مصعب اسکول سسٹم


[المورد کا ایک تعلیمی منصوبہ]

''مصعب اسکول سسٹم ''اسلامی تشخص کا آ ئینہ دار ایک جدید تعلیمی ادارہ ہے۔یہ اس احساس کی بنا پر قائم کیا گیا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایسے افراد تیار کرنے سے قاصر ہے جو اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل ہوں اور علم و فن کے میدان میں کارہاے نمایاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس نظام میں ایک جانب وہ روایتی اسکول ہیں جوقومی شعبے کے ماتحت ملک کے طول و عرض میں قائم ہیں ۔ان کے بارے میں یہ بات ہر سطح پر تسلیم شدہ ہے کہ ان کے نصاب فرسودہ اور طریق تدریس پس ماندہ ہے۔ لہٰذا یہ اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے کہ علم و فن کے ارتقا کو جزو نصاب بنا سکیں اور تعلیم و تدریس کے وہ اسالیب اختیار کر سکیں جن کے بغیر جدید علوم و فنون تک رسائی کم و بیش ناممکن ہے۔ ان میں بالعموم وہ نصاب پڑھائے جاتے ہیں جو دنیا میں ترک کیے جا چکے ہیں اور ان کے لیے بھی تفہیم کے بجائے حفظ و یادداشت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔چنانچہ ان سے فارغ ہونے والے طلبہ ان علوم سے کم و بیش ناواقف ہوتے ہیں جن کی تحصیل کی اسناد انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلتا کہ تعلیم کا مقصد محض روزگار کا حصول قرار پاتاہے اور علوم پر غور و فکر اور ان کی بنا پرتحقیق ودریافت کے وہ اہداف بالکل مفقود ہو جاتے ہیں جنھیں حاصل کر کے کوئی قوم دنیوی ترقی کی منزلیں طے کر سکتی ہے۔

دوسری جا نب نجی شعبے میں قائم جدید تعلیمی ادارے ہیں۔ان کے نصاب تعلیم اور طریق تدریس کامعیار اگرچہ قومی شعبے میں قائم تعلیمی اداروں کے مقابلے میں بہتر ہے، مگران کا فساد یہ ہے کہ یہ نئی نسل کا تعلق اس کی قومی اور تہذیبی روایات سے منقطع کرنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ چنانچہ شرم و حیا،ایثارو قربانی، ادب و احترم،مروت و پاس داری، شایستگی و خوش اسلوبی، سنجیدگی و متانت اورغیرت و خودداری جیسی وہ اقدارجو ہماری معاشرت کا طرۂ امتیاز ہیں، ان میں کم ترین اوصاف کی حیثیت سے شمار کی جاتی ہیں۔ ان کے نصابات میں وہ موضوعات بہت قدر کے حامل ہوتے ہیں جن کا ہدف انسان کی مادی ترقی ہے اور وہ مضامین جن کا مقصد انسان کی تہذیب نفس اور اس کی اخلاقی اصلاح ہے یا جو دینی اور ملی حمیت کو بیدار کرتے ہیں،بے وقعت قرار پاتے ہیں۔چنانچہ ان درس گاہوں کے فارغ التحصیل اپنے قومی تشخص سے بے گانہ اور تہذیبی اقدار سے عاری ہوتے ہیں۔

ان دونوں طرح کے اداروں میں جس چیز کو قدر مشترک کی حیثیت حاصل ہے ، وہ ان کا اپنی روح میں لادینی ہونا ہے۔چنانچہ زبان و ادب، اخلاقیات و عمرانیات، سائنس اور ٹیکنالوجی اور دیگر علوم و فنون کی تدریس کے لیے جو نصاب ان درس گاہوں میں رائج ہے، اس میں:

''یہ کارخانۂ عالم بغیر کسی خالق کے وجود میں آتا اور بغیر کسی مدبر ہی کے چلتا نظر آتا ہے۔ انسان اس میں آپ ہی اپنی تقدیر بناتا اور آپ ہی اسے بگاڑتا ہے۔ قانون و سیاست اور معیشت و معاشرت کے سارے اصول اس میں 'بغیر ھدی ولاکتاب منیر'وجود میں آتے اور دنیا انھی کی روشنی میں اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انسان کی تاریخ اس میں انسان سے شروع ہوتی اور انسان ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔ ذات خداوندی کے لیے اس میں نہ ابتدا میں کوئی جگہ ہے، نہ انتہا میں ۔ اس سلسلۂ روز و شب کے بارے میں یہ بات اس نصاب کی روح میں سرایت کیے ہوئے ہے کہ وہی درحقیقت ابتدا، وہی انتہا اور وہی باطن و ظاہر ہے۔ چنانچہ اس کی تعلیم پانے والے بغیر کسی ترغیب و دعوت کے آپ سے آپ اس نقطۂ نظر کے حامل بن جاتے ہیں کہ زندگی خدا سے بے تعلق ہو کر بھی بسر کی جا سکتی ہے اور دنیا کا نظام اس کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ .... اس نظام کی اس لادینی فطرت نے صرف یہ ذہنی ارتداد ہی ہماری قوم کے کارفرما عناصر میں پیدا نہیں کیا، اس کے ساتھ انھیں اس سیرت و کردار سے بھی محروم کر دیا ہے جس کے بغیر کوئی قوم دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس میں یہ بات کبھی پیش نظر نہیں رہی کہ تعلیمی ادارے صرف کتابیں پڑھا دینے کے لیے قائم نہیں کیے جاتے، ان کا ایک بڑا مقصد کسی قوم کے بنیادی نظریے کے مطابق اس کی آیندہ نسلوں کی تربیت اخلاق اور تہذیب نفس بھی ہے۔ ...چنانچہ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری یہ نئی نسل اپنی قوم کے ماضی سے بے گانہ، حال سے بے پروا اور مستقبل سے بے تعلق ہے۔ ''(مقامات، جاوید احمد غامدی ۱۳۰)

یہ وہ پس منظر ہے جس میں ''مصعب اسکول سسٹم'' کو قائم کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میںیہ ایک نئے نظام تعلیم کا علم بردار ہے ۔ اس کے اہداف رائج تعلیمی نظام کے مقابلے میں بالکل منفرد ہیں۔ اس کی دس سالہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہ امت مسلمہ کی تعلیمی اورتہذیبی روایت کو قائم رکھنے میں کوشاں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس ترقی کابھی داعی ہے جو شرق وغرب کی اقوام نے جدیدعلوم و فنون کے میدان میں کی ہے۔

''مصعب اسکول سسٹم'' میں تعلیم و تدریس کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے، اس کے اہم نکات یہ ہیں:

اسلام تدریس قرآن

قرآن مجید کی تدریس ''مصعب'' کا خاص امتیاز ہے۔ طلبہ کو ابتدائی جماعتوں ہی سے کتاب الٰہی سے متعلق کر دیا جاتا ہے اوریہ توقع کی جاتی ہے کہ آخری جماعتوں تک پہنچتے پہنچتے وہ اس قابل ہو جائیں کہ اسے اپنی زندگی کے لیے مشعل راہ بنا سکیں۔ اس مقصد کے لیے حسب ذیل طریقہ اختیار کیا جاتا ہے:

اولاً، تجوید یعنی الفاظ قرآن کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

ثانیاً، عربی زبان کی اس قدر تعلیم دی جاتی ہے کہ طلبہ بتدریج اس مقام کو حاصل کر لیں کہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے پیغام کو براہ راست سمجھ سکیں۔

ثالثاً، طلبہ کو قرآن کے منتخب اجزا یاد کرائے جاتے ہیں جنھیں وہ نماز میں تلاوت کرتے ہیں۔

رابعاً، انھیں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب ہدایت کو سمجھ کر اور نہایت غور و فکر کے ساتھ پڑھیں۔جہاں اس کے مفہوم کو سمجھنے میں مشکل پیش آئے وہاں ترجمے یاتفسیر کی کتابوں سے رجوع کریں۔

خامساً، یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ علم و فکرکو اس کے تابع رکھیں اور زندگی کا ہر لائحۂ عمل اسی کی رہنمائی میں مرتب کریں۔

اسلامیات

دیگر اسکولوں کی طرح ''مصعب ''میں بھی اسلامیات ایک الگ مضمون کی حیثیت سے جزو نصاب ہے، مگر اس کی نوعیت دو پہلووں سے نسبتاً مختلف ہے: ایک یہ کہ اس کی حیثیت دیگر مضامین کے مقابلے میں اہم ترین مضمون کی ہے اور دوسرے یہ کہ اس کے نصاب میں ایسے اضافے کیے گئے ہیں جن کے بعد یہ مضمون محض چند معلومات کا مجموعہ نہیں رہتا ، بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کر اسلام کے پیغام کو طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

