قانون عبادات (6)


نماز کے اوقات

نماز مسلمانوں پر شب وروز میں پانچ وقت فرض کی گئی ہے۔ یہ اوقات درج ذیل ہیں:

فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔

صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہو جائے تو یہ فخر ہے۔

ظہر سورج کے نصف النہار سے ڈھلنے کا وقت ہے۔

سورج مرأی العین سے نیچے آجائے تو یہ عصر ہے۔

سورج کے غروب ہو جانے کا وقت مغرب ہے۔

شفق کی سرخی ختم ہو جائے تو یہ عشا ہے۔

فجر کا وقت طلوع آفتاب تک؛ ظہر کا عصر، عصر کا مغرب، مغرب کا عشا اور عشا کا وقت آدھی رات تک ہے۔ سورج کے زمانۂ پرستش میں طلوع وغروب کے وقت اس کی عبادت کے باعث یہ دونوں وقت نماز کے لیے ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔ نماز کے اعمال واذکار کی طرح اس کے یہ اوقات بھی اجماع اور تواتر عملی سے ثابت ہیں۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ انبیا علیہم السلام کے دین میں نماز کے اوقات ہمیشہ یہی رہے ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف موقعوں پر انھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ، وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ، ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ.(ہود ۱۱: ۱۱۴)

''اور دن کے دونوں حصوں میں نماز کا اہتمام کرو، اور رات کے کچھ حصے میں بھی، اس لیے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے لیے یاددہانی ہے جو یادہانی حاصل کرنا چاہیں۔''

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ، اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْھُوْدًا، وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ، عَسآی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۷۸۔۷۹)

''سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے تاریک ہو جانے تک نماز کا اہتمام کرو اور بالخصوص فجر کی قرأت کا، اس لیے کہ فجر کی قرأت روبرو ہوتی ہے۔ اور رات میں بھی کچھ دیر کے لیے اسی طرح اٹھو (اور نماز پڑھو)۔ یہ تمھارے لیے مزید براں ہے۔ اس سے توقع ہے کہ تمھارا رب تمھیں (قیامت کے دن) اس طرح اٹھائے کہ تم ممدوح خلائق ہو۔''

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا، وَمِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ، وَاَطْرَافَ النَّھَارِ، لَعَلَّکَ تَرْضٰی.(طہٰ ۲۰: ۱۳۰)

''اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج کے طلوع وغروب سے پہلے، اور (اسی طرح) رات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی تاکہ تم نہال ہو جاؤ۔''

فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ، وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ، وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَعَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ.(الروم ۳۰: ۱۷۔۱۸)

''اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کرتے اور جب صبح کرتے ہو، اور (جان رکھو کہ) زمین وآسمان میں اُسی کی حمد ہو رہی ہے، اور عشا کے وقت بھی (تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب ظہر ہوتی ہے۔''

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ، وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ، وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ.(ق ۵۰: ۳۹۔۴۰)

''اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، سورج کے طلوع وغروب سے پہلے، اور رات کے کچھ حصے میں بھی اُس کی تسبیح کرو، اور سورج کی سجدہ ریزیوں کے بعد بھی۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل سے جو رہنمائی اس باب میں حاصل ہوتی ہے، اس کی تفصیلات یہ ہیں:

۱۔ فجر کی نماز آپ بالعموم اندھیرے ہی میں پڑھ لیتے تھے۔ چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ عورتیں نماز پڑھ کر چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں تو پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔۱۷۶؂

۲۔ ظہر کی نماز عین نصف النہار کے وقت پڑھنے سے آپ نے منع کیا اور فرمایا ہے کہ یہ وقت جہنم کے دہکانے کا ہے ۱۷۷؂ ۔ اس نماز کے متعلق آپ کا عام طریقہ یہ تھا کہ گرمی کے موسم میں اسے ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔۱۷۸؂

۳۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے ، جب سورج بلندی پر اور پوری طرح روشن ہوتا تھا۱۷۹؂۔فرماتے تھے: یہ منافق کی نماز ہے کہ سورج کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے۔ پھر جب وہ زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان میں آجاتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے، اور اپنی اس نماز میں اللہ کو کم ہی یاد کرتا ہے ۱۸۰؂۔

