مولانا وحید الدین خاں اور جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت (1/2)


[ماہنامہ اشراق ممبئی دسمبر ۲۰۱۷ء کا اداریہ]

یکم اکتوبر ۲۰۱۷ء کو سوشل میڈیا پر ایک مختصر ویڈیو شائع ہوئی۔یہ استاذ جاوید احمد غامدی کی نسبت سے مشہور داعی اور مفکر مولانا وحیدالدین خاں کاایک ویڈیو پیغام تھا۔ مولانا محترم کا یہ تاثر اُنھی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے:

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

''مولانا۱؂ جاوید احمد غامدی صاحب کے پروگرام اِس وقت امریکا میں چل رہے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ اُن کے پروگرام اللہ کی مدد سے خوب کامیاب ہوں اور لوگوں کو اُن سے نفع پہنچے۔ میں مولانا جاوید احمد غامدی کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ اُن سے میری ملاقات بھی ہوئی ہے۔ اُن کی کتابیں بھی میں نے پڑھی ہیں۔اُن کے میگزین برابر میرے مطالعے میں رہتے ہیں۔ میں نے یہ پایا ہے کہ مولانا جاوید احمد غامدی سے مجھ کو بہت زیادہ قربت ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید درست ہوگا کہ میں اور مولانا جاوید احمدغامدی گویا اِس معاملے میں تَوأم برادر (Twin brothers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں میں بہت زیادہ مشابہت ہے۔ دونوں کا کنسرن (concern) ایک ہے ،وے آف تھنکنگ (way of thinking) ایک ہے۔ اِس زمانے میں مسلم امہ کے ریوایول (revival) کے لیے جو کام انجام دینا ہے، اُس کے لیے مولاناجاویداحمدغامدی صاحب ایک امید کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اُنھوں نے بہت حکمت کے ساتھ اور بہت مستعدی کے ساتھ اپنے کام کو مشکلات کے باوجودجاری رکھا ہے۔ میری دعا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُن کے ساتھی بنیں اور اُن کے کام کو تقویت پہنچائیں۔

مولاناجاویداحمدغامدی صاحب اگرچہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں ،لیکن میں سمجھتاہوں کہ علم میں اور عقل میں وہ مجھ سے زیادہ ہیں۔ عمر میں وہ مجھ سے چھوٹے ہو سکتے ہیں ،لیکن عقل میں اور علم میں وہ مجھ سے زیادہ ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو اُن کا فالوور (follower) کہنے میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں ۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولاناجاویداحمدغامدی صاحب کے مشن کو خوب خوب فروغ عطا فرمائے۔اُن کو زیادہ سے زیادہ ساتھی ملیں۔ساری دنیا میں اُن کا کام زیادہ سے زیادہ پھیلے اور لوگوں کے لیے نافع بنے ۔جب بھی ڈاک میں اُن کی کوئی چیز آتی ہے تو میں اُس کو ضرور پڑھتا ہوں اور اُس سے فائدہ اُٹھاتا ہوں ۔میں اُن سے اِس سے پہلے مل چکا ہوں ۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ ہم دونوں کو ملائے ۔فی الحال تو میںیہی کہوں گاکہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور مولاناغامدی کوجنت میں یکجا فرمائے ۔آمین، یارب العالمین! ''۲؂

مولانا وحید الدین خاں کے اِن تاثر ات کو سننے کے بعد استاذ جاویداحمدغامدی سے میری بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران اِس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے استاذِ محترم نے فرمایا — یہ اپنے مشن کے ساتھ مولانا کے اخلاص کا ایک غیرمعمولی اظہار ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مولانا نے جو کچھ فرمایا، یہ محض مولانا کی محبت اور شفقت ہے،میں ہرگز اپنے آپ کو اِس لائق نہیں سمجھتا۔ اِس کے بعدہم طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے استاذ نے فرمایا کہ اب ضرورت ہے کہ آپ حضرات علم و دعوت کے اِس کام کو آگے بڑھائیں۔ یہ کام اب آپ جیسے نوجوانوں ہی کو کرنا ہے:

