قانونِ اتمامِ حجت اور اس کے اطلاقات: نمایاں اعتراضات کا جائزہ (۲)


ڈاکٹر عرفان شہزاد

(گذشتہ سے پیوستہ)

نبی اور رسول میں فرق

قانون اتمام حجت کے تناظر میں نبی اور رسول کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اصطلاحی طور پر نبی اور رسول اصلاً دو الگ مناصب ہیں، اس پر نص درج ذیل آیت ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّآی اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمَُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.(الحج۲۲: ۵۲)

''ہم نے، (اے پیغمبر)، تم سے پہلے جو رسول اور جو نبی بھی بھیجا ہے، اُس کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا کہ اُس نے جب بھی کوئی تمنا کی، شیطان اُس کی تمنا میں خلل انداز ہو گیا ہے۔ پھر شیطان کی اِس خلل اندازی کو اللہ مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔''

صاحب ''کشاف'' اس بارے میں لکھتے ہیں:

مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ، دلیل بین علی تغایر الرسول والنبي. وعن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ سئل عن الأنبیاء فقال: ''مائۃ ألف وأربعۃ وعشرون ألفا''، قیل: فکم الرسول منہم؟ قال: ''ثلاثمائۃ وثلاثۃ عشر جمًا غفیرًا''.(۳/ ۱۶۴)

'' 'مِنْ نَبِیٍّ وَّلَا رَّسُوْلٍ'، نبی اور رسول کے مختلف ہونے کی واضح دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ سے انبیا کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ پھر پوچھا گیا: ان میں رسول کتنے تھے؟ آپ نے فرمایا: تین سو تیرہ۔''

امام رازی نے بھی یہی بیان کیا ہے:

ہَذِہِ الْآیَۃُ دَالَّۃٌ عَلَیْہِ لِأَنَّہُ عَطَفَ النَّبِيَّ عَلَی الرَّسُولِ، وَذٰلِکَ یُوجِبُ الْمُغَایَرَۃَ وَہُوَ مِنْ بَابِ عَطْفِ الْعَامِّ عَلَی الْخَاصِّ. وَقَالَ فِيْ مَوْضِعٍ آخَرَ: 'وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ'(الزخرف:۶) وَ ذٰلِکَ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہُ کَانَ نَبِیًّا، فَجَعَلَہُ اللّٰہ مُرْسَلًا وَہُوَ یَدُلُّ عَلٰی قولنا.(مفاتیح الغیب ۳/ ۲۳۶)

''یہ آیت دلیل ہے اس پر (کہ نبی اور رسول میں فرق ہے)، اس لیے کہ نبی کا عطف رسول پر ہے، اس سے دونوں میں فرق لازم آتا ہے۔ اور یہ عام کو خاص پر عطف کرنا ہے۔ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ 'وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ' (الزخرف: ۶) اور یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ نبی تھے اور پھر اللہ نے انھیں رسول بنا کر بھیجا، اور یہی دلیل ہے ہمارے قول کی۔''

اس فرق کو بیان کرتے ہوئے صاحب ''کشاف'' نے دو آرا پیش کی ہیں: ایک یہ نبی عام ہے اور رسول خاص، مولانا مودودی نے بھی سورۂ مریم کے حاشیہ ۳۰ میں تسلیم کیا ہے کہ نبی اور رسول میں اصطلاحی طور پر فرق ہے اور یہ بھی کہ رسول خاص ہے اور نبی عام۔ ۲؂ لیکن اس کی انھوں نے کوئی تعیین نہیں کی۔ صاحب ''کشاف'' اس عام و خاص کا تعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رسول، صاحب کتاب و شریعت ہوتا ہے اور نبی کسی رسول کی کتاب اور شریعت کا متبع ہوتا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ مسیح رسول تھے، لیکن وہ شریعتِ موسوی کے متبع تھے۔ وہ تورات اور انجیل، دونوں کے حامل تھے:

وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ.(آل عمران ۳: ۴۸)

''اور اللہ اُسے (یعنی مسیح کو) قانون اورحکمت سکھائے گا، یعنی تورات وانجیل کی تعلیم دے گا۔''

انجیل میں مسیح کا واضح ارشاد موجود ہے کہ وہ تورات کو منسوخ کرنے نہیں، بلکہ اس کی تکمیل کرنے آئے تھے:

''یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔''(متی ۵: ۱۷)

اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابراہیم کی پیروی کا حکم دیا گیا:

ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. (النحل۱۶: ۱۲۳)

''پھر (یہی وجہ ہے کہ) ہم نے تمھاری طرف وحی کی کہ اِسی ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو، جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔''

