​مدعاے متکلم اور الفاظ کی اہمیت (2/2)


مدعاے متکلم اور الفاظ کی اہمیت (1/2)

ازدیاد معنی در جملہ

لفظ کا یہ کردار بھی بہت اہم ہے، ہر لفظ جملے میں آ کر ایک نیا مطلب، بلکہ بعض اوقات پورے مضمون ہی کا اضافہ کر دے سکتا ہے۔ مثلاً زیر بحث گولی والے جملے کو دوبارہ دیکھیں:

''اس نے گولی کھائی''۔

اب اس میں 'پانی سے' کے الفاظ کا اضافہ کردیں:

''اس نے پانی سے گولی کھائی''۔

ان دولفظوں نے جملے کے مضمون میں معنی کا اضافہ کردیا ہے، یعنی گولی پانی سے نگلنے کا عمل جملے میں مزید معلومات کولے آیا ہے ۔یوں ایک ایک لفظ جملے میں مضمون اور مراد کے پہلو سے اضافہ کرتا چلا جاتاہے۔

بعض جدید ماہرین لسانیات اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہتے ہیں: جملے میں جتنے الفاظ آتے جائیں گے، اتنے ہی معنی متردد اور مشتبہ ہوتے چلے جائیں گے، اس لیے کہ تعیین معنی کے لیے اتنے ہی امکانات بڑھتے جائیں گے ۔ہمارا نقطۂ نظر اس کے برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک جتنے الفاظ جملے میں بڑھتے جائیں گے اتنے قرائن صارفہ بڑھتے جائیں گے۔ یوں الفاظ پر اتنے ہی پہرے لگتے جائیں گے۔جس سے وہ تاویلِ واحد کی طرف — زیادہ صراحت سے — مائل ہوتا چلا جائے گا۔ مثلاً پہلے ہم نے لفظ 'گولی' بولا۔ اس کے متعدد معنی تھے، جن کا ذکر شروع میں ہوا۔ پھر ہم نے اسے چار لفظی جملے میں رکھا: ''اس نے گولی کھائی'' اس جملے کے باقی تین الفاظ نے 'گولی' کے متعدد معنی چھین کراسے ایک پر محدود کردیا تھا۔لیکن ایک مرجوح، یعنی کمزور احتمال باقی تھا کہ 'کھانے' کا لفظ بندوق کی گولی کھانے پر بھی بولا جاتا ہے۔ لہٰذا 'اس نے گولی کھائی' کا جملہ بظاہر تاویل واحد تک پہنچانے میں کمزور لگا۔ اگرچہ لسانی ذوق کے مطابق مفہوم واضح تھا۔لیکن 'پانی سے' کے اضافہ نے اس مرجوح احتمال کو بھی رفع کردیا۔گویا اب یہ گولی صرف دوا کی گولی ہے۔ یوں الفاظ اپنے ہمسایہ لفظوں کے پہرے میں آجاتے ہیں جس سے کلام میں دیگر معنی داخل ہونے میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔

الفاظ حاملِ معنی

یوں الفاظ صرف اسی معنی کے حامل بن جاتے ہیں جس کویہ الفاظ جملے میں اپنے ہمسایہ الفاظ کی پہرے داریوں میں باقی رکھ پاتے ہیں۔ ایک متکلم جب تکلم کے لیے الفاظ چن کر بولتا اورانھیں جملے کے نحوی بندھن میں پرو دیتا ہے تو یوں متکلم ان پر شدید پہرے بٹھاتا چلا جاتا ہے۔الفاظ اور نحو کے پہرے دارصرف اسی معنی کو جملے میں آنے دیتے ہیں جو متکلم کے منشا کے مطابق ہوتے ہیں، باقی معنی کویہ پہرے دار باہر ہی روک دیتے ہیں۔ ان پہرے داروں کی موجودگی میں بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اب میرا مدعا سامع تک پہنچ جائے گا، کیونکہ اس نے اپنے خیال میں لسانی تعامل کے سہارے پر الفاظ اور نحو کے کڑے حصار میں مدعا کو بند کردیا ہے۔

