مسلمان کی تکفیر


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

___ ۱ ___

عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱ ''مَنْ شَہِدَ عَلٰی مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ: — عَلٰی مُؤْمِنٍ — بِکُفْرٍ، فَہُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ لَعَنَہُ فَہُوَ کَقَتْلِہِ''.۲

ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان پر یا فرمایا کہ کسی بندۂ مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اِسی طرح ہے، جیسے اُس نے اُس کوقتل کردیا۱ اورجس نے اُس پر لعنت کی،۲اُس نے بھی گویا اُسے قتل کردیا ۔

_____

۱۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کوئی امر مباح نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے، اُس پر یہ تہمت لگادے ، بلکہ ایسی سنگین بات ہے کہ گویا اُس کو قتل کر دیا گیا۔ یہ تشبیہ اِس لحاظ سے ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں کسی کو کافر یا ملعون قرار دینا در حقیقت اُس کی حیثیت عرفی کو ختم کردینا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ گویا اُس کی شخصیت کا قتل ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں جن لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا، اُن کے حالات سے اِس کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کرتا ہے تو کسی کو حق نہیں ہے کہ اُس کو کافر کہے یا قیامت میں خدا کی رحمت سے محروم قرار دے۔ دنیا میں ہر شخص اپنے اقرار ہی کی بنا پرمسلم، غیر مسلم یا کافر سمجھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حق کسی دوسرے کو نہیں دیا ہے ، نہ کسی فرد کو، نہ دین کے کسی عالم کو اور نہ کسی ریاست کو کہ وہ اُس کو کافر یا غیر مسلم قرار دے ۔اِس باب کے تمام معاملات میں آخری اور فیصلہ کن چیز اُس کا اپنا اقرار ہے ، لہٰذا کسی کو بھی اُس پر کوئی حکم لگانے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔

۲۔ یعنی اُس کو خدا کی رحمت سے محروم قرار دیا۔عربی زبان میں 'لعنت' کا لفظ اِسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن جامع معمر بن راشد، رقم۱۹۷۱۰سے لیا گیا ہے۔ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ اسلوب وتعبیر کے کچھ فرق کے ساتھ یہ اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہے:مصنف عبد الرزاق، رقم۱۵۹۸۴۔ مسند احمد، رقم۱۶۳۸۵، ۱۶۳۹۱۔صحیح بخاری، رقم۶۰۴۷، ۶۱۰۵، ۶۶۵۲۔سنن ترمذی، رقم۲۶۳۶۔مسند رویانی، رقم۱۴۵۰۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۱۲۹۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۶۰، ۱۳۲۴، ۱۳۲۶، ۱۳۳۱، ۱۳۳۴، ۱۳۳۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۵۸۷۶۔ معرفۃ السنن و الآثار،بیہقی، رقم۱۹۴۶۴، ۱۹۴۶۵۔

۲۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۵۹۸۴میں اِنھی ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے یہ مضمون اِس تعبیر کے ساتھ نقل ہوا ہے: 'لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ قَالَ لِمُؤْمِنٍ: یَا کَافِرُ، فَہُوَ کَقَتْلِہِ' '' ایک بندۂ مومن پر لعنت کرنا اُسے قتل کردینے کی طرح ہے اورجس نے کسی بندۂ مومن کو کہا: اے کافر، تو یہ اِسی طرح ہے، جیسے اُس نے اُس کوقتل کردیا''۔مسند احمد، رقم ۱۶۳۸۵میں اِس کے بجاے یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:'لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ رَمٰی مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہِ' ''ایک بندۂ مومن پر لعنت کرنا اُسے قتل کردینے کی طرح ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو اُس نے گویااُس کو قتل کردیا'' ۔صحیح بخاری، رقم ۶۰۴۷میں یہی بات اِن الفاظ میں آئی ہے:'مَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَہُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہِ''' جس نے کسی بندۂ مومن پر لعنت کی، اُس نے گویا اُسے قتل کردیا اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ بھی اُس کو قتل کردینے کی طرح ہے''۔سنن ترمذی، رقم ۲۶۳۶میں اِس کی جگہ یہ الفاظ ہیں:'لَاعِنُ الْمُؤْمِنِ کَقَاتِلِہِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَاتِلِہِ''' ایک بندۂ مومن پر لعنت کرنے والا گویا اُس کا قاتل ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اِسی طرح ہے، جیسے اُس نے اُس کوقتل کردیا''۔