اس لیے اس راے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

''تفسیر کبیر'' میں امام رازی نے درج ذیل راے کو ترجیح دی ہے:

أَنَّ مَنْ جَاءَ ہُ الْمَلَکُ ظَاہِرًا وَأَمَرَہُ بِدَعْوَۃِ الْخَلْقِ فَہُوَ الرَّسُوْلُ، وَمَنْ لَمْ یَکُنْ کَذٰلِکَ بَلْ رَاٰی فِي النَّوْمِ کَوْنَہُ رسولًا، أو أخبرہ أحد من الرسال بِأَنَّہُ رَسُولُ اللّٰہ، فَہُوَ النَّبِيُّ الَّذِي لَا یَکُونُ رَسُولًا وَہٰذَا ہُوَ الْأَوْلٰی. (مفاتیح الغیب۲۳/ ۲۳۶)

''رسول وہ ہے جس کے پاس ظاہری طور پر فرشتہ آئے اور اسے لوگوں کو دین کی دعوت دینے کا کہے۔ لیکن جس کے ساتھ ایسا نہ ہو، بلکہ وہ خواب میں دیکھے کہ وہ رسول ہے یا کوئی خدا کا رسول اسے خبر دے کہ وہ رسول ہے تو وہ نبی ہے، وہ رسول نہیں ہو جاتا۔ اور یہی راے بہتر ہے۔''

تاہم، ان بیان کردہ امتیازات کے لیے کوئی نص یا دلیل انھوں نے پیش نہیں کی۔

مکتب فراہی نے نبی اور رسول کی حیثیت متعین کرنے کی جو سعی کی ہے اور اس بارے میں قرآن مجید سے جو دلائل پیش کیے ہیں، وہ قرآن فہمی کی عمدہ مثال اور اہل علم کی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

لفظ کبھی اپنے لفظی معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اصطلاحی معنی میں۔ قرآن مجید میں بھی نبی اور رسول کے الفاظ کبھی لفظی معنی کے اعتبار سے استعمال ہوئے ہیں (یعنی جن کو خبر دی گئی، یعنی جن پر وحی نازل ہوئی) اور کبھی اصطلاحی معنی میں (یعنی بھیجا ہوا)۔ مثلاً درج ذیل آیت میں تمام پیغمبروں کو لفظی معنی کے لحاظ سے انبیا کہا گیا ہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ.(البقرہ ۲: ۲۱۳)

''لوگ ایک ہی امت تھے۔ (اُن میں اختلاف پیدا ہوا) تو اللہ نے نبی بھیجے ، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے اور اُن کے ساتھ قول فیصل کی صورت میں اپنی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان وہ اُن کے اختلافات کا فیصلہ کر دے۔''

جب کہ ایک دوسری آیت میں تمام پیغمبروں کو رسول کہا گیا ہے:

وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًام بَعِیْدًا. (النساء ۴: ۱۳۶)

''اور (جان رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں اور قیامت کے دن (اُس کے حضور میں پیشی) کے منکر ہوں، وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں۔''

اسی معنی میں یہ لفظ فرشتوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے:

وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً حَتّٰٓی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَھُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ. (الانعام ۶: ۶۱)

''وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور تم پر (اپنے) نگران مقرر رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ہی اُس کی روح قبض کرتے ہیں اور (اِس کام میں)کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔''

تاہم، قرآن مجید میں ہم دیکھتے ہیں کہ جن پیغمبروں کی دعوت و انذار کے نتیجے میں اسی دنیا میں حجت تمام ہونے اور اس کے نتیجے میں اسی دنیا میں جزا و سزا ملنے کا ذکر آتا ہے، وہاں قرآن مجید میں اہتمام کے ساتھ 'رسول' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اس لفظ کو اصطلاحی معنی دینا چاہتا ہے۔ اس اہتمام کی مثالیں قرآن میں جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ مثلاً سورۂ اعراف میں نمایاں طور پر اس کا اہتمام ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ایسے ہی بیان کے موقع پر 'نبی' کا لفظ اگر استعمال ہوا بھی ہے تو اس کے ساتھ 'اَرْسَلَ' کا فعل استعمال کرنے کا التزام ہوا ہے جو اسے رسول کے معنی میں متعین کر دیتا ہے، مثلاً درج ذیل آیت دیکھیے:

وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ فَاَھْلَکْنَآ اَشَدَّ مِنْھُمْ بَطْشًا وَّمَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ.(الزخرف۴۳: ۶۔۸)

