قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۴) (1/2)


ڈاکٹر عرفان شہزاد

(گذشتہ سے پیوستہ)

اہل کتاب کا شرک

قرآن مجید میں اہل کتاب، بشمول اہل تثلیث کو خالصتاً اصطلاحی مشرک نہیں گردانا گیا ہے۔ قرآن مجید میں 'الْمُشْرِکُوْن' کی اصطلاح مشرکین عرب کے لیے استعمال کی گئی ہے، اہل کتاب کے لیے نہیں۔ مشرکہ عورت سے مسلم مرد کا نکاح حرام ٹھیرایا گیا، لیکن اہل کتاب کی خواتین سے مسلم مردوں کو نکاح کی اجازت دی گئی ، مشرکین کے ہاتھ کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حرام قرار دیا گیا ، جب کہ اہل کتاب کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال کیا گیا۔ ان امتیازات اور رعایات سے واضح ہو جاتا ہے کہ انھیں اصطلاحی مشرک نہیں سمجھا گیا۔ اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد مشرکین کی سزا، یعنی قتل کے بجاے ان کے لیے محکومی کی سزا مقرر کرنا اسی رعایت کا حصہ ہے۔

اصطلاحی مشرک دراصل وہ ہوتا ہے جو اپنے شرک کی تاویل نہ کرے، وہ تسلیم کرے کہ خدا کے ساتھ دیگر ہستیاں بھی خدا کے کاموں اور عبادت کے استحقاق میں شریک ہیں، گویا مشرک وہ ہے جو شرک کو بطور مذہب مانتا ہو۔ عرب کے مشرکین اپنے شرک کی تاویل نہیں کرتے تھے اور شرک کو بطور مذہب اختیار کر چکے تھے، وہ خدا کے علاوہ دیگر ہستیوں کو خدائی کاموں اور عبادت کے استحقاق میں شریک مانتے تھے؛ لیکن اہل کتاب کا یہ معاملہ نہیں تھا۔ اہل کتاب میں سے یہود تو نزول قرآن کے دور میں بھی خالص توحید پر قائم تھے، اور اب بھی ہیں، تاہم مسیحیوں کے تثلیث کے عقیدے کو قرآن مجید میں اگرچہ شرک کہا گیا ہے، لیکن انھیں بھی اصطلاحی مشرک نہیں سمجھا گیا، وجہ یہی تھی کہ وہ اپنے عقیدۂ تثلیث کی تاویل کرتے تھے، ان کا یہی کہنا تھا کہ خدا ایک ہی ہے، مسیح علیہ السلام اور روح القدس،خدا کی ذات کے دو مزید اظہار ہیں۔ مسیحی خود کو موحد ہی گردانتے تھے۔ مزید یہ کہ وہ اپنے تثلیث کے عقیدے پر اپنی مذہبی کتب سے استدلال بھی کرتے تھے، یعنی کسی درجے میں دلیل بھی رکھتے تھے، لیکن کھلے شرک کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی کوئی دلیل سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلا تاویل شرک کرنے والا اپنے علم و عقل پر بڑا بہتان باندھتا ہے:

وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا.(النساء ۴: ۴۸)

''اور (اِس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ)جو اللہ کا شریک ٹھیراتا ہے، وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افترا کرتا ہے۔''

اس لیے خدا نے کھلے شرک کی کوئی معافی نہیں دی، لیکن اہل کتاب میں سے یہود کے علاوہ مسیحیوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آخری دفعہ اتمام حجت کے بعد بھی ان کے شرک بالتاویل کی وجہ سے سزا میں رعایت ملی، قتل کے بجاے محکومی کی سزا دی گئی، اس محکومی کی علامت جزیہ کی ادائیگی تھی۔ اسی طرح یہود کو اس سے پہلے مسیح علیہ السلام کا انکار کرنے پر استیصال کے بجاے مسیحیوں کے ماتحت تاقیامت محکومی کی سزا دی گئی، وجہ یہی تھی کہ وہ توحید سے وابستہ تھے، جب کہ استیصال کی سزا شرک کے ساتھ مخصوص ہے:

وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ.(آل عمران ۳: ۵۵)

''(اے عیسیٰ)، تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے۔ سو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔''