۴۔ مغرب کی نماز جلدی پڑھتے اور عشا میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے۔ بیان کیا گیا ہے کہ عشا سے پہلے سونا اور اس کے بعد بیٹھ کر باتیں کرنا آپ کو پسند نہیں تھا۱۸۱؂۔

۵۔ نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ایک رکعت پڑھ لی جائے تو آپ کا ارشاد ہے کہ اسے پورا کر لیا جائے، اس سے نماز ادا ہو جائے گی۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اس کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پڑھ لی، اسے مطمئن رہنا چاہیے کہ اس نے یہ نمازیں پالی ہیں۔ ۱۸۲؂ اسی طرح فرمایا ہے کہ سوجانے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ ہاں، کوئی شخص جاگتے ہوئے نماز چھوڑ دے تو یقیناًقصور وار ہے۔ لہٰذا تم میں سے اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز کے وقت سوتا رہ جائے تو اسے چاہیے کہ متنبہ ہوتے ہی نماز ادا کرے۔ ۱۸۳؂

۶۔ تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نماز بغیر کسی عذر کے بالکل آخری وقت تک موخر کر دی جائے۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ جبریل امین نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دن نماز پڑھائی اور فرمایا کہ انبیا علیہم السلام کی نماز کا وقت انھی دو وقتوں کے درمیان میں ہے تو فجر کو اسفار سے، عشا کو ایک تہائی رات سے، مغرب کو روزہ کھولنے کے وقت سے، ظہر وعصر کو اس سے زیادہ موخر نہیں کیا کہ کسی شخص کا سایہ نماز ظہر کے وقت اس کے برابر اور عصر کے وقت اس سے دو گنا ہو جائے۔ ۴ ۱۸؂ یہی معاملہ اس وقت بھی ہوا جب کسی شخص کو آپ نے دو دن اپنے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کہا اور دوسرے دن کی نمازوں کے بعد فرمایا: نماز کا وقت انھی دو وقتوں کے درمیان میں ہے جو تم نے دیکھ لیے ہیں۔ اس موقع پر نماز مغرب، البتہ دوسرے دن اس کے آخری وقت سے ذرا پہلے پڑھی گئی۔۱۸۵؂

۷۔ نماز کے لیے ممنوع اوقات کے متعلق آپ نے غایت درجہ احتیاط کی تلقین کی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج کے طلوع ہو جانے اور نماز عصر کے بعد اس کے غروب ہو جانے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔ ۱۸۶؂

۸۔ مسلمانوں کا کوئی حکمران نماز میں تاخیر کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ لوگ اپنے طور پر نماز پڑھ لیں اور پھر اس کے ساتھ جماعت میں شامل ہو جائیں۔ ۱۸۷؂

نماز کی رکعتیں

نماز کے لیے جو رکعتیں شریعت میں مقرر کی گئی ہیں، وہ یہ ہیں:

فجر: ۲رکعت

ظہر: ۴رکعت

عصر: ۴رکعت

مغرب: ۳رکعت

عشا: ۴رکعت

نماز کی فرض رکعتیں یہی ہیں جن کے چھوڑنے پر قیامت میں مواخذہ ہوگا۔ چنانچہ ان صورتوں کے سوا جن میں قصر کی اجازت دی گئی ہے، یہ لازماً پڑھی جائیں گی۔ ان کے علاوہ باقی سب نمازیں نفل ہیں جن کا پڑھنا باعث اجر ہے، لیکن ان کے چھوڑ دینے پر اللہ کی طرف سے کسی مواخذے کا اندیشہ نہیں ہے۔

نماز میں رعایت

نماز کا وقت کسی خطرے کی حالت میں آجائے تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھ لی جائے۔ اس میں، ظاہر ہے کہ جماعت کا اہتمام نہیں ہوگا،قبلہ رو ہونے کی پابندی بھی برقرار نہ رہے گی اور نماز کے اعمال بھی بعض صورتوں میں ان کے لیے مقرر کردہ طریقے پر ادا نہ ہو سکیں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا،فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ، کَمَا عَلَّمَکُمْْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ.(البقرہ۲: ۲۳۹)

