مولانا وحید الدین خاں اور جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت (2/2)


مولانا وحید الدین خاں اور جناب جاوید احمد غامدی کی دعوت (1/2)

قرآنی دعوت کا پیغمبرانہ ماڈل

قرآنی دعوت کے معاملے میں اصولی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ کیا تھا،اُس کو ایک حدیث سے واضح طورپر معلوم کیا جاسکتا ہے۔یہاں میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی اُس مشہور قولِ رسول کا ذکر کروں گا جس کے الفاظ یہ ہیں: 'خیرکم من تعلَّم القراٰنَ وعلَّمہ' ۱۰؂ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہتر لوگ وہ ہیں جو خود قرآن کو سیکھیں اور اِسی کے ساتھ دوسروں کو بھی وہ قرآن سکھائیں۔

اِس ارشادِ رسول کے مطابق، قرآن کی نسبت سے ایک مسلم فرد اور گروہ کی ذمّے داری یہ ہے کہ وہ لازمی طورپرقرآن کی تعلیم اور تعلُّم کا دوطرفہ عمل کرے، یعنی وہ خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو بھی وہ قرآن کی تعلیم دے۔ یہاں قرآن سیکھنے اور سکھانے سے مراد درجہ بہ درجہ قرآن کے الفاظ اور اُس کے معانی ، دونوں کا علم حاصل کرنا ہے۔ قرآن چونکہ 'عربی مبین' میں نازل ہوا ہے، اِ س لیے یہ اپنے آپ میں اِس بات کی ایک واضح دلیل ہے کہ قرآن کے ایک طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ حسب استعداد ،وہ اِس 'عربی مبین 'میں درک پیدا کرے؛ وہ قرآن کے معانی اور اُس کی زبان وبیان پر عبور حاصل کرے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن الفاظ میں دی تھی: 'أعربوا القرآن واتّبعوا غرائبَہ، وغرائبُہُ: فرائضُہ وحدودُہ'۱۱؂ یعنی قرآن کی لغت اور اُس کے اعراب کا علم حاصل کرو اور اُس کے غرائب کا اتباع کرو۔ اُس کے غرائب اُس کے فرائض اور اس کے حدود کا علم ہے۔ مذکورہ حدیث کی تشریح کے تحت صاحب ''مرقاۃ المفاتیح'' نے لکھا ہے: 'أي بیّنُوا ما في القرآن من غرائب اللغۃ وبدائع الاعراب'۔ (۲ / ۶۰۲)، یعنی اُسی علم کا حصول جس کو 'عربی مبین' کی تحصیل اور قرآن کی زبان و بیان کا علم کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا،اول الذکر ارشادِ رسول (خیرکم من تعلّم القرآن وعلّمہ) سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی ''تعلیم اور تعلم'' کا مطلوب فریضہ صرف لوگوں تک قرآن کے تراجم پہنچانے کے مقدس عمل کے ذریعے سے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک قسم کایک طرفہ دعوتی ڈسٹری بیوشن ہو سکتا ہے،نہ کہ مذکورہ حدیث میں بیان کردہ ''تعلیم اور تعلُّم'' کا دوطرفہ عمل۔

قرآن کی دعوت کو اسوۂ رسول کے مطابق انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کو لازماً ''تعلیم اور تعلُّم'' دونوں سطحوں پر انجام دیا جائے، یعنی بہ یک وقت قرآن کو سیکھنا اور سکھانا۔ قرآن کی نسبت سے عائد اِس دو طرفہ ذمّے داری کو ادا کیے بغیر کسی شخص یا گروہ کے لیے ہرگز ''خیر'' کی اُس مطلوب حالت کا حصول ممکن نہیں جس کا ذکر مذکورہ ارشادِ رسول میں کیا گیا ہے۔

