محمد اسحاق ناگی


[ ۲۰۰۰ء میں اسحاق ناگی صاحب کا اشراق دعوۃ کے لیے کیا گیا ایک یادگار انٹرویو]

جناب جاوید احمد غامدی نے دعوت دین کے کام کو منظم کرنے کے لیے ''دانش سرا'' کا ادارہ ۱۹۹۷ء میں قائم کیا۔ اس ادارے کے قیام سے برسوں پہلے جناب محمد اسحاق ناگی نے دعوت کے میدان میں اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اورپوریتن دہی کے ساتھ سرگرم عمل ہو گئے۔ غامدی صاحب ان کو اس حلقۂ فکر کا پہلا داعی کہتے ہیں۔ اس میدان میں ان کی مساعی کا تسلسل ۲۰ سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ لیکن اس پورے زمانے میں شاید کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا ہو گا جس میں وہ دعوت، اہل دعوت اور مخاطبین دعوت سے غافل رہے ہوں۔ ان کی دعوت کا موضوع بالعموم توحید اور تذکیر آخرت رہا ہے۔ ''المورد'' میں حدیث کے استاد جناب محمد رفیع مفتی، ''اشراق'' کے نائب مدیر جناب محمد بلال اور دانش سرا کے سرگرم رفیق جناب لیاقت علی انھی کی دعوت اور کاوشوں سے اس حلقے میں شامل ہوئے ہیں۔

ناگی صاحب ۲۵ دسمبر ۱۹۵۰ کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول کینٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ نو عمری ہی میں دین سے تعلق پیدا ہو گیا۔ یہ تعلق اتنا بڑھا کہ اس کے بعد کوئی اور تعلق باقی ہی نہیں رہا۔ کچھ عرصہ تنظیم ''خدام القران'' سے وابستہ رہے۔ ۱۹۷۵ء میں غامدی صاحب سے درس قرآن کے ذریعے سے تعارف ہوا۔ ان کے نقطۂ نظر کے قائل ہو گئے اور دعوت دین کے کام میں ان کے رفیق بن گئے۔اور اب تک یہ رفاقت پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔ مولاناامین احسن اصلاحی سے بھی بے پناہ محبت کا تعلق رہا۔ خود مولانا اصلاحی بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔

ناگی صاحب کی روزمرہ کی مصروفیات، اپنے گھرپراہل علم کی نشستوں کا انعقاد، جاوید صاحب کے دروس میں لوگوں کی شرکت کا اہتمام، ''اشراق''، مطبوعات دانش سرا اور آڈیو لیکچرز سے لوگوں کا تعارف، قرآن مجید اور دینی کتب کا مطالعہ اور دعوتی ملاقاتیں ہیں۔ امام حمید الدین فراہی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا وحید الدین خاں اور جناب جاوید احمد غامدی سے متاثر ہیں۔ کتب و جرائد کے حوالے سے ''تدبر قرآن''، ''خطبات''، ''اللہ اکبر''، ''مطالعۂ تصوف، قرآن و سنت کی روشنی میں''، ''خلافت معاویہ و یزید''، ''اشراق'' سے متاثر ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ دانش سرا کے کاموں سے کن پہلوؤں سے اختلاف رکھتے ہیں تو انھوں نے کہا: ''انسان کو اپنی غلطیاں بالعموم نظر نہیں آتیں، اس بارے میں کوئی بات کہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔'' اس سوال کے جواب میں کہ آپ دعوت کا کام کرتے ہوئے کن لوگوں کو مخاطب بناتے ہیں اور کیا طریق کار اختیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: ''میں بالعموم ان افراد کو دعوت کا مخاطب بناتا ہوں جو پہلے سے دینی زندگی تو اختیار کیے ہوتے ہیں یا دین کے بارے میں مثبت رجحان تو رکھتے ہیں، مگر دین کی صحیح تعبیرات سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے فکری انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے محض زاویۂ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ دین کے صحیح فکر کے حامل بن جاتے ہیں۔ جہاں تک طریق کار کا تعلق ہے تو وہ افراد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی کو درس میں مدعو کر کے، کسی کو ''اشراق'' کا قاری بنا کر، کسی کو کیسٹ سنا کر اور کسی کو اپنے حلقے کے اہل علم سے ملوا کر دین کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ لیکن اس ضمن میں جس بات کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، وہ ذاتی تعلق ہے۔ اگر آپ اپنے مخاطبین سے ذاتی تعلق قائم کرتے ہیں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، تو آپ کا مخا طب آپ کی بات کو پورے خلوص کے ساتھ سنے گا۔''