''پھر اگر خطرے کا موقع ہو تو پیدل یا سواری پر، جس طرح چاہے، پڑھ لو۔ لیکن جب امن ہو جائے تو اللہ کو اسی طریقے سے یاد کرو، جو اُس نے تمھیں سکھایا ہے، جسے تم نہیں جانتے تھے۔''

اس طرح کی صورت حال کسی سفر میں پیس آجائے تو قرآن نے مزید فرمایا ہے کہ لوگ نماز میں کمی بھی کر سکتے ہیں۔ اصطلاح میں اسے قصر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے یہ سنت قائم کی ہے کہ صرف چار رکعت والی نمازیں دو رکعت پڑھی جائیں گی۔ دو اور تین رکعت والی نمازوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ چنانچہ فجر اور مغرب کی نمازیں اس طرح کے موقعوں پر بھی پوری پڑھیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فجر پہلے ہی دو رکعت ہے اور مغرب دن کے وتر ہیں، ان کی یہ حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

سورۂ نساء میں یہ حکم اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ، فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلاَۃِ، اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا.(۴: ۱۰۱)

''اور جب تم سفر میں نکلو تو اس میں کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کر لو، اگر اندیشہ ہو کہ منکرین تمھیں آزمایش میں ڈال دیں گے۔ اس لیے کہ یہ منکر تمھارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔''

نماز میں کمی کرنے اور اسے چلتے ہوئے یا سواری پر پڑھ لینے کی یہ رخصتیں یہاں 'خفتم'کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے عام سفروں کی پریشانی، افراتفری اور آپادھاپی کو بھی اس پر قیاس فرمایا اور ان میں بالعموم قصر نماز ہی پڑھی ہے۔ اسی طرح قافلے کو رکنے کی زحمت سے بچانے کے لیے نفل نمازیں بھی سواری پر بیٹھے ہوئے پڑھ لی ہیں۔ ۱۸۸؂ سیدنا عمر کا بیان ہے کہ اس طرح نماز قصر کر لینے پر مجھے تعجب ہوا۔ چنانچہ میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی عنایت ہے جو اس نے تم پر کی ہے، سواللہ کی اس عنایت کو قبول کرو۔ ۱۸۹؂

نمازمیں تخفیف کی اس اجازت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اوقات میں تخفیف کا استنباط بھی کیا ہے اور اس طرح کے سفروں میں ظہر، عصر ، اور مغرب اور عشا کی نمازیں جمع کر کے پڑھائی ہیں۔سیدنا معاذ بن جبل کی روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ کا طریقہ بالعموم یہ رہا کہ اگر سورج کوچ سے پہلے ڈھل جاتا تو ظہر وعصر کو جمع کر لیتے اور اگر سورج کے ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو عصر کے لیے اترنے تک ظہر کو موخر کر لیتے تھے۔ مغرب کی نماز میں بھی یہی صورت ہوتی۔ سورج کوچ سے پہلے غروب ہوجاتا تو مغرب اور عشا کو جمع کرتے اور اگر سورج غروب ہونے سے پہلے کوچ کرتے تو عشا کے لیے اترنے تک مغرب کو موخر کر لیتے اور پھر دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھتے تھے۔ ۱۹۰؂

یہی معاملہ حج کے موقع پر بھی ہوا۔ اس میں چونکہ شیطان کے خلاف جنگ کو علامتوں کی زبان میں ممثل کیا جاتا ہے، اس لیے تمثیل کے تقاضے سے آپ نے یہ سنت قائم فرمائی کہ لوگ مقیم ہوں یا مسافر، وہ منی میں قصر اور مزدلفہ عرفات میں جمع اور قصر، دونوں کریں گے۔