سلَف کی مثال

موجودہ زمانے کی بیش ترتحریکات کے برعکس، سلف صالحین کے یہاں علم و دعوت، دونوں متوازی طور پر اُن کے پروگرام میں یکساں حیثیت سے شامل تھے۔ انھوں نے ایک طرف عمومی دعوت و اصلاح کا کام کیا اور دوسری طرف ایسے لوگ تیار کیے جو عالم اور معلم تھے۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ (وفات: ۱۳۲۸ء) نے اِس قسم کے جید علما کی پوری ایک ٹیم تیار کی۔ ابن قیم (وفات: ۱۳۵۰ء)، ابن کثیر (وفات: ۱۳۷۳ء)، ابن رجب حنبلی (وفات: ۱۳۹۳ء) جیسے علما اِس ٹیم کے مشاہیر اہل علم ہیں۔ بعد کے زمانے میں دوسرے علماکے علاوہ ،شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی نے بھی اِس طرح کے اہل علم کی ایک طاقت ور ٹیم تیار کر دی ہے۔

علمی ارتقا، ذہنی ارتقا

زیر نظر تحریر کے آغاز میں شامل استاذ جاوید احمد غامدی اور اُن کے کام سے متعلق مولانا وحید الدین خاں کے صریح بیان کے بعد الرسالہ کمیونٹی کے لیے اب اِس کا بہترین موقع کھل گیا ہے کہ علمی میدان میں وہ بھی المورد سے اُسی طرح فائدہ اٹھائیں جس طرح المورد نہ صرف الرسالہ کا معترف ، بلکہ اُس کی تمام مثبت اور قابل استفادہ چیزوں سے مسلسل طورپر استفادہ کر رہا ہے۔

تحریکوں کی مخصوص تاریخ کی بنا پر میں ہرگز اِس معاملے میں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہوں۔ تاہم دعوت الی اللہ اور اس کے مشن کے ساتھ اپنے تعلق کی بنا پر الرسالہ کمیونٹی سے میں یہ امید رکھوں گا کہ بعض دیگر چیزوں کی طرح شاید اِس معاملے میں بھی وہ ایک استثنا ثابت ہو۔

واضح رہے کہ مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ اپنی اِس طویل رفاقت کے دوران میں میں اِس بات کے لیے مسلسل طور پرجد وجہد(جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) کرتا رہا ہوں کہ یہاں ''تذکیر''کے ساتھ'' تعلیم ''اور حدیث کے الفاظ میں 'تعلُّمِ ایمان' کے ساتھ 'تعلُّمِ قرآن'۱۲؂ (کتاب و سنت کا گہرا علم) کو لازمی طورپر شامل کیا جائے،یعنی ایمان کے بعد براہِ راست قرآن کی تعلیم کا اہتمام کرنا۔ الرسالہ مشن میں گذشتہ کئی دہائیوں سے تجدید ایمان یا ''ذہن سازی'' کا یہ مطلوب کام مسلسل طورپر جاری ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ حدیث کے مطابق، اُس کے اگلے مرحلے کا آغاز کر دیا جائے، یعنی مشنری رفقا، خاص طورپر، سی پی ایس اور الرسالہ کے کورٹیم ممبران (core team members) کے اہل افراد کے لیے 'تعلُّمِ ایمان' کے ساتھ' 'تعلُّمِ قرآن' کا باقاعدہ انتظام۔

دعوت کے ساتھ علمی ارتقا کا یہی وہ جذبہ تھا جس نے مجھے مجبور کیا کہ اپنے شب و روز ایک کر کے ''جدید تعلیم یافتہ'' لوگوں کے ساتھ ''دُعاۃ ''اور فارغین مدارس کے ایک صالح گروپ کوبھی الرسالہ مشن سے وابستہ کیا جائے۔ مگر افسوس کہ بعض وجوہات (جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں)کی بنا پرمشن میں ''علما کا رول''اداکرنے کے لیے قرآن وسنت کی نسبت سے مطلوب 'اکیڈمک ورک'کا یہ خواب'فیلڈ ورک' کی عمومی مہم میں اِس قدر گُم ہوگیا کہ اب بہ ظاہر اِس کے شرمندۂ تعبیر ہونے کے کوئی آثارنظر نہیں آتے:

گھر میں تھا کیا، جو ترا غم اُسے غارت کرتا وہ جورکھتے تھے ہم اک' حسرتِ تعمیر' سو ہے!