''ہم نے اگلوں میں بھی کتنے ہی نبی رسول بنا کر بھیجے۔ تاہم جو نبی بھی اُن کے پاس آتا، وہ اُس کا مذاق ہی اڑاتے تھے۔ پھر ہم نے اُن کو کہ (تمھارے) اِن (منکروں) سے کہیں زیادہ زور والے تھے، ہلاک کر ڈالا اور اگلوں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔''

اس آیت میں 'اَرْسَلَ' کا ترجمہ صرف 'بھیجا' کرنے کے بجاے 'رسول بنا کر بھیجا' کیا گیا ہے۔ فعل کا یہ استعمال لغت میں موجود ہے۔ اس استعمال کی ایک مثال سورۂ نحل کی درج ذیل آیت میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جس میں آدمیوں کو رسول بنا کر بھیجنے کا مفہوم واضح ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ.(النحل۱۶: ۴۳)

''تم سے پہلے بھی ہم نے آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔''

امام رازی کا قول اوپر گزر چکا کہ وہ بھی 'اَرْسَلَ' کے فعل کے اس استعمال کو ذکر کرتے ہیں:

وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: 'وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ' (الزخرف:۶)، وَ ذٰلِکَ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہُ کَانَ نَبِیًّا، فَجَعَلَہُ اللّٰہ مُرْسَلًا.(مفاتیح الغیب ۳/ ۲۳۶)

''اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ 'وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ' (الزخرف:۶) اور یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ نبی تھے اور پھر اللہ نے انھیں رسول بنا کر بھیجا۔''

اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں نبی کے ساتھ 'اَرْسَلَ' کا فعل آیا ہے، وہاں بھی نبی سے مراد رسول ہی ہے۔

اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ جن پیغمبروں کے دعوت کے نتیجے میں وہ تمام مراحل پیش نہیں آئے جو رسولوں کی دعوت کے نتیجے میں سامنے آئے، وہ نبی تھے۔ اگر ان کے لیے 'رسول' کا لفظ آیا بھی ہے تو وہ لفظی معنی میں آیا ہے۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ وہاں انذار، اتمامِ حجت، اور دنیوی عذاب کا ذکر نہیں آتا۔ مثلاً یوسف علیہ السلام کو رسول کہا گیا، لیکن انذار، حجت اور دنیوی عذاب کا کوئی ذکر نہیں آیا:

وَلَقَدْ جَآءَ کُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآءَ کُمْ بِہٖ حَتّٰٓی اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْ م بَعْدِہٖ رَسُوْلًا کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ.(المؤمن ۴۰: ۳۴)

''اس سے پہلے یوسف بھی تمھارے پاس (اِسی طرح) نہایت واضح دلائل کے ساتھ آئے تھے توجو باتیں وہ تمھارے پاس لے کر آئے تھے، اُن کی طرف سے تم شک ہی میں پڑے رہے، یہاں تک کہ جب اُن کی وفات ہو گئی تو تم نے کہہ دیا کہ (یہ بھی رسول نہیں تھے اور) اللہ اِن کے بعد بھی (ہماری طرف) ہرگز کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اللہ اِسی طرح اُن لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھے ہوئے اور شک میں پڑے ہوتے ہیں۔''

ایک اعتراض

یہاں ایک اشکال پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اسمٰعیل علیہ السلام کو نبی کے علاوہ رسول بھی کہا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی کے علاوہ رسول بھی تھے، لیکن ان کے ساتھ کسی انذار، اتمام حجت اور دنیوی عذاب کا ذکر نہیں:

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیۡلَ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا.(مریم۱۹: ۵۴)

''اور اِس کتاب میں اسمٰعیل کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچا اور رسول نبی تھا۔''

معلوم ہونا چاہیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی سرگذشت کا تفصیلی تذکرہ قرآن مجید میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ ابراہیم کی دعوت کے بھی تمام مراحل کا ذکر نہیں کیا گیا، حالاں کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ دیگر رسولوں کی طرح ابراہیم کے انذار کے بعد، ان کی منکر قوم پر بھی جزا و سزا کا آخری مرحلہ، یعنی دنیوی عذاب آیا تھا، اس لحاظ سے ابراہیم بھی رسول تھے:

اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّثَمُوْدَ وَقَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکٰتِ اَتَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ.(التوبہ۹: ۷۰)

''کیا اِنھیں اُن لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو اِن سے پہلے گزرے — نوح کی قوم، عاد و ثمود، ابراہیم کی قوم، مدین والوں اور اُن بستیوں کی خبر جنھیں الٹ دیا گیا۔ اُن کے رسول اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔سو ایسا نہ تھا کہ اللہ اُن پر ظلم کرتا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔''

