مولانا مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ (۱)


''حدود وتعزیرات- چند اہم مباحث''کے عنوان سے ہماری جو تالیف چند ماہ قبل شائع ہوئی ہے، اہل علم کی طرف سے اس پر مختلف اور متنوع تبصرے سامنے آ رہے ہیں جو علمی وفکری بحثوں میں ایک فطری بات ہے۔ اس ضمن میں دار الافتاء جامعہ مدنیہ لاہور کے صدر جناب ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نے ''مقام عبرت'' کے نام سے اپنی ایک تحریر میں کتا ب کے بعض مباحث کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ یہ تحریر ماہنامہ 'الشریعہ' میں چھپنے کے علاوہ ایک مستقل کتابچے کی صورت میں بھی شائع کی گئی ہے۔ آئندہ سطور میں ہم مولانا محترم کی اسی تنقید کے حوالے سے اپنی طالب علمانہ گزارشات پیش کریں گے''۔

اجماع امت اور علمی مسلمات

سب سے پہلے ہم مولانا محترم کے ایک بنیادی اور اصولی اعتراض کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے فرمایا ہے کہ دیت اور زنا کی سزا سے متعلق نصوص کی تعبیر وتشریح کے ضمن میں ہم نے جو آرا قائم کی یا جن رجحانات کا اظہار کیا ہے، وہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل سنت کے علمی مسلمات سے متصادم ہیں اور اس طرح گمراہی کے دائرے میں آتی ہیں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ ماضی کے اہل علم کے اخذ کر دہ نتائج کو نئے الفاظ اور نئے اسلوب میں تو بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی مسئلے میں براہ راست نصوص کے مطالعہ کی بنیاد پر کوئی ایسی تعبیر پیش کرنے کی کوئی گنجایش نہیں جو ماضی کی متفق علیہ آرا سے مختلف ہو۔ فرماتے ہیں:

''تعبیر نو سے محمد عمار صاحب کی مراد محض یہ نہیں ہے کہ سابق حکم و دلیل کو جدید الفاظ اور اسلوب میں بیان کر دیا جائے کیونکہ اس کے لیے بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص میں جو اور احتمال نکلتے ہیں یا نکل سکتے ہیں یا ہیر پھیر کرکے نکالے جا سکتے ہیں، ان میں سے کسی کو لے لیا جائے۔ اگرچہ اس عمل سے امت کا اجماع ٹوٹتا رہے، لیکن عمار صاحب کو اتنا اطمینان ہے کہ نسبت قرآن و سنت کی طرف رہے گی۔'' (مقام عبرت، ص ۸)

یہ اعتراض اس عام خیال کی ترجمانی کرتا ہے کہ کسی آیت یا حدیث کی تفسیر میں یا کسی فقہی مسئلے سے متعلق اگر سلف سے کوئی اختلاف کتابوں میں منقول نہ ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کے دور سے لے کر آج تک ہر دور کے تمام اہل علم اس راے پر متفق رہے ہیں، اس لیے اس کی پابندی کرنا اور اس سے مختلف کوئی راے اختیار نہ کرنا اہل سنت کا ایک 'علمی مسلمہ' ہے جس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اس نقطہ نظر میں کسی راے پر امت کے اہل علم کے کامل اتفاق کی جو صورت حال فرض کی گئی ہے، اگر وہ فی الواقع پائی جاتی ہو تو عقل ومنطق سے قطع نظر، کم از کم نفسیاتی طور پر یہ ایک بہت موثر استدلال ہے۔ تاہم واقعہ یہ ہے کہ یہ خیال جس قدر عام ہے، اتنا ہی حقیقت واقعہ سے دور اور امت مسلمہ کی علمی روایت کے نہایت محدود، سطحی اور عامیانہ مطالعے کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن وسنت اور دین وشریعت کے نہایت بنیادی تصورات اور احکام کی حد تک تو یہ بات یقیناًدرست ہے کہ ان کو نسلاً بعد نسل دین کی حیثیت سے نقل کرنے میں اس امت کے اہل علم اور عوام کا ایک عمومی عملی اتفاق ہے اور تاریخی معیار پر ہر دور میں اس اتفاق کو ثابت کرنا بھی پوری طرح ممکن ہے، لیکن جہاں تک نصوص اور احکام کی علمی تعبیر و تشریح کا تعلق ہے تو کسی بھی مخصوص مسئلے میں امت کے تمام اہل علم یا کم سے کم وہ اہل علم جنھوں نے اس مسئلے پر غور کیا اور اس پر باقاعدہ کوئی راے قائم کی، ان سب کی آرا کو استقصا کے درجے میں معلوم کرنا بدیہی طور پر انسانی بساط سے بالکل باہر ہے۔ چودہ سو سال میں ہر دور اور ہر علاقے کے اہل علم کی آرا کو یقینی طور پر معلوم کرنے کا تو کیا سوال، تاریخ اسلام کے بالکل ابتدائی دور یعنی صحابہ اور تابعین کے عہد میں بھی اس کا کوئی عملی امکان نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ دیکھیے، محفوظ علمی ذخیرے میں اجماع کے مسئلے پر سب سے پہلی باقاعدہ بحث امام شافعی کی تحریروں میں ملتی ہے اور امام صاحب نے اس بحث میں جہاں دین کے بنیادی فرائض اور احکام کے بارے میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ امت کے اجماع سے ثابت ہیں، اسی طرح علمی وفقہی آرا وتعبیرات کے بارے میں ایسے کسی اجماع کے عملی امکان یا ثبوت کی صاف نفی کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جو لوگ دین کے نہایت بنیادی احکام کے علاوہ کسی علمی مسئلے میں اس کے تحقق کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ایک بے بنیاد بات کہتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

لا یقال لشئ من ہذا اجماع ولکن ینسب کل شئ منہ الی فاعلہ فینسب الی ابی بکر فعلہ والی عمر فعلہ والی علی فعلہ ولا یقال لغیرہم ممن اخذ منہم موافقۃ لہم ولا مخالفۃ ولا ینسب الی ساکت قول قائل ولا عمل عامل انما ینسب الی کل قولہ وعملہ وفی ہذا ما یدل علی ان ادعاء الاجماع فی کثیر من خاص الاحکام لیس کما یقول من یدعیہ ...... وجملتہ انہ لم یدع الاجماع فی ما سوی جمل الفرائض التی کلفتہا العامۃ احد من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا التابعین ولا القرن الذین من بعدہم ولا القرن الذین یلونہم ولا عالم علمتہ علی ظہر الارض ولا احد نسبتہ العامۃ الی علم الا حدیثا من الزمان فان قائلا قال فیہ بمعنی لم اعلم احدا من اہل العلم عرفہ وقد حفظت عن عدد منہم ابطالہ قال الشافعی ومتی کانت عامۃ من اہل العلم فی دہر بالبلدان علی شئ او عامۃ قبلہم قیل یحفظ عن فلان وفلان کذا ولم نعلم لہم مخالفا ناخذ بہ ولا نزعم انہ قول الناس کلہم لانا لا نعرف من قالہ من الناس الا من سمعناہ منہ او عنہ ۔ (الام، ۱/۱۵۲، ۱۵۳)

''اس میں سے کسی چیز کو اجماع نہیں کہا جا سکتا، بلکہ ہر فعل کی نسبت اسی شخص کی طرف کی جائے گی جس نے وہ فعل کیا، چنانچہ ابوبکرؓ کی طرف ان کا فعل منسوب کیا جائے گا، عمرؓ کی طرف ان کا اور علیؓ کی طرف ان کا۔ ان کے علاوہ جن دوسرے صحابہ سے اخذ واستفادہ کیا گیا ہے، انھیں نہ اس راے سے متفق قرار دیا جائے گا اور نہ اس کا مخالف۔ خاموش رہنے والے کی طرف کسی دوسرے شخص کی بات یا اس کے عمل کو منسوب نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ہر شخص کی طرف اس کا اپنا قول اور اپنا عمل ہی منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بہت سے خاص احکام کے بارے میں اجماع کا جو دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ درست نہیں۔ ...... خلاصہ یہ ہے کہ دین کے ان بنیادی فرائض کے علاوہ جن کو جاننے اور ان پر عمل کرنے کے تمام مسلمان مکلف ہیں، کسی دوسرے معاملے میں اجماع کا دعویٰ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کیا، نہ تابعین نے، نہ تبع تابعین نے، ان کے بعد آنے والے علما نے، نہ روے زمین پر پائے جانے والے کسی عالم نے اور نہ کسی ایسے شخص نے جس کی نسبت عوام الناس علم کی طرف کرتے ہوں۔ ہاں اس دور میں آکر بعض لوگوں نے ایسی بات کہی ہے جس سے میرے علم کے مطابق کسی صاحب علم نے اتفاق نہیں کیا، بلکہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ بہت سے اہل علم نے اس کی تردید کی۔ شافعی کہتے ہیں کہ جب بھی اسلامی ممالک میں اہل علم بالعموم کسی بات پر متفق ہوں تو یہ کہا جائے گا کہ فلاں اور فلاں سے یہ رائے ثابت ہے اور ہمیں ان سے اختلاف کرنے والے کسی صاحب علم کا پتہ نہیں جس سے ہم اخذ کریں، لیکن ہم یہ دعویٰ نہیں کریں گے کہ یہ سب لوگوں کا قول ہے، کیونکہ جب تک ہم کسی شخص سے خود نہ سنیں یا اس کے بارے میں خبر نہ ملے، ہم نہیں جان سکتے کہ کون کون شخص اس بات سے اتفاق رکھتا تھا۔''

