مسلمانوں کی سیاست کے بنیادی اصول: جناب جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر


[استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی سے یہ سوال اکثر کیا گیا ہے کہ دور حاضر میں مسلمانوں کا سیاسی لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے اور اِس معاملے میں اُنھیں کن چیزوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے؟ اِس سوال کے جواب میں اُنھوں نے مختلف موقعوں پر جو گفتگو فرمائی ہے، زیر نظر مضمون میں اُس کی تفصیل کی گئی ہے۔ توضیح مزید کے لیے اُن کی تحریروں کے کچھ اجزا بھی شامل کیے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضمون مذکورہ سوال پر استاذ گرامی کے نقطۂ نظر کی تفہیم کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ مصنف]

دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمانوں کے سیاسی حالات مختلف ہیں۔ کہیں اُن کی اکثریت ہے اور کہیں وہ اقلیت میں ہیں۔ کہیں عنان حکومت اُن کے ہاتھ میں ہے اور کہیں وہ دوسری اقوام کے زیر نگیں ہیں۔ بعض جگہوں پر اُنھیں آزادی اور خود مختاری حاصل ہے ، بعض علاقوں میں وہ محکوم ہیں اور بعض میں سیاسی ظلم و استبداد اور مذہبی جبر اور پرسیکیوشن (persecution) کا شکار ہیں۔ اِن مختلف سیاسی حالات میں اُن کا لائحۂ عمل ایک دوسرے سے الگ اور مختلف ہو گا اور اُنھیں اُسی کے مطابق اپنے اجتماعی معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ البتہ، چار اصول ایسے ہیں جنھیں مختلف سیاسی لائحہ ہاے عمل میں قدر مشترک کی حیثیت دینا ضروری ہے۔ وہ اگر کسی مسلمان ملک کے شہری ہیں یا کسی غیر مسلم ریاست کے باشندے ہیں یاکسی قوم کے فرد ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے رکن ہیں یا کسی پارلیمان کے نمایندے ہیں یا کسی مملکت کے حکمران ہیں تو اُنھیں اپنی داخلی اور خارجی سیاست میں اِن اصولوں کو لازماً اختیار کرنا چاہیے اور پورے عزم و جزم کے ساتھ اِن کی حمایت کا اعلان کرنا چاہیے۔ سیاست کے دائرے میں اِن اصولوں سے اُن کی وابستگی سیاسی عقائد کے طور پر ہونی چاہیے، بالکل اُسی طرح جیسے وہ مذہب کے دائرے میں مذہبی عقائد سے وابستہ ہوتے ہیں۔

یہ اصول درج ذیل ہیں:

۱۔ انسانی حقوق کا احترام

انسان کا سب سے بنیادی حق فکر و عمل اور جان، مال اور آبرو کی آزادی ہے۔ یہ اُس کا خلقی اور فطری حق ہے۔ باقی تمام حقوق اِسی کا نتیجہ اور اِسی کا ضمیمہ ہیں۔ چنانچہ انسانی معاشرت کے دوام اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اِس کی حفاظت کا اہتمام کیا جائے ۔ اِس کے بغیر نہ کوئی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے ، نہ کوئی نظم اجتماعی وجود میں آ سکتا ہے اور نہ تہذیب و تمدن ترقی کر سکتے ہیں۔ یہ اللہ کا ودیعت کردہ حق ہے جس سے کسی انسان کو محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ لہٰذا کسی فرد، کسی گروہ، کسی حکومت اور کسی ریاست کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اظہار راے پر پابندی لگائے یا جان و مال اور عزت و آبرو کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

''انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ اپنے خالق کے سوا وہ کسی کا محکوم نہیں ہے۔ چنانچہ فرد ہو یا ریاست، کسی کا بھی حق نہیں ہے کہ وہ اُس کے علم و عمل پر کوئی قدغن لگائے یا اُس کے جان و مال اور آبرو کے خلاف کوئی اقدام کرے۔ یہ آزادی انسان کا پیدایشی حق ہے اور اُس کے خالق نے اُسے عطا فرمائی ہے۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور اِسی حقیقت کا اظہار ہے۔ دنیا کی تمام قوموں نے اِسے تسلیم کیا ہے اور اپنے دساتیر میں ضمانت دی ہے کہ وہ اِس کی خلاف ورزی نہیں کریں گی۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ اس آزادی کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت ہے اور وہ کبھی نہیں چاہتا کہ کوئی فرد یا ادارہ یا حکومت اِس کو سلب کرنے کی کوشش کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت بلیغ اسلوب میں اِسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی تھی۔ آپ کا ارشاد ہے:إن دماء کم وأموالکم وأعراضکم بینکم حرام کحرمة یومکم ھٰذا فی شہرکم ھٰذا فی بلدکم ھٰذا.(بخاری، رقم ۶۷)''تمھاری جانیں، تمھارے مال اور تمھاری آبروئیں تمھارے درمیان اُسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمھارے اِس دن (یوم النحر) کی حرمت تمھارے اِس مہینے (ذوالحجہ) میں اور تمھارے اِس شہر (ام القریٰ مکہ) میں''۔'' (مقامات ۲۳۵ - ۲۳۶)

اصل میں دین، مذہب، نظریہ ، فکر، خیال اور نقطۂ نظر کی آزادی اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر مطلوب ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمایش کے لیے بنائی ہے اور اِس مقصد کے لیے اُسے ارادہ و اختیار کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ اِس کا لازمی تقاضا ہے کہ انسانوں کو نظریات کے ترک و اختیار کی مکمل آزادی ملنی چاہیے۔ چنانچہ یہ آزادی اللہ کی اسکیم کا جزو لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے مذہبی اور نظری جبر کے خلاف جارحیت کو فتنے (persecution) سے تعبیر کیا ہے ، اُسے قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے اور اُس کے استیصال اورخاتمے کے لیے جہاد وقتال تک کی اجازت دی ہے[1]۔

اِسی طرح انسانی جان کے قتل کو اُس نے پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے [2]اور کسی تخصیص اور تفریق کے بغیر اُس کے لیے موت کی سزا مقرر کی ہے[3]۔ مال اور عزت و آبرو کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہاتھ کاٹنے[4]اور کوڑوں کی تادیب ہے[5]۔اِن حقوق کے خلاف اگر تعدی بدترین شکل اختیار کر لے اور قتل، دہشت گردی میں ، زنا ، زنا بالجبر اور چوری، ڈاکے میں تبدیل ہو جائے تو اُسے اللہ اور رسول کے خلاف جنگ اور فساد فی الارض سے تعبیر کیا ہے اور اُس کے لیے عبرت ناک سزائیں دینے کی ہدایت فرمائی ہے[6]۔ اِن سزاؤں کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کے حقوق کو تلف کرنے سے باز رہیں اور دنیا ظلم و عدوان کے بجاے امن و آشتی کے راستے پر گام زن ہو۔

اِس اصول کو مسلمانوں کو اپنے علم و عمل میں اختیار کرنا چاہیے اور اِس مقصد کے لیے درج ذیل چیزوں کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہیے:

۱۔ مسلمانوں کو اِن بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ اپنے گھر میں، خاندان میں،معاشرے میں، ریاست میں اور دنیا بھر میں اِن حقوق کا علم بلند کرنا چاہیے۔

۲۔ اُنھیں اِس معاملے میں کسی نسلی تعصب کو ، کسی قومی مفاد کو، کسی مذہبی حمیت کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے۔ اگر کوئی کالا یا گورا، کوئی عربی یا عجمی ،کوئی ہندو یا سکھ ، کوئی یہودی یا عیسائی کسی نسلی تعصب ، کسی قومی عصبیت، کسی مذہبی جبر کا شکار ہے تو پورے دل و جان کے ساتھ اُس کو اُس سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

۳۔ اُنھیں اپنے قومی تصورات کا جائزہ لے کر یہ دیکھنا چاہیے کہ قومی حمیت اور غداری اور ملک دشمنی کے خیالات کی بنیادی انسانی حقوق کے تناظر میں کس قدر گنجایش ہے اور کس قدر نہیں ہے۔

