قانون عبادات (3)


نماز کے شرائط

نماز کے لیے جن چیزوں کا اہتمام ضروری ہے ، وہ یہ ہیں:

نماز پڑھنے والا نشے میں نہ ہو ،

وہ اگر عورت ہے تو حیض ونفاس کی حالت میں نہ ہو،

وہ باوضو ہو اور حیض و نفاس یا جنابت ۴۰؂ کے بعد اُس نے غسل کر لیا ہو ،

سفر ، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں ، یہ دونوں مشکل ہو جائیں تو وہ تیمم کر لے ،

قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو ۔

نماز کے لیے یہ چیزیں ہمیشہ ضروری رہی ہیں ۔ تاہم عرب کے لوگ چونکہ سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد صدیوں تک انبیا علیہم السلام کی ہدایت سے محرومی کے باعث اِس طرح کے بعض معاملات میں متنبہ نہیں رہے تھے ، اِس لیے قرآن نے اُن کی تذکیر کے لیے اِن میں سے زیادہ تر چیزیں پوری وضاحت کے ساتھ خود بیان کر دی ہیں ۔

پہلی تین چیزوں کے بارے میں فرمایا ہے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ، وَ لاَجُنُبًا اِلاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْا، وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضآی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ، فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا.(النساء ۴: ۴۳)

''ایمان والو، نشے کی حالت میں نماز کی جگہ کے قریب نہ جاؤ ، یہاں تک کہ جو کچھ کہہ رہے ہو ، اُسے سمجھنے لگو، اور جنابت کی حالت میں بھی ، الاّ یہ کہ بس گزر جانا پیش نظر ہو۔ اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو یا سفر میں ہو ، یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو ، پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اُس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لو۔ بے شک ، اللہ درگذر کرنے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔''

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا، اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ، وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا، وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضآی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآءِطِ اَوْلٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ. مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ ، وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ. (المائدہ ۵: ۶)

''ایمان والو، جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرلو، اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو ، اور اگر جنابت کی حالت ہو تو نہا لو ۔ اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو ، پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اُس سے اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کر لو ۔ اللہ تم پر زندگی تنگ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دے تاکہ تم اُس کے شکرگزار بنو۔ ''

اِسی طرح قبلہ کے بارے میں فرمایا ہے :

قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا، فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ.(البقرہ ۲: ۱۴۴)

''تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھتے رہتے ہیں ، (اے پیغمبر) ، سو ہم نے فیصلہ کر لیا کہ تمھیں اُس قبلے کی طرف پھیر دیں جو تمھیں پسند ہے۔ لہٰذا اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو ، اور جہاں کہیں بھی ہو (نماز میں) اپنا رخ اِسی کی طرف کرو ۔ ''

نشے اور جنابت کو اِن آیات میں یکساں مفسد نماز قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِن کے ساتھ نماز اور نماز کی جگہ کے قریب نہ جاؤ ۔ اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں حالتیں نجاست کی ہیں ۔ بس اتنا فرق ہے کہ نشہ عقل کی نجاست ہے اور جنابت جسم کی ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ شراب جس طرح عقل کو معطل کردیتی ہے ، اِسی طرح جنابت کا انقباض بھی اُس انشراح اور حضور قلب کو ختم کر دیتا ہے جو نماز کے لیے مطلوب ہے ۔ اِس میں اتنی رخصت ، البتہ اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے کہ اِس حالت میں کوئی شخص اگر کسی ضرورت کے باعث مسجد کے اندر سے محض گزرنا چاہے تو گزر سکتا ہے۔ فرمایا ہے کہ جنابت کی اِس حالت کے بعد غسل ضروری ہے ، اِس کے بغیر نماز نہیں پڑھی جا سکتی ۔ اِس غسل کے لیے اِن آیات میں 'تغتسلوا' اور 'فاطھروا' کے الفاظ آئے ہیں ، اِن کا تقاضا ہے کہ اِسے پورے اہتمام کے ساتھ کیا جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اسوہ اِس کے متعلق روایتوں میں بیان ہوا ہے ، اُس کی تفصیل یہ ہے :

