قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۵) (1/2)


(گذشتہ سے پیوستہ)

کیا رسول قتل ہو سکتے ہیں؟

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کی قوم پر دنیوی عذاب آنے سے پہلے رسول نہ صرف فوت ہو سکتا ہے، بلکہ اس کا قتل بھی ممکن ہے:

وَاِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ.(الرعد ۱۳: ۴۰)

''ہم جو وعید اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں گے یا تم کو وفات دیں گے (اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں گے)۔ سو تمھاری ذمہ داری صرف پہنچانا ہے اور اِن کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔''

فَاِمَّا نَذْھَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ. اَوْ نُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰھُمْ فَاِنَّا عَلَیْھِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۴۱۔۴۲)

''اب تو یہی ہو گا کہ یا ہم تمھیں اٹھا لیں گے، پھر اِن سے ضرور بدلہ لیں گے۔ یا جس (عذاب)کا وعدہ ہم نے اِن سے کیا ہے، وہ (تمھارے اِس دنیا میں ہوتے ہوئے)تم کو لا دکھائیں گے، اِس لیے کہ ہم اِن پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔''

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلآی اَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًا وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ.(آل عمران ۳: ۱۴۴)

''محمد ایک رسول ہی ہیں۔ (اُن کے شہید ہو جانے کی خبر نے تمھارے قدم ڈگمگا دیے)۔ اُن سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں، (اور موت وحیات کے یہ مراحل اُن پر بھی آئے)۔ پھر کیا وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ (یاد رکھو)، جو الٹا پھرے گا، وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور اللہ عنقریب اُن کو صلہ دے گا جو ہر حال میں اُس کے شکر گزار رہے ہیں۔''

آخرالذکر آیت غزوۂ احد کے تناظر میں ہے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ پھیلی اور مسلمان بددل ہو کر منتشر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر یہ نہیں کہا کہ رسول تو قتل ہو ہی نہیں سکتا تھا ،پھر تم لوگ ہمت کیوں ہار بیٹھے، بلکہ یہ کہا کہ رسول اگر فوت یا قتل ہو جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟

چونکہ اس وقت تک آپ کی قوم پراتمام حجت ہو چکا تھا، جیسا کہ قرآن مجید کی اس دور کی سورتوں سے واضح ہے، اس لیے آپ کے فوت یا نعوذ باللہ قتل ہونے کا امکان ،از روے آیات مذکورہ، موجود تھا، اگرچہ شریعت مکمل نہیں ہوئی تھی، چنانچہ اگر شریعت کی تکمیل سے پہلے آپ فوت یا قتل ہو جاتے تو ممکن تھا کہ مزید کسی نبی یا رسول کو بھیج کر شریعت کی تکمیل کرائی جاتی، مگر اس کی ضرورت پیش نہیں آئی، البتہ اتمام حجت سے پہلے رسول کی موت یا قتل نہیں ہو سکتا، ورنہ اس کا مقصد بعثت ہی پورا نہ ہو سکے گا۔

حقیقتاً کوئی رسول قتل ہوا ہے یا نہیں، تو قرآن میں موجود رسولوں کے تذکروں میں ایسا کوئی واقعہ ہمیں نہیں ملتا۔ البتہ قرآن کی ایک آیت رسولوں کے قتل کا ذکر کرتی ہے:

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ اَفَکُلَّمَا جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لَا تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ.(البقرہ ۲: ۸۷)

''اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اُس کے پیچھے پے در پے اپنے پیغمبربھیجے تھے، اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو (اِن سب کے بعد)کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اُس کی تائید کی (تو جانتے ہو کہ اُن کے ساتھ تمھارا رویہ کیا رہا)؟ پھر کیا یہی ہوگا کہ جب بھی (ہمارا)کوئی پیغمبر وہ باتیں لے کر تمھارے پاس آئے گا جو تمھاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی ، تو تم (اُس کے سامنے)تکبر ہی کرو گے ؟ پھر ایک گروہ کو جھٹلا دو گے اور ایک گروہ کو قتل کرو گے۔''

