نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ


["نقطۂ نظر" کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

تمہید

دنیا کے بیش تر مہذب ممالک میں لڑکا اور لڑکی، دونوں کے نکاح کی عمر کم و بیش ۱۸ سال مقرر ہے۔ اسی تناظر میں بہت سے مسلم ممالک بشمول پاکستان میں بھی نکاح کے لیے عمر کی تحدید کی گئی ہے۔ پاکستان کے عائلی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر ۱۸ سال اور لڑکی کے لیے ۱۶سال مقرر ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کردہ ایک جدید بل میں لڑکی کے لیے بھی نکاح کی کم سے کم عمر ۱۸ سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اہل علم کے روایتی طبقات نکاح کی عمر کی اس تحدید پر معترض ہیں۔

معترضین کا موقف

اس بل کی مخالفت کی بنیاد ہمارے نزدیک درج ذیل تین نکات پر ہے:

ا۔ قرآن مجید سے نابالغ بچی سے نکاح، بلکہ اس کی عدت کا حکم بھی ثابت ہے۔

ب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے کثیر روایات میں کم سن بچوں کا نکاح کرانا مروی ہے۔ جو امر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آپ کے سامنے جائز تھا، اسے اب ناجائز قرار دینا درست نہیں۔

ج۔ شریعت نکاح کے لیے عمر کی تحدید نہیں کرتی، اس لیے کسی اتھارٹی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی تحدید کرے۔

جمہور فقہا کاموقف ہے کہ نکاح کےلیے بلوغت کی شرط نہیں ہے، چہ جائیکہ بلوغت کے بعد نکاح کے لیے عمر کی تحدید کی جائے۔ ان کے مطابق نابالغ بچے یا بچی کاولی، باپ، دادا، بلکہ اس کے عصبہ (مرد رشتہ دار جن سے خونی رشتہ ہو)اس کانکاح کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ باپ اوردادا کی ولایت میں نابالغ بچی کا نکاح اگر غیر کفو میں کیا گیا ہو یا ولی کی بد نیتی ثابت ہو جائے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے، لیکن لڑکی کو بلوغت کے بعد خود اپنا نکاح منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے، سواے یہ کہ وہ خلع کا تقاضا کرے۔ تاہم ولی اگر باپ اور دادا کے علاوہ دیگر عصبہ ہوں تو لڑکی بلوغت کے بعد اپنا نکاح منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

فقہا اس کے بھی قائل ہیں کہ نابالغ بچی سےنکاح کے بعد ازدواجی تعلق بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس پر دلیل وہ سورۂ طلاق (۶۵) کی آیت ۴ سے پیش کرتے ہیں جس میں ان کے فہم کے مطابق یہ بیان ہوا ہے کہ نابالغ بچیاں جنھیں حیض نہ آیا ہو، ان کی عدت تین ما ہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف نابالغ سے نکاح کرنا جائز ہے، بلکہ ازدواجی تعلق قائم کرنا بھی روا ہے، کیونکہ یہ معلوم ہے کہ عدت تبھی عائد ہوتی ہے جب ازدواجی تعلق قائم کر لیا گیا ہو۔ تاہم، اس کے ساتھ وہ یہ قید بھی لگاتے ہیں کہ بچی کی جسمانی صحت اتنی ہونی چاہیے کہ ازدواجی عمل کا تحمل کر سکے۔

کم عمری کے نکاح کے خلاف چند قدما کا موقف

قدما میں سے معدودے چند فقہا نابالغی کے نکاح کو درست نہیں سمجھتے ،مثلاً قاضی عبداللہ ابن شبرمہ اور ابوبکر الاصم۔ ان کے مطابق، نکاح کے لیے بلوغت کی ضرورت ہے جس کی تائید قرآن مجید کی درج ذیل آیت سے ہوتی ہے:

وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰي حَتّٰ٘ي اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ. (النساء ۴: ۶) ''اور نکاح کی عمر کو پہنچنے تک اِن یتیموں کو جانچتے رہو۔''

