قانون عبادات (5)


نماز کے اذکار

نماز کے اذکار درج ذیل ہیں :

نماز شروع کرتے ہوئے 'اللّٰہ أکبر' کہا جائے ،

قیام میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی جائے ، پھر اپنی سہولت کے مطابق باقی قرآن کے کچھ حصے کی تلاوت کی جائے ،

رکوع میں جاتے ہوئے 'اللّٰہ أکبر' کہا جائے ،

رکوع سے اٹھتے ہوئے 'سمع اللّٰہ لمن حمدہ' کہا جائے ،

سجدوں میں جاتے اور اُن سے اٹھتے ہوئے 'اللّٰہ أکبر' کہا جائے ،

قعدے سے قیام کے لیے اٹھتے ہوئے بھی 'اللّٰہ أکبر' کہاجائے ،

نماز ختم کرنے کے لیے دائیں اور بائیں منہ پھیرتے وقت: 'اسلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ' کہاجائے ۔

'اللّٰہ أکبر'، 'سمع اللّٰہ لمن حمدہ' اور 'السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ' امام ہمیشہ بالجہر ، یعنی بلند آواز سے کہے گا۔ مغرب اور عشا کی پہلی دو رکعتوں میں ،اور فجر ، جمعہ اورعیدین کی نمازوں میں قرأ ت بھی بلند آواز سے کی جائے گی۔ مغرب کی تیسری ،اور عشا کی تیسری اور چوتھی رکعت میں یہ ہمیشہ سری ہوگی۔ظہر اور عصر کی نمازوں میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے گا ۔

نماز کے لیے شریعت کے مقرر کردہ اذکار یہی ہیں ۔ اِن کی زبان عربی ہے اور نماز کے اعمال ہی کی طرح یہ بھی اجماع اور تواتر عملی سے ثابت ہیں ۔اِن کے علاوہ نماز پڑھنے والا جس زبان میں چاہے ، تسبیح و تحمید اوردعا ومناجات کی نوعیت کا کوئی ذکر اپنی نماز میں کرسکتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس باب میں جو کچھ فرمایا ہے اورآپ کے جو مختارات روایتو ں میں نقل ہوئے ہیں ، وہ ایک مناسب ترتیب کے ساتھ ہم یہا ں بیا ن کیے دیتے ہیں ۔

قیام میں

۱۔نماز کی پہلی رکعت میں تکبیر کے بعد اور قرأ ت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی دعا کرتے اور کبھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے تھے ۔

ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد اور قرأ ت سے پہلے آپ تھوڑی دیر کے لیے خاموش کھڑے رہتے تھے۔ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ ، میرے ما ں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ جب تکبیر او رقرأ ت کے مابین خاموش ہوتے ہیں تو کیا کہتے ہیں ؟آپ نے فرمایا :میں یہ دعا کرتا ہوں :

اللہم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب، اللہم نقنی من الخطایا کما ینقی الثوب الأبیض من الدنس، اللہم اغسل خطایاي بالماء والثلج والبد.۱۰۰؂

''اے اللہ ، تو مجھے میرے گناہوں سے اِس طرح دور کر د ے ، جس طرح تونے مشرق و مغرب کو ایک دوسرے سے دور کیا ہے۔ اے اللہ ، تو مجھے گناہو ں سے ایسا پاک کردے ، جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔اے اللہ ، تو میرے گناہوں کوپانی اور برف اور اولوں سے دھودے۔''

سیدنا علی کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو تکبیر کے بعد اِس طرح کہتے تھے:

وجہت وجہي للذی فطر السموت والأرض حنیفاً وما أنا المشرکین، إن صلاتي ونسکي ومحیاي ومماتي للّٰہ رب العٰلمین، لا شریک لہ وبذلک أمرت وأنا أول المسلمین. اللہم أنت الملک، لا إلہ إلا أنت، أنت ربي وأنا عبدک، ظلمت نفسي، واعترفت بذنبي،فاغفر لي ذنوبي جمیعاً، إنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت، واہدني لأحسن الأخلاق، لا یہدي لأحسنہا إلا أنت، واصرف عني سیِۂا، لا یصرف عني سیِۂاإلا أنت، لبیک وسعدیک، والخیر کلہ في یدیک، والشر لیس إلیک، أنا بک وإلیک، تبارکت وتعالیت، أستغفرک وأتوب إلیک. ۱ ۱۰ ؂

''میں نے تو اپنا رخ بالکل یک سو ہو کر اس ہستی کی طرف کرلیا ہے جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ میری نماز اور میری قربانی ، میرا جینااور مرناسب اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔ اے اللہ ، تو بادشاہ ہے ، تیرے سوا کوئی الہٰ نہیں۔ تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جا ن پر ظلم ڈھایا ہے اور اب اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں ۔ پس تو میرے سب گناہ بخش دے ، اس میں شبہ نہیں کہ گناہوں کو تو ہی بخشتا ہے۔ اورمجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما ، ان کی ہدایت بھی تو ہی دیتا ہے ۔ اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کردے ، ان کو دور بھی مجھ سے تو ہی کرے گا۔ میں حاضر ہوں ، پروردگار ، تیراحکم بجا لانے کے لیے پوری طر ح تیارہوں ۔ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے ۔ میں تیری قوت سے قائم ہوں اور مجھے لوٹنا بھی تیری ہی طرف ہے۔تو برکت والاہے، بلند ہے ۔ میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔''

ام المومنین سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا ان کلمات سے کرتے تھے :

سبحٰنک اللہم وبحمدک، وتبارک اسمک وتعالٰی جدک، ولاإلہ غیرک.۱۰۲؂

''اے اللہ ، تو پاک ہے اور ستودہ صفات بھی ۔ تیرا نام بڑی برکت والا ہے ،تیری شان بڑی بلند ہے ، اور تیرے سواکوئی الہٰ نہیں ہے ۔''