کیا شرک بالتاویل آخرت میں بھی رعایت کا مستحق ہے؟

ایک ضمنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے شرک بالتاویل پر جو رعایت انھیں اس دنیا میں ملی، کیا ایسی ہی رعایت انھیں قیامت کبریٰ میں بھی ملے گی، کیونکہ ہم نے شروع میں یہ عرض کیا تھا کہ قیامت صغریٰ، قیامت کبریٰ کا نمونہ ہے اور دونوں میں عدل کے ضوابط یکساں ہیں۔ قرآن مجید کی روشنی میں اس سوال کا جواب ہم اثبات میں پاتے ہیں:

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا تھا کہ انسان پر اتمام حجت اس کی فطرت، انفس و آفاق کی گواہی اور اس کو میسر علم و عقل کے ذریعے سے بھی ہوتا ہے، ایمان کے معاملے میں عقل و فہم کے استعمال کے بعد ضمیر کا اطمینان بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ضمیر کا یہ اطمینان عقل و فہم کے استعمال کے بعد کسی غلط نتیجے پر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے انفرادی طور پر ہر ایک کے ایمان و عقیدے کا حساب قیامت میں خدا کے پورے علم کی روشنی میں ہوگا۔ مسیحیوں کے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ ان کو تثلیث کے شرکیہ عقیدے کی تعلیم ان کے مذہبی لٹریچر اور مسیح علیہ السلام سے منسوب روایات کے ذریعے سے دی گئی۔ اس لحاظ سے ان پر مزید حجابات قائم ہو گئے۔ چنانچہ ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں کہ انھیں مزید رعایت ملنے کا امکان بتایا گیا ہے، اور یہ خداے عادل کے عدل کے مطابق بھی ہے۔ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن وہ نبیوں سے ان کی امت کے ان افراد کے بارے میں سوال کرے گا جو رسول کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے پیروکار بنے ۔ انبیا ان سے اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ اس موقع پر تمام انبیا کا اجمالی جواب نقل ہوا ہے، لیکن مسیح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مفصل مکالمہ نقل ہوا ہے۔ اور اسی میں اس سوال کا جواب ہے۔ آیات ملاحظہ کیجیے:

وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ. مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ. اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ. لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِیْھِنَّ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.(۵: ۱۱۶۔ ۱۲۰)

''اور یاد کرو، جب اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو۔ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ)آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ اب اگر آپ انھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔ اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ زمین و آسمان اور اُن کے اندر تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔''

اس مکالمے میں عیسیٰ علیہ السلام اپنے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد، اپنی اور اپنی والدہ کی ذات کے بارے میں گھڑے جانے والے غلط عقائد پر ایمان لے آنے والوں اور اس کے نتیجے میں خدا کے ساتھ شرک کرنے والوں کی مغفرت کا نہ صرف امکان ظاہر فرما رہے ہیں، بلکہ سفارش بھی فرما رہے ہیں۔

اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سفارش کے جواب پر غور کیجیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے مشرکین کی سفارش کرنے سے منع نہیں فرمایا دیا، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو ان کے والد، آذر کے لیے دعاے مغفرت کرنے سے یہ کہہ کر منع کر دیا تھا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، اس کی مغفرت نہیں ہو سکتی:

وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۱۱۴)

''ابراہیم نے تو اپنے باپ کے لیے صرف اُس وعدے کے سبب سے مغفرت مانگی تھی جو اُس نے اپنے باپ سے کر لیا تھا۔ مگر جب اُس پر واضح ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو وہ اُس سے بے تعلق ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑا نرم دل اور بردبار تھا۔''

آذر کے پاس اپنے کفر کا کوئی عذر نہیں بچا تھا، اس لیے اس کے حق میں ابراہیم علیہ السلام کی سفارش قبول نہ ہوئی۔ اس کے برعکس یہاں اللہ نے مسیح سے یہ نہیں کہا کہ یہ لوگ تو مشرک ہیں ان کی مغفرت نہیں ہو سکتی، بلکہ فرمایا کہ آج ان میں سے سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی، بلکہ یہ بھی فرمایا کہ وہ انعامات سے بھی نوازے جائیں گے۔ یعنی جو لوگ پوری دیانت داری سے، ضمیر کے اطمینان کے ساتھ شرک بالتاویل اختیار کیے رہے، نیز سچائی جاننے کے ذرائع، یعنی کتب الٰہیہ سے بھی انھیں بجاے رہنمائی کے اسی شرک کی تعلیم دی گئی، اور وہ تاویلات کی بھول بھلیوں میں اس شرکیہ عقیدہ کو تسلیم کر بیٹھے اور دیانت داری سے ایک خدا کو اس کے مختلف مزعومہ مظاہر میں پوجتے رہے، ان کونہ صرف مغفرت ملے گی، بلکہ انعامات سے بھی نوازے جائیں گے۔

