قبیلائی تعصبات: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں


انسانوں کا خالق جانتا تھا کہ انسان میں کو کوئی مقام حاصل ہو گیا تو یہ پھولے نہ سمائے گا۔ خدشہ تھا یہ اپنے غرور کی چیزوں میں اپنے قبیلوں کو بھی شامل کر گزریں گے۔ پروردگار نے اس بدخصلتی سے متنبہ کر دیا کہ کہیں انسانوں کو ان کی جہالت لے نہ ڈوبے اور وہ قبیلائی فخر و تعصب میں مبتلا ہو کر خدا کے عتاب و سزا کے مستحق جا ٹھیریں۔ قرآن مجید بتاتا ہے:

وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْـًٔا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ م وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا.(النساء ۴: ۳۶)

''اور تم سب اللہ کی بندگی کرو اور اُس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھیراؤ، والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور رشتہ دار پڑوسیوں اور اجنبی پڑوسیوں اور ہم نشینوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔ (اِسی طرح) مسافروں اور لونڈی غلاموں کے ساتھ جو تمھارے قبضے میں ہوں۔ اللہ اُن لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اتراتے اور اپنی بڑائی پر فخر کرتے ہیں۔''

دوسرے موقع پر یوں ہدایت دی گئی :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسآی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّ وَ لَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِءْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓـِٔکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ.(الحجرات ۴۹: ۱۱)

''ایمان والو، (اِسی اخوت کا تقاضا ہے کہ) نہ (تمھارے) مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب دو۔(یہ سب فسق کی باتیں ہیں، اور) ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی بہت برا ہے۔ اور جو (اِس تنبیہ کے بعد بھی) توبہ نہ کریں تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔''۱؂

مولانامودودی آیت کے ان الفاظ کی توضیح میں لکھتے ہیں:

''مذاق اڑانے سے مراد محض زبان ہی سے کسی کا مذاق اڑانا نہیں ہے ، بلکہ کسی کی نقل اتارنا ، اس کی طرف اشارے کرنا ، اس کی بات پر یا اس کے کام یا اس کی صورت یا اس کے لباس پر ہنسنا ، یا اس کے کسی نقص یا عیب کی طرف لوگوں کو اس طرح توجہ دلانا کہ دوسرے اس پر ہنسیں ، یہ سب بھی مذاق اڑانے میں داخل ہیں ۔ اصل ممانعت جس چیز کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی کسی نہ کسی طور پر تضحیک کرے ، کیونکہ اس تضحیک میں لازماً اپنی بڑائی اور دوسرے کی تذلیل و تحقیر کے جذبات کار فرما ہوتے ہیں جو اخلاقاً سخت معیوب ہیں، اور مزید برآں اس سے دوسرے شخص کی دل آزاری بھی ہوتی ہے جس سے معاشرے میں فساد رو نما ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر اس فعل کو حرام کیا گیا ہے۔''

''اس حکم کا منشا یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسے نام سے نہ پکارا جائے یا ایسا لقب نہ دیا جائے جو اس کو ناگوار ہو اور جس سے اس کی تحقیر و تنقیص ہوتی ہو ۔ مثلاً کسی کو فاسق یا منافق کہنا ۔ کسی کو لنگڑا یا اندھا یا کانا کہنا ۔ کسی کو اس کے اپنے یا اس کی ماں یا باپ یا خاندان کے کسی عیب یا نقص سے ملّقب کرنا ۔ کسی کو مسلمان ہو جانے کے بعد اس کے سابق مذہب کی بنا پر یہودی یا نصرانی کہنا ۔ کسی شخص یا خاندان یا برادری یا گروہ کا ایسا نام رکھ دینا جو اس کی مذمت اور تذلیل کا پہلو رکھتا ہو۔''۲؂

انسانوں کو لاحق ہو سکنے والی یہ جہالت سنگین تھی، سو یہاں بہ اندازِ دگر یوں تلقین کی گئی:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآـِٔلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ.(الحجرات ۴۹: ۱۳)

''اے لوگو، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے ، اور تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو ، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو ۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے ۔''۳؂

اس آیت کی توضیح میں جاویداحمدغامدی لکھتے ہیں:

''قرآن نے اُس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور کی بنیاد ڈھا دی ہے جو اُن برائیوں میں سے زیادہ تر کا باعث بنتا ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ فرمایا کہ تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر ، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عز و شرف کی بنیاد کسی شخص کے خاندان اور قبیلہ یا رنگ و نسل پر نہیں، بلکہ تقویٰ پر ہے۔ اُس کے ہاں وہی عزت پائے گا جو سب سے بڑھ کر اُس سے ڈرنے والا اور اُس کے حدود کی پابندی کرنے والا ہے، اگرچہ کتنے ہی حقیر اور گم نام خاندان سے اٹھا ہو۔ اور جو سرکشی اور استکبار اختیار کرے گا، وہ لازماً ذلت سے دوچار ہو گا، اگرچہ کتنا ہی بڑا قریشی اور ہاشمی ہو۔ خاندانوں کی یہ تقسیم محض تعارف اور پہچان کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کے چہرے مہرے، رنگ اور قد وقامت میں فرق رکھا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، اُسی طرح خاندانوں کی تقسیم بھی اِسی مقصد سے کی ہے۔ اِس سے زیادہ اِن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔''۴؂

اس آیت میں پروردگار نے انسانوں پر واضح کر دیا کہ تمھارے نسلی و قبیلائی بتوں کی خدا کے ہاں کوئی قدر و منزلت نہیں ہے۔تم سب خدا کے بندے ہو اور تم سب کو آدم و حوا سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔

آیت کے نزول کا پس منظر:

روایات میں بیان ہوا ہے کہ یہ آیت قبیلائی تعصبات کی باتیں چلنے کے موقع پر نازل ہوئی۔ عرب کے بنو بیاضہ قبیلے والوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے سے باہر شادی دینے کا مشورہ دیا، جس پر انھوں نے قبیلائی تعصب پر مبنی جملہ کہا،خدا نے انسانوں کو متنبہ کیا کہ خبردار ! تم سب آدم کی اولاد ہو۔

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو بیاضہ قبیلہ والوں سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ کی کسی لڑکی سے ابوہند صحابی کا نکاح کردو تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی لڑکیوں کا نکاح اپنے غلاموں سے کر دیں۔ یعنی غلاموں سے نکاح کرنے کو انھوں نے اپنے لیے عار سمجھا۔ اس واقعہ کی وجہ سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاص طور سے یہ آیت ابوہند رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ابوہند رضی اللہ عنہ پیشہ کے اعتبار سے حجام تھے۔ ۵؂

مومنین کرام کو یہ بات نوٹ کرنی ہو گی کہ اللہ کے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حجام صحابی کا نکاح بنو بیاضہ قبیلے میں کرنے کی بات کی۔ قبیلہ والوں کے جواب پر خدا نے کیا رہنمائی دی۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو سامنے رکھ کراپنا جائزہ لینے پر سب واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے سوسائٹی میں حجام کو کیا مقام حاصل ہے۔ اور یہ کہ قبیلے سے باہر شادی کے معاملے میں ہم کہاں تک خداا ور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔

اسی آیت کے پس منظر کے حوالے سے ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے، ابن عباس فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کچھ اونچا سنتے تھے صحابۂ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سبقت کرنے کے باوجود ان کے لیے جگہ دے دیا کرتے تھے تو یہ ثابت رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کے قریب بیٹھ جاتے تھے تاکہ فرامین نبوی کو سن سکیں۔ ایک دن یہ آئے تو ایک رکعت فجر کی ان سے فوت ہو گئی، نماز سے فارغ ہوکر تمام صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اپنی اپنی نشست پکڑلی اور صحابۂ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس طرح بیٹھا کرتے تھے کہ درمیان میں کسی کے بیٹھنے کی گنجایش نہ رہتی تھی۔ ثابت بن قیس نماز سے فارغ ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے لوگوں کی گردن پھلانگتے ہوئے اور جگہ دو جگہ دو کہتے ہوئے، صحابہ نے ان کے لیے گنجایش دی اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، مگر ان کے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک اور صحابی تھے، ان آگے کے صحابی سے ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جگہ دو، آگے والے صحابی نے جواب دیا: میں اپنی جگہ بیٹھا ہوں، تم اپنی جگہ بیٹھو، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں ان کے پیچھے بیٹھے اور کسی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ فلاں ہے، ثابت رضی اللہ عنہ نے ان آگے والے صحابی کو 'یا بن فلانۃ' کہا، جس سے زمانۂ جاہلیت کی کوئی عار دلانی مقصود تھی، وہ آگے والے صحابی بہت شرمندہ ہوئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 'یا بن فلانۃ' کہنے والا کون ہے؟ ثابت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں یا رسول اللہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سب کے چہروں کو دیکھو ثابت رضی اللہ عنہ نے موجود تمام صحابہ کے چہروں کو دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثابت، کیا دیکھا؟ عرض کیا: کوئی سفید ہے؛ کوئی سرخ ہے؛ کوئی سیاہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، تم ان سے نہیں بڑھ سکتے، مگر تقویٰ کی وجہ سے، یعنی تمھارا تقویٰ اور پرہیزگاری ان سے بڑھ کر ہے تو تمھارا مقام عند اللہ اونچا ہوگا، یہ دنیوی اونچ نیچ کی وقعت عند اللہ نہیں ہے ۔ ۶؂