ام المومنین ہی کی روایت ہے کہ رات کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِس دعا سے شروع کرتے تھے :

اللہم، رب جبرائیل ومیکائیل وإسرافیل، فاطر السموت والأرض، عالم الغیب والشہادۃ، أنت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون. اہدني لما اختلف فیہ من الحق بإذنک، إنک تہدي من تشاء إلی صراط مستقیم.۱۰۳؂

''اے اللہ ، جبریل و میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار ، زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے ، غیب و حضور کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے مابین اُن کے اختلافات کا فیصلہ فرما ئے گا۔ حق کے معاملے میں جتنے اختلافات ہیں، تو اپنی توفیق سے اُن میں میری رہنمائی فرما ۔اِس میں شبہ نہیں کہ تو جس کوچاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق ) سیدھی راہ کی ہدایت بخشتا ہے۔''

ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے تھے :

اللہم، لک الحمد. أنت قیِم السموات والأرض ومن فیہن ولک الحمد. لک ملک السموات والأرض ومن فیہن، ولک الحمد. أنت نور السموات والأرض، ومن فیہن ولک الحمد. أنت ملک السموات والأرض، ولک الحمد. أنت الحق، ووعدک الحق، ولقاؤک حق، وقولک حق، والجنۃ حق، والنار حق، والنبیون حق، ومحمد حق، والساعۃ حق. اللہم، لک أسلمت، وبک آمنت، وعلیک توکلت، وإلیک أنبت، وبک خاصمت، وإلیک حاکمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت. أنت المقدم وأنت المؤخر، لا إلہ إلا أنت، ولا حول ولا قوۃ إلا باللّٰہ.۱۰۴؂

''اے اللہ ، حمد تیرے لیے ہے ۔ تو زمین وآسمان اوران کے درمیان کی ہر چیز کا قائم رکھنے والا ہے اور حمد تیرے لیے ہے ۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہی تیرے لیے ہے اورحمد تیرے لیے ہے ۔ تو زمین وآسمان کی روشنی ہے اور حمد تیرے لیے ہے۔ تو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اور حمد تیرے لیے ہے۔ تو حق ہے ،اور تیرا وعدہ حق ہے ، اور تیری ملاقات حق ہے ، اور تیرا کلام حق ہے ، اور جنت حق ہے ، اور دوزخ حق ہے ، اور سارے نبی حق ہیں، اور محمدحق ہیں ، اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ ، میں نے تیرے لیے سر اطاعت جھکا دیا ، اور تجھے مان لیا ،اورتجھ پر بھروسا کیا، اور تیری طرف رجوع کیا، اور تجھے ساتھ لے کر تیر ے دشمنوں سے لڑا ،اور تیرے ہی پاس اپنی فریاد لایا ۔ تو بخش دے جو کچھ میں نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا ہے ، اورجو کچھ چھپا یا اور جو کچھ علانیہ کیا ہے ۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والاہے ۔ تیرے سوا کوئی الہٰ نہیں اورہمت اور قدرت ، سب اللہ ہی کی عنایت سے ہے ۔ ''

اِن کے علاوہ بھی استفتاح کی بعض دعائیں اور اذکار روایتوں میں نقل ہوئے ہیں ۔اِس طرح یہ بات بھی نقل ہوئی ہے کہ اِسی نوعیت کے بعض کلما ت نماز کی ابتدا میں بعض لوگوں کی زبا ن سے نکلے تو آپ نے ان کی تحسین کی اورفرمایا کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے اورمیں نے بارہ فرشتو ں کو دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک انھیں لے جانے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے کی کوشش کررہاہے ۔ ۱۰۵؂

۲۔اِن دعاؤں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے تعوذ کرتے تھے ۔ یہ بالعموم 'أعوذ باللّٰہ السمیعِ العلیم من الشیطن الرجیم، من ہمزہ ونفخہ ونفثہ ' کے الفاظ میں ہوتا تھا۔۱۰۶؂

۳۔ سورۂ فاتحہ کی تلاوت اِس کے بعد 'الحمد للّٰہ رب العٰلمین 'سے شروع کرتے ۱۰۷؂ اور ہر آیت پر وقف کر کے اسے الگ الگ پڑھتے تھے ۔ ۱۰۸؂

آپ کا ارشاد ہے :

''جس نے فاتحہ نہیں پڑھی ، اُس نے گویا نماز نہیں پڑھی ۔ '' ۱۰۹؂

''فاتحہ کے بغیر نماز ناتمام ہے ، ناتمام ہے ، وہ پوری نہیں ہوتی ۔'' ۱۱۰؂

''اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز ا پنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھوں آدھ تقسیم کر دی ہے اور اُس میں بندہ جوکچھ مانگتا ہے ، وہ پاتا ہے ۔ چنانچہ وہ جب 'الحمد للّٰہ رب العٰلمینَ ' کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں:میرے بندے نے میری حمد کی ہے ، اور جب ' الرحمٰن الرحیم' کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا کی ہے ، اور جب 'ملک یوم الدین 'کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں:یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ، اور بندہ جو کچھ مانگتا ہے، وہ پالے گا ۔ پھر جب وہ 'اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین أنعمت علیہم، غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین' کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں:یہ ہے جو میرے بندے کے لیے ہے اوربندے نے جو کچھ مانگا ہے ، وہ میں نے اُسے بخش دیا ہے ۔'' ۱۱۱؂

۴۔سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن کا جوحصہ پڑھتے ، وہ طویل بھی ہوتا تھا اور حالات کے لحاظ سے بہت مختصر بھی ۔۱۱۲؂ فرماتے تھے : میں اس ارادے سے نماز شرو ع کرتا ہوں کہ لمبی پڑھوں گا ،پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس کے رونے پر اس کی ماں کی پریشانی کے خیا ل سے اسے مختصرکردیتا ہوں ۔۱۱۳؂

