متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (2/3)


متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (1/3)

۸۔ عورت کا مرد کی عقل کو فتور میں مبتلا کرکے اس کو غلط کام پر اکسانا بلاشبہ ایک گناہ کی چیز ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کوئی عورت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ مرد بھی عورت اور دیگر انسانوں کو اکساتا ہے۔ رہا وہ پہلو جس کو ابن حجر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ مرد جب عورت کے جال میں پھنس کر وہ بات کہہ یا کردیتا ہے جس پر اس نے ابھارا ہوتا ہے تو گویا وہ صرف ابھارنے کی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس کارِ شر میں شریک بھی ہے۔ اس لیے وہ زیادہ قصور وار ہوئی ۔۳۲؂ یہ بات بھی تب درست ہے کہ مرد دوسروں کو برائی پر نہ اکساتے ہوں، اور اکسا کر ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ عورت کے لیے مرد وہی کردار ادا کرتا ہے، جو اس روایت میں عورت کے لیے بیان ہوا ہے۔

روایت کا اپنا جملہ تو یہی بات کہتا ہے کہ تمھیں عقل تو پوری ملی ہے، مگر پھر بھی تم مردوں کے مقابلے میں لعن طعن اور کفرانِ زوج کرتی ہو، حالاں کہ اس سے بچنے کی عقل اور صلاحیت تمھیں ویسی ہی دی گئی ہے، جیسی مردوں کو، اسی لیے تو تم زیادہ دوزخ میں جاؤ گی۔ جب کہ اس پر اس متضاد جملے کو عطف کردیا گیا ہے کہ تم ناقص عقل ہو۔

اس دراز گوئی کا مقصد یہ ہے کہ کئی پہلوؤں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ پیغمبر اسلام کا جملہ نہیں ہے۔ایک صحابی کا فرمان ہے، ان کی بات بھی بلاشبہ ایک نوع کی حجیت اپنے اندر رکھتی ہے، لیکن بہرحال وہ قول رسول کے برابر نہیں ہے۔

اصل بات کیا ہو گی

اوپر کی بحث سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ ناقصات عقل والا جملہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تھا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیا گیا۔

یہ بات اگرچہ میرے اس مضمون کے دائرے میں نہیں آتی ، لیکن اپنی جگہ اہم ہے کہ حدیث میں جن دو جرموں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں کہ وہ شوہروں اور اعزہ کی ناشکری ہیں ، اور لعن طعن زیادہ کرتی ہیں، وہ بظاہر دوزخ میں لے جانے والا جرم محسوس نہیں ہوتا، اس لیے شاید عبد اللہ بن مسعود نے عورتوں کے بہ کثرت دوزخ میں جانے کی ایک اور ایسی وجہ بتانے کی کوشش کی جودوزخ میں لے جانے کا جواز مضبوط کرتی ہو۔ لیکن تمام طرق بلاامتیاز سند اکٹھے کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف احادیث میں جرم کی نوعیت مختلف ہے۔

ان جرائم کی فہرست اگر بنائی جائے تو وہ درج ذیل بنیں گے:

۱۔ احمران: سونا اور زعفران۳۳؂ کی بنا پر آخر ت سے غفلت،۳۴؂ یعنی مسلسل زیبایشِ تن میں مشغول رہنا کہ آخرت فراموش ہی ہو کررہ جائے (ادب النساء، رقم ۲۲۰)۔

۲۔شوہر کی احسان فراموشی اور کثرت شکایت، اور مطلق احسان فراموشی (بخاری، رقم ۱۰۵۲، و متعدد۔ کثرتِ شکایت کا مضمون سنن دارمی، رقم ۱۶۵۱)۔

۳۔ لعن طعن کرنا اور دوسری عورتوں میں اس عادت کو پھیلانا(سنن الدارمی، رقم۱۶۵۱)۔

سواے پہلے جرم کے ان میں سے ہرجرم الگ الگ بہ کثرت دوزخ میں جانے کا سبب بنتا ہے یا نہیں۔ بحیثیت فرمانِ پیغمبر ہمیں ماننے میں تردد نہیں ہے، لیکن ایک ایسا جرم جس کی سزا میں ایک گروہِ انسانیت بہ کثرت دوزخی ہونے والا ہو، تو اس کو محض ایک روایت میں بیان کیا جائے ، کہیں اور زیر بحث نہ آئے، یہ ایک حیرت کی بات ہے؛ نہ قرآن میں، نہ اور دیگر احادیث میں۔ لہٰذا تاویل کرنا ہوگی۔ حضرت عبدا للہ نے یہی کوشش کی تھی۔جو اب ہمارے سامنے قول رسول کا حصہ بن کر روایت ہو ئی ہے۔لیکن یہ تاویل اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ دین کے محکم اصولوں اور تعلیمات کے برعکس ہے۔