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں رسول قتل ہوئے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اصطلاحی رسولوں میں سے صرف دو ہی رسول بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے: ایک موسیٰ اور دوسرے عیسیٰ علیہما السلام، اور دونوں ہی قتل نہیں ہوئے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں کن رسولوں کے قتل ہونے کا ذکر ہواہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں رسول اپنے اصطلاحی معنی میں نہیں، بلکہ لفظی معنی میں استعمال ہوا ہے۔اس پر مفصل بحث پہلے گزر چکی کہ قرآن، رسول اور نبی کے الفاظ کو ان کے لفظی معنی میں بھی استعمال کرتا ہے اور اصطلاحی معنی میں بھی، چونکہ یہاں انذار، حجت اور عذاب کا کوئی ذکر نہیں، اس لیے اصطلاحی رسول مراد لینے کی کوئی قید نہیں ہے۔

رسولوں کے غلبے کا مطلب سیاسی غلبہ نہیں

ایک عام غلط فہمی رسول کے غلبے کو سیاسی غلبے کے مترادف سمجھنے کے بار ے میں پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۱)

''اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔''

حقیقت یہ ہے کہ اکثر رسولوں کو سیاسی غلبہ نہیں ملا۔ قرآن مجید کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور رسول کے سیاسی غلبے کا ذکر موجود نہیں۔ اس لیے محولہ بالا آیت جو اصولی طور پر تمام رسولوں کے غلبے کا ذکر کرتی ہے، اس سے رسولوں کا سیاسی غلبہ مراد نہیں لیا جا سکتا۔ رسول کے غلبے کا مطلب درحقیقت رسول کے منکرین اور معاندین کا خدائی عذاب کے آگے مغلوب ہو جانا ہے۔ اکثر رسولوں کا یہ غلبہ ان کے منکرین پر قدرتی طاقتوں کے ذریعے سے آنے والے عذاب سے حاصل ہوا، جب کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ غلبہ سیاسی غلبے کی شکل اختیار کر گیا۔ ایسا کیونکر ہوا؟ اس کی تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے:

رسول کا سیاسی غلبہ، منصب رسالت کا کوئی جزو نہیں ہے۔ قرآن مجید نے منصب رسالت کے جو فرائض بتائے ہیں، ان میں رسول کااصل کام اپنی قوم کو انذار کرنا اور انذار کا ابلاغ آخری درجے کی حد تک کرنا ہے کہ مخاطبین کے پاس انکار کا کوئی عذر نہ رہے۔ یعنی اتمام حجت کرنا رسول کا اولین منصب ہے:

مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ.(المائدہ ۵: ۹۹)

''پیغمبر پر تو صرف پہنچا دینے کی ذ مہ داری ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ چھپاتے ہو۔ ''

فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ.(النحل ۱۶: ۳۵)

''سو رسولوں پر تو صاف صاف پہنچا دینے ہی کی ذمہ داری ہے۔''

رسول کا دوسرا کام اس پیغام الٰہی کی قبولیت کے نتیجے میں ایمان لانے والوں کو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے عبادت اور اطاعت الٰہی کے طریقے سکھا کر ان کا تزکیہ اور تطہیر کرنا ہے، جب کہ پیغامِ الٰہی کے منکرین کا استیصال خدا کاکام ہے:

فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ.(الرعد ۱۳: ۴۰)

''سو تمھاری ذمہ داری صرف پہنچانا ہے اور اِن کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔''

رسول کے اول الذکر اور ثانی الذکر، دونوں فرائض کا جامع تذکرہ درج ذیل آیت میں کیا گیا ہے:

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰٰٰٰٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ.(البقرہ ۲: ۱۵۱)

''چنانچہ (یہی مقاصد ہیں جن کے لیے )ہم نے ایک رسول تم میں سے تمھارے اندر بھیجا ہے جو ہماری آیتیں تمھیں سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے اور (اِس کے لیے)تمھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور (اِس طرح)وہ چیزیں تمھیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔''