لیکن ابراہیم کی قوم پر عذاب کی تفصیل بیان نہیں ہوئی۔ دراصل، قرآن تاریخ بیان کرنے کی کتاب نہیں، اس کا مقصد، انذار و تذکیر ہے۔ اس نے عربوں کے لیے ان اقوام کی سرگذشت کو چنا، جن کی تاریخ اور مقاماتِ رہایش سے وہ واقف تھے، اپنے اسفار کے دوران ان کے کھنڈرات اور آثار ان کے مشاہدے میں آتے رہتے تھے۔ جب کہ ابراہیم کی قوم پر آنے والے عذاب کے آثار مفقود ہو چکے تھے۔ نیز، جن واقعات میں قریش کے حالات کے لحاظ سے تذکیر کے پہلو زیادہ نمایاں تھے، ان کو اختیار کیا گیا۔ اسمٰعیل علیہ السلام کے قصے کی نوعیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والے معاملات سے مختلف تھی، آپ کی قوم مخالفت اور مقابلے پر کھڑی ہو گئی تھی، اس لیے ان کو ان اقوام کے قصے تفصیل سے سنائے گئے جو اپنے انکار کی وجہ سے عذاب کا شکار ہوئے۔ جب کہ اسمٰعیل کے معاملے میں یہ ہوا ان کی قوم، یعنی اس وقت کے عرب لوگ بلا حیل و حجت ان کی دعوت قبول کر کے ایمان لے آئے تھے، اس لیے ان کے قصے میں قریش کے کفار کے لیے زیادہ عبرت کا سامان نہیں تھا۔

اسمٰعیل علیہ السلام کی مخاطب قوم کے بلا حیل و حجت ایمان لانے کی ایک وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی دعوت اور ان کے اتمام حجت کا شہرہ، فلسطین سے لے کر عرب اور سارے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلا ہوا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی ان کے فرزند، اسمٰعیل کی طرف سے دین کی دعوت ان کے سامنے آئی، انھوں نے قبول کر لی۔ نیز، اسمٰعیل ہی کی بدولت، زم زم کے چشمے کی وجہ سے اس بے آب و گیاہ صحرا میں سامان زندگی پیدا ہو گیا تھا، یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ عربوں کو اس معجزہ اور اس نعمت کی وجہ سے ایمان لانے کی مزید ترغیب ملی ہو۔ بہرحال وہ بلا حیل و حجت ایمان لے آئے اور سزا اور عذاب کے مراحل پیش نہیں آئے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اسمٰعیل ساری زندگی اپنی قوم کے تزکیہ اور تطہیر میں مصروف رہے:

وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا.(مریم۱۹: ۵۵)

''وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تلقین کرتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔''

یہاں ایک اعتراض یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یونس کے علاوہ کسی اور قوم نے ایمان قبول نہیں کیا:

فَلَوْلَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ.(۱۰: ۹۸)

''سو ایسا کیوں نہ ہوا کہ قوم یونس کے سوا کوئی اور بستی بھی ایمان لاتی، پھر اُس کا ایمان اُسے نفع دیتا۔ جب اُس بستی کے لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب اُن سے ٹال دیا تھا اور ایک مدت کے لیے اُن کو رہنے بسنے کا موقع دیا تھا۔''

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسمٰعیل علیہ السلام کی قوم نے ایمان قبول کر لیا تھا تو اس آیت میں ان کا ذکر بھی آنا چاہیے تھا کہ وہ قوم یونس کے علاوہ قوم اسمٰعیل بھی ایمان لائے تھے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ آیت یہ نہیں بتا رہی کہ قوم یونس کے علاوہ کوئی قوم بھی ایمان نہیں لائی، بلکہ آیت یہ بیان کر رہی ہے کہ کوئی قوم بھی ایسی نہ تھی جو اتمام حجت کے اس مرحلے پر ایمان لائی ہو، جب عذاب کا کوڑا ان کے سر پر منڈلانے ہی والا تھا۔ یعنی جس مرحلے پر اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم پہنچ گئی تھی۔ مذکورہ آیت میں کفارِ مکہ کی تنبیہ کے لیے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس مقام سے سوائے قوم یونس کے کوئی قوم واپس نہیں آئی تو کیا تم بھی اس حد تک جانا چاہتے ہو، جس کے بعد تباہی یقینی ہو جاتی ہے۔

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ قوم یونس کے مشاہدۂ عذاب کے بعد، آیا ہوا عذاب واپس کیسے پلٹ گیا، یہ خدا کے اس ضابطے کے خلاف ہے:

وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِاٰتِ حَتّآی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓءِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا.(النساء ۴: ۱۸)