قرأ ت ترتیل کے ساتھ کرتے ، اس طرح کہ ہر حرف بالکل واضح ہوتا تھا۔۱۱۴؂ لوگو ں کو تلقین فرماتے تھے کہ تلاوت اچھی آواز سے اور غنا کے ساتھ کر نی چاہیے ۔۱۱۵؂ روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ قرأ ت کے دوران میں آپ قرآن کا جواب بھی دیتے تھے۔ چنانچہ تسبیح کے حکم پر تسبیح کرتے ،۱۱۶؂ سجدہ کی آیتو ں پر سجدہ کرتے ،۱۱۷؂ رحمت کی آیتوں پر رحمت او ر عذاب کی آیتوں پر اللہ کی پناہ چاہتے ۱۱۸؂ اور دعاؤں کے مضمون پر 'آمین' کہتے تھے ۔۱۱۹؂

نماز تہجد کی آخری رکعت میں قرأ ت کے بعد بھی بالعموم دعائیں کرتے تھے۔ ۱۲۰؂ اِنھیں قنوت کی دعائیں کہاجاتا ہے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو آپ نے ایک دعا اِسی مقصد کے لیے اِن الفاظ میں سکھائی ہے :

اللہم، اہدني فیمن ہدیت ، وعافني فیمن عافیت ، وتولني فیمن تولیت، وبارک لي فیما أعطیت، وقني شر ما قضیت، فإنک تقضي ولا یقضی علیک، وإنہ لا یذل من والیت، تبارکت ربنا، وتعالیت. ۱۲۱؂

''اے اللہ ، مجھے ان لوگو ں میں شامل کر کے ہدایت دے جنھیں تو نے ہدایت دی ہے؛ اوران لو گو ں میں شامل کر کے عافیت دے جنھیں تو نے عافیت دی ہے ؛اوران میں شامل کر کے دوست بنا جنھیں تو نے دوست بنایا ہے ؛ اور ان چیزو ں میں برکت دے جو تونے مجھے عطا فرمائی ہیں ؛ اور ان چیزوں کے شر سے بچا جو تونے میرے لیے طے کر دی ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ تو حکم لگاتا ہے اور تجھ پر کوئی حکم نہیں لگا یا جاسکتا ؛ اوراس میں شبہ نہیں کہ جسے تو دوست بنا لے ، وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا ۔بہت بزرگ ، بہت فیض رساں ہے تیری ذات، اے ہمارے پروردگار اور بہت بلند بھی ۔''

اِسی نوعیت کی ایک دعا یہ بھی ہے :

اللھم ، إنا نستعینک ونستغفرک ،ونؤمن بک ونتو کل علیک، ونثني علیک الخیر کلہ، ونشکرک ولا نکفرک ، ونخلع ونترک من یفجرک ، اللھم إیاک نعبد، ولک نصلی ونسجد، وإلیک نسعی ونحفد ، نرجو رحمتک ، ونخشی عذابک ، إن عذابک بالکفار ملحق. ۱۲۲ ؂

''اے اللہ ، ہم تیری مدد چاہتے اور تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں۔اور تجھ پر ایمان لاتے ، تجھ پر بھروسا کرتے اور ہر لحاظ سے تیری بہترین ثنا کرتے ہیں ۔ ہم تیرا شکر کرتے ہیں ،اور کبھی ناشکری نہیں کرتے؛ اورتیری نافرمانی کرنے والوں سے الگ رہتے اور انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔اے اللہ ،ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تیرے ہی لیے نمازپڑھتے اور تجھے ہی سجد ہ کرتے ہیں؛ اورہماری سب دوڑ دھوپ بھی تیرے ہی لیے ہے ۔ہم تیری رحمت چاہتے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ تیرا یہ عذاب تیرے منکروں کوہر حال میں آلے گا ۔''

رکوع میں

رکوع کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تلاوت سے منع فرمایا۱۲۳؂ اور لوگو ں کوہدایت کی ہے کہ وہ اس کے بجائے اپنے پروردگار کی عظمت بیان کریں ۔۱۲۴؂ چنانچہ آپ بھی اِس میں کبھی 'سبحان ربي العظیم' (پاک ہے میرا پروردگار، بڑی عظمت والا)کی تکرار کرتے ، ۱۲۵؂ اورکبھی ذیل کے اذکارمیں سے کوئی ذکر کرتے تھے :

سبوح ، قدوس، رب الملائکۃ والروح . ۱۲۶؂

''ہر عیب اور برائی سے پاک ، روح الامین اور فرشتوں کا پروردگار ۔''

سبحٰنک، اللہم ربنا، وبحمدک، اللہم اغفر لي. ۱۲۷؂

''اے اللہ ، اے ہمارے پروردگار ، تو پاک ہے اور ستودہ صفات بھی ۔ اے اللہ، تو مجھے بخش دے ۔''

اللہم لک رکعت، وبک آمنت، ولک أسلمت، وعلیک توکلت. أنت ربي، خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي للّٰہ رب العٰلمین. ۱۲۸ ؂

''اے اللہ ، میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا ، اور تجھ ہی پر ایمان لایا ، اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا ، اور تجھ ہی پر بھروسا کیا۔ تومیرا پروردگار ہے، میر ے کان اور میری آنکھیں، اورمیرا خون اور میرا گوشت ، اورمیری ہڈیا ں اورمیر ے پٹھے،سب اللہ پروردگار عالم کے حضور میں عجز گزار ہیں ۔''

رات کی نماز میں آپ نے رکوع کی حالت میںیہ الفاظ بھی کہے ہیں :

سبحان ذي الجبروت، ولملکوت، والکبریا ء والعظمۃ. ۱۲۹ ؂

''پاک ہے وہ ذات جو قہر وتصرف، اور بڑائی اور عظمت کی مالک ہے ۔''