اورایک قول یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہنے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی تو کفار مکہ میں سے عتاب بن اسید بن ابی العاص نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے میرے والد کو یہ برادن دیکھنے سے قبل ہی اٹھالیا۔ حارث بن ہشام نے کہا: اس کالے کوے کے سوا محمد کو کوئی مؤذن ہی نہ ملا۔ سہیل بن عمرو نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کو بدل دیں۔ ابوسفیان جو ابھی اسلام قبول نہیں کیے تھے، انھوں نے کہا: میں کچھ نہیں کہتا، مجھے خوف ہے کہ اس کی خبر آسمان کا رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دے۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کفار مکہ کی یہ شرارت انگیز خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا: کیا یہ باتیں تم سب نے کہی ہیں؟ ان سب نے اقرار کیا ۔ ۷؂

ابونضرۃ کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو مقام منیٰ میں ایامِ تشریق کے درمیان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبوں میں حاضر تھا، دراں حالیکہ آپ اونٹ پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو، خبردار، تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ (آدم) ایک ہے؛ خبردار، کسی عربی آدمی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر؛ نہ کسی کالے وسیاہ آدمی کو کسی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کو کسی سیاہ آدمی پر کوئی فضیلت ہے۔ ہاں، تقویٰ فضیلت کا مدار ہے، پھر آپ نے صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا میں نے پیغام الٰہی امت تک پہنچادیا؟ صحابہ نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو یہاں موجود ہے، وہ اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہے:

عن أبي نضرۃ، قال: حدثني أو حدثنا من شہد خطب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بمنٰی في وسط أیام التشریق وہو علی بعیر، فقال: ''یا أیہا الناس، ألا إن ربکم واحد وإن أباکم واحد، ألا لا فضل لعربي علی عجمي ولا عجمي علی عربي ولا لأسود علی أحمر ولا لأحمر علی أسود إلا بالتقوٰی، ألا ہل بلغت''؟ قالوا: نعم، قال: ''لیبلغ الشاہد الغائب''.۸؂

تفسیر قرطبی میں بحوالہ طبری حضرت مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمھارے حسب ونسب کو نہیں دیکھتے اور نہ تمھارے جسموں ومالوں کو دیکھتے ہیں، لیکن تمھارے دلوں (کے حال) کو دیکھتے ہیں۔ پس جس کا دل صالح ونیک ہو، اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوتے ہیں اور بلاشبہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تم میں وہ ہے جو بڑا متقی ہے۔''۹؂

عن ابن مسعود عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قَالَ: ''مَنْ نَصَرَ قَوْمَہ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ کَالْبَعِیْرِ الَّذِيْ رَوٰی فَہُوَ یُنْزَعُ بِذَنْبِہ''.

''ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے، وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے۔''۱۰؂

عن جبیر بن مطعم أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ: ''لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلی عَصَبِیَّۃٍ وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَصَبِیَّۃً وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ مَّاتَ عَلٰی عَصَبِیَّۃٍ''.