''اُن لوگوں کے لیے کوئی توبہ نہیں ہے جو گناہ کیے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جاتا ہے، اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی ہے۔ (اِسی طرح) اُن کے لیے بھی توبہ نہیں ہے جو مرتے دم تک منکر ہی رہیں۔ یہی تو ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔''

فرعون کا ایمان لانا اسی لیے قبول نہیں کیا گیا تھا:

وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہٗ بَغْیًا وَّعَدْوًا حَتّٰٓی اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ ےْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ.(یونس ۱۰: ۹۰)

''بنی اسرائیل کو، (اِس کے بعد) ہم نے سمندر پار کرایا تو فرعون اور اُس کے لشکروں نے سرکشی اور شرارت کی راہ سے اُن کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا: میں نے مان لیا کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔''

اس پر عرض ہے کہ تفسیری روایات میں جس اسلوب میں یونس کی قوم پر عذاب کاآنا بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ کر ایمان قبول کیا تھا۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ قوم یونس پہلے ایمان لائی اور پھر آنے والا عذاب ٹلا، نہ کہ عذاب آ چکا تھا اور پھر وہ ایمان لائی تو ٹلا۔ یعنی عذاب ابھی آیا ہی نہیں تھا۔ قرآن کے الفاظ دیکھیے:

لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا. (یونس۱۰: ۹۸)

''جب اُس بستی کے لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب اُن سے ٹال دیا تھا۔''

بائیبل کا بیان بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ یونس نے اپنی قوم کو ۴۰ روز کے بعد عذاب آنے کی وعید سنائی تھی، جس پر ان کی قوم نے آہ و زاری کی اور ایمان قبول کر لیا:

''اور یوناہ شہر میں داخل ہوا اور ایک دن کی راہ چلا۔ اس نے منادی کی اور کہا کہ چالیس روز کے بعد نینوا برباد کیا جائے گا۔ تب نینوا کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ اور اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا۔''(یوناہ۳: ۴۔۶)

اس لیے درست اسلوب وہی ہے جو قرآن اور بائیبل میں بیان ہوا ہے کہ عذاب کی دھمکی ملنے کے بعد جب وہ ایمان لے آئے تو آنے والا عذاب پلٹ گیا، نہ کہ آیا ہوا عذاب پلٹا۔

چونکہ اسمٰعیل علیہ السلام کی قوم کے ایمان لانے کا معاملہ اس طرح پیش نہیں آیا جیسا یونس کی قوم کے ساتھ پیش آیا، اس لیے ان کا ذکر اس آیت میں نہیں آیا۔

ایک اشتباہ

بعض حضرات کو سورۂ نساء کی آیات ۱۶۳ تا ۱۶۵ سے اشتباہ ہوا ہے، جس میں، بقول ان کے، تمام پیغمبروں کو پہلے انبیا اور پھر رسول کہا گیا ہے اور اتمام حجت کا ضابطہ بھی ساتھ ہی بیان ہوا ہے، اس بنا پر 'رسول' کے بارے میں قرآنِ مجید میں رسول کا وہ خصوصی استعمال کا بیان کردہ اصول درست نہیں، نیز اسی بنا پر وہ آیت ۱۶۵ میں مذکور اتمامِ حجت سے دنیوی نہیں، بلکہ آخرت میں حجت کا تمام ہونا مراد لیتے ہیں۔ آیات ملاحظہ کیجیے:

اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنْ م بَعْدِہٖ وَاَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِیْسٰی وَاَیُّوْبَ وَیُوْنُسَ وَھٰرُوْنَ وَسُلَیْمٰنَ وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰھُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْھُمْ عَلَیْکَ وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا.(النساء ۱۶۳۔۱۶۵)

''اے محمد، ہم نے تمھاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے، جس طرح نوح اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ہم نے ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور اولاد یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی ہم نے داؤد کو زبور دی۔ ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے۔ یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے۔''

