متعہۂ طلاق کے احکام و مسائل


'متعۃ'یا 'متاع' عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی بھی قسم کا فائدہ یا منفعت حاصل کی جا سکے : 'کل ما ینتفع بہ علی وجہ ما فہو متاع ومتعۃ'۱؂ ۔ اسلامی شریعت میں 'متعۃ الطلاق'سے مراد وہ مالی فائدہ ہے جو طلاق یافتہ عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے تحفے کی صورت میں ملتا ہے۔ ذیل میں اس مسئلے کے بعض اہم پہلووں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔

متعہۂ طلاق کی حکمت

حسن معاشرت کی بنیاد عقل عام اور دین کی رو سے، ایثار وقربانی، اعلیٰ اخلاق اور تعاون باہمی کے جذبے پر ہے۔ دین کی تعلیم یہ ہے کہ انسان زندگی کے تمام معاملات میں حسن اخلاق، مروت، رواداری اور شائستگی کا مظاہرہ کرے، حتیٰ کہ معاملہ اگر تعلق توڑنے کا بھی ہو تو اسے بھی اس طرح عمدگی اور خوش اسلوبی سے انجام دیا جائے کہ ناگزیر طور پر پیدا ہونے والی رنجشوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

یہی صورت نکاح کے معاملات میں ہے۔ قرآن مجید مرد کو اس کی فطری صلاحیتوں اور معاشی ذمہ داریوں کی بنا پر خاندان کا قوام اور سربراہ قرار دیتا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ۔(النساء۴: ۳۴)

''مرداپنی بیویوں کے سربراہ ہیں کیونکہ اللہ نے انھیں ان کی بیویوں پر فضیلت دی ہے اور وہ اپنے مال بھی (ان پر) خرچ کرتے ہیں۔''

اس فضیلت کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ قرآن مجید خانگی امور میں مرد کی رائے کو فیصلہ کن قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس پہلو سے اس کو عورت پر ایک درجے کی فضیلت حاصل ہے:

وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ۔(البقرہ۲: ۲۲۸)

''اور مردوں کو اپنی بیویوں پر ایک درجے کی فضیلت حاصل ہے۔''

لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ مرد عورت کے ساتھ اپنے برتاؤ اور رویے میں بھی مردانگی اور بلند اخلاقی کا مظاہرہ کرے اور فتوت اور بلند کرداری کا یہ مظاہرہ قیام نکاح کی حالت ہی میں نہیں ، بلکہ اس صورت میں بھی ہونا چاہیے جب کسی وجہ سے رشتۂ نکاح کا قائم رکھنا ممکن نہ رہے اور اسے توڑنے کی نوبت آ جائے۔ چنانچہ قرآن مجید اس حالت میں 'تسریح باحسان'اور 'مفارقۃ بالمعروف' کی خاص طور سے تاکید کرتا ہے :

اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ ۔ (البقرہ ۲: ۲۲۹)

''(رجعی) طلاق دینے کا حق دو دفعہ ہے۔ اس کے بعد یا تو دستور کے موافق بیوی کو رکھ لیا جائے یا خوش اسلوبی سے اسے چھوڑ دیا جائے۔''

فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ۔(الطلاق۶۵ : ۲)

''اپنی بیویوں کو دستور کے موافق نکاح میں رکھو یا دستور ہی کے موافق ان کو جدا کرو۔''

ہمارے نزدیک طلاق کی صورت میں عورت کو متعہ دینے کا حکم بھی اس 'تسریح باحسان' کی فرع ہے۔

قرآن مجید نے 'تسریح باحسان' کے حکم کی جو تفصیل کی ہے، وہ حسب ذیل ہے:

۱۔ طلاق دینے کے بعد عورت کی عدت کو طویل تر کرنے اور اس کو تنگ کرنے کی غرض سے رجوع نہ کیا جائے:

وَّلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ ۔(البقرہ ۲: ۲۳۱)