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی اور ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتال کیا اور ہم میں سے نہیں وہ جو عصبیت کی حالت میں مرگیا۔''۱۱؂

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''جو شخص اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے اس طرح کہ عصبیت کی وجہ سے غصے کا اظہار کرے یا عصبیت (قومیت) کی طرف لوگوں کو بلائے یا قومیت (عصبیت) کی بنیاد پر کسی کی مدد کرے، پھر وہ مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی اور جو میری امت کے خلاف تلوار اٹھائے، نیک و بد ہر ایک کو قتل کرے،نہ مومن کے ایمان کا لحاظ کرے(کہ اس کو قتل نہ کرے) نہ کسی عہد والے کے عہد کو پورا کرے،اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہے، نہ میرا اس سے تعلق ہے۔'' ۱۲؂

سیدنا حضرت واثلہ ابن اسقع کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :

یارسول اللہ، عصبیت کیا چیز ہے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عصبیت یہ ہے کہ تم ظلم پر اپنی قوم کی حمایت کرو۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں ہے جو لوگوں کو عصبیت کی دعوت دے، یعنی لوگوں کو کسی ناحق معاملہ میں حمایت کرنے پر آمادہ کرے، نہ وہ شخص ہم میں سے ہے جو عصبیت کے سبب جنگ کرے؛ اسی عصبیت کی حالت میں مرجائے۔ ۱۳؂

فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اس کو چاہیے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے، نہ اس کی مدد کرنا چھوڑے اور نہ اس کو حقیر سمجھے، اور تقویٰ تو یہاں ہوتا ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہا اور اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ فضیلت کا مدار تو تقویٰ ہے۔ آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل سمجھے ہر مسلمان کا مسلمان پر حرام ہے، اس کا خون بہانا (ناحق) اس کا مال (لینا یا ضائع کرنا) اور اس کی آبرو ریزی کرنا۔ ۱۴؂

اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاگیا: یا رسول اللہ، کیا اپنی قوم سے محبت کرنا بھی تعصب وعصبیت ہی کا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، (یعنی قوم سے محبت کرنا کوئی برا نہیں اور نہ یہ تعصب کہلاتا ہے، بلکہ) عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔ ۱۵؂

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ان واضح ارشادات کے باوجود مسلمانوں کا قبیلہ پرستی میں مبتلا رہنا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے۔ہمیں اس جرم سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ دنیا و آخرت کا وبال ہمارا منتظر ہے، ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

فقہاے کرام نے چار طرح کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو ناجائز لکھا ہے ، جن میں ایک تعصب کی وجہ سے لڑائی کرتے کرتے مر جانے والا بھی ہے:

۱۔ امام عادل کے خلاف اسلامی حکومت میں بغاوت کرنے والے؛

۲۔ڈاکو؛

۳۔ تعصب کی وجہ سے آپس میں لڑنے والے دوگروپ اور اسی حالت میں قتل ہو جائیں؛

۴۔ شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے کسی بے گناہ کے قتل کے درپے ہونے والا یا مال غصب کرنے والا اور اسی حالت میں قتل ہوجائے۔ ان بدقسمت لوگوں کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ نماز پڑھی جائے گی، تاہم یہ حکم اسی وقت ہوگا جب کہ یہ حضرات بغاوت کرتے ہوئے، ڈاکا ڈالتے ہوئے، تعصب کی خاطر قتال کرتے ہوئے، شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے کسی بے گناہ کے قتل یا مال لینے کے فراق میں قتل ہو جائیں، ورنہ اگر مذکورہ افعال کے صدور سے قبل یا بعد میں موت واقع ہوتو ان کو غسل بھی دیا جائے گا اور نماز بھی پڑھی جائے گی۔ ۱۶؂

لیکن یہ حکم چونکہ شہدا کا ہے کہ ان کو غسل نہ دیا جائے تو شہدا کی مشابہت سے بچانے کے لیے ان لوگوں کو غسل دیا جائے گا اور نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اسی پر فتویٰ ہے۔۱۷؂ اور ان کی نماز نہ پڑھنا اس لیے تاکہ لوگوں پر ان کی ذلت واضح ہوجائے اور سبق حاصل کریں کہ یہ افعال قبیح اور قابل احتراز ہیں ۔۱۸؂

یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ ہمارے ذات پات کے نظام میں بعض ذاتوں کو اعلیٰ اور بعض کو ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے بہت سے لوگ دوسری ذات میں شادی کرنا پسند نہیں کرتے۔ بعض حضرات اپنے بیٹوں کی شادیاں تو دوسری ذاتوں میں کر دیتے ہیں، لیکن بیٹیوں کی شادیاں صرف اپنی ہی ذات میں رکھتے ہیں۔