۴۔ اپنے مذہبی نظریات پر از سر نوغور کر کے یہ جاننا چاہیے کہ مثال کے طور پر تکفیر، ارتداد ، خلافت اور غلبۂ دین کی جدو جہد کے نقطہ ہاے نظر کے بارے میں قرآن و سنت کا مطمح نظر کیا ہے۔

۲۔ جمہوریت

جمہوریت کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے نظم اجتماعی کے تمام معاملات اُن کے آپس کے مشورے سے طے ہوں ۔ حکومت اُن کی راے سے قائم ہو اور اُن کی راے سے ختم ہو ۔ نظم و نسق اُن کے مشورے سے وجود میں آئے اور مشورے سے تبدیل ہو ۔ آئین اور قانون سازی میں اُنھی کی راے کو حاکمیت حاصل ہو ۔داخلی اور خارجی پالیسیاں انھی کے منشا کے مطابق تشکیل دی جائیں۔ گویا قومی اور بین الاقوامی سطح کے تمام سیاسی معاملات میں اُنھی کی راے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔

جمہوریت کا یہ طریقۂ کار قرآن مجید کے حکم کے عین مطابق ہے۔ سورۂ شوریٰ میں ارشاد فرمایا ہے:

وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ.(۴۲: ۳۸) ''اور اُن کا نظام اُن کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔''

یہ قرآن مجید کی صریح نص ہے۔اِس کے اسلوب سے واضح ہے کہ یہ مشورے کے اختیار یا لزوم کو بیان نہیں کر رہی، بلکہ اُس کو اساس بنا رہی ہے۔ لہٰذا اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشاورت ایک بہتر حکمت عملی ہے جس کا حکمرانوں کو اہتمام کرنا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا سیاسی نظام منحصر ہی اُن کی مشاورت پر ہے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اِس آیت کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اسلام کے قانون سیاست میں نظم حکومت کی اساس یہی تین لفظوں کا جملہ ہے جو اپنے اندر جہان معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ اِس کا اسلوب سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۱۵۹سے مختلف ہے جہاں 'شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ' (نظم اجتماعی کے معاملے میں اُن سے مشورہ لیتے رہو) کے الفاظ آئے ہیں۔یہاں اس کے بجاے 'اَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ' کا اسلوب ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی نظام کی عمارت مشورے ہی کی بنیاد پر قائم ہے۔ اُن کے نزدیک اسلوب بیان کی اِس تبدیلی کا تقاضا ہے کہ:

''... امیر کی امارت مشورے کے ذریعے سے منعقد ہو ۔ نظام مشورے ہی سے وجود میں آئے۔ مشورہ دینے میں سب کے حقوق برابر ہوں ۔ جو کچھ مشورے سے بنے ،وہ مشورے سے توڑا بھی جا سکے ۔جس چیز کو وجود میں لانے کے لیے مشورہ لیا جائے ، ہر شخص کی راے اُس کے وجود کا جز بنے۔ اجماع و اتفاق سے فیصلہ نہ ہو سکے تو فصل نزاعات کے لیے اکثریت کی راے قبول کر لی جائے۔'' (میزان ۴۹۶)

جمہوریت کے اِس اصول کے چند ناگزیر تقاضے یہ ہیں:

۱۔ حکومت کے قیام و دوام کا انحصار عوام کی راے پر ہو نا چاہیے۔ وہی شخص یا گروہ حکومت چلائے جسے عوام اِس ذمہ داری پر فائز کریں۔کسی کو یہ حق حاصل نہ ہوکہ وہ مذہبی تقدس، علمی تفوق، موروثی نسبت، عوامی خدمت، شخصی صلاحیت یا اِس طرح کے کسی اور وصف کو بنیاد بنا کرمسلمانوں پر اپنا تسلط قائم کرے۔

