متفرق سوالات (۱)


جاوید احمد غامدی / محمدراشد

۹ فروری ۲۰۰۱ اور ۲ مارچ ۲۰۰۱ کو مدیرِ 'اشراق'' نے لاہور میں اپنے ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد مختلف سوالات کے جوابات دیے ۔ ذیل میں چند سوالات و جوابات کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے ۔ اسے محمد راشد صاحب نے مرتب کیا ہے ۔ (ادارہ)

بت شکنی

سوال: اسلام میں ہے کہ کسی کے دین کو برا نہیں کہنا چاہیے ۔ میں امریکہ میں تھا وہاں ایک مسلمان سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ پھر محمود غزنوی نے دہلی پر ۱۷ بار حملہ کر کے ان کے مندر کیوں لوٹے ۔ پھر اس نے کہا کہ حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑ کر بت پرستوں کا دل کیوں دکھایا ۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟

جواب: دیکھیے ،ہر بات کا ایک موقع و محل ہوتا ہے ۔ ''برا نہیں کہنا چاہیے '' کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کو گالیاں نہ دیں ۔ سب و شتم نہ کریں ۔ اپنی زبان پر لغویات نہ آنے دیں ۔ ایک برا کہنا یہ ہے کہ آپ یہ بتاتے ہیں کہ بت پرستی ایک بہت بڑا گناہ ہے یا یہ چیز شرک ہے تو یہ برا کہنا نہیں ہے ، بلکہ یہ حقیقت کا ادراک کرانا ہے۔ یہ بات تو دعوت دینے والا ، تبلیغ کرنے والا ، تعلیم دینے والا کہے گا ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بت توڑے تو انھوں نے دراصل اپنی بت پرست قوم کو ان کی بیوقوفی اور حماقت پر متنبہ کرنے کے لیے ایک طریقہ اختیار کیا ، پھر انھوں نے ایک قبائلی معاشرت میں یہ طریقہ اختیار کیا ،قرآنِ مجید میں آپ اس کی تفصیل پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ طریقہ بڑا موثر ہو گیا ۔ جہاں تک محمود غزنوی کا تعلق ہے تو وہ جو کرتے رہے ہیں ، اس کی کوئی ذمہ داری اسلام پر عائد ہوتی ہے اور نہ اس کے لیے اسلام کو مسؤل ٹھیرانا چاہیے ۔

________

بارش کا نہ ہونا

سوال: بارش نہ ہونے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟

جواب: بارش اللہ کی رحمت ہے ، جس پر انسانی زندگی منحصر ہے ۔ پھل ، پھول ، اناج اسی سے پروان چڑھتے ہیں اور فضا میں موجود کثافتیں اور بیماریاں اسی سے دور ہو تی ہیں ۔

قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب یہ رحمت روک لیتے ہیں تو اصل میں یہ لوگوں کے گناہوں کی سزا ہوتی ہے ۔ ایسے موقعوں پر اللہ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے ۔ اس معاملے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے ۔ جب کبھی ان کے دورِ حکومت میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی تو وہ باہر نکلے اور دعا فرمائی : اے پروردگار، ہم کو معاف کر دے ۔

لہٰذا ہمیں بھی اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے ۔ اور اس کے بعد امید کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں گے اور اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے ۔

________

فتویٰ پر پابندی

سوال: ایک عالمِ دین کے فتویٰ دینے پر تنقید کیوں کی جاتی ہے ، حالانکہ فتوے کا لفظ رائے کے مفہوم میں بھی بولا جاتا ہے ؟

جواب: فتوی کے دو پہلو ہیں : ایک چیز تو یہ ہے کہ آپ دین کی کوئی بات پوچھتے ہیں : مثلاً آپ یہ پوچھتے ہیں کہ دین میں طلاق دینے کا کیا طریقہ ہے یا آپ یہ پوچھتے ہیں کہ شرک کیا ہوتا ہے ۔ تو یہ بات عالمِ دین ہی بتائے گا ۔ آپ اسی سے پوچھیں گے ، حتیٰ کہ ریاست کو بھی اگر یہ مسئلہ درپیش ہو تو وہ عالمِ دین ہی سے پوچھے گی اور ایک عالمِ دین ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دین کے کسی معاملے میں اپنی رائے دے ۔ اس کے اس حق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

ایک چیز یہ کہ آپ محض رائے نہیں پوچھ رہے ، بلکہ کسی دوسرے آدمی پر اس رائے کا اطلاق کر رہے ہیں۔ یعنی آپ یہ بات پوچھتے ہیں کہ اس مردو عورت میں طلاق ہو گئی یا نہیں ؟ یا آپ یہ بات پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص مشرک ہو گیا یا نہیں ؟ تو اس معاملے میں کسی عالم کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنا نقطہء نظر بیان کرے ۔ یعنی قانون نافذ کرنے کا کام علما نہیں کریں گے ۔ ایسے معاملات کو بہرحال عدالت کے پاس جانا ہے اور عدالت ہی کو ایسے معاملات کا فیصلہ کرنا ہے ۔ البتہ نکاح و طلاق کے معاملے میں اگر عالمِ دین کو باقاعدہ ثالث بنایا جائے تو وہ طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دے سکتا ہے ۔

________

زوالِ امت کا سبب

سوال: اس امت کے زوال کا حقیقی سبب کیا ہے ؟ موجودہ حالات میں ایک عام آدمی کو حکومت اور اپنے معاشرے میں کیسار ویہ اختیار کرنا چاہیے ، جبکہ حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں ؟

