مولانا وحید الدین خاں اور استاذ جاوید احمد غامدی کا فلسفۂ دعوت**


راقم خاکسارنے مولاناوحیدالدین خاں[1] کے لٹریچرکا بیش تر حصہ پڑھاہے۔ان کی کلاسوں میں شرکت کی ہے اورکئی مرتبہ ان سے بالمشافہ ملاقات اورگفتگوکرنے کا موقع بھی ملاہے۔ان کے فکری وعملی کا م کے سلسلہ میں راقم کا خیال یہ ہے کہ عصرحاضرمیں مولانا مودودی اورسیدقطب شہید کی دین کی سیاسی تعبیرکے جوتلخ نتائج بعدمیں سامنے آئے، اس کا ادراک سب سے پہلے مولاناوحیدالدین خاں نے کیااوردین کی سیاسی تعبیرکا سب سے زیادہ علمی اورزبردست جواب مولانانے فراہم کیااورایک متبادل دعوتی آئیڈیالوجی پیش کی[2]۔اس کے علاوہ راقم کے نزدیک ان کی بڑی خدمات میں سے یہ ہے کہ :

٭عصرحاضرکی تہذیب نے اورخاص کرسائنسی فکری الحادنے جوچیلنج پیدا کیے، ان کا اپنی بساط بھربہترین جواب دیا، جس کا بہترین نمونہ 'مذہب اور علم جدیدکا چیلنج'،'عقلیات اسلام '،'مذہب اورسائنس' اور 'اظہار دین' ہے۔یہ سائنسی چیلنج کے جواب میں نیاعلم کلام ہے، تاہم اس میں موجودہ کاسمولوجی کے چیلنج کودیکھتے ہوئے مزیدکام کرنے کی ضرورت ہے۔

٭جوامکانات اسلامی دعوت کے لیے موجودہ تہذیب نے پیداکیے ہیں،مثلاً اظہار راے کی آزادی، جدید ذرائع ابلاغ اورآج کے انسان کا سائنٹیفک ذہن وغیرہ، ان امکانات کوایجابی طورپر کیسے استعمال کیاجائے اور پرامن طورپر اسلام کی دعوت کیسے پیش کی جائے۔ اس کے لیے مولانانے ''الرسالہ'' کے پلیٹ فارم سے مسلسل جدوجہدکی ہے۔

٭تشددکی انھوں نے غیرمشروط مخالفت کی اوراس کوکسی قسم کا جواز اگرمگرکے ذریعے سے نہیں دیا، یعنی دنیابھرمیں امن کی مساعی کے لیے ان کا نظریاتی کام بھی قابل ذکرکنٹری بیوشن ہے۔انھوں نے ثابت کیاکہ اسلامی دعوت میں تشددکا عنصرخداکوقابل قبول نہیں اورنہ آج کے انسان کو،اس لیے بجاطورپران کوامن کا عالمی سفیربھی کہاجاتاہے۔

٭مغربی تہذیب وتمدن کے منفی رجحانات سے بچتے ہوئے اوراس کے سلبی پہلوؤں کونظرانداز کرتے ہوئے مثبت پہلوؤں سے فائدہ کشیدکرنے کی تعلیم دی ہے۔

٭ہندوستان کے تناظرمیں ملت اسلامیہ ہندکوبے جاجذباتیت،سطحی ہنگامہ آرائی،اورمطالباتی سیاست سے دورکرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔اوربلاشبہ اس کے مثبت اثرات مسلمانان ہندکی زندگیوں پر پڑے ہیں۔

٭انھوں نے اپنے ادب کے ذریعے سے تذکیربالآخرت کی،خداکی عظمت کا احساس دلایااوربتایاکہ یہی اصل پیغمبرانہ دعوت ہے۔

٭بعض جذباتی اورجوشیلے مسلمانوں کے جنگی جنون،عام مسلمان علما کی مغرب سے بے جانفرت، مسلمانوں کے طرزعمل میں ایک طرح کی دوئی اورمنافقت سے جومسائل پیداہوئے، ان سے عہدہ برآہونے کے لیے مولانا کا دعوتی فلسفہ یہ ہے کہ مدعوسے نفرت نہیں محبت اورہم دردی کی جائے۔اوردارالحرب و دارالاسلام کے قدیم فقہی فریم ورک کوچھوڑکراب مسلمانوں کوپوری دنیاکودارالدعوۃ سمجھ کرپرامن طورپر زندگی کے معاملات کوچلاناچاہیے۔اورمثبت طورپر اسلام کے پیغام کوعام کرناچاہیے۔مولاناکا تصوردعوت یہ ہے کہ دین کا اصل مخاطب فردہے، نہ کہ اجتماع۔اوراجتماع میں بھی کوئی تبدیلی فردکی تبدیلی کے بغیرنہیں آسکتی۔ وہ اقتدار کو خدا کا انعام مانتے ہیں اور ان کے نزدیک اس کو نشانہ بنا کر کوئی تحریک چلانا لغو ہے۔ احیاے اسلام یا غلبۂ اسلام جیسے نعروں کے مقابلہ میں انھوں نے دعوہ ایکٹوازم کا تصورعام کیا۔وہ کہتے ہیں: دعوت کی ذمہ داری ہرہر مسلمان پر اسی طرح عائدہوتی ہے، جس طرح وہ پیغمبرپر عائدتھی [3]۔

٭غیرمسلم انٹیلیچکوئل کلاس سے مولاناکا انٹرایکشن زندگی بھرجاری رہا، یہی وجہ ہے کہ راقم کی نگاہ میں وہ مسلمانوں اورمغرب سمیت تمام غیرمسلم دنیاکے درمیان ایک پل کا کام دے سکتے ہیں[4]۔