پہلے ہاتھ دھوئے جائیں ،

پھر شرم گاہ کو بائیں ہاتھ سے دھو کر اچھی طرح صاف کیا جائے ،

پھر پورا وضو کیا جائے ، سواے اِس کے کہ پاؤں آخر میں دھونے کے لیے چھوڑ دیے جائیں ،

پھر بالوں میں انگلیاں ڈال کر سر پر اِس طرح پانی ڈالا جائے کہ وہ اُن کی جڑوں تک پہنچ جائے ،

پھر سارے بدن پر پانی بہایا جائے ،

آخر میں پاؤں دھو لیے جائیں ۔

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ صاف کرتے ، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ، پھر پانی لیتے اور اپنی انگلیاں بالوں کی جڑوں میں ڈال دیتے ، یہاں تک کہ جب دیکھ لیتے کہ پانی جلد تک پہنچ گیا ہے تو اپنے سر پر تین چلو پانی انڈیلتے ، پھر سارے جسم پر پانی بہا لیتے ، پھر دونوں پاؤں دھوتے ۔ ۴۱؂

ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ سیدہ میمونہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غسل جنابت کے لیے پانی رکھا تو آپ نے پہلے دونوں ہاتھ دو یا تین مرتبہ دھوئے ۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اُس سے اپنی شرم گاہ پر پانی بہایا اور اُسے بائیں ہاتھ سے دھویا ،پھر اپنا یہ ہاتھ زمین پر اچھی طرح رگڑا ، پھر نماز کے لیے جس طرح وضو کرتے ہیں ، اُسی طرح وضو کیا ، پھر چلو میں بھر کر تین مرتبہ پانی سر پر بہایا ، پھر سارا بدن دھویا ، پھر اُس جگہ سے ہٹے اور دونوں پاؤں دھوئے ۔ ۴۲؂

وضو کا طریقہ اِن آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے منہ دھویا جائے ، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوئے جائیں ، پھر پورے سر کا مسح کیا جائے اور اِس کے بعد پاؤں دھو لیے جائیں ۔ پورے سر کا مسح اِس لیے ضروری ہے کہ اِس حکم کے لیے آیت میں 'وامسحوا برو ء سکم' کے الفاظ آئے ہیں اور عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ 'ب' اِس طرح کے مواقع میں احاطے پر دلیل ہوتی ہے۔ اِسی طرح پاؤں کا حکم ، اگرچہ بظاہر خیال ہوتا ہے کہ 'وامسحوا'کے تحت ہے ، لیکن 'ارجلکم' کے بعد' الی الکعبین 'کے الفاظ ہیں جو پوری قطعیت کے ساتھ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ اِس کا عطف 'ایدیکم' پر ہے۔ اِس لیے کہ یہ اگر 'بروء سکم' پر ہوتا تو اِس کے ساتھ ' الی الکعبین' کی قید غیر ضروری تھی ۔ تیمم میں، دیکھ لیجیے کہ جہاں مسح کا حکم دیا گیا ہے، وہاں 'الی المرافق' کی قید اِسی بنا پر ختم کر دی ہے ۔ چنانچہ پاؤں لازماً دھوئے جائیں گے ۔ آیت میں اُن کا ذکر محض اِس وجہ سے موخر کر دیا گیا ہے کہ وضو میں اعضا کی ترتیب لوگوں پر واضح رہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ وضوبالعموم کس طرح کرتے تھے ؟ اِس سلسلہ کی تمام روایات کو جمع کرنے سے اِس کی جو صورت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ آپ دانت صاف کرتے ، پھر دائیں سے وضو شروع کرتے، پہلے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر پانی سے تین دفعہ کلی کرتے ، پھر تین دفعہ ناک میں پانی ڈالتے اور ناک اچھی طرح صاف کرتے ، پھر تین دفعہ منہ دھوتے اور ڈاڑھی کا خلال کرتے ، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوتے ، پھر الگ پانی لے کر سر پر مسح کرتے اور اُس کے ساتھ اندر اور باہر سے کانوں کی صفائی کرتے ، سر کا مسح اِس طرح کرتے کہ پیشانی سے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے تک لے جا کر پھر واپس لے آتے، اِس کے بعد پہلے دایاں اور پھر بایاں پاؤں دھوتے تھے ۔ ۴۳ ؂