اس استباط کا اشارہ خود قرآن میں موجود ہے۔ سورۂ نساء میں یہ حکم جس آیت پر ختم ہوا ہے، اس میں'ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتاباً موفوتاً' کے الفاظ عربیت کی رو سے تقاضا کرتے ہیں کہ ان سے پہلے 'اور وقت کی پابندی کرو' یا اس طرح کوئی جملہ مقدر سمجھا جائے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوتی ہے کہ قصر کی اجازت کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ نماز کی رکعتوں کے ساتھ اس کے اوقات میں بھی کمی کر لیں۔ چنانچہ ہدایت کی گئی کہ جب اطمینان میں ہوجاؤ تو پوری نماز پڑھو اور اس کے لیے مقرر کردہ وقت کی پابندی کرو، اس لیے کہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات ایک مشکل یہ بھی تھی کہ میدان جنگ میں نماز کی جماعت کھڑی کی جائے اور حضور امامت کرائیں تو کوئی مسلمان اس جماعت کی شرکت سے محروم رہنے پر راضی نہیں ہوسکتا تھا۔ ہر سپاہی کی یہ آرزو ہوتی کہ وہ آپ ہی کی اقتدا میں نماز ادا کرے۔ یہ آرزو ایک فطری آرزو تھی، لیکن اس کے ساتھ دفاع کا اہتمام بھی ضروری تھا۔ اس مشکل کا ایک حل تو یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود چار رکعتیں پڑھتے اور اہل لشکر دو حصوں میں تقسیم ہو کر دو دو رکعتوں میں آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے۔ بعض موقعوں پر یہ طریقہ اختیار کیا بھی گیا، ۱۹۱؂ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس میں جو زحمت ہو سکتی تھی، اس کے پیش نظر قرآن نے یہ تدبیر بتائی کہ امام اور مقتدی، دونوں قصر نماز ہی پڑھیں، اور لشکر کے دونوں حصے یکے بعد دیگرے آپ کے ساتھ آدھی نماز میں شامل ہوں اور آدھی نماز اپنے طور پر ادا کر لیں۔ چنانچہ ایک حصہ پہلی رکعت کے سجدوں کے بعد پیچھے ہٹ کر حفاظت ونگرانی کا کام سنبھالے اور دوسرا حصہ، جس نے نماز نہیں پڑھی ہے، آپ کے پیچھے آکر دوسری رکعت میں شامل ہو جائے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ، فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَکَ، وَلْیَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ، فَاِذَا سَجَدُوْا، فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآءِکُمْ، وَلْتَاْتِ طَآءِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا، فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ، وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ. وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً، وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ، وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا. فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلاَۃَ، فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ، فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ، اِنَّ الصَّلاَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا.(النساء ۴: ۱۰۲۔۱۰۳)

''اور (اے پیغمبر)، جب تم ان کے درمیان ہو اور (میدان جنگ) میں انھیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمھارے ساتھ کھڑا رہے اور اپنا اسلحہ لیے رہے۔ پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمھارے پیچھے ہو جائیں اور دوسرا گروہ آئے، جس نے نماز نہیں پڑھی ہے اور تمھارے ساتھ نماز ادا کرے۔ اور یہ بھی اپنی حفاظت کا سامان اور اپنا اسلحہ لیے ہوئے ہوں۔ یہ منکر تو چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے ذرا غافل ہو تو تم پر یک بارگی ٹوٹ پڑیں۔ اس بات میں، البتہ کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر بارش کی تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنا اسلحہ اتاردو۔ ہاں، یہ ضروری ہے کہ حفاظت کا سامان لیے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ نے ان منکروں کے لیے بڑی ذلت کی سزا مہیا کر رکھی ہے۔ اس طریقے سے جب تم نماز سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے، (ہر حال میں) یاد کرتے رہو۔ پھر جب اطمینان میں ہو جاؤ تو پوری نماز پڑھو (اور اس کے لیے مقرر کردہ وقت کی پابندی کرو)، اس لیے کہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔''