مختلف پیشوں کے بارے میں ہمارے یہاں گھٹیا ہونے کا تصور موجود ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر محنت کشوں اور ہاتھ سے کام کرنے والے پیشوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ دیہی معاشرے میں جاگیر دار اور زمین دار اپنے ملازمین کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کرتے ہیں۔ شہری معاشرے میں اگرچہ ملازمین کے ساتھ اتنا حقارت آمیز سلوک نہیں ہوتا، لیکن انھیں بہرحال مالکوں اور اعلیٰ افسران سے کم تر ہی تصور کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دولت مند جاہل متکبر کی گاڑی کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی دیکھی، جس کی ڈگی میں اس نے اپنی گھریلو ملازمہ کو ڈالا ہوا تھا۔ گاڑی میں جگہ ہونے کے باوجود متکبر انسان نے یہ گوارا نہ کیا کہ اس کی گاڑی کی سیٹ پر یہ غریب و بے بس ملازمہ بھی بیٹھ سکے۔

ہم لوگ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی خود سے حقیر سمجھ کر ان کی توہین کرتے ہیں اور بسا اوقات ان سے تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ بالکل اسی قسم کا سلوک مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔

رنگ کی بنیاد پر بھی امتیاز رکھا جاتا ہے اور سیاہی مائل جلد رکھنے والوں کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر امتیاز ہماری نسبت مغربی اقوام میں زیادہ پایا جاتا تھا، لیکن اب ان لوگوں نے کافی حد تک ان برائیوں سے خود کو نجات دے دی ہے۔

زبان اور صوبے یا علاقے کی بنیاد پر بھی ہمارے ہاں خاصا تعصب پایا جاتا ہے اور ایک علاقے یا صوبے کا فرد دوسروں کا مذاق اڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہمارے بعض شہروں، جیسے کراچی میں تو یہ تعصب ایک زمانے میں اتنے عروج پر پہنچ گیا کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لسانی فسادات کا شکار بنے۔ افسوس و شرم کا مقام ہے کہ اس قسم کی جہالت خود کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی اور معلوم نہیں کیا کیا دعوے کرنے والی قوم میں پائی جاتی ہے۔اور یہ سب اس دور میں کہ جب دنیا نے ایسی تمام جہالتیں ترک کر کے انسان کو انسان کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ کل تک امریکا میں سیاہ فام لوگوں کو حقیر سمجھا جاتا تھا، پھر وہ وقت بھی آیا کہ باراک حسین اوبامہ کی صورت میں سیاہ فام آدمی امریکا میں صدارت کے منصب پر فائز ہوا۔ہمارے ہاں تواکثریتی قبیلے والے اقلیتی قبائل کو ووٹ دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو

________

۱؂ البیان، جاویداحمد غامدی۔

۲؂ تفہیم القرآن، آیت کا ذیلی حاشیہ۔

۳؂ آسان ترجمہ قرآن، مفتی محمد تقی عثمانی۔

۴؂ البیان، جاوید احمد غامدی۔

۵؂ مراسیل ابوداؤد / ۱۲۔ الجامع لاحکام القرآن، قرطبی ۸/ ۶۰۴۔ الصاوی۴/ ۱۴۶۔

۶؂ الجامع لاحکام القرآن، قرطبی ۸/ ۵۹۲۔ الصاوی ۴/ ۱۴۶۔

۷؂ تفسیر قرطبی ۸/ ۶۰۵۔ الصاوی ۴/ ۱۶۴۔

۸؂ روح المعانی ۸/ ۱۶۴ من روایت البیہقی والمردویہ، تفسیر قرطبی ۸/ ۶۰۵۔

۹؂ قرطبی ۸/ ۶۰۵ کذا فی مسلم بلفظ غیرہ ۲/ ۳۱۷۔

۱۰؂ ابوداؤد ۲/ ۶۹۸۔ مشکوٰۃ/ ۴۱۸۔

۱۱؂ رواہ ابوداؤد۔ مشکوٰۃ/ ۴۱۸۔

۱۲؂ مسلم ۲/ ۱۲۸۔

۱۳؂ ابوداؤد۔

۱۴؂ مسلم ۲/ ۳۱۷۔

۱۵؂ رواہ احمد وابن ماجہ۔ مشکوٰۃ / ۴۱۸۔

۱۶؂ درمختار علی رد المحتار (شامی)۱/ ۶۴۲۔۶۴۳۔

۱۷؂ تاتارخانیہ ۱/ ۶۰۷۔ رد المحتار ۱/ ۶۴۳۔

۱۸؂ شامی ۱/ ۶۴۲۔

____________