یہ عمل ہم اس سرعت اور ہوشیاری سے کرتے ہیں، جیسے ایک ماہر ڈرائیور ہر طرح کے شور ہنگامے اور رش میں پوری سرعت، ہوشیاری اور بے خیالی میں گاڑی چلائے جارہا ہوتا ہے۔گویا بولنا ہماری فطرت ثانیہ ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ آمد۱۳؂ اور آورد۱۴؂ میں معیار کلام کا فرق ہوتا ہے، اس لیے کہ آمد میں ہمارا ذہن ماہر ڈرائیور کی طرح بے خیالی میں درست طور عمل کرتا جاتا ہے۔شاید ہمارا لاشعور جب آزادی سے کام کرتا ہے تو زیادہ تخلیقی ہوتا ہے۔سامع بھی ان پہرے داریوں کی مدد سے اسی سرعت سے ذہن میں جمع تفریق کرتے اور اصل مدعا تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ سب ریاضی ایک سیکنڈ میں ہو جاتی ہے۔

مقدرات کا تحمل

لفظ جو بھی کلام میں آئیں، وہ اپنے ساتھ مقدرات لے کر آتے ہیں۔جب لفظ جملے میں آجاتے ہیں ، اور متعدد معانی سے مجرد ہو کر ایک معنی تک محدود ہو جاتے ہیں، تو مقدرات اسی محدود حوالے سے پیدا ہوجاتے ہیں۔مثلاً گولی والے دو جملے اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ ایک جملہ یہ بنا ہے کہ اس نے سینے پر گولی کھائی۔ اس میں گولی اب بندوق کی گولی کے معنی میں ہے تو اس لیے یہاں لفظ 'گولی' صرف بندوق کی گولی کے مقدرات کا حامل ہو گا۔ کنچے اور دواکی گولی کے مقدرات کا نہیں۔ بندوق کی گولی لگنے کا مقدر موت یا شدید زخمی ہونا ہے۔ سینے پر گولی کھانے کا مقدر بہادری ہے۔ اب اس جملے پر کوئی بھی ایسا جملہ عطف ہو سکتا ہے، جوان دو مقدرات سے متعلق ہو۔مثلاً:

۱۔ اس نے سینے پر گولی کھائی ، اور ہمارا سر فخر سے بلند کرگیا۔(یہ سینے پر گولی کھانے کے مقدر ''بہادری'' پر عطف ہوا ہے۔ اگرچہ ''بہادری'' کا لفظ کلام میں موجود نہیں ہے)۔

۲۔ اس نے سینے پر گولی کھائی،اورداعی اجل کو لبیک کہتے ہوے سرخ روہوا۔(یہ گولی کے اثرکے مقدر ''موت'' کے لحاظ سے عطف ہوا ہے)۔

لیکن واضح رہے کہ جو مقدر کلام میں متکلم نے ملحوظ رکھا ہے، وہی پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کے ملحوظ مقدرات کو پیش نظر رکھے بغیر معنی کا تعین کر لیں۔ مثلاً اوپر کے پہلے جملے میں مقتول ہونے کا امکان موجود ہے، مگرہم اس سے اس کی موت کا بس ہلکا سا اشارہ ہی پا سکتے ہیں، حتمی طور پرموت کو برآمد نہیں کرسکتے، اس لیے کہ سینے پر گولی کھا کر بچ جانا بہادری کے خلاف نہیں ہے۔ اس سے بھی یہی بات واضح کرنا پیش نظر ہے کہ مقدرات تک میں ہماری مدد صرف متکلم کے چنے ہوئے الفاظ اور تشکیل دیے ہوئے جملے ہی کرتے ہیں۔ یہ مقدرات بھی پہرے دار بن جاتے ہیں،اور متکلم کے منشا کی رسی سے سامع کو باندھے رکھتے ہیں۔

ماحول کی تشکیل

الفاظ جس طرح ہماری زندگی اور معاشرے سے جڑے ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارے جذبات یا معاشرے کے تہذیبی احساسات سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ کلام میں ایک تہذیبی یا جذباتی ماحول تشکیل کرتے ہیں۔یہ تہذیبی یا جذباتی احساسات کلام میں جب آتے ہیں، اور جو ماحول تشکیل کرتے ہیں، وہ ماحول ایک اور پہرے دار بن جاتاہے، جو جملوں میں لازماً درآتا ہے۔اس ماحول کی روشنی میں کلام ملی، قومی، وطنی، تہذیبی ، دینی اور نہ جانے کتنے قسم کے احساسات سے ہمارے دل میں تحریک، تجمد، کشش یا کھچاؤ پیدا کرتا ہے۔مثلاً اوپر سینے پر گولی کھانے کے بیان نے گولی کھانے والے کے لیے ہماری محبت ہم سے حاصل کی ہے۔اسی جملے سے دشمن ایک حسد یا تکلیف محسوس کرے گا ۔