جہاں تک سیاسی غلبے کا تعلق ہے تو کارِ رسالت کے بیان میں نہ صرف اس کو کوئی جگہ نہیں دی گئی، بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر منصب رسالت کے لیے اس کی نفی کی گئی ہے:

وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِجَبَّارٍ فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ.(ق ۵۰: ۴۵)

''اور (یاد رکھو کہ)تم اِن پر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیے گئے ہو۔ سو قرآن کے ذریعے سے یاددہانی کرو اُنھیں جو میری تنبیہ سے ڈرتے ہوں۔''

فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ. لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصیْطِرٍ.سَ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱۔۲۲)

''تو تم یاددہانی کر دو،(اے پیغمبر)، تم یاددہانی کرنے والے ہی ہو۔ تم اِن پر کوئی داروغہ نہیں ہو۔''

سیاسی غلبہ اگر رسالت کا حصہ ہوتا تو ہر رسول کو لازمی ملتا، چونکہ نہیں ملا، اس لیے یہ منصب رسالت کا حصہ ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی قانون اتمام حجت کا کوئی جزو ہے۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی غلبہ کی حیثیت

سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مخالفین پر جو سیاسی غلبہ ملا، اس کی حیثیت کیا ہے؟ تو قرآن مجید پر تدبر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ غلبہ منصب رسالت کے تحت نہیں ملا، یہ غلبہ دراصل ذریت ابراہیم کو ایک خاص قانون الٰہی کے تحت ملا تھا، جس کی تفصیل پیش تر گزر چکی، اور آپ ذریت ابراہیم کے سربراہ کی حیثیت سے اس عہدہ پر متمکن ہوئے۔ ذریتِ ابراہیم سے خدا نے وعدہ کر رکھا تھا کہ اگر وہ ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پورے اترے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی سیاسی غلبے اور مالی خوش حالی کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ چنانچہ قرآن مجید میں سیاسی غلبے کا وعدہ جہاں بھی کیا گیا ہے، وہ رسولوں کے ساتھ نہیں، بلکہ ان کی قوموں کے براہ راست مومنین کے ساتھ کیا گیا ہے۔

پہلے یہ معاملہ ذریت ابراہیم کی ایک شاخ، بنی اسرائیل کے ساتھ کیاگیا، جن کی سربراہی مختلف پیغمبر اور بادشاہان کرتے رہے، اب ذریت ابراہیم کی دوسری شاخ، بنی اسماعیل دین کے اس خاص منصب شہادت کے لیے چنے گئے تھے، اس لیے ایمان و اطاعت کے مطلوبہ معیارکو پورا کرنے پر سیاسی غلبے کا معاملہ ان کے ساتھ ہونا تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنی اسماعیل میں سے تھے اور بنی اسماعیل کی دینی اور سیاسی امامت و قیادت اس وقت آپ کے ہاتھ تھی، اس لیے بنی اسماعیل کے غلبے کی ابتدا آپ سے ہوئی ۔ سیاسی غلبہ کی بشارت دینے والی آیات کا اسلوب دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ جمع کے صیغے میں ہیں اور پوری جماعت صحابہ سے مخاطب ہیں؛ نیز وہ آیات بھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کے وقت میں آپ کی قائم کردہ ریاست سے متعلق ہیں، وہاں بھی ایک رسول کو مخاطب کرنے کے بجاے پوری جماعت کو مخاطب کر کے احکامات دیے گئے ہیں۔ مثلاً:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ.(الحج ۲۲: ۴۱)

''یہ وہی ہیں کہ جن کو اگر ہم اِس سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتمام کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ (اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا) اور سب کاموں کا انجام تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔''

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۵)

''(بڑے حج کے دن)اِس (اعلان)کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے)اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔ پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔''