۲۔ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے تمام ادارے مسلمانوں کی اجتماعیت کے تابع ہوں۔ ریاست کے لیے کیا دستور ہونا چاہیے اور اُسے کن اصولوں پر استوار کرنا چاہیے ، اِس کی تجاویز تو ماہرین ہی ترتیب دیں، مگر ترک و اختیار اور ترمیم و اضافے کا فیصلہ عوام کریں۔ ہر انفرادی اور اجتماعی معاملے میں قرآن و سنت کی بالا دستی تسلیم کرنا ایمان و اسلام کا لازمی تقاضا ہے،لیکن اِن کی تفسیر و تاویل میں کس مفسر، کس محدث،کس فقیہ کی راے کو قانون کا درجہ حاصل ہونا چاہیے، اِس کا فیصلہ بھی عامۃ المسلمین کی صواب دید پر منحصر ہو۔

۳۔ ریاست کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے بھی عوام الناس کے رجحان کی پیروی کی جائے۔ تعلیم، صحت ، روزگار اور رفاہ عامہ کے معاملے میں ترجیحات کا تعین اُن کے میلانات کے مطابق ہو۔ اِسی طرح دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات اُنھی کے منشا کے مطابق استوار کیے جائیں اور بین الاقوامی معاملات میں اُنھی کے تصورات کو رو بہ عمل کیا جائے۔

۴۔ تمام لوگوں کو مشاورت اور راے دہی کے مساوی حقوق حاصل ہوں۔ مشاورت میں اگر اُن کی براہ راست شمولیت ممکن نہ ہو تو وہ اپنے نمایندوں کے ذریعے سے یہ حق استعمال کریں ۔ مزید برآں، اگر کسی معاملے میں اُن کے مابین اتفاق راے قائم نہ ہو تو کثرت راے سے فیصلہ کیا جائے۔

۵۔ مسلمان اپنی قومی حیثیت میں اگر کوئی غلط فیصلہ کریں تو ارباب اقتدار اور اہل دانش پوری دردمندی کے ساتھ اُنھیں سمجھائیں اور ہر طریقے سے اُن کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ لیکن اِس سے آگے بڑھ کر اُنھیں بزور قوت روکنے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہو نا چاہیے۔

یہی 'اَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ' کا تقاضا ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ آمرانہ اور استبدادی نظام اِس کا متضاد ہے ، لہٰذا اسلام کے قانون سیاست میں اُس کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ چنانچہ استاذ گرامی نے لکھا ہے:

''... آمریت کسی خاندان کی ہو یا کسی طبقے، گروہ یا قومی ادارے کی، کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جاسکتی، یہاں تک کہ نظم اجتماعی سے متعلق دینی احکام کی تعبیر و تشریح کے لیے دینی علوم کے ماہرین کی بھی نہیں۔ وہ یہ حق یقیناً رکھتے ہیں کہ اپنی تشریحات پیش کریں اور اپنی آرا کا اظہار کریں، مگر اُن کے موقف کو لوگوں کے لیے واجب الاطاعت قانون کی حیثیت اُسی وقت حاصل ہو گی، جب عوام کے منتخب نمایندوں کی اکثریت اُسے قبول کر لے گی۔ جدید ریاست میں پارلیمان کا ادارہ اِسی مقصد سے قائم کیا جاتا ہے۔ ریاست کے نظام میں آخری فیصلہ اُسی کا ہے اور اُسی کا ہونا چاہیے۔ لوگوں کا حق ہے کہ پارلیمان کے فیصلوں پر تنقید کریں اور اُن کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرتے رہیں، لیکن اُن کی خلاف ورزی اور اُن سے بغاوت کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ علما ہوں یا ریاست کی عدلیہ، پارلیمان سے کوئی بالاتر نہیں ہو سکتا۔ 'اَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ' کا اصول ہر فرد اور ادارے کو پابند کرتا ہے کہ پارلیمان کے فیصلوں سے اختلاف کے باوجود وہ عملاً اُس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔''(مقامات ۲۰۳ - ۲۰۴)

۳۔ حق خود ارادی

حق خود ارادی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی خطۂ ارض کے لوگ زبان، نسل،علاقے، ثقافت، مذہب یا کسی اور اشتراک کی بنا پراپنے منفرد قومی تشخص کا مطالبہ کریں تو اُنھیں ایک قوم کے طور پر قبول کیا جائے۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ اپنے سیاسی فیصلوں میں خود مختار ہیں۔چنانچہ اگر وہ چاہیں تو اپنی ریاست سے علیحدگی اختیار کرسکیں ، کسی دوسری ریاست سے الحاق کر سکیں یا اپنی الگ ریاست قائم کر سکیں ۔