وضو کے اعضا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض موقعوں پر ایک مرتبہ اور بعض موقعوں پر دو مرتبہ بھی دھوئے ہیں ۔ ۴۴؂

روایتوں سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وضو کے بعد 'اشھد ان لا الہٰ الا اللّٰہ، وحدہ لا شریک لہ، واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ' ۴۵؂ کہنے اور دو رکعت نماز پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ ۴۶؂

اِسی طرح یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے پہلے وضو کرنے ، ۴۷؂ بالخصوص جنابت کی حالت میں سونے ، کھانے پینے اور دوبارہ مباشرت سے پہلے وضو کرنے کی ترغیب دی اور اِسے پسند فرمایا ہے ۔ ۴۸؂

وضو کی فضیلت میں آپ کے جو ارشادات نقل ہوئے ہیں ، اُن میں سے بعض یہ ہیں :

عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بندۂ مومن جب وضو کرتا اور اُس میں کلی کرتا ہے تو اُس کے منہ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب ناک میں پانی ڈالتا ہے تو ناک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب سر کا مسح کرتا ہے تو سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اُن کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ فرمایا: پھر اُس کا مسجد جانا اور نماز پڑھنا اِس پر مزید ہوتا ہے ۔ ۴۹؂

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن میری امت کے لوگ بلائے جائیں گے تو وضو کے اثر سے اُن کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے ۔ سو جس کا جی چاہے ، وہ اپنی یہ روشنی بڑھالے۔ ۵۰؂

وضو اگر ایک مرتبہ کر لیا جائے تو اُس وقت تک قائم رہتا ہے ، جب تک کوئی ناقض حالت آدمی کو پیش نہ آ جائے ۔ چنانچہ وضو کی یہ ہدایت اُس حالت کے لیے ہے ، جب وضو باقی نہ رہا ہو، الاّ یہ کہ کوئی شخص نشاط خاطر کے لیے تازہ وضو کر لے ۔اِس صورت میں یہ شریعت کا مطالبہ نہیں ، بلکہ محض فضیلت کی چیز ہے۔

وضو کے نواقض درج ذیل ہیں :

۱۔ پیشاب کرنا ۔

۲۔ پاخانہ کرنا۔

۳۔ ریح کا خارج ہونا ، خواہ آواز سے ہو یا آہستہ ۔

۴۔ مذی یا ودی کا خارج ہونا۔

یہ چیزیں کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہوں تو اِن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ نیند اور بے ہوشی بجاے خود ناقض وضو نہیں ہے ، لیکن اِس میں چونکہ آدمی اپنے وضو پر متنبہ نہیں رہتا ، اِس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد بھی وضو لازماً کر لیا جائے ۔