ان کے مطابق، ولی کی ولایت نابالغ بچوں کے لیے ان امور میں ہوتی ہے جہاں انھیں کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہو، جیسے لین دین کے معاملات۔ نابالغ کو چونکہ نکاح کی کوئی حقیقی حاجت نہیں ہوتی، اس لیے یہاں ولایت کی ضرورت نہیں، اس لیے متحقق بھی نہیں۔ نکاح سے جنسی تسکین اور اولاد کی تحصیل مقصود ہوتی ہے اور نابالغ کے معاملے میں یہ دونوں مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ پھر یہ کہ اس عقد نکاح کے احکام کا اطلاق بلوغ کی عمر کے بعد ہوتا ہے جب ولی کی ولایت نہیں رہتی۔ بالغ پر اس عقد کی پابندی لاگو نہیں کی جا سکتی ہے جس کو لاگو کرنے والے ولی کی ولایت ہی بعد از بلوغت باقی نہیں رہی[1]۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اسی فقہی موقف پر برقرار رہتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اس مسئلے پر کسی قانون سازی کے بجاے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ کم عمری کی شادی منفی نتائج پیدا کرتی ہے۔

کم عمری کے نکاح و شادی پر ہمارا موقف

ہمارا موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کے جن بیانات سے نابالغی کے نکاح کا جواز سمجھا گیا ہے، ہمارے نزدیک قرآن کے الفاظ کی دلالتوں سے وہاں ایساثابت نہیں ہوتا ۔

ایک مسلم حکومت کو سماجی مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئےنکاح کی عمر کی تحدید کے لیےقانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ قرآن مجید اس معاملے میں ایک متوازن طرز عمل کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف بلوغت، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر نکاح کےلیے مطلوبہ ''صلاحیت'' ( سنجیدگی) اور ''رشد'' (سمجھ داری) جیسی دو بنیادی خصوصیات کو معیار نکاح کے طور پر ذکر کرتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت ولی کی اجازت سےنابالغ بچوں کےنکاح کا تعلق زمانی رسم و رواج سے تھا جسے عرف میں قبولیت حاصل تھی۔ ان روایات سے نابالغی کے نکاح کے شرعی جواز پر استدلال کرنا درست نہیں۔ نیز کسی روایت میں نابالغ بچی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔

حکومت نہ صرف ان امور میں قانون سازی کر سکتی ہے جن میں شریعت خاموش ہے، بلکہ شرعی احکام کی تنفیذ اور اطلاقات میں بھی حالات اور مصالح کی رعایت ملحوظ رکھتے ہوئے اسے قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ بلوغت کے بعد نکاح کی عمر کی تحدید میں شریعت خاموش ہے۔ چنانچہ اس نابالغی کے معاملے میں حکومت قانون سازی کر سکتی ہے۔ قرآن مجید کے بیانات جو نکاح کے لیے ''صلاحیت'' اور ''رشد'' کو قبل از نکاح، نکاح کی ضروری خصوصیات کے طورپر مذکور کرتے ہیں، اس معاملے میں قانون سازی کے لیے رہنمائی کرتے ہیں۔ ذیل میں ہم اپنے اس موقف کی تفصیل دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

قرآن مجید سے نابالغی کے نکاح کے جواز کے استدلالات کا جائزہ

۱۔ سورۂ طلاق، آیت ۴

ہمارے نزدیک قرآن مجید میں نابالغ کے نکاح کا کوئی بیان یا جواز نہیں پایا جاتا۔جن آیات سے نابالغی کے نکاح کا جواز سمجھا گیا ہے، ہم ان کا تجزیاتی جائزہ یہاں پیش کرتے ہیں:

وَالّٰٓـِٔيْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ. (الطلاق ۶۵: ۴) ''تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔''

ہمارے فقہا اور مفسرین نے' وَّالّٰٓـِٔيْ لَمْ يَحِضْنَ ' سے وہ نابالغ بچیاں مراد لی ہیں جن کو حیض نہیں آیا۔ تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو یہاں 'لَمْ ' آیاہے جو نفی جحد کے لیے آتا ہے۔اس کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ انھیں حیض نہیں آیا، بلکہ یہ ہے کہ بلوغت کی عمر کو پہنچ کر بھی نہ آیا ہو[2]۔ یہ اسلوب نابالغ بچیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حیض نہ آنے کا بیان نابالغ بچیوں کے لیے آتا تو یہ کہا جاتا کہ و ہ (کم سن بچیاں) جنھیں حیض ''نہیں آتا''۔ یہاں کہا گیا ہے کہ وہ جنھیں حیض ''نہیں آیا''۔ یہ اسلوب تبھی اختیار کیا جاتا ہے جب حیض آنےکا امکان ہونے کے باوجود حیض نہ آیا ہو۔ چنانچہ یہاں نابالغ بچیاں مراد نہیں ہو سکتیں۔