قومہ میں

رکوع کے بعدجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو 'سمع اللّٰہ لمن حمدہ'کے بعد کبھی 'ربنا، لک الحمد' (پروردگا ر،حمدتیر ے ہی لیے ہے )اورکبھی 'ربنا، ولک الحمد ' (پروردگا ر ، اور حمد تیرے ہی لیے ہے )کہتے اورکبھی اِس کے شروع میں لفظ 'اللھم '(اے اللہ )کا اضافہ کردیتے تھے۔۱۳۰؂ 'ربنا، ولک الحمد' کے بعد درج ذیل الفاظ کا اضافہ بھی بعض روایتوں میں نقل ہوا ہے:

ملء السموات والأرض، ومل ء ماشئت من شي ء بعد، أھل الشنا والمجد، أحق ما قال العبد، وکلنا لک العبد.اللھم لا مانع لما أعطیت، ولا معطي لما منعت، ولا ینفع ذالجد منک الجد. ۱۳۱؂

'' اتنی کہ اس سے زمین وآسمان بھر جائیں ، اور اس کے بعد جوتو چاہے ، وہ بھی بھر جائے ۔ثنا تیرے لیے ہے اوربزرگی بھی تیرے ہی لیے ہے ۔بندو ں کی اس بات کے لیے تو ہی احق ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔ اے اللہ،جسے تو دے ، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک دے، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے ؛ اورتیری گرفت سے بچنے کے لیے کسی کی عظمت اور بزرگی اسے کو ئی فائدہ نہیں دیتی ۔''

یہ اضافہ اس سے کم وبیش الفاظ میں بھی نقل کیا گیا ہے، ۱۳۲؂ اوررات کی نماز میں اس موقع پر 'لربي الحمد ' (حمد میرے پروردگار ہی کے لیے ہے )کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔۱۳۳؂ اسی طرح یہ بات بھی روایت ہوئی ہے کہ نماز کی آخری رکعت کے قومے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر بعض لوگوں کے لیے کم وبیش ایک ما ہ تک نام لے کر دعا اوربعض کے لیے بددعا بھی کی ہے ۔اس کی صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ ہاتھ اٹھائے ہوئے آپ بلند آواز سے دعا کررہے تھے اور لوگ آپ کے پیچھے آمین کہہ رہے تھے۔ ۱۳۴؂

آپ کا ارشاد ہے :اما م جب ' سمع اللّٰہ لمن حمدہ' کہے تو اُس کے جواب میں ' اللھم ، ربنا لک الحمد'کہو، اس لیے کہ جس کی یہ بات فرشتوں کی بات سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے ، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ ۱۳۵؂

صحابۂ کرام میں سے کسی شخص نے اس کے بعد 'حمداً اکثیراً طیباً مبارکأفیہ' (بہت زیادہ حمد، پاکیزہ اور بڑی بابرکت)کے الفاظ کہے توآپ نے فرمایا :میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا ہے کہ ان الفاظ کولکھنے کے لیے وہ ایک دوسرے سے سبقت کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ ۱۳۶؂

سجدوں میں

رکوع کی طرح سجدے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تلاوت سے منع کیا، ۱۳۷؂ اورفرمایا ہے کہ سجد ے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے قریب تر ہوتا ہے، اس لیے اس میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو ۔۱۳۸؂ چنانچہ 'سبحان ربي الأعلیٰ' (پاک ہے میرا پروردگار ، سب سے برتر ) کا پڑھنا بھی سجدے کی حالت میں آپ سے منقول ہے۱۳۹؂ اوراس کی جگہ بعض دوسرے اذکار اور دعاؤں کا ذکر بھی ہوا ہے ۔ان میں سے جودعائیں اوراذکار روایتو ں میں نقل ہوئے ہیں ، وہ یہ ہیں:

سبوح، قدوس، رب الملائکۃ والروح . ۱۴۰؂

'' ہر عیب اور برائی سے پاک ہے وہ روح الامین اور فرشتوں کاپروردگار ۔''

سبحٰنک اللھم ربنا، وبحمدک، اللھم اغفرلي. ۱۴۱؂

''اے اللہ ، اے ہمارے پروردگار ، توپاک ہے اور ستودہ صفات بھی ۔ اے اللہ ، تومجھے بخش دے ۔''

اللھم اغفرلي ذنبي کلہ، دقہ وجلہ، وأو لہ وآخرہ، وعلانیتہ وسرہ . ۱۴۲؂

''اے اللہ ، میرے سب گناہ بخش دے ۔چھوٹے بھی اوربڑے بھی ، اگلے بھی اور پچھلے بھی، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔''

اللھم، لک سجدت، وبک آمنت، ولک أسلمت، سجدوجھي للذي خلقہ وصورہ، وشق سمعہ وبصرہ، تبارک اللّٰہ أحسن الخاٰلقین . ۱۴۳؂

''اے اللہ ، میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا اورتجھ ہی پر ایمان لایا ، اوراپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا ۔ میرا چہرہ اس ہستی کے لیے سجدہ ریزہے جس نے اسے بنایا اوراس کی صورت گری کی ، پھراس میں کان اورآنکھیں بنادیں ۔بہت بزرگ ، بہت فیض رساں ہے اللہ ، سب سے بہتر بنانے والا ۔''

رات کی نمازوں میں یہ دعائیں بھی آپ سے منقول ہیں :

سبحٰنک، وبحمدک، لا إلہ إلا أنت . ۱۴۴؂

'' تو پاک ہے او رستودہ صفات بھی ۔ تیرے سوا کو ئی الہٰ نہیں ہے ۔''

اللھم اغفرلي ماأسررت، وما أعلنت . ۱۴۵؂

''اے اللہ ، تو میرے کھلے اور چھپے ، سب گناہ بخش دے۔''

اللھم أعوذبرضاک من سخطک، وبمعافاتک من عقوبتک، وأعوذبک منک، لا أحصي ثناء علیک، أنت کما أثنیت علی نفسک . ۱۴۶؂

