متفرق سوالات


ترتیب: محمد بلال

[''یہ ان سوالوں کے جوابات ہیں جو غامدی صاحب نے ''دنیا'' ٹیلیوژن کے پروگرام''دین و دانش''میں دیے ہیں۔انھیں محمد بلال نے ضروری ترمیم و اضافہ کے ساتھ مرتب کیا ہے۔'']

اسلام ہی کیوں؟

سوال: دنیا میں بہت سے مذاہب پائے جاتے ہیں۔ کیا یہ سبھی مذاہب صحیح ہیں یا ان میں سے کوئی ایک مذہب اور اگر صحیح مذہب اسلام ہے تو وہ کیسے؟

جواب: اس سوال کو قرآن مجید نے سورۂ آل عمران میں موضوع بنایا ہے۔ اور اس میں مذہب کی تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اللہ کے نزدیک کبھی دو دین نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیا علیہم السلام بھی آئے ہیں، ان سب کو ہم نے ایک ہی دین دیا تھا۔ اور وہ دین یہ تھا کہ تم خدا کے بندے بن کر رہو۔ اور اس دین کا نام اسلام ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ' إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَمُ' (آل عمران ۳:۱۹)(اللہ کے ہاں صحیح دین اسلام ہے)۔اسلام کا مطلب ہے: اپنے آپ کو پروردگار کی رضا کے سپرد کر دینا۔ یہ بڑا ہی خوب صورت لفظ ہے جواللہ نے اپنے دین کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس کی حقیقت کو قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں واضح کیا ہے۔ جب ان سے یہ کہا گیا کہ ' اَسْلِمْ' ، آپ اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے حوالے کر دیجیے۔ انھوں نے کہا کہ 'أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔' (البقرۃ۲:۱۳۱) میں نے اپنے آپ کو جہانوں کے پروردگار کے حوالے کر دیا۔ اس حوالگی اور سپردگی کو اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس بات کا اقرار کہ میرا ایک پروردگار ہے، میں اس کا بندہ ہوں اور اس دنیا میں میری حیثیت کسی ایسی مخلوق کی نہیں ہے کہ جو آپ سے آپ وجود پذیر ہو گئی ہے، بلکہ میرے خالق نے مجھے وجود بخشا ہے اور میں اپنے وجود،اپنی زندگی اور موت اوراپنے احوال و مقامات کے لیے بھی اس کے حضور ہی میں جواب دہ ہوں اور اس کی رضا کا مرہون منت ہوں۔ اس بنیادی حقیقت کو مان لینے کے بعد میرا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق پیدا ہوتا ہے، وہ یہی ہے کہ میں اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دوں، اپنی بندگی کا اعتراف کر لوں۔ قرآن مجید نے جب یہ کہا کہ: 'وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ' (الذاریات۵۱:۵۶) تو اسی بنیادی حقیقت کو بیان کیا کہ جن او رانسان اسی لیے وجود پذیر ہوئے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے بن کر رہیں۔ یعنی علم اور عمل دونوں میں اس اعتراف کے ساتھ جئیں کہ ہم اس زمین کے اوپر کسی خالق کی مخلوق ہیں،کوئی ہمارا پروردگار ہے اور ہمیں دنیا میں اس کابندہ بن کر رہنا ہے۔ خدا کا بندہ بن کر رہنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے، وہ دین کی تفصیلات ہیں۔

اسلام کا آغاز

سوال: اسلام کے بارے میں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا آغاز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ہے ۔ جبکہ آپ یہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کا دین اسلام ہی تھا۔ آپ کی بات کی دلیل کیا ہے؟ میرے علم تو ہے کہ قرآن میں ایک جگہ آیا ہے کہ ابراہیم ہی نے تمھارا نام مسلم رکھا۔اس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم سے اس نام کی ابتدا ہوئی ، لیکن یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آدم علیہ السلام سے اس نام کا آغاز ہوا۔

جواب: لوگ یہ بات قرآن مجید اور انبیا علیہم السلام سے ناواقفیت کی بنیاد پر کہتے ہیں۔ اسلام کی ابتدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی ہے۔ اسلام کی ابتدا سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ اور جس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ ابراہیم ہی نے تمھارا نام مسلم رکھا ، تو اس آیت میں بنی اسماعیل مخاطب ہیں۔ بنی اسماعیل کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ تم نے اپنے لیے جومشرکانہ مذہب ایجاد کر لیا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ تمھارے باپ نے جب تمھیں اس بات کی نصیحت کی کہ تم نے اللہ کا بندہ بن کر رہنا ہے تو یہی نام تمھارے لیے پسند کیا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے پہلے ماننے والوں کا کوئی اور نام تھا۔