نماز کا اہتمام

اسکول کے اوقات میں ظہر کی نماز کا اہتمام کیا جاتاہے۔طلبہ اپنے ان اساتذہ کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں جن سے وہ ذہنی اورقلبی طور پر وابستہ اور متاثر ہوتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ان میں نماز کی اہمیت اجاگرہوتی ہے اوراللہ سے تعلق اور اس کی عبادت کا ذوق پیدا ہوتا ہے۔ یہ مسلسل عمل انھیں اس بات کی طرف متوجہ کر دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی خدا کے بندے بن کر گزاریں۔

سائنس طلبہ کو سائنسی علوم کی اہمیت کا ادراک

یہ حقیقتہے کہ حساب، کیمیا، طبیعات، حیاتیات ، معاشیات اور اس نوع کے دیگر علوم و فنون ہی فرد اور معاشرے کی مادی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ''مصعب'' کے طلبہ کویہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں قوموں کی ترقی کا راز انھی کے حصول میں مضمرہے۔ جن اقوام نے ان پر دسترس حاصل کی ہے، وہی اس وقت ترقی یافتہ اقوام کی حیثیت سے دنیا میں سرگرم عمل ہیں۔ اگر ہم بھی قومی سطح پر کسمپرسی کی حالت سے چھٹکارا پانا چاہتے اور عالمی سطح پر کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سائنس اوردیگر جدید علوم کے میدان میں آگے بڑھنا ہو گا۔ اس ضمن میں طلبہ پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ یہ علوم تہذیب مغرب کی علامت یا غیر مسلم اقوام کا اجارہ ہرگزنہیں ہیں۔ یہ انسانیت کی اجتماعی میراث ہیں اور ان کی پرداخت میں مسلمانوں کا حصہ کسی طرح بھی دیگر اقوام سے کم نہیں ہے۔ مسلمانوں نے ان کی خدمت اس زمانے میں کی ہے جب اہل مغرب ان سے بالکل ناآشنا تھے۔یہ پروردگار کی عنایت ہیں اور ان کے حصول اور استعمال پر انسانی فلاح و بہبود کا انحصار ہے۔

جدید ترین نصاب

''مصعب ''میں سائنسی علوم کی تدریس کے لیے جدید ترین نصاب کو اختیار کیا جاتاہے۔ ان علوم میں روز بروز ارتقا کے نتیجے میں ہونے والی نصابی تبدیلیوں پر نگاہ رکھی جاتی ہے اورانھیں ترجیح اول کے طور پر جزو نصاب بنایا جاتا ہے ۔

لیبارٹری اور کمپیوٹر لیب

سائنسی تجربات کے لیے ''مصعب ''میں تجربہ گاہ بھی موجود ہے۔ طلبہ اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں نصاب میں شامل مختلف تجربات کرتے ہیں۔ کمپیوٹر لیب بھی موجود ہے ۔ اس میں طلبہ نصابی اسباق کی مشق کرتے ہیں اور انٹرنیٹ اور سی ڈی پر موجود مختلف سائنسی علوم کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اولیول اور اے لیول کے طلبہ کو اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ سائنسی علوم کی ویب سائٹس سے استفادہ کریں اور جدید تحقیقات سے آگاہ رہیں۔

زبانوں کی استعداد اردو

اردو زبان ہماری قومی اور تہذیبی روایات کی حامل ہے۔ ''مصعب'' میں اسے ایک اعلیٰ زبان کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔مختلف سرگرمیوں کے ذریعے سے طلبہ کے اندر اچھی سطح پر اردو بولنے اور لکھنے کی صلاحیتیں پروان چڑھائی جاتی ہیں۔قرآنی علوم، قومی، ملی اور تہذیبی اقدار کی تعلیم کے لیے اسی زبان کو اختیار کیا جاتا ہے۔

انگریزی

انگریزی زبان جدید علوم وفنون کی حامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے بین الاقوامی سطح پر مشترک ذرائع ابلاغ کی حیثیت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ اس بنا پر اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ چنانچہ ''مصعب ''کا ہدف یہ ہے کہ طلبہ اسے سمجھنے، بولنے اور لکھنے کی بہترین استعداد پیدا کر سکیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مخصوص نصاب ہی پر انحصار نہیں کیا جاتا، بلکہ پورا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ، جس میں طلبہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنے کی مشق کرتے ہیں۔ مزید براں سائنس کے مضامین کی تدریس کے لیے یہی زبان اختیار کی جاتی ہے۔