یوں لفظ ہماری نفسیاتی احساسات کا نمایندہ بھی بن جاتا ہے۔الفاظ غصہ، نفرت، تنگ نظری، کشادگی، جرأت، بزدلی، غرض کئی جذبات و احساسات کو لیے کلام میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔کسی کتاب پر کسی نے تقریظ۱۵؂ لکھی بظاہر اس میں کوئی منفی لفظ استعمال نہیں ہوا تھا،بلکہ مجموعی مضمون مثبت ہی تھا۔ مگراس تقریظ کو پڑھنے کے بعدایک صاحب نے کہا کہ لگتا ہے کہ مصنف اور تقریظ نگار کے مابین اَن بن ہے ، کیونکہ کتاب کی خوبی جس طرح کی تقریظ کا تقاضا کرتی ہے، تقریظ ویسی نہیں ہے۔ ذیل کے شعر میں ہم ایک میٹھی نغمگی ، ایک لپک فریفتگی اور ایک نوع کا التماس محسوس کرسکتے ہیں۔ تمام احساسات بن بولے اس شعر میں سرایت کیے ہوئے ہیں:

تجھ مکھ کی پرستش میں گئی عمر میری ساری

اے بت کی پجن ہاری، اس بت کو پجاتی جا ۱۶؂

یوں الفاظ و جمل ماحول سا تشکیل کرتے ہیں، یہ ماحول تاثیر اور جمال پیدا کرتا ہے۔گویا الفاظ ہماری تہذیبی، دینی، سماجی، علاقائی اور قومی شعور سے اٹھے ہوئے ماحول کو کلام میں لے آتے ہیں۔ یہ ماحول بھی لفظوں سے جڑے مصداقات کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ خواہ وہ مصداقات مادی ہوں یا معنوی۔یہ بات شاید غلط نہ ہو کہ ہر مادی شے کے ساتھ ایک نہ ایک ذہنی تصور ضرور جڑا ہوتا ہے، جو زبان اور علم کی تشکیل میں کام آتا ہے۔ مثلاً میرے گھر میں ایک فقیر عورت آتی ہے، میری بیوی صرف اس لیے اس کو خیرات دیے بغیر نہیں رہ سکتی کہ جب وہ ''کون ہے؟'' پوچھنے پر کہتی ہے: ''مانگنے والی''، تویوں وہ عجز ،بے مائیگی اور مطالبہ سے بھرے ان دو لفظوں کو اپنے اوپر چسپاں کرکے جس پستی اور بے کسی کا اقرار کرتی ہے، وہ دل کو اندر تک پگھلا دیتا ہے۔یہاں 'مانگنے والی' کے ساتھ جڑے ذہنی تصورات نے جادو کا اثر دکھایا ہے۔

موقع محل کی تشکیل

موقع محل سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ صورت حال جس میں کلام صادر ہورہا ہوتا ہے۔ روز مرہ کے مکالموں میں ہم عموماً صورت حال جس میں ہم موجود ہوتے ہیں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جیسے مذکورہ بالا فقیر خاتون کاگھر والوں کے ساتھ مکالمہ ایک موقع محل میں ہورہا ہوتا ہے۔ وہاں موقع پر دیکھیے صرف دو جملے ہیں: ایک یہ کہ ''کون ہے؟'' اور دوسرا یہ کہ ''مانگنے والی''۔ لیکن اسی بات کو سمجھانے کے لیے مجھے باقی تفصیل بھی کرنی پڑی۔یعنی مجھے موقع محل کو لفظوں میں بیان کرنا پڑا۔یہ موقع محل تو سب پہچان جاتے ہیں۔ لیکن ایک موقع محل ہوتا ہے، جو یوں بیان نہیں ہوتا، بلکہ لفظوں میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔مثلاً ایک ادیب کے بارے میں ایک شاعر نے کہا:

علم و ادب کی بزم ہوئی سوگوار آج

محفل سے اٹھ گیا، وہ بلاغت نگار آج

یہاں دیکھیے ''سوگوار'' اور ''اٹھ گیا'' نے یہ موقع محل ہمیں بتایا کہ شاعر کسی بلاغت نگار ادیب کے مرنے پر یہ شعر کہہ رہا ہے۔ یوں ہم کلام کے اندر سموئے ہوئے موقع محل کو پالیتے ہیں۔قرآن مجید اسی انداز سے موقع محل کو اپنے جملوں اور لفظوں سے بیان کرتا ہے اور یوں ساتھ ساتھ یہ بتاتا جاتا ہے کہ کس موقع کی بات ہے ؟کیا بحث چل رہی تھی؟ کس سوال کا جواب دیا جارہاہے؟ سب ساتھ ساتھ واضح ہوتا جاتا ہے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لفظوں کو ان کا پورا پورا مقام دیا جائے ۔ مثلاً سورۂ احزاب کا درج ذیل مقام موقع محل کو سمجھنے کے لیے کسی زیادہ غور وفکر کا محتاج نہیں ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا. وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا. یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَایُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلًا. مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا. سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا.(الاحزاب ۳۳: ۵۷۔۶۲)

یہاں 'یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ' کے الفاظ میں بعض متعین خواتین کو ادناے جلباب کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم کس موقع محل میں دیا گیا ہے، اسے یوں نہیں بتایا گیا، جیسا میں نے اوپر فقیر عورت کے بارے بتایا تھا، بلکہ کلام کے مضمون میں لپیٹ کر بتایا گیا ہے۔آیت کے خط کشیدہ الفاظ سے واضح ہے کہ حکم کے آگے اور پیچھے، یعنی سیاق و سباق میں کچھ ایسی تفصیلات دی ہیں جن سے موقع محل واضح ہورہا ہے۔

حکم سے پہلے یہ اللہ اور رسول کو اذیت دینے، اورمسلمانوں پر تہمت لگانے والوں کو بتایا گیا ہے کہ انھیں سزا ملے گی، اس لیے کہ وہ 'اثم مبین' کے مجرم ہیں۔ اللہ اور رسول کو اذیت دینے والوں کو دنیا و آخرت کی سزا کی وعید سنائی ہے۔ یہ حکم کا سباق ہوا، پھر سیاق میں مزید باتیں واضح ہوتی ہیں کہ صحابیات کے اس حکم پر عمل کے باوجود اگر یہ اور یہ لوگ بعض نہ آئے تو سخت اقدام کیا جائے گا۔ اس سباق اور بالخصوص سیاق سے معلوم ہوا کہ منافقین ، حسد کے مریضوں ، سنسنی پھیلانے والے وحشت گردوں۱۷؂ کی تہمت بازیوں سے بچنے کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔یوں دیکھیے کہ بعض کرداروں کے ساتھ معاملہ کے لیے چند احکام و اقدامات کا ذکر ہوا ہے، اور ایسا کرنے سے موقع محل بھی واضح ہو گیا ہے۔ جن افراد اور گروہوں کا ذکر کرکے انھیں کہا گیا ہے کہ اب رک جاؤ، ورنہ یہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ سب الفاظ اس موقع محل سے آگاہ کررہے ہیں، جس میں کلام نازل ہوا تھا۔ لہٰذا کلام میں ایسے الفاظ موجود ہوتے ہیں، جن میں صدورِ کلام کے وقت کے حالات کی نشان دہی ہو جاتی ہے۔ انھی الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ بات کن سے ہورہی ہے، حکم کی نوعیت کیا ہے وغیرہ۔