عیسیٰ علیہ السلام اور خدا کے درمیان زیر معاملہ لوگوں کے اس مجموعہ میں، البتہ، ایسے افراد کے شامل ہونے کا بھی پورا امکان موجود ہے جن پر ان عقائد کی غلطی واضح ہو گئی ہو گی، لیکن وہ اپنے ضمیر کے خلاف، روایتی عقیدے کو اختیار کیے رہے، ایسے لوگ مغفرت کے مستحق نہیں ہوں گے، لیکن چونکہ ان کا درست علم خدا کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہو سکتا، اس لیے عیسیٰ علیہ السلام نے اجمالی سفارش کر کے سارا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا، چنانچہ اللہ نے ان تمام مسیحیوں میں سے بخشش اور انعامات کا مستحق صرف انھیں قرار دیا جو دیانت دار ی سے تاویل کی غلطی کی وجہ سے اس غلط عقیدے پر قائم رہے، لیکن وہ کوئی ارادی کافر نہ تھے، جنھوں نے حقیقت جان لینے کے بعد جان بوجھ کر انکار کر دیا ہو۔ درحقیقت، حقیقت کا جان بوجھ کر انکار ہی وہ کفر ہے جو عذاب کا مستحق بناتا ہے، یہ کفر خواہ فطرت کی گواہی کا انکار ہو یا انبیا کی دعوت سے روگردانی اختیار کی گئی ہو، ہر صورت میں عذاب کا مستحق ہے۔ قرآن مجید کا عمومی قانون یہی معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کی تمام وعیدیں حقیقت کا جان بوجھ کر انکار کرنے پر بتائی گئی ہیں۔ درج ذیل آیت میں بھی یہ بیان موجود ہے کہ اہل تثلیث میں سے وہی لوگ عذاب کے مستحق ہو ں گے جنھوں نے حقیقت جان کر بھی انکا ر کیا نہ کہ سب مسیحی:

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ م بَیۡنِھِمْ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْھَدِ یَوْمٍ عَظِیۡمٍ.(مریم ۱۹: ۳۷)

''مگر اُس (مسیح) کے ماننے والوں کے اندر سے مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو (اب)اُن کے لیے جنھوں نے (اِن حقائق کا)انکار کر دیا ہے، ایک ہول ناک دن کی حاضری کے باعث خرابی ہے۔''

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ خدا کے قوانین عدل کے مطابق ہے۔ یہ معاملہ محولہ بالا آیت میں مذکور مسیحیوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، جو مسیح اور ان کی والدہ کو خدا بنا بیٹھے تھے۔ ایسی صورت حال جہاں بھی پائے جائے گی یہی اصول لاگو ہو گا۔

اسی تناظر میں ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا دیکھیے:

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ. رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(ابراہیم ۱۴: ۳۵۔۳۶)

''اِنھیں وہ واقعہ سناؤ، جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ میرے پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اِس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجنے لگیں۔ پروردگار، اِن بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے۔ (یہ میری اولاد کو بھی گمراہ کر سکتے ہیں)، اِس لیے جو (اُن میں سے)میری پیروی کرے، وہ میرا ہے اور جس نے میری بات نہیں مانی، (اُس کا معاملہ تیرے حوالے ہے)، پھر تو بخشنے والا ہے، تیری شفقت ابدی ہے۔''

ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا مسیح علیہ السلام کی دعا کے مثل ہے۔ اس آیت میں گمراہ ہو جانے والوں سے مراد مشرک ہو جانا ہے۔ اس پر مولانا امین احسن اصلاحی کے الفاظ بیانِ مدعا کے لیے کفایت کرتے ہیں:

''یہ اپنی اولاد میں سے ان لوگوں سے اعلان براء ت ہے جو ان کے طریقہ سے ہٹ کر شرک و بت پرستی میں مبتلا ہوں۔ فرمایا کہ جو اس معاملہ میں میری پیروی کریں وہ تو بے شک مجھ سے اور میرے زمرے میں سے ہیں اور جو میری راہ سے ہٹ کر شرک میں مبتلا ہوں ان کا معاملہ تیرے حوالہ ہے، تو ان کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جس کا تو ان کو مستحق پائے گا۔ تو غفور رحیم ہے، تجھ سے کسی ناانصافی کا اندیشہ نہیں۔ جو رحمت کے سزاوار ہوں گے وہ اس سے محروم نہیں رہیں گے۔''(تدبر قرآن ۴/ ۳۳۳)