امام صاحب کا تبصرہ ہر لحاظ سے بالکل واضح ہے، تاہم اس کے اس پہلو کی طرف ہم بطور خاص توجہ دلانا چاہیں گے کہ انھوں نے دعواے اجماع کی نفی صرف عام صحابہ کے حوالے سے نہیں، بلکہ تصریحاً خلفاے راشدین کی آرا اورفیصلوں کے حوالے سے کی ہے جو اپنے اپنے دور میں امت کے حاکم تھے اور ان کی آراقانونی حکم کی حیثیت سے باقاعدہ نافذ کی جاتی تھیں۔ ان آرا پر باقاعدہ امت کا تعامل جاری ہو چکا تھا، انھیں آنے والی نسلوں کے لیے باقاعدہ قانونی نظائر کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی اور اگر ان سے اختلاف رکھنے والے اہل علم اپنی راے کو بیان کرنا چاہتے تو ان کے لیے اس کا پورا پورا داعیہ موجود تھا، لیکن امام صاحب خلفاے راشدین کی کسی راے کو بھی، جبکہ اس کے خلاف کوئی دوسرے راے منقول نہ ہو، اجماع سے تعبیر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اجماع کے بارے میں اسی حقیقت کو امام احمد بن حنبل نے اپنے معروف قول میں یوں بیان کیا ہے کہ ' من ادعی الاجماع فقد کذب'۔ امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

ان عدم العلم لیس علما بالعدم لاسیما فی اقوال علماء امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم التی لا یحصیہا الا رب العالمین ولہذا قال احمد وغیرہ من العلماء من ادعی الاجماع فقد کذب ہذہ دعوی المریسی والاصم ولکن یقول لا اعلم نزاعا والذین کانوا یذکرون الاجماع کالشافعی وابی ثور وغیرہما یفسرون مرادہم بانا لا نعلم نزاعا ویقولون ہذا ہو الاجماع الذی ندعیہ ۔ (مجموع الفتاویٰ ۴/۲۲۳)

''کسی اختلاف کا معلوم نہ ہونا اس کی دلیل نہیں کہ اختلاف پایا ہی نہیں جاتا۔ بالخصوص امت محمدیہ کے اہل علم اقوال کے بارے میں، جن کا شمار اللہ ہی کے علم میں ہے، یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے امام احمد وغیرہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اجماع کا دعویٰ کرتا ہے، وہ جھوٹ کہتا ہے۔ یہ مریسی اور اصم وغیرہ کا دعویٰ ہے۔ اس کے بجاے یوں کہنا چاہیے کہ ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں۔ جو اہل علم مثلاً شافعی اور ابو ثور وغیرہ اجماع کا ذکر کرتے ہیں، وہ اپنی مراد یہ کہہ کر واضح کر دیتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے میں کسی اختلاف کا علم نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جس اجماع کا ہم دعویٰ کرتے ہیں، وہ یہی ہے۔''

امام رازی نے اپنی کتاب 'المحصول' میں اجماع کی بحث کا آغاز ہی اس نکتے سے کیا ہے کہ آیا اس کا ثبوت ممکن بھی ہے یا نہیں۔ دوران بحث میں لکھتے ہیں:

العلم باتفاق الامۃ لا یحصل الا بعد معرفۃ کل واحد من الامۃ لکن ذلک متعذر قطعا فمن ذا الذی یعرف جمیع الناس الذین ہم بالشرق والغرب؟ وکیف الامان من وجود انسان فی مطمورۃ لا خبر عندنا منہ فانا اذا انصفنا علمنا ان الذین بالشرق لا خبر عندہم من احد من علماء الغرب فضلا عن العلم بکل واحد منہم علی التفصیل وبکیفیۃ مذاہبہ۔ (المحصول ۳/۷۷۱)

''پوری امت کے متفق ہونے کا علم اس کے بغیر ممکن نہیں کہ امت کے ہر ہر فرد کے بارے میں معلوم ہو جو ایک ناممکن بات ہے، کیونکہ کون ہے جو مشرق ومغرب کے تمام انسانوں کو جانتا ہو؟ اور اس امکان کو کیسے رد کیا جا سکتا ہے کہ کسی مخفی مقام پر کوئی انسان موجود ہو جس کے بارے میں ہمیں علم نہ ہو؟ کیونکہ انصاف سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مشرق میں رہنے والوں کو مغرب کے کسی ایک عالم کی بھی خبر نہیں، چہ جائیکہ وہ ان سب کے بارے میں اور ان کی آرا ومذاہب کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہوں۔''

امام صاحب کا کہنا ہے کہ بالفرض سارے اہل علم کو ایک جگہ جمع کرنا ممکن ہو اور وہ بیک آواز کسی رائے کی تائید کر دیں تب بھی اجماع متحقق نہیں ہوتا۔ لکھتے ہیں:

بل ہہنامقام آخر وہو ان اہل العلم باسرہم لو اجتمعوا فی موضع واحد ورفعوا اصواتہم دفعۃ واحدۃ وقالوا افتینا بہذا الحکم فہذا مع امتناع وقوعہ لا یفید العلم بالاجماع لاحتمال ان یکون بعضہم کان مخالفا فیہ فخاف من مخالفۃ ذلک الجمع العظیم او خاف ذلک الملک الذی احضرہم او انہ اظہر المخالفۃ لکن خفی صوتہ فی ما بین اصواتہم۔ (المحصول ۳/۷۷۲)

''بلکہ یہاں ایک اور مقام بھی ہے۔ وہ یہ کہ اگر سارے اہل علم ایک جگہ جمع ہو جائیں اور اکٹھے آواز بلند کر کے یہ کہیں کہ ہم اس بات کا فتویٰ دیتے ہیں تو اس بات کے عملاً ناممکن ہونے کے علاوہ، پھر بھی اس سے اجماع کا علم حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ ممکن ہے ان میں سے کوئی اس سے اختلاف رکھتا ہو لیکن اتنے بڑے اجتماع کے سامنے اختلاف ظاہر کرنے سے ڈر گیا ہو، یا اس نے اس بادشاہ کے خوف سے جس نے انھیں طلب کیا، اختلاف ظاہر نہ کیا ہو یا اس نے اختلاف توکیا ہو لیکن اس کی آواز ان سب کی آوازوں میں دب گئی ہو۔''

اس بحث کا نتیجہ امام صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

والانصاف انہ لا طریق لنا الی معرفۃ حصول الاجماع الا فی زمان الصحابۃ حیث کان المومنون قلیلین یمکن معرفتہم باسرہم علی التفصیل۔ (المحصول ۳/۷۷۵، ۷۷۷)

''انصاف کی بات یہ ہے کہ صحابہ کے دور کے علاوہ، جب مسلمان اتنے تھوڑے تھے کہ ان سب کو تفصیلاً جاننا ممکن تھا، (بعد کے کسی دور میں) اجماع کے تحقق کا علم حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔''

لیکن بالبداہت واضح ہے کہ صحابہ کے دور کے حوالے سے بھی یہ محض ایک نظری امکان ہے، اس لیے کہ کوئی ایک مثال بھی ایسی موجود نہیں جس میں بلا استثنا تمام اہل الراے صحابہ کو کسی موقع پر جمع کیا گیا ہو، ان سے کسی علمی مسئلے کے بارے میں راے دریافت کی گئی ہو اور ان سب نے کوئی ایک متفقہ راے اختیار کر لی ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ خلفا کی طرف سے مختلف مواقع پر ایسی مجلسوں کا اہتمام کیا جاتا تھا، لیکن یہ اس موقع پر موجود اور میسر اصحاب علم تک محدود ہوتی تھیں اور بالعموم ان کا مقصد کسی اتفاق یا اجماع کا حصول نہیں، بلکہ معاملے کے مختلف پہلووں کی تنقیح اور اس ضمن میں مختلف رجحانات کا علم حاصل کرنا ہوتا تھا تاکہ فیصلے کے لیے ان میں سے زیادہ مناسب راے کو اختیار کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں خلفا کی راہنمائی کا مقصد تو یقیناًحاصل ہو جاتا تھا اور وہ اس کی روشنی میں کوئی عملی فیصلہ بھی کر دیتے تھے، لیکن کسی علمی یا عقلی استدلال کی رو سے یہ کہنا ممکن نہیں کہ اولو الامر کی اطاعت کے اصول پر اس فیصلے کو قبول کرنے والے اہل علم، خواہ وہ مشاورت کی مجلس میں شریک رہے ہوں یا نہیں، مثبت طور پر بھی اس راے سے علمی اتفاق رکھتے تھے۔ کسی راے کا قانوناً نافذ ہو جانا یا عملاً قبول عام حاصل کر لینا ایک چیز ہے اور اہل علم کا، دوسرے تمام علمی امکانات کی نفی کرتے ہوئے مثبت طور پر اس سے متفق ہونا ایک بالکل دوسری چیز۔ ان دونوں باتوں کے مابین کوئی عقلی یا عادی لزوم نہیں پایا جاتا اور امام شافعی اور امام رازی نے مذکورہ اقتباسات میں اسی نکتے کو نہایت خوبی سے واضح فرمایا ہے۔