استاذ جاوید احمد غامدی[5]سے راقم کی واقفیت ذرابعدکی ہے اوروہ اس وقت شروع ہوئی جب میں لکھنؤمیں ''ادارہ معہدالفکرالاسلامی'' میں فضلاء مدارس کے لیے ایک وسیع ترتربیتی کورس کوترتیب دے رہاتھا۔۱س دوران مختلف مکاتب فکر اور دانش وروں سے تبادلۂ خیال کے علاوہ مختلف مکاتب فکرکا مطالعہ کیاتورسالہ ''اشراق'' اورادارہ ''المورد'' سے ابتدائی تعارف ہوا۔بعدمیں ماہنامہ ''الشریعہ'' سے تعارف ہوااوراس میں راقم کے چندمضامین بھی چھپے تو غامدی صاحب کے بارے میں مزیدمعلوما ت ہوئیں۔اس کے بعدماہنامہ ''اشراق'' کے مسلسل مطالعہ کے علاوہ غامدی صاحب کی کتابیں ''برہان''اور ''مقامات''پڑھیں۔2012ءمیں انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے زیراہتمام بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستا ن کا سفر ہوا تو ''المورد'' کے ارباب اہتمام نے غامدی صاحب کی ''میزان'' تحفہ میں پیش کی۔مزیدشوق ہوا تو یوٹیوب پر ان کے متعدد لیکچرسنے۔ اس طرح اب غامدی صاحب کی فکرکے اہم پہلوواضح ہوگئے ہیں۔راقم ان کے لیکچروں سے مستفید ہوتاہے، مگربالمشافہ ملاقات اور دید و شنیدکا موقع ابھی ہاتھ نہیں آیا، البتہ ایک آن لائن کورس مدرسہ ڈسکورسز کے واسطہ سے ان کے ایک شاگرد رشید مولانا عمار خاں ناصر مدیر ''الشریعہ'' کی شاگردی میں رہنے کا موقع ضرور ملاہے۔راقم کے نزدیک غامدی صاحب کے امتیازات یہ ہیں:

۱۔غامدی صاحب کی صورت میں فکرفراہی نے عالمی فکراسلامی کے طورپر ظہورکیاہے،اِس سے قبل وہ چند علمی اداروں اوربعض مدرسوں، یعنی مختصرسی اکیڈمک دنیامیں محدودتھی۔

۲۔تعبیردین میں مولاناوحیدالدین خاں سے استفادہ کے ساتھ ہی انھوں نے منہج فراہی واصلاحی کوبھی بلندآہنگ کے ساتھ پیش کیا۔اگرچہ خاں صاحب فکرفراہی کے خوشہ چینوں میں سے نہیں ہیں، حالاں کہ وہ بھی مولاناامین احسن اصلاحی کے شاگردرہے ہیں اورمدرسۃ الاصلاح میں تعلیم پائی ہے۔تاہم وہ فکرفراہی کے نظریۂ نظم قرآن پرنقدکرتے ہیں اورلکھتے ہیں : ''اسی طر ح کچھ لوگوں کا یہ کہناہے کہ ''نظم کلام ''وہ کلیدہے جس کے ذریعہ ہم قرآن کوسمجھ سکتے ہیں، مگر یہ جواب بھی درست نہیں، کیونکہ وہ ذاتی سوچ (Reasoning) پر مبنی ہے۔ قرآن میں ایسی کوئی آیت موجودنہیں جویہ اعلان کرتی ہوکہ نظم کلام کا سمجھنافہم قرآن کی کلید ہے[6]۔''

مولانافراہی واصلاحی کا نام لے کرایک جگہ انھوں نے فلسفۂ نظم قرآن کوبتایاپھرصراحت سے لکھا:''نظم کوفہم قرآن کا ایک پہلوکہاجاسکتاہے، لیکن اس کوفہم قرآن کی کلیدکہنادرست نہیں [7]۔''بہرکیف غامدی صاحب کا طریق فکراس معاملہ میں خاں صاحب سے یکسرجداہے۔ ہماراخیال یہ ہے کہ مولاناخاں صاحب نے قرآن کریم کا اس طر ح تحقیقی مطالعہ نہیں کیاجومکتب فراہی کا امتیازہے۔انھوں نے قرآن کواسلامی علوم کا مرکز و محور بنانے کے بجاے اس کے' تذکیری'مقام کوزیادہ اہمیت دی ہے۔اپنی تفسیرکا نام بھی ''تذکیرالقرآن'' رکھا ہے۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ مولانافراہی بھی اس وقت کے عام علما کی طرح مغرب کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے۔ مثال میں وہ یہ بات پیش کرتے ہیں کہ علی گڑھ میں استادپروفیسرآرنولڈنے 'پریچنگ آف اسلام 'لکھی تو مولانافراہی بھی اس کے بارے میں یہی خیال رکھتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے اندرسے جذبۂ جہادختم کرنے کے لیے لکھی گئی ہے[8]۔ حالاں کہ مولاناعلی میاں نے اس کتاب کواسلامی دعوت کی تاریخ کے حوالہ سے بہت اہمیت دی ہے،اور ''تاریخ دعوت وعزیمت'' میں فتنۂ تاتار اور بعد میں تاتاریوں کے قبول اسلام کے سلسلہ میں اس کتاب کے حوالے جابہ جادیے ہیں۔