جواب: امتِ مسلمہ کے زوال کے سبب دو ہیں : ایک یہ کہ اس کا علم و عمل پچھلے ایک ہزا رسال سے بتدریج قرآنِ مجید سے غیر متعلق ہو گیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ امت میں جو لوگ ذہین تھے ، جن کو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی علمی صلاحیتیں دی تھیں ، وہ بجائے اس کے کہ سائنسی علوم کو اپنا موضوع بناتے، انھوں نے فلسفے اور تصوف کو اپنا موضوع بنایا ۔ اور یہ دونوں ہی بے معنی چیزیں تھیں۔ حقیقت میں یہی امت کے زوال کا سبب ہے ۔

آج اس امت کی حالت بہتر کرنی ہے تو دو کام کرنے ہوں گے : ایک یہ کہ امت کو قرآنِ مجید کے معاملے میں ایجوکیٹ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ ہمارے علم و عمل پر قرآنِ مجید کی حکومت قائم ہو جائے ۔ دوسرے یہ کہ امتِ مسلمہ کو دنیوی علوم اور خاص طور پر سائنسی علوم کے حصول کی ترغیب دی جائے ۔ اصل میں انھی امور سے غفلت برتی گئی تو ہماری امت پر زوال آیا ہے اور انھی امور کی جانب توجہ کی جائے گی تو ان شاء اللہ بہتری ہو گی ۔

________

دعوت میں حکمت

سوال: میری بیوی کے ناخن بہت لمبے ہیں ۔ میں نے کئی مرتبہ ان سے کہا کہ ان کو کاٹ دو ، لیکن وہ کہتی ہے کہ تم مجھے چھوڑ دو ، لیکن میں ناخن ہر گز نہیں کاٹوں گی ؟

جواب: دیکھیے یہ بات صحیح ہے کہ بڑے ناخن رکھنا دین و شریعت میں جائز نہیں ہے ۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے ، لیکن ایک غلط کام ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کوئی سخت رویہ اختیار کریں ۔ آپ اپنی بات سلیقے کے ساتھ ، محبت کے ساتھ کہتے رہیں ۔ یہ رویہ مناسب نہیں ہے کہ آپ ہر وقت یہی بات کرتے رہیں ، جب موزوں موقع دیکھیں ، تب بات کریں ۔ اگر محسوس ہو کہ اس طرح سے بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو ان کے اندر دین کا عام ذوق پیدا کیجیے ۔ انھیں قرآن سے متعلق کیجیے ۔ پیغمبر سے متعلق کیجیے ۔ پھر آپ سے آپ دین کے اثرات ہوں گے ۔

ایک بات بہت اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ہمارے ہاں لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جہاں غلطی ہو رہی ہے ، اسے براہِ راست نشانہ بنایا جائے ، جبکہ انسان کی نفسیات ایسی ہے کہ بعض اوقات یہ چیز منفی اثرات پیدا کرتی ہے ۔ لہٰذا اس وقت آپ اصلاح کا بالواسطہ طریقہ اختیار کریں ۔ اپنے مخاطب کا ذوق ، مزاج اور اس کے رجحانات کو بدلنے کی کوشش کریں ۔ اس کے بعد یہ خامیاں آپ سے آپ درست ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے دعوت کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ حکمت و دانائی اور دانش مندی کے ساتھ بات کریں۔ اپنی اہلیہ کے ساتھ صحیح رویہ اختیار کر کے اس کے لیے اصلاح کے مواقع پیدا کریں ۔

________

دفاع میں جہاد

سوال: کیا یہ درست ہے کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب جہاد کے خلاف ہیں ؟ آپ کا اس بارے میں کیا نقطہء نظر ہے ؟

جواب: جہاد کے بارے میں مولانا کا ایک نقطہء نظر یہ ہے کہ جہاد صرف دفاع کے لیے ہوتا ہے ، اپنے اس نقطہء نظر کے حق میں انھوں نے دلائل دیے ہیں ، انھیں پڑھ لیجیے ، ہو سکتا ہے کہ آپ کا اطمینان ہو جائے ۔ میرا ان کے استدلال پر اطمینان نہیں ہو سکا ۔

اس حوالے سے میرا نقطہء نظر یہ ہے کہ دفاع کے لیے جنگ سرے سے دین کا موضوع ہی نہیں ہے۔ یہ تو فطرت کا تقاضا ہے ۔ جب کوئی آدمی مجھ پر چڑھ دوڑے گا تو میرا یہ فطری حق ہے کہ میں اپنا دفاع کروں ۔ اس معاملے میں دین و شریعت کو کوئی حکم دینے کی ضرورت ہی نہیں ۔

دین میں تو ظلم و عدوان کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جب کہیں انسانوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہو ، ان پر زیادتی کی جا رہی ہو ، اور خاص طور پر انھیں دین پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہو،دین پر عمل کرنا ان کے لیے جان جوکھم کاکام بنا دیا گیا ہو تو یہ فتنہ ہے ، اس فتنے کے استیصال کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور یہ دفاع کے طریقے پر بھی ہو سکتا ہے اور کسی پر حملہ کر کے بھی ہو سکتا ہے ۔

________

لباس اور شریعت

سوال: لباس میں دین و شریعت کے اعتبار سے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ، کیا پینٹ شرٹ پہننا جائز ہے ؟

جواب: لباس ہر شخص اپنے معاشرے اور علاقے کے اعتبار سے پہنتا ہے ۔ لباس کے معاملے میں صرف اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ لباس باوقار اور باحیا ہو۔ آپ پتلون پہنیں ، شلوار پہنیں، تہمت باندھیں یا کوئی اور لباس پہنیں ، اس کو باحیا ہونا چاہیے ۔ یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حیااسلام کی اقدار میں بہت بڑی قدر ہے۔

____________