ہمارے ہاں عام طور پر اجماع کے حوالے سے لکھی جانے والی تحریروں میں اس بنیادی اصولی بحث سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے اور اس نوعیت کے ظاہری اتفاق راے کو بھی دین کی ایک قطعی حجت کے طو رپر پیش کیا جاتا ہے، لیکن جس شخص کو بھی اصول فقہ کی درسی کتابوں سے ہٹ کر اس فن کی امہات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے، وہ اس ضمن میں اصولیین کے مابین پائے جانے والے شدید اختلاف سے بخوبی واقف ہے۔ حال ہی میں جامعہ مدینۃ العلوم کراچی کے فاضل استاذ مولانا مفتی عبد الغفار ارکانی نے ''اجماع اور اس کی شرعی حیثیت'' کے عنوان سے اپنی فاضلانہ تصنیف میں اس بحث کے ا س پہلو کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کتاب پر مولانا محمد تقی عثمانی زید مجدہم نے ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریظ ثبت فرمائی ہے کہ ''موضوع کے متعلقہ مباحث کو فاضل مولف نے سلیقے اور حسن بیان کے ساتھ سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مباحث کا انتخاب، اصل مآخذ سے فقہاء کرام کے مختلف نظریات کی تلخیص اور اس کے بعد قول راجح کی تائید اور اس پر مدلل بحث، ان میں سے ہر چیز طالبان علم کے لیے نہایت مفید ہے۔''

مصنف نے اس کتاب میں ''اجماع سکوتی کی حجیت میں اختلاف'' کے زیرعنوان لکھا ہے:

''اجماع سکوتی خواہ قولی ہو یا فعلی، اسے اجماع کہا جائے گا یا نہیں؟ اگر اجماع کہا جائے تو اس کی حجیت کس قسم کی ہوگی، قطعی یا ظنی؟ اس میں علما کا شدید اختلاف ہوا ہے۔ شوکانی نے اس سلسلہ میں بارہ مذاہب نقل کیے ہیں، لیکن بنیادی مذاہب تین ہیں۔ (۱) اجماع سکوتی اجماع ہے او رحجت قطعی ہے۔ (۲) یہ اجماع بھی نہیں ہے اور حجت بھی نہیں ہے۔ (۳) بعض صورتوں میں اسے اجماع او رحجت قرار دیا جائے گا اور بعض صورتوں میں نہیں۔ ..... دوسرا مذہب امام شافعی، عیسیٰ بن ابان، قاضی ابوبکر باقلانی، داؤد ظاہری اور بعض معتزلہ وغیرہ کا ہے کہ اجماع سکوتی نہ اجماع ہے اور نہ حجت۔ .... مانعین اجماع سکوتی نے مذکورہ دلائل کے کچھ عقلی احتمالات بھی بیان کیے ہیں کہ (۱) جس طرح سکوت میں موافقت کا احتمال ہے، یہ احتمال بھی ہے کہ ممکن ہے کہ مجتہد ساکت نے اس واقعہ کے حکم میں اجتہاد ہی نہ کیا ہو، اس لیے سکوت اختیار کر لیا ہو۔ (۲) یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اجتہاد تو کیا ہو لیکن کسی ایک جانب فیصلہ نہ کر پایا ہو۔ (۳) اور اگر کسی ایک جانب فیصلہ بھی کر لیا ہو لیکن قول ظاہر کے خلاف ہونے کی وجہ سے اظہار نہ کیا ہو تاکہ اس میں مزید غور وفکر کر سکے یا اس لیے اظہار نہ کیا ہو کہ وہ ہر مجتہد کو حق پر سمجھتا ہے۔ (۴) یہ بھی احتمال ہے کہ ہیبت یا فتنہ کھڑے ہونے کے ڈر سے سکوت اختیار کیا ہو۔ ..... جو حضرات اجماع سکوتی کو حجت ظنیہ مانتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ سکوت مجتہدین میں اگرچہ رضا اور موافقت کے علاوہ دوسرے احتمالات ہیں، لیکن وہ احتمالات بہت بعید ہیں، اس لیے ظاہر یہی ہے کہ ان کا سکوت موافقت اور رضا کی بنا پر ہے .....اس لیے جہاں مجتہدین سے سکوت ثابت ہو، مخالفت ثابت نہ ہو تو اسے موافقت پر ہی محمول کیا جانا چاہیے، لیکن ظاہر ہے کہ موافقت پر محمول کرنے کے لیے کوئی قطعی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد حسن ظن ہے، اس لیے اجماع سکوتی کو حجت قطعی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ حجت ظنی کہا جا سکتا ہے۔'' (ص ۲۳۰-۲۴۵)

اس بحث سے واضح ہے کہ تفسیر وحدیث اور فقہ کی کتابوں میں جب کسی مسئلے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر علما کا اتفاق ہے تو اس کا مطلب عملاً یہ ہوتا ہے کہ ماضی کے جن اہل علم کی آرا کو محفوظ کیا جا سکا ہے اور ہمیں کتابوں کے ذریعے سے ان کی اطلاع ملی ہے، ان کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس سے زیادہ اس دعواے اتفاق کی کوئی حیثیت ہے اور نہ بقائمی ہوش وحواس اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امت کے تمام صاحب الراے اہل علم مثبت طور پر یہی رائے رکھتے تھے۔ ہم نے اسی نکتے کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

''ہماری راے میں نصوص کی تعبیر وتشریح میں اختلاف اور تنوع کی گنجایش جس قدر اسلام کے صدر اول میں تھی، آج بھی ہے اور سابقہ ادوار میں مخصوص علمی تناظر میں مخصوص نتائج کو حاصل ہونے والا قبول ورواج اس گنجایش کو محدود کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس نکتے کا وزن اس تناظر میں مزید نمایاں ہو جاتا ہے کہ مدون علمی ذخیرہ گزشتہ چودہ سو سال میں ہر دور اور ہر علاقے کے اہل علم تو کیا، صدر اول کے علما وفقہا کے علمی رجحانات اور آرا کا بھی پوری طرح احاطہ نہیں کرتا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ علم وفکر سے اشتغال رکھنے اور علمی مسائل پر غور کرنے والے اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو نہ تو خود اپنے نتائج فکر کو تحریری صورت میں محفوظ کرنے کا اہتما م کرتی ہے اور نہ سب اہل علم کو ایسے تلامذہ ورفقا میسر آتے ہیں جو ان کے غور وفکر کے حاصلات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اہتمام کریں۔ چنانچہ صحابہ میں سے علم وتفقہ کے اعتبار سے خلفاے راشدین، سیدہ عائشہ، معاذ بن جبل، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، سیدنا معاویہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نہایت ممتاز ہیں اور یہ حضرات عملی مسائل کے حوالے سے رائے دینے کے علاوہ قرآن مجید کو بھی خاص طور پر اپنے تفکر وتدبر کا موضوع بنائے رکھتے تھے، تاہم تفسیری ذخیرے میں ہمیں ابن عباس اور ابن مسعود کے علاوہ دیگر صحابہ کے اقوال اوآرا کا ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔

صحابہ کے دور کے جوفتاویٰ اور واقعات ہم تک پہنچے ہیں، ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو اس وقت کے معروف علمی مراکز میں پیش آئے یا جن کی اطلاع مخصوص اسباب کے تحت وہاں تک پہنچ گئی اور آثار وروایات کی صورت میں ان کی حفاظت کا بندوبست ممکن ہو سکا۔ ان کے علاوہ مملکت کے دور دراز اطراف مثلاً یمن، بحرین اور مصر وغیرہ میں کیے جانے والے فیصلوں کی تدوین سرکاری سطح پر بھی نہیں کی گئی اور مکہ، مدینہ، کوفہ اور دمشق کی نمایاں تر علمی حیثیت کے تناظر میں اہل علم نجی طور پر بھی نسبتاً کم اہمیت کے حامل ان علاقوں کے علمی آثار کی حفاظت و تدوین کی طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ بعد میں مستقل اور باقاعدہ فقہی مکاتب فکر وجودمیں آئے تو صحابہ وتابعین کی آرا واجتہادات کا جو کچھ ذخیرہ محفوظ رہ گیا تھا، اس کو مزید چھلنی سے گزارا گیا۔ اس طرح مدون فقہی ذخیرہ سلف کے علم وتحقیق کو پوری طرح اپنے اندر سمونے اور اس کی وسعتوں اور تنوعات کی عکاسی کرنے کے بجائے عملاً ایک مخصوص دور کے ترجیح وانتخاب کانمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔ '' (حدود وتعزیرات، ص ۱۹، ۲۰)

دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا محترم نے مذکورہ اقتباس کی صورت میں ہمارا یہ موقف اپنے تبصرے میں باقاعدہ نقل کیا ہے، لیکن اس پر کوئی علمی نقد کرنے سے گریز کرتے ہوئے کمال بے نیازی سے صرف اس تبصرے پر اکتفا کی ہے کہ ''عمار صاحب اجماع کے ثبوت کو مشکوک بناتے ہیں''۔گویا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ 'اجماع' جیسی حقیقت کے وجود پر کوئی سوال اٹھانا ایک ایسی لغو اور ناقابل اعتنا بات ہے کہ اس پر کسی بحث کی ضرورت ہی نہیں۔ بہرحال ان کا ذہنی مفروضہ جو بھی ہو، یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ علمی وفقہی تعبیرات کے دائرے میں حقیقی معنوں میں کسی 'اجماع' کے امکان یا انعقاد کا تصور محض ایک علمی افسانہ ہے جس کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اب جہاں تک اس ظاہری اتفاق یا اجماع کے علمی وزن کا تعلق ہے تو اکابر اہل علم کی آرا کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اسے 'استصحاب' (یعنی کسی بات کو ظاہر کے مطابق درست تسلیم کرنا، جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل سامنے نہ آ جائے) کے درجے میں تو ضرور قابل اعتنا سمجھتے اور اسی تناظر میں اس سے استدلال بھی کرتے ہیں، لیکن جب ان کے سامنے کوئی ایسا علمی سوال آ جائے جس کی توجیہ سابقہ راے کو درست ماننے کی صورت میں نہ ہو سکتی ہو یا کوئی ایسا عملی مسئلہ اٹھ کھڑا ہو جس کے لیے خود نصوص کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پیش آ جائے تو وہ مزعومہ 'اجماع' کو ایک طرف رکھتے ہوئے قرآن وسنت کے براہ راست مطالعے کی بنیاد پر اس سوال اور اشکال یا عملی مسئلے کے حل کے لیے نئی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ ''حدود وتعزیرات'' کی تمہید میں ہم نے علمی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے سابقہ آرا سے اختلاف کرنے اور پیش نظر سوال یا اشکال کو حل کرنے کے لیے کوئی نئی راے قائم کرنے کو اہل سنت کی علمی روایت کا حصہ قرار دیا اور اس طرز فکر کی نمائندگی کرنے والے اہل علم میں سے ابن حزم، امام رازی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ اور علامہ انور شاہ کشمیری کا ذکر کیا ہے۔ یہاں ہم اس نوعیت کی بعض مثالوں کا ذکر کریں گے۔

امام رازی نے اپنی تفسیر میں جگہ جگہ اس اصول کی وضاحت کی ہے کہ زبان وبیان کے قرائن اور عقلی شواہد کی روشنی میں کسی آیت کی تفسیر وتاویل میں کوئی نئی راے قائم کرنا علمی طور پر بالکل درست ہے۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں:

وقد ثبت فی اصول الفقہ ان المتقدمین اذا ذکروا وجہا فی تفسیر الآیۃ فذلک لا یمنع المتاخرین من استخراج وجہ آخر فی تفسیرہا ولولا جواز ذلک لصارت الدقائق التی استنبطہا المتاخرون فی تفسیر کلام اللہ مردودۃ باطلۃ ومعلوم ان ذلک لا یقولہ الا مقلد خلف (التفسیر الکبیر ۵/۵۱)

''اصول فقہ میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اگر متقدمین کسی آیت کی تفسیر میں ایک راے قائم کریں تو یہ اس سے مانع نہیں کہ متاخرین اس کی تفسیر میں ایک دوسری راے پیش کریں۔ اگر اس کا جواز تسلیم نہ کیا جائے تو متاخرین نے کلام اللہ کی تفسیر میں جو دقیق باتیں استنباط کی ہیں، وہ سب کی سب مردود اور باطل قرار پائیں گی اور معلوم ہے کہ یہ بات کوئی ہٹ دھرم مقلد ہی کہہ سکتا ہے۔''

سورۂ طہ کی آیت 'قالوا ان ہذان لساحران' کے تحت ایک نحوی اسلوب کی وضاحت میں زجاج کے قول پر اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ متقدمین اہل نحو نے اس کا ذکر نہیں کیا، امام رازی لکھتے ہیں:

ہذا اعتراض فی نہایۃ السقوط لان ذہول المتقدمین عن ہذا الوجہ لا یقتضی کونہ باطلا فما اکثر ما ذہل المتقدم عنہ وادرکہ المتاخر (۱۰/۴۲۹)

''یہ اعتراض حد درجہ کمزور ہے، کیونکہ متقدمین کا اس کی طرف متوجہ نہ ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ یہ بات ہی سرے سے باطل ہو۔ کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جن کی طرف پہلے لوگوں کی توجہ نہیں گئی اور بعد میں آنے والوں نے اسے پا لیا۔''

اسی اصول کے تحت امام صاحب نے متعدد مقامات پر منقول تفسیری آرا سے ہٹ کر آیات کی نئی تاویل پیش کی ہے۔ مثلاً سورۂ آل عمران کی آیت ۳ میں 'وانزل الفرقان' کا مصداق واضح کر تے ہوئے انھوں نے تین اقوال کا ذکر کیا ہے، لیکن ان پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اپنی طرف سے ایک چوتھا قول پیش کیا ہے۔ اس کی وضاحت کے بعد لکھتے ہیں:

فہذا ہو ما عندی فی تفسیر ہذہ الآیۃ وہب ان احدا من المفسرین ما ذکرہ الا ان حمل کلام اللہ تعالیٰ علیہ یفید قوۃ المعنی وجزالۃ اللفظ واستقامۃ الترتیب والنظم والوجوہ التی ذکروہا تنافی کل ذلک فکان ما ذکرناہ اولی (۴/۹۹)

''اس آیت کی تفسیر میں میری راے یہی ہے۔ فرض کر لو کہ مفسرین میں سے کسی نے بھی اس کا ذکر نہیں کیا، لیکن اللہ کے کلام کو اس مفہوم پر محمول کرنے سے آیت کا معنی قوی ہو جاتا ہے، الفاظ بارونق بن جاتے ہیں،اور نظم اور ترتیب بالکل درست سمجھ میں آ جاتی ہے، جبکہ مفسرین نے جو تفسیریں کی ہیں، وہ اس سب کے منافی ہیں، اس لیے ہماری بیان کردہ تفسیر ہی بہتر ہے۔''

امام رازی نے یہاں تفسیر کے وہ بنیادی اصول یعنی معنی ومفہوم کے اعتبار سے کلام کا برمحل ہونا، الفاظ کی موزونیت اور کلام کے سیاق وسباق اور نظم کے ساتھ ہم آہنگی بہت خوبی سے واضح کر دیے ہیں جو علمی سطح پر کسی تفسیری راے کو ترجیح دینے کی اصل بنیاد ہیں اور کسی بڑے سے بڑے عالم اور مفسر کی بیان کردہ تاویل یا ماضی کے مفسرین کی متفقہ تفسیر بھی اگر ان پہلووں سے محل اشکال ہو تو اسے جوں کا توں قبول کرنے پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔ اصولیین کا ایک گروہ تو اس معاملے میں اس قدر حریت فکر کا قائل ہے کہ وہ کسی مخصوص نص کی تفسیر میں صحابہ جو عربی زبان کو براہ راست جاننے والے اور آیات کے نزول کے واقعاتی پس منظر اورماحول سے مشاہدے کے درجے میں واقف تھے کی راے کی پابندی کو بھی بعد کے اہل علم کے لیے لازم نہیں سمجھتا۔ جلیل القدر حنفی عالم اور اصولی سرخسی نے اس نقطہ نظر کو ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے:

فان قیل: الیس ان تاویل الصحابی للنص لا یکون مقدما علی تاویل غیرہ ولم یعتبر فیہ ہذہ الاحوال فکذلک فی الفتوی بالرای؟ قلنا: لان التاویل یکون بالتامل فی وجوہ اللغۃ ومعانی الکلام ولا مزیۃ لہم فی ذلک الباب علی غیرہم ممن یعرف من معانی اللسان مثل ذلک۔ (اصول السرخسی۲/۱۰۹)