بنی اسرائیل کی تاقیامت محکومی کی سزا اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ.(آل عمران ۳: ۵۵)

''اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور (تیرے) اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے ۔ سو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔''

چند اشکالات

مذکورہ بالا آیت کی رو سے یہود کی تاقیامت محکومی کی سزا پریہ اشکالات پیش کیے جاتے ہیں:

پہلی بات یہ کہ یہ معاملہ کس ضابطے کے تحت کیا گیا ہے؟ مسیح علیہ السلام کے وقت میں ان کا انکار کرنے والوں کی سزا تاقیامت آنے والی بنی اسرائیل کی نسلوں کو کیوں دی گئی؟ یہاں مسیح علیہ السلام کا اتباع کرنے والوں سے کون مراد ہیں جو یہود پر تاقیامت حاکم رہیں گے؟ مسیح علیہ السلام کے براہ راست پیروکاروں کو تو اپنے دشمن یہود پر غلبہ نہیں ملا تھا اور بعد والے مسیحی، مسیح علیہ السلام کی تعلیمات گم کر چکے تھے، تثلیث اور دیگر بدعات کا شکار ہو گئے تھے اور وہ مسیح علیہ السلام کے متبعین کہلانے کے مستحق نہیں، مسلمان بھی یہاں مراد لینا مشکل ہے، کیونکہ یہود مسلمانوں کے تحت مسلسل محکوم بھی نہیں رہے، تو اس آیت میں متبعین مسیح سے کون لوگ مراد ہیں جو یہود پر تا قیامت مسلسل مسلط رہیں گے؟

ان اشکالات کے جواب میں عرض ہے کہ یہود کی یہ ذلت انبیا کے انکار و قتل کے بعد ان پر مسلط کرنا خدا کاقانون تھا جیسا کہ پہلے بتایا گیا۔ اسی عمومی قانون کا یہ ایک خصوصی اظہار ہے۔رہا یہ سوال کے یہ جرم یہود کی بعد کی نسلوں نے نہیں کیا، پھر ان کو سزا کیوں مل رہی ہے تو بات یوں ہے کہ یہود کی بعد کی نسلوں پر بھی ان کے مذہبی لٹریچر اور ان کی مسلّمہ مذہبی تاریخ کی وجہ سے مسلسل اتمام حجت ہوتا آ رہا ہے۔ بائیبل کے عہد قدیم میں درج مسیح علیہ السلام کی آمد کی پیشین گوئیوں، خود انجیل کی مسلسل موجودگی، انجیل میں ہونے والی تحریف کے باوجود مسیح علیہ السلام اور ان کے بنیادی پیغام کا ہمیشہ ویسا ہی واضح اور قطعی رہنا جیسے مسیح علیہ السلام نے اپنے اولین مخاطبین کو بتایا تھا، نیز ان کی تاریخ میں بھی مسیح علیہ السلام کے اتمام حجت کی سرگذشت کے بعد ان کی ہر نسل پر مسلسل اتمام حجت ہوا ہے۔ یہ سب ان کے لیے خاندانی روایات کی حیثیت رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کے لیے، اس کا انکار بدیہات کا انکار ہے، جس کی سزا حسب وعدۂ الٰہی ذلت و محکومی کی صورت میں انھیں ملتی رہے گی۔ اس کو ایک اورزاویہ سے یوں سمجھیں کہ جس طرح نزول قرآن کے وقت کے یہود کو ان کے آبا و اجداد کے جرائم کا وارث سمجھا گیا اور ان سے ایسے ہی خطاب کیا گیا جیسے کہ یہ جرائم خود ان سے سرزد ہوئے ہوں، کیونکہ وہ اپنے آبا کے ان جرائم سے براء ت نہیں کرتے تھے اور ان کی روش پر قائم تھے، اس لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار اور ان کے ساتھ قتال پر مصر تھے، اس لیے انھیں بھی ان کے آبا کے جرائم میں شریک مانا گیا۔اسی طرح مسیح علیہ السلام کے بعد کے یہود بھی اپنے آبا کے جرائم میں اس وقت تک شریک سمجھے جائیں گے جب تک اس روش سے توبہ کر کے حقائق کو تسلیم کر کے اپنا عمل درست نہیں کر لیتے۔