___ ۲ ___

عَنْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''أَیُّمَا امْرِیئ قَالَ لِأَخِیْہِ: یَا کَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِہَا أَحَدُہُمَا، إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَیْہِ''.۲

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اُنھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بھی اپنے (مسلمان)بھائی کو کہا: اے کافر، تو دونوں میں سے ایک یہ ہوکر رہے گا۔اگر اُس کا وہ بھائی اِس کا مصداق ہوا جس کو اُس نے کافرقرار دیاتو وہی اور اگر نہ ہوا تو کہنے والے کی یہ بات خود اُسی پر لوٹ جائے گی۔۱

_____

۱۔ یہ تکفیر کی اجازت نہیں ، بلکہ اُس پر سخت ترین تنبیہ ہے۔ کوئی خدا ترس آدمی اِسے اجازت پر محمول کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔مدعا یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو اِس خطرے میں نہ ڈالے کہ کسی مسلمان کو کافرکہہ کر قیامت کے دن اُسی طرح کے مواخذے سے دوچار ہوجائے جس سے خدا اور اُس کے رسولوں کے منکرین دوچار ہوں گے۔اِس لیے کہ اِس سے بچنے کی ایک ہی صورت پھر اُس کے لیے باقی رہ جائے گی کہ قیامت کی عدالت بھی اُس کے اِس فتوے کی تصدیق کردے۔شریعت میں اِس کی مثال قذف کی سزا ہے جو قریب قریب اتنی ہی ہے، جو زنا کے لیے مقرر کی گئی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکفیر سے متعلق یہ تنبیہ غالباً اُسی پر قیاس کر کے فرمائی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۶۰ سے لیا گیا ہے۔ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔چند لفظی اختلافات کے ساتھ یہ اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہے:موطا امام مالک، رقم۳۶۰۶۔ احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۱۶۔ مسند طیالسی، رقم۱۹۵۲۔مسند حمیدی، رقم۷۱۵۔مسند ابن جعد، رقم۱۵۹۴۔مسند احمد، رقم ۴۶۸۷، ۴۷۴۵، ۵۰۳۵، ۵۰۷۷، ۵۲۵۹، ۵۲۶۰، ۵۸۲۴، ۵۹۱۴، ۵۹۳۳، ۶۲۸۰۔صحیح بخاری، رقم۶۱۰۳، ۶۱۰۴۔الادب المفرد، بخاری، رقم۴۳۹۔صحیح مسلم، رقم۶۰۔ سنن ترمذی، رقم۲۶۳۷۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۴۷۔۵۴۔صحیح ابن حبان، رقم ۲۴۹، ۲۵۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۴۵۷۰، ۸۷۳۲۔ مستخرج ابی نعیم، رقم۲۴۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۲۰۹۰۲۔

۲۔مسند حمیدی، رقم ۷۱۵میں ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے اِس حدیث کے یہ الفاظ آئے ہیں: 'إِذَا کَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاہُ فَقَدْ بَاءَ بِہَا أَحَدُہُمَا' ''جب آدمی اپنے (مسلمان)بھائی کو کافر قرار دیتا ہے تو دونوں میں سے ایک یہ ہوکر رہتا ہے''۔مسند طیالسی، رقم ۱۹۵۲میں اُنھی سے یہ اِس اسلوب میں بھی نقل ہوئی ہے:'إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِیْہِ: یَا کَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِہِ أَحَدُہُمَا، إِنْ کَانَ الَّذِيْ قِیْلَ لَہُ کَافِرٌ فَہُوَ کَافِرٌ وَإِلَّا رَجَعَ إِلٰی مَنْ قَالَ' ''جب آدمی اپنے (مسلمان) بھائی سے کہتا ہے: اے کافر،تو دونوں میں سے ایک یہ ہوکر رہتا ہے، چنانچہ جس کو کافر کہا گیا، یا وہ کافر ہوگا یایہ بات خود کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گی''۔مسند احمد، رقم ۵۸۲۴میں یہی روایت اِس تعبیر کے ساتھ منقول ہے:'إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِہِ: یَا کَافِرُ، فَإِنَّہَا تَجِبُ عَلٰی أَحَدِہِمَا، فَإِنْ کَانَ الَّذِيْ قِیْلَ لَہُ کَافِرٌ فَہُوَ کَافِرٌ، وَإِلَّا رَجَعَ إِلَیْہِ مَا قَالَ''' جب آدمی اپنے (مسلمان)ساتھی سے کہتا ہے: اے کافر،تو دونوں میں سے ایک لازماً اِس کا مصداق ہوجاتا ہے، چنانچہ جس کو کافر کہا گیا، یا وہ کافر ہوگا یاکہنے والے کی یہ بات خود اُسی کی طرف لوٹ جائے گی''۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۵۳میں اِس کے الفاظ یہ ہیں: 'إِنْ قَالَ رَجُلٌ لِأَخِیْہِ: یَا کَافِرُ، وَجَبَ الْکُفْرُ عَلٰی أَحَدِہِمَا' ''اگر کسی نے اپنے (مسلمان)بھائی سے کہا: اے کافر،تو اُس کی یہ بات دونوں میں سے ایک پر لازماً صادق آئے گی''۔

