’’ندائے ملت‘‘ کے استفسارات: حادثۂ نیو یارک کے تناظر میں


قربان انجم /جاوید احمد غامدی

سوال: ۱۱ ستمبر کے واقعات سے پوری دنیا ، بالخصوص امریکا اور پاکستان تاریخ کے سنگین چیلنج سے دوچار ہیں ۔ کتاب و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ دنیا کو ہول ناک تباہی سے بچانے کے لیے عالم اسلام ، بالخصوص پاکستان کو کیا کردار اپنانا چاہیے ؟

جواب: دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ میں پوری قوت کے ساتھ شریک ہو جانا چاہیے اور جو لوگ اس جنگ کی قیادت کر رہے ہیں ، انھیں اس بات پر آمادہ کرنا چاہیے کہ حق و انصاف کا دامن کسی حال میں اپنے ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں ۔

سوال: اس ضمن میں حکومت پاکستان نے اب تک جو طرزِ فکر و عمل اپنا یا ہے ،اس پر آپ کیا تبصرہ فرمائیں گے ؟

جواب: اب تک جو اقدامات حکومت پاکستان نے کیے ہیں ، انھیں میں حکمت و دانش پر مبنی اور اخلاقی لحاظ سے بالکل درست سمجھتا ہوں ۔ اس سے ان غلطیوں کے بھی کسی حد تک ازالے کی توقع ہے جو افغانستان کے معاملے میں اس سے پہلے ہماری حکومت کرتی رہی ہے۔

سوال: بحرانوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے عوام اور حکومت میں کامل ہم آہنگی کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ مگر اس ہم آہنگی کی اولین ضرورت یہ ہے کہ حکومت کس حد تک عوام کی نمائندہ حکومت ہے ۔ ہماری حکومت کی از روئے کتاب و سنت Legitimacy اور Validityپر آپ کیا فرمائیں گے ؟

جواب: اس وقت کی حکومت اسلامی شریعت اور دستورِ پاکستان ، دونوں کی خلاف ورزی کر کے قائم ہوئی ہے ، اس لیے اسے کوئی جائز حکو مت تو قرار نہیں دیا جا سکتا ، لیکن یہ موقع اس بحث کو چھیڑنے کا نہیں ہے ۔ بالفعل حکومت اب یہی ہے ۔ صورتِ حال کی نزاکت کے پیش نظر پوری قوم کو یک سوئی کے ساتھ ان حالات میں حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہییں تاکہ وہ درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہ کرے ۔

سوال: اسی طرح طالبان کی حکومت پر بھی تبصرہ فرمائیے ؟

جواب: طالبان کی حکومت کی حیثیت بھی یہی ہے ۔ اسے افغان عوام کی نمائندہ حکومت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سوال: جہاد کی آپ کے نزدیک اجمالاً کیا تعریف ہے ۔ اللہ کے رسولوں کی یہ سنت ہے کہ انھوں نے اقتدار کے بغیر جنگ اور قتال نہیں کیا ( جسے ان دنوں جہاد کہا جاتا ہے )۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے مکالمہ جاری رکھا ، ہتھیار نہیں اٹھائے ۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اقتدار حاصل ہونے اور اس کا استحکام یقینی بنانے تک کبھی جنگ نہیں کی ۔ تیاری مکمل ہونے تک قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ سلم کو ''ہاتھ روکے رکھنے کا حکم'' دیا گیا (کفو ایدیکم) ان نصوص کی بنا پر مقلدین اور غیر مقلدین میں اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ قتال یا جنگ اور اقامت حدود کے لیے اقتدار و حکومت کا وجود شرط ہے ۔ پاکستان کی جہادی تنظیموں کو آپ اس حوالے سے اجماع اور روایت سے منحرف نہیں سمجھتے اور ان کی کامیابی کی کس حد تک توقع رکھی جا سکتی ہے ؟

جو گروہ کشمیر کی مظلوم عورتوں ، مردوں ، بچوں کو بھارتی فوج کے مقابلے میں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے ، کیا انھیں مسلح کارروائیوں کا حق کسی قانونی اور اخلاقی ضابطے کے تحت حاصل ہو سکتا ہے ؟ کیا یہ گروہ افغانستان پر امریکی حملہ کے دفاع میں کارروائیاں کرنے کے از خود مجاز ہیں یعنی کسی حکومت کے احکام و ضوابط سے ماورا اقدام کر سکتے ہیں ؟

جواب: جہاد کے معنی کسی جدوجہد میں پوری قوت صرف کر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں یہ تعبیر جس طرح اللہ کی راہ میں عام جدوجہد کے لیے استعمال ہوتی ہے ، اسی طرح قتال فی سبیل اللہ کے لیے بھی جگہ جگہ آئی ہے ۔ اس دوسرے مفہوم میں یہ قرآن کی رو سے صرف دو صورتوں میں ہو سکتا ہے :

