’’قادیانیوں سے تعلقات کی شرعی حیثیت‘‘


مرتب : مولانا مشتاق احمد

ضخامت : ۴۸ صفحات

ناشر : ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ

بیسویں صدی کے آغاز میں پنجاب میں احمدی تحریک کا ظہور ہوا او رمرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مہدویت کے دعوے سامنے آئے تو مولانا عبیداللہ سندھی طبقۂ علما میں غالباً واحد فرد تھے جنھوں نے اس تحریک کا تجزیہ سماجی سائنس کے اصولوں کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اس تحریک کے فروغ کا سبب عقائد اسلام کی دیدہ ودانستہ تحریف یا مسلمات سے انحراف کا کوئی شعوری فیصلہ نہیں ہے ، بلکہ من جملہ دیگر اسباب کے پنجاب میں پیر پر ستی کی مضبوط روایت اور ایک خاص سماجی صورت حال کو اس کے اصل سبب کی حیثیت حاصل ہے۔ چونکہ پنجاب کے متوسط طبقات میں انگریزی حکومت کے نظام کے تحت سرکاری ملازمتوں میں جانے کی خواہش موجود تھی اور مرزا صاحب نے انگریز دشمنی کی عمومی فضا میں وحی والہام کی سند پر انگریزی حکومت کے ساتھ تعاون کو ایک مذہبی فریضہ قرار دیا تھا، اس لیے ایک نفسیاتی ضرورت کے تحت، نہ کہ شعوری اعتقادی انحراف کے باعث، عوام اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہونا شروع ہوگئے۔ مولانا کا خیال یہ تھا کہ اس تحریک کو ایک اعتقادی مسئلے کا رنگ دینا حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں۔ وہ فرماتے تھے '' احمدیت ایک سماجی مظہر (Phenomenon)ہے۔ تحریک ختم نبوت جیسی تحریکیں نہ پہلے اس کا کچھ بگاڑ سکی ہیں اور نہ آیندہ بگاڑ سکیں گی، بلکہ ان سے اتحاد وربط اور قوت و صلابت پیدا ہوگی جیسا کہ اب تک ہوا ہے۔ احمدیت اوراس قسم کی دوسری علیحدگی پسند، رجعت پرست اور استعمار دوست مذہبی تحریکوں سے ایک ترقی پسند سماج او رسیکولر اور سوشلسٹ سیاسی نظام ہی کامیابی سے عہد بر آ ہو سکے گا ۔ اعتقادی ہتھیاروں سے یہ لڑائی نہیں لڑی جاسکتی۔''(افادات وملفوظات ، مرتبہ پروفیسر محمد سرور ۴۱۳۔ ۴۱۴)

تاہم حلقۂ علما میں بالعموم اس کے مخالف نقطۂ نظر کو پزیرائی حاصل ہوئی او رقادیانیت کو انگریز کاخود کاشتہ پودا باور کرتے ہوئے اس فرقۂ نوزائیدہ کی تکفیر کی گئی۔ علما کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں عالم اسلام کے بیش تر ممالک میں قانونی طور پرقادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے، لیکن علما ہنوز مطمئن نہیں ہیں اورنظری طور پر یہ رائے رکھنے کے ساتھ ساتھ کہ قادیانی فقہی حکم کے مطابق عام سطح کے کافر نہیں ، بلکہ ' زندیق 'اورواجب القتل ہیں، اس بات کے بھی خواہش مندہیں کہ سماجی سطح پر قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اوران کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات روانہ رکھے جائیں۔ زیر نظر کتابچہ میں اسی نقطۂ نظر کی ترجمانی پر مبنی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، مولانا مشتاق احمد اور جناب طاہر عبدالرزاق کے قلم سے نکلی ہیں۔