ان آیات پر اگر تدبر کی نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تو درست ہے کہ آیت ۱۶۳ میں مذکور انبیا میں سے کچھ اصطلاحی انبیا ہیں اور کچھ اصطلاحی رسول ہیں، اور یہاں دونوں کو نبی کہا گیا ہے، لیکن یہ لفظی معنی کے اعتبار سے ہے۔ آگے دیکھیے کہ آیت ۱۶۴ میں رسولوں کا ذکر الگ سے لایا گیا ہے، جس کے بعد ہی اتمامِ حجت کا ذکر آتا ہے۔ رسولوں کا ذکر الگ ہونے کا قرینہ 'و' عاطفہ ہے، جو مغایرت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہ 'و' انبیا کے عموم سے رسولوں کے خصوص کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔ اس 'و' کا عطف 'اَوْحَیْنَا' پر ہے، یعنی مراد یہ ہے کہ یہ وحی ہم نے تمام پیغمبروں پر کی اور یہی وحی ہم نے رسولوں پر بھی کی۔ اس سے رسولوں کی الگ حیثیت متعین ہو رہی ہے۔ اگر آیت ۱۶۴ میں 'رُسُلاً' سے مراد گذشتہ آیت ۱۶۳ میں مذکور انبیا ہی ہوتے تو حرف 'و' لانے کی ضرورت نہیں تھی، جیسا کہ اس سے اگلی آیت ۱۶۵ میں 'رُسُلاً' دوبارہ لایا گیا تو حرف 'و' نہیں لایا گیا، کیونکہ یہ 'رُسُلاً'، گذشتہ آیت ۱۶۴ میں مذکور رسولوں ہی کو بیان کر رہا ہے۔

اب جب کہ یہ طے ہو جاتا ہے، رسولوں سے یہاں اصطلاحی رسول مراد ہیں تو آیت ۱۶۵ میں، 'لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ' (تاکہ لوگوں کے لیے اِن رسولوں کے بعد اللہ کے سامنے کوئی عذر پیش کرنے کے لیے باقی نہ رہے) میں مذکور اتمامِ حجت سے رسولوں کا اپنی اقوام پر دنیوی اتمام حجت مراد لینے سے کوئی چیز مانع نہیں رہی۔ تاہم، اس سے آخرت کا اتمامِ حجت بھی مراد لینے سے معنی میں کوئی تضاد پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ آخرت میں بھی ان پر حجت اسی بنا پر تمام ہو گی کہ ان پر اس دنیا میں حجت تمام ہوئی تھی۔

عذاب صرف بڑے شہروں میں آئے

رسولوں کی یہ بعثت اور یہ دنیوی عذاب اپنے وقت کے بڑے شہروں، جیسے دارالحکومتوں وغیرہ میں آتے تھے۔ ہر ہر شہر میں یہ واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس پر دلیل یہ آیت ہے:

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا وَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرآی اِلَّا وَاَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ. (القصص۲۸: ۵۹)

''حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار اِن بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں تھا، جب تک اِن کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج لے جو ہماری آیتیں اِنھیں پڑھ کر سنا دے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم بستیوں کو اُسی وقت ہلاک کرتے ہیں، جب اُن کے لوگ اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن جاتے ہیں۔''

چنانچہ قرآن مجید میں جہاں ایسے مواقع بیان میں 'قریہ' کا لفظ بھی آیا ہے تو اس سے مراد بڑی بستی یا بڑا شہر ہی ہے، کیونکہ 'قریہ' کا لفظ بڑے شہروں کے لیے مستعمل ہے۔

حتمی دنیوی عذاب سے پہلے چھوٹے تنبیہی عذاب آتے ہیں

حتمی دنیوی عذاب جسے قرآن نے عذابِ اکبر بھی کہا ہے، سے پہلے رسول کی مخاطب قوم پر چھوٹے تنبیہی عذاب آتے ہیں:

وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ. (السجدہ۳۲: ۲۱)

''اس بڑے عذاب سے پہلے ہم کسی قریب کے عذاب کا مزہ بھی اُن کو ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ رجوع کریں۔''

فرعون اور اس کی قوم پر غرق ہونے کے حتمی عذاب سے پہلے متعدد چھوٹے چھوٹے عذاب آئے:

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ.(الاعراف ۷: ۱۳۳)

''سو ہم نے اُن پر طوفان بھیجا، ٹڈیاں، جوئیں اور مینڈک چھوڑ دیے اور خون برسایا۔ یہ سب نشانیاں تھیں، (بنی اسرائیل کے صحیفوں میں) جن کی تفصیل کر دی گئی ہے۔ مگر وہ تکبر کرتے رہے اور (حقیقت یہ ہے کہ) وہ مجرم لوگ تھے۔''

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم پر بھی اسی طرح کئی چھوٹے تنبیہی عذاب آئے، مثلاً:

وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْتَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِھِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ. (الرعد ۱۳: ۳۱)

''(تم دیکھتے رہو)، اِن منکروں پر برابر کوئی نہ کوئی آفت اِن کے اعمال کی پاداش میں آتی رہے گی یا اِن کی بستی کے قریب کہیں نازل ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناًاللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہ کرے گا۔''

اَوَلَا یَرَوْنَ اَنَّھُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ. (التوبہ ۹: ۱۲۶)

