قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۶) (1/2)


(گذشتہ سے پیوستہ)

دین میں جبر کی نفی اور اتمام حجت کے بعد کی سزا

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین تسلیم کرانے میں جبر روا نہیں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام حجت کے بعد آپ کے منکرین پر قتل و محکومی کی سزا کا نفاذ کیا جبر نہیں ہے؟

معاملہ دراصل یوں ہے کہ دنیا میں لوگ خدا کی طرف سے اس حق کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ وہ اپنے خالق کو پہچانیں، اس پر ایمان لائیں اور اس کی عبادت کریں، ان کی پیدایش کا مقصد ہی یہ بتایا گیا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ. (الذاریات ۵۱: ۵۶)

''میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔''

انسان جب خدا شناسی اور خداے واحد کی عبادت کے اپنے اس مقصد پیدایش سے غافل ہو جاتا ہے تو خدا کی رحمت اسے اس طرف متوجہ کرنے کے لیے اس کی عقل و فطرت کی گواہی اور وحی کے ذریعے سے بھی یاد دہانی کراتی ہے۔ اب اگر کوئی آخری درجے میں اتمام حجت کے بعد بھی انکار پر قائم رہتا ہے، باوجود اس کے کہ اس کے پاس انکار کا کوئی عذر بھی نہ رہتا تو وہ اپنا مقصد پیدایش کھو دیتا ہے، چنانچہ اپنا زندہ رہنے کا حق بھی کھو دیتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے خدا کی طرف سے ان کی موت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ جبر نہیں، بلکہ ان کے حق زندگی کے خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ معلوم ہے کہ یہ اتمام حجت اس دنیا میں رسولوں کے ذریعے سے ہی ممکن تھا۔ رسول کے براہ راست مخاطبین کے علاوہ جو لوگ ہیں، ان پر ان کی عقل و فطرت اور وحی کے ذریعے سے بھی حجت کسی نہ کسی درجے میں قائم ہوتی رہتی ہے، لیکن ان پر آخری درجے میں حجت کا تمام ہونا بہت مشکل ہے اور اگر ہو بھی جائے تو اس کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں، کیونکہ یہ انسانی ضمیر کا معاملہ ہے اور اس کی اطلاع ایک رسول کو بھی نہیں ہوتی، خدا ہی اسے مطلع کرتا ہے۔ چنانچہ اجتماعی سطح پر ایسے افراد و اقوام جن پر رسول نے اتمام حجت نہیں کیا، ان کا انکار بھی بلا عذر ہے، اس کا فیصلہ کرنا اب ممکن نہیں۔ اس لیے اجتماعی سطح پر ان پر سزا کا نفاذ بھی اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا فیصلہ آخرت میں کیا جائے گا۔ لیکن جن پر اتمام حجت رسولوں کے ذریعے سے ہوا اور انھوں نے بلا عذر انکار پر اصرار کیا، ان کی موت کا فیصلہ خدا کی طرف سے اس دنیا میں ہی کر دیا گیا۔

موت کا یہ فیصلہ دو صورتوں میں آیا: قدرتی آفات کے ذریعے سے اور رسول کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے۔ جب یہ فیصلہ قدرتی طاقتوں کے ذریعے سے ناگہانی آفات کی صورت میں لاگو کیا گیا تو جبر کا سوال پیدا نہیں ہوا، کیونکہ خدائی فعل صاف دکھائی دے رہا تھا، لیکن جب یہی فیصلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تلوار کے ذریعے سے نافذ ہوا تو محل اشکال بن گیا کہ کچھ انسان دوسرے انسانوں کو اپنی مرضی سے اپنے عقیدے پر جینے کی اجازت کیوں نہیں دے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی واضح نصوص کے مطابق خدا نے صحابہ کے ہاتھوں سے یہ عذاب ان پر نازل کیا تھا۔ اس واقعے کی ظاہری صورت سے ہٹ کر معاملے کی درست نوعیت اگر ذہن میں رہے تو جبر سے متعلق مذکورہ سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ منکرین حق کو اتمام حجت کے بعد مرنا پڑا، کیونکہ وہ اپنی پیدایش کا مقصد ہی فوت کر بیٹھے تھے۔ خدا کی طرف سے آنے والے عذاب کی ان دونوں صورتوں میں ایک ہی اصول کارفرما ہے۔

کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتمام حجت صرف جزیرۂ عرب تک محدود تھا؟

ایک سوال یہ ہے کہ ''کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمامِ حجت کا مشن صرف جزیرۂ عرب تک محدود تھا؟ کیونکہ آپ کو زندگی میں غلبہ صرف جزیرۂ عرب کی حد تک ہی ملا۔ یہ غلبہ بھی عارضی تھا اور آپ کی وفات کے ساتھ ہی عرب میں ارتداد کی لہر پھیل گئی جس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی قابو پا سکے تھے اور مولانا اصلاحی کی اختیار کردہ تاویل کے مطابق سورۂ توبہ کی آیت 'فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ' اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان 'أمرت أن أقاتل الناس' کا عملاً نفاذ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارتداد کی جنگ کے موقع پر ہی کیا۔ تو جب جزیرۂ عرب میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ آپ کے بعد ہی مستحکم ہوا تو وہ اتمامِ حجت کے بعد رسول کے غلبے کی بات کیا ہوئی؟''

قرآن مجید کی یہ آیت اس پر شاہد ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت خصوصیت سے بنی اسمٰعیل کے لیے تھی، اور پھر بنی اسمٰعیل کی بعثت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی نسبت سے باقی دنیاکے لیے ہے:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا.(البقرہ ۲: ۱۴۳)

''(ہم نے یہی کیا ہے) اور (جس طرح مسجد حرام کو تمھارا قبلہ ٹھیرایا ہے)، اِسی طرح ہم نے تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے ۔''

معلوم ہونا چاہیے کہ رسول کے ذریعے سے کسی خطے کے ایک خاص مرکزی شہر میں ایک نشانِ حق قائم کرنا مقصود ہوتا ہے:

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا.(القصص ۲۸: ۵۹)

''حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار اِن بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں تھا، جب تک اِن کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج لے جو ہماری آیتیں اِنھیں پڑھ کر سنا دے۔''

یہ نشان حق رسول کے مخالفین کی مغلوبیت کا نام ہے۔ خطے کے ہر ہر شہر اور بستی میں اسے دہرایا نہیں جاتا۔ موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت میں بھی یہ اصول دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ نشانِ حق مصر کے دار الحکومت میں قائم ہوا تھا۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ام القریٰ مکہ اور قریب کے مرکزی علاقے تھے جہاں یہ نشان حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی مغلوبیت اور آپ کے غلبے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ خدا کا وعدہ پورا ہو گیا کہ اس کے رسول ہمیشہ غالب رہتے ہیں۔ یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ رسول کے غلبے سے محض سیاسی غلبہ مراد نہیں ہوتا، جیسا کہ پہلے مفصل بحث گزر چکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت، البتہ خدا کی یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی غلبے کی صورت میں سامنے آئی۔ رسول کا غلبہ منکرین کی مغلوبیت کا نام ہے، جس کا اظہار منکرین پر دنیوی عذاب کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس عذاب کو مکمل طور پر برپا ہوتے ہوئے دیکھنا بھی رسول کے لیے ضروری نہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں بتایا گیا تھا کہ آپ اس دنیوی عذاب کے نازل ہونے سے پہلے دنیا سے رخصت بھی ہو سکتے تھے۔ تاہم، آپ نے اپنے منکرین کی مغلوبیت اپنی زندگی میں ہی دیکھ لی اور رسولوں سے متعلق خدا کی سنت کا ظہور ہو گیا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ ذریت ابراہیم، یعنی اس کی دوسری شاخ بنی اسمٰعیل کے غلبے کی داستان ہے۔ سیاسی غلبے کا وعدہ اصلاً ذریت ابراہیم سے ہے۔ بنی اسمٰعیل کے غلبے کا آغاز بھی البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرا دیا گیا، کیونکہ آپ ہی اس وقت بنی اسمٰعیل کے سربراہ بھی تھے۔