عملی چٹان

یہاں میں عرض کروں گا کہ مولانا وحید الدین خاں بلاشبہ ''نظریاتی چٹان'' (الاسلام ۵) کی بہت سی ''سیڑھیاں'' کاٹ چکے ہیں۔ مولانا کا یہ فکری سرمایہ اُن کے لٹریچر کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ تاہم اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود، مولانا کے الفاظ میں،اُس کی حیثیت گویا صرف ایک ''نقش اول'' (ظہورِ اسلام ۴) کی ہے۔ اب الرسالہ کے ساتھیوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس کا ''نقشِ ثانی'' تیار کرکے مولاناموصوف کے کام کو ''تکمیلی شکل''دیں۔ اِس طرح وہ اُس ''عملی چٹان'' کی سیڑھیاں کاٹنے کا تاریخی فیصلہ کریں جس کا خواب اب سے بہت پہلے مولانا نے دیکھا تھا۔

مولانا وحید الدین خاں کی تحریروں کے مطابق،دعوت وتذکیر کے علاوہ،اِس ''عملی چٹان''سے مراد وہی چیز ہے جس کویہاں میں اکیڈمک وِنگ (Academic Wing)کے قیام سے تعبیر کررہا ہوں۔ اِس اکیڈمک ونگ کا مقصد ہرگز ''پروفیشنل'' قسم کے ''اکیڈمیشین'' تیار کرنا یااُن کو مشن میں شامل کرنانہیں ۔ اِس کا مقصدبنیادی طورپر صرف ایک ہو گا، اور وہ ہے خود مشن کی علمی اور دعوتی ضرورت کے تحت، اُس کی ایک ٹیم کا براہِ راست قرآن و سنت کے گہرے اور وسیع مطالعے کو اپنا میدان بنانا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی دعوت شخصیات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ 'علم'کی بنیاد پرکھڑی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف دو صورتیں ممکن ہیں: شخصیات کو بے خطا (infallibe) قرار دینا، یا بے خطا قرار نہ دے کر اُن کے افکارکو قرآن وسنت کی بنیاد پر جانچنا۔ اسلامی دعوت کا ابدی معیاربلاشبہ قرآن و سنت ہے، نہ کہ اِس کے سو ادوسری کوئی چیز۔ اِس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے مولاناوحیدالدین خاں نے بجا طورپر لکھا ہے:

''اصل یہ ہے کہ اسلام میں جانچنے کا معیار قرآن وسنت ہے۔ ہمارا معاملہ ہو یا کسی اور کا معاملہ، ہر ایک کو صرف قرآن وسنت کے معیار پر جانچا جائے گا۔''(ڈائری، ۱۳ جون ۲۰۰۷ء، بہ حوالہ:اوراق حیات ۳۱۰)

اِیسی حالت میں 'رسوخ فی العلم 'کے بغیر کسی نقطۂ نظر کو قرآن وسنت کے معیار پر ''جانچنا''کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ ''اکیڈمک کلچر'' کے عمومی تصور کے برعکس، اسلام میں یہ بات سرتاسر اجنبی ہوگی کہ ایک داعی یا عالم''کسی ایک راے کو درست نہ سمجھے، بلکہ وہ رایوں کے بارے میں غیر جانب دار impartial)) بنا رہے'' (الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴ء، صفحہ ۴۵)۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ایک داعی یا عالم سے جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے غیرمتعصبانہ ذہن کے ساتھ کسی نقطۂ نظر کو جانچنا اوردلائل کی بنیاد پر کسی راے کو درست یا نادرست قرار دینا۔

ایسی حالت میں کسی مشن میں ذہنی ارتقا کے ساتھ علمی ارتقا کا باقاعدہ اہتمام کرنا لازمی طورپر ضروری ہے۔قرآن کے مطابق، اسلامی دعوت اور اُس کے متبعین کی بلاشبہ یہ سب سے بڑی ضرورت ہے کہ وہ اِسی علمی بنیادپر کھڑے ہوکر دعوت وتعلیم کا فریضہ انجام دیں (یوسف ۱۲:۱۰۸)۔

اساسات کے علاوہ،کسی دوسرے میدان میں''افکار کا تنوع'' (الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴ء، صفحہ ۳۷) کوئی نا مطلوب چیز نہیں۔ اسلام میں جو چیز فیصلہ کن ہے، وہ 'بیِّنۃ'( دلیل) ہے، نہ کہ ''Thus my inner sight speaks'' جیسے پراسرار تصورات ۔یہ بلاشبہ ''افکار کا تنوع'' ہی ہے جس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ''ذہنی ارتقا''کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں سارے لوگ ایک ہی انداز میں سوچتے ہوں، وہاں جو چیز پائی جائے گی، وہ ذہنی ارتقا نہیں ، بلکہ صرف ذہنی جمود ہوگا:

When everyone thinks alike, no one thinks very much.