اِن اصولوں کو اب عالمی مسلمات کی حیثیت حاصل ہے۔ عملی طور پر اگرچہ بہت پیش رفت نہیں ہوئی ، لیکن فکری لحاظ سے یہ بات مان لی گئی ہے کہ حاکم اور محکوم کا تعلق ختم ہو چکا ہے۔ اب جو حکومتیں قائم ہوں گی، وہ جمہوری اصول پر چلیں گی اور اگر کسی جگہ کوئی قوم حق خودارادی کا مطالبہ کرے گی تو استصواب راے کے ذریعے سے اُس کے منشاکو نافذ کر دیا جائے گا۔کشمیر کا مسئلہ ہو، فلسطین کا ہو،آئر لینڈ کا ہو، ہر مسئلے کو اُس تبدیلی کی روشنی میں دیکھنا چاہیے جو اِس وقت دنیا میں آ چکی ہے۔ اِس معاملے میں فیصلے کی بنیادکسی تاریخی پس منظر یا قانونی شہادت کو بنانے کے بجاے اِس سوال کو بنانا چاہیے کہ کیا اُس خطۂ ارض کے لوگ اپنا حق خود ارادی استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ اِس کا جواب اگر اثبات میں ہے تو پھر اُن کا یہ حق ہے کہ اُنھیں جمہوری طریقے سے اپنا سیاسی فیصلہ خودکرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

اِس حوالے سے مسلمانوں کو اِن چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے:

۱۔ یہ ماننا چاہیے کہ حق خود ارادی انسانوں کا بنیادی حق ہے۔ یہ وہ حق ہے جو انسانوں کو اُن کی پیدایش کے ساتھ ہی حاصل ہو جاتا ہے۔ اِس حق کو اب انسانیت کے اجتماعی ضمیر نے تسلیم کر لیا ہے۔ لہٰذا اِس معاملے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجاے بھرپور اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے۔

۲۔ دنیا میں اگر کسی جگہ پر اِس کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو اُس کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہیے۔

۳۔ اقوام عالم کو اِس بات کا ادراک کرانا چاہیے کہ حق خود ارادی کے معاملے میں عالمی ضمیر دو اقدار کے باہمی تصادم کا شکار ہے: ایک جانب وہ قوموں کے حق خود ارادی کا علم بردار ہے اور دوسری جانب اُن کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو تسلیم کرتا ہے ۔یہ دونوں اقدار باہم متضاد ہیں۔ اِنھیں بہ یک وقت قبول کرنے سے فکری تضاد جنم لیتا ہے اور حق خود ارادی کی پرزور حمایت ممکن نہیں رہتی۔

۴۔ اقوام متحدہ کو اِس پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ ایسا طریقۂ کار وضع کرے کہ جس کے نتیجے میں نہ کسی قوم کو اپنا حق مانگنے میں کوئی رکاوٹ پیش آئے اور نہ اقوام عالم کو اُس کی حمایت میں کوئی تردد لاحق ہو۔یعنی اگر قومیت کے معیار پر پوری اترنے والی کوئی قوم کسی ملک سے علیحدگی، کسی ملک سے الحاق یا اپنی آزادی و خود مختاری کا تقاضا کرے تو اُسے رو بہ عمل کرنے کے لیے باقاعدہ نظام موجود ہو ۔ مطالبے سے لے کر استصواب تک اور استصواب سے لے کر نتائج کے نفاذ تک ایک معلوم اور متعین لائحۂ عمل ہو۔

۵۔ آپ کے نظم سے وابستہ اگر کوئی قوم خود آپ سے علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے تو پوری فراخ دلی اور مکمل انصاف کے ساتھ اُس کے مطالبے کو تسلیم کرنا چاہیے۔ کسی منفی یا مثبت جذبے، کسی حمیت اور کسی تعصب کو اِس معاملے میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