رہی یہ بات کہ آپ کی وفات کے فوراً بعد جزیرۂ عرب میں ارتداد پھیل گیا اور آپ کا غلبہ ختم ہوگیا تو جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ رسول کے لیے سیاسی غلبہ قائم ہونا ضروری نہیں۔ دوسرے یہ کہ رسول کے بعد حالات کی تبدیلی سے یہ حقیقت نہیں بدل جاتی کہ رسول کے ذریعے سے حق کا غلبہ قائم ہوا تھا۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے قائم ہونے والا نشان حق بنی اسرائیل کی گمراہیوں کے باوجود آج بھی اپنی جگہ قائم اور نمونۂ عبرت ہے، اسی طرح قرآن مجید، تاریخ اور سیرت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبۂ حق کی سرگذشت محفوظ ہو کر قیامت تک کے لیے ایک نمونۂ عبرت کے طور پر قائم ہے۔

ذریت ابراہیم کے رسولوں کے ساتھ معاملہ یوں ہوا کہ نشان حق قائم ہو جانے کے بعد، باقی کا سیاسی غلبہ ذریت ابراہیم کرتی تھی، جیسا کہ ان سے خدا کا وعدہ تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے خلفا نے باقی کا غلبہ پورا کیا تھا، اسی طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفا کے ہاتھوں عرب اور بیرون عرب غلبے کا وعدہ پورا ہوا۔

اتمام حجت تو ممکنہ حد تک انفرادی طور پر ہوا، لیکن اس کی سزا کا نفاذ اجتماعی طور پر ہوا

یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ خدا کی طرف سے اقوام کے بارے میں فیصلے ان کے انفرادی رویوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اجتماعی رویوں کے لحاظ سے کیے جاتے ہیں۔ مثلاً خدا فرماتا ہے:

وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ.(ہود ۱۱: ۱۱۷)

''(اے پیغمبر)، تیرا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو (اُن کے)کسی ظلم کی پاداش میں ہلاک کر دے، جب کہ اُن کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔''

یہ معلوم ہے کہ کسی صالح ترین معاشرے میں بھی سارے کے سارے ہی مصلح اور نیک نہیں ہوتے۔ اس آیت سے مراد ایسا سماج ہے جہاں افراد کی ایک قابل لحاظ تعداد اصلاح میں مصروف ہو، جن کے اثرات اجتماعی طور پر ظاہر ہو رہے ہوں تو اس سماج کے دیگر افراد کے مظالم کے باوجود خدا انھیں تباہ نہیں کرتا۔ لیکن اصلاح کرنے والے اگر اس قابل نہ ہو پائیں کہ اجتماعی دھارے کو متاثر کر سکیں تو پھر چاہے وہ مصلح نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہوں، خدا اس قوم کی اجتماعی نالائقی کی بنا پر ان کو بالآخر تباہ کر دیتا ہے۔اسی قانون کو قرآن مجید میں ایک اور طرح سے یوں بیان کیا گیا ہے:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِْم وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ.(الانفال ۸: ۵۳)

''یہ اِس وجہ سے ہوا کہ اللہ کسی نعمت کو جو اُس نے کسی قوم کو عطا کی ہو، اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ اپنے آپ میں تبدیلی نہ کریں۔ (نیز)اِس وجہ سے کہ اللہ سمیع و علیم ہے۔''

یہ بھی کبھی ممکن نہیں ہوا کہ کسی بد ترین معاشرے میں سب کے سب ہی گناہ گار ہوں۔ کوئی بھی سماج کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، اس میں کچھ اچھے اور کچھ بہت اچھے لوگ بھی ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن مجموعی حالت اگر ناقابل اصلاح ہو جائے تو چند نیک صفت لوگوں کی وجہ سے خدا اس قوم کی خرابی کا فیصلہ بدلتا نہیں ہے۔

اس کی ایک اور مثال یہود ہیں۔ یہود پر بہ حیثیت قوم لعنت کی گئی تھی، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی تسلیم تھا کہ ان میں کچھ بہت اعلیٰ صفات کے حامل لوگ بھی موجود تھے جن کی تعریف قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کی گئی ہے۔ لیکن ان پر لعنت کا فیصلہ ان کی مجموعی حالت کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

