قانون عبادات (4)


نماز کے اعمال

نماز کے لیے جو اعمال شریعت میں مقرر کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں:

نماز کی ابتدارفع یدین سے ، یعنی دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھا کرکی جائے ،

قیام کیا جائے ،

پھر رکوع کیا جائے ،

پھر آدمی قومہ کے لیے کھڑا ہو ،

پھر یکے بعد دیگرے دو سجد ے کیے جائیں ،

ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دو زانوہوکر قعدے کے لیے بیٹھے ،

نماز ختم کرنا پیش نظر ہو تو اِسی قعدے کی حالت میں منہ پھیر کر نماز ختم کردی جائے ۔

نماز کے یہ اعمال اجماع اور تواتر عملی سے ثابت ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے: 'صلوا کما رایتمونی اصلی' ۵۹؂ (نما ز اُس طرح پڑھو ، جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو )۔ چنانچہ آپ یہ اعمال جس اہتمام کے ساتھ اور جس طریقے سے انجام دیتے تھے ، اُس کی تفصیلات ہم اِسی مقصد سے یہاں بیان کیے دیتے ہیں ۔

رفع یدین

رفع یدین آپ کبھی تکبیر کے ساتھ ، کبھی تکبیر سے پہلے اور کبھی تکبیر کے بعد کرتے تھے۔ ۶۰؂ ہاتھ کھلے ہوتے اور ہاتھو ں کی انگلیاں نہ بالکل ملاتے اور نہ پوری طرح کھول کر الگ الگ رکھتے تھے ۔ ۶۱؂ ہاتھ اِس طرح اٹھاتے کہ کبھی کندھوں کے سامنے اور کبھی کانوں کے اوپر کے حصے تک آجاتے تھے ۔ ۶۲؂

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رفع یدین بعض موقعوں پر آپ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد بھی کرتے تھے۔ ۶۳؂ اِسی طرح کبھی تیسری رکعت سے اٹھتے وقت ۶۴؂ اور کبھی سجدے میں جاتے اور اُس سے اٹھتے ہوئے بھی کرلیتے تھے۔ ۶۵؂

قیام

قیام میں آپ سیدھے ۶۶؂ اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے۔ ۶۷؂ ہاتھ اِس طرح باندھتے کہ دائیں ہاتھ کا کچھ حصہ بائیں ہاتھ کی پشت پر ، کچھ حصہ پہنچے پر اور کچھ کلائی پر ہوتا تھا۔ ۶۸؂ بایاں ہاتھ دائیں پر رکھ کر قیام کرنے سے آپ نے لو گو ں کومنع فرمایا ہے۔ ۶۹؂

بعض روایتو ں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہوا ہے ۔ ۷۰؂ قیام کی حالت میں ناف سے اوپر ہاتھ جہاں بھی باندھے جائیں گے ، اُس کے لیے یہ تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے ۔ لہٰذا اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ اپنے ہاتھ ، جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں ، بالکل چھاتی پر باندھ کر کھڑے ہوتے تھے۔

رکوع

رکوع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلیاں اِس طرح گھٹنوں پر رکھتے کہ لگتا تھا اُنھیں پکڑے ہوئے ہیں۔ ۷۱؂ انگلیاں گھٹنوں کے نیچے او رکھلی ہوتی تھیں، ۷۲؂ کہنیوں کو پہلووں سے الگ ر کھتے، ۷۳؂ دونوں ہاتھ کمان کے چلے کی طرح تان لیتے، ۷۴؂ سرکو نہ جھکاتے ، نہ اوپر کو اٹھاتے ، بلکہ پیٹھ کے برابر کر لیتے ۷۵؂ او رفرماتے تھے کہ لوگو، جس نے رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں رکھی ، اُس کی نماز نہیں ہے ۔ ۷۶؂