جواں ہو تم، لبِ بام آ چکا ہے آفتاب اپنا

استاذ جاوید احمد غامدی اور اُن کے کام کے متعلق مولانا وحید الدین خاں کا مذکورہ تاثر بلاشبہ بے حد اہم ہے۔ یہ تاثر گویا ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اگر ایک طرف مولانا موصوف کی عظمت کا بیان ہے، تو دوسری طرف وہ ایک روشن حقیقت کا اعتراف ہے۔ حقیقت کا اعتراف بلا شبہ وہ چیز ہے جس سے کسی فرد یا گروہ کے لیے علم و معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ وہ بند گلی سے نکل کر اچانک علم و معرفت کی وسیع دنیا کا مسافر بن جاتا ہے۔

مولانا وحید الدین خاں کا یہ بیان بلاشبہ مثبت اور دوررس نتائج کا حامل ہے۔ استاذجاوید احمد غامدی سے متعلق مولانامحترم کا مذکورہ تاثر بلاشبہ المورد کے تحت برپا احیاے علم و دعوت کی تحریک کے لیے ایک عظیم شہادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ غالباً اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم خدا کے اشارے کو سمجھیں اور علم و ایمان کی عظیم ترین نعمت سے بہرہ مندہوں۔ بلاشبہ اِس سے بڑی کوئی خوش قسمتی نہیں کہ آدمی علم و ایمان کا داعی اور اُس کا مہبط بن جائے۔ (فمن أخذہ، أخذ بحظّ وافر)۔۳؂

دبستانِ شبلی

مولانا وحید الدین خاں اور استاذ جاوید احمد غامدی، دونوں ایک استاذ ( امین احسن اصلاحی) کے شاگرد ہیں۔ دونوں کا تعلق اصلاً اُسی مدرسۂ فکر سے ہے جس کو ''دبستانِ شبلی''کہا جاتا ہے۔سید سلیمان ندوی (وفات: ۱۹۵۶ء)، حمید الدین فراہی (وفات: ۱۹۳۰ء)، ابوالکلام آزاد (وفات: ۱۹۵۸ء)، سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: ۱۹۷۹ء) اور امین احسن اصلاحی (وفات: ۱۹۹۷ء) اِسی ''دبستان شبلی'' کے مشاہیراہل علم ہیں۔

''دبستانِ شبلی'' کو جوچیز دوسروں سے الگ کرتی ہے، وہ اُس کا یہ معتدل طرزِفکر ہے کہ — ہمارے لیے ترقی یہی ہے کہ ہم فکری اعتبار سے اُس دور میں پہنچ جائیں جس میں قرآن اتر رہا تھا اور جہاں خدا کا آخری پیغمبر براہِ راست انسانوں سے مخاطب تھا۔ اِسی کے ساتھ ہم جدید سے بھی اُسی طرح باخبر رہیں، جس طرح ہم قدیم سے باخبر ہیں۔ قدیم سے تعلق جدید کے معاملے میں ہم کو نہ کسی تعصب میں مبتلا کرے اور نہ یہ ہو کہ ہم اس کی کورانہ تقلید میں مبتلا ہو جائیں۔ اِس معاملے میں ہمارا طریقہ وہی ہونا چاہیے جس کو ایک لفظ میں ''قدیم صالح اور جدید نافع'' (الجمع بین القدیم الصالح والجدید النافع) سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی جس طرح قدیم روایت کے صالح اَجزا ہمارا بیش قیمت سرمایہ ہیں، اُسی طرح جدید روایت کے نافع اجزا بھی گویا ہمارے لیے ایک متاعِ گم شدہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

دبستانِ شبلی علم و فکر کی وہ روایت ہے جس کا آغاز ایک صدی قبل مولانا شبلی نعمانی (وفات: ۱۹۱۴ء) نے کیا تھا۔ شبلی نعمانی کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا وحیدالدین خاں نے اپنے ایک مقالہ (شبلی اور علی گڑھ)میں حسب ذیل الفاظ لکھے تھے:

''...جس نے قوم کی اگلی نسلوں کو وہ شعور دیا جو آج بھی جدید پر قدیم کوغالب کرنے کی امانت اپنے سینوں میں لیے ہوئے ہے۔ جو زمانے کی وقتی قدروں پر اسلام کی دائمی قدروں کو بالا کرنے کے لیے بے چین ہے۔ جس طرح علی گڑھ زندہ ہے، اُسی طرح شبلی بھی زندہ ہے۔'' (ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶ء)

مولانا وحید الدین خاں اور استاذ جاوید احمد غامدی اصلاً دبستانِ شبلی کی اِسی روایت کے امین ہیں۔ اِن دونوں اہل علم کے درمیان بلاشبہ اصول اور پیش کش (129presentation) کے بعض اساسی فرق موجود ہیں۔جناب ابو یحییٰ کے الفاظ میں:''دونوں بزرگوں کے کام کا اصل دائرہ جدا ہے۔...دونوں کی فکری اساس، علمی پس منظر، حالات اور ماحول بھی جدا ہے۔'' ('انذار' نومبر ۲۰۱۷ء، صفحہ ۱۴ www.inzaar.org)

تاہم، دونوں کے درمیان جو چیزگویا ایک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے، وہ اُن کا ایک استاذ کا شاگرد ہونا ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ مولانا وحید الدین خاں امین احسن اصلاحی کے ابتدائی دور (۱۹۳۸ء۔ ۱۹۴۲ء) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور جاوید احمد غامدی امین احسن اصلاحی کے آخری دور (۱۹۷۳ء۔ ۱۹۹۷ء)کے تلامذہ میں سے۔ یہ گویا وہی معاملہ ہے جس کو ایک فارسی شاعر نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوانِ عشق

اُو بہ صحرا رفت، ومادر کوچہ ہا رُسوا شدیم

مولاناامین احسن اصلاحی سے عہدِ تلمذ کا یہ فرق اُن کے اِن دونوں تلامذہ کے اندر نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

مدرسۃ الاصلاح (اعظم گڑھ) کے دورِ طالب علمی میں امین احسن اصلاحی سے تلمذ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا وحیدالدین خاں اپنی کتاب ''دین و شریعت'' میں لکھتے ہیں:

''مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طور پر داخلِ نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور اور ممتاز عالم مولانا امین احسن اصلاحی (صاحبِ تدبر قرآن) سے براہِ راست قرآن کی تعلیم حاصل کروں۔'' (۱۳۹)

''دین و شریعت'' کے مطابق، اصلاً مدرسۃ الاصلاح ہی وہ ابتدائی ادارہ ہے جہاں مولاناامین احسن اصلاحی کے ذریعے سے ''لا أدري نصف العلم''۴؂ کے مشہور درس نے مولانا کا ''فکری کورس'' متعین کیا اور اُن کے اندر ''ذہنی سفر'' کا پراسس جاری ہوا؛ جہاں سے ''ڈسپلن'' اُن کے مزاج کا حصہ بنا؛ جہاں انھوں نے ''ربانیت'' کی تربیت حاصل کی اور نمازِ استسقا کے موقع پر اجابتِ دعا کا تجربہ مولانا موصوف کے الفاظ میں، اُن کے شعور کا مستقل جز بن گیا، وہ اُن کی پوری شخصیت میں اِس طرح شامل ہو گیا کہ پھر کبھی وہ اُن سے جدا نہ ہو سکا، وغیرہ۔ ( ملاحظہ ہو: دین و شریعت، صفحہ ۱۰۶۔۱۱۴)۔