۳۔غامدی صاحب نے سائنس فکشن یاسائنسی لٹریچرغالباًاس طورپرنہیں پڑھا،جس طورپر خاں صاحب نے پڑھا،مگروہ فلسفہ کے باقاعدہ طالب علم رہے ہیں، اس لیے سائنس کی فکریات یا فلسفۂ جدیدہ پر ان کی گہری نظر ہے، جب کہ خاں صاحب فلسفہ پر سخت تنقید کرتے ہیں۔

۴۔ادب کے حوالے سے مولاناخاں صاحب اورغامدی صاحب کے نقطۂ نظرمیں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ مولانا ادبی چیزوں کونہ صرف خودنہیں پڑھتے، بلکہ اپنے منتسبین کوبھی اس سے منع کرتے ہیں۔ان کے خیال میں ادبی لٹریچرانسان کوشاعرانہ اورغیرحقیقت پسندانہ مزاج کا حامل بناتاہے اورسائنٹیفک ٹمپرامینٹ کی نفی کردیتا ہے۔ اسی لحاظ سے مولاناکی زبان وبیان اوراسلوب تحریربہت ہی سادہ،سائنٹیفک اورآسان ہے۔البتہ وہ انگریزی کے الفاظ اورجملے بکثرت استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے کبھی کبھی تحریرمیں ثقل پیدا ہو جاتا ہے، جب کہ غامدی صاحب بڑازبردست ادبی ذوق رکھتے ہیں۔وہ خودقادرالکلام شاعرہیں اورعربی وفارسی ادب کے واضح اثرات ان کی تحریروں میں نظرآتے ہیں۔عربی وفارسی اشعاراورجملے اورمحاورے ان کی زبان پر چڑھے ہوئے ہیں۔ان کے سابقین میں مولانافراہی خودامام ادب ہیں،عربی کے قادرالکلام شاعراورعربی بلاغت میں خودایک نئے مسلک کے امام۔اسی طرح مولانا اصلاحی بھی عربی ادب کے شناور۔غامدی صاحب نے بھی یہ ذوق اساتذہ سے پایااورخوداپنے مطالعہ سے اس کوجلادی ہے۔

علی گڑھ میں راقم کاآناجانامولاناسلطان احمداصلاحی مرحوم[9] کے ہاں تھا۔مولانااصلاحی کے ذوق بہت متنوع اوروسیع الجہات تھے۔ تاعمرانھوں نے مولانامودودی اورجماعت اسلامی کی فکرکی ترجمانی کی، مگرعمرکے آخری پڑاؤمیں وہ اس فکرکے شدیدناقدبن کرسامنے آئے۔حاکمیت الٰہ کے تصورپرنقدمیں ان کی ایک کتاب بھی ہے جوابھی غالباًشائع نہیں ہوئی[10]۔وہ پاکستان گئے اور ''المورد'' کے احباب نے ان سے انٹرویو کیا جو ''اشراق'' میں شائع ہوا۔ایک بارغامدی صاحب کے بارے میں ان سے گفتگوہورہی تھی، انھوں نے فرمایاکہ'' میراتوخیال یہ ہے کہ عربی ادب پر جاویداحمدغامدی کی نگاہ مولاناامین احسن اصلاحی سے زیادہ وسیع ہے''۔مولاناکے جملہ کو مبالغہ پر محمول کیاجاسکتاہے، مگراس سے یہ پتا چلتاہے کہ سنجیدہ اہل علم غامدی صاحب کے بارے میں کیا راے رکھتے ہیں۔قرآن دین کا اصل سرچشمہ ہے یاقرآن وسنت، دونوں کا مجموعہ، یہ بحث قدیم سے چلی آرہی ہے۔ غامدی صاحب نے ایک بڑی خوب صورت،ادبی،جامع اورمعنی خیز تعبیروضع کی اورفرمایا: ''دین کا تنہا ماخذ اب صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والاصفات ہے''، اہل ذوق اس کی داددیے بغیرنہیں رہ سکتے۔

افسوس یہ ہے کہ آج تک استاذ غامدی کے جتنے بھی ناقدین کوہم نے پڑھاجوجماعت اسلامی،اہل حدیث اور دیو بندی اورنئے روایت پرست سبھی مکاتب فکرسے تعلق رکھتے ہیں، ان حضرات میں سے کسی نے بھی کوئی علمی اوراصول پر مبنی تنقیدنہیں کی۔مذہبی ٹھیکہ دارصلاح الدین یوسف،نادرعقیل انصاری اورحافظ زبیرجیسے لوگ ایسی علمی خیانتوں اورمغالطوں کے مرتکب ہوئے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ایک اورمہربان نے لکھا: ''غامدیت تجدد پسندی کی کوکھ سے برآمد ہوا ایسافتنہ ہے جس نے اسلام کے متوازی ایک مذہب کی شکل اختیار کرلی ہے''[11]۔ البتہ حال ہی میں ایک تنقیدنظرسے گزری، جوبڑی شرافت،متانت اوردلائل کے ساتھ متوازن اسلوب میں اورادب واحترام کے ساتھ کی گئی ہے۔یہ ناقدہیں مولاناناظم اشرف مصباحی، انھوں نے ''جاویداحمدغامدی کی تنقیدات تصوف کا علمی جائزہ ''[12]کے نام سے مضمون لکھااورتصوف کا بھرپوردفاع کیا ہے۔ مولاناوحیدالدین خاں کوبھی اسی طرح مخالفانہ پروپیگنڈاکا سامنازندگی بھررہاجس میں جماعت اسلامی،اہل حدیث اوردیوبندی مکتب فکرہرایک نے حسب توفیق خوب حصہ لیا۔بعض اوقات، خاص کربابری مسجدکے قضیہ میں بعض اکابر ندوہ نے ان کے خلاف پروپیگنڈامہم چلائی۔اب اس کوتاریخ کی ستم ظریفی ہی کہہ سکتے ہیں کہ آج وہی حضرات ٹھیک اسی جگہ آکرکھڑے ہوگئے ہیں جہاں کل مولاناکھڑے تھے اورکل کے ان کے حواری مواری اب خودان کے خلاف زہراگل رہے ہیں !!