اس وقت دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں وہ سب کے سب اپنے آپ کو مختلف شخصیات، قبیلوں اور علاقوں سے نسبت دیتے ہیں۔ ان تمام نسبتوں سے بالاتر نسبت اسلام کی نسبت ہے ، وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا ہے۔ یہ کسی وطن یا رنگ تک محدود نہیں اور نہ ہی کسی خاص شخصیت سے اس کی وابستگی ہے۔ یہ تمام انبیا علیہم السلام کا دین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین کی بنا نہیں رکھی، اس کی تجدید کی ہے،اسے زندہ کیا ہے۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اس دین میں جو خرابیاں اور بدعتیں پیدا کر دی گئی تھیں، وہ انحرافات دور کر کے بالکل صاف صورت میں دنیا کو دیا ہے۔ حضور کا اصل کارنامہ یہی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے قدیم علمارسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو 'ملت حنیفی کا مجدد' کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔

ملت حنیفی

سوال : ملت حنیفی سے کیا مراد ہے؟

جواب: ملت حنیفی سے مراد ایسی ملت ہے جو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے آپ کو لگا لے۔ یہ ملت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت سمجھی جاتی ہے۔

دین کے دو دور ہیں۔ ایک دور وہ ہے جس میں انفرادی طور پر شخصیات کا انتخاب کر کے ان کونبوت دی گئی ۔ دوسرا دور وہ ہے جس میں سیدنا ابراہیم کی پوری اولاد کو اس منصب کے لیے منتخب کر لیا گیا اور ان میں انبیا علیہم السلام بھیجے گئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ چیزیعنی نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابراہیم علیہ السلام کی پوری میراث کے طور پر رکھی گئی ہے۔ یعنی حضور نے آ کر سیدنا ابراہیم کے دین کو زندہ کیا، اس کو پاک صاف کیا، اس کو انحرافات سے نکالااور وہ بالکل واضح شکل میں ، دنیا کو دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اسلام کا امتیاز

سوال: کیا اسلام اپنی اصل میں خدا کی معرفت کا نام ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو یہ چیز تو باقی بہت سارے ادیان میں بھی پائی جاتی ہے، پھر اسلام کا امتیاز کیا ہے؟

جواب: اسلام اس لحاظ سے خدا کی معرفت ہے کہ وہ ہمارا خالق ہے اور ایک دن ہمیں اس کے سامنے جواب دہ ہونا ہے اور یہ جواب دہی اچھے عمل کی بنیاد پر ہو گی۔ پورا message یہ ہے۔ اگر آپ چند لفظوں میں اسلام کی حقیقت بیان کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ جس وقت میں یہ تسلیم کر لیتا ہوں کہ میرا ایک خالق ہے، ایک دن مجھے اس خالق کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ اور یہ جواب دہی کسی اور بنیاد پر نہیں ، علم و عمل کی اصلاح اور میری پاکیزگی کی بنیاد پر ہو گی تو جیسے ہی میں یہ مانتا ہوں تو میں ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔ اب میں اسلام میں ہوں یعنی ایک مسلمان کی حیثیت سے جی رہا ہوں۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کی تفصیلات ہیں۔ اور تفصیلات کے معاملے میں قرآن نے بڑی صاف بات کہہ دی ہے کہ اس کی تفصیلات کے دو حصے ہیں۔ایک کا تعلق ایمان اور اخلاق سے ہے۔ اور دوسرے کا تعلق قانون سے ہے۔ ایمان اور اخلاق کے معاملے میں نہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ہاں کوئی اختلاف تھا، نہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے ہاں کوئی اختلاف تھا، نہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کوئی اختلاف ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایمان و اخلاق تمام تر یکساں رہے ہیں۔ لیکن شریعت یا قانون ایسی چیز ہے جس میں کچھ قانونی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ حصہ ایسا ہے جو حالات کے لحاظ سے تبدیل بھی ہوتا رہا ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بعض صورتوں میں مختلف بھی رہا ہے۔