سفر، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں وضو اور غسل ، دونوں مشکل ہو جائیں تو نساء اور مائدہ کی جو آیات اوپر نقل ہوئی ہیں ، اُن میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ آدمی تیمم کر سکتا ہے ۔ اِس کا طریقہ اُنھی آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی پاک جگہ دیکھ کر اُس سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیا جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے اِس کے لیے دونوں ہاتھ مٹی پر مارے ، پھر اُن پر پھونک مار کر الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر اور سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ پر مسح کیا ، پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مسح کر لیا ۔ ۵۱؂ قرآن نے صراحت کی ہے کہ تیمم ہر قسم کی نجاست میں کفایت کرتا ہے ۔ وضو کے نواقض میں سے کوئی چیز پیش آئے تو اُس کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے اور مباشرت کے بعد غسل جنابت کی جگہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اِسی طرح یہ صراحت بھی کی ہے کہ مرض اور سفر کی حالت میں پانی موجود ہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کر سکتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...مرض میں وضو یا غسل سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے ، اِس وجہ سے یہ رعایت ہوئی ہے ۔ اِسی طرح سفر میں مختلف حالتیں ایسی پیش آ سکتی ہیں کہ آدمی کو تیمم ہی پر قناعت کرنی پڑے ۔ مثلاً ، پانی نایاب تو نہ ہو ، لیکن کمیاب ہو ، اندیشہ ہو کہ اگر غسل وغیرہ کے کام میں لایا گیا تو پینے کے لیے پانی تھڑ جائے گا یا یہ ڈر ہو کہ اگر نہانے کے اہتمام میں لگے تو قافلے کے ساتھیوں سے بچھڑ جائیں گے یا ریل اور جہاز کا ایسا سفر ہو کہ غسل کرنا شدید زحمت کا باعث ہو ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۳۰۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے اِسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے موزوں اور عمامے پر مسح کیا ۵۲؂ اور لوگوں کو اجازت دی ہے کہ اگر موزے وضو کر کے پہنے ہوں تو اُن کے مقیم ایک شب و روز اور مسافر تین شب و روز کے لیے موزے اتار کر پاؤں دھونے کے بجاے اُن پر مسح کر سکتے ہیں۔ ۵۳؂

اِسی طرح غسل کے معاملے میں یہ رخصت بیان فرمائی ہے کہ عورتوں کے بال اگرگندھے ہوئے ہوں تو اُنھیں کھولے بغیر اوپر سے پانی بہا لینا ہی کافی ہے ؛ ۵۴؂ اور غسل جن چیزوں سے واجب ہوتا ہے ، وہ اگر بیماری کی صورت اختیار کر لیں تو ایک مرتبہ غسل کر لینے کے بعد باقی نمازیں اُس کے بغیر بھی پڑھی جا سکتی ہیں ۔ ۵۵؂

تیمم سے بظاہر کوئی پاکیزگی تو حاصل نہیں ہو تی ، لیکن اگر غور کیجیے تو اصل طریقۂ طہارت کی یادداشت ذہن میں قائم رکھنے کے پہلو سے اِس کی بڑی اہمیت ہے ۔ شریعت میں یہ چیز بالعموم ملحوظ رکھی گئی ہے کہ جب اصلی صورت میں کسی حکم پر عمل کرنا ممکن نہ ہو یا بہت مشکل ہو جائے تو شبہی صورت میں اُس کی یادگار باقی رکھی جائے ۔ اِس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی طبیعت اصلی صورت کی طرف پلٹنے کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے ۔

نماز کے لیے قبلہ کی تعیین بھی ضروری ہے ۔ بالبداہت واضح ہے کہ اِس کے بغیر نماز باجماعت کا کوئی نظم قائم نہیں کیا جا سکتا۔ الٰہی شریعتوں میں اِسی بنا پر اِس کا حکم ہمیشہ رہاہے ۔ سورۂ یونس میں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب مصر میں بنی اسرائیل کی مذہبی تنظیم شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں حکم دیا کہ مصر کے مختلف حصوں میں کچھ مقامات نماز کے لیے خاص کر لیے جائیں اور وہ نماز کے لیے اپنے جو گھر مخصوص کریں ، اُنھیں قبلہ قرار دے کر نماز باجماعت کا اہتمام کیا جائے ۔ ۵۶؂ بعد میں بیت المقدس کی تعمیر تک اُن کے ہاں یہی حیثیت اُس تابوت کو حاصل رہی جس کا ذکر سورۂ بقرہ میں ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو یہود بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے ۔ آپ کو بھی اِسی کا حکم دیا گیا اور اِس کی حکمت یہ بتائی گئی کہ اِس سے بنی اسمٰعیل کا امتحان مقصود تھا کہ وہ پیغمبر کی پیروی کرتے ہیں یا اپنے تعصبات کی بنا پر اُس سے روگردانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ ۵۷؂ یہ مقصد پورا ہو گیا تو تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور مسلمانوں کے لیے بیت الحرام کو ہمیشہ کے لیے قبلہ مقرر کر دیا گیا۔