''اے اللہ ، میں تیری ناراضی سے تیری رضا اور تیرے عذاب سے تیری عافیت کی پنا ہ چاہتا ہوں۔ اور (پروردگار)، میں تجھ سے تیری پناہ چاہتاہوں ۔ میرے لیے ممکن نہیں کہ تیری ثنا کا حق ادا کر سکوں۔ تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی ثنا کی ہے۔''

اللھم ، اجعل في قلبي نوراً، وفي سمعي نوراً، وفي بصري نوراً، وعن یمیني نوراً ، وعن شمالي نوراً، وأمامي نوراً، وخلفي نوراً، وفوقي نوراً، وتحتي نوراً، واجعلني نوراً. ۱۴۷؂

''اے اللہ ، تو میرے دل میں نور پیداکردے ؛ اورمیر ے کانو ں اور میری آنکھو ں میں نور پیدا کر دے ؛ اورمیر ے دائیں اور میرے بائیں سے نور پیدا کر دے ؛ اور میرے آگے اور پیچھے نور پیدا کر دے ؛ اور میر ے اوپر اور نیچے نور پیدا کر دے ؛ اور (پروردگار) ، تومجھے سراپا نور بنا دے۔''

جلسہ میں

جلسہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کی ہیں ۔ چنانچہ 'رب اغفرلي '(پروردگار ، تو مجھے بخش دے )کی تکرار ۱۴۸؂ بھی روایت ہوئی ہے ، اوررات کی نمازوں میں یہ دعا بھی روایت کی گئی ہے :

اللھم اغفرلي، وارحمني، وعافني، واھدني، وارزقنی. ۱۴۹؂

''اے اللہ ، تومجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے عافیت دے ،ہدایت دے اور رزق عطا فرما۔''

قعدہ میں

نماز کا قعدہ دعاؤ ں کے لیے خاص ہے اور نماز پڑھنے والا اس میں جو دعا چاہے کرسکتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے جورہنمائی اس باب میں حاصل ہوئی ہے ، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

۱۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں ہوتے تو اس طرح کہتے تھے :اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ پرسلامتی ہو ؛ فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا :یہ مت کہو کہ اللہ پرسلامتی ہو ، اس لیے کہ اللہ تو خود سراسر سلامتی ہے ۔ اس کے بجاے یہ کہنا چاہیے: 'التحیات للّٰہ والصلوٰت والطیبات، السلام علیک، أیھا النبي ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ، السلام علینا وعلی عباد اللّٰہ الصٰلحین۱۵۰؂ تم اس طرح کہو گے توتمھاری یہ دعا ہراس بند ے کو پہنچ جائے گی جوآسمان میں ہے یا زمین وآسمان کے مابین کہیں ہے (آگے فرمایا) : ' اشھد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، وأشھد أن محمداً عبدہ ورسولہ'، ۱۵۱؂ اس کے بعد بندہ جو دعا چاہے، اپنے لیے کر سکتا ہے ۔ ۱۵۲؂

الفاظ کے معمولی اختلافات کے ساتھ یہی دعا سیدنا عمر ، سیدہ عائشہ ، عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عباس اورابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم سے بھی نقل ہوئی ہے ۔۱۵۳؂ روایتو ں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خاص اہتمام کے ساتھ صحابہ کوسکھاتے تھے ۔ ۱۵۴؂

۲۔ابو مسعود انصاری کی روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں :ہم سعد بن عبادہ کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے تو بشیر بن سعدنے آپ سے پوچھا :یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر رحمت بھیجنے کا حکم دیا ہے ، آپ بتائیے کہ ہم آپ پر کس طرح رحمت بھیجیں ؟حضور اس پر خاموش ہوگئے ، یہا ں تک کہ ہمیں خیال ہوا کہ اے کاش ، وہ یہ بات نہ پوچھتے۔ پھر آپ نے فرمایاِ :تمھیں اس طرح کہنا چاہیے: 'اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد، کما صلیت علی آل إبراہیم، وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی آل إبراہیم في العٰلمین، إنک حمید مجید'۱۵۵؂ ۔ (فرمایا): اور سلام بھیجنے کا طریقہ تو تم لوگ جانتے ہی ہو ۔ ۱۵۶؂

اس دعا میں بھی الفاظ کے بعض اختلافات ہیں ۔تاہم فی الجملہ یہی مضمون ہے جو مختلف طریقوں سے نقل ہواہے ۔ پھر یہ بات بھی روایت ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا ہے :جس نے مجھ پر ایک مرتبہ رحمت بھیجی ، اللہ اُس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گا۔ ۱۵۷؂

روایت میں اللہ تعالیٰ کے جس حکم کا حوالہ دیا گیا ہے ، وہ سورۂ احزاب میں اِس طرح بیان ہوا ہے :

اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَا ءِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، یَاَأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا، صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا. (۳۳: ۵۶)

''اللہ اوراس کے فرشتے پیغمبر پررحمت بھیجتے ہیں ۔ ایمان والو، تم بھی ان پر رحمت بھیجو اور سلام بھیجو ، زیادہ سے زیادہ۔''

۳۔ان کے علاوہ جودعائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قعدے میں کی ہیںیا ان کی تلقین فرمائی ہے ، وہ یہ ہیں :

اللہم، إني أعوذ بک من عذاب جھنم ، ومن عذاب القبر، ومن فتنۃ المحیا والممات، ومن شر فتنۃ المسیح الدجال.۱۵۸؂

''اے اللہ، میں میں دوزخ کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں؛ اور قبر کے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں؛ اور موت و حیات کی آزمایش سے پناہ چاہتا ہوں؛ اور مسیح دجال کی آزمایش سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔''

اللہم، إنيظلمت نفسي ظلماً کثیراً، ولا یغفرالذنوب إلا أنت، فاغفرلي مغفرۃ من عندک، وار حمني، إنک أنت الغفور الرحیم. ۱۵۹؂