مذہب اور فطرت

سوال: جو لوگ مذہب کو نہیں مانتے ، ان کے ہاں بھی اخلاق اور خیر و شر کے جاننے کا اصول پایا جاتا ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:مذہب تو انسان کی فطرت میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آسمان سے کوئی بات آئے گی اور وہ آپ کی شخصیت کے لیے اجنبی ہو گی۔ انسان کے اندر جو کچھ ہے ، مذہب اسی کو ابھارتا ہے۔ اسی وجہ سے جب ہم دین کا تعارف کراتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت ہے جو اس نے انسان کی فطرت کے اندر رکھی۔ پھر انبیا علیہم السلام نے اس کی تفصیل کر کے اور اسے متعین کر کے انسان کو دے دیا۔اس کے سوا انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ یہاں اس بات پر البتہ ضرور تنبیہ حاصل کر لینی چاہیے کہ ادیان کا جو اختلاف ہمیں نظر آتا ہے، اس میں ایک دین وہ ہے، جو انبیا علیہم السلام کا دین ہے، وہ جس طریقے سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کودیا گیا، اسی طرح سے پہلے نبیوں کو بھی دیا گیا تھا۔ اسے قرآن نے یوں بیان کیا ہے کہ 'شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ وَمَا وَصَّیْْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی۔' (الشوری ۴۲: ۱۳)ہم نے آپ کو بالکل وہی دین دیا ہے جو دین اس سے پہلے ہم نے نوح علیہ السلام کو دیا تھا۔ اسی کی نصیحت ہم نے آپ کو کی ہے۔ یہی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا، یہی مسیح علیہ السلام کو دیا تھا اور سب کو یہ ہدایت کی تھی کہ 'أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ' (حوالہ سابقہ) اس دین کے اوپر قائم ہو جاؤ۔ اس کو پوری قوت کے ساتھ پکڑ لو۔ اس کو اپنی زندگی کادستور اور اپنی زندگی کا لائحۂ عمل بنا لو ۔ 'وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ' (حوالہ سابقہ) اور اس میں کوئی تفرقہ پیدا نہ کرو۔ انبیا علیہم السلام کے اس دین کا تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کا انتخاب کر کے اپنی ہدایت ان کو دیتا ہے اور وہ یہ ہدایت انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے سارے مراحل کو قرآن مجید نے کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت جبریل امین کے حوالے کرتے ہیں۔ جبریل امین یہ ہدایت لے کر انبیا علیہم السلام کے پاس آتے ہیں۔ پھر وہ انسانوں کو ملتی ہے۔

دوسرا دین وہ ہے جس کو ہم صوفیانہ مذہب کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس دین کی بنیاد یہ ہے کہ انسان خودریاضتوں اورِ چلوّں سے گیان، دھیان حاصل کر سکتا ہے۔جس کو بدھا کی تعلیمات میں نروان کہا جاتا ہے یعنی درمیان کے اس واسطے وسیلے اورذریعے کے بجائے ، انسان اپنی ریاضتوں سے خود خدا سے تعلق پیدا کر سکتا ہے اور اس کی ہدایت اور رہنمائی بھی حاصل کر سکتا ہے۔

ریاضتیں اور چلّے

سوال: ریاضتوں اور چلوں سے کیا مراد ہے؟

جواب: ریاضتیں علمی بھی ہیں،نفسی بھی ہیں اور عملی بھی ہیں۔ علمی ریاضتوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سائنس دان جن طریقوں سے چیزوں پر غور کرتا ہے ، آپ اس طریقے سے غور کرتے ہیں۔ نفسی ریاضتوں کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نفس کے اندر جو ایک دنیا پوشیدہ ہے، آپ اس سے رابطہ پیدا کر کے، اس نفس کے حقائق کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد آپ بہت سی عبادات کی صورت میں، چلوں کی صورت میں ایسی ریاضتیں کرتے ہیں جس میں ان کے نزدیک آپ کا مادی وجود تحلیل ہوتا چلا جاتا ہے اور آپ کا حقیقی وجود یعنی آپ کے اندر جو شخصیت ہے اس سے آپ کا ربط پیدا ہوتا ہے۔اس سے پھر آپ کے لیے راستہ کھلتا ہے کہ آپ ذات خداوندی کی معرفت بھی حاصل کر سکیں۔ اگر آپ ان مذاہب کا جائزہ لیں تو یہ زیادہ تر وحدت الوجود کے فلسفے پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ درحقیقت خدا اس کائنات سے ماورا کوئی ہستی نہیں ہے، بلکہ خدا ہی کا ظہور ہے جو آپ کو کائنات کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ صوفیانہ مذاہب ہیں۔ ان مذاہب کی بھی ایک پوری تاریخ ہے۔ یہ بھی دنیا کے اندر اسی طریقے سے موجود ہیں اور بہت عالمگیر سطح پر ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ آج بھی موجود ہیں۔ ہمارے پاس اس کی جو بہت نمایاں مثال ہے، وہ اس وقت بدھ مت اور ہندو مت کی صورت میں موجود ہے۔چونکہ ان کے اندر بھی خدا کا ذکر ہوتاہے اور کچھ مذہبی تعبیریں ہوتی ہیں، کچھ آسمان سے تعلق ہوتا ہے تو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک نوعیت کا وہی مذہب ہے جو انبیا لے کے آئے ہیں لیکن اصل میں یہ دو الگ الگ مذاہب ہیں۔