''(طلاق دینے کے بعد) اپنی بیویوں کو تنگ کرنے اور حد سے تجاوز کرنے کے لیے ان کو مت روکو۔ جو ایسا کرتا ہے، یقیناًوہ اپنی جان پر بڑا ظلم ڈھاتا ہے۔''

۲۔ مرد نے نکاح کے وقت یا اس کے بعد جو بھی مال عورت کو دیا ہے، وہ واپس نہ لیا جائے چاہے وہ کتنا ہی زیادہ ہو:

وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدَاہُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْءًا اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا۔ وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلیٰ بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا ۔(النساء۴: ۲۰۔ ۲۱)

''اگر تم ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور پہلی بیوی کو تم نے ڈھیروں مال دے رکھا ہے تو اب اس سے کچھ بھی واپس مت لو۔ کیا تم بہتان لگا کراور کھلے گناہ کا ارتکاب کر کے مال واپس لیتے ہو؟ اور تم کیسے یہ مال واپس لے سکتے ہو، جبکہ تمھارے ایک دوسرے سے ازدواجی تعلقات رہے ہیں اور (نکاح کے وقت) تمھاری بیویوں نے تم سے (وفا داری کا) نہایت مضبوط پیمان لیا تھا۔''

۳۔ مہر کی ادائیگی میں مرد وسعت قلبی اور ایثار کا مظاہرہ کرے:

وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآاَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَاَنْ تَعْفُوْآ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ۔(البقرہ ۲: ۲۳۷)

''اور اگر تم اپنی بیویوں کو ہم بستری سے پہلے طلاق دے دو اور ان کے مہر کی مقدار تم نے طے کر رکھی ہو تو اب (طلاق کی صورت میں) انھیں طے شدہ مہر کا نصف ادا کرو۔ ہاں اگر وہ معاف کر دیں (تو تم سارا مہر رکھ سکتے ہو) یا اگر (خاوند) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے (تو عورت سارا مہر بھی لے سکتی ہے) اور تم شوہروں کا ایثار کرنا ہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اوراللہ نے تمھیں جو فضیلت دی ہے، اس کو فراموش نہ کرو۔''

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

''قرآن نے مرد کو اکسایا ہے کہ اس کی فتوت اور مردانہ بلند حوصلگی اور اس کے درجے مرتبے کاتقاضا یہ ہے کہ وہ عورت سے اپنے حق کی دستبرداری کا خواہش مند نہ ہو ، بلکہ اس میدان ایثار میں خود آگے بڑھے۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلووں سے ابھارا ہے : ایک تو یہ کہ مرد کو خدا نے یہ فضیلت بخشی ہے کہ وہ نکاح کی گرہ کو جس طرح باندھنے کا اختیار رکھتا ہے ، اسی طرح اس کو کھولنے کا بھی مجاز ہے ۔ دوسرا یہ کہ ایثار و قربانی جو تقویٰ کے اعلیٰ ترین اوصاف میں سے ہے ، وہ جنس ضعیف کے مقابل میں جنس قوی کے شایان شان زیادہ ہے ۔ تیسرا یہ کہ مرد کو خدا نے اس کی صلاحیتوں کے اعتبار سے عورت پر جو ایک درجہ ترجیح کا بخشا ہے اور جس کے سبب سے اس کو عورت کا قوام اور سربراہ بنایا ہے ، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کو عورت کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے وقت مرد کو بھولنا نہیں چاہیے ۔ اس فضیلت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت سے لینے والا نہیں ، بلکہ اس کو دینے والا بنے ۔ ''(تدبر قرآن ۱/ ۵۴۸)

۴۔ بیوہ عورت کی عدت اگرچہ چار ماہ دس دن ہے، لیکن خاوند اگر قریب الوفات ہو تو وہ اپنے اہل خانہ کو وصیت کر جائے کہ وہ اس کی وفات کے بعد ایک سال تک بیوہ کو اسی گھر میں رہنے دیں:

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ۔ (البقرہ ۲: ۲۴۰)