مرکبِ پیغام

اوپر کی ساری گفتگو میں یہ بات واضح ہے کہ الفاظ مفردات اور کلام کی صورت میں پیغام رسانی کا واحد ذریعہ ہیں۔ میں آپ کے مدعا کو اور آپ میرے مدعا کو میرے ذہن میں اتر کر نہیں، بلکہ الفاظ کے فہم ہی سے جان سکتے ہیں۔ میں نے جو پیغام دینا تھا، اس کے لیے میں نے جو الفاظ چنے میں وہی کہنا چاہتا ہوں ، اور جو الفاظ آپ نے چنے آپ وہی کہنا چاہتے تھے۔ آپ کے اور میرے پیغام کے حامل بس وہی الفاظ ہیں جو میں نے اور آپ نے چنے۔ ان الفاظ سے جو معنی سامع تک منتقل ہو گا، بس وہی میرا اور آپ کا مدعا ہے۔ خارج سے کوئی چیز ان الفاظ میں ٹھونسنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے متکلم کی نہیں کسی اور کی بات سنی ہے۔

لہٰذاماضی میں جب ہم نے فقہی اختلافات کے حل کی کش مکش کے دوران میں اپنے حق میں روایاتِ آحاد کو اور قیاس کے نام پر عقل کو استعمال کیا ، تو بعض نے خاموشی سے اور بعض نے علانیہ کلام الٰہی پر تہمت دھر دی کہ اس کے الفاظ کی دلالت تو ظنی ہوتی ہے، اس لیے فیصلہ کے لیے خارج کو بیچ میں لانا پڑے گا، اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ آحاد سے جو چیز خارج سے لائی گئی، وہ پھر الفاظ ہی میں ہوتی تھی، لیکن وہ قطعی شمار ہوتی تھی، اس لیے کہ وہ ہماری پسند کی ہوتی تھی۔یہ تضادِ فکرایک طرف فطرت پر کھڑا تھا اور دوسری طرف مسلک پرستی پر۔ جب آحاد کی لفظی دلالت کو فیصلہ کن مانا گیا تو دلالت الفاظ کی قطعیت کی فطرت لاشعور میں کارفرما تھی، اور قرآن کے الفاظ کی دلالت کو ظنی مانا گیا تو اپنے مسلک کی عصبیت کا فسوں نگاہوں پر پٹی باندھ رہا تھا۔ لہٰذا یہ تضاد فکر کہ آحاد کے الفاظ کی دلالت قطعیت ہے اور الفاظِ قرآن کی دلالت ظنی ہے، دبا رہا۔ حالاں کہ قرآن اور اخبارِآحاد میں بولے گئے ملفوظات کا الفاظ ہونے میں کوئی جوہری فرق نہیں تھا، بلکہ چناؤ میں قرآن کے الفاظ بے خطا تھے۔لیکن پھر بھی مسلک نے آحاد کا پلڑا بھاری کردیا اور قرآن کا ہلکا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کو قرآن کا اصل مقام لوٹایا جائے اور اس کے الفاظ کی حاکمیت مانی جائے۔

________

۱۳؂ وہ شعر یا کلام جس میں تکلف نہ ہو، ہمارے قلب و ذہن کے آزادانہ عملِ تخلیق نے وجود پذیر کیا ہو۔یہ کلام بہ تکلف تراشیدہ کلام سے بلند درجہ کا ہوتا ہے۔

۱۴؂ محنت و کوشش سے بات بنانا۔ بڑا تکلف کر کے شعر کہنا ۔

۱۵؂ Review، کتاب کے شروع یا اختتام پر مصنف کے علاوہ کسی اور کا عموماً تائیدی تبصرہ۔

۱۶؂ تجھ مکھ: تیرا چہرا۔ پجن ہاری: ''ہاری'' یا ''ہارا'' قدیم اردو میں اسم صفت بنانے کے لیے استعمال ہوتا تھا جس طرح ہم ''والا'' اور ''والی'' استعمال کرتے ہیں، مثلاً: پوجنے والا، پجنے والا وغیرہ۔

۱۷؂ اس کے لیے قرآن میں 'مرجفون' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی منفی اور فتنے پھیلانے والی باتوں کی ٹوہ میں رہنا، یہ باتیں حاصل کرکے انھیں معاشرے میں پھیلا کر اضطراب و وحشت پیدا کرنا تاکہ معاشرے کا امن و چین برباد ہو، یا کسی گروہ یا حکومت کے خلاف بے اعتمادی پیدا ہو۔ہمارے ملک میں بدقسمتی سے یہ جرم ہر حزب اختلاف کا سیاسی عمل بن گیا ہے۔

____________