ایک علمی ٹیم کی ضرورت

واضح ہو کہ مولانا وحید الدین خاں دعوتی مقاصد کے تحت،متعدد بار اپنی تقریر و تحریر میں اِس قسم کی ایک علمی ٹیم کی ضرورت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پرمولانا محترم ایک جگہ تحریرفرماتے ہیں :

''مستشرقین کے جواب میں موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر اُن کا اصل جواب یہ ہے کہ علومِ اسلام پر ایسی اعلیٰ کتابیں تیار کی جائیں جو اپنی تحقیق اور اپنی معلومات کے اعتبار سے مستشرقین کی کتابوں کا مثبت جواب بن جائیں۔'' (الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴ء، صفحہ ۴۳)

تاہم مولانا وحیدالدین خاں کے نزدیک ''موجودہ زمانے کے تمام علما مستشرقین کے بارے میں منفی راے رکھتے ہیں۔'' (الرسالہ، اگست ۲۰۱۳ء، صفحہ ۳۵)۔ مولانا کے اِس نقطۂ نظر کی روشنی میں بلاشبہ یہ کہنا درست ہوگا کہ مستشرقین کی نسبت سے جس دعوتی کام کی ضرورت کا اظہار مولانا محترم نے فرمایا ہے، مثبت طورپر اُس کو صرف الرسالہ کے تحت قائم کیے جانے والے شعبۂ علم وتحقیق کے تحت انجام دیاجاسکتا ہے۔اِس قسم کی ایک علمی ٹیم کی ضرورت کے لیے مزید ملاحظہ ہو مولانا کی کتاب ''تجدید دین''، صفحہ ۷۶۔ اِس علمی ادارے کے تحت مشن کی نسبت سے کیا کام کرنا ہے، اُس کی ایک تفصیلی فہرست بھی مذکورہ کتاب کے صفحہ ۷۸ پر موجود ہے ۔اِس سلسلے میں تعلیم وتعلُّم کا بنیادی نصاب کیا ہو، اِس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا موصوف لکھتے ہیں:

''اسلامی تعلیم کا نصاب دو خاص چیزوں پر مشتمل ہونا چاہیے قرآن وسنت ؛ وہ علوم جو مدعو کی نسبت سے ضروری ہوں۔ مثلاً مخاطب کی زبان ، اُس کے طرزِ فکر اور اُس کی نفسیات، وغیرہ۔'' (تذکیر القرآن ۵۱۲)

قرآن و سنت کے اِس براہِ راست علمی مطالعے کے نتیجے میں نہ صرف یہ ہوگاکہ مولانا کا تصورِ دین اور اُن کا دعوتی فکر زیادہ منقح ہو کر سامنے آ سکے گا، بلکہ اُس پر علمی اضافے کا وہ عمل بھی جاری ہو جائے گا جو کسی مشن کے بقا و تسلسل کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ مزید یہ کہ اِس سے مولانا کے وہ دعوتی کام جواُن کے الفاظ میں، ابھی تک موضوع کا صرف ''مختصر تعارف'' بنے ہوئے ہیں، وہ موضوع کا ''جامع اور مفصل تعارف'' بن جائیں گے اور اِن میں ''مزید مباحث کا اضافہ'' ہو سکے گا ( اسلام دورِ جدید کا خالق ۸)۔اِس طرح یہ بھی ممکن ہوجائے گا کہ دین خداوندی کا ''عمومی اور ابتدائی تعارف'' دین کے ''تفصیلی مطالعہ'' کی صورت اختیار کرسکے(صراطِ مستقیم ۶)۔