دوسرے یہ کہ لفظ 'النِّسَآء ' جب مطلقاً آئے تو اس کا مصداق بالغ خواتین ہوتی ہیں۔ البتہ قرینہ ہو تو اس سے کم سن بچیاں مراد ہو سکتی ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے:

وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْﵧ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ. (البقرہ ۲: ۴۹) ''اور یاد کرو، جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے چھڑایا۔ وہ تمھیں برے عذاب چکھاتے تھے، تمھارے بیٹوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ذبح کر دیتے تھے اور تمھاری عورتیں جیتی رکھتے تھے اور (تمھیں) اِس (عذاب سے چھڑانے) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے (تمھارے لیے) بڑی عنایت تھی۔''

چونکہ یہاں 'نِسَآء '، 'اَبْنَآء 'کے مقابل آیا ہے، اس لیے یہاں بنی اسرائیل کی وہ کم سن بچیاں مراد ہیں جن کو فرعون کے اہل کار ان کے کم سن بیٹوں کے برعکس قتل نہیں کرتے تھے۔ لیکن سورۂ طلاق کی مذکورہ بالاآیت میں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے جس سے کم سن بچیاں مراد لی جا سکیں، بلکہ قرائن اس کے برعکس بالغ خواتین کو متعین کرتے ہیں۔ وہ یوں کہ یہاں عدت کا بیان ہو رہا ہے اور عدت امکان حمل کی صورت حال کے واضح ہونے کے لیےمشروع کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مطلقہ غیر مدخولہ اور وضع حمل کے بعد خاتون پر عدت نہیں ہے[3]

۔ مزید یہ کہ الفاظ 'اِنِ ارْتَبْتُمْ ' (اگر تمھیں شک ہو) سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ عدت اسی صورت میں ہے جب آئسہ یا غیر حائضہ ہونے کے باوجود حمل ٹھیر جانے کے بارے میں شک ہو۔حمل کے امکان کے لیے خاتون میں حاملہ ہونے کی صلاحیت کا پایا جانا ضروری ہےاور بلوغت کی عمر سے پہلے یہ ممکن نہیں۔

تفسیری روایات میں 'اِنِ ارْتَبْتُمْ ' کا ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر آئسہ یا غیر حائضہ ہونے کے باوجود انھیں خون آئے اور تمھیں شک ہو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو اس صورت میں عدت تین ماہ ہے۔ یہ مفہوم ہمارے نزدیک درست نہیں، کیونکہ اس صورت میں عورت کو آئسہ اور غیر حائضہ نہیں کہا جا سکتا[4]۔ تاہم، اس راےسے بھی یہ بہرحال طے ہو جاتا ہے کہ خاتون کی عمر کم از کم اتنی ہونی چاہیے کہ حیض یا استحاضہ کا شک پیدا ہو سکے اور یہ بلوغت کی عمر سے پہلے ممکن نہیں۔ اس صورت میں بھی 'لَمْ يَحِضْنَ ' سے نابالغ بچیاں مراد نہیں لی جا سکتیں۔ چنانچہ اس آیت میں کم سن بچیوں کی عدت قطعی طور پربیان نہیں ہوئی ہے۔

۲۔ سورۂ نساء، آیت۳

قرآن مجید کے ایک بیان سے یہ سمجھا گیا ہے کہ نابالغ یتیم بچیوں کے ساتھ نکاح جائز ہے، اور اسی بنا پر علی الاطلاق نابالغہ کا نکاح جائز ہے۔ آیت ملاحظہ ہو:

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰي فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰي وَثُلٰثَ وَرُبٰعَﵐ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْﵧ ذٰلِكَ اَدْنٰ٘ي اَلَّا تَعُوْلُوْا.(النساء ۴: ۳) ''اور اگر اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان کے ساتھ جو عورتیں ہیں، ان میں سے جو تمھارے لیے موزوں ہوں، اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ پھر اگر ڈر ہو کہ (اُن کے درمیان) انصاف نہ کر سکو گے تو (اِس طرح کی صورت حال میں بھی) ایک ہی بیوی رکھو یا پھر لونڈیاں جو تمھارے قبضے میں ہوں۔ یہ اِس کے زیادہ قریب ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو۔''