''اور تم میں سے جو مرد قریب الوفات ہوں اور اپنے پیچھے بیوہ چھوڑ کر جا رہے ہوں تو وہ ان کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نکالے بغیر اسی گھر میں رہنے کی سہولت دی جائے۔''

۵۔ طلاق کی صورت میں عورت کی دل جوئی اور اس کے غم کو کم سے کم کرنے کے لیے خاوند مہر اور نفقہ کی لازمی ادائیگیوں کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی چیز بطور تحفہ عورت کو دے :

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ۔ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ۔(البقرہ ۲ : ۲۴۱)

''اور اپنی مطلقہ عورتوں کو دستورکے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کرو۔ یہ اہلِ تقویٰ پر لازم ہے۔''

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔(الاحزاب ۳۳: ۲۸)

''اے نبی، آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر تم دنیا کی آسایشیں اور اس کی زیب وزینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ دے دلا دوں اور اچھے طریقے سے تمھیں جدا کر دوں۔''

متعہۂ طلاق کی قانونی حیثیت

طلاق یافتہ عورتوں کی چار حالتیں ہو سکتی ہیں:

ایک یہ کہ بوقت نکاح ان کا مہرمقرر کیا گیا ہو، اور ہم بستری کے بعد ان کو طلاق دے دی جائے۔

دوسری یہ کہ مہر تو مقرر کیا گیا ہو ، لیکن ہم بستری سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے۔

تیسری یہ کہ مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور ہم بستری سے پہلے طلاق دے دی جائے۔

چوتھی یہ کہ مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور ہم بستری کے بعد طلاق دی جائے۔

ان مختلف صورتوں میں متعہ کی قانونی حیثیت کے بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے:

پہلی رائے امام حسن بصری کی ہے جن کے نزدیک متعہ ان تمام مطلقات کے لیے واجب ہے۔ ان کا استدلال 'وللمطلقات متاع بالمعروف'سے ہے جو تمام مطلقات کے لیے عام ہے ۔

دوسری رائے احناف اور شوافع کی ہے جن کے نزدیک اس عورت کے لیے تو متعہ واجب ہے جسے دخول سے قبل طلاق دی گئی ہو اور اس کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو، لیکن باقی تمام مطلقات کے لیے محض مستحب ہے۔ ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:

ایک یہ کہ قرآن مجید نے متعہ کا حکم خاص طور پر صرف اس مطلقہ کے لیے دیا ہے جس کا مہر طے نہ کیا گیا ہو اور دخول سے قبل اسے طلاق دے دی گئی ہو۔ ایسی عورتوں کے لیے یہ حکم قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ صیغہ امر 'متعوہن' استعمال کیا گیا ہے جو کہ وجوب کی دلیل ہے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:

لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ ماَ لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً وَّمَتِّعُوْہُنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ۔ (البقرہ ۲: ۲۳۶)

''تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنی ان بیویوں کو طلاق دو جن سے تم نے تعلقات قائم کیے ہیں نہ ان کا مہر مقرر کیا ہے۔ انھیں (رخصت کرتے ہوئے) کچھ دے دلا دو، خوش حال اپنی گنجایش کے مطابق اور تنگ دست اپنی گنجایش کے مطابق۔ دستور کے مطابق کوئی تحفہ ہونا چاہیے جو احسان کرنے والوں پر لازم ہے۔''

سورۂ احزاب میں فرمایا:

یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤُمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ۔(الاحزاب ۳۳: ۴۹)

''ایمان والو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر تعلقات قائم کیے بغیر انھیں طلاق دے دو تو ایسی صورت میں ان کے ذمے کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو۔ سو ان کو کچھ دے دلا دو اور شائستگی کے ساتھ ان کو رخصت کر دو۔''

دوسرے یہ کہ 'علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ' میں ' علی' کا لفظ بھی الزام اور وجوب کے لیے ہے۔