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہونے والے اتمام حجت کے نتیجے میں آپ کے منکرین کو دی جانے والی سزا کا نفاذ آپ نے بہ حیثیت رسول نہیں، بلکہ بہ حیثیت سربراہِ ذریت ابراہیم کیا تھا، اس لیے کہ منکرین کے استیصال اور اہل کتاب کو محکوم بنانے کا کام اصلاً رسول کا نہیں، بلکہ ذریتِ ابراہیم کا منصب تھا، جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا:

قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ.(التوبہ ۹: ۱۴)

''اُن سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے اُن کو سزا دے گا اور اُنھیں ذلیل و خوار کرے گا اور تمھیں اُن پر غلبہ عطا فرمائے گا اور مومنوں کے ایک گروہ کے کلیجے (اِس سے)ٹھنڈے کرے گا۔''

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ.(التوبہ ۹: ۲۹)

''(اِن مشرکوں کے علاوہ)اُن اہل کتاب سے بھی لڑو جو نہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اُس کے رسول کے حرام ٹھیرائے ہوئے کو حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، (اُن سے لڑو)، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔''

غرض یہ کہ ذریتِ ابراہیم کے سیاسی غلبے کی ابتدا آپ سے کرا دی گئی، جس کی تکمیل آپ کے خلفا کے ہاتھوں ہوئی، جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے خلفا کے ذریعے سے اس سنت الٰہی کا اظہار بنی اسرائیل کے لیے ہواتھا۔

مسیح کی بادشاہت

اناجیل میں مسیح علیہ السلام کو بنی اسرائیل کا بادشاہ کہا گیا تھا۔ مثلاً انجیل لوقا میں ہے:

''پیلاطوس نے اس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اس نے اس کے جواب میں کہا تو خود کہتا ہے۔''(لوقا۲۳: ۳)

''سپاہیوں نے بھی پاس آ کر اور سرکہ پیش کر کے اس پر ٹھٹھا مارا اور کہا کہ اگر تو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا۔ اور ایک نوشتہ بھی اس کے اوپر لگا دیا تھا کہ یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔'' (لوقا ۲۳: ۳۶۔۳۸)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کابنی اسرائیل کا ممکنہ بادشاہ ہونے کا تصور معروف تھا۔ نیز اناجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے اس الزام کا رد بھی نہیں کیا۔

یہاں دو اشکال پیش کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اگر رسولوں کے غلبے کا مطلب ان کا سیاسی غلبہ ہے تو مسیح کو سیاسی غلبہ کیوں نہ ملا؛ دوسرا یہ اگر مسیح کی بادشاہت کوئی الگ خاص معاملہ تھا، کوئی خدائی پیشین گوئی تھی اور وہ ان کے وقت میں پوری نہ ہو پائی تھی تو پھر یہ پیشین گوئی دنیا میں ان کی آمد ثانی کے وقت پوری ہو گی۔ اس سے مسیح کی آمد ثانی کا مزید جواز بھی مہیا کیا گیا۔

ہم اس معاملے کو قانون اتمام حجت کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ رسول کے سیاسی غلبے کی مذکورہ بالا بحث سے رسول کے غلبے کی حیثیت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ غلبہ سیاسی غلبہ نہیں ہوتا، اس لیے مسیح کے لیے بھی بہ حیثیت رسول سیاسی غلبہ قانون اتمام حجت کی رو سے ہونا ضروری نہیں تھا۔ تاہم اناجیل میں ان کے لیے 'بادشاہی' کے لفظ سے ان کا سیاسی غلبہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر بنی اسرائیل، مسیح پر ایمان لے آتے اور ان کی اطاعت اختیار کر لیتے تو ذریت ابراہیم کو حسب وعدۂ الٰہی سیاسی غلبہ ملتا اور مسیح ان کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے حکمران ہوتے، بالکل اسی طرح جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں بنی اسماعیل کو سیاسی غلبہ ملا ۔ لیکن بنی اسرائیل نے مسیح کا انکار کر دیا، اس لیے دنیوی سیادت کا موقع انھوں نے گنوا دیا اور مسیح علیہ السلام، بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے بنا ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ گویا مسیح کی بادشاہت کی پیشین گوئی درحقیقت پیشین گوئی نہیں، بلکہ مشروط بشارت تھی جس کو بنی اسرائیل نے ضائع کردیا۔ البتہ رسولوں کا غلبہ جو کہ قانونِ الٰہی تھا، وہ مسیح کے لیے بھی برپا ہو کر رہا ، مسیح کے منکرین پر بھی عذاب نازل ہوا، وہ محکوم ہوئے، در بدر ہوئے، تاہم ان پر استیصال کا عذاب اس لیے نہیں آیا کہ وہ مشرک نہیں، موحد تھے اور استیصال جانتے بوجھتے شرک کرنے پر آتا ہے۔ مزید یہ کہ رسولوں کے انکار اور قتل پر بنی اسرائیل پر ذلت کی سزا مسلط کیے جانا، قانون الٰہی تھا، اس پرمفصل بحث پیش تر گزر چکی۔