اگر زینب زوجہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی روایت تک بات کو محدود رکھا جائے، جو اس گفتگو کے وقت خواتین کے پنڈال میں تھیں تو نہ ناقصاتِ عقل و دین والی بات حدیث نبوی کا حصہ بنتی ہے، اور نہ شوہر کی ناشکری اور لعن طعن والی بات۔ حضرت زینب نے ان دونوں باتوں کا ذکر اپنی کسی روایت میں نہیں کیا۔جو بذات خود ایک اہم بات ہے۔

لفظی ادراج کی ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں،اس لیے کہ مضمون پہلے ہی بہت طویل ہو گیا ہے۔

معنوی ادراج

پہلی مثال تو حدیث میں ایک جملے کے درج ہونے کی ہے، یہ دوسری مثال اس بات کی ہے کہ بالمعنیٰ روایت ہونے سے معنوی ادراج بھی ہوتا ہے۔ جس کی یہاں میں وہ مثال دوں گا جس کی غلطی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے نکال دی تھی۔آئیے اب ایسی ہی ایک مثال دیکھتے ہیں، جس میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے تبدیلی کی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کی۔یہ تبدیلی ایسی ہے کہ شاید ہی کسی عالمِ دین کی گرفت میں آ سکتی:

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِذَا أَتَیْتَ مَضْجَعَکَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوْءَ کَ لِلصَّلٰوۃِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: أَللّٰہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِيْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِيْ إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِيْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، أَللّٰہُمَّ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ، فَأَنْتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ، وَاجْعَلْہُنَّ آخِرَ مَا تَتَکَلَّمُ بِہِ''. قَالَ: فَرَدَّدْتُہَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ: أَللّٰہُمَّ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ، قُلْتُ: وَرَسُوْلِکَ، قَالَ: ''لاَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ''. (بخاری، رقم ۲۴۷)

''براء بن عازب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سونے کے لیے بستر پرآؤ تو نماز والا وضوکرو، پھر دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ، پھر یہ دعا کیا کرو: 'اے اللہ، میں اپنے آپ ۳۵؂ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ اپنا معاملہ آپ کو تفویض کرتا ہوں ، آپ کی پشت پناہی میں آتا ہوں، آپ کے ساتھ تعلق خاطر اور آپ کی رعب و ہیبت کی وجہ سے،اوراس وجہ سے کہ آپ کے سوا میرا نہ کوئی ملجا ہے اور نہ کوئی جائے پناہ۔ اے اللہ، میں نے آپ کی کتاب قرآن مجید کو مان لیا ہے، اور آپ کے نبی کو بھی مان لیا ہے، جنھیں آپ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ ' یہ دعا سکھا کر آپ نے فرمایا : اگر تو اس رات کو مرگیا، تو تو فطرتِ سلیم پر فوت ہوگا، ان الفاظ کو اپنے آخری کلمات بنا لو، جو تم سوتے وقت کہوگے۔ توکہتے ہیں کہ میں نے یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو(یہ دیکھنے کے لیے کہ مجھے صحیح یاد ہو گئی ہے)سنائی تو جب میں یہاں پہنچا کہ اے اللہ، میں نے آپ کی کتاب کو مان لیا ہے، اور 'آپ کے رسول'... تو آپ نے فوراً ٹوکا: کہ نہیں یوں کہو، 'آپ کے نبی جن کو آپ نے رسول بنا یا ہے'۔''