۵۔ان دونوں حضرات کے مابین ایک بڑافرق یہ ہے کہ غامدی صاحب فکر،علم اورتعبیردین، سب میں بنیادی ماخذقرآن پاک اورسنت ثابتہ جاریہ کوبناتے ہیں۔احادیث آحاد سے استفادہ وہ ضرورکرتے ہیں، مگردین میں ان کے نزدیک ان کی اصل حیثیت تاریخ کی ہے جس کی چھان پھٹک ضروری ہے۔احادیث آحادسے ان کے نزدیک نہ ایک تنکے کا اضافہ ہوتاہے اورنہ کمی، یعنی ان سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کاکوئی اضافہ نہیں ہوتا[13]۔ ہماری علمی تاریخ میں اصولی طورپر یہی موقف امام ابوحنیفہ اور شاطبی جیسے کبارائمہ واصولیین کا رہاہے۔تعبیرات مختلف ہوسکتی ہیں۔

تاہم، راقم خاکسارکوایسالگتاہے کہ محدثین اورروایت پرستوں کے منہج فکرکا ایسااستیلا ہماری علمی دنیا پر ہو گیا تھا کہ وہی منہج چھاگیا، باقی مکاتب فکربھی ان سے شدیدمتاثرہوئے۔محدثین کا یہ منہج بنیادی طورپر عقل مخالف اور حرفیت پسندی پرمبنی تھا، اس لیے مسلمانوں میں عمومی طورپر علمی دنیاپر زوال طاری ہواجوآج تک چلا آتا ہے۔ اس زوال سے صرف مسلک اعتزال بچاسکتاتھاکہ معتزلہ بھی علماکے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے،ابومسلم اصفہانی اورزمخشری وغیرہ معتزلی علما نے قرآن کریم پر غوروفکرکی اعلیٰ مثال قائم کی تھی۔لیکن ان کے فکری تشدد اوراقتداروقت سے قربت نے ان کوامام احمدبن حنبل وغیرہ کے مقابل میں لاکھڑا کیا۔ امام احمدکوان کی طرف سے جوشدید اذیتیں پہنچیں، ان کے باعث معتزلیوں کے خلاف عام مسلمانوں میں شدیدردعمل پیدا ہوا اور محدثین نے معتزلہ کواتنامطعون کیاکہ آج اعتزال کوایک گالی سمجھاجاتاہے۔البتہ اہل سنت کے عام کلامی مکاتب فکراشاعرہ اورماتریدیہ نے معتزلہ سے بہت کچھ استفادہ کرنے پر اپنے آپ کومجبورپایا۔وجہ یہ ہے کہ فلسفیانہ اورمنطقی طرزفکرکے ماحول میں محدثین کا جامداورحرفیت پرمبنی عقل دشمن موقف ذرابھی کام نہیں آتا۔ چنانچہ دیکھاجاتاہے کہ ابن تیمیہ غزالی پر یافلاسفہ اسلام پر جوبھی تنقیدکرتے ہیں، وہ بھی عقلی استدلال پرہی مبنی ہوتی ہے[14]، یہاں تک کہ متاخرمحدثین نے بھی اپنی شدت میں کمی پیداکی اورمتکلمین کی خدمات کا اعتراف کیا۔

بہرحال، مولاناوحیدالدین خاں کا نقطۂ نظراس معاملہ میں مختلف ہے، وہ یہاں عام اورروایتی نقطۂ نظرکے مقلدمحض ہیں۔راقم یہ سمجھتاہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث کے تحقیقی علم سے خاں صاحب کوزیادہ سروکارنہیں رہا۔ان کی ابتداایک داعی ومصنف کی حیثیت سے ہوئی، پھرسائنس اورمغربی تہذیبی چیلنجوں کے مطالعہ کی طرف ان کا رخ ہوگیااورعصری اسلوب میں اسلامی لٹریچرکی فراہمی ان کا ہدف بن گیا۔

۶۔تصوف اورصوفیا پریہ دونوں حضرات ہی تنقیدکرتے ہیں، مگرمولاناخاں صاحب کی تنقیدیہ ہے کہ روایتی تصوف مبنی بردل تصوف ہے، جب کہ سائنسی تحقیق کے نتیجہ میں دل توکوئی چیز نہیں، وہ توصرف پمپنگ مشین ہے، اصل چیزمائنڈ ہے۔صوفیانے دل کوبنیادبناکرایک بے اصل چیز پر تصوف کی بنیادرکھی۔ مولانا خود اپنے صوفی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اورایک سلسلہ میں بیعت بھی ہیں،مگر اپنے تصوف کووہ مبنی برمائنڈتصوف قراردیتے ہیں [15]۔