''اے اللہ ، میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیے ہیں ، اور (جانتا ہوں کہ )میر ے گنا ہو ں کو تیرے سوا کو ئی معاف نہیں کرسکتا۔ اِس لیے ، (اے پروردگار )، تو خاص اپنی بخشش سے میرے گنا ہ بخش دے اورمجھ پر رحم فرما ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تو بخشنے والا ہے ، تیری شفقت ابدی ہے ۔''

اللھم إني أعوذبک من شرما عملت، ومن شرمالم أعمل . ۱۶۰؂

''اے اللہ ، میں نے جو کچھ کیا ہے او رجو کچھ نہیں کیا ، اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔''

اللھم حاسبني حسابا یسیراً. ۱۶۱؂

''اے اللہ، تو میرا حساب آسان کر دے۔''

اللھم بعلمک الغیب وقدر تک علی الخلق، احیني ماعلمت الحیاۃ خیراًلي، وتوفني إذا علمت الوفاۃ خیراً لي.اللھم، وأسألک خشیتک في الغیب والشھادۃ، وأسألک کلمۃ الحق في الرضاء والغضب، وأسألک القصد في الفقر والغنی، وأسألک نعیماً لا ینفد، وأسألک قرۃ عین لا تنقطع، وأسألک الرضاء بعد القضاء، وأسألک برد العیش بعد الموت ، وأسألک لذۃ النظر إلی وجھک ، والشوق إلی لقائک ، في غیر ضراء مضرۃ، ولا فتنۃ مضلۃ، اللھم زینا بزینۃ الإیمان، واجعلنا ھداۃ مھتدین.۱۶۲؂

''اے اللہ ، تو اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے وسیلے سے مجھے اُس وقت تک زندگی دے ، جب تک تو جینے کو میرے لیے بہتر جانے ؛ اوراس وقت دنیا سے لے جا ، جب تو لے جانے کو بہتر جانے۔ اے اللہ ، اورمیں کھلے اور چھپے میں تیری خشیت مانگتا ہوں ؛ اورخوشی او ر رنج میں سچی بات کی توفیق چاہتا ہوں ؛ اور فقر وغنا میں میانہ روی کی درخواست کرتا ہوں ؛ اور ایسی نعمت چاہتا ہوں جوتمام نہ ہو ؛ اورآنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی ختم نہ ہو ۔ اور تیرے فیصلوں پر راضی رہنے کا حوصلہ مانگتا ہوں ؛ اور موت کے بعد زندگی کی راحت مانگتا ہوں ؛ اور تجھ سے ملاقات کا شوق اور تیرے دیدار کی لذت مانگتا ہوں ، اس طرح کہ نہ تکلیف دینے والی سختی میں رہو ں اورنہ گمراہ کردینے والے فتنوں میں۔ اے اللہ، تو ہمیں ایمان کی زینت عطا فرما اور ایسا بنا دے کہ خود بھی ہدایت پررہیں اوردوسروں کوبھی ہدایت دیں۔''

اللھم، إني أسألک من الخیر کلہ، عاجلہ وآجلہ، ماعلمت منہ ومالم أعلم ، وأعوذبک من الشرکہ ، عاجلہ وآجلہ ، ما علمت منہ ومالم أعلم ، وأسألک الجنۃ وما قرب إلیھا من قول أوعمل ، وأعوذبک من النار وما قرب إلیھا من قول أوعمل ، وأسألک من الخیر ما سألک عبدک ورسولک محمد ، وواستعیذک مما استعاذ منہ عبدک ورسولک محمد ، وأسألک ماقضیت لي من أمر أن تجعل عاقبتہ رشداً . ۱۶۳؂

'اے اللہ، میں تجھ سے ہر طرح کی بھلائی چاہتاہوں ؛ وہ بھی جوفوراً ملنے والی ہے اور وہ بھی جس کے لیے تو نے وقت مقرر کر رکھا ہے؛ وہ بھی جو میرے علم میں ہے اور وہ بھی جسے میں نہیں جانتا ۔ اور ہر طرح کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں ؛وہ بھی جو عنقریب پہنچ جائے گا اوروہ بھی جس کے لیے تونے وقت مقر ر کررکھا ہے ؛ وہ بھی جو میرے علم میں ہے اور وہ بھی جسے میں نہیں جانتا ۔ اورتجھ سے جنت مانگتا ہوں ، اورایسے قول وعمل کی توفیق چاہتا ہوں جو اس کے قریب کر دینے کا باعث ہو ۔ اور دوزخ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور ایسے قول و عمل سے پناہ مانگتا ہوں جو اُس کے قریب کردینے کا باعث ہو۔ (پروردگار) ، میں تجھ سے وہ بھلائی چاہتا ہوں جو تیرے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے چاہی ہے ،اور ان چیزوں سے پناہ مانگتا ہوں جن سے تیرے بندے اوررسول محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے پناہ مانگی ہے ۔اور تو نے جو فیصلہ بھی میرے لیے کیا ہے، اس میں تجھ سے اچھے انجام کی درخواست کرتا ہوں۔''

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ قعدے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری دعا بالعموم یہ ہوتی تھی:

اللھم اغفرلي ماقدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم بہ مني، أنت المقدم وأنت المؤخر، لاإلہ إلا أنت. ۱۶۴؂

''اے اللہ ، تو میرے گنا ہ معاف کردے ؛ اگلے اورپچھلے ، کھلے اور چھپے ۔ اورجوزیادتی مجھ سے ہوئی ہے ، اسے بھی معاف فرما دے اور وہ سب چیزیں بھی جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتاہے۔ تو ہی لوگو ں کو آگے کرنے والا ہے اور تو ہی انھیں پیچھے کرنے والا ہے۔ تیر ے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے ۔''

وائل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دائیں طرف سلام پھیرتے وقت آپ کبھی کبھی 'السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ ' کے ساتھ 'وبرکاتہ'(اوراس کی برکتیں ) کا اضافہ بھی کردیتے تھے ۔ ۱۶۵؂