یہاں دیکھیے کہ ہمارے لیے یہ بات شاید اتنی اہمیت کی حامل نہ ہو، ہمارا کوئی ساتھی اگر یہ جملہ یوں بھی کہتا کہ 'و رسولک الذي أرسلت'، تو ہم کہتے چلو ٹھیک ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن نبی آخر الزماں کی بصیرتِ رسالت اس بات کو ایسے ہی نہیں جانے دینا چاہتی ، اس لیے کہ اس سے دین کی دوبنیادی اور اہم اصطلاحات میں خرابی آجاتی۔ قرآن مجید میں نبی اور رسول دو الگ الگ منصب ہیں۔ یہ تو ہے کہ انسانوں میں سے ہر رسول نبی لازماً ہوتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے ہر نبی لازماً رسول ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں منصب حاصل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف خاتم النبیین کہنے سے انسانوں میں نبوت و رسالت، دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر خاتم المرسلین کہا جاتا تو نبوت کا اجرا قائم رہتا، کیونکہ نبوت بنیادی منصب ہے، اور رسالت اس کی بنیاد پر ملنے والااعلیٰ منصب ہے۔اس فرق کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔کسی شخص کو وزارت عظمیٰ پانے کے لیے پارلیمنٹ کا ممبر ہونا ضروری ہے، لیکن ہر پارلیمانی ممبر کے لیے وزیر اعظم ہونا لازم نہیں ۔ کچھ ایسا ہی معاملہ نبوت و رسالت کا ہے۔ جب تک کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے، اسے رسالت کا منصب نہیں مل سکتا۔ اس روشنی میں آپ اس جملے کہ 'نبی جن کواللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے' کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں کس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔اب اگر وہ جملہ بولا جائے جو میں نے قیاساً لکھا ہے کہ جو غالباً حضرت براء رضی اللہ عنہ کہنا چاہتے تھے، تو وہ اس تصورِ نبوت کے برعکس ہوجاتا ہے۔اس تصور کو قرآن مجید میں بھی پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ اعراف کی ذیل کی آیت میں دیکھیے کہ منصبوں کو کس طرح ترتیبِ نزولی سے بیان کیا گیا ہے۔ ہم نے سہولت کے لیے الفاظ کو خط کشید کردیا ہے:

قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ.(۷: ۱۵۸)

''ان سے کہو، اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنایا گیا ہوں، اس خداکا رسول جو زمین وآسمان کا بادشاہ ہے، جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، جو زندگی اور موت دیتا ہے، لہٰذا اللہ کو مانو، اور اس کے اس رسول کو مانو، جو امیوں میں سے نبی ہے، جو بذاتِ خود بھی اللہ اور اس کے کلام کو مانتا ہے، اس کی پیروی کرو تو ہدایت پاؤ گے۔''

یہ مثال میں نے اس لیے پیش کی کہ لفظی روایت کرنے سے بصیرتِ رسالت کے چنے ہوئے الفاظ ہم تک منتقل ہوتے ہیں، جن میں نہایت باریک اور دقیق پہلوؤں کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہوتا ہے، جیسا کہ اس مثال میں ہم نے دیکھا۔ لیکن ذہین سے ذہین امتی، بڑے سے بڑا امام، اس بصیرتِ رسالت سے محروم ہوتا ہے، اس لیے وہ جب کلامِ نبوی کو بالمعنیٰ روایت کرے گا تو اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اس بصیرت سے بات کو آگے منتقل کرے کہ اس میں معمولی سا تغیربھی نہ آیا ہو۔ اس مثال میں براء جیسے جلیل القدر صحابی ہیں، وہ کم عمر ہونے کی وجہ سے اس نازک بات کا فرق ملحوظ نہیں رکھ سکے، جس پر نبیِ رحمت نے ان کی اصلاح کی۔شاید یہی وہ پہلو تھا کہ جس کی وجہ سے قدیم احناف راوی کے فقیہ ہونے کی شرط بھی لگاتے تھے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ صاحبِ نبوت کا وہ ملکہ اورعلم جنھیں قرآن مجید نے 'الْکِتٰب'، 'الْحُکْم' اور 'النُّبُوَّۃ' ۳۶؂ کہا ہے، وہ فقیہ سے فقیہ راوی کے پاس بھی نہیں ہوسکتے۔

عصر حاضر میں جو حملہ حدیث پر ہوا ہے، اس کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان فقیہ اور غیر فقیہ راویوں نے روایت بالمعنیٰ کے طریقے پر جب بات کو اپنے الفاظ میں منتقل کیا ، اور مثلاً 'نبی' کی جگہ 'رسول' کا لفظ بول دیا ہوگا، جس سے معنی میں کہیں معمولی، کہیں بڑا اور کہیں غیر معمولی فرق آگیا ہو گا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرۂ حدیث کو متساہل طریقے سے اختیار نہ کریں،بلکہ نہایت دقتِ نظر سے تمام ذخیرۂ حدیث کو پرکھیں اور کوشش کریں کہ لفظی اور معنوی ادراجات سے جس قدر ممکن ہو حدیث کو پا ک کرلیں۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہانِ فانی سے رخصت ہو جانے کے بعد اب کون اس کے بارے میں بتا سکے گا کہ راویوں نے الفاظ بدل کر مضمون میں کیا کیا تبدیلیاں کردی ہیں۔اب ہمارے پاس اس عمل کے لیے خود قرآن مجید،سنت متواترہ اورمتعدد طرقِ حدیث ہی کی روشنی میسر ہے۔ اس لیے نہایت دقت نظر سے کام کی ضرورت ہو گی۔