دونوں علما کا کنٹری بیوشن

میرے علم کے مطابق، مولانا وحید الدین خاں کا اصل کنٹری بیوشن وہ ہے جس کو تذکیرودعوت کا احیا کہنا درست ہوگا، یعنی مولانا کے الفاظ میں،وقت کے فکری مستویٰ (intellectual level) کے مطابق، عصری اسلوب میں ایمان و اِنذارِ آخرت، دعوتی اور تعمیری ذہن کی تیاری اور شعوری بیداری جیسے اہم میدان میں مسلمانوں کو مثبت رہنمائی دینا۔ (واضح ہو کہ مولانا وحیدالدین خاں کے کام کا مکمل تعارف یا اُن کے فکر کا علمی جائزہ لینا اِس وقت ہمارا موضوع نہیں۔مولانا کی زندگی اور مشن کے تفصیلی مطالعے کے لیے ملاحظہ ہو: ''اوراقِ حیات''، شاہ عمران حسن، رہبر بک سروس،نئی دہلی)

استاذ جاوید احمد غامدی کے کام کا اصل میدان وہ ہے جس کو قرآنیات کہا جاسکتاہے۔استاذِ محترم نے کتابِ الٰہی کی زبان و بیان، اُس کی شرح و تفسیر اور فہم دین کے اصول و مبادی جیسے اہم علمی مباحث کی تنقیح و تبیین کر کے دین کی علمی روایت کو اُس کی اصل اساس پر قائم کرنے کی بلاشبہ قابل قدر خدمت انجام دی ہے۔

واضح ہو کہ فراہی اسکول سے وابستہ اہل علم کا اصل امتیاز یہ نہیں ہے کہ معروف معنوں میں، وہ کوئی ''بڑے عالم'' ہیں۔ میرے نزدیک،اُن کا اصل امتیاز یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی زبان و بیان (عربی مبین) اور اصولِ دین کے جید عالم ہیں۔ (مزید ملاحظہ ہو: ''فکر فراہی — شخصیات اور خدمات''، ریحان احمد یوسفی، مطبوعہ المورد، لاہور؛ حیاتِ غامدی، شاہ عمران حسن، رہبر بک سروس،نئی دہلی)

خدا کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے دیگر اہل علم کے علاوہ، محترم مولانا وحیدالدین خاں اور استاذ جاوید احمد غامدی دونوں سے استفادے کا بہترین موقع عطا فرمایاہے(جس کی تفصیل کا یہ محل نہیں)۔یہ تلمذ بلاشبہ مجھ جیسے طالب علم کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔تاہم میرے نزدیک غالباًاِس سے زیادہ بڑی نعمت یہ ہے کہ خدا نے مختلف شخصیات اور تحریکات سے استفادے کے باوجود مجھے اُس فکری برائی سے محفوظ رکھا جس کو ''شخصیت پرستی اور تعصب'' کہا جاتا ہے۔

شخصیات اور تحریکات سے اخذ و استفادے کے باب میں ہمارا طریقہ وہی ہونا چاہیے جس کو مشہور تابعی اور محدث امام ابن عُیینہ (وفات: ۸۱۵ء) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: ''إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ھو المیزان الأکبر، فعلیہ تُعرض الأشیاء ۔ علٰی خُلقہ وسیرتہ وھَد یہ؛ فما وافق فہو الحق، وما خالفہا فہو الباطل'' (الجامع لأخلاق الراوي للبغدا دي :۷۹)، یعنی بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی حق و ناحق کو جانچنے کا سب سے بڑا معیار ہے ۔ آپ کی سیرت، آپ کا اسوہ اور آپ کا اخلاق، یہی وہ معیار ہے جس پر تمام چیزیں جانچی جائیں گی۔ جو چیز اِس معیار کے مطابق ہو، وہ حق ہے اور جو چیز اِس معیار کے مطابق نہ ہو، وہ بلاشبہ باطل اور قابل رد ہے۔