ایک موقف کے ابلاغ کے پہلو سے تو کتابچے کا پیغام واضح ہے، تاہم ایک سوچنے سمجھنے والے قاری کے ذہن میں اس موقف کے حوالے سے جو نہایت بنیادی سوالات پیدا ہوسکتے ہیں، ان سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ مثلاً کتابچے کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ : '' یہود و نصاریٰ اور ان کی مثل کافروں کے ساتھ اسلام نے جس نرمی، حسن اخلاق، ہمدردی و غم خواری اورکاروباری معاملات کی اجازت دی ہے، قادیانی اس کے مستحق نہیں ۔... عام کافر سے صرف دلی دوستی کی ممانعت ہے، اور دنیوی معاملات میں اشتراک جائز ہے ، لیکن قادیانیوں سے تو دنیوی معاملات میں بھی اشتراک جائز نہیں ہے ''۔ (ص ۱۳) تاہم اس 'فرق' پرقرآن و سنت کے نصوص سے کوئی دلیل نہیں دی گئی۔ جو آیات واحادیث دلیل کے طور پرنقل کی گئی ہیں، ان میں، کسی امتیاز کے بغیر ، مطلقاً غیر مسلموں سے دوستی قائم کرنے کی ممانعت کاذکرہے۔

صفحہ ۲ پر اس موقف کے حق میں یوں استدلال کیاگیا ہے کہ :''ہر قادیانی اپنی آمدنی سے ایک معقول اورمقرر حصہ جماعت کے اشاعتی اورتبلیغی پروگرام کے لیے وقف کرتاہے ۔ اب جو مسلمان ان سے کاروبار کرے گا، ان سے کوئی چیز بنوائے گا یا خریدے گا تو اس کفر کی اشاعت میں اس مسلمان کا بھی حصہ ہوجائے گا جس کا گناہ ہونا بڑا واضح ہے'' ، لیکن اس اشکال سے کوئی تعرض نہیں کیاگیا کہ اس صورت میں امت مسلمہ کے لیے تمام غیر مسلم ممالک یاگروہوں سے تجارتی معاملات کم و بیش ناممکن قرار پائیں گے ، اس لیے کہ دنیا کے ہر غیر مسلم ملک یا گروہ کے وسائل کا کچھ نہ کچھ حصہ لازماً ایسے کاموں پر خرچ ہوتا ہے جواسلامی احکام کی رو سے جواز کے دائرے میں نہیں آتے۔

اسی طرح صفحہ ۳۳پر قادیانیت کا قلع قمع کرنے کے لیے یہ تجویزدی گئی ہے کہ اگر اہل اسلام یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ کسی قادیانی دکان دار سے سودا سلف نہیں لیں گے، کسی قادیانی تاجر کو اپنی ایسوسی ایشن کا ممبر نہیں بنائیں گے، دفتروں ، اسکولوں اور کالجوں میں اورہر معاشرتی سطح پر قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے تو ''آپ دیکھیں گے کہ قادیانیت صرف چند ہفتوں میں دم توڑ جائے گئی، ہزاروں قادیانیوں کو اپنے جرم کا احساس ہوگا اور یہ احساس انھیں حقیقت سوچنے پر مجبور کرے گا۔'' قطع نظر اس سوال سے کہ '' حقیقت سوچنے پر مجبور کرنے '' کا یہ انداز حکمت دین کے مسلمات کے کس حد تک مطابق ہے، مذکورہ مفروضے کو اس درجے میں حتمی اور قطعی خیال کر لیا گیا ہے کہ کسی دوسرے احتمال کو زیر بحث لانے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ نتیجے کے طور پر یہ سوال تشنۂ جواب ہی رہ جاتا ہے کہ اگر اس رویے سے قادیانیوں تک حق کا پیغام پہنچنے کے امکانات بالکل مسدود ہوجائیں تو ایسی صورت میں تبلیغ حق کا فریضہ کیسے انجام دیا جائے گا؟

کتابچے میں ، غالباً سنجیدہ تحریروں کی کمی کی تلافی کے لیے جذباتی نوعیت کے مواد کو بھی جگہ دینا پسند کیا گیا ہے۔ قادیانیت کے خلاف عمومی طور پر تنفر کی جو فضا پائی جاتی ہے، اس میں علمی و فکری سوالات اورحکمت عملی سے متعلق امور پر سنجیدہ بحث کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اورناقص اورتیسرے درجے کے استدلالات کو بھی ہاتھوں ہاتھ لے لیا جاتاہے۔ اس کے باوجود ہم امید کرتے ہیں کہ آیندہ ایڈیشن میں مذکورہ علمی نقائص کے ازالے کی طرف توجہ دی جائے گی۔

____________