'یتیم' کا لفظ اس نابالغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کا والد فوت ہو گیا ہو۔ مفسرین اور فقہا نے یہاں 'یتامیٰ' سے نابالغ یتیم بچیاں مراد لی ہیں جن سے نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مفہوم درست نہیں۔ 'یتامیٰ' کا لفظ نابالغ بچوں اور بچیوں، دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ آیت زیر بحث بچے اور بچی، دونوں قسم کے یتیموں کے مسئلے کا حل بیان کررہی ہے۔ چنانچہ یہاں 'یتامیٰ' سے صرف نابالغ یتیم بچیاں مراد نہیں لی جا سکتیں۔ چنانچہ 'النِّسَآء ' میں 'ال' عہد کا مانا جائے گا اور ان خواتین سے مراد یتیموں کی رشتہ دار مائیں بہنیں وغیرہ ہیں جو قابل نکاح ہوں ۔ اس آیت میں ان کو نکاح میں لانے کی اجازت اور ترغیب دے کر ان کے زیر کفالت یتیم بچوں کی مناسب پرورش کے لیےسہولت اور محرک پیدا کیا گیا ہے۔

۳۔ سورۂ نساء، آیت۱۲۷

وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَآءِﵧ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّﶈ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِﶈ وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِﵧ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيْمًا. (النساء ۴: ۱۲۷) ''وہ تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتےہیں۔ اُن سے کہہ دو کہ اللہ تمھیں اُن کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جن عورتوں کے حقوق تم ادا نہیں کرنا چاہتے، مگر اُن سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اُن کے یتیموں سے متعلق جو ہدایات اِس کتاب میں تمھیں دی جارہی ہیں، اُن کے بارے میں اور (دوسرے) بے سہارا بچوں کے بارے میں بھی فتویٰ دیتا ہے کہ عورتوں کے حقوق ہر حال میں ادا کرو اور یتیموں کے ساتھ ہر حال میں انصاف پر قائم رہو اور (یاد رکھو کہ اِس کے علاوہ بھی) جو بھلائی تم کرو گے، اُس کا صلہ لازماً پاؤ گے، اِس لیے کہ وہ اللہ کے علم میں رہے گی۔''

سورۂ نساء کی یہ آیت سورۂ نساء کی مذکورہ بالا آیت ۳ کی توضیحی آیت ہے۔ عام طور پر مفسرین نے یہاں بھی 'يَتٰمَي النِّسَآءِ ' سے یتیم بچیاں مراد لی ہیں۔ اور مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ یتیم بچیاں جن سے ان کے مال اور جمال کی وجہ سے ان کے ذمہ داران نکاح تو کرنا چاہتے تھے، مگر ان کو پوراحق مہر نہیں دینا چاہتے تھے، انھیں یہ کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرتے ہوئے پورا حق مہر دے کر ان کے ساتھ نکاح کرو۔ اس کی تائید میں یہ روایت پیش کی جاتی ہے:

عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِيْ يُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيْ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا عَنْ قَوْلِ اللہِ تَعَالىٰ: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا} [النساء۴: ۳] إِلَى {وَرُبٰعَ} [النساء۴: ۳]، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِيْ هِيَ الْيَتِيْمَةُ تَكُوْنُ فِيْ حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِيْ مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيْدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِيْ صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيْهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيْهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوْا أَنْ يُنْكِحُوْهُنَّ[ص۱۴۰] إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوْا لَهُنَّ، وَيَبْلُغُوْا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوْا أَنْ يَنْكِحُوْا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَآءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ، فَأَنْزَلَ اللہُ: {وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَآءِ} [النساء۴: ۱۲۷] إِلَى قَوْلِهِ {وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ} [النساء۴: ۱۲۷] وَالَّذِيْ ذَكَرَ اللہُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُوْلَى، الَّتِيْ قَالَ فِيْهَا: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰي فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ} [النساء۴: ۳]، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللہِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: {وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ} [النساء۴: ۱۲۷] يَعْنِيْ هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ لِيَتِيْمَتِهِ الَّتِيْ تَكُوْنُ فِيْ حَجْرِهِ، حِيْنَ تَكُوْنُ قَلِيْلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوْا أَنْ يَنْكِحُوْا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَآءِ إِلَّا بِالقِسْطِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنْ. (بخاری، رقم ۲۴۹۴) '' عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے " اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ کرنے کا ڈر ہو تو جو عورتیں پسند آئیں دو دو تین تین چار چار نکاح میں لاؤ " ( سورۂ نساء، آیت۳ کے بارے میں) پوچھا تو انھوں نے کہا: میرے بھانجے، یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی ( محافظ رشتہ دار جیسے چچیرا بھائی ، پھوپھی زاد یا ماموں زاد بھائی ) کی پرورش میں ہو اور ترکے کے مال میں اس کی ساجھی ہو اور وہ اس کی مال داری اور خوب صورتی پر فریفتہ ہو کر اس سے نکاح کر لینا چاہے، لیکن پورا مہر انصاف سے، جتنا اس کو اور جگہ ملتا، وہ نہ دے ، تو اسے اس سے منع کر دیا گیا کہ ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرے ۔ البتہ اگر ان کے ساتھ ان کے ولی انصاف کر سکیں اور ان کی حسب حیثیت بہتر سے بہتر طرز عمل مہر کے بارے میں اختیار کریں ( تو اس صورت میں نکاح کرنے کی اجازت ہے ) اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ان کے سوا جو بھی عورت انھیں پسند ہو، ان سے وہ نکاح کر سکتے ہیں ۔ عروہ بن زبیر نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا : پھر لوگوں نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ( ایسی لڑکیوں سے نکاح کی اجازت کے بارے میں ) مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: "اور آپ سے عورتوں کے بارے میں یہ لوگ سوال کرتے ہیں " ۔ آگے فرمایا: ''اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو ''۔ یہ جو اس آیت میں ہے اور جو قرآن میں تم پر پڑھا جاتا ہے، اس سے مراد پہلی آیت ہے، یعنی " اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ ہوسکنے کا ڈر ہو تو دوسری عورتیں جو بھلی لگیں، ان سے نکاح کر لو " ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ جو اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اس سے یہ غرض ہے کہ جو یتیم لڑکی تمھاری پرورش میں ہو اور مال اور جمال کم رکھتی ہو، اس سے تو تم نفرت کرتے ہو، اس لیے جس یتیم لڑکی کے مال اور جمال میں تم کو رغبت ہو، اس سے بھی نکاح نہ کرو، مگر اس صورت میں جب انصاف کے ساتھ ان کا پورا مہر ادا کرو۔''

جیسا کہ ہم نے ثابت کیا کہ قرآن مجید کے الفاظ نابالغ بچیوں سے متعلق اس مفہوم کو قبول نہیں کرتے جو روایت کے ظاہری الفاظ سے متبادر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں استفتا کے جواب میں یہاں 'النِّسَآء' کا حکم الگ اور 'يَتٰمَي النِّسَآءِ ' کا الگ آیا ہے۔ 'و'یہاں مغایرت کے لیے آیا ہے۔ 'يَتٰمَي النِّسَآءِ ' سے 'النِّسَآء' مراد نہیں لی جا سکتی۔ چنانچہ 'يَتٰمَي النِّسَآءِ ' کا مطلب یتیم بچیاں نہیں، بلکہ یتیموں کی مائیں، بہنیں اور دوسری رشتہ دار خواتین مراد ہیں۔ اس کے بعد یتیموں کے لیے الگ سے حکم آیا ہے کہ ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کیا جائے: 'وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ'۔ جب کہ یتیموں کی ماؤں بہنوں وغیرہ کا حکم 'وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ' کے معطوف علیہ میں بیان ہوا ہے جو یہاں حذف کر دیا ہے۔ یہ کلام عرب کا خاص معروف اسلوب ہے کہ بعض اوقات معطوف علیہ اس بنا پر حذف کردیا جاتا ہےکہ فحواے کلام سے وہ خود متبادر ہوتا ہے۔ یہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ 'وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ' میں واؤ عاطفہ معطوف علیہ کا تقاضا کر رہا ہے جو کلام میں موجود نہیں۔ یہی محذوف ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے '' کہ عورتوں کے حقوق ہر حال میں ادا کرو''۔

ہمارے نزدیک اس روایت میں یتیم سے مرادبالغ یتیم بچیاں مراد ہیں۔ عام بول چال کی زبان میں بغیر باپ کے بالغوں کو بھی یتیم کہہ دیا جاتا ہے۔

