد کا سلسلہ کسی حد تک کم ہو گیا۔ اسرائیلی فوج کچھ شہروں سے نکل گئی۔ تاہم عمل درآمد کی رفتار بہت تسلی بخش نہیں ہے۔اسرائیل کی طرف سے غرب اردن اور غزہ کو اسرائیل سے علیحدہ کرنے والی بہت بڑی دیوار کے منصوبے نے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ دیوار اس لیے تعمیر کی جارہی ہے کہ تخریب کاروں پر نظر رکھی جاسکے۔فلسطین کا کہنا ہے کہ یہ دیوار جان بوجھ کر اس طرح تعمیر کی جارہی ہے کہ غرب اردن اور غزہ کا زیادہ سے زیادہ علاقہ اسرائیل اپنے ساتھ شامل کر سکے اور بالآخر یہی دیوار سرحد بنے۔

فی الوقت یہ کہنا آسان نہیں کہ یہ روڈ میپ کامیاب ہوسکے گا یا نہیں۔تاہم ایک محدود پرامیدی اس بنا پر کی جاسکتی ہے کہ شاید اب امریکہ واقعتہً اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے ، کیونکہ اس کے منفی اثرات اس کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔

اسرائیل کی تعمیر میں امریکہ کا کردار

اسرائیل کی تخلیق اصلاً برطانیہ کی مرہون منت ہے۔اور اسرائیل کی تعمیر میں یہودیوں کی ان تھک جدوجہد کے ساتھ ساتھ امریکی یہودیوں کا پیسہ اور حکومت امریکہ کی مسلسل مادی واخلاقی امداد بھی شامل ہے۔

فی الوقت یہودیوں کی سب سے زیادہ تعداد امریکہ میں بستی ہے جن کی تعداد باون (۵۲) لاکھ ہے۔اس کے بعد اسرائیل کا نمبر آتا ہے جہاں اڑتیس (۳۸) لاکھ یہودی بستے ہیں۔امریکی یہودی انتہائی بااثر اور مال دار ہیں۔ہراہم ادارے میں ان کے بہت مضبوط لوگ ہیں۔دونوں سیاسی پارٹیوں میں اہم ترین عہدوں پر وہ فائز ہیں۔اگرچہ ان یہودیوں کے اندر بہت سے معاملات پر بے شمار اختلافات پائے جاتے ہیں ، تاہم اسرائیل کی سلامتی،بقا،تحفظ اور تعمیر کے معاملے میں وہ سب پوری طرح متحد ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی امریکی حکومت کے لیے اسرائیل کی مخالفت کرنا ممکن نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے قیام کے پہلے دن سے ہی اسے امریکی امداد کی فراہمی شروع ہو گئی۔یہ امداد دوشکلوں میں ہے۔ ایک شکل امریکی یہودیوں کی طرف سے اسرائیل کو براہ راست رقم کی فراہمی اور دوسری شکل امریکی حکومت کی طرف سے ریاستی سطح پر امداد۔امریکہ کی طرف سے سب سے زیادہ امداد اسرائیل کوملتی ہے ، بلکہ یہ کسی بھی ملک کی طرف سے کسی بھی ملک کو ملنے والی سب سے زیادہ امداد ہے۔صرف یہی نہیں ، بلکہ اگراسرائیل کوکوئی مسئلہ پیش آجائے مثلاً کسی جنگ میں اس کے اخراجات ہو جائیں توامریکہ فوراً اس نقصان کو پورا کردیتا ہے۔اسرائیل نے جان بوجھ کر اپنے ملک میں ایسی طرزمعاشرت رکھی ہوئی ہے کہ اگر امریکہ سے کوئی سیاح اسرائیل چلا جائے تو اسے کسی غیریت کا احساس نہ ہو۔اس معاملے میں اسرائیل نے یہودی نظام اخلاقیات کی تمام پابندیوں کی دھجیاں اڑائی ہوئی ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے ، تاہم ہمیں اس کا شعور ہونا چاہیے کہ مستقبل قریب میں بھی اسرائیل کے لیے امریکی امداد یونہی جاری رہے گی۔

چند اہم نکات

اب تک کی بحث سے چند اہم نکات ہمارے سامنے آتے ہیں:

اسرائیل کی تخلیق برطانیہ نے کی اور اس کی تعمیر میں امریکہ نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔

مسلمانوں کی خود غرضی،کوتاہ اندیشی،غلط فیصلوں،عدم جمہوریت اور حقائق کی بنیاد پرحکمت عملی نہ بنانے کی روش نے اسرائیل کے قیام کو آسان اور اس کی تعمیر کو آسان تربنا دیا ہے۔مثلاً اگر سلطنت عثمانیہ میں جمہوریت اور صوبائی خود مختاری ہوتی، اگر وہ ہوا کا رخ بھانپ کر عرب مقبوضات کو آزادی دے دیتی اور اگر ترکی کی حکومت پہلی جنگ عظیم میں کود نہ پڑتی تو اسرائیل کا قیام ناممکن حد تک مشکل ہوتا۔

عربوں کی نااتفاقی ، عاقبت نا اندیشی اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی مقاصد کو قربان کرنے کی روش نے بھی اسرائیل کی تعمیر اور تسلسل میں پورا کردار ادا کیا۔مثلاً پہلی جنگ عظیم میں عربوں نے برطانیہ کی حمایت کی۔قیام اسرائیل کے وقت فلسطینی ریاست نہ بننے کے معاملے میں اسرائیل اور اردن کے شاہ عبداللہ نے باقاعدہ خفیہ معاہدہ کیا۔پچھلے پچاس سال میں تمام عرب مسلسل آپس میں لڑتے رہے۔اردن اور مصر نے فلسطینی ریاست پرقبضہ کیااور اپنے زیرقبضہ علاقے میں فلسطینی ریاست نہ بننے دی۔سادات نے اسرائیل سے گفت وشنید میں صحرائے سینا تو واپس لے لیا ، مگر غزہ کا علاق

فلسطین کے معاملے میں عربوں نے ہمیشہ حکمت عملی اور زمینی حقائق کے خلاف قدم اٹھایا۔ ۱۹۱۷ء میں اعلان بالفور اور سائی کس پیکاٹ معاہدہ منظر عام پر آچکا تھا۔یہی وہ وقت تھا جب عربوں کو،انگریزوں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر ایک قابل عمل معاہد ہ کر لینا چاہیے تھا۔اس وقت عربوں اور انگریزوں کی طاقت میں ایک نسبت ہزار کا فرق تھا۔اور جب یہ صورت ہو تو قابل عمل پرامن معاہدہ ہی کمزور قوم کے مفاد میں ہوتا ہے۔پھر ۱۹۴۸ ء میں اگر عرب اقوام متحدہ کی قرار داد منظور کرلیتے تو آج کی نسبت ایک تہائی اسرائیل وجود میں آتا۔اس کے بعد بھی اگر عرب اپنے زیر قبضہ علاقہ میں فلسطینی ریاست بنادیتے تو اسرائیل سے گفت وشنید آسان ہوجاتی اور یروشلم بمع بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہتا۔اگر ناصر بڑکیں نہ ہانکتا اور مسلسل دھمکیاں دینے کے بجائے اپنی مملکت کے دفاع کی طرف توجہ دیتا تو ۱۹۶۷ ء کا سانحہ پیش نہ آتا۔ اسی طرح فلسطینیوں کی طرف سے ہرمتشددانہ کارروائی نے ان کی آزادی کو مزید دور اور ان کے ممکنہ علاقے کومزید محدود کر دیا ہے۔

آج اسرائیل کم آبادی والی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے جس کے پاس سیکڑوں ایٹم بم بھی ہیں۔دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ٹیکنالوجی اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے وہ دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ اردگرد کے تمام عرب ممالک کی مجموعی معاشی،فوجی اور اسلحی ذخائر سے اس کے ذخائر کہیں زیادہ ہیں۔کئی مسلمان ممالک بشمول اردن،مصر،تنظیم آزادی فلسطین،قطر اور ترکی نے اسے تسلیم کیاہوا ہے اور ان کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

چنانچہ اب ہمیں اس امر پر غور وفکر کرنا ہے کہ موجودہ حالات میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کے لیے بہتر اور قابل عمل حل کیا ہے۔

اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں بیت المقدس اور یروشلم کی صورت حال کو سمجھنا ہوگا۔یروشلم اس شہر کا نام ہے جہاں یہ مقدس احاطہ ''بیت المقدس''کے نام سے موسوم ہے جسے ہیکل سلیمانی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک احاطے کا نام ہے جس کی لمبائی اندازاً چار سو ساٹھ (۴۶۰) فٹ ہے اور چوڑائی اندازاً تین سوتیس(۳۳۰) فٹ ہے۔یہ دراصل وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک بڑا عمارتی کمپلکس بنایا تھا جو ان کا سیکرٹریٹ تھا۔اس کی تعمیر کے ساڑھے تین سو برس بعد بابل کے بادشاہ نبو کد نظر نے اس کو تباہ کردیا۔اس کے تقریباً ستر سال بعد ان کو دوبارہ یہ جگہ تعمیر کرنے کی اجازت ملی ، اس لیے کہ اس وقت وہاں فارس کے بادشاہ کا قبضہ ہوچکا تھا۔اس کے بعد یہ جگہ کئی دفعہ مختلف حملہ آوروں کی طرف سے تباہی کا نشانہ بنتی اور بار بار تعمیر ہوتی رہی۔حتیٰ کہ پہلی بڑی تباہی کے ساڑھے چھ سو برس بعد یعنی ۷۰ ء میں رومی حکومت نے اس کو بالکل تباہ کردیا۔یہود کا قتل عام کیا اور زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلاوطن کردیا۔اس تباہی میں ہیکل کی صرف مغربی دیوار کا ایک حصہ محفوظ رہ گیا۔ یہی وہ دیوار ہے جسے اب دیوار گریہ (Wailing Wall) کہا جاتا ہے یعنی وہ جگہ جہاں یہودی آکر اپنی عظمت رفتہ کی یاد میں روتے ہیں اور عبادات کرتے ہیں یہ گویا ان کے لیے مقدس ترین جگہ اور ان کا قبلہ ہے۔

اس دوسری تباہی کے پانچ سوستر سال بعد یعنی۶۳۸ء میں مسلمانوں نے حضرت عمر کے وقت میں یروشلم فتح کیا۔حضرت عمر نے اس پوری جگہ کو،جہاں کوڑا کرکٹ پڑا ہواتھا،صاف کیا اور اس کے جنوب میں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لیے مخصوص کر دی۔ یہی جگہ اب مسجد اقصیٰ ہے۔موجودہ مسجد اقصیٰ کی لمبائی تقریباًدوسو بیس (۲۲۰) فٹ اور چوڑائی اندازاًایک سوتین (۱۰۳) فٹ ہے۔راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان کے وقت ان کی اصل مسجد اسی جگہ واقع تھی۔اسی لیے حضرت عمر نے خاص اسی جگہ کو مسجد ٹھہرایا۔ورنہ وہ چاہتے تو اس تمام احاطے کو مسجد قرار دے سکتے تھے۔حضرت عمر نے باقی احاطے کو عیسائیوں یا یہودیوں کے لیے ممنوع قرار نہیں دیا۔

درمیان میں اٹھاسی (۸۸) سال کے ایک وقفے کے سوا پچھلے چودہ سوسال سے یہ پوری جگہ مسلمانوں کے قبضے میں رہی۔ ۱۹۶۷ ء میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کرلیا۔تاہم حکومت اسرائیل نے مسجد پر قبضہ نہیں کیا ، بلکہ اس جگہ کی چابیاں حکومت اردن کے حوالے کردیں۔اس وقت سے لے کر اب تک مسجد کا نظم و نسق یروشلم کے مسلم و قف کے پاس ہے۔

اس پورے احاطے کا ایک انتہائی اہم حصہ قبۃ الصخرا ہے۔اہم اس حوالے سے کہ اس کے متعلق مسلمانوں کی معلومات بہت کم ہیں۔یہ دراصل ایک چٹان ہے جس کی اونچائی تقریباً پانچ فٹ ہے۔اس چٹان کے اردگرد لکڑی کا ایک کٹہرا ہے۔ اس کے اوپر ایک بڑا سبز گنبد ہے۔یہی وہ گنبد ہے جو ہر تصویر میں نظر آتا ہے اور جسے عام مسلمان لاعلمی کے باعث مسجد اقصیٰ کا گنبد سمجھتے ہیں۔یہ بالکل ایسی ہی ایک جگہ ہے جیسے ہمارے ہاں مزار اور گنبد والا مقبرہ ہوتا ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ یہاں مزار کے بجائے چٹان ہے۔گویا یہ کوئی مسجد نہیں ، بلکہ محض ایک یادگار ہے۔

اس کی تعمیر کی داستان بھی دلچسپ ہے ۔صحابۂ کرام کے زمانے میں اس چٹان اور اس سے ملحق جگہ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ یہاں نماز بھی نہیں پڑھی جاتی تھی۔اسے مسجد کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔یعنی یہ کوئی تقدس کی حامل جگہ نہیں تھی۔بعد میں بنوامیہ کے زمانے میں ولیدبن عبدالملک نے اس پر گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔دراصل اس وقت مکہ معظمہ میں ولید کے مخالف عبداللہ بن زبیر کی حکومت تھی اور جو لوگ بھی باہر سے حج کے لیے جاتے تھے،ان سے ابن زبیر اپنی حکومت کی بیعت لیتا تھا۔ چنانچہ ولید نے اپنی مملکت کے لوگوں کو حج پر جانے سے روک دیا اور یہاں اس چٹان کو ایک مقدس مقام قرار دیا تاکہ حج کے بجائے لوگ یہاں آئیں اور اس جگہ کا طواف کریں۔ظاہر ہے کہ اس اقدام کا دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں تھا ، بلکہ یہ ایک سیاسی اقدام تھا۔