ایک اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سیاسی غلبہ تو مسیح کے ساتھیوں کو بھی نہیں ملا، حالاں کہ رسول کے ساتھیوں کو غلبے کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کے ساتھیوں کو سیاسی غلبے کی بشارت اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ وہ خاطر خواہ افرادی قوت کے حامل ہوں تا کہ سیاسی غلبہ قائم کر سکیں۔ اتمام حجت کے بعد انسانی ہاتھوں کے ذریعے سے دنیوی سزا دینے کا معاملہ بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ رسول کے ساتھی خاطر خواہ تعداد میں موجود ہوں، ورنہ پہلے یہ ہوتا رہا کہ منکرین رسول کی قدرتی طاقتوں کے ذریعے سے تباہی کے بعد رسولوں کے ساتھی دنیا میں اپنا وقت امن و اطمینان کے ساتھ گزار کر رخصت ہو جاتے رہے، جیسا کہ نوح، صالح، شعیب علیہم السلام وغیرہ کے ساتھیوں کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔ پھر یہ کہ مسیح کے معاملے میں تو بنی اسرائیل ہی ان کے مقابل کھڑے ہو گئے تھے جن کے لیے مسیح کی پیروی کی صورت میں مسیح کی بادشاہت اور ان کے سیاسی غلبے کی بشارت تھی۔ بنی اسرائیل نے اپنا موقع ضائع کیا جس طرح ان سے پہلے رسولوں کی قوموں نے بہ صورت ایمان زمین و آسمان کی برکتوں سے نزول کے موقع کو ضائع کیا اور اپنے لیے خسارے کا سودا کیا۔

بالکل یہی خدائی اسکیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے قریش، یعنی بنی اسماعیل کو دی گئی تھی۔ آپ بھی قریش کو یہی فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم ایمان لے آؤ تو عرب و عجم تمھارے مطیع ہو جائیں گے، لیکن قریش نے آپ کی دعوت اور اس سے متعلقہ فوائد ٹھکرا دیے تھے اور پھروہ ذلیل ہوئے۔ تاہم ان میں جو ایمان لائے ان کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ دنیوی سیاسی غلبے کا وعدہ ان کے حق میں پورا ہو گیا۔

اب جب یہ طے ہو جاتا ہے کہ رسول کا سیاسی غلبہ، منصب رسالت کا جزو نہیں ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی غلبے کو اسوۂ رسول یا سنت رسول قرار دے کر، اس مثال کی پیروی کرنے کو کسی بھی درجے میں دینی فریضہ سمجھنا بھی ایک غلط فہمی ہے۔ یہ سیاسی طور پرخود کو رسالت کے منصب پر بٹھا لینے کے مترادف ہے۔ ذریت ابراہیم کے لیے سیاسی غلبہ و سرفرازی کے خاص وعدوں کو عام سمجھ کر ان کے بھروسے پر افراد کی قلیل تعداد پر مشتمل پرائیویٹ عسکری گروہ بنا کر حصول حکومت کے لیے مہمات برپا کرنا اور اس پر فتح و نصرت الٰہی کی امیدیں لگا بیٹھنا سوء فہم اور وقت، توانائیوں اور انسانی جانوں کی تلفی کا رایگاں مصرف ہے۔