''اگر کہا جائے کہ ایسا کیوں نہیں ہے کہ جب کسی نص کی تاویل میں صحابی کی راے دوسروں کی راے پر مقدم نہیں اور ان احوال کی رعایت کرتے ہوئے اسے قابل ترجیح نہیں سمجھا گیا تو پھر صحابہ کے، راے اور قیاس پر مبنی فتاویٰ کی حیثیت بھی یہی ہو؟ ہم کہیں گے کہ (نہیں، دونوں باتوں میں فرق ہے)، کیونکہ نص کی تفسیر زبان کے مختلف پہلووں اور کلام کے معانی پر غور کرنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور صحابہ کو اس معاملے میں دوسرے لوگوں پر، جو اسی طرح زبان کے معانی ومطالب سے واقف ہوں، کوئی برتری حاصل نہیں۔''

اکابر اہل علم کے ہاں مسلمہ تفسیری اصولوں کی روشنی میں صحابہ سے منقول آرا کے بجاے بعد کے اہل علم کی راے کو ترجیح دینے کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:

امام طبری نے سورۂ مائدہ کی آیت ۳ میں 'والمنخنقۃ' کی تفسیر میں سدی، ضحاک اور قتادہ سے یہ تفسیر نقل کی ہے کہ اس کا مصداق وہ بکری ہے جو کسی جگہ اپنی گردن کے پھنس جانے یا گلے میں پڑی ہوئی رسی کے پھنس جانے کی وجہ سے دم گھٹنے سے مر جائے۔ اس کے برعکس عبد اللہ ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ وہ جانور ہے جس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا جائے۔ پھر پہلی راے کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

لان المنخنقۃ ہی الموصوفۃ بالانخناق دون خنق غیرہا لہا ولو کان معنیا بذلک انہا مفعول بہا لقیل والمخنوقۃ حتی یکون معنی الکلام ما قالوا (ص ۱۰۷)

''منخنقۃ' اس جانور کو کہتے ہیں جس کا دم ازخود گھٹ گیا ہو، نہ کہ کسی دوسرے نے اس کا گلا گھونٹا ہو۔ اگر مراد یہ ہوتی تو 'منخنقۃ' کے بجاے 'مخنوقۃ' کا لفظ بولا جاتا اور اس صورت میں وہی معنی مراد ہوتا جو ان مفسرین نے بیان کیا ہے۔''

دیکھ لیجیے، امام طبری لفظ کے معنی ومصداق کی تعیین میں خالصتاً لغت کے اعتبار سے ابن عباس کی راے سے اختلاف کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اپنی ساخت کے لحاظ سے ان کے بیان کردہ مفہوم کا متحمل نہیں۔

امام رازی نے سورۂ نساء کی آیت ۳ میں 'وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من النساء' کی تفسیر میں ام المومنین سیدہ عائشہ سے یہ تفسیر نقل کی ہے کہ اہل جاہلیت اپنی پرورش میں آنے والی یتیم لڑکیوں سے محض اس لالچ میں نکاح کر لیتے تھے کہ ان کے مال کے مالک بن جائیں، جبکہ انھیں دلی طور پر ان سے نکاح کی رغبت نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح وہ ان لڑکیوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ ہدایت کی کہ اگر بے انصافی کا خدشہ ہو تو ان کے ساتھ نکاح نہ کرو بلکہ ان کے علاوہ ان دوسری خواتین کے ساتھ نکاح کرو جو تمھیں پسند ہوں۔ تاہم امام رازی نے اس قول کے بجاے عکرمہ سے منقول اس راے کو ترجیح دی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے چار سے زائد عورتوں کے نکاح کی ممانعت کی ہے، کیونکہ اہل جاہلیت دس دس بیویوں سے نکاح کر لیتے تھے اور پھر ان کے نان نفقہ کی ادائیگی کے لیے انھیں اپنے زیر پرورش یتیموں کے مال میں ناجائز تصرف کرنا پڑتا تھا۔ لکھتے ہیں:

وہذا القول اقرب فکانہ تعالی خوف من الاکثار من النکاح بما عساہ یقع من الولی من التعدی فی مال الیتیم للحاجۃ الی الانفاق الکثیر عند التزوج بالعدد الکثیر (۵/۴۶)

''یہ قول زیادہ قرین صواب ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے زیادہ شادیوں کرنے سے متنبہ کیا اور اس کی وجہ اس خدشے کو قرار دیاہے کہ زیادہ شادیوں کے نتیجے میں چونکہ یتیموں کا سرپرست زیادہ اخراجات کا محتاج ہوگا، اس لیے وہ یتیم کے مال پر بھی ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرے گا۔''

اسی طرح نساء کی آیت ۲۰ میں 'وآتیتم احداہن قنطارا' کے تحت لکھتے ہیں کہ مفسرین نے اس سے گراں قدر مہر کا جواز اخذ کیا ہے اور روایت کے مطابق سیدنا عمر نے بھی اس استدلال کو تسلیم کیا، کیونکہ انھوں نے جب بھاری مہر دینے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تو ایک خاتون نے یہی آیت پڑھ کر ان کے ساتھ معارضہ کیا جس پر انھوں نے اپنی راے واپس لے لی۔ تاہم امام رازی فرماتے ہیں کہ آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔ لکھتے ہیں:

وعندی ان الآیۃ لا دلالۃ فیہا علی جواز المغالاۃ لان قولہ وآتیتم احداہن قنطارا لا یدل علی جواز ایتاء القنطار کما ان قولہ لو کان فیہما آلہۃ الا اللہ لفسدتا لا یدل علی حصول الآلہۃ والحاصل انہ لا یلزم من جعل الشئ شرطا لشئ آخر کون ذلک الشرط فی نفسہ جائز الوقوع (تفسیر کبیر ۵/۱۲۰)

''اس آیت میں مہر کی مقدار بہت زیادہ مقرر کرنے کے جواز پر کوئی دلالت نہیں پائی جاتی، کیونکہ 'وآتیتم احداہن قنطارا' (شرطیہ جملہ ہے جس) سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ڈھیروں مال دینے کو جائز ٹھہرا رہے ہیں، جیسا کہ 'لو کان فیہما آلہۃ الا اللہ لفسدتا' سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعی ایک سے زیادہ خدا پائے جاتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ ایک چیز کو کسی دوسری چیز کی شرط کے طور پر ذکر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ شرط فی نفسہ بھی جائز ہو۔''

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تفسیری آرا میں اس کی چند مثالیں دیکھیے:

سورۂ بقرہ کی آیت ۱۸۴ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ' وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین'، یعنی جو شخص اس کی طاقت رکھے، اس کے ذمے فدیے کے طور پر ایک مسکین کو کھانا کھلانا لازم ہے۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں جس فدیے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ روزہ نہ رکھنے پر اس کے بدل کے طور پر دیا جانے والا فدیہ ہے۔ ان میں سے بعض کی راے یہ ہے کہ ابتدا میں تو ہر شخص کو اختیار تھا کہ وہ چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو اس کی جگہ فدیہ دے دے، تاہم بعد میں یہ رخصت منسوخ کر دی گئی اور ناتواں بوڑھوں یا نہایت بیمار لوگوں کے علاوہ عام مسلمانوں پر ہر حال میں رمضان کے روزے رکھنا فرض کر دیا گیا۔ اس کے برعکس بعض دوسرے مفسرین کی راے میں یہ آیت متعلق ہی ان لوگوں سے ہے جو کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے، چنانچہ اس میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا۔ اس اختلاف سے قطع نظر، تمام مفسرین اس نکتے پر بہرحال متفق ہیں کہ یہاں روزہ نہ رکھنے کا فدیہ ہی بیان ہوا ہے، تاہم شاہ ولی اللہ نے اس راے سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں روزہ نہ رکھنے پر فدیہ دینے کا مسئلہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں۔ یہاں تو رمضان کے روزے رکھنے والوں پر صدقہ فطر کا وجوب بیان کیا گیا ہے اور 'یطیقونہ' کی ضمیر کا مرجع 'صوم' نہیں، بلکہ 'فدیۃ' ہے جو لفظاً متاخر ہونے کے باوجود معنی مقدم ہے اور اگرچہ مونث ہے، لیکن چونکہ اس کی تفسیر 'طعام مسکین' سے کی گئی ہے، اس لیے اپنے مصداق کے اعتبار سے مذکر ہے۔ (الفوز الکبیر مع شرحہ العون الکبیر، ص ۱۷۲) یہ بات ملحوظ رہے کہ آیت کی جو عام تفسیر بیان کی جاتی ہے، اس کی تائید میں عبد اللہ بن عباس، معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن عمر جیسے جلیل القدر صحابہ اور متعدد اکابر تابعین کے آثار بھی منقول ہیں، لیکن شاہ صاحب اسے قبول کرنے کے بجاے آیت کے داخلی قرائن کی مدد سے اس کا ایک بالکل مختلف مفہوم متعین کرتے ہیں اور سابقہ مفسرین کے اتفاق واجماع کو اس میں مانع نہیں سمجھتے۔