اسلام اور صوفیانہ مذاہب میں فرق

سوال : پیغمبروں کے مذہب اور صوفیانہ مذاہب میں ایک چیز مشترک ہے ۔ اور وہ ہے نیکی اور بدی کا شعور ،اللہ تعالیٰ کو ماننا اور اس کے ساتھ ایک نوعیت کا تعلق قائم کرنا۔ تو پھر فرق کہاں واقع ہوا ہے؟

جواب:دو بنیادی چیزوں میں فرق واقع ہو گیا ہے۔ ایک خدا کے تصور میں۔ الہامی مذاہب میں خدا کا جو تصور دیا گیا ہے، اس میں کائنات ایک الگ چیز ہے، ذات خداوندی اپنی ذات میں ایک الگہستی ہے۔ وہ اس سے بالکل ماورا ہے اور اس ہستی کا اس کائنات میں کچھ نہیں ہے۔ نہ یہ کائنات اس کی ذات سے ہے۔ نہ یہ کائنات اس کے ساتھ سوائے مخلوق ہونیکے کسی نوعیت کا کوئی تعلق رکھتی ہے۔ وہ ایک بالکل یکتا وجود ہے۔یگانہ وجود ہے۔ قرآن نے اس کو بیان کیا ہے کہ 'قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ' (اخلاص۱۱۲:۱) ان سے کہو کہ اللہ یکتا ہے، یگانہ ہے۔ کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس کو اس کی ذات سے یا اس کی ذات کو اس سے قرار دیا جا سکے۔

انبیا علیہم السلام کے دین میں خدا کا تصور یہ ہے ۔ دوسری جانب صوفیانہ مذاہب کا تصور یہ ہے کہ یہ جو کائنات آپ کو نظر آتی ہے، ہم جو ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ درحقیقت ذات خداوندی ہی کا ظہور ہے جو ہمیں اس صورت میں نظر آتا ہے۔ اس تصورکے تحت پھر وہ مراحل بیان کئے جاتے ہیں کہ کس طریقے سے مرتبۂ لاہوت سے ناسوت تک یہ سارے مراحل طے ہوتے ہیں اور اس کے بعد ان کے ہاں خدا کاایک تصور قائم ہوتا ہے۔ اس میں جو اصل ہدف ہے وہ بالکل تبدیل ہو جاتا ہے ۔ وہ ہدف یہ ہے کہ آپ کو اس بڑے منصب تک پہنچنا ہے ، جس میں آپ اپنی اصل حقیقت کو دریافت کر لیں۔ اس میں پھر چلوں اور ریاضتوں کی ایک پوری کی پوری شریعت ہے، جو اس کے اندر موجودہے۔ بدھ مت کے ہاں آپ کو یہ چیز نظر آئے گی، اسی طرح ویدانت میں آپ کو یہ چیز نظر آئے گی۔ ہندوؤں کے ہاں اس کا بہت زیادہ اثر آپ کو محسوس ہو گا۔ اس وجہ سے یہ الگ الگ مذہب ہیں۔

نبوت کا سلسلہ منقطع کیوں؟

سوال: پہلی قوموں میں جب دین میں انحرافات اور بدعتیں پیدا ہو جاتی تھیں تو انبیا علیہم السلام کو ان کی اصلاح کے لیے مبعوث کیا جاتا تھا جبکہ اب یہ سلسلہ منقطع ہو گیا ۔وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے اسلام محفوظ ہو گیا ہے اور مزید انبیا کی ضرورت باقی نہیں رہی؟