قومہ

رکوع سے قومے کے لیے اٹھتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے ، یہاں تک کہ ریڑھ کی ہر ہڈی ٹھکانے پر آجاتی تھی۔ ۷۷؂ عام طور پریہ قیام رکوع کے برابر ہی ہوتا ، لیکن کبھی کبھی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ خیال ہوتا، غالباًبھول گئے ہیں ۔۷۸؂ فرماتے تھے: اُس شخص کی نمازاللہ تعالیٰ کی نگاہ التفات سے محروم ہے جو رکوع سے اٹھ کر اپنی کمر سیدھی نہیں کر تا اور سجدے میں چلاجاتاہے۔ ۷۹؂

سجود

سجدے میں جاتے تو انگلیوں کو ملا کر ہتھیلیا ں پھیلا دیتے، ۸۰؂ انگلیاں قبلہ رو ۸۱؂ او ر ہاتھ کبھی کندھوں کے برابر، کبھی کانوں کے سامنے ۸۲؂ اور اتنے کھلے ہوئے ہوتے کہ بکری کا بچہ اُن کے نیچے سے نکل جائے۔ ۸۳؂ بازو پہلووں سے اِس طرح الگ رہتے تھے کہ پیچھے بیٹھے ہوئے لوگو ں کو آپ کی بغلوں کا گورا رنگ نظر آ جاتا تھا ۔ ۸۴؂ پاؤں کھڑے رکھتے، ۸۵؂ ایڑیاں ملاتے۸۶؂ اور پاؤں کی انگلیوں کو موڑ کر قبلہ رو کر لیتے۔ ۸۷؂ فرماتے تھے کہ مجھے پیشانی اور ناک، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اوردونو ں پاؤں کے پنجوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ۸۸؂

جلسہ

دوسجدوں کے درمیان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹا پیر بچھا کر اُس پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔۸۹؂ جلسے ، سجود اور قومے میں آپ کے ٹھیرنے کا وقت کم وبیش یکساں ہوتا تھا ۔ ۹۰؂ تاہم قومے کی طرح جلسے میں بھی کبھی اتنی دیر بیٹھے رہتے کہ خیا ل ہوتا ، غالباًبھول گئے ہیں۔۹۱؂ پھر یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ دوسرے سجدے کے بعد بعض اوقات آپ سیدھے کھڑے ہوجانے کے بجاے بیٹھ جاتے اور اِس کے بعد اگلی رکعت کے لیے اٹھتے تھے ۔ ۹۲؂

قعدہ

قعدے میں بالکل اُسی طرح بیٹھتے، جس طرح جلسے میں الٹا پیر بچھا کر اُس پر بیٹھتے تھے۔ ۹۳؂ سیدھا پاؤں کھڑا ہوتا، ۹۴؂ دایاں ہاتھ پھیلاکر دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھ لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ ۹۵؂ اِس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ بیٹھنے کے بعد باقی انگلیاں سمیٹ لیتے ، انگوٹھا درمیا ن کی انگلی پر رکھتے اور کبھی کبھی اِن دونوں سے حلقہ بنا لیتے تھے۔ ۹۶؂

نماز کی آخری رکعت میں بعض موقعوں پر اِس طرح بھی بیٹھتے کہ بایاں کولھا زمین پر رکھتے اور الٹے پیر کو دائیں پیر کی طرف باہر کو نکال لیتے تھے ۔ ۹۷؂

نمازکے یہ تمام اعمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم غایت درجہ اعتدال اور نہایت اطمینان کے ساتھ انجام دیتے ۹۸؂ او رلوگو ں کو اِسی کی تلقین فرماتے تھے ۔ ۹۹؂

[باقی]