ایک اور مثال دیکھیے:

سورۂ توبہ کی آیت ۶۰ میں 'انما الصدقات للفقراء والمساکین' کے الفاظ آئے ہیں اور یہاں زکوٰۃ وصدقات کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ انما، ظاہر ہے کہ حصر کے لیے ہے، چنانچہ مفسرین اور فقہا بالاجماع اس آیت سے یہ فقہی مسئلہ اخذ کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف آیت میں بیان ہونے والے آٹھ گروہوں میں محصور ہیں اور ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوٰۃ خرچ نہیں کی جا سکتی۔ تاہم شاہ ولی اللہ نے، ہمارے علم کی حد تک، پہلی مرتبہ اس راے سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلامی ریاست کی ضروریات بے حد متنوع اور وسیع ہیں اور زکوٰۃ کو ان آٹھ مصارف میں محصور کر دینے سے ریاست کی دیگر ضروریات پوری نہیں کی جا سکتیں، اس لیے ریاست ہر قسم کے اخراجات کے لیے زکوٰۃ کی رقم صرف کر سکتی ہے۔ جہاں تک آیت کا تعلق ہے تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں 'انما' کے حصر کا رخ مذکورہ آٹھ مصارف میں زکوٰۃ کو محصور کرنے کی طرف نہیں، بلکہ سیاق کلام میں بیان ہونے والی منافقین کی اس خواہش کے مقابلے میں آیا ہے کہ انھیں بھی اس مال میں سے وافر حصہ دیا جائے۔ گویا آیت کا مطلب یہ نہیں کہ زکوٰۃ ان آٹھ مصارف کے علاوہ کہیں خرچ نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ ہے کہ زکوٰۃ وصدقات کا اصل مصرف کھاتے پیتے لوگوں کی ہوس مال کی تسکین نہیں، بلکہ اس کے اصل حق دار تو فقرا و مساکین اور دوسرے صاحب احتیاج لوگ ہیں۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ۲/۱۳۳، ۱۳۴) دیکھ لیجیے، یہاں بھی شاہ صاحب نہ صرف آیت کی مجمع علیہ تفسیر سے بلکہ ایک متفقہ اور اجماعی فقہی مسئلے سے بھی اختلاف فرما رہے ہیں، اور ایسا لاعلمی میں نہیں، بلکہ علیٰ وجہ البصیرۃ کر رہے ہیں۔

مولانا انور شاہ کشمیری کی آرا میں بھی اس طرز فکر کی بہت نمایاں مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر رجم کی سزا ہی کو لیجیے۔ فقہا اور اصولیین نے حدیث میں شادی شدہ زانیوں کے لیے بیان ہونے والی اس اضافی سزا کی توجیہ کرتے ہوئے جو مختلف آرا پیش کی ہیں، مولانا انور شاہ کشمیری ان پر اطمینان نہیں رکھتے اور اسی عدم اطمینان کے تناظر میں انھوں نے یہ اچھوتی رائے ظاہر کی ہے کہ قرآن مجید میں رجم کا حکم کسی واضح آیت کی صورت میں نہیں، بلکہ سورۂ مائدہ کی آیات ۴۱۔۴۳ میں مذکور اس واقعے کے ضمن میں نازل ہوا ہے جس میں یہود کے، منافقانہ اغراض کے تحت، ایک مقدمے کے فیصلے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا ذکر ہے۔ ان کی راے میں قرآن مجید نے رجم کا ذکر اصلاً شریعت محمدیہ کے ایک حکم کے طورپر نہیں، بلکہ شریعت موسوی کے آثار وباقیات کی حیثیت سے کیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا ۱۰۰ کوڑے ہی ہے اور وہ عمومی طور پر اسے رجم کی سزا نہیں دینا چاہتا۔ شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ قرآن کی رو سے زانی کے لیے سو کوڑے کی سزا تو لازم ہے جبکہ رجم ایک ثانوی سزا ہے جس کو نمایاں اور عملاً رائج نہ کرنا مقصود ہے، اس لیے اگر اس کا ذکر قرآن میں تصریحاً کر دیا جاتا تو اس کی اہمیت نمایاں ہو جاتی اور اس کے نفاذ کو ٹالنے کا مقصد حاصل نہ ہوتا۔ (فیض الباری ۵/۲۳۰، ۶/۳۵۳-۳۵۴۔ مشکلات القرآن ۱۶۵، ۶۶، ۲۱۳)

علامہ انور شاہ کی یہ توجیہ اصل اشکال کو حل کرتی ہے یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے، لیکن جس بات میں کوئی شبہ نہیں، وہ یہ ہے کہ انھوں نے رجم کی سزا کی شرعی حیثیت کے حوالے سے ایک نئی تعبیر پیش کی ہے جس سے ان کے خیال میں قرآن میں اس سزا کے ذکر نہ کرنے کی توجیہ ہو جاتی ہے۔

اسی نوعیت کی راے انھوں نے نزول مسیح کی روایات کی تفسیر کے ضمن میں پیش کی ہے۔ کتب حدیث میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی سے متعلق روایا ت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اس موقع پر ساری دنیا سے کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ نہ صرف مذکورہ روایات میں بظاہر یہ بات بیان ہوئی ہے، بلکہ بعض آثار میں 'لیظہرہ علی الدین کلہ' (التوبہ ۳۳) کے وعدے کا مصداق بھی ظہور مہدی اور نزول مسیح کے اسی دور کو قرار دیا گیا ہے۔ اہل علم کا اس پر 'اجماع' ہے کہ اسلام کا یہ غلبہ فی الواقع ساری دنیا پر قائم ہوگا۔ تاہم علامہ انور شاہ کو اس راے سے اختلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روایات میں اس موقع پر ساری سرزمین پر اسلام کے غالب آنے کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد پوری روے زمین نہیں، بلکہ شام اور اس کے گرد ونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں ان کا ظہور ہوگا اور جو اس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ وجدال کا مرکز ہوگا۔ (فیض الباری، ۴/۱۹۷، ۳۴۳) شاہ صاحب نے ان اشکالات پر روشنی نہیں ڈالی جو ان کے لیے عام راے سے اختلاف کا باعث بنے ہیں، لیکن ان کے ذہن میں جوبھی قرائن وشواہد ہوں، نتیجہ بالکل واضح ہے کہ انھوں نے حدیث کے مفہوم کی تعیین میں اپنے دلائل کی بنا پر ایک نئی راے قائم کی ہے جو سلف کے اتفاق سے مختلف بلکہ اس کے مخالف ہے۔

ایک اور مثال ملاحظہ کیجیے:

بعض شاذ آرا کے علاوہ فقہا کا عمومی طو ر پر اس پر اتفاق ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں کوئی خاتون حکمرانی کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی۔ فقہا اس کی بنیاد اس نکتے کو قرار دیتے ہیں کہ عورت راے اور عقل کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہے ، اس لیے وہ مردوں پر والی اور حاکم نہیں بن سکتی۔ تاہم برصغیر کے جید عالم مولانا اشرف علی تھانوی اپنے ایک فقہی فتوے میں یہ موقف پیش کیا ہے کہ حدیث میں خواتین کو حکمران بنانے کی جو ممانعت آئی ہے، اس کا اطلاق بادشاہی نظام پر تو ہوتا ہے، کیونکہ وہاں بادشاہ مطلق العنان حکمران کا درجہ رکھتا ہے اور کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، لیکن جمہوری طرز کی حکومتوں میں، جہاں منتخب نمائندوں یا کسی دوسری بالاتر اتھارٹی کے مشورے کا پابند ہونے کی وجہ سے اس کی عقل وراے کے نقص کی تلافی ممکن ہے، کسی خاتون کا حکمران بننا اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آتا۔ (دیکھیے امداد الفتاویٰ) بعض اہل علم کی راے یہ ہے کہ مولانا تھانوی نے اپنے اس فتوے سے رجوع کر لیا تھا۔ فرض کیجیے، یہ بات درست ہو تو بھی اس سے صورت حال میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، اس لیے کہ زیر بحث نکتہ یہ ہے کہ آیا وہ نصوص پر ازسرنو غور کے نتیجے میں روایتی فقہی تعبیرات سے اختلاف کی گنجایش تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کے فتوے سے واضح ہے کہ وہ اس گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے اگر انھوں نے دوبارہ غور وفکر کے نتیجے میں استدلال کی غلطی واضح ہونے پر، نہ کہ اجماع واتفاق کے منافی ہونے کی بنیاد پر، اس فتوے سے رجوع کیا ہے تو ہمارا استدلال ان کے رجوع کے باوجود اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