مسیح کی اتباع کرنے والوں سے کون مراد ہیں؟

پہلی بات یہ ہے کہ یہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے براہ راست اتباع کرنے والوں کے لیے تومنحصر نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہاں ان کے تا قیامت غلبے کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ تا قیامت تو انھوں نے زندہ نہیں رہنا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مسیح علیہ السلام کے براہ راست شاگرد بھی اس آیت کا مصداق ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ الفاظ کو دیکھا جائے تو 'الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ' میں مخلص مومنینِ مسیح اور وہ تمام لوگ بھی مراد ہو سکتے ہیں جو خود کو مسیح علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہاں عام مسیحی مراد ہیں۔ اس کا تعین ایک تو داخلی قرائن سے طے ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں اہل کتاب کہہ کر اگر مخلص مومنین اور دین ابراہیمی سے منحرف ہو جانے والے سب اہل کتاب کو مراد لیا جا سکتا ہے تو 'اِتَّبَعُوْکَ' کہہ کر مخلص مومنین کے علاوہ عام مسیحیوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے، یعنی الفاظ میں اس کی پوری گنجایش موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ یہاں 'اِتَّبَعُوْکَ' کو 'الَّذِیْنَ کَفَرُوْا' کے مقابل رکھا گیا ہے نہ کہ مخلص مومنین اور گمراہ مسیحیوں کا تقابل پیش نظر ہے۔ پھر خارجی قرینے کے مطابق تاریخی حقیقت بھی یہی چلی آ رہی ہے کہ عام مسیحی ہی یہود پر غالب چلے آر ہے ہیں، اس میں کوئی استثنا بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسی وجہ سے مسیح علیہ السلام کا اتباع کرنے والوں سے مراد صرف مخلص مومنین نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ متبعین مسیح سے مراد صرف مسلمان بھی نہیں ہو سکتے، کیونکہ یہود، مسلمانوں کے محکوم بھی مسلسل نہیں رہے۔ (ملخص مع اضافہ تدبر قرآن، زیر بحث سورۂ آل عمران آیت ۵۵)

دوسری بات یہ ہے کہ اتباع کے مفہوم میں سوچ سمجھ کر اور بلا سوچے سمجھے پیروی کرنا دونوں شامل ہیں۔ اچھے اور برے، دونوں طرح کی اتباع کو اتباع ہی کہا جاتا ہے۔ درج ذیل آیت میں دیکھیے کہ مسیح علیہ السلام کے تمام اتباع کرنے والوں کو مسیح کا متبع ہی کہا گیا ہے، چاہے وہ درست مذہب پر تھے یا دین و عقائد میں بدعات کا شکار ہو گئے تھے یا اخلاقی طور پر فسق کے مرتکب تھے:

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَآٰی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً وَرَھْبَانِیَّۃَنِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ.(الحدید ۵۷: ۲۷)

''پھر اُنھی کے نقش قدم پر ہم نے اپنے اور رسول بھی بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کوبھی اُنھی کے نقش قدم پر بھیجا اور اُسے انجیل عطا کی اور اُس کے پیرووں کے دلوں میں رأفت و رحمت ڈال دی، مگر رہبانیت اُنھوں نے خود ایجاد کر لی۔ ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا۔ یہ بات ، البتہ ضرور فرض کی تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی چاہیں۔ سو اُنھوں نے اُس کے حدود، جس طرح کہ چاہیے تھا، ملحوظ نہیں رکھے۔ تاہم اُن میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہے، اُن کا اجر ہم نے اُنھیں عطا فرمایا، مگر اُن میں سے زیادہ نافرمان ہی نکلے۔''

چنانچہ سورۂ آل عمران کی آیت ۵۵ میں مسیح علیہ السلام کا اتباع کرنے والوں سے مراد مسیح کے بعد کے دور کے ان کے نام لیوا، جو ان کے درست دین پر قائم نہ رہ سکے، لینے میں کوئی مانع نہیں ہے۔ یہ عام مسیحی ہی ہیں جو تاریخی حقیقت کے طور پر بھی یہود پر سیاسی طور پر غالب چلے آ رہے ہیں اور اس طرح خدا کی ایک زندہ پیشین گوئی کے طور پر یہ مظہر دنیا کے سامنے موجود ہے۔