اسی کلیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت تو ممکنہ حد تک انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطح پر ہوا، لیکن رسول کے انکار کے بعد دنیوی سزا کے نفاذ کا فیصلہ قوم کے مجموعی رویے کی بنا پر ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افراد کی موجودگی کا امکان تھا کہ ان کو مزید سمجھانے کی ضرورت ہو سکتی تھی، لیکن وہ بھی اس اجتماعی فیصلے کا شکار ہوئے۔ اب ایسے افراد کا معاملہ آخرت میں دیکھا جائے گا، اگر وہ رعایت کے مستحق ہوں گے تو خدا کی طرف سے رعایت مل جائے گی، مگر دنیا کی ناگزیر محدودیت میں اتنا ہی ممکن تھا۔

اتمام حجت کے بعد خدا کی طرف سے آنے والے دنیوی عذاب کی دونوں صورتوں میں یہی اصول کارفرما رہا کہ منکرین کا فیصلہ ان کے اجتماعی رویے کی بنا پر کیا گیا۔ چنانچہ عذاب جب قدرتی طاقتوں ہوا، پانی اور زلزلہ وغیرہ کے ذریعے سے دیا گیا تو وہاں بھی اس بات کا پورا امکان ہے کہ ان منکرین کے ساتھ ان کے معصوم بچے، کم عقل اور فاتر العقل افراد بھی ضرور مارے گئے ہوں گے۔ ان میں شاید ایسے بھی ہوں جن کو مزید سمجھانے کی ضرورت ہو۔ عذاب سے پہلے جس طرح مومنین کو بچا لے جایا گیا، اس طرح کفار کی قوم میں سے ایسے افراد کو بچانا ممکن نہ ہو سکا، کیونکہ وہ اپنی قوم سے علیحدہ نہ ہو سکے تھے۔ ان کے حق میں وہ عذاب محض موت کا سبب بنا، اور موت تو آنی ہی تھی، جب کہ اجتماعی لحاظ سے وہ منکرین کی قوم پر عذاب اور نشان حق بن گیا۔

محمد رسول اللہ کے وقت جب دنیوی عذاب، صحابہ کی تلواروں کی صورت میں ظاہر ہوا تو اس عذاب کی نوعیت کی وجہ سے معصوم بچوں، اور دوسرے غیر مکلف افراد حتیٰ کہ منکرین کی خواتین تک کو بچا لینا ممکن ہو گیا۔ چنانچہ خواتین کو قتل نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت کے سماج کی خواتین اپنے مردوں اور خاندانوں کے تابع تھیں۔ ان کی الگ خود مختارانہ حیثیت نہیں تھی۔ ان کا انکار حق بھی اپنے خاندان کے تابع تھا، اور اسلام کے غلبہ پا جانے کے بعد، ان کے خاندانوں کے ممکنہ طور پر مٹ جانے یا اسلام قبول کر لینے (حقیقتاً قبول اسلام ہی ہوا) کے بعد خود ان کا ایمان قبول کر لینا واضح تھا۔

بہرحال، عذاب کی اس صورت میں بھی مسلمانوں کے خلاف اپنی قوم کا ساتھ دینے والوں میں ایسے افراد کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا جن کو خدا کے اس آخری فیصلے کے بعد بھی مزید سمجھانے کی ضرورت رہ گئی ہوگی۔ خود قرآن میں ہی بیان ہوا ہے کہ عین اس وقت جب مشرکین کے خلاف آخری اعلان جنگ کر دیا گیا، اس وقت بھی یہ ہدایت دی گئی کہ:

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ.(التوبہ ۹: ۶)

''اور اگر (اِس داروگیر کے موقع پر)اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص تم سے امان چاہے (کہ وہ تمھاری دعوت سننا چاہتا ہے)تو اُس کو امان دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اُس کو اُس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (خدا کی باتوں کو) نہیں جانتے۔''

تاہم، خدا کی طرف سے جنگ کا اعلان قوم کے اجتماعی رویے کے لحاظ سے کر دیا گیا۔ اب گیہوں کے ساتھ جو گھن بھی پس گیا، اس کا فیصلہ آخرت کی عدالت میں پورے عدل سے کیا جائے گا۔