جب بھی کسی جگہ کو باقاعدہ ایک مقصد کے تحت تقدس دیا جاتا ہے تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کی عظمت سے متعلق داستانیں لوگوں میں پھیلائی جائیں اور اس کے متعلق قصے کہانیاں مشہور کی جائیں ۔ چنانچہ قبۃالصخراکے متعلق بھی یہی ہوا ہے اور اس ضمن میں بہت سی احادیث بھی گھڑی گئیں۔اس طرح کی من گھڑت روایات کو احادیث کی چھ اہم ترین کتابوں میں سے کسی نے اپنے ہاں جگہ نہیں دی۔تمام اہل علم ان روایات کو انتہائی ضعیف قرار دیتے ہیں اور ابن القیم اور البانی جیسے علماے حدیث ان کو جھوٹا اور من گھڑت کہتے ہیں۔

چونکہ خانۂ کعبہ ،مسجد اقصیٰ سے جنوب کی طرف ہے، اس لیے جب مسلمان مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھتے ہیں تو ان کی پشت قبۃ الصخرا کی طرف ہوتی ہے۔یہ قبہ،مسجد اقصیٰ کی عمارت سے تقریباً ایک سو پچھتر(۱۷۵) فٹ شمال میں ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں ۲۸ ستمبر۲۰۰۰ کا اس وقت کے اسرائیل کے حزب اختلاف کے رہنما ایریل شیرون نے باہر سے دورہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں دوسرا انتفاضہ اور فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

یہاں تین اہم سوالات پر غور وفکر ضروری ہے۔ایک سوال یہ ہے کہ کیا سارا احاطہ بیت المقدس یعنی ۴۶۰x۳۳۰ فٹ کی جگہ مسلمانوں کا قدرتی،اخلاقی اور مذہبی حق ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔کیونکہ حضرت عمر نے اس کا ایک ٹکڑا مسجد اقصیٰ کی شکل میں مسجد کے لیے مختص کردیا تھا۔باقی احاطے میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کے آگے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔چنانچہ آج بھی اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوجائے جس میں تمام مذاہب کے تقدس واحترام کو مدنظر رکھا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ پچھلے ساٹھ برس سے معرکۂ فلسطین سے متعلق تصویر میں مسجد اقصیٰ کی تصویر تو کہیں نظر نہیں آتی اور ہمیشہ قبۃا لصخر ا کی تصویر ہی نمایاں ترین حصے کے طور پر سامنے لائی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی لیڈر شپ شروع سے ہی قوم پرست لوگوں کے ہاتھ میں رہی ہے۔اس لیے انھوں نے دانستہ طور پر ایک مذہبی عمارت کو اپنا شعار بنانے سے گریز کیا۔بعد میں جب اسلامی ذہن رکھنے والے لوگوں کو بھی آزادی فلسطین کی تحریک میں اہمیت حاصل ہو گئی تو چونکہ ان پر بھی جذبات کا غلبہ تھا۔اس لیے انھوں نے یہ موقف اختیار کر لیا کہ اس پورے احاطے پر مسلمانوں کے علاوہ کسی کا حق نہیں ۔ چنانچہ انھوں نے بھی مسجد اقصیٰ کو نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا دینی اعتبار سے یہ ممکن ہے کہ ہم اس پوری زمین کے کسی حصے پر اسرائیل نامی ایک ریاست کو تسلیم کرکے قانونی طور پر ان کا یہ حق مان لیں کہ وہ بھی یہاں رہ سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اسرائیل کا وجود بے انصافی، ظلم اور جبر کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے اور اس لحاظ سے اس کی اخلاقی حیثیت کچھ بھی نہیں۔تاہم اس دنیا میں بے شمار ممالک ظلم اور جبر ہی کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں اور ہم سیاسی حقیقت کے طور پر ان کا وجود تسلیم کرتے ہیں اور ان سے معاملات کرتے ہیں ، مثلاً ہم امریکہ پر ریڈ انڈین کے بجائے موجودہ سفید فام لوگوں کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔اسی طرح ہم سنکیانگ پر چین کی عمل داری تسلیم کرتے ہیں۔یہی حال اسرائیل کا ہے ۔دینی اعتبار سے ہمارے لیے کافی ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اس تک پہنچنے کے راستے مسلمانوں کے قبضے میں ہوں تاکہ ہم اپنے اس تیسرے مقدس ترین مقام تک آسانی اورخود اعتمادی سے پہنچ سکیں۔باقی رہا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال،تویہ دینی نہیں ، بلکہ سیاسی مسئلہ ہے۔ مسلمان ممالک اس کے مثبت اور منفی اثرات کا معروضی جائزہ لے کر اس کا کوئی بھی مناسب فیصلہ کر سکتے ہیں۔ہماراکام تو یہ دیکھنا ہے کہ دستیاب حالات میں مسلمانوں کے لیے بہترین حکمت عملی کونسی ہے جس کے ذریعے سے مسلمان امن ووقار سے رہ سکیں اور ترقی کرسکیں۔