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی رو سے لشکر کو جو رکعت اپنے طور پر ادا کرنا تھی، اس کے لیے حالات کے لحاظ سے مختلف طریقے اختیار کیے گئے۔ ایسا بھی ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا اور لوگ نماز پوری کر کے پیچھے ہٹے ۱۹۲؂ اور ایسا بھی ہوا کہ انھوں نے بعد میں نماز پوری کر لی۔ ۱۹۳؂ اس کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت اب باقی نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تدبیر کا تعلق، جیسا کہ آیت میں'واذا کنت فیھم' کے الفاظ سے واضح ہے، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے تھا۔ آپ کے بعد کسی ایک ہی امام کی اقتدا کی خواہش نہ اتنی شدید ہو سکتی ہے اور نہ اس کی اتنی اہمیت ہے۔ قیام جماعت کا موقع ہو تو لوگ اب الگ الگ اماموں کے اقتدا میں نہایت آسانی کے ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں۔

[باقی]

________

۱۷۶؂ بخاری، رقم ۵۵۳۔

۱۷۷؂ مسلم، رقم ۸۳۲۔

۱۷۸؂ بخاری، رقم ۵۱۱۔

۱۷۹؂ بخاری، رقم ۵۲۵۔

۱۸۰؂ مسلم، رقم ۶۲۲۔

۱۸۱؂ ابوداؤد، رقم ۴۱۶، ۴۱۷، ۴۱۸، ۴۲۲۔ ترمذی، رقم ۱۶۷۔ بخاری، رقم۵۲۲۔

۱۸۲؂ بخاری، رقم ۵۵۴۔

۱۸۳؂ مسلم، رقم ۶۸۱،۶۸۴۔

۱۸۴؂ ابوداؤد، رقم ۴۱۶۔

۱۸۵؂ مسلم رقم ۶۱۳۔

۱۸۶؂ بخاری، رقم ۵۶۱۔ مسلم ، رقم ۸۲۶۔

۱۸۷؂ مسلم، رقم ۶۴۸۔

۱۸۸؂ بخاری، رقم ۱۰۴۲۔ مسلم، رقم ۷۰۱۔

۱۸۹؂ مسلم، رقم ۶۸۶۔ اس جواب سے واضح ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس استنباط کی تصویب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہو گئی تھی۔

۱۹۰؂ ابوداؤد، رقم ۱۲۲۰۔

۱۹۱؂ مسلم ، رقم ۸۴۳۔

۱۹۲؂ بخاری، رقم ۳۹۰۰۔ مسلم، رقم ۸۴۲۔

۱۹۳؂ بخاری، رقم ۹۰۰۔ مسلم، رقم ۸۳۹۔

159سلم، رقم ۸۳۲۔

۱۷۸؂ بخاری، رقم ۵۱۱۔

۱۷۹؂ بخاری، رقم ۵۲۵۔

۱۸۰؂ مسلم، رقم ۶۲۲۔

۱۸۱؂ ابوداؤد، رقم ۴۱۶، ۴۱۷، ۴۱۸، ۴۲۲۔ ترمذی، رقم ۱۶۷۔ بخاری، رقم۵۲۲۔

۱۸۲؂ بخاری، رقم ۵۵۴۔

۱۸۳؂ مسلم، رقم ۶۸۱،۶۸۴۔

۱۸۴؂ ابوداؤد، رقم ۴۱۶۔

۱۸۵؂ مسلم رقم ۶۱۳۔

۱۸۶؂ بخاری، رقم ۵۶۱۔ مسلم ، رقم ۸۲۶۔

۱۸۷؂ مسلم، رقم ۶۴۸۔

۱۸۸؂ بخاری، رقم ۱۰۴۲۔ مسلم، رقم ۷۰۱۔

۱۸۹؂ مسلم، رقم ۶۸۶۔ اس جواب سے واضح ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس استنباط کی تصویب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہو گئی تھی۔

۱۹۰؂ ابوداؤد، رقم ۱۲۲۰۔

۱۹۱؂ مسلم ، رقم ۸۴۳۔

۱۹۲؂ بخاری، رقم ۳۹۰۰۔ مسلم، رقم ۸۴۲۔

۱۹۳؂ بخاری، رقم ۹۰۰۔ مسلم، رقم ۸۳۹۔

____________