________

۵۹؂ بخاری ، رقم ۶۰۵ ۔

۶۰؂ بخاری ، رقم ۷۰۵۔ مسلم ، رقم ۳۹۰،۳۹۱۔

۶۱؂ ابوداؤد، رقم ۷۵۳۔ ابن خزیمہ ، رقم ۴۵۹۔

۶۲؂ بخاری ، رقم ۷۰۲ ، ۷۰۵ ۔ مسلم، رقم ۳۹۱۔ ابوداؤد، رقم ۷۲۶۔ نسائی ، رقم ۸۸۱۔

۶۳؂ بخاری ، رقم ۷۰۲ ۔ مسلم ، رقم ۳۹۰۔

۶۴؂ بخاری ، رقم ۷۰۶ ۔

۶۵؂ نسائی ، رقم ۱۰۸۵۔

۶۶؂ ابوداؤد، رقم ۷۳۰ ۔ ابن ماجہ ، رقم ۸۶۲ ۔

۶۷؂ مسلم ، رقم ۴۰۱۔ ابوداؤد، رقم ۷۵۹ ۔

۶۸؂ نسائی ، رقم ۸۸۹۔

۶۹؂ ابوداؤد، رقم ۷۵۵۔

۷۰؂ احمد ، رقم ۲۲۰۱۷۔ ابوداؤد، رقم ۷۵۹۔

۷۱؂ بخاری ، رقم ۷۹۳ ۔ ابوداؤد، رقم ۷۳۴ ۔

۷۲؂ احمد ، رقم ۱۷۱۷، ۱۷۱۲۲۔

۷۳؂ ابوداؤد، رقم ۷۳۴۔

۷۴؂ ابوداؤد، رقم ۷۳۴ ۔

۷۵؂ مسلم ، رقم ۴۹۸۔ ابوداؤد، رقم ۷۳۰۔

۷۶؂ ابوداؤد، رقم ۸۵۵ ۔ نسائی، رقم ۱۰۲۷۔ ابن ماجہ ، رقم ۸۷۰۔ ۸۷۱۔

۷۷؂ بخاری ، رقم ۷۹۳ ۔

۷۸؂ بخاری، رقم ۷۸۷۔ مسلم ، رقم ۴۷۲۔

۷۹؂ احمد ، رقم ۱۰۸۱۲۔

۸۰؂ ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۱۶۔

۸۱؂ ابن ابی شیبہ ، رقم ۲۷۱۶۔

۸۲؂ ابوداؤد، رقم ۷۳۴۔ نسائی ، رقم ۸۸۹۔

۸۳؂ مسلم ، رقم ۴۹۶۔

۸۴؂ مسلم ، رقم ۴۹۵، ۴۹۷۔

۸۵؂ مسلم ، رقم ۴۸۶۔

۸۶؂ ابن خزیمہ ، رقم ۶۵۴۔

۸۷؂ بخاری ، رقم ۷۹۳۔

۸۸؂ بخاری، رقم ۷۷۹۔ مسلم، رقم ۴۹۰۔

۸۹؂ ابوداؤد، رقم ۷۳۰ ۔ ۷۳۴۔

۹۰؂ بخاری ، رقم ۷۵۹۔ مسلم ، رقم ۴۷۱۔

۹۱؂ بخاری ، رقم ۷۸۷۔ مسلم ، رقم ۴۷۲۔

۹۲؂ بخاری ، رقم ۷۸۹ ۔ ابوداؤد، رقم ۷۳۰۔

۹۳؂ بخاری ، رقم ۷۹۳ ۔ ابوداؤد ، رقم ۷۳۱ ، ۷۳۴ ۔

۹۴؂ بخاری ، رقم ۷۹۳ ۔ ابوداؤد ، رقم ۷۳۰ ، ۷۳۴ ۔

۹۵؂ مسلم ، رقم ۵۷۹، ۵۸۰۔ ابوداؤد، رقم ۷۳۴۔

یہ اشارہ توحید کی علامت ہے، اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ قعدے کی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے موقع پر کیا جائے۔

۹۶؂ مسلم ، رقم ۸۵۰۔

۹۷؂ بخاری ، رقم ۷۹۳۔ ابوداؤد، رقم ۷۳۰،۷۳۱۔

۹۸؂ ابوداؤد، رقم ۷۳۰۔

۹۹؂ بخاری، رقم ۷۲۴۔

____________