چنانچہ اس بناپر یہ کہنا بجا ہوگا کہ نابالغی کے نکاح کے جواز کا الزام قرآن مجید پر نہیں رکھا جا سکتا۔

قرآن مجید میں بیان ہونے والے نکاح کے دو معیار

۱۔ صلاحیت

قرآن مجید نکاح کے بنیادی مقاصد کے عین مطابق نہ صرف جسمانی بلوغت، بلکہ ''صلاحیت'' کو نکاح کے معیار کی حیثیت سے ذکر کرتا ہے:

وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰي مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَآئِكُمْﵧ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖﵧ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ. وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰي يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ. (النور ۲۴: ۳۲- ۳۳) ''(اِسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ) تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اُن کے نکاح کر دو اور اپنے اُن غلاموں او رلونڈیوں کے بھی جو اِس کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں، اُنھیں چاہیے کہ اپنے آپ کو ضبط میں رکھیں، یہاں تک کہ اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ ''

''صلاحیت'' ایک جامع لفظ ہے جس میں جسمانی صلاحیت اور ذہنی طور پر درست ہونے کے علاوہ ازدواجی زندگی کی جملہ ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لیے فرد میں مطلوبہ سنجیدگی اور احساس ذمہ داری وغیرہ شامل ہے۔ غلاموں لونڈیوں کے لیے صلاحیت کا خاص طور پر تذکرہ اس لیے ضروری ہوا کہ نکاح کا یہ اولین معیار ان میں پایا جانا محل نظر تھا۔ بے اختیاری اور عدم تربیت کے جس ماحول میں وہ بڑے ہوتے تھے، ان میں ازدواجی زندگی کے لیے مطلوبہ سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کی صلاحیت کا پایا جانا احتمال کے درجے میں تھا، جب کہ آزاد لوگوں میں یہ خصوصیات عموماً موجود ہوتی ہیں۔ چنانچہ آیت کا یہ مفہوم لینا زبان و بیان کے تقاضوں کے خلاف ہوگا کہ غلاموں اورلونڈیوں کا نکاح تو تب کیا جائے جب ان میں یہ صلاحیت دیکھ لی جائے، مگر آزاد کا نکاح اس کے بغیر بھی کر دیا جائے۔ مقصود کلام اس صلاحیت کو دونوں کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، مگر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ نکاح کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مطلوبہ صلاحیت کا پایا جاناعقلی تقاضا تو ہے ہی، غلام لونڈیوں کے نکاح کے لیے بھی اس کا تذکرہ کر کے قرآن مجید نے اسے مؤکد کر دیا ہے۔چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں شریعت نے ہماری رہنمائی کر دی ہے کہ نکاح کے لیے جس صلاحیت کا تقاضا عقل کرتی ہے، شریعت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔

۲۔ رشد

یتیموں کے مالی معاملات کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے کہ ان کے مال کے نگران ان کا مال ان کے حوالے تب کریں جب وہ نہ صرف جسمانی طور پربالغ ہو جائیں، بلکہ ان میں :''رشد''، یعنی اتنی سمجھ داری بھی نظر آئے کہ وہ اپنے مالی معاملات سنبھال سکتے ہوں۔ اس کے لیے ان کی سمجھ داری کو جانچا پرکھا جائے:

وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِيْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيٰمًا وَّارْزُقُوْهُمْ فِيْهَا وَاكْسُوْهُمْ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا. وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰي حَتّٰ٘ي اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَﵐ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْ٘ا اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْﵐ وَلَا تَاْكُلُوْهَا٘ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ يَّكْبَرُوْاﵧ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْﵐ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِﵧ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْﵧ وَكَفٰي بِاللّٰهِ حَسِيْبًا. (النساء۴: ۵- ۶) ''اور( یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنے وہ اموال جن کو اللہ نے تمھارے لیے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے، اِن بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں، اِ ن سے فراغت کے ساتھ اُن کو کھلاؤ، پہناؤ اور اُن سے بھلائی کی بات کرو۔اور نکاح کی عمر کو پہنچنے تک اِن یتیموں کو جانچتے رہو، پھر اگر اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو، اور اِ س اندیشے سے کہ بڑے ہوجائیں گے، اُن کے مال اڑا کر اور جلد بازی کرکے کھا نہ جاؤ۔ اور (یتیم کا) جو (سرپرست) غنی ہو، اُسے چاہیے کہ (اُس کے مال سے) پرہیز کرے اور جو محتاج ہو، وہ (اپنے حق خدمت کے طور پر) دستور کے مطابق (اُس سے) فائدہ اٹھائے۔ پھر جب اُن کے اموال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اُن پر گواہ ٹھیرا لو،ورنہ حساب کے لیے تواللہ کافی ہے۔''