عربی

''مصعب'' میں عربی زبان کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے متن کا مطالعہ کر کے ان کے پیغام کو براہ راست سمجھ سکیں۔

شخصی تعمیر سیرت و کردار

بچوں کے کردار کی تعمیر ''مصعب ''کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ اس ضمن میں جس اصول کو اساس کی حیثیت حاصل ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان کی علم و ہنرمیں ترقی بے فائدہ ہے، اگروہ اخلاق و کردار میں ترقی نہیں کرتا۔ کوئی شخص اچھا سائنس دان ہوسکتا ہے، بہترین ڈاکٹر اورانجینئر ہوسکتا ہے یا کسی اور علم و فن میں غیر معمولی مہارت کا حامل ہوسکتا ہے،لیکن اس سب کچھ کے باوجود اگر وہ اچھا انسان نہیں ہے تو وہ معاشرے کے لیے کوئی حقیقی خدمت انجام نہیں دے سکتا۔ چنانچہ ''مصعب ''اپنے طلبہ کی اس طریقے سے تربیت کرتا ہے کہ ان کی زندگی کا اصل مقصد اچھا انسان بننا قرار پاتا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو ان کے شعور کا حصہ بنایا جاتا ہے اور اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اندر حق پرستی، انصاف پسندی ، ذمہ داری ، خوش خلقی، رحم دلی ،کریم النفسی اور اعلیٰ ظرفی جیسی صفات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اساتذہ کے لیے لازم ہے کہ وہ ان اقدار کے حوالے سے طلبہ کے لیے ایک لائق تقلید نمونہ بنیں۔

تہذیبی روایات

ہماری تہذیب جو روایات تشکیل دیتی ہے، ان میں خاندان کی اہمیت، رشتوں کا تقدس، بزرگوں کا احترام، اساتذہ کی تکریم، مہمان نوازی، ایثار و قربانی اورعفت و عصمت کے مظاہر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ''مصعب ''کی تمنا ہے کہ یہ روایات ہماری نوجوان نسل میں اس قدر جاگزیں ہو جائیں کہ وہ تہذیب جدید کے سیلاب میں بہنے کے بجائے اس کے آگے دیوار بن جائیں اور امت مسلمہ کی تہذیبی اساسات کو منہدم ہونے سے بچا نے کا کردار ادا کریں۔

قومی حمیت

طلبہ میں قومی اور ملی حمیت کے جذبات کو پروان چڑھانے کے لیے انھیں قومی مشاہیرسے متعارف کرایا جاتا ہے۔ کلاسوں میں، اسمبلی کے موقع پر اور مختلف تقریبات میں تقریری، تحریری اور ذہنی آزمایش کے مقابلوں کے ذریعے سے طلبہ کوعلامہ اقبال، قائد اعظم اور قومی سطح پر غیر معمولی اثرات رکھنے والی دیگر شخصیتوں کے حیات و افکار اور خدمات سے آگا ہ کیا جاتا ہے۔

طریق کار تفہیم کا اسلوب

طلبہ کو اسباق یاد کرانے کے بجائے ان کی تفہیم کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ انھیں اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ذہنوں کو پوری طرح بیدار رکھ کر اسباق تیار کریں اور اس ضمن میں جو سوال بھی پیدا ہو، اسے بلا جھجک استاد کے سامنے پیش کریں۔ مزید براں انھیں اس بات پر بھی ابھارا جاتا ہے کہ وہ جماعت کے مباحث میں اپنے فہم اور اپنی رائے کا بھر پور اظہار کریں۔

تحقیق کا ذوق

طلبہ کے اندر اس بات کا ذوق پیداکیا جاتا ہے کہ انھیں کسی علمی و فکری بات کو محض اس بنا پرقبول نہیں کر لینا چاہیے کہ وہ زبان زد عام ہے اور محض اس بنا پر رد نہیں کر دینا چاہیے کہ وہ اجنبی ہے۔ تحقیق اور جانچ پرکھ کے بعد ہی اس کے رد و قبول کا فیصلہ کرنا چاہیے اور اس ضمن میں اپنے اساتذہ سے ہر ممکن مدد حاصل کرنی چاہیے۔ مزید براں انھیں اس کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ تحقیقی ذوق کو بڑھانے کے لیے لائبریریوں کی رکنیت اختیار کریں اور گاہے گاہے مختلف علمی، ادبی، اور تنقیدی مجالس میں شریک ہوتے رہیں۔ طلبہ کو اس کی مشق بھی کرائی جاتی ہے کہ وہ میسر مواد کی بنیاد پر از خود نتائج اخذ کرنے کی کوشش کریں۔