اِس عمل کے بعد یقینی طورپر یہ ہوگا کہ قرآن و سنت اور اسلام کے اصل مصادر کابراہِ راست تفصیلی مطالعہ مشن کے بہت سے صالح افرادکے اندر مولانا کے الفاظ میں،'' قدموں میں پڑے رہنے'' کے ''تقلیدی ذہن'' کے بجاے ''کندھوں پر کھڑے ہونے'' کا مطلوب ''اجتہادی ذہن'' پیدا کرے گا۔ بعید نہیں کہ اِس کے بعد ، مزید اضافے کے ساتھ، مولانا وحیدالدین خاں کے درج ذیل الفاظ خود الرسالہ مشن کے حق میں ایک واقعہ بن کر ظاہر ہوں:

''اِس طرز فکر (اجتہادی ذہن)سے بلند نظری اور حوصلہ مندی پیدا ہوتی ہے جس معاشرے کے لوگوں میں یہ مزاج ہو، وہاں ذہنی ارتقا کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا۔ ہر نسل کے افراد پچھلے لوگوں کے علمی سرمایے پر اضافہ کریں گے اور اُس کو مزید ترقی دے کر اگلی نسلوں تک پہنچاتے رہیں گے۔'' (مسائلِ اجتہاد ۸)

قرآن کی تعلیم

اِس کے علاوہ، اِس اکیڈمک ونگ کے تحت جو بنیادی کام کرنا ہے، وہ قرآن کی تعلیم و تعلُّم کا کام ہے، یعنی مشن کے عام لوگوں کو سادہ طور پر قرآن مجید (ناظرہ و ترجمہ) اور اردو زبان، وغیرہ کی تعلیم دینا اور مشن کے اہل تر افراد کو قرآن کی زبان و بیان، اس کی شرح و تفسیر اور ماخذِ دین کے علمی اور تفصیلی مطالعے کے لیے تیار کرنا۔ اِسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ تقریری اور تحریری صلاحیت رکھنے والے افراد کی تربیت کر کے انھیں اِس بات کا کھلا موقع دیا جائے کہ وہ بھرپور طور پر اپنے ذہنی امکانا ت کو واقعہ بنا سکیں۔''رسپانسبلٹی''کے ساتھ لوگوں کو اُن کے دائرے میں ''اتھارٹی'' اور مواقع فراہم کرنابلاشبہ کسی تحریک کی زندگی کی علامت اوراُس کے بقا و ارتقا کی ضمانت ہے۔

یہاں میں یہ عرض کروں گا کہ اعلیٰ علمی اور فکری صلاحیت بلاشبہ خدا کا ایک استثنائی عطیہ ہے۔تاہم اِس کے تسلسل کی عملی صورت صرف یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے کام کو انسٹی ٹیوشنلائز (institutionalize) کر کے اُس کو ایک تیار شدہ ٹیم کے درمیان تقسیم کردے۔یہ ٹیم مجموعی طورپر نہ صرف اُس کام کوانجام دیتی رہے گی، بلکہ اُس کے ذریعے سے اُس کی تنقیح کا مطلوب عمل بھی جاری رہے گا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ کسی تحریک کو ہمیشہ صرف ''انسٹی ٹیوشنلائز'' کر کے ہی زندہ اور باقی رکھا جاسکتا ہے۔اِس کے برعکس، اِس معاملے میں پرسنلائزیشن (personalisation) کا طریقہ اختیار کرناتحریک کاخاتمہ کردینے کے ہم معنی ہے۔ اِس قسم کا ''پرسنلائزیشن'' بلاشبہ کسی شخص یا گروہ کا ایک استثنائی کمال تو ہو سکتا ہے، مگر شاید یہی وہ استثنا ہے جس میں ہماری بیش تر تحریکات کی ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔

اِس قسم کی غیر حقیقت پسندانہ روش کے ذریعے سے کبھی وہ مطلوب چیز پیدا نہیں ہو سکتی جس کو ''افراد سازی''یا اُن کے اندر ''ذہنی ارتقا''کی پرورش کہا جاتا ہے۔ ذہنی ارتقا محض جذباتی یا وجدانی طور پر کچھ چیزوں کو ''دریافت'' کر لینے کا نام نہیں۔ یہ بلاشبہ ذہنی ارتقا کی تصغیر ہے کہ اُس کو ایک محدود چیز سمجھ لیا جائے۔