اس ضمن میں روایتی مذہبی حلقے کے ہاں بعض ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جب کسی مخصوص ضرورت کے تحت نہ صرف نصوص کی نئی تفسیر کی گئی، بلکہ اس نئی تعبیر وتفسیر کو اس درجے میں فروغ بھی دے دیا گیا کہ پڑھنے سننے والوں کے لیے سابقہ تفسیر بالکل نامانوس اور اجنبی قرار پا گئی۔ اس کی ایک دلچسپ مثال 'یعلمہم الکتب والحکمۃ ویزکیہم' (بقرہ ۱۲۹) کی تفسیر ہے۔ دور اول اور دور متوسط کی تمام تفسیروں مثلاً طبری، ابن ابی حاتم، ابن کثیر، بغوی، قرطبی، زاد المسیر، البحر المحیط، بیضاوی، ابوالسعود، ابن عطیہ اور در منثور وغیرہ میں 'ویزکیہم' کا مفہوم یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو شرک اور دوسرے گناہوں سے پاک کرتے، انھیں اللہ کی طاعت اور اخلاص کی ہدایت کرتے اور کتاب وحکمت کی تعلیم کی صورت میں ایسے اخلاق واعمال اور شرعی احکام کی تلقین کرتے ہیں جو انھیں پاکیزہ اور مزکیٰ بناتے ہیں۔ گویا تزکیہ، تعلیم کتاب وحکمت ہی کا ایک پہلو اور اسی کے حاصل اور نتیجے کا درجہ رکھتا ہے۔ ان مفسرین میں سے کوئی بھی اس لفظ کے مفہوم میں روحانی تصرف اور فیضان کے ذریعے سے قلوب کا تزکیہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں کرتا، بلکہ امام رازی نے اس کی باقاعدہ نفی کی ہے۔ لکھتے ہیں:

واعلم ان الرسول لا قدرۃ لہ علی التصرف فی بواطن المکلفین وبتقدیر ان تحصل لہ ہذہ القدرۃ لکنہ لا یتصرف فیہا والا لکان ذلک الزکاء حاصلا فیہم علی سبیل الجبر لا علی سبیل الاختیار فاذن ہذہ التزکیۃ لہا تفسیران: الاول ما یفعلہ سوی التلاوۃ وتعلیم الکتاب والحکمۃ حتی یکون ذلک کالسبب لطہارتہم وتلک الامور ما کان یفعلہ علیہ السلام من الوعد والایعاد والوعظ والتذکیر وتکریر ذلک علیہم ومن التشبث بامور الدنیا الی ان یومنوا ویصلحوا (التفسیر الکبیر ۲/۳۵۷)

''جان لو کہ پیغمبرکو مکلف انسانوں کے باطن پر تصرف کرنے کی قدرت حاصل نہیں ہوتی۔ فرض کر لو کہ اسے یہ قدرت حاصل ہوتی ہے، پھر بھی وہ ان کے باطن پر تصرف نہیں کرتا، کیونکہ اگر وہ ایسا کرے تو ان کے باطن کا تزکیہ جبر کے طریقے سے حاصل ہوگا نہ کہ اختیار کے طریقے سے۔ اس لیے اس آیت میں تزکیہ کی تفسیر (باطنی تصرف کا طریقہ نہیں، بلکہ) دو میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ کام ہیں جو آپ تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کے علاوہ کرتے تھے تاکہ وہ لوگوں کے لیے پاکیزگی کا سبب بن جائیں۔ آپ لوگوں کو بار بار وعدہ ووعید سناتے اور وعظ وتذکیر کیا کرتے تھے اور اسی طرح بہت سے دنیوی امور اختیار کیا کرتے تھے تا آنکہ لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔''

لیکن بعد میں جب صوفیانہ تصورات کے لیے قرآن وسنت کے نصوص میں ماخذ تلاش کرنے کی ضرورت پیش آئی تو متاخرین کی تفسیروں میں 'ویزکیہم' کی تفسیر میں قلب کی باطنی صفائی اور روحانی نشوو نما کے صوفیانہ تصور کا ذکر بھی ہونے لگا اور اب اس آیت کو صوفیا کے روحانی سلسلوں کو دین کا ایک مستقل شعبہ قرار دینے اور ان کا سلسلہ براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑنے کے ضمن میں استدلال کے بنیادی ماخذ کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں استدلال کی تقریر عام طور پر یوں کی جاتی ہے کہ آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعلیم کتاب وحکمت کا جو منصب بیان ہوا ہے، اس کی وراثت امت کے علما وفقہا کو ملی ہے، جبکہ روحانی فیضان کے ذریعے سے قلوب وارواح کے باطنی تزکیہ کا سلسلہ صوفیا کے روحانی سلسلوں کے واسطے سے امت میں جاری وساری ہے۔

یہاں ہم نے چند مثالوں کے ذکر پر اکتفا کی ہے جو معمولی تفحص کے نتیجے میں فوری طو ر پر سامنے آ گئی ہیں، ورنہ اگر اس نوعیت کی آرا کو باقاعدہ تلاش اور تحقیق کے ساتھ جمع کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ خود 'اجماع' کے خلاف راے قائم کرنے پر اہل علم کا اجماع ثابت کرنا بآسانی ممکن ہوگا۔ ان آرا سے اتفاق یا اختلاف یہاں زیر بحث نہیں۔ ان کے ذکر سے صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کسی صاحب علم کو سابقہ آرا وتوجیہات پر اطمینان نہ ہو تو اسے اس بات کا پابند کرنا کہ وہ 'اجماع' ہی کے دائرے میں اپنے آپ کو ضرور مطمئن کرنے کی کوشش کرے، ایک لایعنی بات ہے۔ اطمینان کوئی ایسی کیفیت نہیں جو زبردستی ذہن پر ٹھونسی جا سکے، اس لیے ہر صاحب علم اس کا پورا پورا حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے ذہنی اطمینان کے لیے نصوص کی تاویل وتفسیر کے ان امکانات کا جائزہ بھی لے جن کا ظاہری طور پر اس سے پہلے اہل علم نے کوئی ذکر نہیں کیا۔ اسی بنا پر امام ابن تیمیہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اگر کوئی صاحب علم کتاب وسنت سے استدلال کی بنیاد پر کوئی راے پیش کرے تو اس کے جواب میں 'اجماع' کا حوالہ دے کر اسے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ مکالمہ کتاب وسنت کے دلائل ہی کی بنیاد پر ہوگا اور انھی کی روشنی میں اس کے نقطہ نظر کی صحت یا غلطی اس پر واضح کی جائے گی۔

عام طور پر اہل علم کی ایسی آرا کو 'تفرد' کہہ کر ان کی علمی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ ان آرا کو جزوی اطلاق کے لحاظ سے تو 'تفرد' کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ کسی علمی بے اصولی یا حقیقی اور بنیادی مسلمات سے انحراف پر مبنی نہیں ہوتیں، بلکہ مسلمات کے دائرے میں معروف و مانوس علمی اصولوں ہی کے ایک نئے اطلاق سے وجود میں آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حتمی نہیں ہوتیں اور سابقہ آرا کی طرح ان سے بھی اتفاق یا اختلاف کی پوری گنجایش موجود ہوتی ہے، لیکن محض اچھوتا ہونے کی بنا پر انھیں علمی روایت سے انحراف قرار دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔

صدر اول کی علمی آرا کا صحیح محل

اس ضمن میں صحابہ اور تابعین اور ائمہ مجتہدین کی آرا کا محل اور ان سے اخذ واستفادہ کا صحیح مقام متعین کرتے ہوئے ایک اور نکتہ بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ ہماری راے میں صدر اول کے ائمہ مجتہدین کی آرا اور فتاویٰ پر مشتمل فقہی ذخیرے کا جتنا بھی تجزیہ کیا جائے، اتنا ہی یہ بات واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ یہ ذخیرہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے بنیادی طور پر نصوص رخی نہیں بلکہ روایت رخی ہے۔ فقہا کا زاویہ نگاہ یہ نہیں رہا کہ وہ اصلاً قرآن وسنت کے نصوص کو موضوع بنائیں اور اطلاق کی سطح پر جنم لینے والی عملی روایت سے مجرد ہو کر ان نصوص کی کوئی مطلق نوعیت کی تعبیر پیش کریں۔ ان کے پیش نظر عملی روایت کے ذریعے سے منتقل ہونے والے ذخیرہ کی ترتیب وتدوین اور مختلف فقہی اصولوں کی مدد سے اس میں توسیع واضافہ ہے، اس لیے استنباط قانون میں ان کے ہاں اصل اور اساس کی حیثیت روایت، تعامل اور اطلاقی فتاویٰ کو حاصل ہے، جبکہ نصوص کی طرف مراجعت روایت کا ماخذ تلاش کرنے اور اس کی تائید وتصویب کرنے کی غرض سے ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تناظر میں قائم کی جانے والی آرا کا ہدف اصلاً موجود اور متوقع مسائل کا حل ہوتا ہے، نہ کہ معروضی صورت حال سے اوپر اٹھ کر شریعت کی کوئی مطلق اور ابدی تعبیر پیش کرنا۔ ہم نے اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھا ہے:

''سابقہ علمی روایت کے ظاہری نتائج اور حاصلات کو حتمی قرار دینے کا رویہ بالخصوص فقہ اور قانون کے میدان میں اس وجہ سے بھی قبول نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ذخیرہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے فقہاے صحابہ وتابعین کی آرا اور فتاویٰ کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع سے عبارت ہے اور ظاہر ہے کہ ان آرا اور فتاویٰ کا ایک مخصوص عملی پس منظر تھا جس سے مجرد کر کے ان کی درست تفہیم ممکن نہیں، جبکہ صدر اول کے ان اہل علم کی آرا کے حوالے سے جو مواد جس صورت میں ہم تک نقل ہوا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا کہ صحابہ اور تابعین نے کون سی متعین راے کس استدلال کی بنیاد پر اختیار کی تھی، بالعموم ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ مختلف نصوص یا احکام کے حوالے سے ان کی جو آرا بیان ہوئی ہیں، وہ آیا درپیش عملی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک 'اطلاقی تعبیر' کے طور پر پیش کی گئی تھیں یا ان میں اطلاقی صورت حال سے مجرد ہو کر نصوص کی کوئی ایسی تعبیر سامنے لانا پیش نظر تھا جو ان کی رائے میں جملہ اطلاقی امکانات کو محیط تھی۔'' (حدود وتعزیرات، ص ۲۲)

فقہ واستنباط کے میدان میں اپنے عملی مضمرات کے حوالے سے یہ نکتہ اس لیے نہایت اہم ہے کہ اگر اسے ملحوظ رکھا جائے تو صدر اول کے فقہا کی آرا سے شریعت کی کوئی ابدی اور مطلق تعبیر اخذ کرنا حتمی طور پر ممکن ہی نہیں رہتا، اس لیے کہ اگر ان آرا کی نوعیت پیش نظر حالات کے لحاظ سے ایک 'اطلاقی تعبیر' کی ہے تو پھر اس بات کا عین امکان ہے کہ بعد کے زمانوں میں حالات میں کوئی جوہری تبدیلی پیدا ہونے یا مسئلے کا فکری اور تہذیبی تناظر بدل جانے پر اگر وہی سوال دوبارہ انھی اہل علم کے سامنے رکھا جاتا تو وہ نصوص پر ازسرنو غور کر کے ان کی کوئی نئی تعبیر پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ چونکہ انھی اہل علم کے سامنے اس سوال کو دوبارہ رکھنا اور ان سے ان کی راے دریافت کرنا ناممکن ہے، اس لیے اگر بعد میں آنے والے اہل علم نئی صورت حال او رنئے سوالات کے تناظر میں نصوص کی طرف ازسرنو مراجعت کر کے ان کی نئی تعبیر پیش کرتے ہیں تو ہمارے نزدیک اس عمل کے لیے ائمہ مجتہدین کی آرا سے 'اختلاف' کی تعبیر محض ظاہری طور پر ہی درست ہوگی، اس لیے کہ اسے حقیقی اختلاف قرار دینے کے لیے یہ فرض کرنا ضروری ہوگا کہ حالات و مسائل کا جو فکری اور عملی تناظر بعد کے اہل علم کے سامنے ہے، وہ صدر اول کے ائمہ مجتہدین کے سامنے ہوتا تو بھی وہ لازماً وہی تعبیر پیش کرتے جو انھوں نے اپنے دور کے سوالات کے تناظر میں پیش کی تھی، جبکہ ایسا فرض کرنے کے لیے کوئی حقیقی علمی بنیاد موجود نہیں ہے ۔

یہاں فطری طو رپر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر روایتی علما اپنے اجتہادات میں عملاً اس درجے کی لچک کا مظاہرہ کر سکتے ہیں تو پھر وہ نظری طور پر روایتی فقہی تعبیرات ہی کو معیار قرار دینے پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟ ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب روایتی طبقے کے نظریہ وفکر میں نہیں، بلکہ اس کی گروہی نفسیات میں ڈھونڈنا چاہیے۔ ہماری سوچی سمجھی اور مذہبی نفسیات کے نہایت قریبی مطالعہ پر مبنی راے یہ ہے کہ روایتی مذہبی علما کے نزدیک کسی نئی راے کو قبول یا کم از کم 'گوارا' کرنے، یا اسے ہدف تنقید بنانے کا مدار حقیقتاً اس بات پر ہے کہ نئی راے یا نیا فقہی اجتہاد پیش کرنے کا عمل کس طرف سے سامنے آیا ہے۔ اگر اس جسارت کا مرتکب کوئی 'اجنبی' ہوا ہو تو فوراً یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس میں صحت کا امکان ماننے کی صورت میں اگلوں کے علم وفضل کا مقام کیا رہ جائے گا، لیکن اگر نیا نکتہ پیش کرنے والے صاحب علم کوئی 'اپنے' بزرگ ہوں تو پھر 'کم ترک الاولون للآخرین' (کتنی ہی باتیں ہیں جو اگلوں نے پچھلوں کے لیے چھوڑ دی ہیں) کا اصول لاگو ہوتا ہے اور امت ان کی ممنون احسان قرار پاتی ہے کہ جس الجھن کو بڑے بڑے اہل علم نے حل کرنے کی کوشش کی اور اشکال پھر بھی باقی رہا، حضرت نے اسے بے غبار طریقے سے دور کر دیا ہے۔ گویا یہ، مفروضہ علمی اصولوں کی پاس داری کا سوال کم اور پیشہ ورانہ رقابت (Professional Rivalry) کا مسئلہ زیادہ ہے۔

اسی نفسیات کے تحت روایتی مذہبیت نے شرعی احکام کی غلط تعبیر وتشریح پر تنقید کا معیار اپنے لیے الگ اور دوسروں کے لیے الگ وضع کر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰۰۶ میں ''تحفظ نسواں ایکٹ'' کی منظوری پر ملک بھر کے مذہبی حلقوں نے احتجاج کیا اور نہ صرف اس کی متعدد شقوں کو خلاف شریعت بلکہ اس پورے ایکٹ کو زنا اور فحاشی کو فروغ دینے کی ایک سازش قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے کا اہتمام کیا گیا۔ تاہم ۱۹۷۹ء میں نافذ ہونے والے حدود آرڈیننس میں بھی بعض ایسی شقیں (مثلاً معیار ثبوت میں فرق کی بنا پر زنا کو قابل تعزیر اور قابل حد میں تقسیم کرنے کی شق) موجود تھیں جن کا 'خلاف شریعت' ہونا خود روایتی مذہبی علما نے تسلیم کیا، لیکن گزشتہ تیس سال کے عرصے میں ان کی تبدیلی کے لیے کوئی مطالبہ یا احتجاجی مہم مذہبی حلقوں کی طرف سے سامنے نہیں آئی جس کی وجہ بظاہر یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ خلاف شریعت قانون سازی خود علما کی شرکت اور ان کی تائید کے ساتھ کی گئی تھی۔

مولانا محترم کی زیر بحث تنقید بھی اسی دوہرے معیار کی مثال پیش کرتی ہے، اس لیے کہ رجم کی سزا کی شرعی حیثیت کے حوالے سے مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی کی راے پر تنقید کرتے ہوئے تو ان کی مذہبی حمیت اور جذبہ احقاق حق کا اظہار پوری فصاحت وبلاغت کے ساتھ ہوا ہے، حالانکہ یہ دونوں اہل علم رجم کو اسلامی شریعت ہی کی ایک مستقل سزا قرار دیتے اور اس کا ماخذ خود قرآن مجید میں متعین کرتے ہیں، جبکہ فقہا کے ساتھ ان کا اختلا ف محض اس کے نفاذ کی شرائط کے حوالے سے ہے، لیکن مجال ہے کہ علامہ انور شاہ کشمیری کی شان میں ایک لفظ بھی مولانا محترم کے قلم سے نکلا ہو، جبکہ وہ رجم کو سرے سے اسلامی شریعت کا کوئی باقاعدہ حکم ہی نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں یہ سزا شریعت موسوی کی باقیات میں سے ہے جس کے ذکر کے لیے قرآن نے تصریح کے بجائے ابہام کا انداز اختیار کیا ہے تاکہ اسے شریعت کی کوئی باقاعدہ اور لازمی سزا نہ سمجھ لیا جائے۔