ایک قابلِ اصلاح پہلو

یہاں ہم تحریکات کے ایک قابل اصلاح پہلو کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہیں گے، اور وہ ہے — دعوت و اصلاح کے ساتھ مطلوب انداز میں اپنے رفقا کی علمی تیاری کا سامان نہ کرنا۔ بعد کے زمانے میں اٹھنے والی ہماری اکثر دعوتی تحریکات کا یہ ایک عجیب پہلو رہا ہے کہ اُن کے درمیان فکری اور عملی طور پر علم (واضح ہو کہ یہاں 'علم'سے ہماری مراد قرآن وسنت کا براہِ راست علم ہے) اور دعوت کا توازن قائم نہ رہا۔وہ ''علم وایمان'' (الروم ۳۰: ۵۶) کے قرآنی معیار پر اپنے کام کو منظم نہ کرسکے۔ انھوں نے سرگرم داعی پیدا کیے، مگر اِن داعیوں کی علمی تیاری اورخود مشن کے بقا و استحکام کے لیے اُس کے اہل افراد کے اندر علمی اور تحقیقی ذوق کا ارتقا کبھی اُن کے ترجیحی پروگرام میں شامل نہ ہو سکا۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ ایک مفکر نے کہا تھا کہ — مشن کلچر علمی ارتقا کے لیے اکثر ایک قاتل کلچر ثابت ہوا ہے۔ دعوت کے ساتھ اپنے رفقا کی علمی تربیت کا اہتمام نہ کرنا بلاشبہ ایک یک رُخا طریقہ (one-sided approach) ہے۔ اِسی یک رُخے ا پروچ کو اسلام میں غلو اور بے اعتدالی کہا گیا ہے۔ اعتدال، دین اور عقل دونوں کا تقاضا ہے۔ اعتدال کے بغیر نہ انفرادی زندگی درست طور پر چل سکتی ہے، نہ اجتماعی زندگی۔ اعتدال کے بغیر کیے جانے والے ہر فکری اور عملی سفر کے لیے خدا کی اِس دنیا میں یہ مقدر ہے کہ وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے۔ (القصدَ القصدَ تبلغوا)۵؂ ۔

علمی بحران کے بنیادی اسباب

اِس صورتِ حال کا ایک بڑا سبب دعوتی تحریکات کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر اُس طرزفکر کی افزایش ہے، جس کو جاہلی دور کے ایک شاعر عنترہ العبسی (وفات: ۶۰۰ء) نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا:

ھل غادر الشعراءُ من مُتردَّمِ

یعنی اِس باب میں جو کچھ کہنا تھا، وہ سب کہا جا چکا۔ اب کسی دوسرے شخص کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اِس پر وہ کچھ اضافہ کر سکے۔اِس طرز فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اِس قسم کی سوچ رکھنے والے لوگ تعصب اور ذہنی جمود کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ تعصب اُن کے اندر علمی ارتقا کے سفر کو روک دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ تعصب خود اُن کے اپنے مشن کے بقا و استحکام کی راہ میں سب سے بڑامانع ہے۔ دوسروں کی نسبت سے اُن کے اندر وہ اعلیٰ اخلاقی صفات ختم ہو جاتی ہیں جس کو وسیع القلبی، سچا اعتراف اور باہمی تعاون کہا جاتا ہے۔

استاذ جاوید احمد غامدی نے ایک بار گفتگو کے دوران ایک قرآنی لفظ 'رِجْس' (یونس ۱۰: ۱۰۰) کی وضاحت کرتے ہوئے مجھ سے فرمایا تھا کہ — 'رِجس' کی بہت سی قسمیں ہیں۔ تعصب بھی 'رِجس' کی ایک قسم ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعصب علم کا 'رِجس' ہے۔ تعصب حصول علم کے لیے نہ صرف ایک رکاوٹ ہے، بلکہ وہ علم کو اپنی خالص صورت میں باقی نہیں رہنے دیتا۔ تعصب علم کو آلودہ اور ذہن کو جامد بنا دیتا ہے۔

اِس علمی بحران کا دوسرا سبب دعوتی تحریکات کا علم کو محض فنی یا ٹیکنیکل قسم کا ایک معاملہ سمجھنا ہے۔ یہ بلاشبہ علم کی تصغیر ہے۔ اصل یہ ہے کہ علم ہی وہ چیز ہے جو انسان اور حیوان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ علم ایک ایسی روشنی ہے جس کے بغیر حق اور ناحق کی معرفت ممکن نہیں۔ علم دین کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کا حامل اُس سے خالی ایک ہزار عارفین کے مقابلے میں بھی تنہا شیطان پر بھاری ثابت ہوتا ہے (فقیہ واحد أشد علی الشیطان من ألف عابد)۶؂ ۔