۴۔ قانون کی پابندی

اِس سے مراد یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی، دونوں سطحوں پر نظم اجتماعی کی بالادستی کو قبول کیا جائے۔ اُس کے حکمرانوں کی اطاعت کی جائے، اُس کے ارباب حل و عقد کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے، اُس کے اداروں کا احترام کیا جائے، اُس کے قوانین کی پابندی کی جائے اور کسی سرکشی، کسی حکم عدولی، کسی بغاوت، کسی توہین، کسی انحراف کو راہ نہ دی جائے۔ قرآن مجید میں اِسے اللہ کی اطاعت ، رسول کی اطاعت اور اولوالامر کی اطاعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْ٘ا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْﵐ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَي اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِﵧ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا.(النساء ۴: ۵۹) ''ایمان والو، (یہ خدا کی بادشاہی ہے، اِس میں) اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن کی بھی جو تم میں سے معاملات کے ذمہ دار بنائے جائیں۔ پھر اگر کسی معاملے میں تمھارا اختلاف راے ہو تو (فیصلے کے لیے) اُسے اللہ اور اُس کے رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے۔''

اولوالامر ، یعنی حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور رسول کی اطاعت کے تحت ہے اور اُنھی کے حکم کی پیروی میں ہے۔اِس اطاعت کے دو بنیادی لوازم ہیں: ایک یہ کہ مسلمان اپنے نظم اجتماعی کے ساتھ وابستگی اختیار کریں اور دوسرے یہ کہ اُنھیں ریاستی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی چیز کے لیے 'الجماعة' اور 'السلطان' اور دوسری کے لیے 'السمع و الطاعة' کی تعبیرات اختیار کی ہیں۔ استاذ گرامی نے اِن دونوں لوازم کی وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے:

''اول یہ کہ اُن کے تحت جو نظم ریاست قائم کیا جائے ،مسلمانوں کو اُس سے پوری طرح وابستہ رہنا چاہیے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس نظم کو 'الجماعة'اور 'السلطان'سے تعبیر کیا ہے اور اِس کے بارے میں ہر مسلمان کو پابند کیا ہے کہ اِس سے کسی حال میں الگ نہ ہو ، یہاں تک کہ اِس سے نکلنے کو آپ نے اسلام سے نکلنے کے مترادف قرار دیا اور فرمایا کہ کوئی مسلمان اگر اِس سے الگ ہو کر مرا تو جاہلیت کی موت مرے گا ۔ آپ کا ارشاد ہے :من راٰی من أمیره شیئًا یکرھه فلیصبر علیه، فإنه من فارق من الجماعة شبرًا فمات إلا مات میتة جاھلیة.(بخاری، رقم ۷۰۵۴) ''جس نے اپنے حکمران کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات دیکھی، اُسے چاہیے کہ اُس پر صبر کرے،کیونکہ جو ایک بالشت کے برابر بھی مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے الگ ہوا اور اِسی حالت میں مر گیا ، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔'' یہی روایت ایک دوسرے طریق میں اِس طرح آئی ہے : من کرہ من أمیره شیئًا فلیصبر، فإنه من خرج من السلطان شبرًا مات میتة جاھلیة.(بخاری، رقم ۷۰۵۳) ''جسے حکمران کی کوئی بات ناگوار گزرے ، اُسے صبر کرنا چاہیے ،کیونکہ جو ایک بالشت کے برابر بھی اقتدار کی اطاعت سے نکلا اور اِسی حالت میں مر گیا ، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔'' سیاسی خلفشار اور فتنہ و فساد کے زمانے میں بھی آپ کی ہدایت ہے کہ کسی مسلمان کو نظم اجتماعی کے خلاف کسی اقدام میں نہ صرف یہ کہ شریک نہیں ہونا چاہیے ،بلکہ پوری وفاداری کے ساتھ اُس سے وابستہ رہنا چاہیے۔ امام مسلم کی ایک روایت میں سیدنا حذیفہ کے لیے آپ کا یہ ارشاد کہ:'تلزم جماعة المسلمین وإمامھم'، ''اِس طرح کی صورت حال میں تم مسلمانوں کے نظم اجتماعی اور اُن کے حکمران سے وابستہ رہو گے'' (بخاری، رقم ۳۶۰۶۔ مسلم، رقم ۴۷۸۴)، ریاست سے متعلق دین کے اِسی منشا پر دلالت کرتا ہے ۔ دوم یہ کہ وہ قانون کے پابند رہیں ۔جو حکم دیا جائے،اُس سے گریز و فرار کے بجاے اُسے پوری توجہ سے سنیں اور مانیں۔ کوئی اختلاف ،کوئی ناپسندیدگی ،کوئی عصبیت اورکسی نوعیت کا کوئی ذہنی تحفظ بھی قانون سے انحراف کا باعث نہیں بننا چاہیے ،الاّ یہ کہ خدا کی معصیت میں کوئی قانون بنایا جائے ۔ ارشاد فرمایا ہے : علیک السمع والطاعة في عسرک ویسرک ومنشطک ومکرھک وأثرة علیک.(مسلم ، رقم ۴۷۵۴) ''تم پر لازم ہے کہ اپنے حکمرانوں کے ساتھ سمع و طاعت کا رویہ اختیار کرو ،چاہے تم تنگی میں ہو یا آسانی میں اور چاہے یہ رضا و رغبت کے ساتھ ہو یا بے دلی کے ساتھ اور اِس کے باوجود کہ تم پر کسی کو ناحق ترجیح دی جائے۔''علی المرء المسلم السمع والطاعة فیما أحب وکره إلا أن یؤمر بمعصیة، فإن أمر بمعصیة فلا سمع ولاطاعة.(مسلم، رقم ۴۷۶۳) '' مسلمان پر لازم ہے کہ خواہ اُسے پسند ہو یا ناپسند ، وہ ہر حال میں اپنے حکمران کی بات سنے اور مانے ، سواے اِس کے کہ اُسے کسی معصیت کا حکم دیا جائے ۔ پھر اگر معصیت کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نہ سنے گا اور نہ مانے گا۔'' اسمعوا وأطیعوا وإن استعمل علیکم عبد حبشي کأن رأسه زبیبة.(بخاری، رقم ۷۱۴۲) ''سنو اور مانو ،اگرچہ تمھارے اوپر کسی حبشی غلام کو حکمران بنا دیا جائے جس کا سر منقا جیسا ہو۔'' (میزان، ۴۸۶ - ۴۸۷)