راے کا ادراج

اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی صحابی یا راوی کا فتویٰ یا راے حدیث کا حصہ بن گئی ہو۔ اس کی ایک عمدہ مثال وہ حدیث ہے جس میں عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حسن بڑھانے کے لیے اگر ایسے کام کیے جائیں جو خلق اللہ میں تبدیلی کرتے ہوں تو ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے (بخاری، مسلم)۔ وہ حدیث یہ ہے:

عن عبد اللّٰہ قال: لعن اللّٰہ الواشمات والمتوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللّٰہ ۔ فبلغ ذلک إمرأۃ من بني أسد یقال لہا أم یعقوب، فجاء ت فقالت: إنہ بلغني أنک لعنت کیت وکیت، فقال: وما لي لا ألعن من لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم ومن ہو في کتاب اللّٰہ، فقالت: لقد قرأت ما بین اللوحین فما وجدت فیہ ما تقول، قال: لئن کنت قرأتیہ لقد وجدتیہ، أما قرأت: ''وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا''؟ قالت: بلی، قال: فإنہ قد نہی عنہ.(بخاری، رقم ۴۶۰۴)

''حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حسن و تزیین کے لیے جلد پر نقش بنانے،اور بنوانے والیوں پر، چہرے کے بال اکھڑوانے والیوں، دانتوں کو رگڑ کر ان کا باہمی فاصلہ بڑھانے والیوں،اور یوں خلق اللہ کو تبدیل کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ان کی یہ بات بنو اسد قبیلے کی ایک خاتون، جنھیں ام یعقوب کہا جاتا تھا، نے سنی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کچھ اس طرح کے لوگوں پر لعنت کرتے ہیں! انھوں نے کہا کہ میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہو۔اس عورت نے کہا کہ میں نے تو قرآن مجید شروع سے آخر تک پڑھا ہے۔ لیکن میں نے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا: اگر آپ نے صحیح طرح سے قرآن پڑھا ہوتا تو یقیناًیہ بات آپ اس میں پا لیتیں۔ کیا آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ ''جو کچھ اللہ کے رسول نے دیا ہے، وہ لے لو، اور جس سے آپ نے روکا ہے، اس سے رک جاؤ''؟ اس عورت نے کہا: ہاں، میں نے یہ آیت پڑھی ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ پھر جان لو کہ ان کاموں سے نبی اکرم نے روکا ہے۔''

اس میں بیان کردہ تین نکات ہیں:

۱۔اللہ تعالیٰ نے ان خواتین پر لعنت کی ہے جو 'واشمات'،'متوشمات'،'متنمصات' اور 'متفلجات' ہیں۔

۲۔ یہ لعنت زیب و زینت (makeup) کے لیے ایسا کرنے والیوں پر ہے ، ابن مسعود رضی اللہ نے اس کے لیے 'للحسن' کے الفاظ بولے ہیں۔

۳۔ ایسی زیب وزینت لعنت کی مستحق ہے جو خلق اللہ میں تبدیلی پیدا کرے۔

دوسرا اور تیسرا نکتہ سراسر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اپنی راے ہے، اس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلا نکتہ جزواً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہو سکتا ہے، لیکن جس محل میں یہ آیا ہے ، اس محل میں یہ حضرت ابن مسعود کی اپنی ذاتی راے ہے۔ اسی طرح ملعونین کی فہرست میں بھی انھوں نے اضافہ کیا ہے۔ دیگر صحابہ سے صرف 'وشم' اور 'وصال الشعر' سے متعلق بیان لعنت روایت ہوا ہے۔ 'تنمص'اور 'تفلج' کے بارے میں نہیں۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت کے اگر تمام طرق اکٹھے کیے جائیں تو ان کی راے کچھ یوں تشکیل پاتی ہے: بالوں میں مصنوعی بال لگانا، اور جلد پر نقش بنوانا، دونوں ایسے عمل نہیں ہیں کہ قرآن وسنت پر نظر رکھنے والا، ان کو ایسا جرم سمجھے جس پر اللہ تعالیٰ خود لعنت کررہے ہوں،اس لیے کہ قرآن اور سنت دینی اور اخلاقی چیزوں پر زور دیتے ہیں ، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اتنا سنگین جرم کیوں ہیں ؟ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن و سنت پر غور کرکے اس کی سنگینی کا سبب ازخودمتعین کیا۔ یہ سبب ظاہر ہے ان کے اپنے اجتہادی فہم پر مبنی تھا۔اس جرم کو انھوں نے ایسی چیز سے جوڑا جو واقعی اس لعنت کی مستحق ہو۔ قرآن مجید میں انھیں ایک ملتی جلتی چیز ملی۔ وہ جانوروں کے کا ن وغیرہ کاٹنے سے متعلق تھی:

وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُ مَنِّیَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا.(النساء ۴: ۱۱۹)

جانوروں کے کان کاٹنا ، جسم پر نقش بنانے جیسا ہی ایک کام ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جانورکے کان میں محض ایک کٹ لگا دینا اتنا برا کیوں ہے؟ قرآن کی اسی آیت میں اس کی علت بھی بتائی گئی ہے اور وہ خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے ظاہری معنی میں لیا، یعنی جسم میں کوئی ظاہری تغیر خلق اللہ میں تبدیلی ہے۔ جیسے یہاں کانوں کو چھیدنایا چیرنا بیان ہوا ہے۔اسے اللہ تعالیٰ نے 'خسران مبین' کا باعث بتایا ہے۔اس پر قیاس کرتے ہوئے عبد اللہ ابن مسعود نے اسی حکم کا انظباق 'وشم' اور 'وصال الشعر' والی نہی پر بھی کردیا۔یہی نہیں، بلکہ اس سے ملتی جلتی چیزوں کو بھی اس میں شامل کردیا۔ ظاہری معنی میں جو جو کام خلق اللہ میں تبدیلی کا باعث تھے، وہ سب انھوں نے اس حکم کے تحت جمع کردیے۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'وشم' اور 'وصال شعر' سے روکا تھا تو انھوں نے 'تنمص'اور 'تفلج' کو بھی ایسا ہی عمل قرار دے دیا۔ یہ غور و فکر کاایک عمدہ منہج ہے، جس سے فہم دین کے دروازے وا ہوتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے سمجھی جانے والی بات قول رسول نہیں بنتی۔ مگر ہمارے ہاں اسے قول رسول سمجھا گیا ہے۔ کسی اور صحابی نے 'وشم' اور 'وصال شعر' کی روایت بیان کرتے وقت یہ سب کچھ نہیں بتایا۔پورا ذخیرۂ احادیث اس سے خالی ہے کہ حضرت ابن مسعود کے سوا کسی نے 'وشم' اور 'وصال شعر' کو خلق اللہ میں تبدیلی کے تحت بیان کیا ہو، اور زیبایش کے لیے ایسا کرنے والوں پر اس طرح سے لعنت بھیجی ہو۔

اس روایت کا لفظ لفظ بتا رہا ہے کہ یہ ان کی راے ہے۔بنو اسد کے قبیلے کی خاتون نے یہ سوال نہیں کیا کہ آپ حدیث سنا رہے ہیں تو یہ آپ نے کہاں سے لی ہے۔ اس کا سوال یہ تھا کہ آپ ان ان لوگوں پر لعنت کیوں کررہے ہیں؟ اس سوال سے صاف مترشح ہے کہ وہ اس راے کو حدیث کے طور پر نہیں، بلکہ ابن مسعود کی راے کے طور پر لے رہی تھی،اور عبد اللہ ابن مسعود نے جو جواب دیا ، وہ بھی یہی بتا رہا ہے کہ وہ اپنی راے ہی کا دفاع کررہے ہیں۔نہ وہ قول رسول سنا رہے ہیں اور نہ کسی قول رسول کا دفاع کررہے ہیں۔