جواب: ہمارے ہاں جو علم تاریخ کے ماہرین ہیں، وہ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک قبل از تاریخ کا زمانہ ہے۔اوردوسرا مابعد از تاریخ کا۔یعنی ایک دور وہ ہے جس کی بس کچھ معلومات ہمیں حاصل ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم روشنی میں کھڑے ہیں۔ اور ایک وہ زمانہ ہے جو بالکل ایسا ہی ہے جیسے آج کے روز و شب گزر رہے ہیں۔ اس زمانے میں سب چیزیں روشنی میں ہیں۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ما بعد از تاریخ کے زمانے کے عین سرے پر ہوئی ہیں۔ عین جب وہ روشن دور شروع ہو رہا ہے۔ پہلے دور میں جو قبل از تاریخ کا دور ہے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ انسانوں کے سامنے اللہ کی ایک حجت واضح ہو جائے اور پھر اس کی تجدید کی ضرورت نہ پڑے۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اندر انبیا علیہم السلام بھیجے ، پھر جب انسانیت ذرا تھوڑی روشنی میں آنے لگی تو سیدنا ابراہیم کی ذریت کو منتخب کر کے ایک علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ اس علاقے میں دین کاایک مرکز بنایا جائے۔ یہی وہ دور ہے،جس میں سیدنا ابراہیم علیہم السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی اور بیت المقدس کی تعمیر ہوئی یعنی ان کی نسل سے دو مراکز قائم کیے گئے تاکہ لوگوں کے سامنے دین کی حجت تمام ہو۔ اس پر پھر کوئی دو ہزار سال کے قریب گزرے۔ یہاں تک کہ انسان تاریخ کی روشنی میں آ گیا۔ جیسے ہی روشنی میں آیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ اب چونکہ انسان تاریخ کی روشنی میں آگیا تھا تو بار بار انبیا بھیجنے کی زحمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ گویا عالمی سطح پر اللہ تعالیٰ انبیا کے ذریعے سے جو حجت تمام کرنا چاہتے تھے، وہ ہو گئی۔ پیغام پہنچ گیا، دعوت آ گئی۔ قرآن کو محفوظ کرنا ممکن ہو گیا۔ ہر چیز تاریخ کی روشنی میں آ گئی۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم کیا۔

ختم نبوت اور تمدنی تغیر

سوال: تہذیب کا یہ سفر جس میں انسان مسلسل رواں ہے ابھی رکا نہیں ہے، انسان آگے بڑھ رہا ہے اور مسلسل تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، اس وجہ سے نبوت کے سلسلے کے رک جانے کا پریہ اعتراض تو برقرار رہے گا۔

جواب: ایک دور وہ تھا جس میں انسانی زندگی بنیادی طور پر قبائلی تمدن کے اندر تھی۔ سیر و شکار کے زمانے میں ایک تمدن وجود میں آیا تھا اور بعد میں زرعی معیشت سے ایک دوسرا تمدن وجود میں آیا تھا، اسی کے ساتھ کچھ گلہ بانی شامل ہو گئی تھی، انسان اپنے معاشی معاملات کو انجام دے رہا تھا۔ اس میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے بعد ایک تغیر آنا شروع ہوا ہے۔ عین تغیر کے سرے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری شریعت دے دی۔ یہ شریعت اس طریقے سے دی گئیکہ اس کے اندر اب اس نوعیت کے تفصیلی احکام دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی جو قبائلی تمدن کی ضرورت تھے۔ وہ بنیادی باتیں واضح کر دی گئیں جن کو ہر دور پر Apply کیا جا سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں شریعت بہت مختصر بھی ہو گئی۔ آپ اگر بنی اسرائیل کو دی جانے والی شریعت کو دیکھیں تو وہ بہت تفصیلی ہے۔ اس کے اندر بعض اوقات جزئیات تک قانون سازی کی گئی ہے۔ لیکن جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ شریعت دی گئی تو ہر معاملے میں بہت محدود ہدایات دے کے باقی تمام چیزوں کو انسان کے اپنے غور و فکر کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اس کی خوبی یہی ہے۔ چنانچہ اس میں کسی تغیر و تبدیلی کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