اب اشکال یہ ہے کہ ان عام مسیحیوں کا غلبہ تو یہود پر بہت دیر میں ہوا، یعنی تین سو سال کے بعد جب رومی شہنشاہوں نے مسیحیت قبول کر لی تھی۔

اس پر عرض ہے کہ خدا کے ان دنیوی عذابوں، یعنی قیامت صغریٰ کا وقت کب شروع ہوتا ہے یہ علم اور اندازہ اس نے ہم سے اسی طرح پوشیدہ رکھا ہے جیسے قیامت کبریٰ کا علم و اندازہ۔ مختلف قوموں پر آنے والے عذابوں کی مہلت میں بہت فرق ہے۔ کہیں صرف تین دن کی مہلت دی گئی، تو کہیں یہ مہلت برسوں کو محیط ہو گئی اور کہیں یہ صدیوں کے عرصے میں سامنے آئی۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے مستحقِ عذاب ہو جانے کے بعد مہلت میں فرق کیوں رکھتا ہے تو یہ اس کے محیط علم کی بات ہے ، جن عوامل اور حالات کو مد نظر رکھ کر وہ فیصلہ کرتا ہے، انسانی عقل کے لیے ان کا احاطہ کرنا محال ہے۔

ایک اعتراض

یہاں ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے معاملے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تمام مراحل، یعنی انذار، انذار عام، اتمام حجت، ہجرت و براء ت، اور جزا و سزا سے نہیں گزری تو عذاب وہی کیوں دیا گیا جو اتمام حجت کے ان تمام مراحل کے گزر جانے کے بعد آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتمام حجت ایک بار اپنے تمام مراحل سے گزر کر ایک سرگذشت کی شکل میں مکمل ہو کرخدا کی کتاب میں محفوظ ہو جائے تو اس سرگذشت کا سناناہی انذار کے لیے کافی ہوتا ہے۔ تمام مراحل کا اعادہ نہیں کیا جاتا۔ ایسے ہی جیسے صحابہ نے جب روم و ایران پر حملہ کیا تو تفصیلی دعوت نہیں دی، انھوں نے یہ کافی سمجھا کہ عرب سے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں ملنے والی مسلسل خبروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اسلام قبول کرنے کے لیے باقاعدہ دعوتی خطوط ملنے اور اہل کتاب کی اپنی کتب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیوں کی وجہ سے اتمام حجت ہو چکا۔ چنانچہ انھوں نے روم و ایران پر بھی وہی محکومی اورجزیہ کی وہی سزا نافذ کر دی جو اہل کتاب کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

بنی اسرائیل کے معاملے میں اتمام حجت ان پر ان کے انبیا کی طرف سے مسلسل ہوتا رہا۔ مسیح علیہ السلام کی رسالت ان کے لیے عاد و ثمو د کی بے خبر اقوام کی طرح کوئی اجنبی چیز نہیں تھی کہ دعوت دین کے تما م مراحل پورے کیے جاتے۔ بنی اسرائیل دین کے بنیادی تصورات سے واقف تھے۔مسیح علیہ السلام توان کی اخلاقی تربیت کرنے آئے تھے، جسے قبول نہ کرنے پر انھیں تاقیامت محکومی کی سزا دی گئی ہے۔ یہ سزا بنی اسرائیل کے لیے اسی ضابطے کے تحت دی گئی ہے جو ان کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے تھا، جس کا مفصل ذکر اس مضمون میں پہلے ہو چکا ہے کہ پیغمبروں کے انکار اور نافرمانی پر انھیں ذلت کی سزا ملے گی۔ خدا کے علم کے مطابق یہ معاملہ قیامت تک چلے گا۔ اگرچہ بنی اسرائیل کے لیے مسیح علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت آج بھی موجود ہے اور آج بھی وہ اگر ایمان لے آتے ہیں تو اس محکومی سے نکل سکتے ہیں، لیکن علم خداوندی میں ہے کہ ایسا ہوگا نہیں اور وہ مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کے تحت تاقیامت محکوم ہی رہیں گے۔ یہود کی مسیحیوں کے ماتحت محکومی ایک زندہ تاریخی حقیقت کے طور پر، قرآن کی سچائی کے ایک زندہ ثبوت کی حیثیت سے، ہر دور کے انسانوں کے سامنے موجود رہے گی۔