ایک ، ظلم و عدوان کے خلاف،

دوسرے ، اتمامِ حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف۔

پہلی صورت شریعت کا ابدی حکم ہے اور ا س لیے کیا جاتا ہے کہ جب کسی قوم کی سرکشی اور شوریدہ سری اس حد کو پہنچ جائے کہ اسے نصیحت اور تلقین سے صحیح راستے پر لانا ممکن نہ رہے تو انسان کا حق ہے کہ اس کے خلاف تلوار اٹھائے اور اس وقت تک اٹھائے رکھے ، جب تک امن اور آزادی کی فضا دنیا میں بحال نہ ہو جائے ۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ تلوار اٹھانے کی یہ اجازت اگر نہ دی جاتی تو قوموں کی سرکشی اس انتہا کو پہنچ جاتی کہ تمدن کی بربادی کا تو کیا ذکر معبد تک ویران کر دیے جاتے اور ان جگہوں پر خاک اڑتی جہاں اب شب و روز اللہ پروردگارِ عالم کا نام لیا جاتا اور اس کی عبادت کی جاتی ہے :

''اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو خانقاہیں ، گرجے ، معبد اور مسجدیں ، جن میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ، سب ڈھا دیے جاتے ۔ '' (الحج ۲۲ : ۴۰)

رہی دوسری صورت تو اس کا تعلق شریعت سے نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمام حجت سے ہے ۔ جہاد کی یہ صورت صحابۂ کرام کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔

قتال جس صورت میں بھی ہو ، اس کے لیے اقتدار ایک لازمی شرط ہے ۔ انبیا علہیم السلام کے دین میں حکومت کے بغیر قتال کی ہر گز کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ اس بات پر سلف و خلف میں ہمیشہ علما کا اجماع رہا ہے ۔ مسلمانوں میں بعض افراد اور جماعتیں اس وقت جو کچھ کر رہی ہیں ، وہ اسلامی شریعت کے بالکل خلاف ہے ۔ میں نے اپنی کتاب ''میزان'' میں ''قانونِ جہاد'' کے زیر عنوان اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے ۔ تفصیل کے طالب اسے دیکھ سکتے ہیں ۔

سوال: کیا جہاد کے لیے باقاعدہ اعلان ضروری ہے یا نہیں ؟ نیز اسلام کی رو سے اعلان کی مجاز اتھارٹی کیا ہے ؟

جواب: جہاد کے لیے باقاعدہ اعلان ضروری ہے ، اسلامی شریعت کی رو سے یہ اعلان صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔

سوال: ہمارے اکابر کتاب و سنت کے احکام کی پابندی نہیں کرتے (الا ماشاء اللہ) ، مگر سیاسی ضروریات کے لیے کتاب و سنت اور تاریخ اسلامی کے حوالوں کو مثالی بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ اس پیش کش کا انداز بسا اوقات مضحکہ خیز صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ چند روز پیشتر جنرل پرویز مشرف کے مصاحب و مشیر حضرات نے صلح حدیبیہ کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی ٹیلی کاسٹ کرا دیا۔ یہ نہ سوچا کہ صلح حدیبیہ کے حوالے سے درپیش صورت حال میں بیعت رضوان زیادہ متعلق ہے ۔ کیا ان اکابر کو دین اسلام میں فرائض ، واجبات، مستحبات وغیرہ کی مسلسل وعظ و تلقین اور اس سے بھی بڑھ کر ان پرعمل درآمد کا احساس و ادراک یاد دلانا زیادہ ضروری نہیں ؟

جواب: یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس زمانے کے مسلمان قرآن و سنت کی پیروی کرنے کے بجائے ہمیشہ انھیں اپنے دنیوی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ علما اور سیاست دان اس معاملے میں سب سے آگے ہیں ۔ اس پر اس کے سوا کیا عرض کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائے ۔

سوال: آپ درپیش حالات میں دعوت اور جہاد میں سے اولین ترجیح کسے دیں گے ؟

جواب: امتِ مسلمہ اس وقت کسی جہاد کی اہلیت نہیں رکھتی ۔ اپنی پوری قوت ان حالات میں ہمیں علم و اخلاق میں اعلیٰ مراتب کے حصول اور دین کی دعوت پر صرف کرنی چاہیے ۔

سوال: دعوت و تبلیغ اور نفاذ دین کے لیے تحریک کو اغراض و مفادات پر مبنی سیاسی مصالح سے پاک و مبرا رکھنے کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کریں گے ؟

جواب: دین کے نفاذ کے لیے اگر دعوت اور صرف دعوت کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کی جدوجہد آپ سے آپ اغراض و مفادات سے پاک ہو جائے گی ۔

(بشکریہ ، ہفت روزہ ندائے ملت)

____________