شریعتوں میں فرق کی حکمت

سوال :مختلف قوموں میں جو شریعتوں میں فرق رہا ہے اس کی حکمت کیا تھی؟

جواب: شریعت کا تعلق چونکہ ان معاملات سے ہوتا ہے، جو انسانی تمدن کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں اور تمدن کی تبدیلی قوانین میں بھی تغیرکا تقاضا کرتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب شکار پر انسان کا انحصار تھا۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ جس میں زرعی معیشت وجود میں آگئی ۔ پھر صنعتی انقلاب کا زمانہ آیا۔ اب ہم ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس سے اصل میں تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔ ایسی تبدیلیاں جو معاشرت ، سیاست اورمعیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو پیش نظر رکھ کر کچھ قانون میں تغیرات کرنے پڑتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ہمارے ہاں جب پارلیمنٹ بنتی ہے تو اس کا ایک بنیادی فریضہ یہ قرار دیا جاتا ہے کہ وہ قانون سازی کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے کی ضرورتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ان کے لحاظ سے نئے نئے قوانین بننے چاہییں، نئے نئے ضابطے آنے چاہییں۔اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور قانون میں بھی ملحوظ رکھا ہے۔ البتہ ایمان اور اخلاق اسی طرح سے قائم ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی ہو بھی نہیں سکتی۔ سچائی ایک بنیادی قدر ہے،انصاف ایک بنیادی قدر ہے، آدمی کو کم نہیں تولنا، لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولنا، بددیانتی نہیں کرنی، رشوت نہیں لینی، کسی کو نقصان نہیں پہنچانا۔ یہ اصل میں وہ بنیادی باتیں ہیں کہ جو ہمیشہ سے انسان کی فطرت کاتقاضا رہی ہیں۔ انبیا علیہم السلام بھی ان کی تجدید ہی کرتے ہیں، ان کی طرف توجہ دلاتے ہیں، انھی کی بنیاد پر وہ دس احکام وجود میں آئے جو تورات میں Ten Comandments کے نام سے درج ہیں۔ اور ہمارے ہاں وہی احکام سورۂ بنی اسرائیل میں اسی طریقے سے بیان ہوئے ہیں۔ یہ بنیادی اخلاقیات ہے۔ اسی طرح ایمانیات کے مسائل بھی ہمیشہ یکساں رہیں گے ۔ یعنی اللہ کو ماننا ، اللہ کے فرشتوں کو ماننا، اس کی کتابوں کو ماننا ، اس کے انبیا کو ماننا ، ایک دن اس کے حضور میں جواب دہ ہونا ، ان میں نہ تو فرق ہو سکتا ہے اور نہ ہوا ہے۔

عبادات کی تاریخ

سوال : کیا پچھلی قوموں کے ہاں عبادات میں بھی فرق تھا؟

جواب:عبادات تو ہمیشہ سے ایسے ہی رہی ہیں، جیسا کہ آج ہیں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ نماز ہمیشہ سے ہر دین میں شامل تھی۔ اسی طرح پانچ نمازیں تمام انبیا علیہم السلام کو پڑھنے کے لیے کہا گیا ۔ البتہ ان کے اندر جو اذکار تھے ، قرآن کے نزول کے بعد تبدیل ہو گئے۔ یہ تبدیلی تو آنی ہی چاہیے، اس لیے کہ زبان بدل گئی، قرآن مجید نازل ہو گیا۔ اس سے پہلے لوگ زبور یا انجیل کی دعائیں پڑھتے تھے یا اور دعائیں پڑھتے تھے۔ ایک نماز کا وہ ڈھانچہ جس کو اعمال سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس میں رکوع و سجود ہے، قیام ہے، یہ بالکل ایسے ہی رہا ہے۔

روزے کے بارے میں خود قرآن نے اعلان کر دیا ہے کہ روزہ ایسے ہی تم پر فرض کیا گیا ہے جس طرح کہ پہلی امتوں پر فرض کیا گیا ہے۔

حج کے بارے میں معلوم ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے اس کے مناسک یہی رہے ہیں۔ اس لیے عبادات میں کوئی اصولی تغیر نہیں آیا سوائے ان چیزوں کے جو قرآن کے نزول کے بعد تبدیل کرنی ضروری ہو گئیں۔

مختلف فرقوں کی وجہ

سوال : اسلام ایک جانب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ قرآن وسنت بالکل محفوظ ہیں، لیکن دوسری طرف ہمارے چالیس بیالیس فرقے ہیں۔اور ہر فرقہ خود کو حق پر اور دوسرے فرقے کو گمراہ سمجھتا ہے۔یہ اختلاف کیوں ہے؟