واضح ہو کہ مولانا وحیدالدین خاں کے نزدیک، ذہنی ارتقا سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ''تزکیہ'' کہا گیا ہے (کتابِ معرفت ۱۷۴)۔ ایسی حالت میں بلاشبہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ذہنی ارتقا سے مراد پوری انسانی شخصیت کا ارتقا ہے، یعنی آدمی کے اندر علم و ایمان اور معرفت و اخلاق جیسی تمام مطلوب صفات پیدا کرنا۔ علم کے بغیر ایمان کتاب و سنت میں اجنبی ہے، اور حسن اخلاق کے بغیر معرفت کی حیثیت صرف ایک قسم کے ذہنی فلسفے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ قرآن کے مطابق، اسلام ایمان اور عمل صالح دونوں کے مجموعے کا نام ہے، نہ کہ صرف معرفت کا نام۔

قرآن کے نزدیک، عمل صالح (عبادات، معاملات، اخلاقیات) ہی وہ چیز ہے جس کی شرط پرکسی عورت یا مرد کے ایمان کو ایمان قرار دیا جا سکے۔ عمل صالح کے بغیر جو ایمان پایا جائے، وہ ایمان نہیں، بلکہ صرف 'غیر ایمان' ہو گا،جو قرآن و سنت میں سرتاسر اجنبی ہے۔ حسن اخلاق بلاشبہ وہ چیز ہے جس کی صورت میں اُس مطلوب روش کا ظہور ہوتا ہے جس کو عمل صالح کہا گیا ہے۔ یہی عمل صالح بلاشبہ کسی آدمی کے ایمان و معرفت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ تزکیہ ا ورعمل صالح کا یہی وہ اصل مقصد ہے جو علم کا حاصل بھی ہے، اوردعوت الی اللہ کا اولین نشانہ بھی۔

دعوتِ اسلامی کا مطلوب مرکز

یہاں الرسالہ مشن کے ساتھیوں کو غالباًیہ یاد دلانا بے جا نہ ہو گا کہ دعوت کے ساتھ اکیڈمک ونگ کا اضافہ ہمارے لیے فکری طور پر کوئی اجنبی چیز نہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ''الاسلام'' میں ''اسلامی مرکز'' (صفحہ ۱۴۴) کے عنوان کے تحت تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اِس مضمون کے آغاز میں مولانا محترم تحریر فرماتے ہیں:

''آج ساری دنیا کے مسلمانوں کی سب سے بڑی اور پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اقوا م عالم کے سامنے حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔ کوئی بھی دوسرا عمل اُن کو اِس ذمہ داری سے بری نہیں کرسکتا۔ یہ خدا کا وہ کام ہے جس کے لیے اس نے اہلِ ایمان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے۔ (توبہ: ۱۱۱) اِس کام کا آغاز کس طرح کیا جائے، اِس کا جواب قرآن میں موجود ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ مسلمانوں کا ایک ایسا مرکز ہو جہاں دعوت اور تربیت کا انتظام ہو، جہاں ایک طرف غیرمسلمین کو اللہ کا کلام سنایا جائے (توبہ: ۶) اور دوسری طرف ،وہاں اِس کا انتظام ہو کہ مختلف علاقوں کے مسلمان اپنی آبادیوں سے نکل کر آئیں اور وہاں تبلیغِ دین کی تربیت حاصل کریں، اور پھر اپنے علاقوں میں واپس جا کر اپنی قوموں کو آگاہ کریں۔ (توبہ: ۱۲۲) اِس قسم کے ایک مرکز کا قیام آج مسلمانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اِس مرکز کو آج کی دنیا کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔''(۱۴۵)