___ ۳ ___

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:۱ ''لاَ یَرْمِيْ رَجُلٌ رَجُلاً بِالْفُسُوْقِ، وَلاَ یَرْمِیْہِ بِالْکُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ، إِنْ لَمْ یَکُنْ صَاحِبُہُ کَذٰلِکَ''.

ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بھی کسی دوسرے پر فسق۱ یا کفر کی تہمت لگائے گا ،اگر وہ ایسا نہیں ہوا تو اُس کی یہ تہمت اُسی پر لوٹ جائے گی۔

_____

۱۔ یعنی خدا کی صریح نافرمانی اور کسی بڑے گناہ کے ارتکاب کی تہمت۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۶۰۴۵سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ جن مصادر میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مسند احمد، رقم۲۱۵۷۱۔ الادب المفرد، بخاری، رقم۴۳۲۔ مسند بزار، رقم ۳۹۱۹۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۵۵۔

یہی مضمون بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۲۱۴۶۵میں اِنھی ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اِن الفاظ میں بھی نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'مَنْ دَعَا رَجُلاً بِالْکُفْرِ، أَوْ قَالَ: عَدُوُّ اللّٰہِ، وَلَیْسَ کَذَاکَ إِلَّا حَارَ عَلَیْہِ'''جس نے کسی شخص کو کافر کہہ کر پکارا یااُسے اللہ کا دشمن کہا اور وہ ایسا نہ ہوا تو اُس کی یہ بات خود اُسی پر لوٹ جائے گی''۔مستخرج ابی عوانہ، رقم ۵۶میں یہ تعبیر بھی نقل ہوئی ہے:'مَنْ رَمٰی رَجُلاً بِالْکُفْرِ أَوْ رَمَاہُ بِالْفِسْقِ وَلَیْسَ کَذٰلِکَ ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ''' جس نے کسی شخص پر کفر یا فسق کی تہمت لگائی اور وہ ایسا نہ ہوا تو اُس کی یہ بات خود اُسی پر لوٹ جائے گی''۔ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اِس دوسرے متن کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم ۲۱۴۶۵۔الادب المفرد، رقم۴۳۳۔ صحیح مسلم، رقم۶۱۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۵۶۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۱۵۳۳۵۔

المصادر والمراجع

ابن الجَعْد، علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي. (۱۴۱۰ھ / ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن عدي، عبد اللّٰہ أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ/۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت۔ لبنان: الکتب العلمیۃ.

أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق، النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.

أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

إسماعیل بن جعفر بن أبي کثیر، أبو إسحاق، الأنصاري، المدني. (۱۴۱۸ھ/۱۹۹۸م). حدیث علي بن حجر السعدي عن إسماعیل بن جعفر المدني. ط۱. دراسۃ وتحقیق: عمر بن رفود بن رفید السّفیاني. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۹م). الأدب المفرد. ط۳. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار البشائر الإسلامیۃ.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.

الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج:حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

الرُّویانی، أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ) المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علی أبو یماني. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسي، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). مسند أبي داؤد الطیالسي. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عبد الرزاق بن ہمام، أبو بکر، الحمیري، الصنعاني. (۱۴۰۳ھ). المصنف. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. الہند: المجلس العلمي.

مالک بن أنس بن مالک بن عامر، الأصبحي، المدني. (۱۴۲۵ھ / ۲۰۰۴م). الموطأ. ط۱. تحقیق: محمد مصطفٰی الأعظمي. أبو ظبي: مؤسسۃ زاید بن سلطان آل نہیان للأعمال الخیریۃ والإنسانیۃ.

المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي. (۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

معمر بن أبي عمرو راشد، الأزدي، البصري. (۱۴۰۳ھ).الجامع. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: توزیع المکتب الإسلامي.

النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________