جواب: فرقے بننے کی بڑی وجہ ضداور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔ اور یہ بات قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے کہ ہم نے سب نبیوں کو ایک ہی دین دیا تھا ، اور اس میں جو بنی اسرائیل اور اہل کتاب نے اختلاف کیا غْیْاً بَیْْنَہُمْ۔'(البقرۃ ۲:۲۱۳) آپس کے ضدم ضدا کی وجہ سے کیا۔ شریعت کے اندر بنیادی اختلافات کہیں بھی نہیں ہیں۔البتہ چھوٹے چھوٹے Interpretation کے اختلافات ہیں۔ انسان جب تک انسان ہے اس میں علمی اختلاف ہو گا اور وہ قرآن مجید کی تعبیر میں بھی ہو جائے گا۔اس سے کوئی قیامت نہیں آتی۔ اختلافات زندگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسی سے انسانی زندگی میں ایک تنوع، جدت اور ندرت رہتی ہے۔ اختلاف کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے اندر حسن ہے۔ ان کے ذریعے سے آپ چیزوں کے اندر اترتے ہیں۔ ایک ہی چیز کو دیکھنے کا ایک زاویۂ نظر اور دوسرا زاویۂ نظر آپ کو آگے بڑھنے میں، ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔انسان کواگر آپ بالکل ایسی چیز بنا دیں کہ جو ایک سانچے میں سے نکل کر تیار ہو رہی ہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ انسان کے سوچنے کے انداز، اس کی فکر کے انداز، اس کے رد عمل کے انداز،اس کی نفسی صلاحیتیں، اس کی عبقریت،اور اس کی ذہانت، یہ سب چیزیں اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ان کی وجہ سے تھوڑے بہت اختلافات ہوتے ہیں۔ اس طرح کے اختلافات سائنس، طب سب علوم و فنون میں ہوتے ہیں ۔ فرقہ بندی میں اختلافات جو مخالفت میں ڈھل جاتے ہیں، جس سے لوگ ایک دوسرے سے ٹوٹنا شروع ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ ضدم ضدا کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی فرقے کے دوسرے فرقے کے ساتھ اختلافات کا جائزہ لے لیں، ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اس میں کچھ شخصیات کے ساتھ غیر معمولی عقیدت وجود میں آ جاتی ہے۔ پھر اپنی اپنی بھیڑوں کو اپنے باڑے میں جمع کرنے کا جذبہ پیدا ہو جاتاہے۔ پھر اس میں بعض جگہوں کے اوپر تعلیم ناقص ہوتی ہے، اور جہالت در آتی ہے، یہ چیزیں ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑاتی بھڑاتی رہتی ہیں۔ ورنہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں ایک چیز کو ایک زاویے سے دیکھ رہا ہوں اور آپ دوسرے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسروں کو جہنمی قرار دینا، ان پر فتوے لگانا، مسلمانوں کی امت کو پھاڑنا، زبان سے یہ کہنا ہے کہ ہم ڈیڑھ ارب کے قریب ہیں، لیکن اپنے گروہ کے سوا کسی کو مسلمان نہیں ماننا اور پھر قتل قتال تک نوبت پہنچا دینا ، یہ سب چیزیں جہالت سے پیدا ہوتی ہیں۔

مسلمان اور اسلام

سوال :کسی بھی مذہب یا عقیدے کا اصل تعارف عموماً اس کے ماننے والے ہوتے ہیں، لیکن آج پاکستان سمیت عالم اسلام جس کردار کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے، اس پس منظر میں آپ اسلام کو دوسروں کے سامنے کس طرح ایک بہترین مذہب کے طور پر پیش کر سکتے ہیں؟

جواب: یہ خود انسان کی غلطیوں میں سے ہے۔ کسی بھی چیز کو اس زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے ماننے والے نے کیا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ دین ایک دعوت ہے ۔ میں جب آپ کو یہ نصیحت کروں گا کہ آپ کوکم نہیں تولناچاہیے، جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تو کیا یہ نصیحت میرے ماننے یا نا ماننے پر منحصر ہے؟ یہ تو اپنی جگہ ایک حق ہے۔ ہر شخص کو اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ اب اگر اسلام کو ماننے والے اس کی تعلیمات سے انحراف کرتے ہیں تو کیا ہوا۔ اصل میں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ تعلیمات کیا ہیں۔ وہ کیا بات ہے جو کہی گئی ہے۔ اور اس کی دعوت لوگوں تک پہنچنی چاہیے۔ یہ بالکل ایک دوسری بات ہے کہ ہم مسلمانوں کو اپنے اخلاق، اپنے کردار ،اور اپنی سیرت پر ایک نگاہ ڈالنی چاہیے۔ دیکھنا چاہیے کہ ہم اخلاقی لحاظ سے اتنی پستی میں کیوں اتر گئے ہیں۔ ہمیں اپنی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ لیکن دنیا کے اندر دین کی دعوت افراد کے حوالے سے نہیں جانی چاہیے۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جانی چاہیے۔ اسلام کوانبیا علیہم السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار سے سمجھنا چاہیے۔ اس کولوگوں سے سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انحرافات تو ہر دین میں ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے خالص توحید پر دنیا کوقائم کیا۔ توحید کے حق میں انقلاب برپا کر دیا۔ شرک کا خاتمہ کر دیا، علمی سطح پر شرک کو شکست دے دی، لیکن اس کے باوجود کون سا شرک ہے جو مسلمانوں کے اندر نہیں پایا جاتا۔ اس ساری صورت حال کا ہر آدمی کو ادراک کرنا چاہیے۔