مولانا محترم کے اِس مضمون کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہاں ہم مشن کی نسبت سے اگرچہ صرف ایک ابتدائی اکیڈمک ونگ کی ضرورت کا اظہار کر رہے ہیں،تاہم مولانا کے نزدیک، موجودہ زمانے میں ایک دعوتی مرکز کے لیے ضروری ہے کہ وہاں'' ذِکر و نماز سے لے کر اسلامی لائبریری اور اسلامی میوزیم تک ہر قسم کی اسلامی سرگرمیاں اکٹھا نظر آتی ہوں۔'' (صفحہ ۱۵۴)۔ اِس کے علاوہ ،''جہاں تمام زبانوں کا دار الاشاعت، میڈیا سنٹر، ریڈیو اسٹیشن، ہوائی جہازوں کا دستہ، عربی دانی اور مختلف نئی اور عالمی زبانیں سیکھنے کا انتظام، مذاہب کا تقابلی مطالعہ، اُن علوم سے واقفیت جو مثبت یا منفی طور پر مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اپنی مکمل لائبریری، اپنی یونی ورسٹی، تحقیق و تصنیف کا اعلیٰ ترین ادارہ، دُعاۃ اور مبلغین کی تیاری کے لیے جدید مشنری معیار کے وسیع انتظامات پائے جاتے ہوں۔''

دعوتِ اسلامی کے لیے مذکورہ چیزوں کی ضرورت کا اظہار کرنے کے بعد مولانا فرماتے ہیں:

''جب تک ہم اِس معیار پر یا اِس سے بہتر شکل میں کارکنوں (دُعاۃ) کی تربیت کا انتظام نہ کریں، موجودہ زمانے میں اسلام کی تبلیغی جدو جہد کامیاب نہیں ہو سکتی اور نہ اِس سے کم تر درجے کی کوششوں سے فی الواقع ہم اللہ کے حضور بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔'' (۱۵۰)

اب وقت آ گیا ہے کہ رفقاے الرسالہ مولانا محترم کی رہنمائی میں اِس علمی اور دعوتی کام کا آغاز کر کے مولانا کے اِس ''خواب'' (صفحہ ۴۵) کو واقعہ بنائیں۔ خدا نے اب اُن کو وہ عالمی مواقع فراہم کر دیے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے بلاشبہ اپنے دائرے میں وہ دُعاۃکی ضروری علمی تیاری کے لیے حسب استطاعت اِس قسم کے ایک اکیڈمک وِنگ (شعبۂ علم و تحقیق)کاقیام عمل میں لا سکتے ہیں۔

واضح ہو کہ ۱۹۷۰ء میں مولانا وحید الدین خاں نے جب اسلامی مرکز (نئی دہلی) قائم کیا، اُس وقت اِس مرکز کا رجسٹرڈ نام تھا — المرکز الإسلامي للبُحوث والدعوۃ۔

The Islamic Centre for Research and Dawah

یہ بلاشبہ کسی اسلامی ادارے کا بہترین عنوان ہے۔ تاہم بعد کو بعض فکری اور عملی وجوہات (جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں)کی بناپر علم وتحقیق کا یہ عنوان اسلامی مرکز کی سرگرمیوں کا موضوع نہ بن سکا۔ یہاں زیادہ تر جس موضوع کے تحت کام ہوا، وہ بعض اہم عصری اور دعوتی موضوعات تھے ، نہ کہ وہ چیز جس کو اسلامی مرکز کے رجسٹرڈ عنوان میں ''بحوث'' اور ''ریسرچ'' کہا گیا ہے۔ اسلامی مرکز کے اعلان کردہ ''اعلیٰ علمی معیار''پر بحث و تحقیق کا یہ مطلوب کام ہونا ابھی باقی ہے۔

مولانا محترم اپنی زندگی کے اِس آخری مرحلے میں اگرخود اپنے سامنے اِس کام کا آغاز کر کے اُس کی رہنمائی فرما دیں تو مشن کے رفقا کے لیے بلاشبہ یہ ایک قابلِ تقلید عمل ہو سکتاہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ بانی تحریک کے بعداُس کے مشن میں اِس قسم کا ''اضافہ'' ایک ایسا عمل قرار پائے جس کی تاریخ کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔

یہاں میں یہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ اگر مولانا محترم اپنے حین حیات ایک حقیقت کو واضح فرما دیں تو ان شاء اللہ یہ مشن کے حق میں بے حد مفید ثابت ہوگا۔ وہ یہ کہ — اسلامی مرکز میں، حسب استعداد، اُس کے کور ٹیم (core team) ممبران اور دُعا ۃکو دو گروپ میں تقسیم کرکے اُس کے ایک گروپ کو 'فیلڈ ورک' جیسے کام میں سرگرمِ عمل کرنا، اور اُس کے دوسرے کچھ افراد کو دعوتی مقاصد کے تحت 'اکیڈمک ورک' کے لیے تیار کرنا بلاشبہ ایک انتہائی مطلوب کام تھا۔ضرورت ہے کہ اب ہمارے مشن کے تحت بلا تاخیر اِس علمی اور تحقیقی کا م کا آغاز کر دیا جائے۔

غالباً اب آخری وقت آ گیا ہے کہ المورد جیسے علمی اداروں کے تعاون سے دعوت واصلاح کے ساتھ علم وتحقیق کے اِس چھوٹے ہوئے موضوع پر کام کا آغاز کر دیا جائے۔خدا کا شکر ہے کہ المورد کے پاس اِس کام کا طویل تجربہ اور اِس کا پورا لائحۂ عمل موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ اِس معاملے میں الرسالہ مشن کو مکمل طورپرالمورد کا علمی تعاون حاصل رہے گا۔

عظیم ترین بشارت

آخر میں ،میں عرض کروں گا کہ دعوت کے ساتھ علم اور ترجمۂ قرآن کی تقسیم کے ساتھ اُسی درجے میں تعلیم قرآن کے باقاعدہ اہتمام کا بنیادی فائدہ یہ ہو گا کہ ہمارا دعوتی عمل عین اسوۂ نبوی کے مطابق انجام پانے لگے گا۔ اُس کے بعد یہ ہو گا کہ لٹریچر کے بہت سے قاری اِسی کے ساتھ قرآن کے براہِ راست قاری بن جائیں گے، اور مشن کے مخلص رُفقا کے لیے یہ امکان کھل جائے گا کہ وہ ایک عظیم ربانی بشارت کے امیدوار (candidates) بن جائیں، یعنی دین کے سچے طالب علم بن کر آخرت کے اُس برتر درجے کا حصول جس کی خوش خبری دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'مَن جاء ہ الموت وھو یطلب العلم لیُحیي بہ الإسلام، فبینہ وبین النبیین درجۃ واحدۃ في الجنۃ'۱۳؂ یعنی جو شخص اِس حال میں دنیا سے رخصت ہو کہ وہ اِس مقصد کے لیے علم سیکھ رہا تھا کہ اُس کے ذریعے سے وہ اسلام کا اِحیا کرے؛ جنت میں ایسے شخص اور پیغمبروں کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہو گا۔

یہ 'درجۃ واحدۃ' (ایک درجہ) بلاشبہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ انبیا اور دوسرے اہل علم کے درمیان جنت میں اِس ''ایک درجے کا فرق''مبنی بر وحی علم اورغیر مبنی بر وحی علم کی بنا پر ہوگا۔ یہی چیز انبیا اور دیگر علما، دونوں کے علم اور اُن کی شخصیت میں وہ امتیازپیدا کر دے گی جس کو مذکورہ حدیث میں ''ایک درجے کا فرق'' کہا گیا ہے۔

اِس حدیث رسول کے مطابق،علم کا مقصد احیاے اسلام ہے، یعنی اسلام کو اولاًاپنی نسبت سے براہِ راست قرآن و سنت کی بنیاد پر دریافت کرنا اور پھرحسب استطاعت دوسروں کے لیے اُس کو قابل فہم بنانا — خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو علم ودعوت کے سچے حامل بن کر اِس عظیم ترین پیغمبرانہ بشارت کے مستحق قرار پائیں۔ ایک سچے مومن کے لیے بلاشبہ اِس سے بڑی اورکوئی سعادت نہیں: 'وفي ذلک فلیتنافس المتنافسون'۔ (۱۰ ؍ نومبر ۲۰۱۷ء)

________

۱۰؂ صحیح البخاری، رقم ۵۰۲۷ ۔

۱۱؂ البیہقی، رقم ۲۲۹۳۔

۱۲؂ صحیح ابن ماجہ، رقم ۵۲۔

۱۳؂ سنن الدارمی، رقم ۳۵۴ ۔

____________