اسی کلیے کا اطلاق روم و ایران کی اقوام کے خلاف صحابہ کی جنگوں پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اپنی قومی حیثیت میں انھوں نے صاف طور پر بتا دیا تھا کہ وہ اسلام کے پیغام پر کبھی لبیک کہنے والے نہیں۔ بہ حیثیت قوم ان پر یہ بھی عیاں ہو چکا تھا کہ عرب میں اسلام کے ظہور اور غلبہ کی ایسی تبدیلی ایک غیر معمولی واقعہ تھا جو ان کے لیے اتمام حجت کا سبب بن گیا۔ لیکن عام آدمیوں میں ہم ایسے لوگوں کے وجود کے امکان کو رد نہیں کر سکتے جو 'بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُونَ' (یہ ایسے لوگ ہیں جو (خدا کی باتوں کو) نہیں جانتے) کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم جنگ قومی سطح پر ہونی تھی، سو وہ ہو کر رہی۔ ان اقوام کے ایسے افراد کا معاملہ آخرت کی عدالت میں دیکھا جائے گا۔

روم و ایران پر اتمامِ حجت اور صحابہ کی جنگی مہمات

روم و ایران پر اتمام حجت کے حوالے سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ''کیا قیصر و کسریٰ اور دیگر اقوام پر بھی اتمامِ حجت کیا گیا؟ اگر ہاں تو کیسے؟ اور اگر نہیں تو پھر ان کے خلاف صحابۂ کرام کی جنگوں کو اتمامِ حجت کے ''قانون'' میں کیسے فٹ کیا جاسکتا ہے؟''

اس پر مکرر عرض ہے کہ اتمام حجت کے ذریعے سے قائم کیا جانے والا نشان حق کسی ایک مرکزی علاقے میں اپنے تمام مراحل کے ساتھ برپا کیا جاتا ہے۔ ہر قوم کے لیے ہر دفعہ نئے سرے سے اس کا اعادہ نہیں کیا جاتا۔ نہ صرف روم و ایران، بلکہ جزیرۂ عرب کے بھی تمام علاقوں پر اس طرح اتمام حجت نہیں کیا گیا، جیسا مکہ میں ہوا۔

اتمام حجت کے وقت، عرب کے دیگر قبائل اور بیرون عرب ہمسایہ اقوام کے لیے رسول کے ذریعے سے برپا ہونے والا یہ واقعہ آنکھوں دیکھی بات کی طرح تھا، جو ان کے لیے اتمام حجت کا سبب بنا۔ جیسے ہمارے وقت میں ہمارے لیے متحدہ ریاست ہاے امریکا کے شہر نیویارک میں سن دو ہزار ایک میں نو گیارہ کا سانحہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جس سے ہم براہ راست متاثر ہوئے۔ یہ دیگر تاریخی واقعات میں سے ایک تاریخی واقعہ بننے سے پہلے ہمارے لیے ہمارے دور کا واقعہ ہونے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بنی اسمٰعیل کا غلبہ جزیرۂ عرب میں جب ہوا تو اہل روم و ایران کے عمائدین اور عوام کے علم میں یہ بات آ گئی اور وہ اس سے اسی طرح متاثر ہوئے، جیسے اپنے وقت کے کسی غیر معمولی واقعہ سے متاثر ہوا جاتا ہے۔ ان کے حق میں یہی اتمام حجت تھا۔ جس طرح قریش کو قوم نوح، قوم صالح، قوم عاد، اور قوم لوط وغیرہ پر رسولوں کے اتمام حجت اور اس کے نتائج کی سرگذشت سنا کر اتمام حجت کیا گیا، اسی طرح عرب کے مرکزی علاقوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اتمام حجت اور اس کے نتائج کے ظہور کی سرگذشت اس وقت کی دیگر اقوام کے لیے اتمام حجت کا ذریعہ بنی۔