اس پر قیاس کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نکاح بھی فریقین کے درمیان ایک معاملہ اور معاہدہ ہے۔ یہ کسی بھی مالی معاملے سے زیادہ نازک اور اہم معاملہ ہے۔ چنانچہ اس معاہدۂ نکاح کے لیےفریقین کا نہ صرف جسمانی طور پر بالغ ہونا ضروری ہے، بلکہ عقل کے اعتبار سے ان میں وہ سمجھ داری (رشد) بھی ہونی چاہیے جو ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں کے نبھانے کے لیے ضروری ہے ۔ ایسی سمجھ داری کسی نابالغ میں عموماً نہیں پائی جاتی۔ اس لیے نابالغ کا نکاح بھی شریعت کے لیے غیر مطلوب ہے۔

قرن اول میں نابالغی کے نکاح کی روایات پر ہمارا موقف

عرب میں نابالغ بچوں کے نکاح کارواج تھا ۔ یہ اس وقت کے قبائلی سماج کا رواج تھا جسے قبولیت حاصل تھی۔اس بنا پر قرن اول میں بھی اس پر عمل جاری رہا۔شریعت نے اسے علی الاطلاق ممنوع تو قرار نہیں دیا، لیکن معیار نکاح، جسے پیش تر واضح کیا گیا، واضح طور پر قرآن مجید میں بیان کر کے درست رہنمائی فرما دی ۔

نابالغ کے نکاح کی کوئی ترغیب کہیں نہیں دی گئی، بلکہ ایسے نکاح کے معاملے کو اس وقت کے سماج میں بھی تحفظات کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ یتیم بچیوں کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بلوغت سے قبل ان کا نکاح کرنا منع فرما دیا تھا، اس لیے کہ ان کے ایسے ولی کا امکان موجود نہیں تھا جو ان کے لیے باپ جیسی شفقت رکھتا ہو (بخاری،رقم ۵۱۳۸)۔

اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت نے نکاح کے لیے نہ صرف جسمانی بلوغت، بلکہ ''صلاحیت نکاح'' اور'' رشد''جیسےجامع لفظ کو بطور معیار بیان کیاہے۔ اس ''صلاحیت'' اور'' رشد'' کی ملکی سطح پر تعیین اور تحدیدکے لیےحکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ سماجی حالات اور مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرے۔

حکومت کے قانون سازی کے اختیار کے شرعی حدود

ہم جانتے ہیں کہ ایک مسلم حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نہ صرف ان معاملات میں قانون سازی کرسکتی ہے جنھیں شریعت نے موضوع نہیں بنایا، بلکہ شریعت کے منصوص احکامات کے اطلاق اور نفاذ میں بھی حالات کی رعایت رکھتے ہوئے قانون سازی کر سکتی ہے۔حضرت عمر کے دور خلافت کی متعدد مثالیں اس ضمن میں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ مثلاً عراق کی زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجاے انھوں نے انھیں قومی ملکیت قرار دیا، عام الرمادہ کے طویل قحط کے دوران میں چوری کی سزا، قطع ید کو معطل کر دیا، طلاق کے معاملے میں جب مسلم سماج میں بے احتیاطی بڑھنے لگی تو آپ نے بہ یک وقت تین طلاق دینے کو تین ہی نافذ کرنے کا انتظامی حکم جاری کیا۔ اس بنا پر یہ کہنا درست ہوگا کہ چونکہ شریعت نکاح کی عمر کی تحدیدکے معاملے میں خاموش ہے، اس لیے یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی قانون سماجی مصالح کی روشنی میں بنا دے۔ دوسرے یہ کہ بالفرض اگر نکاح کے لیے عمر کی عد م تحدید کو شریعت کی تائید حاصل بھی ہو تو اس کے باوجود بھی حالات کے تقاضے بدل جانےاور مصالح کی رعایت سے اس بارے میں قانون سازی کرنے کا اختیار حکومت کو حاصل ہے ۔

اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یتیم بچیوں کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر کے دکھا بھی دیا ہے کہ جب ان کے ولیوں میں باپ جیسی شفقت کا امکان نہیں پایا گیا تو ان کے نابالغی کے نکاح کو منع فرمایا۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سماج میں خواتین سے متعلق سماجی رویے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ کچھ طبقات اور علاقہ جات میں لڑکیوں کونکاح کے نام پر بیچا جاتا ہے، مفلسی کی وجہ سے ان کی جلد شادی کرکے ان کے اخراجات کےبوجھ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جھگڑے نمٹانے کے لیے ونی کی رسم کے تحت انھیں بطور تاوان دشمن کے حوالے کر دیا جاتا ہے، خاندانوں میں وٹے سٹے کے نام پران کی مرضی کے خلاف بھی ان کا نکاح کر دیا جاتا ہے، بلکہ بعض علاقوں میں (نعوذ باللہ) قرآن مجید سے ان کا نکاح کر دیا جاتا ہے۔ پھر طبی رپورٹوں سے یہ ثابت ہے کہ کم عمری کی شادی سے زچہ اور بچہ کی صحت سخت متاثر ہوتی ہے، نیز کم عمری کی شادی، شادی کے بعد کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کےلیے موزوں نہیں۔ ایسے حالات میں حکومت اگر نکاح کی عمر کی کوئی ایسی تحدید کرتی ہے جس سے کم سن بچوں کو استحصال سے بچایا جا سکے تو یہ عین تقاضاے شریعت ہے۔۱۸ سال کی عمر متعین ہونے سے کم از کم اتنا ممکن ہو سکتا ہے کہ اس عمر کی جوان لڑکی یا لڑکا اپنے خلاف زیادتی کا ادراک کرتے ہوئے قانون کا سہارا لے سکے۔

خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ نکاح کی تسلیم شدہ بنیادیہ ہے کہ نکاح سے مقصود مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق کو جائز حدود مہیا کرنا اور خاندان کے ادارے کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس کے لیے نکاح کے فریقین کی شعوری رضامندی ایک بدیہی تقاضا ہے۔ اس رفاقت کے نتیجے میں ایک دوسرے کی مادی ضروریات کی تکمیل بھی فریقین کے ذمہ عائد ہو جاتی ہے۔ تاہم نکاح میں اگر بنیادی مقصد ہی مفقود ہو تو اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نابالغ کے ساتھ نکاح میں یہ بنیادی مقاصد اور ان کے لیے ان کی رضامندی، دونوں نہیں پائے جاتے۔ بلوغت کی عدم موجودگی میں فریق ثانی سے جنسی تعلق کےلیے داعیہ اور تسکین بھی مفقود ہوتے ہیں۔ فریقین میں سے ایک بالغ اور دوسرا نابالغ ہو تو یہ تعلق نابالغ فریق کے حق میں زیادتی اور ریپ (rape) کا سبب بنتا ہے۔ نابالغ لڑکی کے معاملے میں یہ معاملہ محتاج بیان نہیں۔ یہ زیادتی ہے اور ہر زیادتی شریعت کی نظر میں ناجائز ہے۔ نیز لڑکا اس عمر میں قوام (نگران، محافظ) بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نکاح کے لیے عمر کی تحدید کے معاملے میں طبی اور سماجی علوم کے ماہرین کی آرا کی روشنی میں سماجی مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرے، ہمارے نزدیک شریعت ایسی صالح قانون سازی کی تائید کرتی ہے۔

واللہ اعلم

______

۱۔ المبسوط للسرخسي ۴/ ۲۱۲، بَابُ نِكَاحِ الصَّغِيْرِ وَالصَّغِيْرَةِ۔

۲۔ دیکھیے، البیان از جاوید احمد غامدی، تفسیری نوٹ سورۂ طلاق، آیت ۴۔

۳۔ تفصیل کے لیے دیکھیے راقم کا مضمون: ''بیوہ اور مطلقہ کی عدت ایک جائزہ''ماہنامہ اشراق، مئی ۲۰۱۸ء۔

https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5ae43c6195b3f480376f7fb1?articleId=5ae441fa95b3f480376f8040&year=2018&decade=2010

۴۔ دیکھیے، تدبر قرآن از مولانا امین احسن اصلاحی، تفسیری نوٹ سورۂ طلاق، آیت ۴۔

____________