یوٹیوب پر اپنے ایک لیکچرمیں غامدی صاحب نے دل اورمائنڈ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ افادہ پیش کیاکہ : انسان کے جسم، یعنی حیوانی وجودمیں تودل ضرورایک پمپنگ مشین ہے، مگرجسم کے ساتھ ہی انسان کوایک شخصیت یاروح بھی ملی ہے،اس شخصیت کا مرکز جودل ہے حدیث میں اسی دل کو'إن في الجسد لمضغة إذا صلحت صلح الجسد کله وإذا فسدت فسد الجسد کله' (انسان کے جسم میں ایک ایساٹکڑاہے جواگرٹھیک رہے توساراجسم ٹھیک رہتاہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم فسادزدہ ہوجاتاہے ) کہاگیاہے۔

جب کہ غامدی صاحب تزکیہ اوراحسان کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے تصوف کے فلسفیانہ افکارکواقبال کی طرح ''اسلام کی سرزمین میں ایک اجنبی پودا''مانتے ہیں اوراس کا انھوں نے گہرائی سے جائزہ لیاہے اور ''برہان'' میں اس پرایک وقیع ناقدانہ مضمون بعنوان ''اسلام اورتصوف'' لکھاہے[16]۔ ڈاکٹرراشدشاز نے ''ادراک زوال امت'' میں تصوف پر ایک پورا باب لکھا ہے اور روحانیین کے خبث باطن کو اجاگر کیا ہے۔ غلام قادرلون نے ''مطالعہ تصوف'' اورالطاف احمداعظمی نے ''وحدت الوجودایک غیراسلامی نظریہ ''میں قرآن کی روشنی میں اس پر تنقیدکی ہے۔اس موضوع پر غلام احمدپرویزکی کتاب بھی خاصے کی چیز ہے۔البتہ تصوف پر ان تنقیدوں میں ایک مشترک کمی یہ محسوس ہوتی ہے کہ صوفیا کی اصطلاحات وتعبیرات کوخودصوفیا کے کلام سے نہیں سمجھا گیا ہے، بلکہ ان کے ظاہرسے جومفہوم سمجھ میں آتاہے، اسی پرنقدکیاگیاہے۔

۷۔خاں صاحب کے کام کا بڑاحصہ سائنسی اسلوب میں اسلامی لٹریچر،خداکے اثبات وغیرہ پر مشتمل ہے، جب کہ غامدی نے فکراسلامی میں درآئے بہت سے غلط تصورات کی تصحیح،مسلمانوں کی داخلی اصلاح اورتربیت پر زیادہ توجہ مبذول کی ہے۔کلامی حصہ ان کے ہاں کم ہے۔البتہ فقہی مسائل سے وہ اعتناکرتے ہیں،حدیث کے صحیح فہم پر زیادہ توجہ ہے۔جس کی وجہ سے سلف کی اندھی تقلیدکرنے والے طبقہ کے نزدیک وہ مبغوض قرار دیے گئے ہیں۔اوراس طبقہ کے اہل علم اپنی فرقہ دارانہ اورجمودپسندنفسیات کی تسکین کے لیے اس فکرکوبھی 'فرقہ' 'فراہیہ وغامدیہ' جیسے نامناسب القاب سے موسوم کرنے کی مذموم سعی کررہے ہیں [17]۔

۷۔خاں صاحب اورغامدی صاحب، دونوں مکالمہ وگفتگوکے کلچرکے داعی ہیں۔خاں صاحب غیرمسلم انٹیلیکچوئلز سے بھی ملاقات وگفتگوکرتے رہے ہیں۔غامدی صاحب کے ہاں غالباً غیرمسلم انٹیلیکچوئلز سے انٹرایکشن کی روایت کم ہے،شایدہندوپاک کی اپنی اپنی فضااورحالات کا بھی دونوں کی اپروچوں پراثرپڑاہے۔

۸۔جہاد: جہادکے بارے میں مولاناوحیدالدین خاں اوراستاذ غامدی، دونوں کی راے یک گونہ ایک جیسی ہے اوریک گونہ مختلف۔ مثلاً خاں صاحب جہادکوصرف دفاعی مانتے ہیں اوراس کے لیے قرآن کی آیت 'وَالصُّلْحُ خَيْرٌ '،''صلح بہرحال بہترہے'' (النساء ۴: ۱۲۸)سے اورصلح حدیبیہ کے واقعہ سے استدلال کرتے ہیں۔اوربعدمیں عہد صحابہ میں مسلمانوں کی طرف سے ہونے والی جنگوں کی یہی توجیہ کرتے ہیں،اوراس حوالہ سے اہل سیر و تاریخ اورفقہا پرایک تنقیدوہ یہ کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ ایک داعی پیغمبر سے زیادہ ایک غازی پیغمبرکی بنادی اوریہی ذہن بعدکے ادوارمیں عام مسلمانوں کا بھی بن گیا۔ غامدی صاحب اصولاً جہاد کو اقدامی ودفاعی، دونوں سطحوں پر تسلیم کرتے ہیں،مگروہ جہاد اقدامی کا سرا قرآن کے قانون اتمام حجت سے جوڑتے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ کی حجت پوری ہوجاتی ہے تواُسے اسی دنیامیں سزادے دی جاتی ہے۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی اقوام کوآسمانی عذاب لقمۂ اجل بنا لیا کرتا تھا، اب اہل ایمان کی تلواروں سے ان کویہ سزادلوائی جاتی ہے،مگریہ رسول کے ڈائریکٹ مخاطبین کے لیے ہے۔اب چونکہ اس حدتک اتمام حجت کی کوئی شکل نہیں رہ گئی، لہٰذااب اقدامی جہاد(قتال ) درست نہ ہوگا[18]۔