طلبہ پر انفرادی توجہ

''مصعب ''کے اساتذہ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر بچے کو انفردای طور پر توجہ دیں۔ اگر بچہ کسی مضمون میں کم زور ہو تو یہ استاد کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ اس کے لیے اضافی وقت مختص کر کے اس کی کم زوری کو دور کرنے میں مدد کرے۔

صلاحیتوں کی نشو و نما

بچے خداداد صلاحیتیں لے کر دنیا میں آتے ہیں ۔ ایک اچھے تعلیمی نظام کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرے ، ان کے اندر ان کا شعور پیدا کرے اور ایسا ماحول فراہم کرے جس میں یہ صلاحیتیں پختہ بنیادیں قائم کر لیں، اور جب وہ عملی زندگی میں داخل ہوں تو علم و ادب، صنعت و حرفت، نظم و نسق، تعلیم و تدریس، طب و جراحت،فنون لطیفہ اور سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے میدا نوں میں انھیں بھر پور طریقے سے بروے کار لا سکیں۔ ''مصعب'' میں یہ ماحول فراہم کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔

اساتذہ کی تربیت

''مصعب ''کے اساتذہ کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ نصاب تعلیم اورطریق تدریس کے حوالے سے مختلف شارٹ کورسز اور ورکشاپس میں ان کی شرکت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اخلاقی اور دینی تربیت کے لیے اہل علم و دانش کے ساتھ ان کی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اساتذہ کو اس بات پر مامور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حاصلات کو طلبہ تک منتقل کرتے رہیں۔

ہم نصابی سرگرمیاں

''مصعب ''میں طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ سرگرمیاں ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں خاص کردار ادا کرتی ہیں۔ چنانچہ وقتاً فوقتاًتقریری اور تحریری مقابلوں، مباحثوں، ادبی نشستوں ، ذہنی آزمایش کے پروگراموں اور فن فیئر وغیرہ کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔

کھیل

کھیل اور ورزش بچوں کی جسمانی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ''مصعب ''میں اس مقصد کے لیے باقاعدہ اوقات مقرر ہیں۔ ان میں مشاق انسٹرکٹر مختلف کھیلوں اور ورزشوں کے بارے میں بچوں کو عملی تربیت دیتے ہیں۔

تعلیمی سال

'' مصعب ''میں تعلیمی سال کا آغاز ماہ ستمبر سے ہوتا ہے اور سالانہ امتحانات مئی میں ہوتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ تین ماہ کی چھٹیاں نصاب کے تسلسل کو معطل نہیں کرتیں۔تاہم،گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو نصاب سے متعلق رکھنے کے لیے اسائنمنٹس دی جاتی ہیں۔

امتحانات

طلبہ کو نصاب سے پوری طرح متعلق رکھنے اور ان کی تعلیمی ترقی کی رفتار کو جانچنے کے لیے ماہانہ امتحانات کا ایک پورا نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ اور اساتذہ پورا سال نہایت یکسوئی کے ساتھ نصاب سے منسلک رہتے ہیں۔ اس ماہانہ اعادے سے اسباق بچوں کے ذہنوں میں مستقل طور پر راسخ ہو جاتے ہیں اور وہ سالانہ امتحان سے بھی کسی بوجھ کے بغیر بآسانی گزر جاتے ہیں۔

او لیول اور اے لیول

آخری کلاسوں کے لیے میٹرک کے بجائے او لیول اور اے لیول کا نظام اختیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے ۔ اس کے امتحانات آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ہوتے ہیں۔ ''مصعب ''کے لیے یہ باعث افتخار ہے کہ او لیول کے ۲۰۰۴ء اور ۲۰۰۵ء کے امتحان میں اس کے پہلے اور دوسرے بیج کا نتیجہ سو فی صد رہا ہے۔

بچوں کے والدین سے رابطہ

ہر سہ ماہی کے اختتام پر بچوں کے والدین ایک مقررہ دن اسکول میں آ کر اساتذہ سے ملاقات کرتے ہیں ۔ہر مضمون کے ٹیچر سے فرداً فرداً ملاقات کا اہتمام ہوتا ہے۔اس موقع پر انھیں بچے کی گزشتہ کارکردگی سے آگاہ کیا جاتا ہے اور گھر پر تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے تجاویز دی جاتی ہیں۔