یہ معلوم ہے کہ روم و ایران کی خبریں عرب میں بھی زیر بحث رہتی تھیں، جیسا کہ سورۂ روم سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے قومی سطح پر ایسے واقعات کو معمول کے واقعے سمجھا نہیں جا سکتا اور نہ یہ سمجھنا درست ہے کہ اس وقت کی قومیں ایک دوسرے کے ہاں قومی سطح کی تبدیلیوں اور ان کے مضمرات سے بے خبر ہوا کرتی تھیں۔

یہی وجہ تھی کہ صحابہ جنگ سے پہلے عرب قبائل اور اہل روم و ایران کو قبولِ اسلام کی اجمالی دعوت دیتے تھے، کیونکہ تفصیلات ان کے مخاطبین کے علم میں تھیں۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ محض سرحد پر کھڑے کھڑے اسلام قبول کرنے کی واجبی سی دعوت دے دی جاتی تھی اور سمجھ لیا جاتا تھا کہ اتمام حجت کا فرض ادا ہو گیا۔ بادشاہوں کے نام آپ کے خطوط میں بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت بالکل اجمالی انداز میں ہوا کرتی تھی، مگر ان بادشاہان کے ردعمل سے صاف ظاہر ہے کہ وہ جانتے تھے کہ کن بنیادوں پر اور کن نتائج کے لحاظ سے ان سے قبول اسلام کا مطالبہ کیا گیا تھا، یعنی کہ انکار کی صورت میں ان کے ساتھ بھی وہی ہونا تھا جو جزیرۂ عرب میں برپا ہوا تھا۔ ان اجمالی دعوتوں کے پیچھے پوری تاریخ ہے، جس پر نظر نہ ہونے کی وجہ سے غلط نتائج نکالے گئے۔ مولانا عمار خان ناصر اپنی کتاب ''جہاد: ایک مطالعہ'' میں لکھتے ہیں:

''...رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خطوط کو ہمارے اہل سیرت بالعموم 'دعوتی خطوط' کا عنوان دیتے ہیں، حالانکہ ان کے مضمون اور پیش وعقب کے حالات سے واضح ہے کہ ان میں مخاطبین کو محض سادہ طور پر اسلام کی دعوت نہیں بلکہ یہ وارننگ دی گئی تھی کہ ان کے لیے سلامتی اور بقا کا راستہ یہی ہے کہ وہ اس دعوت کو قبول کر لیں، بصورت دیگر انھیں اپنی حکومت واقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مثال کے طور پر قیصر روم کے نام خط میں آپ نے لکھا: 'اسلم تسلم' ۔

نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

ان قولہ ''اسلم تسلم'' فی نہایۃ من الاختصار وغایۃ من الاعجاز والبلاغۃ وجمع المعانی مع ما فیہ من بدیع التجنیس وشمولہ لسلامتہ من خزی الدنیا بالحرب والسبی والقتل واخذ الدیار والاموال ومن عذاب الآخرۃ.(شرح مسلم، ص ۱۱۴۴)

''اسلم تسلم کا جملہ بے حد مختصر لیکن غایت درجہ بلاغت واعجاز کا حامل اور متنوع معانی پر محیط ہے۔ اس میں 'تجنیس' کی صنعت بھی بہت عمدہ طریقے سے استعمال ہوئی ہے اور 'تسلم' کے لفظ میں جنگ، قید، قتل اور اموال و دیار کے چھین لیے جانے کی صورت میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب، دونوں سے بچاؤ کا مفہوم شامل ہے۔''''(۶۸)

''ان بادشاہان کے رد عمل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ان خطوط کو صرف دعوتی خط نہیں سمجھا تھا۔ کسریٰ نے تو نامۂ مبارک ہی چاک کر ڈالا تھا۔ حارث بن ابی شمر غسانی کو آپ نے لکھا تھا کہ ایک اللہ پر ایمان لے آؤ تمھاری بادشاہت برقرار رہے گی۔ جواب میں اس نے کہا کہ مجھ سے میری بادشاہت کون چھین سکتا ہے۔ میں اس پر یلغار کرنے والا ہوں۔'' (ابن سید الناس الیعمری، عیون الاثر۲/ ۳۳۹)

اسی طرح قیصر نے کہہ دیا تھا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی تو اس کا پایۂ تخت ایک دن ان کے قدموں تلے ہوگا:

یا معشر الروم ہل لکم في الفلاح والرشد وأن یثبت ملککم فتبایعوا ہذا النبي؟(بخاری، رقم ۷)

''اے جماعت روم، کیا تم اس بات کی خواہش رکھتے ہو کہ تمھیں کامیابی اور ہدایت نصیب ہو اور تمھاری سلطنت قائم رہے اور تم اس نبی کی پیروی قبول کر لو؟''

مولانا عمار خان ناصر لکھتے ہیں کہ

''امام ابو عبید کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خط میں قیصر کو اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں جزیہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ آپ نے فرمایا:

انی ادعوک الی الاسلام فان اسلمت فلک ما للمسلمین وعلیک ما علیہم فان لم تدخل فی الاسلام فاعط الجزیۃ فان اللّٰہ تبارک وتعالٰی یقول: قاتلوا الذین ..... حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون والا فلا تحل بین الفلاحین وبین الاسلام ان یدخلوا فیہ او یعطوا الجزیۃ.(الاموال ۹۳)

''میں تمھیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر اسلام لے آؤ گے تو تمھارے حقوق وفرائض وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور اگر اسلام میں داخل نہ ہونا چاہو تو پھر جزیہ ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اہل کتاب سے قتال کرو .... یہاں تک کہ وہ زیردست ہو کر پستی کی حالت میں جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اور اگر یہ بھی نہیں تو پھر اس بات میں رکاوٹ نہ ڈالو کہ اہل روم اسلام میں داخل ہو جائیں یا جزیہ ادا کریں۔''''(۷۰)

یہی وجہ ہے کہ ایران کے کسریٰ نے بھی اسے ہلکا نہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ چنانچہ ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف خط لکھنے سے اتمام حجت ہو گیا تھا، سارا معاملہ ان کے سامنے تھا۔

دوسری بات یہ کہ صحابہ نے ان کے سامنے شرائط بھی وہی رکھیں تھیں جو جزیرۂ عرب کے اہل کتاب کے سامنے رکھی گئی تھیں اور سزا بھی وہی تجویز کی جو جزیرۂ عرب کے اہل کتاب پر نافذ کی گئی تھی۔ اس سے بھی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ معاملہ بھی اسی اصول کی روشنی میں طے ہوا جس اصول کے تحت عرب کے اہل کتاب، جن پر اتمام حجت ہوا تھا، سے معاملہ کیا گیا تھا۔

یہ صحابہ کا اجتہادی فیصلہ تھا کہ انھوں نے جزیرۂ عرب میں ہونے والے اتمام حجت کے معاملے کو روم و ایران تک پھیلا دیا۔ تاہم، اس سلسلے میں ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فتح و نصرت کی بشارتیں بھی موجود تھیں، جن سے ان کے اجتہاد کو تقویت ملی ہوگی۔

صحابہ کی ان جنگوں کی سیاسی اور سماجی تاویلات اور تشریحات بھی کی گئی ہیں، لیکن ہم ان جنگ کے فریق صحابہ کے اپنے بیانات کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں جو ان جنگوں کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بیان کر رہے ہیں۔ یہی ہمارے لیے حجت و دلیل بن سکتا ہے نہ کہ ہماری یا کسی اور کی تاویل۔ مولانا عمار خان ناصر صاحب اپنی کتاب''جہاد: ایک مطالعہ'' میں لکھتے ہیں:

''سیدنا ابوبکر نے اہل روم کے خلاف جہاد میں شرکت کی ترغیب دینے کے لیے اہل یمن کو خط لکھا تو اس میں فرمایا:

ان اللّٰہ کتب علی المومنین الجہاد وامرہم ان ینفروا خفافا وثقالا .... ولا یترک اہل عداوتہ حتی یدینوا الحق ویقروا بحکم الکتاب او یودوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون.(ازدی، فتوح الشام ۵، ۶)

''اللہ نے اہل ایمان پر جہاد فرض کیا ہے اور انھیں حکم دیا ہے کہ ہلکے ہوں یا بھاری، جہاد کے لیے نکلیں۔ اس دین کے دشمنوں کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جا سکتا جب تک کہ وہ اس دین کی پیروی اختیار کر کے کتاب اللہ کے حکم پر راضی نہ ہو جائیں یا پھر مطیع بن کر ذلت اور پستی کی حالت میں جزیہ ادا کرنا قبول نہ کر لیں۔'''' (۷۵)