ایک وضاحت

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بلاشبہ قائدانہ اور مفکرانہ رول ادا کرنا ہر ایک کے لیے مقدر نہیں، مگر حسب استطاعت قرآن و سنت کا براہِ راست علم حاصل کرنا ہر اہل شخص کا اولین فریضہ ہے۔غالباً اِسی ضرورت کا احساس تھا جس کے تحت اب سے بہت پہلے (۱۹۸۰ء) مولانا وحیدالدین خاں نے یہ الفاظ تحریرفرمائے تھے:

''پیغمبر کے لائے ہوئے اِس دین کی بنیاد قرآن پر ہے جو عربی زبان میں اتارا گیا ہے۔پھر اِس کتاب کی مزید وضاحت سنت سے ہوتی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات کی صورت میں کتابوں کے وسیع ذخیرے میں مرتب ہوکر موجود ہے۔جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اِس کو جاننا چاہتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ اِن کتابوں کو پڑھے، کیوں کہ یہی وہ کتابیں ہیں جو دین خداوندی کو سمجھنے کے لیے اصل ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔جو لوگ اِن کتابوں کے پورے ذخیرے کے مطالعے کا وقت نہ رکھتے ہوں، اُن کے لیے کم سے کم مختصر نصاب ذیل میں درج کیا جاتا ہے قرآن مجید، سیرتِ نبوی، از:حافظ ابن کثیر، مشکوٰۃ المصابیح، حیاۃ الصحابہ، از: مولانا محمد یوسف کاندھلوی۔'' (صراطِ مستقیم۵)

معرفت کے حصول کا ذریعہ 'علم' کو بتاتے ہوئے ایک دوسرے مقام پر مولانا تحریر فرماتے ہیں:

''غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معرفت کے دو درجے ہیں ایک ہے مبنی بر صحبت معرفت، اور دوسرا ہے مبنی بر علم معرفت۔ پیغمبر کی زندگی میں جو لوگ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، ان کو صحبت رسول کے ذریعے اللہ کی معرفت کا رزق حاصل ہوتا ہے۔ پیغمبر کے بعد معرفت کی حیثیت ایک اعلیٰ ایمانی مطلوب کی ہوتی ہے، لیکن پیغمبر کے بعد معرفت کے حصول کا ذریعہ علم ہے، علم وحی بھی اور علم انسانی بھی۔'' (الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴ء، صفحہ ۴۶)

حقیقت یہ ہے کہ علم معرفت کا محافظ ہے اور معرفت علم کی حفاظت کا ذریعہ۔ معرفت کے بعد آدمی کو جو چیز انحراف سے روکتی اور اس کو استقامت عطا کرتی ہے، وہ بلاشبہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں 'رُسوخ في العلم' (آل عمران ۳: ۷) کہا گیا ہے۔

قرآن و حدیث میں اِسی 'رُسوخ في العلم' علم کو ''فقہ و تفقّہ'' سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس فقہ و تفقہ سے مراد معروف معنوں میں محض مسائل کا جزوی علم نہیں، بلکہ اِس سے مراد قرآن و سنت میں وہ گہری عالمانہ بصیرت حاصل کرنا ہے جو آدمی کو تاریکیوں سے نکا ل کر روشنی میں لے آتی ہے اور وہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم کا مسافر بن جاتا ہے۔

قرنِ اول کے بعد علم کی ضرورت

یہ بات بلا شبہ درست ہے کہ قرآن و سنت کا فہم حاصل کرنے کے لیے اصحابِ رسول کویقیناًاِس قسم کے ''فنی علم'' (مثلاً عربی زبان اور اس کے متعلقات، وغیرہ) کی ضرورت نہیں تھی۔ اِس کا بنیادی سبب تھا — اُن کے درمیان خود صاحبِ قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ نفس نفیس موجودگی۔