احیاے اسلام یااسلام کی دوبارہ سیاسی حکمرانی کے بارے میں غامدی صاحب کا کہناہے کہ اللہ نے دنیامیں پہلے حامی نسل کو، پھرسامی نسلوں کوزمین کا اقتداردیاجوبنوعباس کے اقتدارکے خاتمہ تک جاری رہا۔اب یافث کی نسل کی باری ہے۔جن میں ترک و تاتاری اورمغل،مغربی اقوام،چینی اورہندکے آریہ، سب شامل ہیں۔یہی تحقیق اشراط الساعۃ کی احادیث پر کلام کرتے ہوئے علامہ انورشاہ کشمیری نے بھی پیش کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ : ''اس امت کے غلبہ کا عرصہ جیساکہ شیخ اکبر،مجددالف ثانی،شاہ عبدالعزیز اورتفسیرمظہری کے مصنف قاضی ثناء اللہ نے کہاہے کہ ایک ہزارسال تھا۔اس کی تائیدابن ماجہ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ میری امت کوآدھادن ملے گا۔اگراس کے بعدوہ مستقیم رہی تودن کا باقی حصہ بھی مستقیم رہیں گے، ورنہ ہلاک ہوجانے والوں کی طرح ہلاک ہوجائیں گے۔ ……تاریخ بھی اس کی گواہی دیتی ہے کہ فتنۂ تاتار کی صورت میں عظیم مصیبت ہم پرپانچ سوسال بعدنازل ہوئی جس سے دین کی عمار ت متزلزل ہوکررہ گئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ہم سے جووعدہ کیاتھااُسے پوراکیااورایک ہزارسال کی مدت پوری ہوگئی۔اس مدت میں اسلام مشرق و مغرب میں ساری دنیاکے ادیان پر غالب تھااوریہی زمانہ امت محمدی کے غلبہ کا زمانہ تھا،اس کے بعداللہ نے ہم پر اہل یورپ کومسلط کردیا۔''[19]

لہٰذااستاذغامدی کے نزدیک مسلمانوں کواورداعیان دین کوسیاسی کشمکش کے بجاے دعوت کے میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔وہ دنیاکے انسانوں تک قرآن پاک کوپہنچانے کی جدوجہدکریں۔ مولانا وحیدالدین خاں بھی دنیاکودارالدعوۃ مانتے ہیں اورمغربی تہذیب کومعاون دعوت۔البتہ وہ اپنی راے کی ایسی کوئی تاصیل نہیں کرتے۔ یعنی غامدی صاحب کا ذہن امام شاطبی کی طرح اصول سازی کی جانب مائل ہے، جب کہ خاں صاحب کا ذہن بیانی ہے، اصولی نہیں۔دجال،دابۃ الارض،مہدی اورمسیح کی آمدثانی کواصولامانتے ہوئے مولاناان کی تاویل کرتے ہیں اورسائنسی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اورمسیح کی آمدثانی کووہ اس معنی میں لیتے ہیں کہ یہ مسیح کا رول ہوگاکہ دنیاپرامن دورمیں داخل ہوجائے گی اورجنگ وجدال کا ماحول ختم ہوگا[20]۔غامدی صاحب دابہ و مہدی کے ظہوراورخروج دجال میں کوئی استبادنہیں سمجھتے، مگرمسیح کی آمدثانی کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اس معاملہ میں ان کا موقف وہی ہے جوسرسید،محمدعبدہٗ اور رشید رضا وغیرہ کا ہے۔

۹۔غامدی صاحب قرآن،لغت عرب،کلام عرب،علوم قرآن وعلوم شریعت پر عبوررکھتے ہیں، جب کہ مولاناوحیدالدین خاں صاحب کے ہاں وہ تحقیقی علم نظرنہیں آتا۔ان کافوکس جدید مغربی سائنس اوراس کے پیداکردہ چیلنجوں سے نبردآزماہونارہا۔خاں صاحب ارتقاکوتسلیم نہیں کرتے[21] ، غامدی صاحب ارتقاکویک گونہ مانتے ہیں، مگرتخلیق آدم کو(بالذات )دونوں حضرات دینی مسلمہ مانتے ہیں۔

۱۰۔فقہی آرا : اس کے ساتھ ہی غامدی صاحب کے کچھ فقہی تفردات بھی ہیں، مثلاً مغربی ممالک میں یاان ممالک میں جہاں غیرمسلم اکثریت حکمران ہے، جمعہ کی نمازکی فرضیت کے بارے میں ان کایہ خیال ہے کہ یہ اصلاًاسلامی حکومت یااس کے نمایندوں کاحق تھاجس پر علمانے تجاوزکرکے اپناحق قائم کرلیاہے۔اس تحقیق کی اصل متقدمین حنفیہ کی راے میں ملتی ہے،مگرمفتیٰ بہ قول متاخرین کا ہے، جس کا حوالہ غامدی صاحب نہیں دیتے، مگروہ یہ کہتے ہیں کہ علما نے اسلامی اجتماعیت کوبرقراررکھنے کے لیے ایک اجتہادکیاہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں، مگر اس کے شرائط کی پابندی نہیں کی جارہی ہے۔بات اپنی جگہ معقول ہے، مگربدلے ہوئے حالات میں جمعہ کو اصلاً حکام کے لیے قراردینے میں بڑی مشکلات پیش آئیں گی کہ اسلامی اجتماعیت ہرجگہ مطلوب ہے اورجمعہ اس کا بہترین علامتی اظہارہے، البتہ یہ حقیقت ہے کہ جس طرح عام مساجداللہ تعالیٰ کی نہ رہ کرمختلف مسلکی گروہوں اور فرقوں کی بن کررہ گئی ہیں، ان کا کوئی حل نکالناضروری ہے۔