''کیا وہ نہیں دیکھتے کہ سال میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ وہ آزمایش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں، نہ یاددہانی حاصل کرتے ہیں۔''

جزا و سزا

ہر رسول اپنی دعوت کے نتیجے میں درج ذیل مراحل سے گزرا:

انذار

پہلے مرحلے میں رسول اپنے قریبی لوگوں، قوم کے سرداروں اور رشتہ داروں کو مخاطب بناتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب اپنی کتاب ''میزان'' میں لکھتے ہیں:

''یہ اِس دعوت کا پہلا مرحلہ ہے ۔''انذار''کے معنی کسی برے نتیجے سے لوگوں کو خبردار کرنے کے ہیں ۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو ہمیشہ دو عذابوں سے خبردار کرتے رہے ہیں : ایک وہ جس سے اُن کے منکرین قیامت میں دوچار ہوں گے اور دوسرا وہ جو اُن کی دعوت کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرنے والوں پر اِسی دنیا میں نازل ہو گا ۔ وہ اپنی قوم کو بتاتے ہیں کہ وہ زمین پر ایک قیامت صغریٰ برپا کر دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ خدا کی حجت جب اُن کی دعوت سے پوری ہو جائے گی تو اُن کی قوم کو اپنی سرکشی کا نتیجہ لازماً اِسی دنیا میں دیکھنا ہو گا۔قرآن کے چھٹے باب میں سورۂ قمر اِس انذار کی بہترین مثال ہے ۔اُس میں رسولوں سے متعلق اپنی سنت کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے بڑی تہدید کے اسلوب میں فرمایا ہے: 'اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓءِکُمْ اَمْ لَکُمْ بَرَآءَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ' (۵۴: ۴۳)(کیا تمھارے یہ منکر اُن سے کچھ بہتر ہیں یا اِن کے لیے صحیفوں میں کوئی معافی لکھی ہوئی ہے)؟ ... اِس انذار کو چونکہ اِس دنیا میں لازماً ایک حتمی نتیجے تک پہنچنا ہوتا ہے ،اِس لیے اِس میں اصلاً اُنھی لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے اپنی قوم میں اثر و رسوخ رکھتے ہوں۔'' (۵۳۴)

انذارِ عام

اس مرحلے میں رسول، دین و ایمان کی دعوت علی الاعلان پوری قوم کو دیتا ہے:

یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ.(المدثر ۷۴: ۱۔۷)

''اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے ،اٹھو اور انذار عام کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور اپنے پروردگار ہی کی بڑائی بیان کرو اور اپنے دامن دل کو پاک رکھو اور شرک کی اِس غلاظت سے دور رہو اور دیکھو اپنی سعی کو زیادہ خیال کر کے منقطع نہ کر بیٹھو اور اپنے پروردگار کے فیصلے کے انتظار میں ثابت قدم رہو۔''

اتمامِ حجت

اس مرحلے پر دعوت اپنے تمام دلائل و براہین کے ساتھ مکمل ہو جاتی ہے اور مخاطبین کے پاس انکار کا کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''یہ تیسرا مرحلہ ہے ۔اِس تک پہنچنے میں حقائق اِس قدر واضح ہو جاتے ہیں کہ مخاطبین کے پاس کوئی عذر پیش کرنے کے لیے باقی نہیں رہ جاتا ۔یہی چیز ہے جسے اصطلاح میں اتمام حجت سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یعنی جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے ،وہ اِس طرح مبرہن ہو جائے کہ ضد ،ہٹ دھرمی اور عناد کے سوا کوئی چیز بھی آدمی کو اُس کے انکار پر آمادہ نہ کر سکے ۔اِس میں ظاہر ہے کہ خدا کی دینونت کے ساتھ اسلوب ،استدلال، کلام اور پیغمبر کی ذات و صفات اور علم و عمل ، ہر چیز موثر ہوتی ہے ، یہاں تک کہ معاملہ کھلے آسمان پر چمکتے ہوئے سورج کی طرح روشن ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ اِس موقع پر پیغمبر اپنے مخاطبین کا انجام بھی بڑی حد تک واضح کر دیتا ہے اور دعوت میں بھی بالکل آخری تنبیہ کا لب و لہجہ اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن مجید کی سورۂ فیل اور سورۂ قریش میں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے اِسی مرحلۂ اتمام حجت کے اختتام پر نازل ہوئی ہیں ، یہ دونوں چیزیں بہت نمایاں ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے :

اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ؟ اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ؟ وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ؟ تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ، فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ.(۱۰۵:۱۔۵)