ایک اشکال

قانون اتمام حجت کے مطابق مسیح علیہ السلام کے براہ راست منکرین پر اسی دنیا میں ذلت و محکومی کا عذاب آنا ضروری تھا، لیکن یہ عذاب ۷۰ عیسوی میں آیا، جب کہ مسیح علیہ السلام مشہور روایت کے مطابق ۳۰ سے ۳۵ عیسوی کے درمیان اٹھا لیے گئے تھے۔ یعنی مسیح علیہ السلام کے رخصت ہونے کے ۳۵ سے ۴۰ سال کے بعد ان کے براہ راست منکرین پر ذلت و محکومی کا عذاب آیا۔ تو گویا وہ منکرین ۳۵ یا ۴۰ سال امن میں رہے اور جب عذاب آیا تو ان میں سے بیش تر شاید زندہ ہی نہیں تھے۔

اس پر عرض ہے کہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کے رخصت ہو جانے کے فوراً بعد ہی یہودیوں اور رومیوں میں بگڑ گئی۔ چنانچہ رومیوں نے یہودیوں کو مسلسل ذلت و محرومی کے عذاب سے دوچار کیے رکھا، وہ مسلسل ان کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے ، اسی سلوک سے تنگ آ کر انھوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کر ڈالی تھی جس کا حتمی نتیجہ ۷۰ عیسوی میں طیطاؤس (Titus) کے حملے کی صورت میں نکلا۔

تاریخ میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب دیے جانے سے پہلے تک، یعنی رومی گورنر، پیلاطوس (Pontius Pilate)، جس نے مسیح علیہ السلام کو صلیب دیے جانے کی منظوری دی تھی، کے دور تک رومیوں کے ساتھ یہود کے تعلقات قابل قبول حد تک ٹھیک چل رہے تھے، لیکن مسیح علیہ السلام کے خلاف اقدام قتل کے بعد سے حالات خراب ہوتے چلے گئے، خون خرابہ شروع ہو گیا، رومیوں نے یہود پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے، یروشلم میں فوج تعینات کر دی گئی، شہنشاہ کیلیگولا (Caligula) جس نے ۳۷ تا ۴۱ عیسوی تک حکومت کی، کے دور میں حالات یہاں تک پہنچے کہ شہنشاہ نے بیت المقدس میں اپنا مجسمہ رکھوا کر یہود کو اس کی پوجا کا حکم دیا۔

تاہم ۴۱ سے ۴۴ عیسوی کے تین سالوں میں جب رومیوں کی طرف سے اگریپا اوّل (Agrippa) یہود کا بادشاہ مقرر ہوا تو اس نے حالات میں بہتری لائی۔ یہ بھی خدائی ضابطہ ہے کہ عذاب کے بعد مہلت کا عرصہ بھی آتا ہے ۔ اگریپا اوّل کی موت کے بعد یہود کے رومیوں سے تعلقات پھر خراب ہو گئے، دونوں کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئیں، یہودیہ (Judea) کی سلطنت کی معاشی حالت ابتر ہوگئی، انارکی پھیل گئی، بغاوتیں پھوٹ پڑیں،۱؂ ادھر ان کی آپس کی فرقہ واریت بھی عروج پر تھی۔ یہی حالات چلتے رہے، یہاں تک کہ ۶۶ عیسوی میں گورنر جیسئس فلورس (Gessius Florus) نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے نام پر بیت القدس کی آمدنی پر ہاتھ ڈالا، یہ چیز یہودیوں سے برداشت نہ ہوئی اور انھوں نے رومی گورنر پر حملہ کر دیا، اس کے جواب میں ۶۷ عیسوی میں رومی گورنر ویسپاسیئن (Vespasian)، جو بعد میں روم کا شہنشاہ بنا، ان پر حملہ آور ہوا اور نہایت بے دردی سے یہ بغاوت فرو کی۔۲؂ پھر وہ واپس چلا گیا، لیکن بغاوت کی آگ بھڑکتی رہی، جس کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے اس نے اپنے بیٹے طیطاؤس کو بھیجا جس نے حملہ کر کے نہ صرف یہود کا قتل عام کیا اور انھیں لونڈی اور غلام بنایا، بلکہ بیت المقدس کو بھی تباہ کر دیا، جس نے یہود کی کمر توڑ کر رکھ دی، یہ ان کے لیے ان کی تاریخ کا بد ترین سانحہ تھا، جس کو یہود نے کبھی نہیں بھلایا۔ روم کے ساتھ ان کے معاملات بعد میں خراب چلتے رہے۔