اسی طرح غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ غیرمسلم اکثریت کے ممالک میں مسلمان جو ٹیکس اداکرتے ہیں، ان سے زکوٰۃ اداہوجائے گی،اس کی کوئی شرعی اساس سمجھ میں نہیں آئی، کیونکہ زکوٰۃ صرف ٹیکس نہیں، بلکہ وہ نماز کی طرح ایک عبادت بھی ہے۔اسی لیے حکومت یااسلامی اجتماعیت اس کووصول کرنے کا حق رکھتی ہے، لیکن اگر وہ نہ ہوتوپھرمسلمان اس کوانفرادی طورپر اداکرسکتے ہیں۔اس لیے غامدی صاحب کا یہ موقف کچھ زیادہ مضبوط معلوم نہیں ہوا۔مولاناوحیدالدین خاں صاحب عموماً فقہی مسائل میں راے دینے سے اجتناب برتتے ہیں۔

۱۱۔بینک انٹرسٹ پر بھی ہردوحضرات کی راے عام علما سے الگ ہے۔اگرچہ خاں صاحب نے ا س مسئلہ کو کہیں وضاحت سے بیان نہیں کیا،جب کہ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ بینک انٹرسٹ ربامیں داخل نہیں ہے۔وہ اس کے دلائل بھی دیتے ہیں اورتجویز کرتے ہیں کہ بینک کواسے انٹرسٹ نہ کہہ کرکوئی اورنام دینا چاہیے۔ حدود کے مسئلہ میں رجم،ارتداداورشاتم رسول کی سزاکے بارے میں غامدی صاحب کا، بلکہ فکرفراہی کے تما م بڑے نمایندوں مولانافراہی،اصلاحی اورمولاناعنایت اللہ سبحانی، سب کا نقطۂ نظرعام علما سے الگ ہے[22]، جب کہ وحیدالدین خاں رجم کے قائل ہیں، البتہ ارتداداورشاتم رسول کی سزاکے بارے میں ان کا موقف بھی غامدی صاحب جیساہی ہے[23]۔ مثلاً وہ ایک جگہ لکھتے ہیں: ''حقیقت یہ ہے کہ اس قانون(ارتدادکی سزا)کاکوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔یہ بعدکے کچھ فقہا کا مسلک ہے نہ کہ قرآن اورسنت کا۔''

۱۲۔ایک بہت بڑی خوبی غامدی صاحب کی علمی تواضع ہے۔وہ پورے اعتمادسے اپنی راے رکھتے ہیں، مگر اپنی با ت کوحرف آخرنہیں قراردیتے۔اس کے برعکس خاں صاحب بسااوقات اس اسلوب میں کلام کرجاتے ہیں جس سے' أنا ولا غیري' کی بوآتی ہے۔اسی طرح غامدی صاحب جدیدوقدیم علماسے اختلاف خوب کرتے ہیں، مگر ان کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ ان کا پورااحترام ملحوظ رکھتے ہیں، جب کہ خاں صاحب بسااوقات اپنی تنقید میں جارحانہ لب و لہجہ اختیارکرلیتے ہیں۔مقام شکرہے کہ اب ان کے تلخ لہجہ میں خاصی کمی آگئی ہے۔

غامدی صاحب نے قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیرکے بعداب حدیث کے پراجیکٹ پر کام شروع کیا ہوا ہے۔ یہ بھی مہتم بالشان کام ہے۔اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ کون سی حدیث کس پس منظرمیں آئی ہے اورکس واقعہ کوبیان کرتی ہے۔اس سے یہ ہوگاکہ مختلف احادیث کے حوالہ سے مسلمانوں میں جوبہت سے غلط تصورات پھیلے ہوئے ہیں اوران کے غلط معانی ومطالب عام ہوگئے ہیں، ان کی اصلاح تبھی ہوسکتی ہے جب ان احادیث وروایات کا صحیح پس منظرواضح ہوجائے۔ضمنًااس سے اس تاثرکی بھی نفی ہوتی ہے کہ مکتب فراہی کے علما ومفکرین علم حدیث پر توجہ نہیں دیتے۔خلاصتاً اگردونوں صاحبان علم کی خصوصیات دولفظوں میں مجھ سے بیان کرنے کے لیے کہاجائے تومیں کہوں گاکہ مولاناوحیدالدین خاں تفکرفی الدین میں بڑھے ہوئے ہیں اور استاذغامدی صاحب کا امتیاز تفقہ فی الدین ہے۔بہرحال، ہردوصاحبان کی فکر،علم وتحقیق امت کے لیے قیمتی متاع ہے اوران سے صحیح طورپر استفادہ کیاجاناچاہیے۔

_______

* رسرچ ایسوسی ایٹ، مرکزفروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند، مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ۔

** نوٹ :یہ مضمون تاثراتی نوعیت کا ہے، تحقیقی یاعلمی نوعیت کا نہیں ہے۔

[1]۔ مولاناکی زندگی اورکارناموں کے لیے دیکھیے:شاہ عمران حسن،اوراق حیات، رہبربک سروس، نئی دہلی۲۰۱۵ء، غطریف شہباز ندوی، عالم اسلام کے چندمشاہیر، فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی، مارچ ۲۰۱۴ء، ص۲۹۱۔

[2]۔ تعبیرکی غلطی اورالاسلام،گڈورڈ بکس، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی ۔