سورۂ بقرہ کی جو آیت اوپر نقل ہوئی ہے ، اُس میں یہی حکم بیان ہوا ہے ۔ مسجد حرام سے مراد اِس آیت میں وہ عبادت گاہ ہے جس کے درمیان میں بیت اللہ واقع ہے ۔ اِس کی طرف رخ کرنے کے لیے 'فول وجھک شطر المسجد الحرام' کے الفاظ آئے ہیں ۔ اِن سے واضح ہے کہ مقصود بیت اللہ کی طرف منہ کرنا ہی ہے ، بالکل ناک کی سیدھ میں بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا مطالبہ اللہ تعالیٰ نے نہیں کیا۔ تاہم یہ بات آیت میں بڑی تاکید کے ساتھ کہی گئی ہے کہ مسجدحرام کے اندر یا باہر ، مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں ، نماز میں اُن کا رخ اِسی مسجد کی طرف ہونا چاہیے ۔ اِس تاکید کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ یہودو نصاریٰ بیت المقدس کے اندر تو اُسے ہی قبلہ بناتے تھے ، لیکن اُس سے باہر نکل کر مشرق یا مغرب کو قبلہ بنا لیتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سفر و حضر میں اور بیت الحرام کے اندر اور باہر، ہر جگہ اِسی مسجد کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں ۔

اِس سے وہ صورتیں ، ظاہر ہے کہ مستثنیٰ ہوں گی ، جب قبلہ کی تعیین مشکل ہو یا غیر معمولی حالات میں کوئی شخص چلتے ہوئے یا سواری پر نماز پڑھنے کے لیے مجبور ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ اپنی نفل نمازیں ، اِس خیال سے کہ اُن کے لیے رکنا قافلے کے لیے باعث زحمت ہو گا ، سواری پر بیٹھے ہوئے اور اُسی کے رخ پر ادا کر لیتے تھے ۔ ۵۸؂

[باقی]

________

۴۰؂ یعنی وہ حالت جو کسی شخص کو مجامعت یا انزال سے لاحق ہوتی ہے ۔

۴۱؂ مسلم ، رقم۳۱۶۔

۴۲؂ مسلم ، رقم ۳۱۷۔

۴۳؂ بخاری ، رقم ۱۵۹، ۱۸۶۔ مسلم ، رقم ۲۲۶، ۲۳۵۔

۴۴؂ بخاری ، رقم ۱۵۷،۱۵۸۔

۴۵؂ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ، وہ تنہا ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں ۔''

۴۶؂ مسلم ، رقم ۲۳۴۔

۴۷؂ بخاری ، رقم۳۴۷۔ مسلم ، رقم ۲۷۱۰۔

۴۸؂ مسلم ، رقم ۳۰۵،۳۰۷، ۳۰۸۔

۴۹؂ المؤطا، رقم ۳۰۔ اِس سے ، ظاہر ہے کہ وہ گناہ مراد نہیں ہیں جن کے لیے توبہ اور تلافی کرنا یا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے ۔

۵۰؂ بخاری ، رقم ۱۳۶۔

۵۱؂ بخاری ، رقم ۳۳۸، ۳۴۷۔ ابوداؤد، رقم ۳۲۱۔

۵۲؂ بخاری ، رقم ۲۰۲، ۲۰۳، ۲۰۶۔ مسلم ، رقم ۲۷۲، ۲۷۵۔

۵۳؂ مسلم ، رقم ۲۷۶۔

۵۴؂ مسلم ، رقم ۳۳۰۔

۵۵؂ بخاری، رقم ۳۰۶۔

۵۶؂ یونس ۱۰: ۸۷۔

۵۷؂ البقرہ ۲: ۱۴۳۔

۵۸؂ بخاری ، رقم ۱۰۹۳۔ مسلم ، رقم ۷۰۱۔

____________