نماز کے بعد

نمازسے فراغت کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم ذکر ودعا میں مشغول ہوتے تھے ۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور کے نماز سے فارغ ہوجانے کا علم مجھے 'اللّٰہ أکبر' کہنے سے ہوتا تھا۔ ۱۶۶؂

سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیرہی بیٹھتے تھے کہ اس میں یہ ذکرفرمالیں:

اللھم أنت السلام، ومنک السلام، تبارکت، یا ذا الجلال والإکرام .۱۶۷؂

''اے اللہ ، توسراسر سلامتی ہے ، اور سلامتی سب تیری ہی طرف سے ہے ۔ اے عزت و جلالت کے مالک ، تیری ذات بڑی ہی بابرکت ہے ۔''

ثوبان ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اِس سے پہلے آپ تین مرتبہ استغفار بھی کرتے تھے ۔ ۱۶۸؂

مغیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ نماز کے بعد آپ یہ دعا فرماتے تھے :

لا إلہ إلاللّٰہ وحدہ، لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، وھو علی کل شيء قدیر، اللھم لا مانع لماأعطیت، ولا موطي لما منعت، ولا ینفع ذا الجد منک الجد. ۱۶۹؂

''اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ بادشاہی اس کی ہے اور حمدوثنا بھی اسی کے لیے ہے ، اور وہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے ۔اے اللہ ،جسے تو دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اورجس چیز سے تو روک دے ، اسے کوئی دینے والانہیں ہے ؛ اورکسی مرتبے والے کو اس کامرتبہ تیری گرفت کے مقابلے میں کچھ بھی نفع نہیں دیتا ۔''

عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوتے تو یہ ذکر کرتے تھے :

لا إلہ إلا اللّٰہ، وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شيء قدیر. لاحول ولا قوۃ إلا باللّٰہ، لا إلہ إلا اللّٰہ، ولا نعبد إلا إیاہ. لہ النعمۃ، ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللّٰہ، مخلصین لہ الدین، ولو کرہ الکافرون. ۱۷۰؂

''اللہ کے سو ا کوئی الہٰ نہیں، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ بادشاہی اس کی ہے اور حمد وثنا بھی اُسی کے لیے ہے؛ اوروہ ہرچیز پرقدرت رکھتا ہے ۔ہمت اور قدرت ، سب اللہ ہی کی عنایت سے ہے ، اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اورہم اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ نعمت اور عنایت، سب اسی کی ہیں اور اچھی ثنا بھی اسی کے لیے ہے ۔اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں، اطاعت کو منکروں کے علی الرغم اسی کے لیے خالص کرتے ہیں ۔''

سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ کلمات سکھاتے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذریعے سے ہر نماز کے بعد اللہ کی پناہ چاہتے تھے :

اللھم إني أعوذ بک من البخل، وأعوذبک من الجبن، وأعوذبک من أن أرد الی أرذل العمر، وأعوذبک من فتنۃ الدنیا، وعذاب القبر. ۱۷۱؂

''اے اللہ ، میں بخل اوربزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، ارذل عمر کی طرف لوٹائے جانے سے پناہ چاہتا ہوں، اوردنیا کی آزمایش اور قبر کے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں ۔''

ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقراے مہاجرین کو تعلیم دی کہ ہر نماز کے بعد وہ ۳۳مرتبہ 'سبحان اللّٰہ'، ۳۳مرتبہ 'الحمد للّٰہ'، اور ۳۳ مرتبہ 'اللّٰہ اکبر 'کہا کریں۔۱۷۲؂

ابو ہریر ہ ہی کا بیان ہے کہ اِس ۹۹کو درج ذیل کلمات سے ۱۰۰کردیا جائے تو آدمی کے گنا ہ معاف کردیے جاتے ہیں ، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہی کیو ں نہ ہوں :

لا إلہ إلا اللّٰہ، وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شيء قدیر . ۱۷۳؂

''اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے ، وہ یکتا ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ۔ بادشاہی اس کی ہے،حمدوثنا بھی اُسی کے لیے ہے اوروہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے ۔''

ابن عجرہ کی ایک روایت میں ۳۳مرتبہ 'سبحان اللّٰہ'، ۳۳مرتبہ 'الحمد للّٰہ 'اور ۳۴ مرتبہ 'اللّٰہ اکبر 'کہنے کا ذکر بھی ہوا ہے ۔۱۷۴؂

زید بن ثابت کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک انصاری نے بیان کیا کہ انھیں کسی شخص نے خواب میں ۳۳ مرتبہ کی جگہ ۲۵مرتبہ 'سبحان اللّٰہ '، ۲۵ مرتبہ 'الحمد للّٰہ'، ۲۵مرتبہ 'اللّٰہ اکبر'اور اس کے ساتھ ۲۵مرتبہ ' لا إلہ إلا اللّٰہ' کہنے کی تلقین کی ہے ۔آپ نے فرما یا :یہی کر لیا کرو ۔۱۷۵؂

[باقی]

________

۱۰۰؂ بخاری، رقم ۷۱۱۔ مسلم، رقم ۵۹۸۔

۱۰۱؂ مسلم، رقم ۷۷۱۔

۱۰۲؂ ابوداؤد، رقم ۷۷۶۔

۱۰۳؂ مسلم، رقم۷۷۰۔

۱۰۴؂ بخاری، رقم ۱۰۶۹۔

۱۰۵؂ مسلم، رقم۶۰۰۔

۱۰۶؂ ابوداؤد، رقم ۷۷۵، ''میں شیطان مردود کے وسوسوں، اس کی پھونکوں اور اس کے الہام سے اللہ، سمیع وعلیم کی پناہ مانگتا ہوں۔''