ہمارے اس بیان سے مسلمانوں کے کسی گروہ کے لیے حصولِ حکومت کی سیاسی جدوجہد کی نفی کرنا مقصود نہیں، سیاسی جدوجہد کا فیصلہ، کسی علاقے کے مسلمانوں کا اپنا مقامی اور بعض صورتوں میں بین الاقوامی معاملہ ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے حالات کے مطابق یہ طے کرسکتے ہیں کہ پر امن رہتے ہوئے، حق و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، انھیں کن خطوط پر اپنی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہ جدوجہد بعض صورتوں میں نہایت ضروری اور ناگزیر بھی ہو سکتی ہے، لیکن حصولِ حکومت اور اس کے لیے سیاسی جدوجہد کو دینی فریضہ سمجھنا دین میں خود ساختہ اضافہ ہے۔ البتہ، مسلمانوں کو جب کہیں سیاسی غلبہ حاصل ہو جائے تو ان پر لازم ہو جاتا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے مسلم اجتماعیت سے متعلق دینی احکامات کو بروے کار لائیں، اگر اس میں وہ کوتاہی برتیں گے تو قرآن مجید کی رو سے کافرانہ، فاسقانہ اور ظالمانہ فعل کے مرتکب قرار پاتے ہیں:

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ.(المائدہ ۵: ۴۴)

''اور (یاد رکھو کہ)جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی منکر ہیں۔''

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ.(المائدہ ۵: ۴۵)

''اور (یہ بھی کہ)جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔''

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(المائدہ ۵: ۴۷)

''جو اللہ نے اُس میں نازل کیا ہے اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی فاسق ہیں۔''

کیا جزیرۂ عرب میں محمد رسول اللہ اور صحابہ کا قتال صرف جارحین کے خلاف تھا؟

بعض حضرات کا خیال ہے کہ فتح مکہ اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور کی جنگیں جن کا ذکر سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات میں بھی آیا ہے، صرف جارح مشرکین و اہل کتاب کے خلاف تھیں، یعنی صرف ان کے خلاف جو آمادۂ جنگ تھے۔ یہ خیال قرآن کی واضح نصوص اور مسلمہ تاریخی شواہدکے خلاف ہے۔پہلے قرآن کی نصوص دیکھیے:

سورۂ توبہ میں پہلی آیت ہی تمام مشرکین کے ساتھ کیے گئے معاہدات سے اعلان براء ت کرتی ہے:

بَرَآءَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(التوبہ ۹: ۱)

''اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے اُن مشرکوں کے لیے اعلان براء ت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔''

پھر دوسری آیت ان معاہدین کو چار ماہ کی مہلت دیے جانے کا اعلان کرتی ہے، جس کے بعد ان پر فیصلہ کن حملے کا اعلان کیا جانا ہے:

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَاَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکٰفِرِیْنَ.(التوبہ ۹: ۲)

''سو، (اے مشرکین عرب)، اب ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ بھی کہ اللہ (اپنے پیغمبر کا)انکار کرنے والوں کو رسوا کر کے رہے گا۔''

پھر حج کے ایام میں ایک بار پھر اعلان عام کرایا گیا کہ اب مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں رہا اور انھیں اشہر حرم، یعنی ذو الحج سے محرم کے اختتام تک تقریباً ۵۰ دن کی مہلت دے کر ان پر جنگ مسلط کرنے کا حکم دیا گیا:

اَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِاَنَّ اللّٰہَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہٗ فَاِنْ تُبْتُمْ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ.(التوبہ ۹: ۳)

''(پھر حج کا موقع آئے تو اِس سرزمین کے) سب لوگوں تک پہنچانے کے لیے بڑے حج کے دن اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے اعلان عام کر دیا جائے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمھارے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے۔ (اے پیغمبر)، اِن منکروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔''

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۵)

''(بڑے حج کے دن) اِس (اعلان)کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے)اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے''

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۵) (2/2)

____________