غرض یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کے بعد کا سارا دور، سوائے اگریپا اوّل کے ۳ سالہ دور کے، یہود کے لیے مسلسل اذیت، انارکی، ذلت اور محکومی کا دور تھا، جس کا فیصلہ کن مرحلہ ۷۰ عیسوی میں طیطاؤس کے حملے کی صورت میں نکلا۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ وہ ۷۰ عیسوی سے پہلے سکون میں رہ رہے تھے، درست نہیں۔ یہود کے ساتھ یہ معاملہ اللہ کی اس سنت کے بالکل مطابق ہوا ہے جس کی رو سے حتمی دنیوی عذاب سے پہلے تنبیہی عذاب آتے ہیں۔ نیز ۳۵ یا ۴۰ سال کا عرصہ اتنا بھی طویل نہیں کہ ایک نسل ہی گزر جائے۔ یقیناًمسیح علیہ السلام کے براہ راست منکرین میں سے بیش تر حتمی عذاب سہنے کے لیے بھی زندہ تھے۔

ایک اشکال

ایک اشکال یہ پیش کیا گیا کہ ہر رسول اپنی امت پر عذاب کے وقت موجود ہوتا ہے، لیکن مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل پر ان کے انکار کے نتیجے میں آنے والے عذاب سے پہلے رخصت کیوں ہو گئے؟

اس پر عرض ہے کہ یہ تو درست ہے کہ قرآن مجید میں جن رسولوں کا ذکر ہے، وہ اپنی قوم پر عذاب کے وقت موجود تھے، لیکن عذاب کے وقت ان کی موجودگی اتمام حجت کا کوئی ضابطہ نہیں ہے ۔ یہ ضابطہ تب بنتا جب یہ بیان میں آتا، اس پر کوئی نص ہوتی، لیکن اس پر کوئی نص نہیں ہے۔ رسول کا کام ابلاغ دین اور اتمام حجت ہے، عذاب کے وقت اس کی موجودگی امرواقعہ تو ہے، لیکن اس کا کار رسالت سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ رسول تو عذاب سے پہلے ہی اپنی بستی سے چلا جاتا ہے اور عذاب کا کچھ حصہ ہی دیکھ پاتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اس عذاب سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جائے:

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَ. رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ. وَاِنَّا عَلٰٓی اَنْ نُّرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ.(المومنون۲۳: ۹۳۔۹۵)

''تم دعا کرو، (اے پیغمبر)کہ میرے پروردگار، اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے اِنھیں ڈرایا جا رہا ہے۔ تو پروردگار، مجھے اِن ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم پوری قدرت رکھتے ہیں کہ جس عذاب سے ہم اِن کو ڈرا رہے ہیں، وہ (تمھاری آنکھوں کے سامنے لے آئیں اور)تمھیں دکھا دیں۔''

وَاِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ.(الرعد ۱۳: ۴۰)

''ہم جو وعید اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں گے یا تم کو وفات دیں گے (اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں گے)۔ سو تمھاری ذمہ داری صرف پہنچانا ہے اور اِن کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔''

فَاِمَّا نَذْھَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ. اَوْ نُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰھُمْ فَاِنَّا عَلَیْھِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۴۱۔۴۲)

''اب تو یہی ہو گا کہ یا ہم تمھیں اٹھا لیں گے، پھر اِن سے ضرور بدلہ لیں گے۔ یا جس (عذاب)کا وعدہ ہم نے اِن سے کیا ہے، وہ (تمھارے اِس دنیا میں ہوتے ہوئے)تم کو لا دکھائیں گے، اِس لیے کہ ہم اِن پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔''

اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم بنی اسرائیل پر سیاسی غلبہ ہونا یا بنی اسرائیل پر ان کے انکار کے نتیجے میں آنے والے عذاب محکومی کے وقت ان کا موجود ہونا بھی قانونِ اتمام حجت کی رو سے ضروری نہ تھا۔

_____

۱؂ http://cojs.org/judea_under_the_procurators/۔

۲؂ http://cojs.org/biblical_history-_the_roman_period...

____________