تیسرے یہ کہ اس حکم کے آخر میں 'حقا علی المحسنین'کے الفاظ بھی وجوب کی دلیل ہیں۔

چوتھے یہ کہ عقل وقیاس بھی اس کی تائید کرتے ہیں کیونکہ شریعت کی ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقد نکاح میں عورت کو کوئی نہ کوئی مالی عوض ضرور ملنا چاہیے۔ چنانچہ نکاح کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ۔(النساء ۴: ۲۴)

''ان عورتوں کے سوا باقی سب عورتوں سے مال دے کر نکاح کرنا تمھارے لیے حلال ہے۔''

چونکہ عقد نکاح کو قبول کر کے عورت، خاوند کو استمتاع کا حق سونپ دیتی ہے، اس لیے نفس نکاح کے ساتھ ہی عوض لازم ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگرچہ عملاً خاوند نے استمتاع نہ کیا ہو، عوض کی ادائیگی ا س پر لازم ہو جاتی ہے۔ مطلقات کی باقی تین صورتوں میں یہ عوض مہر کی صورت میں، حسبِ ذیل تفصیل کے مطابق، عورت کو ادا کیا جاتا ہے:

اگر عورت کو مہر مقرر ہونے اور دخول کے بعد طلاق دی گئی ہو تو اسے پورا مہر ملے گا۔

اگر مہر مقرر ہونے کے بعد اور دخول سے پہلے طلاق دی جائے تو اسے نصف مہر ملے گا۔

اگر مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور دخول کے بعد طلاق دی جائے تو ازروے حدیث عورت کو مہر مثل ملے گا۔

اس اصول کی رو سے ضروری ہے کہ وہ عورت جس کو مہر مقرر کیے بغیر دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو، اسے بھی کوئی نہ کوئی عوض دیا جائے۔ چنانچہ قرآن مجید نے ایسی عورت کو متعہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ چونکہ ایسی عورت کے لیے دوسرا کوئی عوض نہیں ہے، اس لیے اس کے لیے متعہ واجب ہے ،جبکہ باقی مطلقات کو چونکہ مہر کا پورا یا کچھ حصہ مل جاتا ہے، اس لیے ان کے حق میں متعہ صرف مستحب ہے۔ ۲؂

'وللمطلقات متاع بالمعروف'سے امام حسن بصری کے استدلال کا جواب دیتے ہوئے امام ابوبکرابن العربی اور امام جصاص فرماتے ہیں کہ 'متاع' کا لفظ عربی زبان میں ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جس سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چنانچہ جن عورتوں کو پورا یا نصف مہر مل جاتا ہے، ان کے لیے وہی متاع ہے اور جن عورتوں کو مہر نہیں ملتا، ان کے لیے متاع کی صورت یہ ہے کہ خاوند اس کی دل جوئی کے لیے اس کو کوئی تحفہ پیش کرے۔ ۳؂

تیسری رائے امام مالک کی ہے جو کہتے ہیں کہ متعہ کسی بھی مطلقہ کے لیے واجب نہیں ، بلکہ سب کے لیے مستحب ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں 'ومتعوہن' کا حکم استحباب کے لیے ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ 'حقا علی المحسنین' کا جملہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ متعہ کا یہ حکم قانونی طور پر نہیں ، بلکہ احسان اور تقویٰ کے لحاظ سے لازم ہے۔ ۴ ؂

مذکورہ قانونی بحث سے قطع نظر اتنی بات واضح ہے کہ قرآن مجید نے متعہ کا حکم نہایت تاکید اور اہتمام سے بیان فرمایا ہے اور قانونی لحاظ سے نہ سہی ، لیکن اخلاقی لحاظ سے اس کا درجہ وجوب ہی کا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی 'حقا علی المتقین' کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''اوپر آیت ۲۳۶ میں مطلقہ عورتوں کو دے دلا کر رخصت کرنے کی جو ہدایت فرمائی تھی، آخر میں یہ پھر اس کی یاد دہانی کر دی اور اس کو اہل تقویٰ پر ایک حق قرار دیا۔ جو حقوق صفات وکردار پر مبنی ہوتے ہیں، بعض حالات میں وہ اس دنیوی زندگی میں تو قانون کی گرفت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں ، لیکن خدا کے ہاں ان صفات کے لیے وہ حقوق ہی معیار ٹھہریں گے۔ اگر ایک چیز مومنین یا محسنین یا متقین پر حق قرار دی گئی ہے تو یہ تو ہو سکتا ہے کہ اسلام کا قانون اس دنیا میں اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کوئی گرفت نہ کرے ، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آخرت میں بھی ان کی خلاف ورزی پر کوئی اثر مترتب نہیں ہوگا۔ آخرت میں آدمی کا ایمان یا احسان یا تقویٰ انھی حقوق کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کے اعتبار سے وزن دار یا بے وزن ٹھہرے گا۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۵۵۶)