''تونے دیکھا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ اُن کی چال کیا اُس نے اکارت نہیں کر دی؟ اور اُن پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے مسلط نہیں کر دیے ؟ (اِس طرح کہ) توپکی ہوئی مٹی کے پتھر اُنھیں مار رہا تھا اور اُس نے اُنھیں کھایا ہوا بھوسا بنا دیا۔'''' (میزان۵۳۸)

ہجرت و براء ت

اس موقع پر رسول کو خدا کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ اپنی منکر قوم کو چھوڑ کر مومنین کے ساتھ اس بستی سے نکل جائے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''یہ چوتھا مرحلہ ہے ۔اللہ کے پیغمبر جب تبلیغ کا حق بالکل آخری درجے میں ادا کر دیتے ہیں اور حجت تمام ہو جاتی ہے تو یہ مرحلہ آ جاتا ہے ۔اِس میں قوم کے سرداروں کی فرد قرارداد جرم بھی پوری وضاحت کے ساتھ اُنھیں سنا دی جاتی ہے اور یہ بات بھی بتا دی جاتی ہے کہ اُن کا پیمانۂ عمر لبریز ہو چکا ۔ لہٰذا اب اُن کی جڑیں اِس زمین سے لازماً کٹ جائیں گی۔ اِس کے ساتھ پیغمبر کو بھی بشارت دی جاتی ہے کہ نصرت خداوندی کے ظہور کا وقت آ پہنچا ۔وہ اور اُس کے ساتھی اب نجات پائیں گے اور جس سرزمین میں وہ کمزور اور بے بس تھے ، وہاں اُنھیں سرفرازی حاصل ہو جائے گی ۔ اِس لیے اپنی قوم کی تکفیر اور اُس کے عقیدہ و مذہب سے بے زاری کا اعلان کر کے وہ اب اُسے چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ '' (میزان ۵۳۹)

سورۃ الکافرون اسی مرحلے کا بیان ہے:

''قُلْ: یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ، لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ، وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ، وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ، وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ. لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ.(الکافرون ۱۰۹: ۱۔۶)

''تم اعلان کرو ،(اے پیغمبر )کہ اے کافرو، میں اُن چیزوں کی عبادت نہ کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم کبھی (تنہا) اُس کی عبادت کروگے جس کی عبادت میں کرتا ہوں اور نہ اِس سے پہلے کبھی میں اُن چیزوں کی عبادت کے لیے تیار ہوا جن کی عبادت تم نے کی اور نہ تم (تنہا)اُس کی عبادت کے لیے کبھی تیار ہوئے جس کی عبادت میں کرتا رہا ہوں۔ (اِس لیے اب) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔'' '' (میزان ۵۴۰)

جزا و سزا

'جزا و سزا' کے آخری مرحلے کے بارے میں غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''یہ آخری مرحلہ ہے ۔اِس میں آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی ہے ،خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا ہے اور پیغمبر کی قوم کے لیے ایک قیامت صغریٰ برپا ہو جاتی ہے ۔پیغمبروں کے انذار کی جو تاریخ قرآن میں بیان ہوئی ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس موقع پر بالعموم دو ہی صورتیں پیش آتی ہیں: ایک یہ کہ پیغمبر کے ساتھی بھی تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں اور اُسے کوئی دارالہجرت بھی میسر نہیں ہوتا ۔ دوسرے یہ کہ وہ معتدبہ تعداد میں اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلتا ہے اور اُس کے نکلنے سے پہلے ہی کسی سرزمین میں اللہ تعالیٰ اُس کے لیے آزادی اور تمکن کے ساتھ رہنے بسنے کا سامان کر دیتے ہیں ۔ اِن دونوں ہی صورتوں میں رسولوں سے متعلق خدا کی وہ سنت لازماً روبہ عمل ہو جاتی ہے جو قرآن میں اِس طرح بیان ہوئی ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ، اُولٰٓءِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ.کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ، اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۰۔ ۲۱)

''بے شک ،وہ لوگ جو اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ،وہی ذلیل ہوں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی ۔بے شک، اللہ قوی ہے ،بڑا زبردست ہے۔''''(میزان ۵۴۱)

چونکہ قانون اتمام حجت پر ہونے والے اعتراضات اور اشکالات کا محل 'جزا و سزا'کا آخری مرحلہ ہے، اس لیے ہم باقی مراحل کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ ان کی تفصیل، غامدی صاحب کی کتاب ''میزان''، ان کے دیگر مضامین اور خطبات سے معلوم کی جا سکتی ہے۔

[باقی]

________

۲؂ مولانا مودودی، تفہیم القرآن ۳/ ۷۲۔

____________