اِس سلسلے میں ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے ایک بار استاذ جاوید احمد غامدی نے ایک عجیب بات فرمائی۔ انھوں نے کہا کہ آپ فہم دین حاصل کرنے کے لیے اصولِ دین سیکھنے کی بات کرتے ہیں! اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہوتا تو اِس طرح کے اصول تو کُجا، میں خود قرآن کو بھی فہم دین حاصل کرنے کے لیے شاید کبھی نہ پڑھتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے صاحب قرآن کی صورت میں دین کا ایک زندہ نمونہ موجود تھا۔ اُس وقت آپ کی ذات ہی ہمارے لیے دین کا اصل ماخذ ہوتی۔ ہم کو آپ سے براہِ راست دین کا فہم اپنی اصل اور خالص صورت میں حاصل ہو جاتا۔ اِس کے بعد فہم دین کے لیے مجھ کو کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہ رہتی۔

مگر اب جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے کے اہل ایمان کے لیے عملاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس طرح براہِ راست علمِ دین حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ عہد رسالت سے یہی زمانی بُعد وہ اصل سبب ہے جو اہل ایمان سے یہ تقاضا کرتاہے کہ وہ فہم دین کے لیے حصول علم کا طریقہ اختیار کریں، وہ قرآن و سنت کے براہِ راست طالب علم بن کردین میں گہری بصیرت پیدا کریں۔

ایسی حالت میں کسی شخص کے لیے یہ سمجھنا بلاشبہ درست نہیں کہ — قرآن و سنت میں براہِ راست علمی بصیرت کے حصول کا باقاعدہ نظم کیے بغیرمحض'' ایک طاقت ور ٹیم اور ایک طاقت ور لٹریچر''کسی دینی مشن کے بقا و تسلسل کے لیے کافی ضمانت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نظریہ انسانی لٹریچر کا تقابل قرآن و سنت سے، اور اصحاب رسول کا تقابل مابعد 'خیرالقرون' اٹھنے والی جماعت کے تقابل پر مبنی ہے جو بلاشبہ بے اصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی عالم اور داعی کا تیارکردہ کوئی بھی لٹریچر ہرگز قرآن و سنت کا بدل نہیں بن سکتا۔ اِسی طرح اس کے ساتھیوں کی کوئی ٹیم اصحابِ رسول کے 'منتخب'اور' مختار'۷؂ گروہ کے ہم پلہ قرار نہیں دی جا سکتی۔

تحریک کا قرآنی منہج

قرآن کی سورہ التوبہ کی درج ذیل آیت پرغور کرنے سے معلو م ہوتا ہے کہ ایک اسلامی تحریک کا مطلوب منہج کیا ہونا چاہیے۔اِس سلسلے میں آیت کے الفاظ یہ ہیں: 'وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ' (۹: ۱۲۲)۔ یعنی یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان،سب کے سب ،نکل کھڑے ہوں۔ مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اہل ایمان کے ہر طبقے میں سے ایک گروہ نکل کرآتا تاکہ وہ دین کا فہم حاصل کرے اور پھر واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو آگا ہ کرے تاکہ وہ لوگ پرہیز کرنے والے بنیں۔

اِس آیت سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں ، اُن میں سے ایک چیز یہ ہے کہ کسی اسلامی تحریک کا وہ مطلوب منہج کیا ہے، جس پر اُسے لازمی طورپر قائم ہو نا چاہیے۔