متعہ کی مقدار

متعہ کی مقدار کی تعیین میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں:

ابن عمر فرماتے ہیں کہ متعہ کی مالیت کم از کم تیس درہم ہونی چاہیے۔

ابن عباس فرماتے ہیں کہ متعہ کی اعلیٰ ترین صورت خادم ہے، اس کے بعد کپڑے اور اس کے بعد نفقہ۔

عطاء فرماتے ہیں کہ درمیانے درجے کے متعہ میں قمیص، دوپٹہ اور چادر شامل ہونے چاہییں۔

حسن بن علی نے متعہ کے طور پر بیس ہزار روپے اور شہد کے کچھ تھیلے اپنی مطلقہ کو دیے۔

قاضی شریح نے متعہ کے طور پر پانچ سو درہم دیے۔ ۵؂

یہ تمام تعیینات اپنے اپنے محل میں درست ہیں ، کیونکہ قرآن مجید نے صراحت کی ہے کہ متعہ کی نوعیت اور مقدار کے باب میں کوئی چیز ازروئے شریعت متعین نہیں ہے ، بلکہ اس کا تعین مقامی رواج اور خاوند کے مالی حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا:

مَتِّعُوْہُنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ۔(البقرہ ۲: ۲۳۶)

''انھیں (رخصت کرتے ہوئے) کچھ دے دلا دو، خوش حال اپنی گنجایش کے مطابق اور تنگ دست اپنی گنجایش کے مطابق۔ دستور کے مطابق کوئی تحفہ ہونا چاہیے جو احسان کرنے والوں پر لازم ہے۔''

امام قرطبی لکھتے ہیں:

وقال الحسن : یمتع کل بقدرہ، ہذا بخادم وہذا باثواب وہذا بثوب وہذا بنفقۃ، وکذلک یقول مالک بن انس، وہو مقتضی القرآن فان اللہ سبحانہ وتعالیٰ لم یقدرہا ولا حددہا وانما قال ''علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ ۔(نفس المصدر ۳/ ۲۰۱)

''حسن کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنی گنجایش کے مطابق متعہ دے۔ کوئی خادم کی صورت میں ، کوئی زیادہ کپڑوں کی صورت میں، کوئی ایک کپڑے کی صورت میں اور کوئی نفقے کی صورت میں۔ امام مالک بھی یہی فرماتے ہیں اور قرآن کا مدعا بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مقدار اور نوعیت متعین نہیں کی بلکہ فرمایا ہے کہ فراخ دست اور تنگ دست اپنی اپنی گنجایش کے مطابق دیں۔''

_______

۱؂ راغب، المفردات فی غریب القرآن ۴۶۱۔ ابن الاثیر، النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ۴/ ۲۹۳۔

۲؂ ابن قدامہ، المغنی ۷/ ۱۸۳۔ ۱۸۴۔

۳؂ ابن العربی، احکام القرآن ۱/ ۲۹۱۔ الجصاص، احکام القرآن ۱/ ۵۸۳۔

۴؂ ابن رشد، بدایۃ المجتہد ۲/ ۷۴۔

۵؂ القرطبی، الجامع لاحکام القرآن ۳/ ۲۰۱، ۲۰۲۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ۱/ ۲۸۷۔ ۲۸۸۔

____________