مسلمانوں کے لیےقانون کی پابندی کے اِس اصول پر عمل پیرا ہونے کے لیے درج ذیل چیزوں کا التزام ضروری ہے:

۱۔ وہ اُس ملک کے قانون کی پابندی کریں جس میں وہ مقیم ہیں۔ قطع نظر اِس کے کہ اُس میں مسلمانوں کی حکومت ہے یا غیر مسلموں کی۔

۲۔ اگر اُنھیں ملکی قوانین سے اختلاف ہے تو اُن کی پابندی کرتے ہوئے شایستگی اور استدلال کے ساتھ اپنے اختلاف کا اظہار کریں۔

۳۔ اگر کسی ملک کے قوانین اُن کے لیے اُن کے دین پر عمل پیرا ہونے یا ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے میں رکاوٹ ہوں تو راے عامہ کو ہموار کرنے اور نظم حکومت میں تبدیلی کے لیےصرف اور صرف جمہوری طریقے اختیار کریں۔

۴۔ شریعت کے قوانین کی روح کو بھی سمجھیں اور ریاستی قوانین کا بھی مکمل فہم حاصل کریں اور اُن معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے سے اجتناب کریں جنھیں شریعت یا ریاست نے کسی اور مثلاً پارلیمان، حکومت یا عدالت کو سونپ رکھا ہے۔

۵۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی پابندی کریں۔

۶۔ دنیا میں قانون کی حکمرانی کا علم بلند کریں۔

___________

[1]۔ البقرہ ۲: ۱۹۔

[2]۔ المائدہ ۵: ۴۵۔

[3]۔ البقرہ ۲: ۱۸۷۔

[4]۔ المائدہ ۵: ۳۸۔

[5]۔ النور ۲۴: ۲۔

[6]۔ المائدہ ۵: ۳۳ - ۳۴۔