ہر زندہ تحریک کی یہ ایک بنیادی ضرورت ہے کہ اُس کے پاس دو طرح کی ٹیم ہو — ایک گروہ وہ ہو جو 'فیلڈ ورک' کرے ، اور دوسرا گروہ وہ ہو جو' اکیڈمک ورک 'کرے۔گویا ایک گروہ 'دُعاۃ' کا ہو ، اور دوسرا گروہ 'فقہا'(براہِ راست دین کا گہرا فہم رکھنے والے علما)کا۔ اِن میں سے ایک گروہ عمومی دعوت واشاعت کے کام میں سرگرمِ عمل ہو، اور دوسرا گروہ ٹیم کے دیگر افراد کو مسلسل طورپر علمی اور فکری غذا پہنچاتا رہے۔ پہلاگروہ اگر تحریک کی اَفرادی طاقت ہے تو دوسرا گروہ اُس کے لیے فکری طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک کے تمام افراد کو دعوت کے کام پر مامور کردینا اورتحریک کے اہل افراد کو علمی کام کے لیے تیار نہ کرنا بلاشبہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ اِس معاملے میں فطری طریقہ یہ ہے کہ حسب ذوق واستعداد، تحریک کے افراد کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے: ایک گروہ دعوتی اور انتظامی امور کوسنبھالے، اور دوسرا گروہ اپنے آپ کو علمی میدان میں سرگرم کرے۔ یہ عمل تحریک کے دُعاۃ اور کارکنوں کے لیے عملاً ایک 'سورس آف اِنسپریشن' (sourse of inspiration) ثابت ہوگا۔اِس سے فیلڈ میں سرگرم کارکنوں کو مسلسل طورپر علمی اور فکری غذا ملتی رہے گی۔

قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، یہی اِس معاملے میں رسول اور اصحابِ رسول کا اُسوہ ہے، اور یہی فطرت کا طریقہ بھی۔اِس ابدی اصول سے انحراف صرف اِس قیمت پر ہوگا کہ اِس قسم کی تحریک خود اپنے ہاتھوں اپنا خاتمہ کر دے، اور ظاہر ہے کہ کوئی سچا مشن ہرگز اِس قسم کی روش کا تحمل نہیں کرسکتا۔

تحریک کا نبوی منہج

موجودہ زمانے کی بیش ترتحریکات میں مشنری سرگرمیوں کے درمیان، شعوری یا غیر شعوری طورپر اُن کا رشتہ قرآن و سنت کے براہِ راست علم سے منقطع ہوگیا۔ علم سے اِس دوری نے اُن کے اندر ایک بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اُن کے اندرپایا جانے والا غلو، تعصب، احساسِ برتری اور ردعمل کی نفسیات اِسی بحران کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اِس نفسیات کا سبب اِ س قسم کی تحریکات کاوہی یک رُخا اپروچ ہے جس کا اوپر ذکرکیا گیا۔

اِس معاملے میں رسول اور اصحاب رسول کا طریقہ یہ تھا کہ وہ دعوت اور تربیت کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو علم دین اور اُس پر عمل کا طریقہ بھی سکھاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مُزکی بھی تھے اور معلم بھی (إنما بعْثتُ معلمًا)۸؂ آپ نے اپنی ٹیم میں صرف دُعاۃ نہیں، بلکہ اُن اصحاب کو بھی خصوصی طور پر تیار کیا جن کو ''قُرّاء'' یا ''علما اور فقہاے صحابہ۹؂ '' کہا جاتا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ''حیاۃ الصحابۃ''، جلد ۳، باب رغبۃ الصحابۃ في العلم و ترغیبہم فیہ)۔

مولانا وحید الدین خاں اور جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت (2/2)

________

۱؂ واضح ہو کہ خود استاذِ محترم اور اُن کے تلامذہ اُن کے نام کے ساتھ ''مولانا'' کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔

۲؂ براہ راست ملاحظہ فرمائیں: https://www.youtube.com/watch?v=veX7snuiik8۔

۳؂ سنن ابی داؤد، رقم ۳۶۴۱۔

۴؂ میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے۔

۵؂ اعتدال کا طریقہ اختیار کرو،اعتدال کا طریقہ اختیار کرو،منزل پر پہنچ جاؤگے۔(صحیح البخاری، رقم ۶۳۶۴)۔

۶؂ سنن الترمذی، رقم ۲۶۸۱۔

۷؂ الصحیح المسند للوادعی، رقم ۸۵۶۔ مشکوٰۃ المصابیح، رقم ۱۹۳۔

۸؂ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألباني، رقم ۳۵۹۳۔

۹؂ صحیح مسلم، رقم ۱۰۵۰۔ الاصابہ ۱ / ۱۶؛ ۲ / ۳۶۰۔

____________