''مسلمانوں کے لشکر نے ابو عبیدہ بن جراح کی قیادت میں شام کے علاقے اُردن کا محاصرہ کیا تو اہل روم کے ساتھ گفت وشنید کے دوران میں ان کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی کہ وہ بلقاء اور اُردن کا کچھ علاقہ اس شرط پر مسلمانوں کو دے دیتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ صلح کر لیں اور شام کے باقی علاقوں کو رومیوں سے چھیننے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے جواب میں ابو عبیدہ نے ان سے کہا:

امرنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال اذا اتیتم المشرکین فادعوہم الی الایمان باللّٰہ وبرسولہ وبالاقرار بما جاء من عند اللّٰہ عز وجل فمن آمن وصدق فہو اخوکم فی دینکم لہ ما لکم وعلیہ ما علیکم ومن ابی فاعرضوا علیہ الجزیۃ حتی یودونہا عن ید وہم صاغرون فان ابوا ان یومنوا او یودوا الجزیۃ فاقتلوہم وقاتلوہم.(ازدی، فتوح الشام ۱۰۹)

''ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم مشرکین کے پاس جاؤ تو انھیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور جو کچھ اللہ کا رسول اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے، اس کا اقرار کرنے کی دعوت دو۔ پھر جو ایمان لے آئے اور تصدیق کر دے، وہ دین میں تمھارا بھائی ہے۔ اس کے حقوق وفرائض وہی ہیں جو تمھارے ہیں۔ اور جو انکار کرے تو اسے جزیہ ادا کرنے کے لیے کہو یہاں تک کہ وہ مطیع بن کر ذلت کی حالت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ پھر اگر وہ ایمان لانے اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو انھیں قتل کرو اور ان کے خلاف جنگ کرو۔''

عمرو بن العاص نے شاہِ مصر مقوقس کے نمائندوں سے کہا:

ان اللّٰہ عز وجل بعث محمدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالحق وامرہ بہ وامرنا بہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم وادی الینا کل الذی امر بہ ثم مضی صلوات اللّٰہ علیہ ورحمتہ وقد قضی الذی علیہ وترکنا علی الواضحۃ وکان مما امرنا بہ الاعذار الی الناسفنحن ندعوکم الی الاسلام فمن اجابنا الیہ فمثلنا ومن لم یجبنا عرضنا علیہ الجزیۃ وبذلنا لہ المنعۃ.(طبری، تاریخ الامم والملوک ۴/ ۱۰۷)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا اور ان کو اس کی پیروی پر مامور کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے تمام حکم ہم تک پہنچا دیے اور ہمیں ان کی پیروی کی تلقین کی۔ پھر آپ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد اللہ کے حضور تشریف لے گئے اور ہمیں ایک نہایت روشن راستے پر چھوڑ گئے۔ انھوں نے ہمیں جو حکم دیے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں پر اس طرح حجت قائم کر دیں کہ ان کے پاس عذر باقی نہ رہے۔ پس اب ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ جو اسے قبول کر لے گا، وہ ہمارا شریک بن جائے گا اور جو انکار کرے گا، ہم اسے یہ پیش کش کریں گے کہ وہ جزیہ ادا کرے اور (بدلے میں) اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہوگی۔'''' (۸۲)

صحابہ نے یہ معاملہ اگر اتمام حجت کی رو سے نہیں کیا، تو کیا وجہ تھی کہ انھوں نے روم و ایران کے سپہ سالاروں کی طرف سے کسی صلح کی پیش کش کو قبول نہیں کیا، حالاں کہ طاقت کے اعتبار سے صحابہ اپنے مقابل سے کمزور تھے، اور قرآن کا حکم بھی ان کے سامنے تھا کہ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو صلح کر لو:

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ.(الانفال ۸: ۶۱)

''یہ لوگ اگر صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اِس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسا رکھو۔ بے شک، وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔''

قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۶) (2/2)

____________