[3]۔ ملاحظہ ہو: الرسالہ، فروری ۲۰۱۷ء ،ص۴۲۔

[4]۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں :غطریف شہبازندوی، عالم اسلام کے مشاہیر،فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی، مارچ ۲۰۱۴ء۔

[5]۔ استاذ جاوید احمد غامدی پر کوئی وقیع علمی کام سامنے نہیں ہے، ایک ابتدائی سی کوشش شاہ عمران حسن کی ''حیات غامدی'' رہبربک سروس نئی دہلی ہے۔

[6]۔ مطالعہ قرآن، گڈورڈ بکس، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی، ص ۲۰۔

[7]۔ الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴ء۔

[8]۔ ملاحظہ ہو: مقدمہ تفسیرنظام القرآن ازمولاناامین احسن اصلاحی ،البلاغ، نئی دہلی ۔

[9]۔ مولاناسلطان احمداصلاحی کے بارے میں ملاحظہ کریں راقم کا مضمون شائع شدہ ترجمان دارالعلوم دیوبند جدید، جنوری تامارچ ۲۰۱۸ء ،شائع کردہ تنظیم ابنائے قدیم، دارالعلوم دیوبند، نئی دہلی ۔

[10]۔ یہ کتاب بالاقساط رسالۂ علم وادب میں، جوخودمولانامرحوم نے قائم کیاتھا، شائع ہوئی،اس کی غالباًتیسویں قسط شائع ہوئی، اس کے بعدمولاناخالق حقیقی سے جاملے اوران کے اخلاف نے دوتین ماہ رسالہ جاری رکھنے کے بعداس کو بند کر دیا، کتاب بھی ابھی شائع نہیں ہوئی۔

[11]۔ ماہنامہ تحفظ، اپریل ۲۰۱۱ء۔

[12]۔ ملاحظہ ہو: الاحسان کتابی سلسلہ، شمارہ نمبر۸ ،جنوری ۲۰۱۸ء،شاہ صفی اکیڈمی، خانقاہ عارفیہ سیدسراواں الٰہ آباد، انڈیا۔

[13]۔ جاویداحمدغامدی،میزان، شائع کردہ الموردلاہور، جنوری ۲۰۱۸ء ص۶۲ ۔

[14]۔ محدثین اوردوسرے کلامی مکاتب فکرکے تقابلی مطالعہ کے لیے دیکھیں : محمدانس حسان،اعتقاد ی مسائل میں محدثین و متکلمین کا منہج اختلاف،ماہنامہ فکر و نظر، اکتوبر، دسمبر ۲۰۱۵ء، ادارہ تحقیقات اسلامی،بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔

[15]۔ ملاحظہ کریں:اظہاردین ۱۶۸- ۱۶۹۔

[16]۔ برہان،ص ۱۸۱تا۲۱۰، شائع کردہ المورد، لاہور، دسمبر ۲۰۰۹ ء،طبع ہفتم۔

[17]۔ مثال کے طورپرحافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب ''فکرفراہی اوراس کے گمراہ کن اثرات ،ناشرالمدینہ اسلامک رسرچ سینٹر، کراچی۔فرقہ اہل حدیث کے مشہورعلمی ترجمان ''محدث'' پاکستان نے توعلم واخلاق کی ساری حدوں کوپارکرکے غامدی صاحب کی ذاتی قدح ومذمت میں مولوی محمدرفیق چودھری کی ایک نظم تک شائع کی۔دین کے ٹھیکہ داروں کی یہ اخلاقیات ہیں ! بریں عقل ودانش ببایدگریست!!

[18]۔ دیکھیے: جاویداحمدغامدی،میزان،قانون دعوت،اتمام حجت ص۵۴۰، قانون جہاد، ص ۵۸۰تا۶۱۰، شائع کردہ المورد لاہور، جنوری ۲۰۱۸ء۔

[19]۔ ملاحظہ ہو: فیض الباری ۲ / ۱۶۳۔ اسی طرح انھوں نے ترکی نسل،اہل روس اوراہل برطانیہ کویاجوج ماجوج کی اولاد بتایاکہ دنیامیں شروفسادکے لیے ان کے خروج کا آغاز منگولوں کے حملوں کی صورت میں ہوچکاہے۔شاہ صاحب تیمورلنگ،چنگیز خاں اورہلاکوخاں اوراسی طرح مغربی اقوام کی چیرہ دستیوں کواسی پیشین گوئی کا مصداق قراردیتے ہیں(فیض الباری ۴/ ۱۹۷)۔

[20]۔ ملاحظہ کریں :الرسالہ، مسیحی ماڈل کی آمدثانی، جون ۲۰۰۷ء۔

[21]۔ مثال کے طورپرمذہب اورسائنس میں اس پر لمبی بحث ہے، اس کے علاوہ اظہاردین میں بحث ہے : حیاتیاتی ارتقاء ۱۳۱۔

[22]۔ اس موقف کے دلائل کے مطالعہ کے لیے ملاحظہ کریں :''تدبرقرآن'' میں 'رجم کی بحث'،مولاناسبحانی صاحب کی ''حقیقت رجم''،''المیزان'' اور غامدی صاحب کی ''برہان''۔تاہم شاتم رسول کے بارے میں علامہ فراہی اور مولانا اصلاحی کا نقطۂ نظرکیاتھایہ راقم کومعلوم نہیں ہوسکا۔

[23]۔ اظہار دین، ص۵۴۵،گڈورڈبستی نظام الدین، نئی دہلی ۲۰۱۴ءاورشتم رسول کے سلسلہ میں ان کی کتاب ''شتم رسول کا مسئلہ''، شائع کردہ وہی ناشر ۔

____________