حل

مسئلۂ فلسطین کے حل میں اس وقت تین معاملات سب سے زیادہ اہم ہیں۔ایک یہ کہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی کا کتنا حصہ فلسطین کو دیا جائے۔دوسرا یہ کہ یروشلم کے مقدس مقامات کو کیسے تقسیم کیا جائے اور تیسرا یہ کہ جو فلسطینی ۱۹۴۸ ء میں مہاجر ہوگئے تھے، ان کی دوبارہ آباد کاری کہاں اور کیسے کی جائے۔جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے،انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ دونوں علاقے سو فی صد فلسطینی ریاست کی عمل داری میں دیے جائیں۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں علاقوں خصوصاً غرب اردن میں اسرائیل نے بہت سی یہودی آبادیاں تعمیر کر لی ہیں۔چنانچہ اگر ان میں سے کچھ آبادیوں پر فلسطین کی طرف سے لچک دکھائی جائے تو مناسب ہے ۔ویسے بھی فلسطینی ریاست کا اصل مسئلہ زمین نہیں ہے ، اس لیے کہ اردگرد کے عرب ممالک کے پاس بے تحاشا علاقے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو اپنے کچھ علاقے (مثلاً صحرائے سینا)فلسطین کے حوالے کرکے اسے اسرائیل سے کئی گنابڑا ملک بنا سکتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یروشلم کے مقدس مقامات کا ہے۔جیسا کہ قارئین کے مطالعے میں آچکا ،اس مسئلے کا قابل عمل حل موجود ہے۔ وہ یہ کہ مسجد اقصیٰ اور یروشلم کا مسلم اکثریتی علاقہ،فلسطین کے حصے میں آئے اور دیوار گریہ،مغربی یہودی اکثریتی علاقے سمیت اسرائیل کو دی جائے۔جہاں تک قبۃالصخرا کا تعلق ہے،اسے فلسطین اور اسرائیل کی مشترکہ عمل داری میں دیا جاسکتا ہے۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ اسرائیل ،اسے مکمل طور پر فلسطین کو دینے پر رضامند ہو جائے۔اس لیے کہ وہاں عام طور پریہودی زائرین نہیں جاتے۔

تیسرا مسئلہ ان لاکھوں فلسطینیوں کا ہے جو ۱۹۴۸ ء میں مہاجر ہوگئے تھے۔انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان سب کو واپس اپنے اپنے گھروں میں آنے کی اجازت دی جائے۔ان کے سابقہ گھر موجودہ اسرائیل میں واقع ہیں۔تاہم اسرائیل کبھی یہ بات نہیں مانے گا ، اس لیے کہ اس طرح اسرائیل میں یہودی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔یہ تاریخ کا ایک سفاک جبر ہے کہ مہاجرین کے لیے عموماً واپس اپنے علاقے میں جانا ممکن نہیں ہوتا۔مثلاً افغانستان سے روسی افواج کو نکلے ہوئے پندرہ برس ہو چکے ، مگر افغان مہاجرین ابھی تک پاکستان ہی میں ہیں۔بنگلہ دیش میں پچھلے تیس برس سے لاکھوں بہاری مہاجر کیمپوں میں زندگی بسر کررہے ہیں ، مگر پاکستان ان کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔یہی صورت فلسطینی مہاجرین کی ہے۔ان کی آباد کاری کی سب سے قابل عمل صورت یہ ہے کہ ان کو فلسطینی ریاست میں آباد کیا جائے اور اس کی ذمہ داری اقوام متحدہ اٹھائے۔

امت مسلمہ کی ترقی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ فلسطین میں امن قائم ہوجائے۔

____________