دین کے معلم

سوال : دین تو مکمل ہو چکا، لیکن کیا اس کو Explain کرنے کے لیے ولیوں،درویشوں اور صوفیوں کا ہونا ضروری ہے ؟ کیا ہم ان کے بغیر دین کو نہیں سمجھ سکتے؟

جواب: اس چیز کی ضرورت صرف دین ہی میں نہیں بلکہ ہر علم میں ہوتی ہے۔ یعنی کچھ لوگ کسی خاص علم کو اپنی زندگی کا اصل موضوع بنا لیتے ہیں۔مثال کے طور انسانوں کے لیے طب روز مرہ کی ضرورت ہے۔ ہر انسان کو بیماری لاحق ہوتی ہے، اس نے اپنا علاج کرنا ہوتا ہے، لیکن ایسا تو نہیں ہوتا کہ سب لوگ طبیب یا ڈاکٹر بن جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو اس پیشے کے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے خاص کر لیتے ہیں۔ اس کی تعلیم پاتے ہیں، اس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ ہمارا علاج معالجہ کرتے ہیں۔ یہ چیز دنیا کے ہر علم میں ہو گی۔ جس طرح باقی علوم کے ماہرین پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح مذہبی علوم کے ماہرین بھی پیدا ہوں گے۔ اور ان ماہرین کی طرف رجوع بھی کیا جائے گااور ان کی رہنمائی میں چیزیں سمجھی جائیں گی۔

اسلام ایک مستند دین

سوال: دین کا علم اسلام کی صورت میں Authentic کیسے ہے؟

جواب: یہ اس وجہ سے مستند ہے کہ قرآن مجید بالکل محفوظ ہے۔ دنیا کے اندر جو چیزیں تاریخی طور پر منتقل ہوتی ہیں ، وہ دو ہی طریقوں سے ہوتی ہیں۔ یا وہ لوگوں کے اتفاق رائے سے منتقل ہوتی ہیں۔اس کو اجماع سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یہ تاریخی علم کی اصطلاح ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ دوسری چیز اخبار آحادہیں ۔یعنی ایک، دو، یا تین آدمیوں نے کوئی بات بیان کر دی ۔یہ بات کہ علامہ اقبال ایک قومی شاعر تھے ، انھوں نے بانگ درا لکھی، بال جبریل لکھی۔ یہ بالاجماع ہر آدمی کو معلوم ہے۔ اسے ہم کہیں گے کہ یہ خبر ہمیں اجماع سے منتقل ہوئی ہے۔ اور یہ بات کہ علامہ اقبال نے فلاں وقت اپنے ایک ملاقاتی سے کی تھی، یہ بعض اوقات ایک ملاقاتی ، دو ملاقاتی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔اس کو اخبار آحاد کہتے ہیں۔ یہ جو اس وقت ہمارا دین ہے، جس کو ہم اسلام کہتے ہیں، اس میں قرآن بھی اجماع سے منتقل ہواہے ، سنت بھی اجماع سے منتقل ہوئی ہے۔ یعنی ایک لاکھ سے زیادہ لوگ تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ آپ کے ذریعے سے ایک بڑی سلطنت قائم ہوئی اور پھر وہ تاریخ کی روشنی میں قائم ہوئی۔ پھر اس کا ایک نظم قائم ہوا۔ اور ایک نسل عمل کر رہی ہے اور دوسری نسل کو منتقل کر رہی ہے۔ یہ چیز ہے جس نے اس کو دنیا کی آخری درجے کی مستند چیز بنا دیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے۔