جب بنو اسد کی عورت نے ان سے پوچھا تو انھوں نے یہ کہنے کے بجاے کہ یہ میری راے نہیں ہے میں آپ کو حدیث نبوی سنا رہا ہوں ۔ انھوں نے اپنی راے کا دفاع کیا ہے، انھوں نے کہا کہ میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ ان کے جملہ کا ابتدائی حصہ کہ 'میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں' بتارہا ہے کہ لعنت کرنے کا عمل ان کا اپنا ہے۔ ورنہ سیدھا جواب یہ تھا کہ میں تو حدیثِ نبوی سنا رہا ہوں، خود میں نے تو کسی پر لعنت نہیں کی۔ ان کے مروی جملے سے باول وہلہ دوسرا تاثر ہوسکتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ حدیث کی حکایت کرنے کے بجاے اپنی راے کے حق میں ایک مکمل علمی استدلال پیش کر رہے ہیں۔

________

۳۲؂ 'وَیَظْہَرْ لِیْ أَنَّ ذٰلِکَ مِنْ جُمْلَۃِ أَسْبَابِ کَوْنہنَّ أَکْثَر أَہْل النَّار؛ لِأَنَّہُنَّ إِذَا کُنَّ سَبَبًا لِإِذْہَابِ عَقْلِ الرَّجُلِ الْحَازِم حَتّٰی یَفْعَلَ أَوْ یَقُوْلَ مَا لَا یَنْبَغِيْ، فَقَدْ شَارَکْنَہُ فِي الْإِثْم وَزِدْنَ عَلَیْہِ'. (فتح الباری ۱/ ۴۷۶)

۳۳؂ زعفران ایک پودا ہے، جس کے پھول کو رنگ اور خوشبو کے لیے پیس کر سفوف (پاؤڈر)بنا لیا جاتاتھا۔ اسے بطور خوشبو بھی استعمال کیا جاتاتھا، اور اس سے داڑھی اورسر کے بالوں اور کپڑوں کو رنگنے اور چاندی کے زیورات پر زرد رنگ چڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔گویا یہ زیب و زینت کا ایک اہم ذریعہ تھا۔اسی وجہ سے اس کی طلب،حصول اور استعمال کی تراکیب وغیرہ عورتوں کے لیے مشغولیت کا بڑا سبب رہا ہوگا۔

۳۴؂ واضح رہے کہ آخرت سے غفلت ہی بلاشبہ وہ چیز ہے جو مردو عورت ہر ایک کو دوزخ میں لے جائے گی۔ خود قرآن مجید نے اسی مضمون کو سورۃ التکاثر میں اور دیگر بے شمار جگہوں پر بیان کیا ہے۔ سورۃ التکاثر میں تو الفاظ بھی وہی ہیں، جو اس حدیث میں استعمال کیے گئے ہیں۔ 'اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ. حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ'، ''تمھیں مال کی کثرت کے جذبے نے تمام عمر غافل رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے'' (۱۰۲: ۱۔۲)۔ یہ وہ وجہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہو گی۔عورتوں کو بننے سنورنے اور سونا چاندی کے پیچھے لگے رہنے سے وہ غفلت پیدا ہوئی جس نے جنت کی تیاریوں سے روکے رکھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک کچھ اسی مفہوم کا ہے، جیسے ہم پنجاب کے محاورے کے مطابق کہیں: انھیں سرخی پوڈر نے غافل کیے رکھا۔ یعنی بناؤ سنگھار نے۔ اس طرح کے جملے سے اس چیز کی حرمت بیان نہیں ہوتی، بلکہ یہ بیان ہوتا ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس میں مشغول ہو کر آدمی اپنی راہ کھوٹی کرسکتا ہے۔

۳۵؂ اگرچہ یہاں 'چہرہ' کا لفظ آیا ہے، لیکن عربی محاورے کے مطابق چہرہ بول کر پوری ذات مراد ہوتی ہے۔ میں نے ترجمہ اسی لحاظ سے کیا ہے، اس کی مثالیں قرآن مجید میں بھی ہیں، جیسے کہ القصص ۲۸ کی آیت ۸۸ میں استعمال ہوا ہے:

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ.

''اور اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو مت پکارو، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ ہی نہیں ہے، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، سواے اس کی ذات (چہرے) کے، اسی کی حاکمیت ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔''

(نوٹ : آیت میں یہاں بھی ''سوائے اس کی ذات کے'' کے بجاے ''سوائے اس کے چہرے'' کے آیا ہے)۔

۳۶؂ مثلاً اس آیت میں دیکھیے، نبیوں کے ذکر کے بعد فرمایا:

اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَاِنْ یَّکْفُرْ بِھَا ھآؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِھَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِھَا بِکٰفِرِیْنَ. (الانعام ۶: ۸۹)

متن حدیث میں ہمارے تصرفات (۲) (3/3)

____________