۱۰۷؂ مسلم، رقم۴۹۸۔

۱۰۸؂ ترمذی، رقم ۲۹۲۷۔

۱۰۹؂ بخاری، رقم ۷۲۳۔

۱۱۰؂ مسلم ، رقم ۳۹۵۔

۱۱۱؂ مسلم ، رقم ۳۹۵۔

۱۱۲؂ احمد، رقم ۱۳۷۲۶۔

۱۱۳؂ بخاری ، رقم ۶۷۵۔

۱۱۴؂ ابوداؤد، رقم ۱۴۶۶۔

۱۱۵؂ ابوداؤد، رقم ۱۴۶۸، ۱۴۶۹۔ ابن ماجہ ، رقم ۱۳۳۷۔

۱۱۶؂ مسلم ، رقم ۷۷۲۔

۱۱۷؂ بخاری ، رقم ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، ۱۰۲۴۔

۱۱۸؂ ابوداؤد، رقم ۸۷۱ ۔

۱۱۹؂ ابوداؤد، رقم ۹۳۶ ۔

۱۲۰؂ ابوداؤد، رقم ۱۴۲۷۔

۱۲۱؂ ابوداؤد، رقم ۱۴۲۵۔

۱۲۲؂ طحاوی، رقم ۱۳۷۰۔

۱۲۳؂ مسلم ، رقم ۴۸۰۔

۱۲۴؂ مسلم ، رقم ۴۷۹۔

۱۲۵؂ ابوداؤد، رقم ۸۷۴۔

۱۲۶؂ مسلم ، رقم ۴۸۷۱۔

۱۲۷؂ بخاری، رقم ۷۶۱۔

۱۲۸؂ نسائی ، رقم ۱۰۵۱۔

۱۲۹؂ ابوداؤد، رقم ۸۷۳ ۔

۱۳۰؂ بخاری ، رقم ۷۰۲، ۷۵۶، ۴۲۸۴۔

۱۳۱؂ مسلم ، رقم ۴۷۷۔

۱۳۲؂ ابوداؤد، رقم ۷۶۰۔

۱۳۳؂ ابوداؤد، رقم ۸۷۴۔

۱۳۴؂ بخاری ، رقم ۲۷۷۴، ۳۸۷۹، ۴۲۸۴۔ ابوداؤد، رقم ۱۴۴۳۔ احمد ، رقم ۱۲۴۲۵۔

۱۳۵؂ بخاری ، رقم ۷۶۳۔

۱۳۶؂ ابوداؤد، رقم۷۷۰۔

۱۳۷؂ مسلم ، رقم۴۸۰۔

۱۳۸؂ مسلم ، رقم ۴۸۲۔

۱۳۹؂ ابوداؤد، رقم ۸۷۱، ۸۷۴۔

۱۴۰؂ مسلم ، رقم ۴۸۷۔

۱۴۱؂ ابوداؤد، رقم ۸۷۷۔

۱۴۲؂ مسلم ، رقم ۴۸۳۔

۱۴۳؂ مسلم ، رقم ۷۷۱۔

۱۴۴؂ مسلم ، رقم ۴۸۵۔

۱۴۵؂ نسائی ، رقم ۱۱۲۴۔

۱۴۶؂ مسلم ، رقم ۴۸۶۰۔

۱۴۷؂ مسلم ، رقم ۷۶۳۔

۱۴۸؂ ابن ماجہ ، رقم۹۰۵۔

۱۴۹؂ ابوداؤد، رقم ۸۵۰۔

۱۵۰؂ ''تمام نیاز ، دعائیں اور پاکیزہ اعمال ، سب اللہ ہی کے لیے ہیں ۔ آپ پر سلامتی ہو ، اے نبی ، اور اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے سب نیک بندوں پر بھی ۔ ''

۱۵۱؂ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس کے بندے اور رسول ہیں۔''

۱۵۲؂ بخاری ، رقم ۸۰۰۔

۱۵۳؂ الموطا، رقم۲۰۳۔ مسلم ، رقم۴۰۳، ۴۰۴۔ ابوداؤد، رقم ۹۷۱ ۔ ابن ابی شیبہ ، رقم ۲۹۹۳۔

۱۵۴؂ مسلم ، رقم ۴۰۳۔

۱۵۵؂ ''اے اللہ ، تو محمد اور ان کے خاندان پر رحمت فرما، جس طرح تو نے ابراہیم کے خاندان پر رحمت فرمائی ہے ، اور محمد اور ان کے خاندان پر اپنی برکت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم کے خاندان پر پورے عالم میں اپنی برکت نازل کی ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ تو بزرگ اور ستودہ صفات ہے ۔ ''

۱۵۶؂ مسلم ، رقم ۴۰۵۔

۱۵۷؂ نسائی ، رقم ۱۲۹۵۔

۱۵۸؂ مسلم ، رقم ۵۸۸۔

۱۵۹؂ بخاری ، رقم ۷۹۹۔

۱۶۰؂ مسلم ، رقم ۲۷۱۶۔

۱۶۱؂ احمد، رقم ۲۴۲۶۱۔

۱۶۲؂ نسائی ، رقم ۱۳۰۵۔

۱۶۳؂ احمد ، رقم ۲۵۱۸۰۔

۱۶۴؂ ابوداؤد، رقم ۱۵۰۹۔

۱۶۵؂ ابوداؤد، رقم ۹۹۷۔

۱۶۶؂ بخاری، رقم ۷۰۶۔

۱۶۷؂ مسلم، رقم ۵۹۲۔

۱۶۸؂ مسلم ، رقم ۵۹۱۔

۱۶۹؂ بخاری ، رقم ۸۰۸۔

۱۷۰؂ مسلم ، رقم ۵۹۴ ۔

۱۷۱؂ بخاری ، رقم ۶۰۰۴۔

۱۷۲؂ مسلم ، رقم ۵۹۵۔

۱۷۳؂ مسلم ، رقم ۵۹۷۔

۱۷۴؂ مسلم ، رقم ۵۹۶۔

۱۷۵؂ احمد، رقم ۲۱۶۴۰۔

____________